Al-Ghaafir 40:85

Al-Ghaafir · from ayah 85

40:85

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا ؕ— سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ ۚ— وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ ۟۠فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِىۡ قَدۡ خَلَتۡ فِىۡ عِبَادِهٖ‌ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الۡكٰفِرُوۡنَ

لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اس کے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But never did their faith benefit them once they saw Our punishment. [It is] the established way of Allah which has preceded among His servants. And the disbelievers thereupon lost [all].

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 9 of surah · Ruku 14 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:85

مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان اُن کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو سکتا تھا، کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے، اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑ گئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اس کے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

لیکن ہمارے عذاب کو دیکھ لینے کے بعد ان کے ایمان نے انہیں نفع نہ دیا۔ اللہ نے اپنا معمول یہی مقرر کر رکھا ہے جو اس کے بندوں میں برابر چلا آ رہا ہے۔ اور اس جگہ کافر خراب وخستہ ہوئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لیکن جب ہمارا عذاب انہوں نے دیکھ لیا تھا تو اس کے بعد ان کا ایمان لانا انہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتا تھا، خبر دار رہو کہ اللہ تعالیٰ کا یہی معمول ہے جو اس کے بندوں میں پہلے سے چلا آتا ہے۔ اور اس موقع پر کافروں نے سخت نقصان اٹھایا

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اُن کا ایمان لانا اُن کے کچھ کام نہ آیا جبکہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا تھا، اﷲ کا (یہی) دستور ہے جو اُس کے بندوں میں گزرتا چلا آرہا ہے اور اس مقام پر کافروں نے (ہمیشہ) سخت نقصان اٹھایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر یہ نہ تھا کہ ان کا ایمان انھیں فائدہ دیتا، جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا طریقہ ہے جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور اس موقع پر کافر خسارے میں رہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیاتو ان کے ایمان نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ یہی سنت الٰہی ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہی ہے اور اس (عذاب کے) موقعہ پر کافر لوگ خسارہ میں پڑگئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو اس کے بندوں میں پہلے ظاہر ہوتی رہی ہے اور اس وقت کفر کرنے والے نامراد ہوئے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر (اس وقت کا) ان کا یہ ایمان ایسا نہیں تھا کہ ان کو کچھ نفع دے سکے (اور فائدہ پہنچا سکے) جب کہ انہوں نے دیکھ لیا تھا ہمارے عذاب کو اللہ کے اس دستور کے مطابق جو کہ پہلے سے چلا آیا ہے اس کے بندوں میں اور اس موقع پر (دائمی) خسارے میں پڑے گئے ایسے کافر (و منکر) لوگ

— مولانا اسحاق مدنی

سو انہیں ان کا (یہ) ایمان کچھ نفع نہ پہنچا سکا جبکہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا اللہ نے اپنا یہی معمول مقرر کیا ہے جو اس کے بندوں میں ہوتا چلا آیا ہے اور اس وقت کافر خسارہ میں رہ گئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو پھر ان کا ایمان لانا ان کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوا جبکہ انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو اس کے بندوں میں جاری رہا ہے اور اس وقت کافرلوگ خسارے میں رہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے اس وقت ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ یہ اللہ کی عادت ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ کر رہ گئے“

— محترمہ رفعت اعجاز

But their believing after they had seen Our chastisement did not avail them. That has been Allah's Way concerning His servants. And the unbelievers courted utter loss, then and there.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But, their profession of faith was not (competent) to benefit them, once they had seen Our punishment – a customary practice of Allah that has been there all along in the matter of His servants – and hence, the disbelievers became the losers.

— Muhammad Taqi Usmani

But, their profession of faith was not (competent) to benefit them, once they had seen Our punishment – a customary practice of Allah that has been there all along in the matter of His servants – and hence, the disbelievers became the losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then their Faith could not avail them when they saw Our punishment. (Like) this has been the way of Allah in dealing with His servants. And there the disbelievers lost utterly.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But their faith could not avail them when they saw Our doom. This is Allah's law which hath ever taken course for His bondmen. And then the disbelievers will be ruined.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But never did their faith benefit them once they saw Our punishment. [It is] the established way of Allah which has preceded among His servants. And the disbelievers thereupon lost [all].

— Saheeh International

Their faith proved to be of no benefit to them when they became subject to Our torment. Such was God's prevailing tradition among His servants in the past. Thus were the unbelievers destroyed.

— Muhammad Sarwar

But their belief was not going to profit them when they had seen Our punishment; (this is) Allah's law, which has indeed obtained in the matter of His servants, and there the unbelievers are lost.

