Al-Ghaafir 40:77

Al-Ghaafir · from ayah 77

40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ ۚ— فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ۟فَاصۡبِرۡ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ الَّذِىۡ نَعِدُهُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيۡنَا يُرۡجَعُوۡنَ

تو (اے پیغمبر) صبر کرو خدا کا وعدہ سچا ہے۔ اگر ہم تم کو کچھ اس میں سے دکھادیں جس کا ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں۔ (یعنی کافروں پر عذاب نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So be patient, [O Muhammad]; indeed, the promise of Allah is truth. And whether We show you some of what We have promised them or We take you in death, it is to Us they will be returned.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 8 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:77

پس اے نبیؐ، صبر کرو، اللہ کا وعدہ برحق ہے اب خواہ ہم تمہارے سامنے ہی اِن کو اُن برے نتائج کا کوئی حصہ دکھا دیں جن سے ہم اِنہیں ڈرا رہے ہیں، یا (اُس سے پہلے) تمہیں دنیا سے اٹھا لیں، پلٹ کر آنا تو اِنہیں ہماری ہی طرف ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو (اے پیغمبر) صبر کرو خدا کا وعدہ سچا ہے۔ اگر ہم تم کو کچھ اس میں سے دکھادیں جس کا ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں۔ (یعنی کافروں پر عذاب نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں تو ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس آپ صبر کریں اللہ کا وعده قطعاً سچا ہے، انہیں ہم نے جو وعدے دے رکھے ہیں ان میں سے کچھ ہم آپ کو دکھائیں یا (اس سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں، ان کا لوٹایا جانا تو ہماری ہی طرف ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر !) تم صبر سے کام لو۔ یقین رکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اب ہم ان (کافروں کو) جس (عذاب) سے ڈرا رہے ہیں، چاہے اس کا کچھ حصہ ہم تمہیں بھی (تمہاری زندگی میں) دکھلا دیں، یا تمہیں دنیا سے اٹھالیں، بہر صورت ان کو ہمارے پاس ہی واپس لایا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے، تو اگر ہم تمہیں دکھادیں کچھ وہ چیز جس کا انہیں وعدہ دیا جاتا ہے یا تمہیں پہلے ہی وفات دیں بہرحال انہیں ہماری ہی طرف پھرنا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس آپ صبر کیجئے بے شک اﷲ کا وعدہ سچّا ہے، پھر اگر ہم آپ کو اس (عذاب) کا کچھ حصّہ دکھا دیں جس کا ہم اُن سے وعدہ کر رہے ہیں یا ہم آپ کو (اس سے قبل) وفات دے دیں تو (دونوں صورتوں میں) وہ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس صبر کر، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے، پھر اگر کبھی ہم واقعی تجھے اس کا کچھ حصہ دکھادیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا تجھے اٹھا ہی لیں تو یہ لوگ ہماری ہی طرف لوٹائے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس (اے نبی !) آپ صبر کیجئے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے، ہم نے جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا ہے، ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ ہم آپ کو (آپ کی زندگی میں ہی) دکھا دیں یا آپ کو اٹھا لیں (اور انہیں بعد میں عذاب دیں) آخر انہیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس ثابت قدیم رہو، بیشک اللہ کا وعدہ شدنی ہے۔ یا تو ہم تم کو اس کا کچھ حصہ، جس کی ان کو وعید سنا رہے ہو، دکھا دیں گے یا تم کو وفات دیں گے پس ان کی واپسی ہماری طرف ہو گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے پھر اگر ہم دکھا دیں آپ کو (اے پیغمبر !) کچھ حصہ اس عذاب کا جس سے ہم ان لوگوں کو ڈرا رہے ہیں یا آپ کو اس سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لیں تو (اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ) ان سب نے تو بہرحال ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

سو آپ صبرکیجئے بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے پھر جس کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں اگر اس میں سے کچھ تھوڑا ہم آپ کو دکھلا دیں یا آپ کو وفات دے دیں سو (بہرحال) ہمارے ہی پاس انہیں آنا ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ صبرکیجیے یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے تو اگر ہم آپ ﷺ کو دکھا دیں اس میں سے کچھ جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اے پیغمبر ! صبر کرو اللہ کا وعدہ سچا ہے اگر ہم تم کو کچھ اس میں سے دکھا دیں جس کا ہم تم سے وعدہ کرتے ہیں یعنی کفار پر عذاب نازل کریں یا تمہاری زندگی کا وقت پورا کردیں تو ان کو ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So be patient, (O Prophet). Surely Allah's promise is true. Whether We show them a part of the woeful consequences against which We warn them (while you are still in their midst) or We recall you (from this world) before that, eventually it is to Us that they shall be brought back.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Therefore, be patient. Surely, Allah‘s promise is true. Then, (O Prophet,) whether We show you (in your life) a part of the promise We are making to them, or make you die (before they are punished), in any case they have to be returned to Us.

