Al-Ghaafir 40:76

Al-Ghaafir · from ayah 76

40:76

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ۚ— فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَكَبِّرِیْنَ ۟اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَـنَّمَ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ

(اب) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اسی میں رہو گے۔ متکبروں کا کیا برا ٹھکانا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Enter the gates of Hell to abide eternally therein, and wretched is the residence of the arrogant."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 8 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:76

اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے، بہت ہی برا ٹھکانا ہے متکبرین کا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اب) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اسی میں رہو گے۔ متکبروں کا کیا برا ٹھکانا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(اب آؤ) جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے (اس کے) دروازوں میں داخل ہو جاؤ، کیا ہی بری جگہ ہے تکبر کرنے والے کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جاؤ، جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ، کیونکہ تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا بہت ہی برا ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے، تو کیا ہی برا ٹھکانا مغروروں کا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

دوزخ کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، سو غرور کرنے والوں کا ٹھکانا کتنا بُرا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، پس وہ تکبر کرنے والوں کی بری جگہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اب) دوزخ کے دروازوں میں سے داخل ہوجاؤ، تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ تکبر کرنے والوں کا کیسا برا ٹھکانا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جہنم کے دروازوں میں داخل ہو، اس میں ہمیشہ رہنے کے لئے۔ کیا ہی برا ٹھکانا ہے متکبروں کا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اب داخل ہوجاؤ تم سب جہنم کے دروازوں میں جہاں تم کو ہمیشہ رہنا ہے سو بڑا ہی برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا

— مولانا اسحاق مدنی

(اب) گھسو دوزخ کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ پڑے رہنے کو سو وہ برا ٹھکانا ہے متکبرین کا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اب داخل ہو جائو جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے تو یہ بہت ہی ُ برا ٹھکانہ ہے متکبرین ّکا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اب جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ اسی میں رہوگے متکبروں کا کیا برا ٹھکانا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Enter Hell now to abide in it. How woeful is the abode of those who wax proud!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Enter the gates of Jahannam to live in it forever. So, how evil is the abode of the arrogant.

— Muhammad Taqi Usmani

Enter the gates of Jahannam to live in it forever. So, how evil is the abode of the arrogant.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Enter the gates of Hell to abide therein, and (indeed) what an evil abode of the arrogant!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Enter ye the gates of hell, to dwell therein. Evil is the habitation of the scornful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Enter the gates of Hell to abide eternally therein, and wretched is the residence of the arrogant."

— Saheeh International

Enter the gates of hell to live therein forever. How terrible is the dwelling of the arrogant ones.

— Muhammad Sarwar

Enter the gates of hell to abide therein, evil then is the abode of the proud.

— Muhammad Habib Shakir

Enter ye the gates of Hell as abiders therein. Hapless is the abode of the stiff-necked.

— Abdul Majid Daryabadi

"Enter ye the gates of Hell, to dwell therein: and evil is (this) abode of the arrogant!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 69–76

کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 76–77

سورة الْمُؤْمِن 105 یعنی جو لوگ جھگڑالو پن سے تمہارا مقابلہ کر رہے ہیں اور ذلیل ہتھکنڈوں سے تمہیں نیچا دکھانا چاہتے ہیں ان کی باتوں اور ان کی حرکتوں پر صبر کرو۔ سورة الْمُؤْمِن 106 یعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم ہر اس شخص کو جس نے تمہیں زک دینے کی کوشش کی ہے اسی دنیا میں اور تمہاری زندگی ہی میں سزا دے دیں۔ یہاں کوئی سزا پائے یا نہ پائے، بہرحال وہ ہماری گرفت سے بچ کر نہیں جاسکتا۔ مر کر تو اسے ہمارے پاس ہی آنا ہے۔ اس وقت وہ اپنے کرتوتوں کی بھر پور سزا پالے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–76

