40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsانوار البیان

Ayah 40:1
(40:1) حم۔ حروف مقطعات ہیں ان کا علم خدا اور اس کے رسول ﷺ کو ہے۔
Ayah 40:2

تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِۙ Open ayah 40:2 in the Quran reader

اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب و دانا کی طرف سے ہے

(40:2) تنزیل الکتب من اللّٰہ العزیز العلیم ۔ تنزیل بروزن تفعیل مصدر ہے۔ اتارنا۔ نازل کرنا۔ مضاف الکتب مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء من اللّٰہ اس کی خبر۔ العزیز العلیم اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ الکتب سے مراد یہ سورة ہے یا قرآن ہے۔ العزیز (اپنی حکومت میں) سب پر غالب۔ العلم (اپنی مخلوق سے پوری طرح) جاننے والا۔
Ayah 40:3

غَافِرِ الذَّنْۢبِ وَ قَابِلِ التَّوْبِ شَدِیْدِ الْعِقَابِ١ۙ ذِی الطَّوْلِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 40:3 in the Quran reader

جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے اس کے سواء کوئی معبود نہیں اسی کی طرف پھر کر جانا ہے

(40:3) غافر الذنب۔ مضاف مضاف الیہ ۔ غافر اسم فاعل واحد مذکر ۔ الغفر (باب ضرب) کے معنی ہیں کسی شے کو کسی ایسی چیز میں چھپا دینا جو اسے میل کچیل سے بچا سکے۔ چناچہ محاورہ ہے اغفرثوبک فی الوعاء اپنے کپڑے صندوق وغیرہ میں چھپا کر رکھ لو۔ خدا کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی بندے کو عذاب سے بچا لینا ہے یا معاف کردینا ہے دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے ومن یغفر الذنوب الا اللّٰہ (3:135) اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے ؟ غافر الذنب گناہ بخشنے والا۔ قابل التوب : مضاف مضاف الیہ۔ قابل، قبول، و قبول مصدر باب سمع سے۔ اسم فاعل واحد مذکر بحالت جر ہے قبول کرنے والا۔ توب تاب یتوب (باب نصر) سے مصدر ہے بعض کے نزدیک توبۃ کی جمع ہے جیسے دومۃ کی جمع دوم آتی ہے۔ قابل التوب توبہ قبول کرنے والا۔ غافر الذنب وقابل التوب۔ واؤ عاطفہ کا (جو جمعیۃ پر دلالت کرتا ہے) لانا دلالت کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں دونوں صفتیں جمع ہیں ۔ اس لئے دونوں صفتوں میں تغایر ظاہر کرنے کے لئے حرف عاطف ذکر کردیا کیونکہ اصل ضابطہ یہی ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ میں مغائرت ہونی چاہیے۔ شدید العقاب۔ مضاف مضاف الیہ۔ سخت عذاب دینے والا۔ (شدید بمعنی مشدد) ۔ ذی الطول : بڑی قدرت والا۔ ذی مضاف الطول مضاف الیہ۔ الطول قدرت مقدرہ۔ تونگری۔ بڑی قدرت والا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ومن لم یستطیع منکم طولا (4:25) اور جو شخص تم میں سے مقدور نہ رکھے (مومن آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کا) ۔ العزیز ، العلیم ، غافر الذنب، قابل التوب، شدید العقاب، ذی الطول۔ سب اللہ کی صفات ہیں۔ المصیر۔ اسم ظرف مکان۔ صار یصیر (باب ضرب) سے مصدر بھی ہے صیر مادہ لوٹنے کی جگہ، ٹھکانا۔ قرار گاہ۔
Ayah 40:4

مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ Open ayah 40:4 in the Quran reader

خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے

(40:4) مایحادل۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب ۔ وہ جھگڑا کرتا ہے۔ جادل یجادل مجادلۃ (مفاعلۃ) سے۔ یہاں صیغہ واحد بمعنی صیغہ جمع آیا ہے یعنی نہیں جھگڑا کیا کرتے (اللہ کی آیات میں مگر کافر) ۔ فلا یغررک : لایغرر۔ فعل نہی واحد مذکر غائب غرور مصدر (باب نصر) ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تجھے فریب نہ دے۔ تجھے دھوکہ میں نہ ڈالے۔ الفاء سببیہ ہے یعنی انکفار کا کردفر سے اپنے تجارتی قافلے لے کر کبھی شام کی طرف اور کبھی یمن کی طرف جانا اور ہر دفعہ دولت و ثروت کے ڈھیر سمیٹ کر واپس آنا تمہارے لئے اس دھوکے کس سبب نہ بن جائے۔ کہ شاید ان کے کفر کی ان کو سزا نہ ملے گی۔ یہ تنعم محض عارضی ہے اور عنقریب وہ عذاب و ہلاکت سے دو چار ہوں گے۔ الفاء فی قولہ فلا یغررک سببیۃ ای لایمکن تقلیہم فی بلاد اللّٰہ متنعمین بالاموال والارزاق سببا لاغتراک بہم فتظن بھم ظنا حسنا لان ذلک التنعم تنعم استدراج۔ وھو زائل عن قریب وہم صائرون الی الہلاک والعذاب الدائم۔ (اضواء البیان) تقلبھم مضاف مضاف الیہ، تقلب (تفعل) مصدر۔ پھرنا۔ پھر پھرجانا۔ آنا جانا۔ الٹنا پلٹنا۔ ہم ضمیر کا مرجع کافر قریش ہیں۔ فی البلاد : ای فی بلاد اللّٰہ۔ یہاں اشارہ ہے جنوب میں یمن سے اور شمال میں ملک شام سے جہاں قریش کے تجارتی قافلے اکثر آیا جاتا کرتے تھے اس کا تذکرہ سورة قریش میں آیا ہے رحلۃ الشتاء (للیمن) رحلۃ الصیف (للشام) ۔
Ayah 40:5

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١۪ وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ Open ayah 40:5 in the Quran reader

ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور امتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی اور ہر امت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بےہودہ (شبہات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا ؟

(40:5) قبلہم : ای قبل کفار قریش۔ کفار قریش سے پہلے۔ والاحزاب من بعدہم : الاحزاب حزب کی جمع ہے جس کے معنی جماعت ، گروہ کے ہیں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع قوم نوح ہے۔ مطلب :۔ قوم نوح کے بوعد وہ کافر امتیں جو کہ پیغمبروں کے خلاف جتھ بند ہوگئی تھیں اور مقابلہ پر آگئیں جیسے قوم عاد وثمود و قوم لوط۔ وھمت کل امۃ برسولہم : ھمت ماضی واحد مؤنث غائب ہم باب نصر مصدر سے۔ ہم ب کسی چیز کا ارادہ کرنا۔ چاہنا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کا ارادہ کرلیا۔ لیاخذوہ۔ لام تعلیل کا یاخذوا مضارع جمع مذکر غائب (منصوب بوجہ عمل لام) اخذ باب نصر مصدر سے۔ کہ وہ اس کو پکڑ لیں۔ حضرت ابن عباس رحی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے تاکہ وہ اپنے پیغمبر کو قتل کردیں ۔ اور ہلاک کردیں اور بعض علماء نے ترجمہ کیا ہے تاکہ پیغمبر کو گرفتار کرلیں۔ عرب قیدی کو اخیذ (یعنی پکڑا ہوا۔ گرفتار) کہتے ہیں۔ جدلوا بالباطل : جدلوا ماضی جمع مذکر غائب مجادلۃ (مفاعلۃ) مصدر سے انہوں نے جھگڑا کیا۔ بالباطل جھوٹ کے ساتھ ۔ یعنی جھوٹی بات کو بنیاد بنا کر بغیر حق کے، باطل قول کے ساتھ۔ مطلب انہوں نے ناحق محض جھوٹ پر مبنی باتوں کو لے کر جھگڑے کھڑے کر دئیے تھے۔ لیدحضوا بہ۔ لام تعلیل کا۔ یدحضوا مضارع جمع مذکر غائب منصوب عمل لام ارحاص (افعال) مصدر بمعنی زائل کرنا۔ باطل کرنا۔ بہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع باطل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اس باطل بات کے ذریعہ سے یا اس ناحق ذریعہ سے حق کو زائل کردیں یا باطل کردیں ۔ ڈگمادیں یا دبادیں۔ فاخذتھم :سببیہ ہے اخذن ماضی واحد متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب پس میں نے ان کو پکڑ لیا یعنی ان کو سزا دینے کے لئے میں نے پکڑ لیا۔ کیف۔ استفہامیہ ہے۔ کیف سوالیہ کے ذریعہ سے صفات مخلوق کے متعلق سوال کیا جاتا ہے ۔ لیکن جہاں اللہ نے اپنی ذات وصفات کے موقع پر لفظ کیف کو استعمال کیا ہے وہاں غیر حقیقی استفہام مراد ہوتا ہے یعنی صرف استخبار، خواہ بطور تعجب یا مخاطب کو تنبیہ اور توبیخ کرنے کے لئے۔ یہاں بطور تعجب آیا ہے۔ روح المعانی میں ہے وھذا تقریر فیہ تعجیب للسامعین مما وقع بھم اس تقریر میں جھوٹا جھگڑا کرنے والوں پر جو گزری اس پر سامعین کے لئے تعجیب ہے۔ عقاب۔ اصل میں عقابی تھا ی کو ساقط کردیا گیا۔ میری سزا۔ یعنی میری طرف سے دی گئی سزا۔ مطلب یہ ہے کہ دیکھا میری طرف سے ان کو کیسی سزا ملی۔
Ayah 40:6