— Muhammad Habib Shakir

But their belief profited them naught when they saw our prowess. This hath been Allah's dispensation that hath- been in regard to His bondmen. And then there were lost the infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

But their professing the Faith when they (actually) saw Our Punishment was not going to profit them. (Such has been) Allah's Way of dealing with His Servants (from the most ancient times). And even thus did the Rejecters of Allah perish (utterly)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:85

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 82–85

نزول عذاب کے وقت کا ایمان بےفائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ان اگلے لوگوں کو خبر دے رہا ہے جو رسولوں کو اس سے پہلے جھٹلا چکے ہیں۔ ساتھ ہی بتاتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا کچھ انہوں نے بھگتا ؟ باوجود یکہ وہ قوی تھے زیادہ تھے زمین میں نشانات عمارتیں وغیرہ بھی زیادہ رکھنے والے تھے اور بڑے مالدار تھے۔ لیکن کوئی چیز ان کے کام نہ آئی کسی نے اللہ کے عذاب کو نہ دفع کیا نہ کم کیا نہ ٹالا نہ ہٹایا۔ یہ تھے ہی غارت کئے جانے کے قابل کیونکہ جب ان کے پاس اللہ کے قاصد صاف صاف دلیلیں، روشن حجتیں، کھلے معجزات، پاکیزہ تعلیمات لے کر آئے تو انہوں نے آنکھ بھر کر دیکھا تک نہیں اپنے پاس کے علوم پر مغرور ہوگئے۔ اور رسولوں کی تعلیم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 84–85

سورة الْمُؤْمِن 113 یہ کہ توبہ اور ایمان بس اسی وقت تک نافع ہیں جب تک آدمی اللہ کے عذاب یا موت کی گرفت میں نہ آجائے۔ عذاب آجانے یا موت کے آثار شروع ہوجانے کے بعد ایمان لانا یا توبہ کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ۔ یعنی عذاب سامنے آنے کے بعد یہ لوگ ایمان کا اقرار کر رہے ہیں مگر اس وقت کا ایمان اللہ کے نزدیک مقبول و معتبر نہیں۔ حدیث میں ہے کہ یقبل اللہ توبة العبد مالم یغرغر (ابن کثیر) یعنی اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ اس وقت سے پہلے پہلے قبول کرتے ہیں، جس وقت نزع روح اور غرغرہ موت سامنے آجائے، اسی طرح پر عذاب آسمانی کے سامنے آجانے کے بعد کسی کی توبہ اور ایمان قبول نہیں ہوتا۔ اللھم انا نسئلک العفو والعافیة والتوبة قبل الموت والیسر والمعافاة عند الموت والمغفرة والرحمة بعد الموت ببرکة آل حم و صلی اللہ تعالٰ علی النبی الکریم۔ تمت سورة المومن بحمد للہ تعالیٰ و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 84–85

یعنی رسولوں کے دلائل سے تو وہ نہیں مانے لیکن جب انہوں نے اللہ کا عذاب دیکھ لیا تب وہ پکار اٹھے کہ ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور جن چیزوں کو اب تک خدا کا شریک گردانتے رہیت ہے، ان کا ہم نے انکار کیا ! فرمایا کہ ان کا یہ ایمان جو وہ عذاب دیکھ چکنے کے بعد لائے، ان کے لئے کچھ نفع دینے والا نہیں بنا بلکہ عذات نے ان کو پامال کر کے رکھ دیا۔ ایمان معتبر وہ ہے جو عذاب دیکھنے سے پہلے دلائل کی روشنی میں لایا جائے۔ اگر اس کا وقت گزر گیا اور عذاب کی گھڑی سر پر آگئی تو اس وقت کا ایمان بالکل بےسود ہوتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہمیشہ سے اس کے بندوں میں جاری رہی ہے۔ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 84–85

85۔ 1 یعنی اللہ کا یہ معمول چلا آ رہا ہے کہ عذاب دیکھنے کے بعد توبہ اور ایمان مقبول نہیں یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان ہوا ہے۔ 85۔ 2 یعنی معاینہ عذاب کے بعد ان پر واضح ہوگیا کہ اب سوائے خسارے اور ہلاکت کے ہمارے مقدر میں کچھ نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 78–85

20: کفار مکہ حضور اقدس ﷺ سے بار بار نت نئے معجزے دکھانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور اصرار کرتے تھے کہ وہی معجزہ دکھائیں جو ہم کہیں، اور مقصد سوائے وقت گزاری کے کچھ نہیں تھا، کیونکہ آپ کے کئی معجزات دیکھنے کے باوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں تھے، اس لئے یہاں ان کو دینے کے لئے یہ جواب سکھایا جارہا ہے کہ معجزہ دکھانا کسی پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے دکھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے آپ ان سے صاف کہہ دیں کہ میں تمہاری نت نئی فرمائشیں پوری کرنے سے معذور ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 81–85