(آیت) بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ۔ تفرحون۔ فرح سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہیں خوش ہونا اور مسرور ہونا۔ اور تمرحون، مرح سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں اترانا اور مال و دولت پر فخر و غرور میں مبتلا ہو کر دوسروں کے حقوق میں تعدی کرنا۔ مرح تو مطلقاً مذموم اور حرام ہے اور فرح یعنی خوشی میں یہ تفصیل ہے کہ مال و دولت کے نشہ میں خدا کو بھول کر معاصی سے لذت حاصل کرنا اور ان پر خوش ہونا یہ تو حرام و ناجائز ہے اور اس آیت میں یہی فرح مراد ہے جیسے قارون کے قصہ میں بھی فرح اسی معنے میں آیا ہے (آیت) لا تفرح ان اللہ لا یحب الفرحین۔ یعنی بہت خوش نہ ہو۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

متکبروں کا انجام یعنی ان عذر و معذرت بالکل بےسود ہے۔ یہ جہنم کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اشارہ جہنم کے ان سات دروازوں کی طرف ہے جن کی تفصیل دوسرے مقام میں ہوچکی ہے۔ ارشاد ہوگا، ان میں داخل ہو جائو اور اب اسی میں ہمیشہ رہنا ہے، کبھی اس سے نکلنے کی توقع نہ رکھنا ’ نفئس مثوی المتکبرین ‘ یہ ان سے منہ پھیر کر ارشاد ہوگا کہ کی ہی برا ٹھکانا ہوگا جو ان متبروں کے حصہ میں آئے گا !

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 74–77

19: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس وقت جھوٹ بول جائیں گے، اور یہ کہیں گے کہ ہم نے کبھی شرک کا ارتکاب نہیں کیا، جیسا کہ سورة انعام : 23 میں مذکور ہے۔ اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ اس وقت وہ یہ اعتراف کریں گے کہ جن بتوں وغیرہ کو ہم دنیا میں پکارا کرتے تھے، اب ہمیں پتہ چل گیا کہ وہ کوئی حقیقی چیز نہیں تھے، اور ہم کسی حقیقی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 69–76

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 76 { اُدْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاج } ”اب داخل ہو جائو جہنم کے دروازوں میں ‘ اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔“ { فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ } ”تو یہ بہت ہی ُ برا ٹھکانہ ہے متکبرین ّکا۔“ اب اگلی آیت میں حضور ﷺ سے خطاب کر کے آپ ﷺ کی وساطت سے تمام مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

97 تکبر کی تعریف اور متکبرین کا انجام :۔ ان دو آیات سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ قبول حق سے انکار کی سب سے بڑی وجہ تکبر ہوتی ہے۔ اور دوسری یہ کہ دوزخ میں سب سے زیادہ بھرتی متکبرین کی ہوگی۔ اور انہی باتوں کی مزید تفاصیل احادیث میں بھی ملتی ہے : 1۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی بھر بھی تکبر ہو ایک شخص کہنے لگا : ہر انسان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کی جوتی اچھی ہو۔ (کیا یہ تکبر ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : اللہ خوب صورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو یہ ہے کہ تو حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72۔ (جن کے قبول حق کی راہ میں ان کا تکبر ہی مانع رہتا ہے) (آیت) ” ابواب جھنم “ جن ہم کے دروازے متعدد ہوں گے اور ہوسکتا ہے کہ ہر ہر طبقہ کے منکرین کے لئے الگ الگ دروازہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–78