وَ كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِۘؔ Open ayah 40:6 in the Quran reader

اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں

(40:6) کذلک کااول حرف تشبیہ ہے۔ ذ۔ اسم اشارہ (یہ۔ اس) لام علامت اشارہ بعید۔ آخر کاف حرف خطاب واحد مذکر حاضر کذلک سے اشارہ مذکورہ سابق کی طرف ہوتا ہے۔ جس کا ترجمہ :۔ ایسے ہی۔ اسی طرح۔ حقت ٹھیک پڑی۔ ثابت ہوئی۔ واجب ہوئی۔ پوری ہوئی۔ لازم ہوئی۔ نیز ملاحظہ ہو 39:71 متذکرہ بالا۔ کلمۃ حکم : ازلی تحریر۔ حکم الٰہی سابق۔ کذلک حقت کلمت ربک علی الذین کفروا انہم اصحب النار۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) انھم اصحب النار۔ مقام نصب میں ہے اور انھم میں لام تعلیل محذوف ہے۔ یعنی لانھم ہے۔ آیت کا مطلب یوں ہوگا :۔ جس طرح مذکورہ بالا کفار امم سابقہ میں سے مرسلین حق کے ساتھ جھوٹی باتوں پر اڑے رہے اور جھگڑتے رہے اور رسولوں کی ایذاء اور قتل کے درپے رہے اور انجام کار خدا کے عذاب نے انہیں بری طرح آلیا اور وہ ہلاک ہوئے اسی طرح تیرے پروردگار کا حکم کفار پر (کفار قریش مراد ہے) واجب ہوکر رہے گا۔ (وہ بھی عذاب الٰہی کا مزہ چکھیں گے اور ہلاکت کو پہنچیں گے) کیونکہ انجام کار وہ ایک ہی قدر مشترک میں مجتمع ہیں یعنی وہ دوزخی ہیں۔ (2) اگر جملہ انھم اصحب النار۔ محل رفع میں ہے بوجہ کلمۃ ربک کا بدل ہونے کے تو اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (ا) جس طرح گزشتہ کافر امتوں پر خدا کا فرمان عذاب پورا ہوا۔ اسی طرح آپ کی امت میں سے جو لوگ کافر ہیں ان پر قول عذاب پورا ہوگا یعنی وہ داخل جہنم ہوں گے۔ (ب) جس طرح گزشتہ کافر امتوں پر خدا کا فرمان عذاب پورا ہوا اسی طرح جو لوگ بھی کفر کے مرتکب ہوئے ہیں یا ہوں گے ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان چسپاں ہوچکا کہ وہ جہنمی ہونگے۔
Ayah 40:7

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ Open ayah 40:7 in the Quran reader

جو لوگ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اسکے گردا گرد (حلقہ باندھے ہوئے) ہیں (یعنی فرشتے) وہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں اور مومنوں کیلئے بخشش مانگتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے تو جن لوگوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے ان کو بخش دے اور دوزخ سے بچا لے

(40:7) یحملون مضارع جمع مذکر غائب، وہ اٹھاتے ہیں۔ وہ اٹھائے ہوں گے۔ حمل (باب ضرب) مصدر سے۔ سیتغفرون۔ مضارع جمع مذکر غائب استغفار (استفعال) مصدر۔ وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔ وہ معافی مانگتے ہیں۔ وسعت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ سعۃ مصدر۔ یہ وسعت مکانی۔ وسعت حالت اور وسعت فعل کے لئے آتا ہے۔ مثلاً وسعت مکان کے متعلق کہیں گے ھذا الاناء یسع عشرین کیلا۔ اس برتن میں بیس کیل سماتے ہیں۔ اور وسعت حالت کے متعلق : لینفق ذع سعۃ من سعتہ (56:7) صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔ اور وسعت فعل (یعنی قدرت وجود و رحمت و علم و فضل وغیرہ کے لحاظ سے وسیع ہونا) مثلا وسع ربی کل شیء علما (6:81) میرا پروردگار بلحاظ علم ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یا اور جگہ فرمایا ورحمتی وسعت کل شیء (7:156) اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ آیت ہذا میں وسعت کل شہی رحمۃ وعلما۔ تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کو شامل ہے۔ رحمۃ وعلام بوجہ تمیز منصوب ہیں۔ فاغفر۔ فعل امر، واحد مذکر حاضر۔ غفر (باب ضرب) سے تو معاف کر، تو بخش دے۔ اصل میں غفر ایسے لباس کو کہتے ہیں جو ہر قسم کی گندگی اور میل سے محفوظ رکھ سکے۔ مغفرت الٰہی کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو عذاب سے محفوظ رکھے۔ اسی اعتبار سے غفر کا استعمال معاف کرنے اور بخش دینے کے معنی میں ہوتا ہے۔ الفاء سببیہ ہے۔ اس کی رحمت سب مغفرت ہے اعمال موجب مغفرت نہیں ہیں ۔ سبیلک۔ مضاف مضاف الیہ، تیری راہ۔ تیرا راستہ۔ مراد تیرا دین۔ قہم۔ ق ہم۔ ق امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وقایہ اور وقاء مصدر (باب ضرب) وقی مادہ۔ ق فعل امر حاضر معروف تقی فعل مضارع معروف سے بنایا گیا ہے علامت مضارع کو شروع سے اور ی حرف علت کو آخر سے گرا دیا ق رہ گیا۔ قہم تو ان کو بچا۔ تو ان کو محفوظ رکھ۔ ربنا۔ اے ہمارے پروردگار۔ تکریر النداء لزیادۃ الاستعطاف۔ ندائیہ کلمہ زیادتی طلب رحمت کے دوبارہ لایا گیا ہے۔
Ayah 40:8

رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 40:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو انکے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور انکی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی بیشک تو غالب حکمت والا ہے

(40:8) وادخلہم : ادخل فعل امر حاضر واحد مذکر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر تو ان کو داخل کر۔ ادخال (افعال) مصدر۔ جنت عدن بالتی وعدتھم۔ اگر عدن علم ہے جیسا کہ بعض علماء کا خیال ہے (اور وہ اس آیۃ کو دلیل میں پیش کرتے ہیں کیونکہ یہاں معرفہ کو اس کی صفت لایا گیا ہے) اس صورت میں جنت عدن ترکیب اضافی ہے بمعنی عدن کے باغات۔ اور اگر عدن کو عدن یعدن (باب ضرب) یا عدن یعدن (باب نصر) کا مصدر لیا جاوے تو ترکیب توصیفی ہے جنت موصوف اور عدن صفت یعنی ایسے باغات جہاں مستقل طور پر رہنا اور بسنا ہو۔ ترجمہ ہوگا :۔ (اے پروردگار ان کو) جنت عدن (میں داخل فرما) جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ ومن صلح۔ واؤ عاطفہ ہے۔ من موصولہ۔ اس کا عطف ادخلہم کی ضمیر ہم پر ہے۔ ای وادخل معہم ھؤلاء اور ان کے ساتھ ان کو بھی داخل فرما۔ صلح ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب صلاح صلوح مصدر (باب نصر، فتح) نیک ہونا ، نیکی کرنا۔ صلاح کا مقابلہ قرآن مجید میں کہیں فساد سے کیا گیا ہے۔ مثلا ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا (7:56) اور ملک میں اس کی اصلاح کے بعد خرابی مت مچاؤ۔ اور کہیں اس کا مقابلہ سیئۃ سے ہے مثلا خلطوا عملا صالحا واخر سیئا (9:102) انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا (خلط ملط) کردیا۔ یہاں من صلح سے مراد وہ اشخاص ہیں جو (جنت میں داخل ہونے کی) صلاحیت رکھتے ہوں یعنی جو ایمان رکھنے والے ہوں خواہ ان سے گناہ کا ارتکاب ہوا ہو۔
Ayah 40:9

وَ قِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 40:9 in the Quran reader

اور انکو عذابوں سے بچائے رکھ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بیشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے

(40:9) وقھم۔ میں واؤ عاطفہ ہے ق امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر (ملاحظہ ہو آیت 7 متذکرہ بالا) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اور ان کو بچالے۔ محفوظ رکھ۔ السیئات ای وقھم جزاء السیئات اور ان کو ان کی برائیوں کی سزا سے بچالے۔ یا بدوں اضافت ان کی برائیوں سے (دنیا میں بچالے) ۔ من موصولہ ہے۔ من بیانہ ہے۔ تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے۔ تق مضارع واحد مذکر حاضر۔ وقی مصدر (باب ضرب) تق اصل میں تقی تھا۔ عامل کے آنے سے ی حرف علت ساقط ہوگیا۔ تو بچا دے۔ تو بچاتا ہے۔ تو بچادیگا۔ ومن تق السیات یومئذ فقد رحمتہ : من اسم موصول ہے۔ السیات سے مراد برائیاں۔ اعمال بد یا اعمال بد کی جزائ۔ برائیوں کی سزا ہے۔ یومئذ اس روز۔ اس سے مراد یوم مؤاخذہ (روز قیامت) ہے یا یوم عمل یعنی دیتا ہے۔ آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے :۔ جس کو تو نے برائیوں سے اس روز بچا لیا۔ اس پر تو نے (بڑی) رحمت (مہربانی) کی اگر یومئذ سے مراد یوم عمل لیا جائے تو آیت کا مطلب ہوگا :۔ جس کو تو نے (دنیا میں) بد اعمال سے بچا لیا (وہ آخرت میں عذاب سے بچ گیا اس طرح روز قیامت) اس پر تیری بڑی رحمت ہوئی ۔ اور اگر یومئذ سے مراد یوم حساب لیا جائے تو السیئات بمعنی عقوبات سیات (بد اعمال کی سزا) آئے گا۔ یعنی جس کو تو نے روز قیامت اس کے اعمال بد کی سزا سے (اپنی رحمت سے) بچا لیا اس پر تیری (بڑی) مہربانی ہوئی۔ ذلک کا اشارہ رحمت کی طرف ہے یا عذاب سے بچاؤ کی طرف یا دونوں کی طرف ۔ الفوز العظیم۔ موصوف و صفت۔ بڑی کامیابی۔ فائدہ : آیات 7 تا 9 میں فرشتوں کی طرف سے مؤمنوں کو جنت میں داخل کرنے کی دعا اور عذاب سے محفوظ رکھنے کی دعا ہے۔ تفسیر مظہری میں ہے :۔ ایک سوال : ملائکہ کو جب معلوم ہے کہ اللہ نے مومنوں کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے (مثلا والذین صبروا ابتغاء وجہ ربھم ۔۔ والملئکۃ یدخلون علیہم من کل باب (13:22-23) اور اللہ کے وعدہ کے خلاف ہونا ممکن ہی نہیں تو پھر اللہ سے مومنوں کو جنت میں داخل کرنے کی دعا کرنا بےسود ہے۔۔ جواب میں کہتا ہوں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے دلوں میں مومنوں کی محبت ڈال دی ہے ۔ اور اسی محبت کا تقاضا ہے کہ وہ مومنوں کے لئے دعا کرتے ہیں۔ پھر دعا کا مقصد مزید رحمت کی طلب بھی ہوتا ہے۔ اور اللہ کے محبوب بندوں کے لئے دعا کرنے والوں کو خود بھی اللہ کی رحمت اور رضا مندی کا ایک حصہ ملتا ہے۔
Ayah 40:10

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ Open ayah 40:10 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو

(40:10) ینادون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب فعل مالم یسم فاعلہ الذین اسم موصول مفعول مالم یسم فاعلہ ہے۔ ان کو پکارا جائے گا۔ مناداۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ مطلب یہ کہ جب کافر لوگ اپنے اعمال بد کے نتیجے میں دوزخ کے اندر سزا بھگت رہے ہوں گے وہ اپنے نفسوں سے سخت نفرت کریں گے۔ کیونکہ انہیں کے نفوس نے ان کو دنیا میں گناہ اور کفر پر آمادہ کیا تھا۔ جس کا نتیجہ وہ اب بھگت رہے ہیں۔ اس حالت میں دوزخ کے فرشتے ان کافروں کو پکاریں گے اور کہیں گے۔ یا مومن لوگ ان کافروں کو پکاریں گے۔ لمقت اللّٰہ اکبر من مقتکم انفسکم لام ابتدائیہ یا قسم کے لئے مقت اللہ مضاف مضاف الیہ۔ مقت مصدر ہے۔ یہ مصدر کی اضافت اس کے فاعل کی طرف ہے۔ المقت (باب نصر) کے معنی کسی شخص کو فعل قبیح کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھ کر اس سے نفرت کرنے کے ہیں۔ مقتکم انفسکم۔ مرکب اضافی۔ تمہاری اپنی نفسوں سے نفرت۔ لمقت اللّٰہ ۔۔ فتکفرون : یہ دوزخ کے فرشتوں یا مومنوں کا مقولہ ہے۔ یعنی وہ یہ کہیں گے ای ینادون فیقال لہم ان کو پکارا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا۔ اذ تدعون الی الایمان میں اذ ظرفیہ نہیں بلکہ تعلیلیہ ہے اور مقت اللّٰہ اور مقتکم کا زمانہ ایک ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آج تم جس قدر اپنے نفسوں سے نفرت کر رہے ہو اللہ تم سے اس سے زیادہ نفرت کر رہا ہے۔ کیونکہ (دنیا میں) ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کی راہ اختیار کرتے تھے۔ تدعون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ دعاء مصدر باب نصر۔ تم پکارے جاتے ہو۔ تم پکارے جاؤ گے۔ یہاں مضارع بمعنی ماضی ہے تم پکارے جاتے تھے۔ تم کو پکارا جاتا تھا۔ فتکفرون : تکفرون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم کفر کرتے ہو۔ تم کفر کرتے تھے (مضارع بمعنی ماضی) تم قبول کرنے سے انکار کرتے تھے۔ (کافروں کا کفر کرنا اور ایمان نہ لانا نفرتوں کا سبب بن گیا) ۔
Ayah 40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ Open ayah 40:11 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے ؟

(40:11) امتنا۔ ماضی واحد مذکر حاضر نا ضمیر جمع متکلم۔ تو نے ہم کو موت دی۔ اور دو دفعہ زندگی بخشی۔ پہلی موت : ماں کے پیٹ میں بصوت نطفہ ۔ علقہ یا مضغہ اس میں روح پھونکے جانے سے قبل۔ اس وقت چونکہ بچے میں جان نہیں ہوتی اس اعتبار سے وہ موت ہی ہے۔ دوسری موت : دنیاوی زندگی ختم ہونے پر۔ پہلی حیات : دنیاوی زندگی ختم ہونے پر مرنے کے بعد کی زندگی جو کبھی ختم نہ ہوگی ۔ اس کا ذکر اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ کیف تکفرون باللّٰہ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحیکم ثم الیہ ترجعون ۔ (2:28) تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو درآں حالیکہ تم بےجان تھے تو اس نے تمہیں زندگی بخشی پھر وہی تمہیں موت دیگا۔ پھر وہی تمہیں زندہ کرے گا۔ پھر اسی کی طرف تم واپس کئے جاؤ گے۔ فاعترفنا۔ الف۔ سببیہ ہے ۔ جب وہ دوسری موت کے بعد دوسری زندگی کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو اپنے گناہ اور خطا کا اقرار کرلیں گے (کیونکہ یہی حیات ثانی تھی جس کے وہ دنیا میں منکر تھے) اس طرح دونوں موتوں اور دونوں زندگیوں کا مجموعہ اعتراف کا سبب بن جائے گا۔ فہل الی خروج من سبیل۔ یہ جملہ استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے۔ سو کیا (یہاں سے) نکلنے کی کوئی صورت ہے ؟ اور جملہ تمنائیہ بھی : کاش (یہاں سے نکلنے کی) کوئی سبیل ہوتی۔
Ayah 40:12

ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ١ۚ وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا١ؕ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ Open ayah 40:12 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو خدا ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے

(40:12) ذلکم : یعنی تمہارا دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہونا۔ بانہ۔ میں باء سببیہ ہے ان حرف تحقیق ہے اور حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ تحقیق، بےشک۔ یقینا ہ ضمیر شان ہے اور اللہ کی طرف عائد ہوتی ہے۔ داعی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب وہ پکارا گیا۔ دعاء (باب نصر) مصدر سے۔ ذلک یا نہ اذا دعی اللّٰہ وحدہ کفرتم۔ تمہارا یہ دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہونا بدیں وجہ ہے کہ تحقیق جب بھی اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر کیا گیا تو تم اسے ماننے سے انکار کردیتے تھے یعنی جب بھی لا الہ الا اللّٰہ کہا جاتا تو تم کہہ اٹھتے اجعل الالہۃ الھا واحدا (38:5) کیا بنادیا ہے اس نے بہت سے خداؤں کی جگہ ایک خدا۔ یا ۔ انھم کانوا اذا قیل لہم یستکبرون ۔ (37:35) کفار کا حال یہ ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ نہیں کوئی معبود اللہ کے سوا تو یہ تکبر کرنے لگتے ہیں۔ ان یشرک بہ ان شرطیہ یشرک مضارع مجہول واحد مذکر غائب ۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان ب تعدیہ کے لئے ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع اللہ ہے اور اگر کسی کو اس کا شریک بنایا جاتا۔ تؤمنوا۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ نون اعرابی بوجہ جواب شرط حذف ہوگیا۔ (تو) تم اس شرک کو مان جاتے ۔ اس پر ایمان لے آتے۔ فالحکم للّٰہ : پس (آج) حکم کا اختیار (صرف) اللہ وحدہ لاشریک کو ہی ہے۔ تمہارے کسی معبود باطل کے بس کی بات نہیں العلی۔ بلند مرتبہ۔ رفیع المرتبت، عالیشان۔ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ ہر دو العلی الکبیر اپنے اعراب میں موصوف اللہ کے تابع ہیں۔ الکبیر۔ عظمت و مرتبہ میں بڑا۔ یہ بھی صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ فائدہ : یہاں اللہ کی طرف سے دوزخیوں کا جواب ختم ہوا۔ اس کے بعد ھو الذی سے کلام جدید شروع ہوا۔ جس کے مخاطب رسول اللہ ﷺ اور دوسرے مومن ہیں۔
Ayahs 40:13–14