آیت نمبر 81 تا 85 انسانی تاریخ میں گزشتہ اقوام کی تباہی روایات کے ذریعے ان کی کہانیاں محفوظ ہیں۔ بعض کی کہانیاں کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں۔ قرآن کریم باربار ان ایام اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس لیے کہ انسانیت جس لائن پر بڑھتی چلی آئی ہے اس میں جا بجا حقائق موجود ہیں۔ پھر ان ایام اللہ کا اثر بھی انسان پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اور قرآن چونکہ خالق فطرت کی طرف سے نازل ہورہا ہے اس لیے وہ فطرت کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کرتا ہے۔ قرآن فطرت کی راہ رسم سے خوب واقف ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کی یہ مخلوق کس بات سے متاثر ہوتی ہے اور کس انداز سے اس کے دل میں بات اتاری جاسکتی ہے ، اللہ کو پتہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اب پچھتانے اور تقصیر کا اعتراف کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ایمان و توبہ کا وقت گزر چکا۔ عذاب دیکھ لینے پر تو ہر کسی کو بےاختیار یقین آجاتا ہے۔ مگر یہ یقین موجب نجات نہیں۔ نہ اس یقین کی بدولت آیا ہوا عذاب ٹل سکتا ہے۔ قال تعالیٰ " ولیست التوبۃ للذین یعملون السیأات حتی اذا حضر احدہم الموت قال انی تبت الان ولا الذین یموتون وہم کفار " (نسا، رکوع 3) وقال فی قصۃ فرعون " آلئن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین۔ " وفی الحدیث " ان اللہ تعالیٰ یقبل توبۃ العبد مالم یغرغر۔ "9 یعنی ہمیشہ سے یوں ہی ہوتا رہا ہے کہ لوگ اول انکار و استہزاء سے پیش آتے ہیں پھر جب عذاب میں پکڑے جاتے ہیں اس وقت شور مچاتے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 85 { فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُہُمْ اِیْمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا } ”تو پھر ان کا ایمان لانا ان کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوا جبکہ انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔“ عذاب کے واضح آثار سامنے آجانے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور ایسے وقت کا ایمان اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے اور اس قانون سے استثناء نوع انسانی کی پوری تاریخ میں صرف ایک ہی قوم کو ملا اور وہ تھی حضرت یونس علیہ السلام کی قوم۔ اس استثناء کا ذکر ہم سورة یونس کی آیت 98 میں پڑھ چکے ہیں۔ دراصل حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی واضح اجازت آنے سے پہلے ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر چلے گئے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 84–85

104 ایمان کی شرط اول ایمان بالغیب ہے اور عذاب دیکھ لینے یا موت کے وقت تو سب حقیقت مشاہدہ میں آجاتی ہے، غیب رہتی ہی نہیں اور مشاہدہ پر تو سب ہی لوگ یقین رکھتے ہیں خواہ کافر ہوں یا دہریے ہوں یا مشرک ہوں۔ لہذا عذاب دیکھنے یا موت کے آثار شروع ہوجانے کے بعد ایمان لانا بےسود ہے۔ بلکہ اس طرح مشاہدے پر لفظ ایمان کا اطلاق بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 84–85

80۔ مشاہدہ ومعاینہ عذاب کے بعد جو ایمان حاصل ہوتا ہے وہ تو ایمان اضطراری ہے جو مقصود ومطلوب نہیں، اور اس لئے اس موقع پر لا حاصل رہتا ہے، مقصود ومطلوب تو ایمان اختیاری ہے جس کا دوسرا نام ایمان بالغیب ہے۔ اصطلاح میں ایمان اضطراری وغیرمقصود کا نام ایمان باس ہے۔ (آیت) ” فلم یک ینفعھم ایمانھم “۔ ایمان کا لفظ ملحوظ رہے جو شے اس حالت میں غیر مقبول رہتی ہے وہ کفر سے رجعت ہے نہ کہ معصیت سے، کافر کا ایمان ایسے وقت میں غیر مقبول ونامستند رہے گا، لیکن مومن عاصی کی توبہ اس وقت بھی انشاء اللہ ضرور قبول ہوجائے گی۔ وھذا الحکم خاص بایمان الباس واما توبۃ الباس فھی مقبولۃ نافعۃ بفضل اللہ تعالیٰ وکرمہ والفرق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 79–85

