Ayahs 40:1–3آیت 1
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب عظیم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئی اور اس کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ جو اپنے کمال اور اپنے افعال میں انفرادیت کی بنا پر عبادت کا مستحق ہے۔ (العزیز) جو اپنے غلبہ کی بنا پر تمام مخلوق پر غالب ہے۔ (العلیم) وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ (غافر الذنب) ” وہ گناہ بخش دینے والا “ گناہ گاروں کے (وقابل التوب) توبہ کرنے والوں کی ” توبہ قبول کرنے والا “ (شدید العاقب) جو گناہوں کا ارتکاب کریں اور ان گناہوں سے توبہ نہ کریں ان کو سخت سزا دینے والا ہے (ذی الطول) ” فضل و احاسن کا مالک ہے “ یعنی ایسا فضل و احاسن جو سب کو شامل ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال کو متحقق کردیا اور یہ کمال اس حقیقت کا موجب ہے کہ وہ اکیلا ہی معبود ہو جس کے لئے تمام اعمال خالص کئے جائیں، تو فرمایا : (آیت) ” اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ “
ان اوصاف حمیدہ سے موصوف اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید کے نازل ہونے کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ یہ اوصاف ان تمام معافی کو مستلزم ہیں جن پر یہ مشتمل ہے کیونکہ قرآن کریم یا تو اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کے بارے میں خبر دیتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے اسمئا وصفات اور افعال ہیں یا گزشتہ زمانوں اور آنے والے واقعات کی خبر دیتا ہے اور یہ علیم کی طرف سے اپنے بندوں کی تعلیم ہے یا وہ اپنی عظیم نعمتوں اور جسمانی احاسنات اور ان احاسنتا تک پہنچانے والے اوامر کی خبر ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (ذی الطول) دلالت کرتا ہے، یا اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضی اور ان معاصی کے بارے میں خبر ہے جو اس ناراضی کے موجب ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان : (شدید العقاب) دلالت کرتا ہے، یا اس قرآن عظیم میں گناہگاروں کو توبہ، انابت اور استغفار کی دعوت دی گئی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (غافر الذنب وقابل التوب شدید العقاب) دلالت کرتا ہے، یا اس میں اس حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود برحق ہے، اس پر عقلی و نقلی دلائل دیئے گئے ہیں اور اس مضمون کو بہت تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، نیز قرآن کریم میں غیر اللہ کی عبادت سے روکا گیا ہے، اس کے فاسد پر عقلی و نقلی دلائل قائم کئے گئے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت سے ڈرایا گیا ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا قول : (لا الہ الا ھو) ہے، یا اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم جزائی، یعنی بھلائی کرنے والوں کے ثواب اور نافرمانوں کی سزا کے بارے میں خبر دی گئی ہے اور یہ حکم جزائی عدل پر مبنی ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (الیہ المصیر) دلالت کرتا ہے۔ یہ تمام عالی شان مطالب و معافی ہیں جن پر قرآن مشتمل ہے۔
Ayahs 40:4–6آیت 4
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ (مایجادل فی ایت اللہ الا الذین کفروا) ” اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ “ یہاں مجادلہ سے مراد ہے، آیات الٰہی کو رد کرنا اور باطل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے جھگڑا کرنا اور یہ کفار کا کام ہے، رہے اہل ایمان تو وہ حق کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے باطل کو نیچا دکھائیں۔
اناسن کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے دنیاوی احوال سے دھوکہ کھائے اور یہ سمجھنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کا دنیا میں اس کو اپنی نعمتوں سے نوازنا، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت کی دلیل ہے اور وہ حق ہے۔ بنا بریں ارشاد فرمایا : (فلا یغرک تقلبھم فی البلاد) ” ان کا (دنیا کے) شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو کسی دھوکے میں نہ ڈال دے۔ “ یعنی مختلف انواع کی تجارت اور کاروبار کے سلسلے میں ان کا ملکوں میں آنا جانا آپ ﷺ کو دھوکے میں مبتلا نہ کر دے، بلکہ بندے پر واجب یہ ہے کہ وہ لوگوں سے حق کے ساتھ عبرت حاصل کرے، حقائق شرعیہ کو دیکھے، ان کی کسوٹی پر لوگوں کو پرکھے، لوگوں کی کسوٹی پر حق کو نہ پرکھے جیسے ان لوگوں کا وتیرہ ہے جو علم و عقل سے محروم ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ڈرایا ہے جو آیات الٰہی کے ابطال کے لئے جھگڑتے اور بحث مباحثہ کرتے ہیں۔ جی اس کہ اس سے پہلے گمراہ قومیں کیا کرتی تھیں، مثلاً (قوم نوح) ” قوم نوح “ اور قوم عاد (والاحزاب من بعدھم) ” اور ان کے بعد کی دوسری جماعتوں نے (بھی جھٹلایا) ” جو حق کو نیچا دکھانے اور باطل کی مدد کرن کے لئے جمع ہوگئے (و) ” اور “ ان کا یہ حال ہوگیا اور وہ اس بات پر اکٹھے ہوگئے کہ (وھمت کل امتم) ” ہر گروہ نے ارادہ کرلیا “ مختلف گروہوں میں سے (برسولھم لیاخذوہ) ” کہ وہ اپنے رسول کو گرفتار کرلیں۔ “ یعنی اس کو قتل کردیں یہ انبیاء ومرسلین کے خلاف، جو اہل خیر کے قائد تھے، بدترین ہتھکنڈا تھا، جو صریح حق پر تھے جس میں کوئی شک و شبہ نہ تھا۔ انہوں نے انبیاء کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ کیا اس بغاوت، گمراہی اور بدبختی کے بعد اس عذاب عظیم کے سوا کچھ رہ جاتا ہے جس میں سے یہ کبھی نہ نکلیں گے ؟
بنابریں ان کے لئے دنیاوی اور اخروی عذاب کے بارے میں فرمایا : (فاخذتھم) ” پھر میں نے انہیں پکڑ لیا “ یعنی ان کو تکذیب حق اور حق کے خلاف اکٹھے ہونے کے سبب سے اپنی گرفت میں لے لیا (فکیف کان عقاب) ” پھر (دیکھ لو) ہماری سزا کیسی سخت تھی۔ “ یہ سخت ترین اور بدترین عذاب تھا یہ ایک زور دار آواز تھی، پتھروں کو اڑاتی ہوئی طوفانی ہوا تھی، یا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے یا سمندر کو حکم دیا کہ ان کو غرق کر دے، تب یہ مردہ پڑے کے پڑے رہ گئے۔
(وکذلک حقت کلمت ربک علی الذین کفروآ) ” اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی ہے۔ “ جی اس کہ ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی بات سچ ثابت ہوئی تھی، اسی طرح ان پر گمراہی ثابت ہوگئی جس کے سبب سے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے، اس لئے فرمایا : (انھم اصحب النار) ” بلاشبہ وہ دوزخی ہیں۔ “
Ayahs 40:7–11آیت 7
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے کامل لطف و کرم اور ان اسباب کا ذکر کرتا ہے جو اس نے ان کی سعادت کے لئے مقرر فرمائے ہیں۔ یہ اسباب ان کی قدرت سے باہر تھے، مثلاً ان کے لئے ملائکہ مقربین کا استغفار کرنا اور ان کے دین و آخرت کی بھلائی کے لئے دعا کرنا۔ اس ضمن میں عرش الٰہی اٹھانے والے فرشتوں اور جو اس کے اردگرد ہیں ان کے شرف کی خبر ہے۔ اسی طرح اپنے رب کیق ریب رہنے والے فرشتوں، ان کی عبادت کی کثرت، اللہ کے بندوں کے لئے ان کی خیر خواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، چناچہ فرمایا : (الذین یحملون العرش) ” جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ “ یعنی رحمٰن عا عرش، جو تمام مخلوقات کی چھت ہے۔ جو تمام مخلوقات میں سب سے بڑا، سب سے وسیع، سب سے خوبصورت اور اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے، جو زمین و آسمان اور کرسی پر چھایا ہوا ہے۔
ان فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عرش اٹھانے پر مقرر کیا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب سے بڑے اور سب سے طاقتور فرشتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ان فرشتوں کو اپنا عرش اٹھانے کے لئے چن لینا، ذکر میں ان کو مقدم رکھنا اور ان کو اپنے قرب سے سرفراز کرنا دلالت کرتا ہے کہ یہ سب سے افضل فرشتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذثمنیہ) الحآقۃ :18/69) ” اور اس روز تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔ “
(ومن حولہ) ” اور جو اس کے اردگرد ہیں “ یعنی قدر و منزلت اور فضیلت میں اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے (یسبحون بحمد ربھم) ” وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں۔ “ یہ ان فرشتوں کی، ان کی کثرت عبادت، خاص طور پر تسبیح وتحمید، کی بنا پر مدح ہے۔ تسبیح وتحمید میں تمام عبادات داخل ہیں کیونکہ تمام عبادات کے ذریعے سے اس طرح اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کی جاتی ہے کہ بندہ اپنی عبادات کو غیر اللہ سے ہٹا کر صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کرتا ہے، نیز یہ عبادات اللہ تعالیٰ کی حمد ہیں بلکہ حمد ہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ رہا بندے کا قول (سبحان اللہ وبحمدہ) تو یہ بھی اسی میں داخل ہے اور جملہ عبادات میں شامل ہے۔
(ویستغفرون للذین امنوا) ” اور وہ مومنوں کے لئے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔ “ یہ ایمان کے جملہ فوائد اور اس کے فضائل میں سے ہے کہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور گناہوں سے پاک ہیں، اہل ایمان کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، لہٰذا بندہ مومن اپنے ایمان کے سبب سے اس عظیم فضیلت کو حاصل کرتا ہے۔
