40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 40:1–3

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اتارنا کتاب کا اللہ سے ہے جو زبردست ہے خبردار

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والاف 5 سخت عذاب دینے والاف 6 کسی کی بندگی نہیں سوائے اس کے اسی کی طرف پھرجانا ہے7

5 یعنی توبہ قبول کر کے گناہوں سے ایسا پاک و صاف کردینا ہے۔ گویا کبھی گناہ کیا نہ تھا۔ اور مزید برآں توبہ کو مستقل طاعت قرار دے کر اس پر اجر عنایت فرماتا ہے۔ 6 یعنی بیحد قدرت و وسعت اور غنا والا جو بندوں پر انعام و احسان کی بارشیں کرتا رہتا ہے۔ 7 جہاں پہنچ کر ہر ایک کو اپنے کیے کا بدلہ ملے گا۔
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

وہی جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں جو منکر ہیں8 سو تجھ کو دھوکا نہ دے یہ بات کہ وہ چلتے پھرتے ہیں شہروں میں9

8 یعنی اللہ کی باتیں اور اس کی عظمت وقدرت کے نشان ایسے نہیں جن میں کوئی جھگڑا کیا جائے۔ مگر جن لوگوں نے یہ ہی ٹھان لی ہے کہ روشن سے روشن دلائل وبراہین اور کھلی کھلی باتوں کا بھی انکار کیا جائے وہ ہی سچی باتوں میں ناحق جھگڑے ڈالتے ہیں۔ 9 یعنی ایسے منکر کا انجام تباہی اور ہلاکت ہے۔ گو فی الحال وہ شہروں میں چلتے پھرتے اور کھاتے پیتے نظر آتے ہیں اس سے دھوکا نہ کھانا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امہال اور استدراج ہے کہ چند روز چل پھر کر دنیا کے مزے اڑالیں، یا تجارتیں اور سازشیں کرلیں۔ پھر ایک روز غفلت کے نشہ میں پوری طرح مخمور ہو کر پکڑے جائیں گے۔ اگلی قوموں کا حال بھی یہ ہی ہوا۔
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

جھٹلا چکے ہیں ان سے پہلے قوم نوح کی اور کتنے فرقے ان سے پیچھے اور ارادہ کیا ہر امت نے اپنے رسول پر کہ اس کو پکڑ لیں اور لانے لگے جھوٹے جھگڑے کہ اس سے ڈگاویں سچے دین کو پھر میں نے ان کو پکڑ لیا، پھر کیسا ہوا میرا سزا دینا1

1 یعنی ہر ایک امت کے شریروں نے اپنے پیغمبر کو پکڑ کر قتل کرنے یا ستانے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ جھوٹے ڈھکوسلے کھڑے کر کے سچے دین کو شکست دیں، اور حق کی آواز کو بھرنے نہ دیں، لیکن ہم نے ان کا داؤ چلنے نہ دیا اور اس کے بجائے کہ وہ پیغمبروں کو پکڑتے ہم نے ان کو پکڑ کر سخت سزائیں دیں، پھر دیکھ لو ہماری سزا کیسی ہوئی کہ ان کی بیخ و بنیاد باقی نہ چھوڑی۔ آج بھی ان تباہ شدہ قوموں کے کچھ آثار کہیں کہیں موجود ہیں، ان ہی کو دیکھ کر انسان ان کی تباہی کا تصور کرسکتا ہے۔
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح ٹھیک ہوچکی بات تیرے رب کی منکروں پر کہ یہ ہیں دوزخ والے2

2 یعنی جس طرح اگلی قوموں پر عذاب آنے کی بات پوری اتر چکی، موجود الوقت منکروں پر بھی اتری ہوئی سمجھو۔ اور جس طرح پیغمبروں کے اعلان کے موافق کافروں پر دنیاوی عذاب آکر رہا، تیرے رب کی یہ بات بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ آخرت میں ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔ (تنبیہ) بعض نے " انہم اصحب النار " کو " لانہم " کے معنی میں لے کر یہ مطلب بیان کیا ہے کہ گذشتہ منکروں کی طرح موجودہ منکروں پر بھی اللہ کی بات سچی ہے کیونکہ یہ بھی اصحاب بالنار میں سے ہیں۔
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو لوگ اٹھا رہے ہیں عرش کو اور جو اس کے گرد ہیں پاکی بولتے ہیں اپنے رب کی خوبیاں اور اس پر یقین رکھتے ہیں اور گناہ بخشواتے ہیں ایمان والوں کے3 اے پروردگار ہمارے ہر چیز سمائی ہوئی ہے تیری بخشش اور خبر میں سو معاف کر ان کو جو توبہ کریں اور چلیں تیری راہ پر اور بچا ان کو آگ کے عذاب سے4