آیت نمبر 79 تا 85 ترجمہ : اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے (مویشی) پیدا کئے کہا گیا ہے کہ یہاں (انعام) سے خاص طور پر اونٹ مراد ہے اور ظاہر یہی ہے اور بقروغنم بھی معراد ہوسکتے ہیں تاکہ ان میں سے بعض پر تم سواری کرو اور بعض کو ان میں سے کھاتے ہو اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت منافع ہیں (مثلاً ) دودھ، نسل، اونٹ کے بال، اور اون تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنی دلی مراد کو حاصل کرو اور وہ (مختلف) شہروں تک بوجھ لاد کرلیجاتا ہے، اور ان سواریوں پر خشکی میں اور کشتیوں پر دریا میں چڑھے پھرتے ہو اور وہ تمہیں اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے، پس تم وحدانیت پت دلالت کرنے والی کون کون سی نشانیوں کا انکار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راوا باسنا سو ان کو ان کا ایمان لانا نفع بخش نہیں ہوا ‘ جبکہ انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا۔ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا جب انہوں نے عذاب دیکھ لیا تو اس وقت ایمان لانا بےسود تھا ‘ کیونکہ اس وقت کی توبہ قبول نہیں ہوتی ‘ اسلئے لَمْ یَکُ فرمایا ‘ یعنی ایسے وقت میں ایمان لانا درست اور ٹھیک نہیں تھا۔ سنت اللہ التی قدخلت فی عبادہ وخسرھنا لک الکفرون اللہ نے اپنا یہی معمول مقرر کیا ہے جو اس کے بندوں میں پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے اور اس وقت کافر (دونوں جہان کے) خسارے میں رہ گئے۔ سُنَّتَ اللہ یعنی (ہمیشہ سے) گذشتہ زمانہ میں۔ اللہ نے بندوں کے معاملہ میں یہ طریقہ بنا دیا ہے کہ نزول…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

چناچہ جب انہوں نے اپنی ہلاکت کے لیے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو اس وقت ان کا ایمان کچھ فائدہ مند نہ ہوا البتہ اس سے پہلے ایمان لانا فائدہ مند ہوتا اور اسی طرح توبہ بھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا یہی معمولی مقرر کر رکھا ہے جو اس کے بندوں میں تکذیب کے بعد عذاب نازل ہونے اور نزول عذاب پر عدم قبولیت ایمان کے بارے میں چلا آرہا ہے اور اس عذاب کے مشاہدہ کے وقت کافر خسارہ میں رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 84–85

85, 84 فلما راوا باسنا قالوا امنا باللہ وحدہ … ان دونوں آیات کی تفسیر کے لئے دیکھیے سورة نساء (18) انعام (158) اور سورة یونس (51، 90، 91)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فلما راوا باسنا جب انہوں نے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا قالو امنا باللہ وحدہٗ و کفرنا بما کنا بہ مشرکین۔ یعنی ہم ان بتوں کا انکار کرنے والے ہیں جنہیں ہم نے عبادت میں اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا۔ فلم یک ینفعھم ایمانھم جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھ لیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا انہیں کچھ نفع نہ دے گا۔ سنت اللہ، سنۃ مصدر ہے کیونکہ عرب کہتے ہیں سن لیس سناوسنۃ یعنی اللہ تعالیٰ نے کفار میں یہ ضابطہ نافذ کردیا ہے کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو ایمان انہیں کچھ نفع نہ دے گا۔ سورة النساء اور سورة یونس میں یہ بحث گذر چکی ہے کہ عذاب دیکھنے اور علم ضروری کے حصول کے بعد توبہ قبول نہ ہوگی۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 81–85

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتبلغوا علیھا حاجۃ فی صدورکم “ (تاکہ تم ان پر سوار ہو کر اپنے دلی مقصد کو پہنچ جاؤ یعنی تمہارے سفر تمہاری اپنی ضرورت کے لئے ہوں (آیت ) ” وآثارفی الارض “ (اور نشانات جو ان میں چھوڑ گئے) یعنی زمین میں ان کا پیدل چلنا (آیت) ” فرحوا بما عندھم من العلم “ (وہ لوگ اپنے اس علم (معاش) پر بڑے خوش ہوئے جو ان کے پاس تھا یعنی ان کا قول تھا ہم ان سے زیادہ جاننے والے ہیں اور ہم کو ہرگز عذاب نہیں ہوگا (آیت ) ” وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزء ون “ (اور وہ جس چیز کا مذاق بناتے تھے اسی نے ان کو گھیر لیا) یعنی ان کے رسول انکے پاس حق کو لائے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمْ يَكُ [ پھر ہوا ہی نہیں (کہ ) ] يَنْفَعُهُمْ [ فائدہ دے ان کو ] اِيْمَانُهُمْ [ ان کا ایمان ] لَمَّا رَاَوْا [ جب انہوں نے دیکھا ] بَاْسَـنَا ۭ [ ہماری سختی کو ] سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيْ [ (آپ پائیں گے ) اللہ کی اس سنت کو جو ] قَدْ خَلَتْ [ گزری ہے ] فِيْ عِبَادِهٖ ۚ [ اس کے بندوں میں ] وَخَسِرَ [اور گھاٹے میں رہے ] هُنَالِكَ [ وہاں ] الْكٰفِرُوْنَ [ کافر لوگ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 82–85