چونکہ مغفرت کے لئے کچھ اسباب ہیں جن کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہوتی اور یہ اسباب اس خیال سے بالکل مختلف ہیں جو بہت سے اذہان میں آتا ہے کہ مغفرت طلب کرنے کی غرض وغایت مجرد گناہوں کی بخشش ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے فرشتوں کی دعائے مغفرت اور ان امور کا ذکر فرمایا جن کے بغیر دعائے مغفرت کی تکمیل نہیں ہوتی، چناچہ فرمایا : (ربنا وسعت کل شیء رحمۃ وعلماً ) ” اے ہمارے رب ! تیری رحمت اور علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ “ تیرے علم نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، تجھ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ زمین میں کوئی ذرہ بھر چیز تیرے علم سے اوجھل ہے نہ آسمان میں اور کوئی چھوٹی چیز تجھ سے چھپی ہوئی ہے نہ کوئی بڑی چیز۔ تیری رحمت ہر چیز پر اس یہ کناں ہے علوی اور سفلی تمام کائنات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے لبریز اور اس کی رحمت تمام کائنات پر چھائی ہوئی ہے۔ اس کی تمام مخلوق اس رحمت سے بہرہ مند ہوتی ہے۔ (فاغفر للذین تابوا) ” پس جن لوگوں نے توبہ کی انہیں بخش دے “ یعنی جنہوں نے شرک اور معاصی سے توبہ کی (واتبعوا سبیلک) ” اور جو تیرے راستے پر گامزن ہوئے “ تیرے رسولوں کی اتباع کی، تیرے توحید اور تیری اطاعت کے ذریعے سے (وقھم عذاب الجحیم) ” اور ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے “ یعنی (اے اللہ ! ) ان کو عذاب سے اور اس کے اسباب سے بچا۔
(آیت) ” اے ہمارے رب ! ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں داخل فرما جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا “ یعنی جن کا تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر وعدہ کیا (ومن صالح) ” اور جو صالح ہوں “ یعنی جو ایمان اور عمل صالح کے ذریعے سے درست ہوں (من ابآءھم وازواجھم) ” ان کے آباؤ اجداد اور ان کی بیویوں میں سے “ یعنی ان کی بیویوں، عورتوں کے شوہروں، ان کے دوستوں اور رفقا میں سے (وذریتھم) ” اور ان کی اولاد میں سے “
(انک انت العزیز) بیشک تو ہر چیز پر غالب ہے، تیری عزت کی قسم ! تو ان کے گناہ بخش دیتا ہے، ان کی تکلیف دور کردیتا ہے اور انہیں ہر بھلائی تک پہنچا دیتا ہے۔ (الحکیم) ” حکمت والا ہے۔ “ ” حکیم “ اس کو کہتے ہیں جو تمام اشیاء کو ان کے لائق حال مقام پر رکھتا ہے۔ اے ہمارے رب ! ہم تجھ سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کرتے جو تیری حکمت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بلکہ تیری حکمت، جس کی تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر خبر دی ہے اور تیرا افضل جس چیز کا تقاضا کرتا ہے وہ یہ ہے کہ تو اہل ایمان کو بخش دے۔
(وقھم السیات) ” اور انہیں برائیوں سے بچا لے “ یعنی تو ان کو برے اعمال اور ان کی جزا سے دور رکھ کیونکہ یہ اناسن کو بہت تکلیف دیتے ہیں۔ (ومن تق السیات یومئذ) ” اور جس کو تو اس دن عذابوں سے بچا لے گا “ یعنی قیامت کے روز (فقد رحمتہ) ” تو بیشک تو نے اس پر رحمت کی “ کیونکہ تیری رحمت تیرے بندوں پر ہمیشہ اس یہ کناں رہی ہے، بندوں کے گناہ اور ان کی برائیاں ہی انہیں اس رحمت سے محروم کرتے ہیں۔ جس کو تو نے برائیوں سے بچا لیا اسے تو نے نیکیوں کی توفیق اور ان کی جزائے حسن سے بہرہ مند کیا۔ (وذلک) ” اور یہ “ یعنی منہیات کا دور ہونا، برائیوں سے بچانا اور محبوب و مرغوب کا حاصل ہونا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی کے سبب سے ہے۔ (ھوالفوز العظیم) ” یہی بڑی کامیابی ہے۔ “ اس جیسی کوئی اور کامیابی نہیں اور مقابلہ کرنے والوں کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی چیز اچھی نہیں ہے۔
فرشتوں کی یہ دعا اس حقیقت کو متضمن ہے کہ فرشتے اپنے رب کی کامل معرفت سے سرفراز ہیں وہ اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنٰی کو وسیلہ بناتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کی طرف سے اپنے اسما کو وسیلہ بنانے اور جو دعا مانگی جا رہی ہو اس کی مناسب سے اسمائے الٰہی کو وسیلہ بنانے کو پسند کرتا ہے۔ بندوں کی دعا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول اور نفوس بشریٰ کے تقاضوں کے اثرات کے ازالے کے لئے ہوتی ہے، جن کے نقص اور ان کے تقاضوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے، لہٰذا جب وہ ان معاصی اور ان کے مبادی و اسباب کا تقاضا کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے علم نے احاطہ کر رکھا ہے تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی صفات ” رحیم “ اور ” علیم “ کو وسیلہ دعا بنایا ہے۔ اس کی ربوبیت عامہ اور ربوبیت خاصہ کا اقرار ان کے اللہ تعالیٰ کے متعلق کمال ادب کو متضمن ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں یہ تو ان کی اپنے رب کے سامنے دعا ہے جو ہر لحاظ سے ایک محتاج ہستی سے صادر ہوتی ہے، جو کسی بھ حال کو اپنا وسیلہ نہیں بنا سکتی۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا کرم و احاسن ہے۔