— Muhammad Taqi Usmani

Therefore, be patient. Surely, Allah‘s promise is true. Then, (O Prophet,) whether We show you (in your life) a part of the promise We are making to them, or make you die (before they are punished), in any case they have to be returned to Us.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So be patient, verily, the promise of Allah is true and whether We show you some part of what We have promised them, or We cause you to die, then still it is to Us they all shall be returned.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then have patience (O Muhammad). Lo! the promise of Allah is true. And whether we let thee see a part of that which We promise them, or (whether) We cause thee to die, still unto Us they will be brought back.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So be patient, [O Muhammad]; indeed, the promise of Allah is truth. And whether We show you some of what We have promised them or We take you in death, it is to Us they will be returned.

— Saheeh International

(Muhammad), exercise patience. The promise of God is true. Whether We let you witness the suffering with which they were threatened or because of your death (you do not see them suffering,), We shall still punish them when they return to Us (on the Day of Judgment).

— Muhammad Sarwar

So be patient, surely the promise of Allah is true. So should We make you see part of what We threaten them with, or should We cause you to die, to Us shall they be returned.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore persevere thou; verily the promise of Allah is true; then whether We let thee see a part of that wherewith We have promised them, or whether We cause thee to die, Unto us they all will be caused to retvtn.

— Abdul Majid Daryabadi

So persevere in patience; for the Promise of Allah is true: and whether We show thee (in this life) some part of what We promise them,- or We take thy soul (to Our Mercy) (before that),-(in any case) it is to Us that they shall (all) return.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:77

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–78

اللہ کے وعدے قطعاً حق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو صبر کا حکم دیتا ہے کہ جو تیری نہیں مانتے تجھے جھوٹا کہتے ہیں تو ان کی ایذاؤں پر صبر و برداشت کر۔ ان سب پر فتح و نصرت تجھے ملے گی۔ انجام کار ہر طرح تیرے ہی حق میں بہتر رہے گا۔ تو اور تیرے یہ ماننے والے ہی تمام دنیا پر غالب ہو کر رہیں گے، اور آخرت تو صرف تمہاری ہی ہے، پس یا تو ہم اپنے وعدے کی بعض چیزیں تجھے تیری زندگی میں دکھا دیں گے، اور یہی ہوا بھی، بدر والے دن کفار کا دھڑ اور سر توڑ دیا گیا قریشیوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ بالاخر مکہ فتح ہوا اور آپ دنیا سے رخصت نہ ہوئے جب تک کہ تمام جزیرہ عرب آپ کے زیر نگیں نہ ہوگیا۔ اور آپ کے دشمن آپ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 76–77

سورة الْمُؤْمِن 105 یعنی جو لوگ جھگڑالو پن سے تمہارا مقابلہ کر رہے ہیں اور ذلیل ہتھکنڈوں سے تمہیں نیچا دکھانا چاہتے ہیں ان کی باتوں اور ان کی حرکتوں پر صبر کرو۔ سورة الْمُؤْمِن 106 یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم ہر اس شخص کو جس نے تمہیں زک دینے کی کوشش کی ہے اسی دنیا میں اور تمہاری زندگی ہی میں سزا دے دیں۔ یہاں کوئی سزا پائے یا نہ پائے، بہرحال وہ ہماری گرفت سے بچ کر نہیں جاسکتا۔ مر کر تو اسے ہمارے پاس ہی آنا ہے۔ اس وقت وہ اپنے کرتوتوں کی بھر پور سزا پالے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–78

(آیت) فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ الآیة۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے، کہ رسول اللہ ﷺ خوشی کے ساتھ اس کے منتظر تھے کہ کافروں کو عذاب ملے۔ اس لئے آپ کی تسلی کے لئے اس آیت میں یہ فرمایا کہ آپ ذرا صبر کریں، اللہ نے جو وعدہ ان کے لئے عذاب کا کیا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔ خواہ آپ کی حیات ہی میں یا آپ کی وفات کے بعد۔ کافروں کے عذاب کا انتظار بظاہر شان رحمة اللعالمین کے منافی ہے لیکن مجرمین کو سزا دینے سے مقصد غیر مجرم مومنین کو جن پر ظلم کیا گیا تھا تسلی دینا ہو تو مجرموں کو سز ا، شفقت و رحمت کے منافی نہیں۔ کسی مجرم کو سزا دینا کسی کے نزدیک بھی رحمت کے خلاف نہیں سمجھا جاتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ ان لوگوں کی ان حرکتوں پر صبر کرو۔ جس عذاب کی دھمکی ان کو دی جا رہی ہے، اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو وہ لازماً ظہور میں آ کے رہے گا۔ یا تو تمہاری زندگی ہی میں اس کا کچھ حصہ ظہور میں آئے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو بالآخر انہیں ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے، ہم آخرت میں ان کو اس کا مزا چکھائیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو قسم کے عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک وہ عذاب جو اسی دنیا میں پیش آتا ہے اگر قوم رسول کی تکذیب کردیتی ہے اور دوسرا وہ عذاب جس سے آخرت میں سابقہ پیش آئے گا۔ یہاں ’ بعض الذی نعدھم ‘ سے اسی دنیا کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