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا١ؕ وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 40:13 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اتارتا ہے اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے

فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 40:14 in the Quran reader

تو خدا کی عبادت کو خالص کر کے اسی کو پکارو اگرچہ کافر برا ہی مانیں

(40:13) ھو الذی مبتداء ہے یریکم اس کی خبر۔ یریکم : یری فعل مضارع واحد مذکر غائب اراء ۃ مصدر باب افعال کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر وہ تم کو دکھاتا ہے۔ ایتہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یری کا مفعول ثانی۔ وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے ۔ نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت شان اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ ینزل مضارع واحد مذکر غائب تنزل (تفعیل) مصدر وہ نازل کرتا ہے۔ من السماء اوپر سے۔ سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے۔ ہر شے اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتی ہے۔ رزقا : ینزل کا مفعول ہے یہاں مسبب بیان کرکے سبب مراد لیا ہے یعنی سبب رزق مراد بارش ، یعنی وہی اوپر سے تمہارے لئے بارش برساتا ہے جس سے تمہارے لئے رزق پیدا کرتا ہے۔ ینزل لکم من السماء رزقا۔ یہ ھو الذی مبتدا کی خبر ثانی ہے۔ ما یتذکر۔ مضارع نفی واحد مذکر غائب تذکر (تفعل) مصدر سے کوئی نصیحت نہیں پکڑتا ۔ (مگر ۔۔ ) من ینیب : من موصولہ۔ ینیب مضارع واحد مذکر غائب۔ انابۃ (افعال) مصدر ۔ وہ لوٹتا ہے (یعنی شرک سے توحید کی طرف) (مگر) وہ جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا ہے) ۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔
Ayah 40:15

رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ١ۚ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِۙ Open ayah 40:15 in the Quran reader

وہ مالک درجات عالی اور صاحب عرش ہے، اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ڈراوے

(40:15) رفیع الدرجت : رفیع بلند کرنے والا۔ بلند ہونے والا۔ رفع سے برون فعیل بمعنی فاعل یعنی رافع بھی ہوسکتا ہے بمعنی بلند ہونے والا اور بلند کرنے والا۔ اور بمعنی مفعول۔ یعنی مرفوع بھی بمعنی بلند کیا ہوا۔ رفیع الدرجت۔ اسماء حسنی میں سے ہے اس کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ بلند مرتبوں والا بھی۔ اور مرتبوں کو بلند کرنے والا بھی۔ یہ ھو الذی مبتداء کی خبر ثالث ہے۔ ذوالعرش۔ مضاف مضاف الیہ۔ یہ خبر چہارم ہے۔ صاحب عرش۔ عرش کا خالق ومالک۔ یلقی الروح : یلقی مضارع واحد مذکر غائب ، القاء (افعال) مصدر وہ ڈالتا ہے ، وہ نازل فرماتا ہے۔ الروح اس سے مراد مختلف معانی لئے گئے ہیں : ۔ (1) اس سے مراد وحی ہے۔ (قتادہ) (2) اس سے مراد القرآن ہے (ابن عباس) (3) اس سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں ۔ (ضحاک) (4) اس سے مراد تمام وہ نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے ہدایت یافتہ بندوں پر نازل فرماتا ہے۔ (ابن عطیہ) من امرہ : (1) من بیانیہ بھی ہوسکتا ہے یعنی اپنا حکم نازل فرماتا ہے۔ (2) من ابتدائیہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں امر سے مراد فضل ہے یعنی اپنے فضل سے وہ وحی نازل فرماتا ہے۔ (3) من سببیہ (یلقی) سے متعلق بھی ہوسکتا ہے۔ ای ینزل الروح من اجل تبلیغ امرہ۔ وہ روح کو اپنے حکم کی تبلیغ کے لئے نازل فرماتا ہے۔ یہ جملہ ھو الذی مبتداء کی خبر پنجم ہے۔ فائدہ : علی من یشاء من عبادہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی یعنی اپنا حکم نازل فرماتا ہے۔ یہ آخری جملہ تمہید نبوت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ من عبادہ میں من بیانیہ ہے۔ لینذر : لام تعلیل کا ہے۔ ینذر مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے ۔ نصب بوجہ عمل لام ہے۔ انذاز (افعال) مصدر تاکہ ڈرائے۔ ضمیر فاعل کا مرجع :۔ (1) اللہ تعالیٰ ہے۔ (2) روح یعنی وحی ہے ۔ (3) یا من یشاء من عبادہ (یعنی پیغمبر) ہے۔ ینذر کا مفعول الناس والعذاب دونوں محذوف ہیں یوم التلاق مفعول فیہ ہے۔ ضمیر فاعل کا مرجع اللہ ہونے کی صورت میں کلام کا مطلب یہ ہوگا : ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی یعنی اپنا حکم نازل فرماتا ہے تاکہ وہ (اس حکم اور پیغمبر کے ذریعہ) لوگوں کو ان کی نافرمانی کے نتیجہ بد کے طور پر قیامت کے روز ہونے والے اس عذاب سے ڈرائے۔ یوم التلاق۔ مفعول بہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں الناس اور العذاب کو مفعول محذوف لانے کی ضرورت نہ ہوگی۔ اور ترجمہ ہوگا :۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے وہ وحی یعنی اپنا حکم نازل فرماتا ہے تاکہ یوم الاجتماع (یوم حساب ، روز قیامت) سے ڈرائے۔ یوم التلاق مضاف مضاف الیہ۔ مادہ لقی۔ باب تفاعل سے مصدر ہے ایک دوسرے سے ملاقات کرنا۔ باہم جمع ہونا۔ اصل میں تلاقی تھا ۔ ی حرف علت آخر سے حذف ہوگئی۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ کیونکہ اس روز سب اگلے اور پچھلے یا اہل سماء اہل ارض ایک دوسرے کے آمنے سامنے آجائیں گے۔ نیز اس روز ہر شخص اپنے اعمال کے نتائج کو اپنے سامنے پالے گا۔
Ayah 40:16

یَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ١ۚ۬ لَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْهُمْ شَیْءٌ١ؕ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ١ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 40:16 in the Quran reader

جس روز وہ نکل پڑیں گے ان کی کوئی چیز خدا سے مخفی نہ رہے گی، آج کس کی بادشاہت ہے ؟ خدا کی جو اکیلا اور غالب ہے

(40:16) یوم ہم بارزون۔ یہ یوم التلاق کا بدلہ ہے۔ وہ دن جب وہ قبروں سے نکل کر کھلے میدان میں اللہ کے حضور آکھڑے ہوں گے۔ بارزون : اسم فاعل جمع مذکر۔ بروز باب نصر سے مصدر۔ باہر نکل کھڑے ہونے والے۔ بروز۔ کسی جگہ نکلنا۔ میدان میں نکلنا۔ اور ظاہر ہونا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ولما برزوا لجالوت و جنودہ (2:250) اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے۔ یا۔ وبرزوا للّٰہ الواحد القھار (14:48) اور سب لوگ خدائے یگانہ و زبردست کے سامنے نکل کھڑے ہوں گے۔ لایخفی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب ۔ اخفاء (افعال) مصدر ضمیر فاعل کا مرجع شی ہے۔ کوئی شے پوشیدہ نہ رہے گی۔ لایخفی علی اللّٰہ کا جملہ یوم ہم بارزون کے معنی کی تاکید کر رہا ہے اور دنیا میں جو پوشیدہ رہنے کا تو ہم ہوسکتا ہے۔ اس کا دور کر رہا ہے۔ اسی مفہوم میں اور جگہ ارشاد باری ہے ان ربھم بھم یؤمئذ لخبیر (100:11) بیشک ان کا پروردگار اس روز ان سے خوب واقف ہوگا۔ منھم : یعنی ان کی شخصیت وذات مخفی رہیگی ۔ نہ کوئی عمل نہ کوئی حالت ۔ لمن الملک الیوم : صرف کسی کی طادشاہی ہے۔ (سوال) للّٰہ الواحد القھار۔ صرف اللہ کی جو واحد اور قہار ہے۔ (جواب)
Ayah 40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ؕ لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 40:17 in the Quran reader

آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی، بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