3 پہلی آیات میں مجرمین و منکرین کا حال زبوں بیان ہوا تھا۔ یہاں ان کے مقابل مومنین و تائبین کا فضل و شرف بیان کرتے ہیں۔ یعنی عرش عظیم کو اٹھانے والے اور اس کے گرد طواف کرنے والے بیشمار فرشتے جن کی غذا صرف حق تعالیٰ کی تسبیح وتحمید ہے اور جو مقربین بارگاہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ درجہ کا ایمان و یقین رکھے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے آگے مومنین کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ سبحان اللہ ! اس عزت افزائی اور شرف و احترام کا کیا ٹھکانا ہے کہ فرش خاک پر رہنے والے مومنین سے جو خطائیں اور لغزشیں ہوگئیں ملائکہ بارگاہ عالی میں اس کے لیے غائبانہ معافی چاہیں۔ اور جب ان کی شان میں (وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ ) 16 ۔ النحل :50) آیا ہے تو وہ حق تعالیٰ کی طرف سے اس کام پر مامور ہوں گے۔ 4 یہ فرشتوں کے استغفار کی صورت بتلائی۔ یعنی بارگاہ احدیت میں یوں عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ کا علم اور رحمت ہر چیز کو محیط ہے پس جو کوئی تیرے علم محیط میں برائیوں کو چھوڑ کر سچے دل سے تیری طرف رجوع ہو اور تیرے راستہ پر چلنے کی کوشش کرتا ہو، اگر اس سے بمقتضائے بشریت کچھ کمزوریاں اور خطائیں سرز ہوجائیں، آپ اپنے فضل و رحمت سے اس کو معاف فرما دیں۔ نہ دنیا میں ان پر داروگیر ہو اور نہ دوزخ کا منہ دیکھنا پڑے باقی جو مسلمان توبہ وانابت کی راہ اختیار نہ کرے اس کا یہاں ذکر نہیں۔ آیت ہذا اس کی طرف سے ساکت ہے۔ بظاہر حاملین عرش ان کے حق میں دعا نہیں کرتے۔ اللہ کا ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا ؟ یہ دوسری نصوص سے طے کرنا چاہیے۔
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے رب ہمارے اور داخل کر ان کو سدا بسنے کے باغوں میں جن کا وعدہ کیا تو نے ان سے اور جو کوئی نیک ہو ان کے باپوں میں اور عورتوں میں اور اولاد میں بیشک تو ہی ہے زبردست حکمت والاف 5

5 یعنی اگرچہ بہشت ہر کسی کو اپنے عمل سے ملتی ہے (جیسا کہ یہاں بھی ومن صلح کی قید سے ظاہر ہے) بدون اپنے ایمان و صلاح کے بیوی، بیٹا اور ماں باپ کام نہیں آتے لیکن تیری حکمتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک کے سبب سے کتنوں کو ان کے عمل سے زیادہ اعلیٰ درجہ پر پہنچا دے۔ کما قال تعالٰی۔ (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ) 52 ۔ الطور :21) اور گہری نظر سے دیکھا جائے تو حقیقت میں وہ بھی ان ہی کے کسی عمل قلبی کا بدلہ ہو۔ مثلاً وہ آرزو رکھتے ہوں کہ ہم بھی اسی مرد صالح کی چال چلیں۔ یہ نیت اور نیکی کی حرص اللہ کے ہاں مقبول ہوجائے یا اس مرد صالح کے اکرام و مدارات ہی کی ایک صورت یہ ہو کہ اس کے ماں باپ اور بیوی بچے بھی اس کے درجہ میں رکھے جائیں۔
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور بچا ان کو برائیوں سے اور جس کو تو بچائے برائیوں سے اس دن اس پر مہربانی کی تو نے اور یہ جو ہے یہی ہے بڑی مراد پانی6

6 یعنی محشر میں ان کو کوئی برائی (مثلاً گھبراہٹ اور پریشانی وغیرہ) لاحق نہ ہو۔ اور یہ عظیم الشان کامیابی صرف تیری خاص مہربانی ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ بعض مفسرین نے سیأت سے اعمال سیئہ مراد لیے ہیں یعنی آگے کو انہیں برے کاموں سے محفوظ فرما دے اور ان کی خواہش ایسی کر دے کہ برائی کی طرف نہ جائیں۔ ظاہر ہے جو آج یہاں برائی سے بچ گیا اس پر تیرا فضل ہوگیا۔ وہ ہی آخرت میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرے گا۔ اس تفسیر پر یومئذٍ کا ترجمہ بجائے " اس دن " کے " اس دن " ہونا چاہیے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی تیری مہر ہی ہو کہ برائیوں سے بچے۔ اپنے عمل سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ تھوڑی بہت برائی سے کون خالی ہے۔ " یہ الفاظ دونوں تفسیروں پر چسپاں ہوسکتے ہیں۔
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہیں ان کو پکار کر کہیں گے اللہ بیزار ہوتا تھا زیادہ اس سے جو تم بیزار ہوئے ہو اپنے جی سے جس وقت تم کو بلاتے تھے یقین لانے کو پھر تم منکر ہوتے تھے7