77۔ 1 کہ ہم کافروں سے انتقام لیں گے۔ یہ وعدہ جلدی بھی پورا ہوسکتا ہے یعنی دنیا میں ہی ہم ان کی گرفت کرلیں گے یا حسب مشیت الٰہی تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی قیامت والے دن ہم انہیں سزا دیں۔ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ یہ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔ 77۔ 2 یعنی آپ کی زندگی میں ان کو مبتلائے عذاب کردیں چناچہ ایسا ہی ہوا اللہ نے کافروں سے انتقام لے کر مسلمانوں کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا جنگ بدر میں ستر کافر مارے گئے 8 ہجری میں مکہ فتح ہوگیا اور پھر نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی پورا جزیرہ عرب مسلمانوں کے زیر نگیں آگیا۔ 77۔ 3 یعنی اگر کافر دنیاوی مواخذہ و عذاب سے بچ بھی گئے تو آخر میرے پاس ہی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 74–77

19: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس وقت جھوٹ بول جائیں گے، اور یہ کہیں گے کہ ہم نے کبھی شرک کا ارتکاب نہیں کیا، جیسا کہ سورة انعام : 23 میں مذکور ہے۔ اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ اس وقت وہ یہ اعتراف کریں گے کہ جن بتوں وغیرہ کو ہم دنیا میں پکارا کرتے تھے، اب ہمیں پتہ چل گیا کہ وہ کوئی حقیقی چیز نہیں تھے، اور ہم کسی حقیقی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 77 یہ ایک جھلک ہے ، ہمیں چاہئے کہ ذدا اس پر غور کریں۔ رسول اللہ ﷺ اس دور میں مخالفین کی جانب سے کبر ، اذیت ، تکذیب اور نافرمانی کی اذیت جھیل رہے تھے۔ آپ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ کے فرائض یہ ہیں ، بس آپ ان تک اپنے آپ کو محدود کردیں ، رہے نتائج تو ان کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے یہاں تک کہ وہ مکذبین اور متکبرین کو اس دنیا میں سزا پاتے دیکھنے کی خواہش بھی یہ رکھیں۔ آپ کا فرض ہے کہ آپ حکم بجا لائیں ، اپنافریضہ ادا کردیں ، کیونکہ انجام تک کسی بات کو پہنچانا یہ داعی کا کام نہیں ہے۔ یہ اللہ کے اختیار میں ہے ، اور وہ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ الہہ العالمین ! کس قدر بلند مقام ہے یہ ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اللہ نے ان کو عذاب دینے کا جو وعدہ فرمایا ہے، وہ یقینا پورا ہو کر رہے گا۔ ممکن ہے کوئی وعدہ آپ کی موجودگی میں پورا ہو (جیسا کہ " بدر " اور " فتح مکہ " وغیرہ میں ہوا) یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد۔ بہرحال یہ ہم سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ سب کا انجام ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اس زندگی کے بعد عذاب کی تکمیل اس زندگی میں ہوگی۔ چھٹکارا کسی صورت سے نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 77 { فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ} ”تو اے نبی ﷺ ! آپ صبرکیجیے ‘ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے۔“ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کا دین ضرور غالب ہوگا : { مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی } طٰہ ”ہم نے یہ قرآن آپ ﷺ پر اس لیے تو نازل نہیں کیا کہ آپ ﷺ ناکام ہوجائیں“ معاذ اللہ ! { فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ } ”تو اگر ہم آپ ﷺ کو دکھا دیں اس میں سے کچھ جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں“ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آچکا ہے کہ جس عذاب کے بارے میں انہیں خبردار کیا جا رہا ہے وہ ان پر آپ ﷺ کی زندگی میں بھی آسکتا ہے اور یہ بھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

98 کفار مکہ پر عذاب کی تین صورتیں :۔ یعنی یہ کفار مکہ جو آپ کو ستا رہے ہیں اور اسلام کی راہ روکنا چاہتے ہیں ان کے متعلق اللہ کے عذاب کا وعدہ پورا ہونا ہی ہے۔ اور اس کی تین صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کے جیتے جی ان پر عذاب آئے۔ جیسا کہ جنگ بدر، جنگ احزاب اور فتح مکہ کے وقت کافروں کی رسوائی ہوئی۔ دوسری صورت یہ کہ اس عذاب کا کچھ حصہ آپ کی زندگی کے بعد ان پر آئے۔۔ اور اس سے مرادوہ جنگیں ہیں جو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ اور سیدنا عمر نے مرتدین، ملحدین اور کافروں سے لڑیں اور اسلام کا پوری طرح بول بالا ہوا اور کافروں اور کفر کو رسوائی نصیب ہوئی۔ اور تیسری اور حتمی صورت یہ ہے کہ آخر مرنے کے بعد انہوں نے ہمارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