گزشتہ قوموں کی بربادی کا تذکرہ (اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ) (الیٰ اخر السورۃ) کیا ان لوگوں نے سفر نہیں کیا اور نافرمان پرانی امتوں کے مکان اور کھنڈر اور کنوئیں اور اینٹ پتھر نہیں دیکھے ؟ دیکھے ہیں اور بار بار دیکھے ہیں ان امتوں کا انجام بھی دیکھ چکے ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ وہ لوگ ان سے عدد میں بڑھ کر تھے اور طاقت میں بھی زیادہ تھے اور زمین میں ان کے نشانات بھی بہت ہیں انہوں نے مضبوط قلعے بنائے پتھروں کو تراش کر گھر بنائے لیکن رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے عذاب آیا تو سب چیزیں دھری رہ گئیں جو کچھ کماتے تھے وہ کچھ بھی کام نہ آیا۔ جب اللہ کے رسول کھلے ہوئے معجزات اور آیات واضحات لے کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 79–85

ذکر انعامات و توحید رب العالمین، وتہدید منکرین ومشرکین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الانعام ....... الی ........ وخسرھنالک الکفرون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں سلسلہ مضمون توحید خداوندی تھا اور دلائل قدرت کے بیان کے ساتھ مجرمین کے انجام ہلاکت پر افسوس وملامت کا اظہار ہے، اور یہ کہ خود مجرمین آخرت میں اپنے اعمال پر کس قدر پچھتائیں گے، آیات میں مزید انعامات خداوندی ذکر فرما کر مضمون توحید اور منکرین ومشرکین کی تہدید پر سورت کو ختم فرما دیا گیا، ارشاد ہے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے ہی نفع کے لیے مویشی بنائے تاکہ ان میں سے بعض سے تم سواری لو اور ان میں سے بعض کو کھاؤ، اور بھی بہت سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 84–85

76:۔ ” فلما راو باسان “ جب ہمارے پیغمبروں نے دلائل وبراہین کے ساتھ ان کو مسئلہ توحید سمجھایا۔ یا اس وقت تو نہ سمجھے، بلکہ ضد میں آکر انکار کردیا، لیکن جب ہمارا عذاب آپہنچا، تو خود بخود ہی مان لیا اور صاف صاف کہنے لگے، ہم خدائے واحد کی وحدانیت پر ایمان لائے اور جن معبودوں کو خدا کے شریک ٹھہراتے تھے ان سب سے منکر اور بیزار ہوئے۔ ” فلم یک ینفعہم الخ “ لیکن ہمارا عذاب دیکھ کر اضطراراً جو ایمان لائے اس سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا اور وہ اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکے، کیونکہ اضطراری ایمان معتبر اور قابل قبول نہیں۔ ایمان وہی معبتر ہے جو اختیاری ہو۔ ” سنۃ اللہ الخ “ یہ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے ” ای سن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 79–85

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی تردید فرمائی اور ساتھ ساتھ پیغمبر ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی بھی دی کہ پہلی قوموں نے بھی اپنے انبیاء کرام کی تکذیب کی ان کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائیں مگر بالاخر کامیابی اللہ کے نبیوں کو ہوئی اور مکذبین دنیا وآخرت دونوں جگہ ناکام اور دائمی عذاب کے مستحق ٹھہرے اب آج کی آیات میں پہلے کچھ دلائل توحید بیان ہوئے ہیں اور پھر کفار و مشرکین کی توجہ سابقہ اقوام کی طرف دلائی گئی ہے جو ان سے زیادہ تعداد میں اور زیادہ طاقتور تھے مگر وہ اپنے غرور وتکبر کی وجہ سے مبتلائے عذاب ہوئے اس وقت انہوں نے توبہ کی مگر اس بےوقت ایمان لانے کا کچھ فائدہ حاصل نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُہُمْ اِيْمَانُہُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا۝ 0 ۭ سُنَّتَ اللہِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِہٖ۝ 0 ۚ وَخَسِرَ ہُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۝ 85ۧ نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] ( نع ) النفع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 79–85

تفسیر : خوف دلانے کے بعد پھر وہ دلائل بیان فرماتا ہے کہ جو اللہ حکیم رحیم کے وجود پر دلالت کرتے ہیں اور جن سے اس کا بندوں پر انعام و احسان ثابت ہوتا ہے۔ فقال اللہ الذی الخ کہ اللہ وہ محسن و رحیم و کریم و قادر ہے کہ جس نے تم سے بڑے زور آور جانوروں کو تمہارے بس میں کردیا کہ ان میں سے تم کسی پر سوار ہوتے ہو۔ جیسا کہ اونٹ، گھوڑا، گدھا بعض ملکوں میں بیل ہاتھی بھی یہی کام دیتے ہیں اور بعض کو تم ذبح کرکے کھاتے ہوگائے، بھیڑ، بکری وغیرہ۔ اور اسی پر بس نہیں بلکہ ولکم فیہا منافع اس کے علاوہ تمہارے لیے ان میں اور بھی فوائد ہیں، ان سے نفع لیتے ہو۔ دودھ، گھی فروخت کرتے ہو کھاتے پیتے ہو ہل جو تتے ہو، ان کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 84–85