(40:17) الیوم تجزی ۔۔ سریع الحساب۔ آج ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ ملے گا۔ آج ذرا ظلم نہیں ہوگا۔ بیشک اللہ بہت جلد حساب لے ڈالنے والا ہے۔ (جواب کا ضمیمہ ہے) اس سوال و جواب کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ سوال و جواب ساری مخلوق کے مرنے کے بعد اور دوبارہ پیدا کرنے سے پہلے ہوگا۔ اور سوال کرنے والا اور جواب دینے والا خود اللہ کی ذات ہوگی۔ جب ہر چیز فناء ہوجائے گی اور کوئی شے باقی نہ رہے گی۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ للّٰہ الواحد القھار۔ (2) یہ سوال و جواب اس وقت ہوگا جب ساری مخلوق زندہ ہو کر خدا کے حضور کھڑی ہوگی اور ہر شخص کا ظاہرہ و باطن اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہوگا۔ اور یہ امر شک وشبہ سے بالاتر ساری مخلوق کے ذہن نشین ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ سوال کریگا کہ۔ دنیا میں مارنے والو ! اب بتاؤ کہ آج کس کی حکومت ہے ؟ ہر شخص حقیقت حال ست آگاہ ہوگا۔ اس لئے کوئی جواب نہ دے سکے گا۔ تو پھر اللہ تعالیٰ خود ہی جواب میں فرمائے گا۔ للّٰہ الواحد القھار ۔۔ الخ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ سائل اللہ تعالیٰ یا فرشتگان ہوں گے۔ اور جواب دینے والے حشر میں جمع لوگ ہوں گے ۔ لیکن کلام الیوم تجزی ۔۔ سریع الحساب بندوں کی زبان سے نہیں ہے۔ فھذا یقضی ان یکون المنادی ھو المجیب (کشاف) یعنی یہ عبارت اس بات کی مقتضی ہے کہ سوال کرنے والا خود ہی جواب دینے والا ہو۔ (4) بعض کے نزدیک یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الیوم تجزی ۔۔ سریع الحساب تمتہ جواب نہیں ہے بلکہ سوال و جواب کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہو۔ تجری مضارع مجہول واحد مؤنث غائب ۔ مؤنث کا صیغہ نفس کے لئے ہے جزاء (باب ضرب) مصدر۔ جزی مادہ۔ اس کو جزاء دی جائے گی۔ اس کو بدلہ دیا جائے گا۔ کل نفس۔ مفعول مالم یسم فاعلہ، ہر نفس ، ہرجان۔ سریع الحساب۔ مضاف مضاف الیہ ۔ حساب کو بہت جلدی کرلینے والا۔ سریع ۔ سرعۃ سے بروزن فعیل بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بہت جلدی سے کرلینے والا۔
Ayah 40:18

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِیْنَ١ؕ۬ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ Open ayah 40:18 in the Quran reader

اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہیں ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے

(40:18) انذرھم : انذر۔ فل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ جس کا مرجع نبی کریم ﷺ ہیں۔ انذار (افعال) مصدر سے بمعنی ڈرانا۔ ہم ضمیر مفعول مع مذکر غائب تو ان کو ڈرا۔ تو ان کو ڈر سنا دے۔ یوم الازفۃ۔ مضاف مضاف الیہ ای یوم القیامۃ۔ یہ انذر کا مفعول ثانی ہے اس کا ظرف نہیں ہے۔ کیونکہ یوم قیامت سے خوف دلانے کا فعل یہاں دنیا میں واقع ہے۔ الازفۃ : ازف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ ازف یہازف (سمع) ازف قریب آپہنچنا۔ اس کے اصل معنی تنگی وقت کے ہیں۔ چونکہ تنگی وقت کا مطلب وقت کا قریب آلگنا ہوتا ہے اس لئے اس کا استعمال قریب آلگنے میں ہونے لگا۔ ازف جا کے آنے کا وقت بہت تنگ ہوگیا ہو۔ قریب آلگنے والی ۔ مراد قیامت۔ وانذرھم یوم الافۃ : اور ان کو قریب آنے والے دن (یوم قیامت سے) ڈراؤ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ازفت الازفۃ۔ نزدیک آجانے والی نزدیک آپہنچی یعنی قیامت قریب آپہنچی۔ اذ القلوب لدی الحناجر کظمین۔ اذ۔ جب ۔ جبکہ۔ یوم الازفۃ سے بدل ہے۔ لدی الحناجر۔ مضاف مضاف الیہ۔ لدی اسم ظرف بمعنی عند پاس۔ الحناجر جمع حنجرۃ کی گلا۔ لدی الحناجر گلوں کے پاس۔ گلوں میں۔ اس وقت دلوں کا غلے میں آنا۔ دو طرح سے ہے :۔ (1) دل اس روز سینے میں اپنی جگہوں کو چھوڑ کر اوپر کو آجائیں گے حتی کہ گلے میں آپھنسیں گے وہاں سے نہ تو وہ منہ سے باہر ہی نکل سکیں گے کہ نکل جائیں تو موت ہی آجائے اور نہ نیچے اپنے اصلی مقام کو جاسکیں گے کہ سانس لیا جاسکے۔ بس گلے میں اٹکے ہی رہ جائیں گے نہ موت آئے گی اور نہ اس دکھ سے جان چھوٹے گی۔ (2) دلوں کا گلے میں آ اٹکنا۔ دکھ اور درد کی شدت، صورت حال کی قباحت و دشواری کو ظاہر کرنا ہے دلوں کا فی الواقع گے میں آجانا مراد نہیں ہے اسی مفہوم میں قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے۔ ھنالک ابتلی المؤمنون وزلزلوا زلزالا شدیدا (33:11) اس موقعہ پر ایمان والوں کو خوب آزمایا گیا اور وہ سخت زلزلہ میں ڈالے گئے۔ یہاں زلزال سے خوف و فزع مراد ہے نہ کہ حرکت ارض (زلزلہ، بھونچال) یعنی وہ خوب سختی سے جھنجھوڑے گئے۔ گویا یہاں بطور محاورہ استعمال ہوا ہے۔ کظمین۔ اسم فاعل جمع مذکر کظم مفرد۔ کظم کظوم مصدر۔ (باب ضرب) کظم الباب اس نے دروازہ بند کیا۔ کظم النھر اس نے نہر کو روک دیا کظم القربۃ اس نے مشک بھری اور منہ باندھ دیا۔ کظم (باب سمع) ۔۔ غیظم۔ اس نے اپنے غصہ کو پی لیا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے واللظلمین الغیظ ۔۔ آیۃ (3:134) غصہ کو پی جانے والے۔ والکظم خوف و غم اور غصہ کو دل میں روک لینا۔ حتی یمتلی منہ ویضیق بہ۔ حتی کو وہ اس سے بھر جائے اور اس کی وجہ سے گھٹن محسوس کرنے لگے۔ کا ظمین : مکروبین ممتلئین خوفا وغما وحزنا۔ خوف و غم اور حزن سے بھرے ہوئے کہ سخت کرب و عذاب میں مبتلا ہوں۔ کظمین۔ القلوب سے حال ہے جملہ کا مطلب یہ ہوگا۔ جس وقت (دکھ اور درد کی شدت سے) اپنی جگہ چھوڑ کر دل اوپر حلقوم میں آجائیں گے اور ان کے منہ بند کردیں گے (کہ نہ سانس اندر کی راہ پاسکے اور نہ اندرونی کرب و ایزاء میں کمی ہوسکے) ۔ ظلمین۔ سے مراد مشرک اور کافر لوگ ہیں۔ حمیمجگری دوست، ایسا دوست جو کہ اپنے دوست کو تکلیف میں دیکھ کر اس کی مدد کے لئے جوش میں آجائے (گرمی کھاجائے) شفیع : شفاعۃ سے بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ سفارش کرنے والا۔ یطاع۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ جس کی بات مانی گئی ہو۔ یعنی ایسا سفارشی جس کی بات اگلا مان جائے۔ مراد یہاں سفارشی کی مطلقا نفی ہے کیونکہ ان کو کوئی ایسا سفارشی تو ہوگا ہی نہیں جس کی سفارش مان لی جائے اور ایسا سفارشی بھلا کون ڈھونڈے گا جس کے متعلق یقین ہو کہ اس کی کوئی بات مانے گا ہی نہیں َ مطلب یہ ہوا کہ اسے کوئی بھی سفارشی ملے گا ہی نہیں ۔ یا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جیسا کہ کفار و مشرکین خیال کرتے تھے اور اب بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ جن بزرگوں کے وہ دامن گرفتہ ہیں وہ ان کو دوزخ میں جانے نہیں دیں گے اور انہیں اللہ سے بخشوا کر ہی چھوڑیں گے۔ فرمایا کہ ایسا کوئی ان کا شفیع نہ ہوگا جس کی سفارش اللہ تعالیٰ منظور فرمالے۔ یا اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا کوئی سفارشی نہ ہوگا جس کی سفارش مان لی جائے۔ یعنی ان کے کسی سفارشی کی بات نہ مانی جائے گی (یہ الگ بات ہے کہ ان کا کوئی سفارشی ہوگا بھی کہ نہیں) ۔ فائدہ : کلام یلقی الروح ۔۔ الحساب (آیات 15:17) کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے (جب کہ الیوم کا ترجمہ ” آج کا دن “ کی بجائے ” اس دن “ کیا جائے۔ (اللہ تعالیٰ ) اپنے بندوں میں سے کس کا چاہتا ہے اپنا حکم دے کر وحی کو اس کی طرف بھیجتا ہے۔ تاکہ وہ (اللہ یا وحی یا پیغمبر جس پر وحی نازل ہو لوگوں کو) یوم اجتماع کے (عذاب سے) ڈرائے اس دن سب مخلوق چٹی ننگی بغیر کسی چھین چھاوے کے اس کے سامنے نکل کھڑی ہوگی (اور) ان کی کوئی بات اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہ ہوگی۔ اس دن کس کی حکومت ہوگی ؟ (ظاہر ہے کہ اور کسی کی نہیں) صرف اور صرف اللہ کی ہوگی جو الواحد اور القھار ہے۔ اس دن ہر شخص کو اپنے کئے کی جزا ملے گی اور اس روز کسی کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے (اس صورت میں لمن الملک الیوم (رسول) اور للّٰہ الواحد القھار (جواب) کے لئے سائل اور مجیب معلوم کرنے کی ضرورت نہیں یہ اسلوب بیان کسی امر کو زور دار اور مؤثر بنانے کے لئے دوسری دوسری زبانوں میں بھی اختیار کیا جاتا ہے)
Ayah 40:19