7 یہ قیامت کے دن کہیں گے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی آج تم اپنے (نفس سے بیزار ہو اور) اپنے جی کو پھٹکارتے ہو۔ دنیا میں جب کفر کرتے تھے (اس وقت) اللہ اس سے زیادہ تم کو پھٹکارتا تھا (اور تمہاری حرکات سے بیزار تھا) اسی کا بدلہ آج پاؤ گے " اور بعض مفسرین نے " مقتین " کا زمانہ ایک مراد لے کر یوں معنی کیے ہیں کہ تم کو دنیا میں بار بار ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم بار بار کفر کرتے تھے۔ آج اس کی سزا بھگتنے کے وقت جس قدر تم اپنے جانوں سے بیزار ہو رہے ہو اللہ اس سے زیادہ تم سے بیزار ہے۔
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

بولیں گے اے رب ہمارے تو موت دے چکا ہم کو دو بار اور زندگی دے چکا دوبارف 1 اب ہم قائل ہوئے اپنے گناہوں کے2 پھر اب بھی ہے نکلنے کو کوئی راہ3

1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " پہلے مٹی تھے یا نطفہ، تو مردے ہی تھے۔ پھر جان پڑی تو زندہ ہوئے، پھر مرے۔ پھر زندہ کر کے اٹھائے گئے۔ یہ ہیں دو موتیں اور دو حیاتیں۔ قال تعالیٰ ۔ (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :28) وقیل غیر ذلک والاظہر ہوہذا۔ 2 یعنی انکار کیا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد پھر جینا نہیں۔ نہ حساب کتاب ہے نہ کوئی اور قصہ۔ اسی لیے گناہوں اور شرارتوں پر جری ہوتے تھے۔ اب دیکھ لیا کہ جس طرح پہلی موت کے بعد آپ نے ہم کو زندہ کیا اور عدم سے نکال کر وجود عطا فرمایا، دوسری موت کے بعد بھی پیغمبروں کے ارشادات کے موافق دوبارہ زندگی بخشی۔ آج بعث بعد الموت کے وہ سب مناظر جن کا ہم انکار کیا کرتے تھے سامنے ہیں اور بجز اس کے چارہ نہیں کہ ہم اپنی غلطیوں اور خطاؤں کا اعتراف کریں۔3 یعنی افسوس اب تو بظاہر یہاں سے چھوٹ کر نکل بھاگنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ ہاں آپ قادر ہیں کہ جہاں دو مرتبہ موت وحیات دے چکے ہیں، تیسری مرتبہ ہم کو پھر دنیا کی طرف واپس بھیج دیں۔ تاکہ اس مرتبہ وہاں سے ہم خوب نیکیاں سمیٹ کر لائیں۔
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ تم پر اس واسطے ہے کہ جب کسی نے پکارا اللہ کو اکیلا تو تم منکر ہوتے اور جب اس کے ساتھ پکارتے شریک کو تو تم یقین لانے لگتے، اب حکم وہی جو کرے اللہ سب سے اوپر بڑا4

4 یعنی بیشک اب دنیا کی طرف واپس کیے جانے کی کوئی صورت نہیں۔ اب تو تم کو اپنے اعمال سابقہ کا خمیازہ بھگتنا ہے۔ تمہارے متعلق ہلاکت ابدی کا یہ فیصلہ اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اکیلے سچے خدا کی پکار پر کبھی کان نہ دھرا۔ ہمیشہ اس کا یا اس کی وحدانیت کا انکار ہی کرتے رہے۔ ہاں کسی جھوٹے خدا کی طرف بلائے گئے تو فوراً آمنا و صدقنا کہہ کر اس کے پیچھے ہو لیے۔ اس سے تمہاری خو اور طبیعت کی افتاد کا اندازہ ہوسکتا ہے کہ اگر ہزار مرتبہ بھی واپس کیا جائے، پھر وہ ہی کفر و شرک کما کر لاؤ گے بس آج تمہارے جرم کی ٹھیک سزا یہ ہی حبس دوام ہے جو اس بڑے زبردست خدا کی عدالت عالیہ سے جاری کی گئی۔ جس کا کہیں آگے مرافعہ (اپیل) نہیں۔ اس سے چھوٹنے کی تمنا عبث ہے۔
Ayah 40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی ہے تم کو دکھلاتا اپنی نشانیاں اور اتارتا ہے تمہارے واسطے آسمان سے روزی اور سوچ وہی کرے جو رجوع رہتا ہو5

5 یعنی اس کی عظمت و وحدانیت کی نشانیاں ہر چیز میں ظاہر ہیں ایک اپنی روزی ہی کے مسئلہ کو آدمی سمجھ لے جس کا سامان آسمان سے ہوتا رہتا ہے تو سب کچھ سمجھ میں آجائے۔ لیکن جب ادھر رجوع ہی نہ ہو اور غور و فکر سے کام ہی نہ لے تو کیا خاک سمجھ حاصل ہوسکتی ہے۔
Ayah 40:14

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

سو پکارو اللہ کو خالص کر کر اس کے واسطے بندگی اور پڑے برا مانیں منکر6 وہی ہے اونچے درجوں والا مالک عرش کا اتارتا ہے بھید کی بات اپنے حکم سے جس پر چاہے