فَلَمَّا رَاَوْبَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَحْدَہٗ وَکَفَرْنَا بِمَا کُنَّا بِہٖ مُشْرِکِیْنَ ۔ فَلَمْ یَکُ یَنْفَعُھُمْ اِیْمَانُھُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا ط سُنَّتَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْخَلَتْ فِیْ عِبَادِہٖ ج وَخَسِرَ ھُنَالِکَ الْـکٰفِرُوْنَ ۔ (المؤمن : 84، 85) (پس جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو پکار اٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو، اور ہم انکار کرتے ہیں ان سب معبودوں کا جنھیں ہم شریک ٹھہراتے تھے۔ پس نہ نفع دیا ان کے ایمان نے جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا، یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کے بندوں میں جاری رہی ہے، اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے۔ ) عذاب دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 82–85

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی نعمتوں اور اس کے واضح دلائل کو جھٹلانے والوں کا انجام۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لیے خارجی اور داخلی اسباب پیدا فرمائے ہیں۔ لیکن ان کی حقیقت پانے کے لیے انسان کا سلیم الفطرت ہونا ضروری ہے۔ انسان کی فطرت جتنی زندہ اور بیدار ہوگی اتنا ہی وہ ہدایت قبول کرنے میں مستعد ہوگا۔ خارجی اسباب میں خوف اور ڈر ایک ایسا سبب ہے کہ اگر انسان کو اپنے رب کا خوف پیدا ہوجائے تو وہ خود بخود نافرمانی کا راستہ چھوڑ کر اپنے رب کی تابعد اری کی شاہراہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خوف کے ساتھ اور بھی خوف ہیں جن کی بنا پر آدمی نافرمانی کو چھوڑ کر ہدایت قبول…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عذاب دیکھ کر ایمان لائے مگر وہ بیکار ثابت ہوا : فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَـنَا (پس ان کو ایمان لانا فائدہ مند نہ ہوا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا) یعنی اس وقت ایمان لانا درست اور ٹھیک نہیں تھا۔ سُنَّتَ اللّٰهِ (اللہ تعالیٰ نے اپنا یہی معمول مقرر کیا ہے) یہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کی طرح ہے اور اس طرح کے مصادر مؤکدہ یہ فائدہ دیتے ہیں۔ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ فِيْ عِبَادِهٖ (جو اس کے بندوں میں پہلے سے ہوتا چلا آتا ہے) نزول عذاب کے وقت کا ایمان غیر مفید ہے اور مکذبین رسل پر عذاب آ کر رہتا ہے۔ ۚ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ (اور اس وقت کافر خسارہ میں رہ گئے) ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 84–85

(83۔ 84) ۔۔۔۔۔ ، فلما جاء تھم رسلھم بالبینات فرحوا، وہ راضی ہوگئے۔ ، بما عندھم من العلم، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ ان کا وہ قول ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ نہ ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور نہ ہم عذاب دیئے جائیں گے۔ اس کو علم کا نام دیا گیا ہے۔ ان کے دعویٰ کے مطابق ورنہ یہ حقیقت میں جہالت ہ۔ ، وحاق بھم ما کانوابہ یستھزء ون فلما راواباسنا قالوا امنا باللہ وحدہ وکفرنابما کنا بہ مشرکین، یعنی جو ہم اللہ کے برابر ٹھہراتے تھے اس سے ہم برأت ظاہر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 81–85

81۔ 85۔ اللہ نے انسان کی پیدائش انسان کی ضرورت کے کھیتی کے بوجھ لادنے کے سواری کے جانوروں کا ذکر فرما کر اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لئے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخر یہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کریں گے خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں کہ سوا اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کسی اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکے تو پھر جن بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 85 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کی تکذیب کرنے والوں کو اس بات پر ابھارتا ہے کہ وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین پر چل پھر کر دیکھیں اور اہل علم سے سوال کریں۔ (آیت) ” پس وہ دیکھیں “ غفلت اور بےپروائی کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ فکر و استدلال کی نظر سے دیکھیں۔ (آیت) ” کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے ؟ “ یعنی قوم عاد و شمود جیسی گزشتہ قوموں کا کیا انجام ہوا ؟ جو ان سے قوت میں زیادہ، مال میں کثرت اور زمین میں آثار، یعنی مضبوط محلات، خوب صورت باغات اور بیشمار کھیتیاں چھوڑنے کے لحاظ سے بڑے تھے۔ (آیت) ” تو ان کی کمائی نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ “ جب اللہ تعالیٰ کا حکم آپہنچا تو ان کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–85

دعا ہی عبادت ہے قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 84–85

157 ایمان بالمشاہدہ کا کوئی فائدہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے منکروں نے جب ہمارے عذاب کو دیکھ لیا تو اس وقت وہ چیخ چیخ کر کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے اکیلے اللہ پر اور ہم نے انکار کردیا ان سب چیزوں کا جن کو ہم اس کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے۔ مگر بےوقت کے اس عذاب سے ان کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ " کچھ فائدہ نہ دیا انکو انکے اس وقت کے ایمان نے " کہ عذاب آچکنے کے بعد نہ کسی کی توبہ و معذرت قبول کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد کسی کو کسی طرح کی کوئی مہلت اور چھوٹ مل سکتی ہے ۔ { وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُہَا } ۔ (المنافقون : 11) اور عذاب آجانے کے بعد کا ایمان اس لئے معتبر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–85