اپنے رب کے ساتھ ان کی موافقت، ان اعمال، یعنی عبادات سے محبت کو متضمن ہے جن کو وہ پسند کرتا ہے، جسے وہ قائم کرتے ہیں اور محبت کرنے والوں کی جدوجہد کی طرح جدوجہد کرتے ہیں، وہ ہیں اہل ایمان اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق میں سے انہی سے محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مکلف مخلوق کو ناپسند کرتا ہے مگر ان میں سے اہل ایمان کو پسند کرتا ہے۔
فرشتوں کی اہل ایمان کی ساتھ محبت ہے کہ وہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں، ان کے احوال کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ کسی شخص کے لئے دعا کرنا، اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ دعا کرنے والا اس شخص سے محبت کرتا ہے کیونکہ اناسن صرف اسی کے لئے دعا مانگتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا اپنے ارشاد : (ویستغفرون للذین امنوا) کے بعد کا فرشتوں کی دعا کی تفصیل اور شرح بیان کرنا کتاب اللہ میں تدبیر کی کیفیت کی طرف لطیف اشارے کو متضمن ہے، نیز یہ اس بات کو بھی متضمن ہے کہ تدبر کرنے والا صرف مفرد لفظ کے معنی پر اقتصار نہ کرے، بلکہ اس کے لئے مناسب ہے کہ وہ لفظ کے معنی پر خوب تدبر اور غور و فکر کرے۔ جب اچھی طرح معنی کا فہم حاصل کرلے اپنی عقل سے اس معاملے میں غور کرے، ان طریقوں پر غور کرے جو اس منزل تک پہنچاتے ہیں اور جن کے بغیر یہ ناتمام ہے اور جن پر تمام دار و مدار ہے۔ اس کو یقین قطعی ہوجائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مراد ہے، جی اس کہ اسے یقین ہے کہ وہ معنی خاص اللہ تعالیٰ کی مراد ہے جس پر یہ لفظ دلالت کرتا ہے۔
وہ چیز جو اس کے لئے اس یقین کی موجب ہے کہ یہی معنی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے، دو امور ہیں :
1۔ معرفت اور اس بات کا یقین کہ یہ معنی کے توابع میں سے ہے اور مراد الٰہی اسی پر موقوف ہے۔
2۔ اس حقیقت کا علم رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کی کتاب میں تدبر و تفکر کریں۔
اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ ان معافی سے کیا لازم آتا ہے۔ اسی نے خبر دی ہے کہ اس کی کتاب سراسر ہدایت، نور اور ہر چیز کو کھول کھول کر بیان کرنے والی ہے، یہ فصیح ترین اور ایضاح کے اعتبار سے جلیل ترین کلام ہے۔ اس سے بندہ مومن توفیق الٰہی کے مطابق علم عظیم اور خیر کثیر سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ ہماری اس تفسیر میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نوازا ہے۔ کبھی کبھی بعض آیات میں صحیح الفکر مگر غور و تدبر سے محروم شخص پر اس کا ماخذ مخفی رہتا ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہم پر اپنی رحمت کے خزانے کھول دے جو ہمارے احوال اور تمام مسلمانوں کے احوال کی اصلاح کا سبب بنیں۔ ہمارے پاس اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ ہم اس کی نگاہ کرم کے منتظر ہیں، اس کے احاسس کو وسیلہ بناتے ہیں، جس سے ہر آن اور ہر لحظہ بہرہ مند رہتے ہیں۔ ہم اس سے اس کے فضل کا سوال کرتے ہیں، یقیناً ہمارے نفس کی برائی ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے راستے کی رکاوٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ نہایت کریم اور عطا کرنے والا ہے جس نے ہمیں اسباب اور ان کے مسببات عطا کئے ہیں۔
یہ آیت کریمہ اس بات کو متضمن ہے کہ مومن کے ساتھ رہنے والے اشخاص، مثلا بیوی، اولاد اور دوست بھی اس کی صحبت کے باعث سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ مومن کی صحبت ان کے لئے ایسی بھلائی کے حصول کا سبب بنتی ہے جو اس کے عمل اور اسباب عمل سے خارج ہے، جی اس کہ فرشتے اہل ایمان اور ان کے نیک والدین، ان کی نیک بیویوں اور ان کی نیک اولاد کے لئے دعا کرتے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اہل ایمان کے ماں باپ، بیویوں اور اولاد میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد (ومن صلح) کے مطابق ” صلاحیت “ کا وجود لازم ہے تب اس صورت میں، ان کے لئے فرشتوں کی یہ دعا، ان کے عمل ہی کا نتیجہ ہے۔ واللہ اعلم