یَعْلَمُ خَآئِنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ Open ayah 40:19 in the Quran reader

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)

(40:19) یعلم ای اللّٰہ یعلم اللہ جانتا ہے۔ جائنۃ الاغین : خائنۃ اصل میں خیانۃ (خیانت۔ دغا) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے اصل میں فاعل کے وزن پر خائن تھا۔ ۃ مبالغہ کے لئے بڑھا دی گئی ہے اسم فاعل واحد مؤنث کا سیغہ بھی خائنۃ (یہ تاء تانیث) آئے گا۔ لیکن ۔ یہاں جمہور علماء کے نزدیک بطور مصدر آیا ہے۔ معجم الوسیط میں ہے :۔ الخائنۃ اسم بمعنی الخیانۃ وھو من المصادر التی حاءت علی لفظ الفاعلۃ کا العاقبۃ۔ وفی القرآن الکریم۔ یعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور۔ یہاں خائنۃ فاعلۃ کے وزن پر بطور مصدر آیا ہے اسی وزن پر دیگر مصادر الکاذبۃ۔ العاقبۃ۔ العافیۃ وغیرہ ہیں۔ خائنۃ بطور مصدر قرآن مجید میں اور جگہ بھی آیا ہے مثلا ولا تزال تطلع علی خائنۃ منھم (5:13) اور ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو۔ یا خائنۃ الاعین میں تقدیم و تاخیر ہے اور کلام یوں ہے یعلم الاعین الخائنۃ وہ چور آنکھوں کو بھی جانتا ہے۔ وما تخفی الصدور۔ واؤ عاطفہ ہے۔ تخفی مضارع واحد مؤنث غائب ۔ اخفاء (افعال) مصدر سے ۔ وہ چھپاتی ہے یا چھپائے گی۔ الصدور۔ جمع ہے الصدر کی (سینے) ما موصولہ ہے اور جو سینے اپنے اندر چھائے ہوئے ہیں ۔ یعنی دلوں کے بھید۔ خطرات، ارادات، یعنی اللہ تعالیٰ اتنا باریک بین اور لطف خبیر ہے کہ آنکھوں کی خفیف سے خفیف حرکات کو اور دلوں کے پوشیدہ بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔
Ayah 40:20

وَ اللّٰهُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ۠ Open ayah 40:20 in the Quran reader

اور خدا سچائی کے ساتھ حکم فرماتا ہے اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی حکم نہیں دے سکتے، بیشک خدا سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

(40:20) یقضی۔ مضارع واحد مذکر غائب قضاء (باب ضرب) سے مصدر وہ فیصلہ کرتا ہے۔ وہ حکم دیتا ہے۔ یدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب دعوۃ ودعاء مصدر (باب نصر) وہ پوجتے ہیں وہ پکارتے ہیں۔
Ayah 40:21

اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ Open ayah 40:21 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ اس نے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا، وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا

(40:21) اولم یسیروا فی الارض فینظروا ۔۔ ہمزہ استفہامیہ ہے واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف فعل محذوف پر ہے (کیا یہ لوگ کفر کے برے انجام سے منکر ہیں) ۔ لم یسیروا مضارع نفی جحد بلم جمع مذکر غائب کا صیغہ : کیا وہ نہیں چلے پھرے (زمین میں)عطف و تعقیب کے لئے ہے۔ ینظروا اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ یسیروا و ینظروا میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کفار قریش مکہ کی طرف راجع ہے۔ کانواہم اشد منھم قوۃ واثارا فی الارض۔ کانواھم۔ ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع گزشتہ امتیں ہیں۔ الذین کانوا من قبلہم۔ جو کفار مکہ سے پہلے گزری ہیں اشد شدۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے سخت تر، مضبوط تر، قوی تر، منھم میں ضمیر ہم کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ قوۃ بوجہ تمیز منصوب ہے از روئے طاقت واؤ عاطفہ ہے اثارا بوجہ تمیز منصوب ہے لیکن اس کا تعلق اشد سے نہیں ہے بلکہ ایک محذوف لفظ سے ہے۔ اصل لفظ یوں ہے :۔ اشد منھم قوۃ و اکثر منھم اثارا یعنی وہ گزشتہ نافرمان و سرکش امتیں ان کفار مکہ سے قوت کے لحاظ سے بھی مضبوط تر تھیں اور اپنے جاہ و جلال کے جو نشانات وہ زمین پر چھوڑ گئیں وہ بھی کفار مکہ کی ایسی نشانیوں سے اکثر و بیشتر تھے۔ اثارا۔ اثر کی جمع نشانیاں ۔ علامتیں۔ فاخذھم ، بذنوبھم ، لہم۔ سب جگہ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب گزشتہ امتوں کے لئے ہے۔ بذنوبھم۔ میں باء سببیہ ہے ذنوبھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کے گناہ۔ ان کے جرائم۔ واق اسم فاعل واحد مذکر وقی مادہ (لفیف مفروق) وقایہ مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے اصل میں واقی تھا ضمہ ی پر دشوار تھا اس کو گرا دیا۔ اب ی اور تنوین دو ساکن جمع ہوئے ی بوجہ اجتماع ساکنین کے گرگئی۔ واق ہوگیا حفاظت کرنے والا۔ بچانے والا
Ayah 40:22

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 40:22 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے، سو خدا نے ان کو پکڑلیا بیشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے

(40:22) ذلک یہ پکڑیا گرفت۔ فاخذھم کی طرف اشارہ ہے۔ بانھم ۔۔ میں باء سببیہ ہے۔ کانت تاتیہم : کانت تاتی ماضی استمراری ہم ضمیر جمو مذکر غائب ان کے پاس آیا کرتے تھے (واحد مؤنث غائب کا صیغہ رسل کے لئے استعمال ہوا ہے۔ البینت۔ مراد معجزات اور وہ احکام جن کی صحت اور افادیت کھلی ہوئی تھی ! روشن دلیلیں۔ بینۃ واحد۔ فاخذھم میںتعقیب کا ہے اور سببیہ بھی ہوسکتی ہے اخذ میں ضمیر فاعل اللہ کے لئے ہے سو اللہ نے ان کو بسبب ان کے انکار (کفر) کے ان کو دھر پکڑا۔ شدید العقاب : پاداش میں سخت عذاب دینے والا۔ مضاف مضاف الیہ (نیز ملاحظہ ہو 40:3) متذکرہ بالا۔ عذاب اور عقاب اگرچہ ہم معنی ہیں لیکن عقاب اس سزا کو کہتے ہیں جو جرم ثابت ہونے کے بعد دی جاتی ہے۔ عذاب استحقاق اور بغیر استحقاق اور بغیر استحقاق دونوں طرح ہوسکتا ہے۔ عقب بمعنی پیچھے بولتے ہیں عقب الیل النھار۔ رات دن کے پیچھے ہولی ۔
Ayah 40:23

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 40:23 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

(40:23) سلطن مبین ۔ موصوف و صفت کھلی دلیل۔ سلطن حجت ، برہان ، سند۔ حکومت۔ معجزہ۔
Ayah 40:24

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ قَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:24 in the Quran reader

(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو انہوں نے کہا یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

(40:24) کذاب : کذب یکذب (باب ضرب) سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت چھوٹے بولنے والا۔ بڑا جھوٹا۔
Ayah 40:25

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَ اسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ١ؕ وَ مَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ Open ayah 40:25 in the Quran reader

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو لوگ اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں

(40:25) ابناء الذین امنوا منہ۔ ترکیب اضافی ہے جو لوگ اس کے ساتھ (یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ) ایمان لائے ہیں۔ ان کے بیٹوں کو۔ کید الکافرین۔ مضاف مضاف الیہ۔ کافروں کی چال۔ کافروں کی تدبیر۔ ضلل۔ بےاثر۔ بےکار۔ ناکام۔ (یہ معانی اس آیۃ میں مراد ہیں۔ ورنہ تو ضلال کثیر المعانی لفظ ہے لیکن اس میں ہمیشہ منفی پہلو ہوتا ہے) ۔
Ayah 40:26

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ Open ayah 40:26 in the Quran reader

اور فرعون بولا کہ مجھے چھوڑو کہ موسیٰ کو قتل کر دوں اور وہ اپنے پروردگار کو بلا لے، مجھے ڈر ہے کہ وہ (کہیں) تمہارے دین کو (نہ) بدل دے یا ملک میں فساد (نہ پیدا) کردے