جھٹلانے والوں کا انجام تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 79–85

رکوع نمبر 9: آیات 79 تا 85: اسرار و معارف : اللہ وہ ذات کریم ہے جس نے تمہاری خدمت کے لیے کتنی اقسام کے جانور پیدا کردئیے اور تمہیں ان پر یہاں تک اختیار بخشا کہ کسی پر سواری کرتے ہو تو کسی کو ذبح کرکے کھالیتے ہو کبھی ان کی تجارت کرکے اپنے لیے دولت کماتے ہو غرض جو جی میں آئے اپنی سب ضرورتیں پوری کرتے ہو اور تم زمین پر پانی میں ہر جگہ مختلف سواریاں استعمال کرتے ہو یہ سب تو اس کی عظمت کے گواہ ہیں تم بھلا کون کون سی دلیل کا انکار کروگے۔ کیا روئے زمین پر پھر کر نہیں دیکھا کہ پہلی اقوام کا کیا انجام ہوا ان کے چھوڑے ہوئے آثار اور کھنڈرات بتاتے ہیں کہ وہ تم لوگوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور مالدار تھے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 کیونکہ ایمان وہی معتبر ہے جو پوشیدہ حقائق کو آنکھوں دیکھے بغیر ہو۔ عذاب اترنا دیکھ کر تو ہر شخص ایمان لے آتا ہے۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ( ان اللہ یقبل توبۃ العبد ما لم یغر غر) اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک جان کنی کی کیفیت شروع نہ ہو۔ ( ترمذی)7 زجاج کہتے ہیں کہ کافر ہر وقت خسارہ ( تباہی) میں ہے لیکن وہ اپنے خسارہ کی آنکھوں سے اس وقت دیکھتا ہے جب اس پر عذاب نازل ہوتا ہے۔ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:85) فلم یک۔ فاء تعقیب کا ہے۔ لم یک مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ فلم یک ینفعھم ایمانھم پس کوئی فائدہ نہ دیا انہیں ان کے ایمان نے۔ سنت اللّٰہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کی سنت، دستور۔ طریقہ جاریہ عادت مستمرہ۔ سنت۔ مصدر مؤکدہ لنفسہ ہے اس سے پہلے فعل محذوف ہے ای سن اللّٰہ سنۃ۔ یہی دستور ہے اللہ تعالیٰ کا۔ اس کی مثال قرآن مجید میں ہے :۔ صبغہ اللّٰہ (ہمارے اوپر اللہ کا رنگ ہے اللہ نے ہمیں اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے) اور مثالیں 30:6 اور 31:9 ۔ ملاحظہ ہوں۔ قد خلت : قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے اور ماضی کو زمانہ حال کے قریب بنا دیتا ہے یعنی ماضی قریب کے معنی دیتا ہے۔ خلت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 79–85

لغات القرآن آیت نمبر 79 تا 85 : الانعام ( مویشی ، جانور) لترکبوا ( تا کہ تم سواری کرو) حاجۃ (ضرورت) تنکرون ( تم انکار کرو گے) ما اغنی (کام نہ آیا) خلت (گزر گئی) سنت اللہ ( اللہ کا قانون ، اللہ کا دستور) تشریح : آیت نمبر 79 تا 85 : سورة مومن کی آخرت آیات میں انسانی زندگی گزارنے کی بہت سی چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے مثلاً غذا ، سواری ، صنعتیں ، سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے لے جانے کے اسباب وغیرہ ۔ اگرچہ چیزیں نہ ہوں تو انسان کو اپنی زندگی اور تہذیب و تمدن کے تقاضوں کو پورا کرنا مشکل ہوجائے۔ اللہ نے انسان کو ان بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے جس پر ہر انسان کو ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 81–85

آثار موت کے وقت ایمان قبول نہیں۔ (ف 3) اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی قدرت سے اللہ کے معبود حقیقی ہونے سے بیخبر ہیں ان کے خبردار کرنے کے لیے یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں یہ سب نشانیاں دیکھ کر بھی یہ بیخبر لوگ اپنی بیخبر ی سے باز نہیں آتے، تو ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخریہ لوگ اللہ کی قدرت کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرتے ہیں خود اپنی پیدائش کے منکر ہیں سو اللہ کے کسی اور کو ان کی پیدائش میں دخل ہے یا ان کی ضرورت کی چیزیں کس اور نے پیدا کردی ہیں اور جب اللہ کے اس سوال کا جواب یہ لوگ نہیں دے سکتے، تو پھر جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں ان بتوں کو اللہ کا شریک کرنے کا کون ساحق حاصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 82–85