آیت نمبر 69 تا 78 ترجمہ : کیا آپ نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں قرآن میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان سے کہاں پھرے چلے جارہے ہیں ؟ جن لوگوں نے کتاب قرآن کو اور اس توحید اور بعث بعد الموت کو بھی جس کو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا جھٹلایا اور وہ کفار مکہ ہیں، سو ان کو ان کی تکذیب کی سزا (کی حقیقت) ابھی ابھی معلوم ہوا چاہتی ہے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اِذَا ہے اور زنجیریں ہوں گی (والسلاسل) کا عطف الْاغْلال پر ہے، تو وہ زنجیریں گردنوں میں ہوں گی، یا السلاسِلُ مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، یعنی ان کے پیروں میں (زنجیریں ہوں گی) یا یُسْحَبُوْنَ اس کی خبر ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبرین جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ اور ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہو ‘ وہ تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔ کَذٰلِکَ یعنی جیسے ان مشرکوں کو یا فرقۂ قدریہ کو گم کردہ راہ بنا دیا ‘ اسی طرح ان سب کافروں کو گمراہ بنا دیتا ہے کہ ان کو کسی سودمند ‘ فائدہ رساں چیز تک پہنچنے کا راستہ ہی نہیں ملتا اور راستہ مل جاتا ہے تو اس پر چلتے نہیں۔ ذٰلِکُمْ اللہ کی طرف سے گمراہ کنی اسلئے ہوئی کہ تم لوگ دنیا میں اکڑتے پھرتے تھے اور غرور کرتے تھے ‘ حالانکہ اس اکڑ اور غرور کا تم کو کوئی حق نہیں تھا ‘ یہ باطل اکڑ ہی شرک اور سرکشی تھی۔ تَمْرَحُوْنَ اٹھلا کر چلتے تھے ‘ یعنی بےجا خوشی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 75–76

(75۔ 76) تمہارے لیے دوزخ کا عذاب اس وجہ سے ہے کہ تم دنیا میں ناحق اترایا کرتے تھے اور شرک وتکبر کیا کرتے تھے۔ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہو نہ یہاں موت آئے گی اور نہ یہاں سے نکالے جاؤ گے دوزخ کفار کا برا ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا …”ادخلوا“ کی مناسبت سے ”فئس مدخل المتکبرین“ (متکبروں کے داخل ہونے کی جگہ بری) ہونا چاہیے تھا، مگر ”خلدین فیھا“ کی مناسبت سے ”فبئس مثوی المتکبرین۔ فرمایا، یعنی وہ متکبرین کے رہنے کی بری جگہ ہے۔ ”مثوی المتکبرین“ کے لفظ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جہنم میں ہمیشہ کے لئے داخل ہونے کا باعث تکبر ہے، جس نے انہیں اللہ کی آیات کو جھٹلانے پر اور ان کے بارے میں جدال پر ابھارا، جس جدال کی مذمت اس سورت کا ایک بنیادی موضوع ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–76

( الم ترالی الذین۔۔۔۔۔ ) الم ترالی الذین یجادلوں فی ایت اللہ انی یصرفون۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد مشرک ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” الذین کذبوا بالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا اکثر مفسرین نے کہا : یہ آیت قدریہ کے حق میں نازل ہوئی۔ ابن سیرین نے کہا : اگر یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی تو میں نہیں جانتا کہ یہ کس کے حق میں نازل ہوئی ؟ ابو قبیل نے کہا : میں تقدیر کو جھٹلانے والوں کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ وہی ایمان والوں سے مجادلہ کرتے ہیں۔ عقبہ بن عامر نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی “ یہ مہدوی نے ذکر کیا۔ اذا لا غلل فی اعناقھم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–77

5:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون (71) فی الحمیم، یعنی ان پر ہر چیز کو اتاردے گی کھال گوشت اور رگیں یہاں تک کہ وہ اس کی ایڑیوں میں چلی جائے گی یہاں تک کہ اس کے گوشت کی لمبائی ستر ہاتھ کے بقدر ہوگی، پھر اس کو دوسری کھال پہنائی جائے گی، پھر اسے آگ میں جلایا جائے گا ہر چیز ان سے تر ہوجائے گی کھال گوشت اور آنتوں میں سے۔ 6:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون “ سے مراد ہے کہ ان پر آگ کو جلایا جائے گا ” تمرحون “ (تم اتراتے تھے) یعنی تم اتراتے تھے اور اکڑتے تھے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اُدْخُلُوْٓا [ تم سب داخل ہو ] اَبْوَابَ جَهَنَّمَ [ جہنم کے دروازوں میں ] خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے اس میں ] فَبِئْسَ [ تو کیا ہی بری ہے ] مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ [بڑا بننے والوں کی قیام گاہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 69–77