73۔ مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ عذاب کا وعدہ تو ان کافروں سے مطلق صورت میں ہے کہ کفر فی نفسہ موجب تعذیب ہے۔ باقی اگر اس میں کچھ عذاب کا نزول آپ کی حیات ہی میں دنیا میں ان پر ہوجائے یا ان نزول کے قبل ہی آپ کی وفات ہو اور عذاب بعد میں نازل ہو یا نہ ہو، ہر حال میں اور ہر احتمال پر انہیں لوٹناتو اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور اس وقت یقیناً عذاب واقع ہوگا۔ (آیت) ” ان وعداللہ حق “۔ وعدہ سے مراد وعید عذاب ہے۔ (آیت) ” فاما “۔ مازائد شرط کے موقع پر تاکید کلام کے لئے ہے۔ اور نون ثقیلہ بھی اسی لئے ہے۔ وما مزیدۃ لتوکیدمعنی الشرط (مدارک) وما زائدۃ للتوکید وکذا النون (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–78

آیت نمبر 69 تا 78 ترجمہ : کیا آپ نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں قرآن میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان سے کہاں پھرے چلے جارہے ہیں ؟ جن لوگوں نے کتاب قرآن کو اور اس توحید اور بعث بعد الموت کو بھی جس کو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا جھٹلایا اور وہ کفار مکہ ہیں، سو ان کو ان کی تکذیب کی سزا (کی حقیقت) ابھی ابھی معلوم ہوا چاہتی ہے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اِذَا ہے اور زنجیریں ہوں گی (والسلاسل) کا عطف الْاغْلال پر ہے، تو وہ زنجیریں گردنوں میں ہوں گی، یا السلاسِلُ مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، یعنی ان کے پیروں میں (زنجیریں ہوں گی) یا یُسْحَبُوْنَ اس کی خبر ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاصبر ان وعد اللہ حق فاما نرینک بعض الذی نعدھم اونتوا فینک فالینا یرجعون سو آپ صبر کیجئے ‘ بلاشبہ اللہ کا وعدہ سچا ہے ‘ پس اگر ہم آپ کو (آپ کی زندگی میں) اس (عذاب و سزا) کا کچھ حصہ جس کا ہم ان (مشرکوں) کے متعلق وعدہ کر رہے ہیں ‘ دکھا دیں یا (اس سے پہلے) آپ کو وفات دے دیں ‘ بہرحال ہماری ہی طرف ان سب کو لوٹنا ہوگا ( آخرت میں ہم ان کو ضرور عذاب دیں گے) ۔ فَاصْبِرْ یعنی اے محمد ﷺ ! آپ ان مشرکوں کی ایذا رسانی پر صبر کریں۔ اِنَّ وَعْدَ اللہ حَقٌ یعنی اللہ نے آپ کو فتحیاب کرنے اور کافروں کو تباہ کرنے کا جو وعدہ کیا ہے ‘ وہ حق ہے ‘ لامحالہ پورا ہو کر رہے گا۔ فَاِمَّا۔ اِمّا اصل میں اِنْ مَا تھا ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے نبی اکرم آپ کفار کی دی گئی تکالیف پر صبر کیجیے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی فتح اور ان کی ہلاکت کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا سو اگر اس عذاب میں سے جس کا ان سے وعدہ کر رہے ہیں تھوڑا سا بدر کے دن آپ کو دکھا دیں یا اس کے دکھانے سے پہلے ہی آپ کو وفات دے دیں تو ان کو مرنے کے بعد ہمارے ہی پاس آنا ہوگا خواہ آپ ان پر نازل ہونے والا عذاب کو دیکھیں یا نہ دیکھیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فاصبر ان وعد اللہ حق : یعنی یہ لوگ جو آپ کو نیچا دکھانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، آپ ان کی ایذا پر صبر کا دامن تھامے رکھیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے (کہ ہم دنیا اور آخرت میں اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد فرماتے ہیں۔) ہاں، اس میں کچھ تاخیر ہوسکتی ہے اور اس تاخیر میں بھی ہماری کئی حکمتیں ہیں۔ ہمارا یہ وعدہ دو طرح سے پورا ہوسکتا ہے۔ (2) فاما یرینکم بعض الذین نعدھم …: ایک یہ کہ ہم آپ کو اس عذاب کا کچھ حصہ دکھا ہی دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو پھر آپ دنیا ہی میں ہماری مدد کا نقشہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور ان کا عبرتناک انجام دیکھ کر آپ کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 77–78

فاصبر ان وعد اللہ حق یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ہے۔ ہم تیرے لیے ان سے انتقام ضرور لیں گے اس دنیا میں اور آخرت میں فاما نرینک شرط کی وجہ سے محل جزم میں ہے ” ما “ تاکید کی وجہ سے زائدہ ہے اسی طرح نون بھی تاکید کے لیے ہے جزم زائل ہوگئی اور فعل منبی پر فتحہ ہوگیا۔ اوتتو فینک اس کا اس پر عطف ہے فالینا یرجعون یہ شرط کا جواب ہے ولقد ارسلنا رسلا ًمن قبلک اس آیت میں بھی نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ ان سے قبل رسولوں نے تکلیفیں پائی ہیں منھم من قصصنا علیک یعنی ہم نے ان خبریں تمہیں بتائیں اور انہوں نے اپنی قوموں سے جو کچھ حاصل کیا وہ تمہیں بتایا ومنھم من لم نقصص علیک وما کان الرسول ان یاتی یاتہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–77

5:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون (71) فی الحمیم، یعنی ان پر ہر چیز کو اتاردے گی کھال گوشت اور رگیں یہاں تک کہ وہ اس کی ایڑیوں میں چلی جائے گی یہاں تک کہ اس کے گوشت کی لمبائی ستر ہاتھ کے بقدر ہوگی، پھر اس کو دوسری کھال پہنائی جائے گی، پھر اسے آگ میں جلایا جائے گا ہر چیز ان سے تر ہوجائے گی کھال گوشت اور آنتوں میں سے۔ 6:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون “ سے مراد ہے کہ ان پر آگ کو جلایا جائے گا ” تمرحون “ (تم اتراتے تھے) یعنی تم اتراتے تھے اور اکڑتے تھے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاصْبِرْ [ تو آپ ڈٹے رہیں ] اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ [ یقینا اللہ کا وعدہ ] حَقٌّ ۚ [ بڑا پکا ہے ] فَاِمَّا [ پھر اگر ] نُرِيَنَّكَ [ ہم دکھا ہی دیں آپ کو ] بَعْضَ الَّذِيْ [ اس کا کچھ جس سے ] نَعِدُهُمْ [ ہم ڈراتے ہیں ان کو ] اَوْ نَتَـوَفَّيَنَّكَ [ یا ہم وفات ہی دیں آپ کو ] فَاِلَيْنَا [ تو ہماری طرف ہی ] يُرْجَعُوْنَ [ یہ سب لوٹائے جائیں گے ] نوٹ ۔ 2: آیت 77 ۔ میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ ان کی حرکتوں پر صبر کرو ۔ جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے ۔ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی تو وہ لازما ظہور میں آکر رہے گا ، یا تو تمہاری زندگی میں ہی اس کا کچھ حصہ ظہور میں آئے گا اور اگر ایسا نہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 69–77

دوزخیوں کا طوقون اور زنجیروں میں گھسیٹا جانا، دوزخ میں داخل ہونا اور ان سے یہ سوال ہونا کہ تمہارے باطل معبود کہاں ہیں اوپر چند آیات کا ترجمہ ذکر کیا گیا ہے اولاً ان لوگوں کی وعید ذکر فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑے بازی کرتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور اللہ کے پیغام کو جھٹلاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ عنقریب اپنی سزا کو جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی اسی حالت میں فرشتے انہیں گھسیٹتے ہوئے کھولتے ہوئے پانی میں لے جائیں گے پھر یہ لوگ آگ میں جھونک دئیے جائیں گے وہاں ان سے دریافت کیا جائے گا کہ اللہ کے سوا تم نے جو معبود بنا رکھے تھے وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–78

حیرت واستعجاب بر جدال مجادلین ومکذبین ووعید از غذاب آخرت : قال اللہ تعالیٰ : الم تر الی الذین یجادلون ...... الی ...... وخسرھنا لک المبطلون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور دلائل قدرت کا ذکر فرما کر کفر ونافرمانی اور شرک پر وعید وتنبیہ فرمائی تھی اور یہ کہ فطرت اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ خدائے وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لائے، اب ان آیات میں جدال وخصومت کرنے والے منکرین پر تعجب وحیرت کا اظہار فرمایا جارہا ہے، اور بتایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کا حال جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، عجیب بات ہے یہ کہاں بھٹک رہے ہیں بیشک جن لوگوں نے اس کتاب یعنی قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

71:۔ ” فاصبر ان وعدہ اللہ حق “۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی کا اعادہ ہے۔ آپ مشرکین کی ایذاؤں پر صبر کریں آخر کار غلبہ آپ ہی کو نصیب ہوگا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو برحق ہے اور اپنے وقت پر ضرور پورا ہوگا۔ ” فاما نرینک الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ہمارا وعدہ ہے کہ آپ غالب و منصور ہوں گے اور آپ کے دشمن مغلوب و مقہور۔ اب ہم آپ کی زندگی ہی میں آپ کے دشمنوں کو بعض موعودہ سزا دے دیں گے اور آپ بچشم خود دنیا ہی ملاحظہ فرما لیں گے جیسا کہ جنگ بدر وغیرہ میں تقل اور قید و بند۔ اور اگر ہم ان کو سزا دینے سے پہلے ہی آپ کو وفات دے دیں تو آخرت میں ان کو سزا دیں گے کیونکہ وہ ہمارے پاس واپس آئیں گے اور میدان حشر میں ہمارے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–78

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں میں انسانی تخلیق کے مختلف ادوار کا بیان ہوا زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنانے کا تذکرہ ہوا ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور پاکیزہ روزی عطا کی اور ساتھ یہ بھی کہ موت وحیات کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی تلقین کی کہ ان دلائل قدرت میں غور وفکر کے توحید الہی کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ ّ (آیات الہی میں جھگڑا) اب آج کے درس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ واضح نشانیوں کے باوجود یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ۝ 0 ۚ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَـوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ۝ 77 صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 77–78