[30] دستور الٰہی یہی ہے کہ نزول عذاب کے وقت ایمان لانا نافع نہیں ہوتا کیونکہ اس وقت کا ایمان اللہ کے نزدیک مقبول و معتبر نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 83–85

علم نبوت کی وسعت 1: گمراہ قوموں میں سب سے بڑا غیب یہ ہوتا ہے کہ ان میں خود پسندی آجاتی ہے ۔ اور وہ اپنے مادی علوم پر فخر و غرور کرنے لگتی ہیں اور ان معارف وحکم پر غور وفکر نہیں کرتیں ۔ جن کا براہ راست دل کی پاکیزگی اور لطافت سے تعلق ہوتا ہے ۔ جب انبیاء (علیہم السلام) تشریف لاتے ہیں ۔ تو ان کو ہدف استہزاء بنالیتی ہیں ۔ اور اپنے مزخرفات واوہام پر لگی رہتی ہیں ۔ اور ان حقیر معلومات کو علوم نبوت سے زیادہ بیش قیمت جانتی ہیں ۔ جو ان کے پاس ہوتی ہیں ۔ حالانکہ پیغمبر اپنے وقت کا بہت بڑا عارف اور بہت بڑا عالم ہوتا ہے ۔ اس کی نظریں بہت وسیع اور بلند ہوتی ہیں ۔ وہ اپنی حلیم بصیرت سے ان حقائق کو دیکھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(85) پھر جب انہوں نے ہمارے عذاب کو آتا دیکھا تو ان کا یہ ایمان لانا ان کو کچھ مفید اور سود مند نہ ہو اللہ تعالیٰ نے اپنا یہی دستور مقرر کیا ہے جو اس کے بندوں میں پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے اور ہو گزرا ہے اور اس وقت وہ کافر سخت نقصان اور خسارے میں رہ گئے۔ یعنی عذاب آتا دیکھ کر ایمان کا دعویٰ کرنے لگے کہ ہم تو ایمان لائے اور ہم نے تو تمام معبودوں سے دست برداری دیدی اور ہم تو اس خدا پر ایمان لائے جو وحدہ لاشریک ہے اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ ان کا یہ المان لانا عذاب کو دیکھ کر ان کے لئے نافع نہ ہوا کیونکہ مجبور ہوکر ایمان لانا اور اضطراری ایمان معتبر نہیں بلکہ ہر مکلف کا اختیاری ایمان معتبر ہے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ کیونکہ وہ ایمان اضطراری تھا، اور عبد مکلف ہے ایمان اختیاری کا۔ 7۔ پس ان مشرکین کو بھی یہ سب مضامین سمجھ کر ڈرنا چاہئے، ان کے لئے ابھی وقت ہے پھر کچھ تلافی نہ ہوسکے گی۔ (مسئلہ) جب عذاب آخرت و ملائکہ نظر آجاویں، پھر اس وقت ایمان لانا مقبول نہیں، اور اس کو ایمان باس کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موعود عذاب دیکھ لینے کے بعد لایا ہوا ایمان مقبول نہیں ہوتا 85۔ جس اعلان الٰہی کا ذکر ہم نے گزشتہ آیت میں کیا ہے وہ یہی اعلان ہے جو زیر نظر آیت میں کیا جا رہا ہے کہ ” جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو ان کا ایمان لانا ان کے لئے سود مند نہ ہوا “ کیوں سود مند نہ ہوا ؟ فرمایا اس لیے کہ ” یہ سنت اللہ ہے جو اس کے بندوں میں پیچھے سے چلی آرہی ہے “ یعنی سارے منکرین اللہ ہی کے بندے تھے اور اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ گزشتہ قوموں سے یہی چلتا آرہا ہے کہ جب عذاب خداوندی کے آنے کا اعلان ہوجاتا ہے تو اس اعلان الٰہی کے بعد عذاب دیکھ لینے کے پیچھے اگر کوئی فرد یا کوئی قوم ایمان لاتی ہے تو ہم اس کے ایمان کو قبول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 84–85

In verse 85, it was said: فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ (But, their profession of faith was not [ competent ] to benefit them, once they had seen Our punishment), that is, it is after seeing the punishment that these people are confessing to the true faith, but a declaration of faith at this late hour is not acceptable and trustworthy with Allah. It appears in Hadith: یَقبَلِ اللہ توبۃ العبد مالم یغرغر (Allah accepts the taubah [ repentance ] of the servant before the agony and rattle of death overtakes him). (Ibn Kathir) Similarly, once Divine punishment has come face to face, no…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 84–85

113 "The standing Law of AIlah" : the Law that repentance and faith are beneficial only till the time man is not seized by the torment of Allah or death. Believing or repenting after the torment has arrived or the signs of death have appeared, is not acceptable to Allah.

Read the full tafseer →