Ayahs 40:12–16آیت 12
اللہ تبارک و تعالیٰ اس فضیحت و رسوائی کا ذکر کرتا ہے جس کا کفار کو اسمنا کرنا ہوگا، نیز ان کی دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کے رد ہونے اور ان پر زجر و توبیخ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ان الذین کفروا) ” بیشک جن لوگوں نے کفر کیا۔ “ اللہ تعالیٰ نے اسے مطلق بیان کیا ہے تاکہ یہ کفر کی تمام انواع کو شامل ہو، مثلاً اللہ تعالیٰ ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار وغیرہ۔ جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو اقرار کریں گے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث جہنم کے مستحق ہیں۔ وہ اپنے آپ پر شدید غیظ و غضب کا اظہار کریں گے۔ تب اس وقت ان کو پکار کر کہا جائے گا : (لمقت اللہ) یعنی تم پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی (اذتدعون الی الایمان فتکفرون) یعنی جب تمہیں اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کے متبعین نے ایمان کی دعوت دی، تمہارے سامنے دلائل وبراہین بیان کئے جن سے حق واضح ہوگیا، مگر تم نے کفر کو اپنائے رکھا اور ایمان سے منہ موڑ لیا، جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمہیں تخلیق فرمایا تھا اور تم اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کے سائے سے نکل گئے تو اللہ تعالیٰ تم پر غصے اور ناراض ہوگیا تو یہ ناراضی (اکبر من مقتکم انفسکم) ” تمہاری اپنی ناراضی سے کہیں زیادہ ہے۔ “ یعنی اس کریم ہستی کی یہ ناراضی ہمیشہ تم پر نازل رہی حتی کہ تم اس حالت کو پہنچ گئے۔ آج تم پر اللہ تعالیٰ کا غیظ و غضب اور اس کا عذاب نازل ہوگا جب کہ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے ثواب سے سرفراز ہوں گے۔
تب وہ واپس لوٹائے جانے کی تمنا کریں گے اور (قالوا ربنا امتنا اثنین) ” کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دو مرتبہ دو مرتبہ موت دی۔ “ ایک قول کے مطابق اس سے مراد پہلی موت اور دو مرتبہ صور پھونکنے کے درمیان کی موت ہے یا اس سے مراد ان کے وجود میں لائے جانے سے پہلے عدم محض اور وجود میں لائے جانے کے بعد کی موت ہے۔ (واحییتنا اثنتین) ” اور دو مرتبہ تو نے ہمیں زندہ کیا۔ “ یعنی دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی (آیت) ” پس ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلن کی کوئی سبیل ہے ؟ “ یعنی وہ نہایت حسرت سے یہ التجا کریں گے مگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا انہیں اسباب نجات اختیار نہ کرنے پر سخت زجر و توبیخ کی جائے گی۔ ان سے کہا جائے گا : (آیت) ” یہ اس سبب سے کہ جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تھا۔ “ جب اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے لئے اخلاص عمل کے لئے بلایا جاتا اور شرک سے روکا جاتا تھا (کفرتم) ” تو تم انکار کرتے تھے۔ “ تمہارے دل اس سے ناگواری محسوس کرتے اور تم اس سے سخت نفرت کرتے تھے (وان یشرک بہ تومنوا) ” اور اگر اس کے ساتھ شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے تھے۔ “ تمہارے اس رویے نے تمہیں اس منزل پر پہنچایا۔ تم ایمان لانے سے انکار کرتے اور کفر پر ایمان لاتے رہے۔ تم اس طرز عمل پر راضی رہے جو دنیا و آخرت میں فاسد اور شرکا باعث تھا اور اس طرز عمل کو برا سمجھتے رہے جس میں دنیا و آخرت کی بھلائی اور اصلاح تھی۔ تم بدبختی، ذلت اور اللہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کے اسباب کو ترجیح دیتے رہے اور فوز و فلاح اور کامیابی کے اسباب سے منہ موڑتے رہے۔ (وان یروا سبیل الرشد لا یتخذوہ سبیلا وان یروا سبیل الغنی یتخذوہ سبیلاً ) (الاعراف :136/8) ” اور اگر وہ سیدھا راستہ دیکھیں تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ان کو گمراہی کا راستہ نظر آجائے تو اس پر چل پڑیں گے۔ “
(آیت) ” تو (آج) فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے جو عالی مقام (اور سب سے) بڑا ہے۔ “ (العلی) سے مراد وہ ہستی ہے جو علو ذات، علو قدر اور علو قہر، یعنی ہر لحاظ سے مطلق بلندی کی مالک ہے۔ اس کے علو قدر میں سے اس کا کمال عدل ہے کہ وہ تمام اشیا کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔ وہ تقویٰ شعار لوگوں اور فاسق و فاجر لوگوں کو ماسوی قرار نہیں دیتا (الکبیر) جو اپنے اسماء وصفات اور افعال میں کبریا اور عظمت و مجد کا مالک ہے جو ہر آفت، ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے۔ جب فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے جہنم میں دائمی خلود کا فیصلہ کیا ہے تو اس کے فیصلے میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔
Ayah 40:17آیت 17
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے باطل میں سے حق کو واضح کیا، وہ اپنے بندوں کو آیات نفسیہ، آیات آفاقیہ اور آیات قرآنیہ کا مشاہدہ کراتا ہے جو ہر مطلوب و مقصود پر اس طرح دلالت کرتی ہیں کہ ان میں غور و فکر کرنے والے کے لئے معرفت حقائق میں ادنیٰ اس بھی شک نہیں رہتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے حق کو مشتبہ رکھا ہے نہ صواب کو مشکوک، بلکہ اللہ تعالیٰ نے دلائل کو متنوع طریقوں سے بیان اور آیات کو واضح کیا تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔
ماسئل جتنے اہم اور بڑے ہوں گے، ان کے دلائل اتنے ہی زیادہ اور آسان ہوں گے۔ آپ توحید میں غور کیجیے، توحید کا مسئلہ بڑے مسائل میں شمار ہوتا ہے، بلکہ یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، اس لئے اس کے عقلی اور نقلی دلائل بہت زیادہ اور متنوع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے تمثیلیں بیان کی ہیں اور بہت کثرت سے استدلال کیا ہے، اس لئے اس مقام پر توحید کے جملہ دلائل کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” پس اللہ کی عبادت کو خلاص کر کے اسی کو پکارو۔ “ جب اس نے ذکر فرمایا کہ وہ اپنے بندوں کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے، تو ایک بڑی نشانی کی طرف اشارہ کیا چناچہ فرمایا : (وینزل لکم من السمآء رزقاً ) ” اور وہ آسمان سے تمہارے لئے رزق اتارتا ہے۔ “ یعنی وہ آسمان سے بارش نازل کرتا ہے، جس سے تمہیں رزق دیا جاتا ہے، جس سے تم اور تمہارے مویشی زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں۔
دینی نعمتیں بھی اسی کی طرف سے ہیں اس سے مراد دینی ماسئل، ان کے دلائل اور ان پر عمل ہے اور دنیاوی نعمتیں بھی اسی کی طرف سے ہیں، مثلاً وہ تمام نعمتیں جو بارش سے وجود میں آتی ہیں، بارش سے زمین اور بندوں کو زندگی عطا ہوتی ہے اور یہ چیز قطعی طور پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اکیلا ہی معبود برحق ہے جس کے لئے اخلاص دین متعین ہے جی اس کہ وہ اکیلا ہی منعم حقیقی ہے (وما یتذکر) جب اللہ تعالیٰ ان آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتا ہے تو اس سے نہیں نصیحت حاصل کرتا (الا من ینیب) مگر وہی شخص جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کی خشیت، اس کی اطاعت اور اس کے سامنے عاجزی اور فروتنی اختیار کرتا ہے۔ پس یہی وہ شخص ہے جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے اور یہ آیات اس کے حق میں رحمت بن جاتی ہیں اور ان آیات سے اسی کی بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے۔
چونکہ آیات الٰہی کا ثمرہ تذکر ہے اور تذکر اللہ تعالیٰ کے اخلاص کا موجب ہے، اس لئے الخاص کے حکم کو ” فا “ کے ذریعے سے اس پر مرتب فرمایا جو سبیت پر دلالت کرتی ہے، چناچہ فرمایا : (فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین) یہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ، دونوں کو شامل ہے۔ اخلاص کا معنی ہے تمام عبادات واجبہ و مستحبہ، حقوق اللہ اور حقوق العباد میں قصد کو اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کرنا، یعنی وہ تمام امور، جن پر تم دین کے طور پر عمل کرتے ہو اور جن کو تم اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ بناتے ہو، ان میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص سے کام لو۔ (ولو کرہ الکفرون) ” خواہ یہ کفار کے لئے ناگوار ہی کیوں نہ ہو “ اس لئے تم ان میں ان کی پروا نہ کرو۔ یہ چیز تمہیں تمہارے دین سے نہ پھیر دے، کسی ملامت کرنے والے کی ملامت تمہیں اللہ کے راستے سے روک نہ دے کیونکہ کفار اخلاص کو بہت ناپسند کرتے ہیں جی اس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل کراہت سے تنگ ہوجاتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جب اللہ کے سوا خود اسختہ معبودوں کا نام لیا جاتا ہے تو یہ خوش ہوجاتے ہیں۔ “