6 یعنی بندوں کو چاہیے سمجھ سے کام لیں۔ اور ایک خدا کی طرف رجوع ہو کر اسی کو پکاریں، اس کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کریں بیشک محض بندوں کے اس موحدانہ طرز عمل سے کافر و مشرک ناک بھوں چڑھائیں گے کہ سارے دیوتا اڑا کر صرف ایک ہی خدا رہنے دیا گیا۔ مگر پکا موحد وہ ہی ہے جو مشرکین کے مجمع میں توحید کا نعرہ بلند کرے۔ اور ان کے برا ماننے کی اصلًا پروا نہ کرے۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

اپنے بندوں میں7 تاکہ وہ ڈرائے ملاقات کے دن سے8

7 " بھید کی بات " سے وحی مراد ہے جو اول انبیاء (علیہم السلام) پر اترتی ہے اور ان کے ذریعہ سے دوسرے بندوں کو پہنچ جاتی ہے۔ چناچہ قیامت تک اسی طرح پہنچتی رہے گی۔ 8 یعنی جس دن تمام اولین و آخرین مل کر اللہ تعالیٰ کی پیشی میں حاضر ہوں گے اور ہر ایک شخص اپنے اچھے یا برے عمل سے ملاقات کرے گا۔
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس دن وہ لوگ نکل کھڑے ہونگے9 چھپی نہ رہے گی اللہ پر ان کی کوئی چیز10 کس کا راج ہے اس دن اللہ کا جو اکیلا ہے دباؤ والاف 11

9 یعنی قبروں سے نکل کر ایک کھلے کف دست میدان میں حاضر ہوں گے۔ جہاں کوئی آڑ پہاڑ حائل نہ ہوگا۔ 10 یعنی خوب سمجھ لو اس حاکم اعلیٰ کے دربار میں حاضر ہونا ہے جس پر تمہاری کوئی حالت پوشیدہ نہیں۔ سب ظاہر و باطن احوال کھول کر رکھ دیئے جائیں گے۔ 11 یعنی اس دن تمام وسائط و حجب اٹھ جائیں گے۔ ظاہری اور مجازی رنگ میں بھی کسی کی بادشاہت نہ رہے گی۔ اسی اکیلے شہنشاہ مطلق کا راج ہوگا جس کے آگے ہر ایک طاقت دبی ہوئی ہے۔
Ayahs 40:17–18

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج بدلہ ملے گا ہر جی کو جیسا اس نے کمایا بالکل ظلم نہیں آج بیشک اللہ جلد لینے والا ہے حساب

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور خبر سنا دے ان کو اس نزدیک آنے والے دن کی جس وقت دل پہنچیں گے گلوں کو تو وہ دبا رہے ہونگے12 کوئی نہیں گناہ گاروں کا دوست اور نہ سفارشی کہ جس کی بات مانی جائے1

12 یعنی خوف اور گھبراہٹ سے دل دھڑک کر گلوں تک پہنچ رہے ہوں گے اور لوگ دونوں ہاتھوں سے ان کو پکڑ کر دبائیں گے کہ کہیں سانس کے ساتھ باہر نہ نکل پڑیں۔ 1 یعنی ایسا کوئی سفارشی نہیں ہوگا جس کی بات ضرور ہی مانی جائے۔ سفارش وہ ہی کرسکے گا جس کو اجازت ہو۔ اور اسی کے حق میں کرے گا جس کے لیے پسند ہو۔
Ayahs 40:19–20

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ جانتا ہے چوری کی نگاہ اور جو کچھ چھپا ہوا ہے سینوں میں

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور اللہ فیصلہ کرتا ہے انصاف سے2 اور جن کو پکارتے ہیں اس کے سوا نہیں فیصلہ کرتے کچھ بھی بیشک اللہ جو ہے وہی ہے سننے والا دیکھنے والاف 3

2 یعنی مخلوق سے نظر بچا کر چوری چھپے سے کسی پر نگاہ ڈالی یا کن انکھیوں سے دیکھا یا دل میں کچھ نیت کی یا کسی بات کا ارادہ یا خیال آیا، ان میں سے ہر چیز کو اللہ جانتا ہے۔ اور فیصلہ انصاف سے کرتا ہے۔ 3 یعنی فیصلہ کرنا اس کا کام ہوسکتا ہے جو سننے اور جاننے والا ہو۔ بھلا یہ پتھر کی بےجان مورتیں جنہیں تم خدا کہہ کر پکارتے ہو کیا خاک فیصلہ کریں گی۔ پھر جو فیصلہ بھی نہ کرسکے وہ خدا کس طرح ہوا۔
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا وہ پھرے نہیں ملک میں کہ دیکھتے انجام کیسا ہوا ان کا جو تھے ان سے پہلے وہ تھے ان سے سخت زور میں اور نشانیوں میں جو چھوڑ گئے زمین میں4 پھر ان کو پکڑا اللہ نے ان کے گناہوں پر اور نہ ہوا ان کو اللہ سے کوئی بچانے والاف 5

4 یعنی بڑے مضبوط قلعے، عالی شان عمارتیں اور مختلف قسم کی یاد گاریں۔5 یعنی جب دنیا کے عذاب سے کوئی نہ بچا سکا، آخرت میں کون بچائے گا۔
Ayah 40:22