ترکیب : فا ما ان شرطیۃ وما مزیدۃ لتاکید الشرط فالینا یرجعون جواب نتوفینک و جواب نرینک محذوف مثل فذاک ویمکن ان یکون جوابا لھما بمعنی ان نعذبھم فی حیاتک اولم نعذبھم فانا نعذبھم فی الآخرۃ اشد العذاب ویدل علیٰ شدتہ الاقتصار بذکر الرجوع فی ھذا المعرض بیضاوی۔ تفسیر : اول اس سورة سے لے کر یہاں تک آیات اللہ میں جھگڑنے والوں کی برائی اور ان کے طریقہ کی مذمت تھی، اس جگہ اپنے رسول کو ان کی ایذائوں پر صبر کرنے کا حکم دیتا ہے اور منکروں کو ایک آنے والی مصیبت سے خبردار کرتا ہے کہ آپ صبر کیجئے، کیونکہ اگر آپ کی زندگی میں کفار کو بعض آنے والی مصیبت دکھاویں جیسا کہ بدر کے روز کا معاملہ تو فھو المراد آپ بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ فَاِمَّا نُرِیَنَّـکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَفَّیَنَّـکَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ ۔ (المؤمن : 77) (پس اے نبی صبر کیجیے، بیشک اللہ کا وعدہ برحق ہے، یا تو ہم آپ کو اس کا کچھ حصہ جس کی ہم ان کو وعید سنا رہے ہیں، دکھا دیں گے اور یا ہم آپ کو وفات دے دیں گے، پھر وہ ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ قریش اور دیگر مخالفین جس طرح آپ کی ایذارسانی میں روزبروز شدت اختیار کرتے جارہے ہیں آپ اس سے ہرگز غمزدہ نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق اور ہو کے رہنے والا ہے۔ مراد اس وعدے سے دنیا میں آنے والا وہ عذاب ہے جو تکذیبِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 77–78

فہم القرآن ربط کلام : ٹھوس دلائل اور پُر خلوص کوشش کے ساتھ سمجھانے کے باوجود جو لوگ نصیحت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اے نبی ﷺ آپ کو صبر سے کام لینا اور اپنے رب کے حکم کا انتظار کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ اپنا کام اور آرام چھوڑ کر دن، رات اس کوشش میں لگے رہتے کہ لوگ ہدایت پاجائیں۔ لیکن آپ کے مخاطب ہدایت حاصل کرنے کی بجائے آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں پر ہر قسم کی زیادتیاں کرتے۔ جس پر آپ ﷺ کو رنج پہنچتا اور آپ سوچتے کہ یہ کیسے ناہنجار لوگ ہیں کہ میں کسی مفاد کے بغیر ان کے لیے رات، دن ایک کیے ہوئے ہوں۔ لیکن یہ ” اللہ “ کا قرآن سمجھنے کی بجائے اس سے مزید دور ہورہے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وہ ہمارے ہاں حاضر ہیں : فَاصْبِرْ (پس آپ صبر کیجیے) اے محمد ﷺ ، اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ (بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ) ہلاکت کفار کے سلسلہ میں، حق (سا ہے) بہر صورت ہونے والا ہے۔ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ (پھر اس میں سے تھوڑا سا اگر دکھلا دیں) یہ اصل میں فان نریک ہے اور ما اس پر زائدہ ہے تاکہ معنی شرط میں تاکید ہوجائے۔ اسی لیے نون تاکید بھی فعل کے ساتھ برائے تاکیدل لگا دیا گیا۔ جیسا تم نہیں کہتے ہو۔ ان تکرمنی اکرمک۔ لیکن۔ اما تکرمنی اکرمک۔ کہتے ہیں۔ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَـوَفَّيَنَّكَ فَاِلَيْنَا يُرْجَعُوْنَ (جو ہم وعدہ کر رہے ہیں یا ہم وفات دیدیں پس ہمارے ہی پاس ان کو آنا ہوگا) یہ جزاء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 77–78

(76۔ 77) ۔۔۔۔۔۔ ، ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبیرین فاصبران وعداللہ ، آپ کی مدد کرنے کا۔ ، حق فامانرینکم بعض الذی نعدھم، آپ کی زندگی میں عذاب کا۔ ، اونتوفینک ، ان پر عذاب نازل کرنے سے پہلے۔ ، فالینا یرجعون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–78