(40:26) ذرونی فعل امر جمع مذکر غائب وذر مصدر (باب سمع و فتح) بمعنی چھوڑ دینا۔ مثلا اور جگہ قرآن مجید میں ہے ویذرھم فی طغیانہم یعمھون ۔ (7:186) اور وہ انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رکھتا ہے۔ ذروا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ تم سب مجھے چھوڑ دو ۔ اقتل مضارع مجزوم بوجہ جواب امر صیغہ واحد متکلم کہ میں قتل کر دں ذرونی اقتل تم مجھے چھوڑ دو کہ میں (موسیٰ کو) قتل کر ڈالوں یا قتل کر دوں۔ ولیدع واؤ عاطفہ ہے لیدع لام لام امر ہے اور یہ حرف جازم فعل ہے مضارع مجزوم (بوجہ لام امر) واحد مذکر غائب۔ رعاء (باب نصر) مصدر سے۔ اور اسے چاہیے کہ وہ (اپنے رب کو ربہ) پکارے۔ یا پکار دیکھے۔ ان اخاف : ای ان لم اقتلہ یعنی اگر میں نے اسے قتل نہ کیا تو میں ڈرتا ہوں یا مجھے ڈر ہے کہ ۔۔ ان یبدل میں ان مصدریہ ہے یبدل مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب تبدیل (تفعیل) مصدر سے کہ وہ (تمہارا دین ہی) بدل دے۔ او ان یظھر فی الارض الفساد : او۔ یا۔ ان مصدریہ ۔ یظھر مضارع (منصوب بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب۔ اظہار (افعال) مصدر پھیلانا۔ ظاہر کرنا۔ یا ملک میں فساد پھیلادے۔ اظہرہ علی عدوہ۔ کسی کو دشمن پر غالب کرنا۔
Ayah 40:27

وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ Open ayah 40:27 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں

(40:27) عذت۔ ماضی واحد متکلم میں نے پناہ لی (مراد میں پناہ مانگتا ہوں) عوذ (باب نصر) سے مصدر۔ عذت اصل میں عوذت تھا۔ واو متحرک ماقبل مفتوح اس لئے واؤ کو الف سے بدلا گیا۔ بعد میں الف اجتماع ساکنین سے گرگیا۔ پھر واؤ کی رعایت سے ع کو ضمہ دیا۔ عذت ہوگیا۔ متکبر۔ اللہ کا اسم صفت ہے تکبر (تفعل) سے اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ بزرگ۔ بڑھائی جتلانے والا۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ سے ہو تو یہ محمود صفت ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صفت تکبر کے ساتھ متصف ہوتا ہے۔ لیکن جب اس کی نسبت غیر اللہ سے ہو تو یہ ایک بڑ ہے اور مذموم ہے۔ اس صورت میں متکبر اس کو کہیں گے جو صفات کمال کا دعوی کرتا ہے لیکن فی الواقع وہ صفات اس میں موجود نہیں ہیں۔ جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے فبئس مثوی المتکبرین (40:9) متکبروں کا کیا برا ٹھکانہ ہے۔ آیت ہذا میں یہ لفظ صفت مذموم کے ضمن میں آیا ہے۔
Ayah 40:28

وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ١ۖۗ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗ١ۚ وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ Open ayah 40:28 in the Quran reader

اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے ؟ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا، اور اگر وہ سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا، بیشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہو

(40:28) رجل مؤمن۔ موصوف صفت۔ مومن شخص یہ شخص ال فرعون میں سے تھا۔ اور اس شخص کی طرف سورة القصص میں بھی اشارہ ہے :۔ فجاء رجل من اقصا المدینۃ (28:20) اور ایک شخص شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا۔ اور سورة یس میں بھی (38:20) یہی شخص مذکور ہے۔ یکتم ایمانہ : یکتم فعل مضارع واحد مذکر غائب کتم (باب نصر) مصدر بمعنی چھپانا۔ وہ اپنا ایمان پوشیدہ رکھتا تھا (مضارع بمعنی ماضی) ۔ اتقتلون ہمزہ استفہامیہ ہے۔ تقتلون ای اتقصدون کیا تم (اس کے) قتل کا ارادہ کرتے ہو۔ مسبب بیان کرے سبب مراد لیا ہے۔ ان یقول ای لان یقول۔ اس لئے کہ وہ کہتا ہے ان مصدریہ ہے۔ یقول : میں ضمیر فاعل حضرت موسیٰ کے لئے ہے۔ ربی اللّٰہ۔ یہ حضرت موسیٰ کی زبان سے ہے۔ میرا پروردگار اللہ (ہی) ہے ربی کی تقدیم اللہ پر مفید حصر ہے۔ جیسے صدیقی زید کا جملہ مفید حصر ہے۔ وقد جاء کم سے لے کر ان جاء نا (آیت 29 تک) رجل مومن کا بیان ۔ وقد جاء کم بالبینت من ربکم۔ جملہ حالیہ ہے درآن حالیکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیلیں بھی لایا ہے۔ ان یک کاذبا : ان شرطیہ ہے یک مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب بوجہ عمل ان مجزوم ہے کاذبا خبر ہے یک کی۔ اصل میں یکون تھا۔ ان کے عمل سے نون ساکن ہوگیا اجتماع ساکنین سے واؤ گرگیا۔ خلاف قیاس نون بھی ساقط ہوگیا۔ (قاموس القرآن اک اکن) اگر وہ جھوٹا ہے۔ فعلیہ کذبہ :جواب شرط کے لئے ہے جملہ کزائیہ ہے۔ تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا۔ کذبہ۔ مضاف مضاف الیہ اس کا جھوٹ۔ مراد وبال کذبہ ہے یعنی اس کے جھوٹ کا وبال۔ یصبکم : یصب مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) اصابۃ (افعال) مصدر صیغہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم پر پڑے گا۔ اصاب السہم تیر کا نشانہ پر بیٹھنا۔ اصابت المصیبۃ فلانا۔ کسی پر مصیبت نازل ہونا۔ صوب مادہ۔ بعض الذی یعدکم۔ جس (عذاب) سے وہ تم کو ڈراتا ہے اس میں سے کچھ۔ وان یک صادقا یصبکم الذی یعدکم اور اگر وہ سچا ہوا تو جس (عذاب) سے وہ تم کو ڈراتا ہے اس میں سے کچھ (نہ کچھ) حصہ (ضرور) تم کو پہنچے گا۔ وان یک صادقا جملہ شرطیہ ہے اور اگلا جملہ جواب شرط ہے۔ بعض۔ کل کے اعتبار سے شئے کے کسی جزء کو بعض کہتے ہیں۔ اسی لئے کل کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے۔ یعدکم : یعد فعل مضارع واحد ذکر غائب ہے وعد (باب ضرب) مصدر۔ ڈرانا۔ وعدہ کرنا۔ یہاں ہر دو معنی مراد ہوسکتے ہیں مسرف۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اسراف (افعال) مصدر۔ السرف کے معنی انسان کے کسی کام میں حد اعتدال سے تجاوز کر جانے کے ہیں۔ مگر عام طور پر خرچ کرنے میں حد اعتدال سے تجاوز کر جانے پر ہوتا ہے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہوتا ہے والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا (25: 67) اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں۔ مسرف فضول خرچی کرنے والا۔ حد (اعتدال) سے بڑھ کر خرچ کرنے والا۔ کذب۔ بڑا جھوٹا۔ مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 40:29

یٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْیَوْمَ ظٰهِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَآءَنَا١ؕ قَالَ فِرْعَوْنُ مَاۤ اُرِیْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِیْكُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ Open ayah 40:29 in the Quran reader

اے قوم ! آج تمہاری ہی بادشاہت ہے اور تم ہی ملک میں غالب ہو (لیکن) اگر ہم پر خدا کا عذاب آگیا تو (اسکے دور کرنے کے لئے) ہماری مدد کون کرے گا ؟ فرعون نے کہا میں تمہیں وہی بات سمجھاتا ہوں جو مجھے سوجھی ہے اور وہی راہ بتاتا ہوں جس میں بھلائی ہے