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ ان کے پاس آتے تھے ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر پھر منکر ہوگئے تو ان کو پکڑا اللہ نے بیشک وہ زور آور ہے سخت عذاب دینے والاف 6

6 یعنی تم بھی ان کی طرح رسول کی تکذیب کر کے فلاح نہیں پاسکتے آخر رسوا اور ہلاک ہوگئے اور خداوند قدوس اپنے زور و قوت سے پیغمبر کو غالب و منصور فرمائے گا۔ اسی مناسبت سے آگے موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان کرتے ہیں۔
Ayah 40:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر اور کھلی سند7

7 " نشانیوں " سے معجزات اور " کھلی سند " سے شاید ان میں کے مخصوص و ممتاز معجزات مراد ہوں یا " کھلی سند " معجزات کے سوا دوسری قسم کے دلائل وبراہین کو فرمایا۔ یا " آیات " سے تعلیمات و احکام اور " سلطان مبین " سے معجزات مراد لیے جائیں۔ یا " سلطان مبین " اس قوت قدسیہ اور مخصوص تائید ربانی کا نام ہو جس کے آثار پیغمبروں میں ہر دیکھنے والے کو نمایاں طور پر نظر آیا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 40:24

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس8 پھر کہنے لگے یہ جادوگر ہے جھوٹا9

8 ہامان وزیر تھا فرعون کا اور قارون بنی اسرائیل میں سب سے بڑا مالدار اور تاجر تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون کی مرضی پر چلتا تھا۔ پہلے اس کا قصہ گزر چکا۔ 9 یعنی جادوگر ہے معجزات دکھانے میں اور جھوٹا ہے دعویٰ رسالت میں۔ یہ بعض نے کہا ہوگا اور دوسروں نے اس کی تصدیق کی ہوگی۔
Ayah 40:25

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

پھر جب پہنچا ان کے پاس لے کر سچی بات ہمارے پاس سے بولے مار ڈالو بیٹے ان کے جو یقین لائے ہیں اس کیساتھ اور جیتی رکھو ان کی عورتیں10 اور جو داؤ ہے منکروں کا سو غلطی میں11

10 یہ حکم اب دوسری مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کے بعد دیا۔ تاکہ بنی اسرائیل کی تذلیل و توہین کریں، ان کی تعداد گھٹائیں اور ان کے دلوں میں یہ خیال جمادیں کہ یہ سب مصیبت ان پر موسیٰ کی بدولت آئی ہے۔ یہ خیال کر کے لوگ ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ اور دہشت انگیزی کی پالیسی کامیاب ہوجائے گی۔ آگے پتہ نہیں اس حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔ 11 یعنی ایسے داؤ پیچ اور تدبیروں سے کیا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد فرما کر منکرین کے سب منصوبے غلط کردیتا ہے۔
Ayah 40:26

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور بولا فرعون مجھ کو چھوڑو کہ مار ڈالوں موسیٰ کو اور پڑا پکارے اپنے رب کو1 میں ڈرتا ہوں کہ بگاڑ دے تمہارا دین یا پھیلائے ملک میں خرابی2

1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " فرعون نے کہا مجھ کو چھوڑو۔ شاید اس کے ارکان سلطنت مار ڈالنے کا مشورہ نہ دیتے ہوں گے۔ کیونکہ معجزہ دیکھ کر ڈر گئے تھے، کہیں اس کا رب بدلہ نہ لے۔ " فرعون خود بھی دل میں ڈرا ہوا اور سہما ہوا تھا۔ لیکن لوگوں پر اپنی قوت و شجاعت کا اظہار کرنے کے لیے انتہاء درجہ کی شقاوت اور بےحیائی سے ایسا کہہ رہا تھا۔ تاکہ لوگ سمجھیں کہ اس کو قتل سے کوئی چیز مانع نہیں۔ اور اس کے ارادہ کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ 2 یعنی اسے زندہ چھوڑ دیا گیا تو دنیا اور دنیاوی دونوں طرح کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ ممکن ہے یہ اپنے وعظ و تلقین سے تمہارے مذہبی طور و طریق کو جو پہلے سے چلا آتا ہے بگاڑ ڈالے یا سازش وغیرہ کا جال پھیلا کر ملک میں بدامنی پھیلا دے جس کا انجام یہ ہو کہ تمہاری (یعنی قبطیوں کی) حکومت کا خاتمہ ہو کر ملک بنی اسرائیل کے ہاتھ میں چلا جائے۔
Ayah 40:27

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے میں پناہ لے چکا ہوں اپنے اور تمہارے رب کی ہر غرور والے سے3 جو یقین نہ کرے حساب کے دن کا4