69۔ 78۔ مشرکین مکہ یوں تو سارے قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتے تھے لیکن حشر اور قیامت کا ذکر جن آیتوں میں ہوتا تھا یا جن آیتوں میں شرک کی مذمت ہوتی تھی خاص کر ایسی آیتوں میں یہ لوگ بڑا جھگڑا کیا کرتے تھے اللہ نے اوپر کی آیتوں میں انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا تاکہ ان مشرکوں کی سمجھ میں آجائے کہ حضرت آدم کی پیدائش تو حشر کے نمونہ کے طور پر ہے کہ خاک کا پتلا بنایا گیا اور اس پتلے میں پھر روح پھونک دی گئی اور اولاد آدم کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت جتلانے کے لئے حشر کے نمونہ سے بھی مشکل طریقہ کو اختیار فرمایا ہے کہ مٹی کے اثر سے طرح طرح کے اناج اور ترکاریاں اور کھانے کی چیزیں پیدا ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 77 (فاصبر) اے رسول ! آپ کو دعوت دینے پر اپنی قوم کی طرف سے جو تکالیف پہنچی ہیں اس پر صبر کیجیے اور اپنے صبر پر اپنے ایمان سے مدد لیجیے : (ان وعد اللہ حق) ” بیشک اللہ کا وعدہ حق ہے۔ “ وہ اپنے دین کی مدد اور اپنے کلمے کو غالب کرے گا اور اپنے رسولوں کو دنیا و آخرت میں اپنی نصرت سے نوازے گا، نیز دنیا و آخرت میں اپنے دشمنوں پر عذاب کے وقوع سے بھی صبر میں مدد لیجیے، اس لئے فرمایا : (آیت) ” یعنی اگر ہم نے دنیا ہی میں ان کے عذاب کا کچھ حصہ آپ کو دکھا دیا جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں (آیت) ” یا ان کو سزا دینے سے پہلے آپ کو اپنے پاس بلا لیا (آیت) ” تو ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ “ تو پھر ہم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–85

دعا ہی عبادت ہے قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

142 صبر وسیلہ ظفر۔ وباللہ التوفیق : سو پیغمبر کو خطاب کر کے صبر و ثبات کی تعلیم و تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " پس آپ ﷺ صبر ہی سے کام لیتے رہیں "۔ ان تکلیفوں اور ایذا رسانیوں پر جو آپ ﷺ کو ان ناہنجاروں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں کہ اس سے آپ ﷺ کے اجر وثواب اور مرتبہ و مقام میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا اور یہ لوگ اپنے کیفر کردار کو خود پہنچ کر رہیں گے۔ اگر یہ باز نہ آئے اپنے کفر و انکار سے کہ کفر و انکار اور حق سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ و انجام بہرحال دائمی عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں پیغمبر کے لیے تسلی ہے کہ آپ ان لوگوں کی حرکتوں پر صبر ہی سے کام لیں۔ یہ لوگ وقت آنے پر اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–85

جھٹلانے والوں کا انجام تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–78

رکوع نمبر 8: آیات 69 ۔ تا۔ 78: اسرار و معارف ؛ ذرا ان لوگوں کو دیکھ جو ایسے عظیم پروردگار کے احکام کا انکار کرتے ہیں بلکہ اپنی خرافات کو درست منوانے پہ زور لگا رہے ہیں یہ کس قدر گمراہ ہیں اور بھٹک رہے ہیں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کا انکار کرتے ہیں جس میں جو کچھ ارشاد ہے سراسر حق ہے اور یونہی پھینک نہیں دی اللہ نے اپنا رسول مبعوث فرمایا کتاب کے ساتھ کہ اس کی شرافت نیکی اور ورع تقوی مثالی ہے مگر انہیں کچھ اثر نہیں تو اس کا نتیجہ بھی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گا جب ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ کے کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا اور پھر دوزخ کے بھڑکتے شعلوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 76–77

ف 8 یعنی یہ لوگ جو آپ ﷺ کو نیچا دکھانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ان سے بےچین نہ ہوں بلکہ آنے والے وقت کا صبر سے انتظار کریں۔9” وہ ایک نہ ایک دن ضرور پورا ہو کہ رہے گا “ وعدہ سے مراد کافروں سے انتقام کا وعدہ ہے دنیا یا آخرت میں۔10 یعنی آپ ﷺ کے جیتے جی اس وعدہ کو پورا کردیں تو آپ ﷺ اپنی آنکھوں سے دیکھ ہی لیں گے۔11 وہاں یہ وعدہ پورا ہوجائے گا اور یہ سخت عذاب میں پکڑے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:77) فاصبر : ای فاصبر یا محمد ﷺ فاما : اما اصل میں ان شرطیہ اور ما (زائدہ) سے مرکب ہے پس اگر ۔ ما زائدہ شرط کے موقع پر تاکید کلام کے لئے آتا ہے۔ نرینک : مضارع تاکید بانون ثقیلہ جمع متکلم اراء ۃ (افعال) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ہم تجھے دکھادیں۔ بعض الذی نعدہم : مفعول ثانی نرین کا۔ (اس عذاب کا) کچھ حصہ جس کا ہم نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے۔ نعدہم : مضارع جمع متکلم وعد (باب ضرب) مصدر سے۔ ہم ضمیر مفعول جسمع مذکر غائب۔ ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں۔ یہاں شئے معہود قتل و عذاب ہے اس کے بعد الفاظ فی الدنیا محذوف ہیں۔ او نتوفینک او حرف عطف بمعنی یا۔ (بمعنی خواہ یہاں تک۔ مگر، جبکہ، اگرچہ، کیا۔ مختلف…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–78