دوزخیوں کا طوقون اور زنجیروں میں گھسیٹا جانا، دوزخ میں داخل ہونا اور ان سے یہ سوال ہونا کہ تمہارے باطل معبود کہاں ہیں اوپر چند آیات کا ترجمہ ذکر کیا گیا ہے اولاً ان لوگوں کی وعید ذکر فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑے بازی کرتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور اللہ کے پیغام کو جھٹلاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ عنقریب اپنی سزا کو جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی اسی حالت میں فرشتے انہیں گھسیٹتے ہوئے کھولتے ہوئے پانی میں لے جائیں گے پھر یہ لوگ آگ میں جھونک دئیے جائیں گے وہاں ان سے دریافت کیا جائے گا کہ اللہ کے سوا تم نے جو معبود بنا رکھے تھے وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–78

حیرت واستعجاب بر جدال مجادلین ومکذبین ووعید از غذاب آخرت : قال اللہ تعالیٰ : الم تر الی الذین یجادلون ...... الی ...... وخسرھنا لک المبطلون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور دلائل قدرت کا ذکر فرما کر کفر ونافرمانی اور شرک پر وعید وتنبیہ فرمائی تھی اور یہ کہ فطرت اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ خدائے وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لائے، اب ان آیات میں جدال وخصومت کرنے والے منکرین پر تعجب وحیرت کا اظہار فرمایا جارہا ہے، اور بتایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کا حال جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، عجیب بات ہے یہ کہاں بھٹک رہے ہیں بیشک جن لوگوں نے اس کتاب یعنی قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 75–76

70:۔ ” ذلکم بما کنتم “ یہ دردناک عذاب تمہیں اس لیے دیا جائے گا کہ دنیا میں غیر الحق (باطل) یعنی شرک اور معاصی پر خوش وخرم رہتے تھے۔ بغیر الحق وھو الشرک وعبادۃ الاوثان (مدارک ج 4 ص 65) ۔ وھو الشرک والمعاصی (روح ج 24 ص 87) ۔ اور مشرک پیشواؤں کے پیدا کردہ شبہات میں پھنس کر باطل پر مسرور و مطمئن ہو کر اکڑتے اور اتراتے تھے اور اہل حق کو حقیر جانتے تھے۔ ” ادخلوا ابواب جہنم “۔ لہذا اب جہنم کے سوا تمہارا کوئی ٹھکانا نہیں۔ اب جہنم کے ساتوں دروازوں سے جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ۔ یہ جہنم متکبرین کا کیسا ہی بد ترین ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–78

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں میں انسانی تخلیق کے مختلف ادوار کا بیان ہوا زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنانے کا تذکرہ ہوا ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور پاکیزہ روزی عطا کی اور ساتھ یہ بھی کہ موت وحیات کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی تلقین کی کہ ان دلائل قدرت میں غور وفکر کے توحید الہی کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ ّ (آیات الہی میں جھگڑا) اب آج کے درس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ واضح نشانیوں کے باوجود یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُدْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْہَا۝ 0 ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ۝ 76 دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ باب البَاب يقال لمدخل الشیء، وأصل ذلک : مداخل الأمكنة، کباب المدینة والدار والبیت، وجمعه : أَبْوَاب . قال تعالی: وَاسْتَبَقَا الْبابَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 69–76