(40:29) یقوم : ای یا قومی۔ اے میری قوم۔ اے میرے بھائیوں ! اے میری قوم والو ! الملک۔ بادشاہت، حکومت۔ الیوم۔ آج کے دن ۔ آج ظاھرین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت نصب۔ غالب۔ غلبہ پانے والے۔ فی الارض : ای فی ارض مصر۔ سرزمین مصر۔ باس اللّٰہ مضاف مضاف الیہ۔ باس سختی۔ آفت۔ لڑائی، دبدبہ۔ جنگ کی شدت۔ اصل میں تو اس کے معنی سختی اور آفت کے ہیں مگر لڑائی اور غلبہ کے معنی میں اس کا استعمال بکثرت ہوتا ہے۔ البؤس و الباس اور الباساء تینوں ایک ہی مادہ بئس سے ہیں اور تینوں میں سختی و ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں۔ مگر یؤس کا لفظ زیادہ فقرہ فاقیہ کے لئے آتا ہے۔ معجم الوسیط میں ہے البؤس المشقۃ والفقر : البأساء بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ جو مشقت و فقر کے علاوہ شدت حرب کیلئے بھی آتا ہے ای الحرب الفقر المشقۃ ۔ الباھیۃ (آفت وبلا، مصیبت، بڑا معاملہ) اسی طرح بأس جو اسی مادہ بئس سے ہے اس میں حرب شدت حرب، سخت عذاب اور خوف کے معنی غالب ہیں ۔ یہاں بأس سے مراد عذاب یا سختی ہے۔ ان جاء نا اگر وہ (باس یا عذاب) ہم پر آگیا یا آجائے۔ جملہ شرطیہ ہے اس کی جزاء جملہ ماقبل میں آچکی ہے۔ یہاں اس مرد مومن کا خطاب اپنی قوم سے ختم ہوا اگلی آیت میں فرعون کا جواب ہے۔ (40:29) ما اریک : ما اری فعل مضارع نفی واحد متکلم اراء ۃ (افعال) مصدر بمعنی دکھانا۔ متعدی بد و مفعول کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ میں تم کو نہیں دکھاتا (مگر) ما اری ۔ ما موصولہ۔ اری مضارع واحد متکلم ۔ رؤیۃ (باب فتح) سے جس کے معنی اصل میں ادراک مرئی (دیکھنے) کے ہیں (متعدی بیک مفعول) ۔ لیکن تخیل و تفکر یا بذریعہ عقل بھی کسی شے کے ادراک کو رؤیۃ کہتے ہیں۔ ما اریکم الا ما اری میں تم کو وہی مشورہ دیتا ہوں جو میں (درست) سمجھتا ہوں۔ (لفظی ترجمہ : میں تمہیں نہیں دکھاتا مگر وہ جو میں آپ دیکھتا ہوں) ۔ ادرراک غیر مرئی کی مثال : افلا یردون انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا (21:44) کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ اھدیکم : اھدی مضارع واحد متکلم ھدایۃ (افعال) مصدر سے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں تم کو راہ دکھاتا ہوں۔ الا سبیل الرشاد : الا حرف استثناء سبیل الرشاد مضاف مضاف الیہ۔ نیکی۔ بھلائی۔ راستی کا راستہ۔ رشاد۔ رشد یرشد (نصر) کا مصدر ہے راہ راست اختیار کرنا۔ ما اھدیکم الا سبیل الرشاد : میں صرف سیدھے راستہ کی طرف ہی تمہاری رہنمائی کرتا ہوں۔
Ayah 40:30

وَ قَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِۙ Open ayah 40:30 in the Quran reader

تو جو مومن تھا وہ کہنے لگا کہ اے میری قوم مجھے تمہاری نسبت خوف ہے کہ (مبادا) تم پر اور امتوں کی طرح کے دن کا عذاب آجائے

(40:30) قال الذی امن سے مراد وہی مرد مومن ہے جس کا اوپر ذکر چلا آرہا ہے۔ مثل یوم الاحزاب۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مثل کا مضاف الیہ۔ مثل مضاف، الاحزاب : الامم قومیں۔ حزب کی جمع، ای مثل ایام الامر الماضیۃ۔ والایام، الوقائع۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ مجھے ڈر ہے کہ گزشتہ امتوں کے (افعال بد کے نتیجے میں) جو عذاب و ہلاکت کے واقعات ان کو پیش آئے ویسے ہی واقعات (تم جو حضرت موسیٰ کی ہلاکت کے جو منصوبے باندھ رہے ہو اس کے نتیجے میں) تم کو بھی نہ آلیں۔
Ayah 40:31

مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ Open ayah 40:31 in the Quran reader

(یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا

(40:31) مثل داب قوم نوح وعاد وثمود والذین من بعدہم۔ یہ یوم الاحزاب کی تفسیر ہے۔ یعنی ڈر ہے کہ تم پر بھی ویسا عذاب نہ آجائے جیسا قوم نوح پر قوم عاد پر قوم ثمود پر اور ان کے بعد والوں پر (مثلاً قوم لوط (علیہ السلام) و قوم نمرود ہر) عذاب آیا تھا۔ داب اصل میں دأب یدأب (باب فتح کا مصدر ہے جس کے معنی مسلسل چلنے کے ہیں۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وسخر لکم الشمس والقمر دائبین (14:33) اور سورج اور چاند کو تمہارے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اسی استمرار کی وجہ سے عادت مستمرہ جو ہمیشہ ایک حالت پر رہے اسے داب کہتے ہیں۔ مثل داب ۔۔ بعدہم کا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم یا عاد وثمود کی قوم یا ان کے بعد کی قوموں کی عادت مستمرہ (تکذیب و ایذا رسانی پیغمبران الٰہی) ان پر عذاب الٰہی کا سبب بنی۔ مجھے اندیشہ ہے کہ (تم جو حضرت موسیٰ کی تکذیب کر رہے ہو اور اس کے قتل کا ارادہ رکھتے ہو) تم پر بھی ویسا ہی عذاب نہ آجائے۔ مثل الاول کا عطف بیان ہونے کی وجہ سے مثل الثانی بھی منصوب ہے۔ وما اللّٰہ یرید ظلما للعباد : للعباد میں لام زائدہ ہے اور العباد مفعول ہے لام کی زیادتی مصدر (ظلما) کے عمل کو قوت پہنچانے کے لئے کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ پر کسی طرح کا ظلم نہیں کرنا چاہتا یا کسی کو بلا قصور سزا دے یا ظالم کو بغیر انتقام کے چھوڑ دے۔ یا کسی کی نیکی کے ثواب میں کمی کر دے یا کسی مجرم کی سزا میں اس کے جرم کی مقدار سے زیادہ سزاد دے۔ (تفسیر مظہری) اور جگہ قرآن مجید میں ہے وان اللّٰہ لیس بظلام للعبید (3:182) اور خدا تو بندوں ہر مطلق ظلم کرنے والا نہیں۔ لیکن وما اللّٰہ یرید ظلما للعباد زیادہ بلیغ ہے۔
Ayah 40:32

وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِۙ Open ayah 40:32 in the Quran reader

اور اے قوم ! مجھے تمہاری نسبت پکار کے دن (یعنی قیامت) کا خوف ہے

(40:32) یقوم : ای یا قومی اے میری قوم ۔ اے میری قوم کے لوگو ! یوم التناد۔ یہاں التناد سے پہلے اس کا مضاف محذوف ہے ای عذاب یوم التناد۔ ایک دوسرے کو پکارنے کے دن کا عذاب۔ التناد ندی مادہ سے باب تفاعل سے مصدر ہے پکارنا۔ ندا کرنا۔ فریاد کرنا۔ اصل میں تنادی تھا یوم کا مضاف الیہ ہونے کے سبب آخر سے ی جو حرف علت تھی حذف ہوگئی۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت یا نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بناء پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بلند اور حسین ہوگی۔ یوم التناد ایک دوسرے کو پکارنے کا دن۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فتنادوا مصبحین (68:21) جب صبح ہوئی تو وہ آگ ایک دوسرے کو پکارنے لگے۔ بعض کے نزدیک یوم التناد سے مراد قیامت کا دن ہے اور باہمی پکارنے کے متعلق ملاحظہ ہو : ونادی اصحب الجنۃ اصحب النار (7:44) اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے۔ اور ونادی اصحب الناد اصحب الجنۃ (7:50) اور دوزخی بہشتیوں سے (گڑ گڑا کر) کہیں گے۔ وغیرہ۔ اس سے مراد قیامت کے روز آدمیوں کے ہر گروہ کو ان کے پیشوا کے ساتھ پکارا جانا بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :۔ یوم ندعوا کل اناس بامامہم (17:71) جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ضحاک کی قرأت میں یوم التناد کی جگہ یوم التناد (بہ تشدید دال) ہے جس کے معنی بھاگنے اور منتشر ہونے کے دن کا ہے اس صورت میں التناد مادہ ند سے مشتق ہے اصل میں باب تفاعل سے تنادد تھا دوسری دال کو باء سے بدلا تنادی ہوگیا پھر دال کے ضمہ کو کسرہ میں بدل دیا تنادی ہوگیا۔ پھر آخر سے ی کو گرا دیا۔ یناد ہوگیا۔ جس کے معنی ہیں ایک دوسرے سے بدک کر بھاگ جانا۔ اور یوم التناد وہ دن جب لوگ بدک بدک کر بھک دوسرے سے دور بھاگیں گے اس معنی میں قرآن مجید میں ہے یوم یفر المرء من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ (80:34 تا 36) اس دن آدمی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا اور اپنی ماں اور باپ سے اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹے سے۔
Ayah 40:33

یَوْمَ تُوَلُّوْنَ مُدْبِرِیْنَ١ۚ مَا لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ Open ayah 40:33 in the Quran reader

جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے میدان سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذابِ ) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا، اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں

(40:33) تولون مضارع جمع مذکر پیٹھ موڑنے والے۔ ادبار (افعال) مصدر سے بوجہ ضمیر فاعل کا حال ہونے کے منصوب ہے دبر مادہ۔ آیات 32 و 33 میں یوم بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ مالکم من اللّٰہ من عاصم تمہارے لئے نہیں ہوگا خدا کا عذاب سے بچانے والا کوئی بھی۔ یوم تولون ۔۔ من عاصم بدل ہے یوم التناد سے۔ من ھاد۔ اسم فاعل واحد مذکر ۔ ھدایۃ مصدر۔ باب ضرب۔ ہدایت یاب کرنیوالا۔ ھاد اصل میں ھادی تھا۔ ضمہ ی پر دشوار تھا۔ ی کو ساکن کیا۔ اب ی اور تنوین دو ساکن جمع ہوئے بوجہ اجتماع ساکنین ی گرگئی۔ ھاد ہوگیا۔