3 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ان کے مشوروں کی خبر پہنچی تو اپنی قوم سے فرمایا کہ مجھے ان دھمکیوں کی مطلق پروا نہیں۔ فرعون اکیلا تو کیا، ساری دنیا کے متکبرین و جبارین جمع ہوجائیں تب بھی میرا اور تمہارا پروردگار ان کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہے۔ میں اپنے کو تنہا اسی کی پناہ میں دے چکا ہوں۔ وہ ہی میرا حامی و مددگار ہے کما قال تعالیٰ ( لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى) 20 ۔ طہ :46) 4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جس کو حساب کا یقین ہو وہ ظلم کا ہے کو کرے گا۔ "
Ayah 40:28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور بولا ایک مرد ایماندار فرعون کے لوگوں میں جو چھپاتا تھا اپنا ایمان کیا مار ڈالتے ہو ایک مرد کو اس بات پر کہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور لایا تمہارے پاس کھلی نشانیاں تمہارے رب کی اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس پر پڑے گا اس کا جھوٹ اور اگر وہ سچا ہوگا تو تم پر پڑے گا کوئی نہ کوئی وعدہ جو تم سے کرتا ہے5 بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اس کو جو ہو بےلحاظ جھوٹا6

5 یعنی ایک مرد مومن جس نے فرعون اور اس کی قوم سے اپنا ایمان ابھی تک مخفی رکھا تھا ذرونی اقتل موسیٰ کے جواب میں بول اٹھا کیا تم ایک شخص کا ناحق خون کرنا چاہتے ہو اس بات پر کہ وہ صرف ایک اللہ کو اپنا رب کیوں کہتا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے دعوے کی صداقت کے کھلے کھلے نشان تم کو دکھلا چکا۔ اور اس کے قتل کی تم کو کچھ ضرورت بھی نہیں۔ بلکہ ممکن ہے تمہارے لیے مضر ہو۔ فرض کرو ! وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ثابت ہوا تو اتنے بڑے جھوٹ پر ضرور اللہ اس کو ہلاک یا رسوا کر کے چھوڑے گا۔ خدا کی عادت نہیں کہ وہ ایسے کاذب کو برابر پھولنے پھلنے دے۔ دنیا کو التباس سے بچانے کے لیے یقینا ایک روز اس کی قلعی کھول دی جائے گی۔ ایسے حالات بروئے کار آئیں گے کہ دنیا اعلانیہ اس کی رسوائی و ناکامی اور کذب و دروغ کا تماشا دیکھ لے گی۔ اور تم کو خواہی نخواہی اس کے خون میں ہاتھ رنگنے کی ضرورت نہ رہے گی اور اگر واقع وہ سچائی پر ہے تو دنیا و آخرت کے جس عذاب سے وہ اپنے مکذبین کو ڈراتا ہے یقینا اس کا کچھ نہ کچھ حصہ تم کو ضرور پہنچ کر رہے گا۔ لہذا پہلی شق پر اس کے قتل میں جلدی کرنے کی ضرورت نہیں اور دوسری شق پر اس کا قتل کرنا سراسر موجب نقصان و خسران ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اگر جھوٹا ہے تو جس پر جھوٹ بولتا ہے وہ ہی سزا دے رہے گا۔ اور شاید سچا ہو تو اپنی فکر کرو۔ " (تنبیہ) یہ تقریر اس صورت میں ہے جب کسی مفتری کا کذب صریحاً ظاہر نہ ہوا ہو۔ اور اگر مدعی نبوت کا کذب و افتراء دلائل وبراہین سے روشن ہوجائے تو بلاشبہ واجب القتل ہے۔ اس زمانہ میں جبکہ پیغمبر عربی ﷺ کا خاتم النبیین ہونا دلائل قطعیہ سے ثابت ہوچکا، اگر کوئی شخص مدعی نبوت بن کر کھڑا ہوگا تو چونکہ اس کا یہ دعویٰ ایک قطعی الثبوت عقیدہ کی تکذیب کرتا ہے۔ لہذا اس کے متعلق کسی قسم کے تأمل و تردد اور امہال و انتظار کی گنجائش نہ ہوگی۔ 6 یعنی موسیٰ اگر بالفرض جھوٹا ہوتا تو ہرگز اس کا اللہ راہ نہ دیتا کہ وہ برابر ایسے ایسے معجزات دکھاتا رہے اور کامیابی میں ترقی کرتا چلا جائے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو کہ ایک سچے کو جھوٹا بتلا رہے ہو تو انجام کار اللہ تعالیٰ تم کو ذلیل و ناکام کرے گا۔
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے میری قوم آج تمہارا راج ہے چڑھ رہے ہو ملک میں پھر کون مدد کرے گا ہماری اللہ کی آفت سے اگر آگئی ہم پر7 بولا فرعون میں تو وہی بات سجھاتا ہوں تم کو جو سوجھی مجھ کو اور وہی راہ بتلاتا ہوں جس میں بھلائی ہے8

7 یعنی اپنے سامانوں اور لشکروں پر مغرور مت بنو۔ آج تمہاری یہ شان و شکوہ ہے لیکن کل اگر خدا کے عذاب نے آگھیرا تو کوئی بچانے والا نہ ملے گا۔ یہ سب سازو سامان یوں ہی رکھے رہ جائیں گے۔ 8 یعنی تمہاری تقریر سے میرے خیالات تبدیل نہیں ہوئے۔ جو کچھ میرے نزدیک مصلحت ہے وہ ہی تم کو سجھا رہا ہوں۔ میرے خیال میں بہتری کا راستہ یہ ہی ہے کہ اس شخص کا قصہ پہلے ہی قدم پر ختم کردیا جائے۔
Ayahs 40:30–31