ترکیب : اذا الاغلالظرف لیعلمون والمراد معنی الاستقبال والسلاسل جمع سلسلۃ معطوف علی الاغلال و الخبرفی اعناقہم او مبتداء خبرہ یسبحون والعائد محذوف ای یسبحون بھا و ھو علی الاول حال و قریٰ بالنصب و یسبحون بفتح الیاء ای یسبحون السلاسل۔ تفسیر : آیات الٰہیہ میں جھگڑا کرنے والوں کی پھر مذمت بیان کی جاتی ہے۔ فقال الم ترالی الذین الخ خدا تعالیٰ تعجب کے طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ! کیا آپ نے وہ لوگ نہیں دیکھے جو آیات الٰہیہ میں ناحق حجت کیا کرتے ہیں، وہ کہاں بہکے جاتے ہیں ؟ پھر فرماتا ہے وہ کون ہیں۔ الذین کذبوا بالکتابوہ ہیں کہ جنہوں نے کتاب اللہ کو جھٹلایا، عام ہے کہ قرآن مجید ہو یا اگلی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اُدْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ج فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَـکَبِّرِیْنَ ۔ (المؤمن : 76) (داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں، اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے، پس بہت برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا۔ ) تکبر کرنے والوں کا انجام تم نے جس طرح دنیا میں حق کو نظرانداز کیا اور اہل حق کی باتوں کی تضحیک کی اور اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی دعوت کو ناقابلِ اعتنا ٹھہرایا اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ جہنم کے دروازے کھلے ہیں ان میں داخل ہوجاؤ، اب ہمیشہ اسی میں رہنا ہے اور یہ توقع نہ رکھنا کہ تم اس سے کبھی نکل سکو گے۔ پھر ان سے منہ پھیر کر ارشاد ہوگا کہ کس قدر برا ٹھکانہ ہے جو ان متکبروں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 73–76

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں سے کیے جانے والے سوالات میں سے ایک سوال۔ جہنمیوں کو جہنّم میں داخل کرنے سے پہلے میدان محشر میں دوسری مرتبہ عین جہنّم کے دروازوں کے سامنے کھڑا کرکے اور تیسری دفعہ جہنّم میں جھونک دینے کے بعد دیگرسوالات کے ساتھ ہر مرحلہ پر ان سے پہلا یہ سوال ہوگا کہ دنیا میں جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا مشکل کشا سمجھ کر پکارتے تھے۔ آج وہ کہاں ہیں اور وہ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے ؟ جہنمی کہیں گے۔ مولا ہمیں تو کچھ یاد نہیں کہ وہ کون تھے۔ خوف کے مارے یہ بھی کہیں گے کہ ہم نے تو کبھی کسی کو پکارا ہی نہیں تھا۔ رب ذوالجلال کے رعب اور جہنم کے عذاب کی وجہ سے وہ سب کچھ بھول جائیں گے۔ دنیا میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اُدْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ (تم جہنم کے دروازوں میں گھسو) ، جہنم کے ساتھ تقسیم شدہ دروازے ہیں۔ جیسے ارشاد فرمایا لہا سبعۃ ابواب لکل باب منہم جزء مقسوم (الحجر :44) ۔ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا (وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے) ان کے لیے خلود کو مقدر کردیا جائے گا۔ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ (پس متکبرین کا برا ٹھکانہ ہے) جو حق سے تکبر کرنے والے تھے ان کے لیے جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

75، ذ(رح) لکم، وہ عذاب جو تم پر آیا۔ ، باکنتم تفو حون، اکڑتے تھے۔ ، فی الارض بغیر الحق وبما کنتم تمرحون، اٹھلاکرچلتے تھے۔ یعنی بےجاخوشی میں پھولے نہیں سماتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–78

69۔ 78۔ مشرکین مکہ یوں تو سارے قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتے تھے لیکن حشر اور قیامت کا ذکر جن آیتوں میں ہوتا تھا یا جن آیتوں میں شرک کی مذمت ہوتی تھی خاص کر ایسی آیتوں میں یہ لوگ بڑا جھگڑا کیا کرتے تھے اللہ نے اوپر کی آیتوں میں انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا تاکہ ان مشرکوں کی سمجھ میں آجائے کہ حضرت آدم کی پیدائش تو حشر کے نمونہ کے طور پر ہے کہ خاک کا پتلا بنایا گیا اور اس پتلے میں پھر روح پھونک دی گئی اور اولاد آدم کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت جتلانے کے لئے حشر کے نمونہ سے بھی مشکل طریقہ کو اختیار فرمایا ہے کہ مٹی کے اثر سے طرح طرح کے اناج اور ترکاریاں اور کھانے کی چیزیں پیدا ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–76

آیت 66 (آیت) ” کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ “ کیا آپ کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ (آیت) ” کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جا رہے ہیں ؟ “ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں ؟ اس کامل تو ضیح وتبین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں ؟ اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں ؟ بدترین ہے وہ چیز جو انہوں نے اپنے لئے اختیار کی اور کتاب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–85