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے جلال و کمال کا ذکر فرمایا جو عبادت میں اخلاص کا تقاضا کرتا ہے، چناچہ فرمایا : (رفیع الدرجت ذوالعرش) ” وہ درجات عالی کا مالک اور صاحب عرش ہے۔ “ یعنی وہ بلند اور اعلیٰ ہے جو عرش پر مستوی ہے، عرش اس کے لئے مختص ہے، اس کے درجات بہت بلند ہیں وہ ان کی وجہ سے مخلوقات سے علیحدہ ہے اور ان کے ساتھ اس کا مرتبہ بلند ہے۔ اس کے اوصاف جلیل القدر ہیں اور اس کی ذات اس سے بلند تر ہے کہ اس کا قرب حاصل کیا جائے سوائے پاک اور طاہر و مطہر علم کے ذریعے سے اور وہ ہے اخلاص جو مخلص مومنین کے درجات کو بلند کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے اور تمام مخلوق پر فوقیت عطا کرتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر راسلت اور وحی کی نعمت کا ذکر کرتا ہے، فرمایا : (یلقی الروح) ” وہ نازل کرتا ہے روح۔ “ یعنی وحی، جو قلب و روح کے لئے وہی حیثیت رکھتی ہے جو اجاسد کے لئے ارواح کی ہے۔ جیسے روح کے بغیر بدن زندہ ہوتا ہے نہ زندہ رہ سکتا ہے اسی طرح روح اور قلب، روح وحی کے بغیر دسرت رہ سکتے ہیں نہ فلاح سے بہرہ مند ہوسکتے ہیں۔ (یلقی الروح من امرہ) ” اپنے حکم سے وحی بھیجتا ہے “ جس میں بندوں کی منفعت اور مصلحت ہے (علی من یشآء من عبادہ) ” اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے۔ “ اس سے اللہ تعالیٰ کے رسول مراد ہیں جنہیں اس نے فضیلت بخشی اور انہیں اپنی وحی اور بندوں کو دعوت دینے کے لئے مختص فرمایا۔
انبیاء ومرسلین مبعوث کرنے کا فائدہ بندوں کے لئے، ان کے دین، دنیا اور آخرت میں سعادت کا حصول اور ان کے دین، دنیا اور آخرت میں بدبختی کو دور کرنا ہے، بنا بریں فرمایا : (لینذر) تاکہ ان لوگوں کو ڈرائے جن کی طرف وحی بھیجی گئی ہے (یوم التلاق) ” ملاقات کے دن سے “ یعنی وہ اس کے ذریعے سے اپنے بندوں کو ملاقات کے دن سے ڈرائے اور انہیں ان اسباب کو تیار کرنے کے لئے آمادہ کرے جو ان کو اس صورت حال سے نجات دیتے ہیں جس میں وہ گھرے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس دن کو (یوم التلاق) کے نام سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس دن خلاق اور مخلوق کی ملاقات ہوگی، مخلوق ایک دوسرے سے ملاقات کرے گی اور عمل کرنے والے اپنے اعمال اور ان کی جزا کا اسمنا کریں گے۔ (یوم ھم برزون) ’ دجس روز سب لوگ ظاہر ہوجائیں گے۔ “ یعنی جس روز یہ زمین پر ظاہر ہوں گے اور ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے، جس میں کوئی نشیب و فراز نہ ہوگا، پکارنے والا ان کو اپنی آواز سنا سکے گا اور نگاہ سب تک پہنچ سکے گی۔ (لایخفی علی اللہ منھم شیء) ” ان کی کوئی بات اللہ سے چھپی نہ رہے گی۔ “ یعنی ان کی ذات چھپ سکے گی نہ ان کے اعمال اور نہ ان اعمال کی جزا ہی اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی ہوگی۔ (لمن الملک الیوم) ” آج بادشاہی کس کی ہے ؟ “ یعنی اس عظیم دن کا کون مالک ہے ؟ جس نے اولین و آخرین، آسمانوں اور زمین کی مخلوق کو جمع کیا ہے، آج اقتدار میں خود اسختہ شراکت ختم اور تمام اسباب منقطع ہوگئے اور کچھ باقی نہیں رہا سوائے اچھے برے اعمال کے (للہ الواحد القھار) ” اللہ اکیلے کے لئے جو سب پر غالب ہے۔ “ یعنی آج اقتدار کی مالک وہ ذات بابرکات ہے جو اپنی ذات، اسماء وصفات اور افعال میں منفرد ہے اور کسی بھی لحاظ سے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (القھار) تمام مخلوقات پر غالب و قاہر ہے، تمام مخلوقات اس کی مطیع، اس کے سامنے عاجز ہے خاص طور پر ان دن لوگوں کے سر اس حی قیوم ہستی کے سامنے جھک جائیں گے اور اس روز اس کی اجازت کے بغیر کوئی کلام نہیں کرسکے گا۔
(الیوم تجزی کل نفس بما کسبت) ” آج ہر نفس کو، جو اس نے کمایا، اس کی جزا دی جائے گی۔ “ یعنی اس نے دنیا کے اندر، تھوڑی یا بہت، جو بھی نیکی اور بدی کا اکتاسب کیا ہے، آج اس کی جزا دی جائے گی۔ (لا ظلم الیوم) ” آج کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ “ آج کسی نفس پر، برائیوں میں اضافہ کر کے یا اس کی نیکیوں میں کمی کر کے، ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (ان اللہ سریع الحاسب) ” بلا شبہ اللہ حاسب لینے میں بہت تیز ہے۔ “ یعنی اس دن کو دور نہ سمجھو یہ دن ضرور آنے والا ہے اور ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے، نیز وہ قیامت کے روز اپنے بندوں کا بہت جلد حاسب لے گا کیونکہ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور وہ قدرت کا ملہ کا مالک ہے۔
Ayahs 40:18–21آیت 18
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (وانذرھم یوم الازفۃ) ” اے نبی ! ) انہیں (قریب) آ پہنچنے والے دن سے ڈرائیے “ یعنی انہیں قیامت کے دن سے ڈرائیے جو بہت قریب ہے، اس کے احوال اور اس کے زلزلوں کے پہنچنے کا وقت ہوگیا ہے (اذا القلوب لدی الحناجر) ” جب کہ دل گلوں تک آرہے ہوں گے۔ “ یعنی ان کے دل ہوا ہوجائیں گے۔ خوف اور کرب سے دل گلے میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں اوپر کی جانب اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی (کظمین) وہ کلام نہیں کرسکیں گے سوائے اس شخص کے، جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ درست بات کہے گا۔ وہ دلوں میں چھپے ہوئے خوف اور دہشت کو زبان پر نہیں لائیں گے۔ (وما للظلمین من حبیم) اور ظالموں کا کوئی قریبی اور ساتھی نہیں ہوگا (ولا شفیع یطاع) ” اور نہ کوئی ایسا سفارشی ہوگا جس کی بات مانی جائے “ کیونکہ اگر سفارشیوں کی سفارش کو فرض کر بھی لیا جائے تب بھی یہ سفارشی شرک کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں کی سفارش نہیں کریں گے۔ اگر یہ سفارش کریں بھی تو اللہ تعالیٰ ان کی سفارش پر راضی ہوگا نہ اس کو قبول کرے گا۔ (یعلم خآئنۃ الاعین) ” وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ “ یہ وہ نظر ہے جسے بندہ اپنے ہم نشین اور ساتھی سے چھپاتا ہے اور یہ چوری کی نظر ہے۔ (وما تخفی الصدور) ” اور ان مخفی باتوں کو بھی جو سینوں نے چھپا رکھی ہیں۔ “ یعنی وہ امور جنہیں بندہ دوسروں پر ظاہر نہیں کرتا اللہ تعالیٰ سینوں میں چھپے ہوئے ان بھیدوں کو بھی جانتا ہے۔ ظاہری امور سے آگاہ ہونا تو زیادہ اولیٰ ہے۔
(واللہ یقضی بالحق) ” اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے “ کیونکہ اس کا قول حق ہے، اس کا حکم شرعی حق ہے اور اس کا حکم جزائی بھی حق ہے۔ اس کا علم محیط ہے، اس نے ہر چیز کو لکھ رکھا ہے اور اس کے پاس ہر چیز محفوظ ہے۔ وہ ظلم، نقص اور تمام عیوب سے پاک ہے۔ وہی ہے جو اپنی قضاء و قدر کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، جب وہ کوئی چیز چاہتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے، جب نہیں چاہتا تو نہیں ہوتی۔ وہ دنیا میں اپنے مومن اور کافر بندوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور فتح و نصرت کے ذریعے سے اپنے اولیا اور محبوب بندوں کی مدد کرتا ہے۔ (والذین یدعون من دونہ) ” اور جن کو یہ اس (اللہ) کے سوا پکارت یہیں “ یہ ان تمام ہستیوں کو شامل ہے جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہے۔ (لایقضون بشیء) ” وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ “ کیونکہ وہ عاجز اور بےبس ہیں ان میں بھلائی کا ارادہ معدوم اور وہ اس کے فعل کی استطاعت سے محروم ہیں۔ (ان اللہ ھو السمیع) اللہ تعالیٰ ہی تمام آوازوں کو، اختلاف زبان اور اختلاف حاجات کے باوجود سنتا ہے۔ (البصیر) ” وہ دیکھنے والا ہے۔ “ جو کچھ تھا اور جو کچھ ہے، جو کچھ نظر آتا ہے اور جو کچھ نظر نہیں آتا، جسے بندے جانتے ہیں اور جسے بندے نہیں جانتے، سب اس کی نظر میں ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دو آیات کریمہ کی ابتدا میں فرمایا تھا : (وانذرھم یوم الازفۃ) ” ان کو فریب آنے والے دن (قیامت) ڈرائیے۔ “ پھر اس کے یہ اوصاف بیان فرمائے جو اس عظیم دن کے لئے تیاری کا تقاضا کرتے ہیں کیونکہ یہ ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہیں۔
Ayah 40:22آیت 22
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (اولم یسیروا فی الارض) ” کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ “ یعنی انہوں نے اپنے قلوب و ابدان کے ساتھ، گزشتہ قوموں کے آثار میں غور و فکر کرنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے کے لئے چل پھر کر نہیں دیکھا ؟ (آیت) ” تاکہ وہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟ “ یعنی جو ان سے پہلے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے تھے۔ وہ دیکھیں گے کہ ان کا بدترین انجام ہو اور وہ تباہ و برباد کردیئے گئے اور انہیں فضیحت اور رسوائی کا اسمنا کرنا پڑا، حالانکہ (کانوا) وہ ان لوگوں سے زیادہ طاقتور تھے، یعنی وہ تعداد، اسز و اسمان اور جسمانی طور پر بہت طاقتور تھے۔ (و) ” اور “ بہت زیادہ تھے، (اثاراً فی الارض) ” زمین میں (چھوڑے ہوئے) آثار کے لحاظ سے “ یعنی عمارات اور باغات وغیرہ کے لحاظ سے انہوں نے بہت زبردست آثار زمین میں چھوڑے۔ آثار کی قوت آثار چھوڑنے والے کی قوت اور اس کی شان و شوکت پر دلالت کرتی ہے۔
(فاخذھم اللہ) ” پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑ لیا “ اپنے عذاب کے ساتھ (بذنوبھم) ” ان کے گناہوں کی وجہ سے “ جبکہ انہوں نے ان گناہوں پر اصرار کیا اور ان پر جمے رہے (انہ قوی شدید العقاب) ” بیشک وہ صاحب قوت اور سخت عذاب دینے والا ہے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ کی قوت کے سامنے ان کی قوت کسی کام نہ آئی بلکہ قوم عاد، سب سے طاقتور قوم تھی، جو کہا کرتے تھے (من اشد منا قوۃ) (حم السجدۃ :10/31) ” ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہوا بھیجی جس نے ان کے قویٰ مضحمل کردیئے اور ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے احوال کا نمونہ بیان فرمایا، یعنی فرعون اور اس کے لشکروں کی مثال، چناچہ فرمایا :