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

اور کہا اسی ایماندار نے اے قوم میری میں ڈرتا ہوں کہ آئے تم پر دن اگلے فرقوں کا سا

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

جیسے حال ہوا قوم نوح کا اور عاد اور ثمود کا اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے اور اللہ بےانصافی نہیں چاہتا بندوں پر1

1 یعنی اگر تم اسی طرح تکذیب و عداوت پر جمے رہے تو سخت اندیشہ ہے کہ تم کو بھی کہیں وہ ہی دن دیکھنا نہ پڑے جو پہلی قومیں اپنے انبیاء کا مقابلہ کر کے دیکھ چکی ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ہاں بےانصافی نہیں۔ اگر ایسے سخت جرائم پر تم کو یا دوسری قوموں کو اس نے تباہ کیا تو وہ عین عدل و انصاف کے تقاضا سے ہوگا۔ کون سی حکومت ہے جو اپنے سفراء کو قتل اور رسوا ہوتے دیکھتی رہے۔ اور قاتلین و معاندین سے انتقام نہ لے۔
Ayah 40:32

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے قوم میری میں ڈرتا ہوں کہ تم پر آئے دن ہانک پکار کا2

2 عموماً مفسرین " یوم التناد " (ہانک پکار کے دن) سے قیامت کا دن مراد لیے ہیں جبکہ محشر میں جمع ہونے اور حساب دینے کے لیے سب کی پکار ہوگی۔ اور اہل جنت اہل نار اور اہل اعراف ایک دوسرے کو پکاریں گے اور آخر میں ندا آئے گی۔ " یا اہل الجنۃ خلود لاموت ویا اہل النار خلودلا موت۔ " کما وردفی الحدیث۔ لیکن حضرت شاہ صاحب نے " یوم التناد " سے وہ دن مراد لیا ہے جس میں فرعونیوں پر عذاب آیا۔ چناچہ لکھتے ہیں۔ " ہانک پکار کا دن ان پر آیا۔ جس دن بحر قلزم میں غرق ہوئے۔ اس وقت ڈوبتے ہوئے ایک دوسرے کو پکارنے لگا۔ (شاید) یہ اس مرد مومن کو کشف سے معلوم ہوا ہوگا یا قیاس سے کہ ہر قوم پر عذاب اسی طرح آتا ہے۔ "
Ayah 40:33

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن بھاگو گے پیٹھ پھیر کر3 کوئی نہیں تم کو اللہ سے بچانے والا اور جس کو غلطی میں ڈالے اللہ تو کوئی نہیں اس کو سجھانے والاف 4

3 یعنی محشر سے پیٹھ پھیر کر دوزخ کی طرف بھگائے جاؤ گے یا نزول عذاب کے وقت اس سے بھاگنے کی ناکام کوشش کرو گے۔ 4 یعنی میں تم کو سب نشیب و فراز پوری طرح سمجھا چکا۔ اس پر بھی تم نہ مانو تو سمجھ لو کہ تمہارے عناد و کجروی کی شامت سے اللہ تعالیٰ نے ارادہ ہی کرلیا ہے کہ تم کو تمہاری پسند کردہ غلطی اور گمراہی میں پڑا رہنے دے پھر ایسے شخص کے سمجھنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔
Ayah 40:34

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُۚۖ Open ayah 40:34 in the Quran reader

اور تمہارے پاس آچکا ہے یوسف اس سے پہلے کھلی باتیں لے کر پھر تم رہے دھوکے ہی میں ان چیزوں سے جو وہ تمہارے پاس لیکر آیا یہاں تک کہ جب مرگیا لگے کہنے ہرگز نہ بھیجے گا اللہ اس کے بعد کوئی رسول5 اسی طرح بھٹکاتا ہے اللہ اس کو جو ہو بےباک شک کرنے والا

5 یعنی چلو قصہ ختم ہوا۔ نہ یہ رسول تھا نہ اب اس کے بعد کوئی رسول آنے والا ہے۔ گویا سرے سے سلسلہ رسالت ہی کا انکار ہوا۔ لیکن حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " حضرت یوسف کی زندگی میں (مصر والے ان کی نبوت کے) قائل نہ ہوئے۔ ان کی موت کے بعد جب مصر کی سلطنت کا بندوبست بگڑا تو کہنے لگے یوسف کا قدم اس شہر پر کیا مبارک تھا۔ ایسا نبی (آئندہ) کوئی نہ آئے۔ یا وہ انکار یا یہ اقرار۔ یہ ہی اسراف اور زیادہ گوئی ہے۔ " مرد مومن کی غرض یہ تھی کہ نعمت کی قدر زوال کے بعد ہوتی ہے۔ فی الحال تم کو موسیٰ کی قدر نہیں۔
Ayah 40:35

اِ۟لَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْ١ؕ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ Open ayah 40:35 in the Quran reader

وہ جو کہ جھگڑتے ہیں اللہ کی باتوں میں بغیر کسی سند کے جو پہنچی ہو ان کو بڑی بیزاری ہے اللہ کے یہاں اور ایمانداروں کے یہاں6 اسی طرح پر کردیتا ہے اللہ ہر دل پر غرور والے سرکش کے7