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–77

مشرکوں کی ہٹ دھرمی۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنے رسول ﷺ سے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ باوجود اس طرح تفصیل سے سمجھانے کے بھی یہ مشرک لوگ کس طرح کی ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں پھر فرمایا کہ کہ ابھی ان مشرکوں کو اس ہٹ دھرمی کے جھگڑوں کا انجام کچھ نہیں معلوم ہوتا، جس وقت اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کے جرم میں ان لوگوں کو مجرموں کی طرح طوق اور زنجیر میں جکڑ کر دوزخ میں ڈالاجائے گا اس وقت ان کو اس ہٹ دھرمی کی سب حقیقت کھل جائے گی پھر فرمایا کہ جن بتوں کی مذمت سے چڑ کر یہ لوگ آج اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں کل قیامت کے دن جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 75–78

[26] مشرکین مکہ نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم تم کو اللہ کا رسول اس وقت مانیں گے جب تم ہمیں فرمائشی معجزہ دکھاؤ گے۔ اس کا جواب ان کے مطالبے کو نقل کئے بغیر یہاں دیا گیا ہے۔ [27] مطلب یہ ہے کہ معجزہ ایک فیصلہ کن چیز ہے اور اس کے دکھائے جانے کے بعد جب کوئی قوم ایمان نہیں لاتی تو پھر وہ ختم کردی جاتی ہے۔ لہذا کفار کا فرمائشی معجزوں کا تقاضا کرنا خود اپنی شامت کو بلانا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: غرض یہ ہے کہ آپ مطمئن رہیں آپ کے مخالفین یقینا عذاب میں گرفتار ہونگے ۔ کیونکہ یہ مقدرات میں سے ہے ۔ کہ جو لوگ حق اور فطرت کی مخالفت کریں گے ان سے انتقام لیا جائے گا ۔ اور دنیا میں بھی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ صداقت کی مخالفت آسان نہیں ہے ۔ اس کے بہت زیادہ تلخ اور ناقابل برداشت نتائج ہوسکتے ہیں ۔ او نتوفینک سے مراد تشکیک وتردید نہیں ہے ۔ کہ یا تو انہیں دنیا میں عذاب سے دو چار کیا جائے گا اور یا جب یہ لوگ ہمارے پاس لوٹ کر آئیں گے ؟ اس وقت انہیں جہنم میں جھونکا جائیگا ۔ بلکہ وہ حقیقتوں کا جمع کرنا مقصود ہے ۔ یعنی یہ بھی ہوگا کہ یہ لوگ یہاں درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں اور یہ بھی ہوگا ۔ کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(77) سواے پیغمبر آپ صبر سے کام لیجئے اور سہار کیجئے بیشک اللہ تعالیٰ کا وعدہ حق اور سچا ہے پھر جو وعدے ہم ان سے کررہے ہیں خواہ ان میں سے بعض کا وقوع آپ کو دکھلا دیں یا ان کے وقوع سے قبل ہم آپ کی عمر پوری کردیں اور آپ کو وفات دیدیں۔ بہرحال وہ ہماری ہی طرف واپس کئے جائیں گے اور ان کی بازگشت ہماری ہی طرف ہوگی۔ یہ آیت سورة یونس میں بھی گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس عذاب کا وعدہ ہم ان سے کرتے ہیں اور جس عذاب کا خوف ہم ان کو دلاتے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ ہم ان کو آپ کی زندگی میں دکھلادیں یا ہم آپ کو وفات دیدیں اس کے بعد ان پر عذاب آئے یا نہ آئے۔ بہرحال ان کو ہماری طرف لوٹنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو اپنی نگاہ میں رکھیں 77۔ یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ اے پیغمبر اسلام ! صبر کیجئے آپ کے مخالفین کو اس دنیا میں بھی عذاب میں مبتلا کرنے کا ہمارا وعدہ ہے اور آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا وعدہ کبھی غلط اور جھوٹ نہیں ہوتا بلاشبہ آپ کی موجودگی میں پورا ہوتا ہے یا آپ کی وفات کے بعد یہ کلام بطور شک نہیں بلکہ بطور تسلی ہے کیونکہ جو ہمارے ہاں طے ہے اس کے مطابق ہونا اس لیے لازم ہے۔ آپ اس عزم وجزم کے ساتھ ہمارا پیغام ان لوگوں تک پہنچاتے رہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ان سب لوگوں کو لوٹ کر ہمارے پاس جمع ہونا ہے اور یہ بھی کہ اب آپ کی نبوت و رسالت تو تا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–77

In verse 77, it was said: فَاصْبِرْ‌ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ فَإِمَّا نُرِ‌يَنَّكَ (Therefore, be patient. Surely, the promise of Allah is true. Then, whether We show you [ in your life ] a part of the promise We are making to them, or make you die [ before they are punished ], in any case they have to be returned to Us). From this verse it appears that the Holy Prophet ﷺ was hopefully waiting for the disbelievers to be punished. Therefore, it was to comfort him that he was asked to be somewhat patient about it. The promise of Allah for them, that they will be punished, will certainly be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–77

105 That is, "You should have patience at what those people say and do, who arc opposing you by disputation and wrangling and want to defeat you by mean devices." 106 That is, "It is not necessary that We should punish every such person who has tried to harm you, in this world and during yow lifetime. Whether a person receives his punishment here or not, he cannot in any case escape Ow grasp: he has to return to Us after death. Then he will receive full punishment of his misdeeds."

Read the full tafseer →