6 یعنی بدون حجت عقلیہ و نقلیہ کے اللہ کی باتوں میں جھگڑے ڈالتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر زیادتی اور بیباکی کیا ہوگی۔ اسی لیے اللہ اور اس کے ایماندار بندے ان لوگوں سے سخت بیزار ہیں جو سبب ہے ان کے انتہائی ملعون ہونے کا۔ 7 جو لوگ حق کے سامنے غرور سے گردن نہ جھکائیں اور پیغمبروں کے ارشادات سن کر سر نیچا نہ کریں آخرکار ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ اسی طرح مہر کردیتا ہے کہ پھر قبول حق اور نفوذ خیر کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
Ayahs 40:36–37

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَۙ Open ayah 40:36 in the Quran reader

اور بولا فرعون کے اے ہامان بنا میرے واسطے ایک اونچا محل شاید میں جا پہنچوں راستوں میں،

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَ صُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ۠ Open ayah 40:37 in the Quran reader

رستوں میں آسمانوں کے پھر جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے معبود کو1 اور میری اٹکل میں تو وہ جھوٹا ہے2 اور اسی طرح بھلے دکھلا دیے فرعون کو اس کے برے کام اور روک دیا گیا سیدھی راہ سے3 اور جو داؤ تھا فرعون کا سو تباہ ہونے کے واسطے4

1 یہ اس ملعون کی انتہائی بےشرمی اور بےباکی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شاید اللہ تعالیٰ کی صفت علو وغیرہ کو سن کر یہ قرار دیا ہوگا کہ موسیٰ کا خدا آسمان پر رہتا ہے۔ اسی پر یہ استہزاء و تمسخر شروع کردیا۔ سچ ہے چیونٹی کی موت آتی ہے تو پر لگ جاتے ہیں۔ سورة " قصص " میں اس مقام کی تقریر گزر چکی۔ 2 یعنی دعوائے رسالت میں بھی اور اس دعوے میں بھی کہ سارے جہان کا کوئی اور معبود ہے۔ مجھے تو اپنے سوا دوسرا نظر نہیں آتا۔ کماقال (مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ ) 28 ۔ القصص :38) 3 برے کام کرتے کرتے آدمی کی یوں ہی عقل ماری جاتی ہے اور ایسی ہی مضحکہ خیز حرکتیں کرنے لگتا ہے جس کے بعد راہ پر آنے کی کوئی صورت نہیں رہتی۔ یہ ہی حال فرعون کا ہوا۔ 4 یعنی فرعون کے جس قدر داؤ پیچ اور منصوبے یا مشورے تھے سب بےحقیقت تھے۔ خود اپنی ہی تباہی کے لیے۔ موسیٰ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکا۔
Ayah 40:38

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِۚ Open ayah 40:38 in the Quran reader

اور کہا اسی ایماندار نے اے قوم راہ چلو میری اور پہنچا دوں تم کو نیکی کی راہ پر5

چونکہ فرعون نے کہا تھا وما اھدیکم الا سبیل الرشاد اس کے جواب میں مرد مومن نے کہا کہ سبیل الرشاد (بھلائی اور بہتری کا راستہ وہ نہیں جو فرعون تجویز کرتا ہے بلکہ تم میرے پیچھے چلے آؤ تاکہ بہتری کے راستہ پر چلنا نصیب ہو
Ayah 40:39

یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ Open ayah 40:39 in the Quran reader

اے میری قوم یہ جو زندگی ہے دنیا کی سو کچھ برت لینا ہے اور وہ گھر جو پچھلا ہے وہی ہے جم کر رہنے کا گھر6

6 یعنی فانی و زائل زندگی اور چند روزہ عیش و بہار میں پڑ کر آخرت کو نہ بھولو۔ دنیا کی زندگی بہرحال بھلی بری طرح ختم ہونے والی ہے۔ اس کے بعد وہ زندگی شروع ہوگی جس کا کبھی خاتمہ نہیں۔ عاقل کا کام یہ ہے کہ یہاں رہتے ہوئے اس کی درستی کی فکر کرے ورنہ ہمیشہ کی تکلیف میں مبتلا رہنا پڑے گا۔ اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
Ayah 40:40

مَنْ عَمِلَ سَیِّئَةً فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 40:40 in the Quran reader

جس نے کی ہے برائی تو وہی بدلہ پائے گا اس کے برابر اور جس نے کی ہے بھلائی مرد ہو یا عورت اور وہ یقین رکھتا ہو سو وہ لوگ جائیں گے بہشت میں روزی پائیں گے وہاں بیشمار7

7 یہ اخروی زندگی کی تھوڑی سی تفصیل بتلا دی کہ وہ کس طرح درست ہوسکتی ہے۔ معلوم ہوا کہ وہاں ایمان اور عمل صالح درکار ہیں۔ مال و متاع کو کوئی نہیں پوچھتا اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ اللہ کی رحمت غضب پر غالب ہے۔ عقلمند کو چاہیے کہ موقع ہاتھ سے نہ دے۔