دعا ہی عبادت ہے قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–76

140 انکار اور تکبر کا نتیجہ دائمی دوزخ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکروں اور متکبروں کو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں داخلے کا حکم کردیا جائے گا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تب ان کو حکم ہوگا کہ اب تم لوگ داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں جہاں تم کو ہمیشہ رہنا ہے "۔ جو کہ سات ہیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْئٌ مَقْسُوْمٌ } ۔ (الحجر : 44) ۔ یعنی اب تمہارے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں اب تم جہنم میں داخل ہوجاؤ جہاں تم نے ہمیشہ رہنا ہے۔ سو جہنم کے یہ دروازے تمہارے سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ اب تم داخل ہوجاؤ ان کے ذریعے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–85

جھٹلانے والوں کا انجام تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–78

رکوع نمبر 8: آیات 69 ۔ تا۔ 78: اسرار و معارف ؛ ذرا ان لوگوں کو دیکھ جو ایسے عظیم پروردگار کے احکام کا انکار کرتے ہیں بلکہ اپنی خرافات کو درست منوانے پہ زور لگا رہے ہیں یہ کس قدر گمراہ ہیں اور بھٹک رہے ہیں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کا انکار کرتے ہیں جس میں جو کچھ ارشاد ہے سراسر حق ہے اور یونہی پھینک نہیں دی اللہ نے اپنا رسول مبعوث فرمایا کتاب کے ساتھ کہ اس کی شرافت نیکی اور ورع تقوی مثالی ہے مگر انہیں کچھ اثر نہیں تو اس کا نتیجہ بھی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گا جب ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ کے کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا اور پھر دوزخ کے بھڑکتے شعلوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 76–77

ف 8 یعنی یہ لوگ جو آپ ﷺ کو نیچا دکھانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ان سے بےچین نہ ہوں بلکہ آنے والے وقت کا صبر سے انتظار کریں۔9” وہ ایک نہ ایک دن ضرور پورا ہو کہ رہے گا “ وعدہ سے مراد کافروں سے انتقام کا وعدہ ہے دنیا یا آخرت میں۔10 یعنی آپ ﷺ کے جیتے جی اس وعدہ کو پورا کردیں تو آپ ﷺ اپنی آنکھوں سے دیکھ ہی لیں گے۔11 وہاں یہ وعدہ پورا ہوجائے گا اور یہ سخت عذاب میں پکڑے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:76) مثوی المتکبرین۔ مضاف مضاف الیہ مثوی اسم ظرف مکان مفرد مثاوی جمع۔ ثوی یثوی ثواء (باب ضرب) مصدر سے۔ ٹھکانا۔ طویل وقت کے لئے ٹھرنے کا مقام ۔ فرودگاہ۔ المتکبرین : اسم فاعل جمع مذکر۔ المتکبر واحد تکبر (تفعل) مصدر۔ اللہ کو ماننے اور اس کی اطاعت سے سرتابی کرنے والا۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ تکبر اور غرور کرنے والوں کا ٹھکانا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–78

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–77

مشرکوں کی ہٹ دھرمی۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنے رسول ﷺ سے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ باوجود اس طرح تفصیل سے سمجھانے کے بھی یہ مشرک لوگ کس طرح کی ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں پھر فرمایا کہ کہ ابھی ان مشرکوں کو اس ہٹ دھرمی کے جھگڑوں کا انجام کچھ نہیں معلوم ہوتا، جس وقت اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کے جرم میں ان لوگوں کو مجرموں کی طرح طوق اور زنجیر میں جکڑ کر دوزخ میں ڈالاجائے گا اس وقت ان کو اس ہٹ دھرمی کی سب حقیقت کھل جائے گی پھر فرمایا کہ جن بتوں کی مذمت سے چڑ کر یہ لوگ آج اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں کل قیامت کے دن جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 75–78

[26] مشرکین مکہ نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم تم کو اللہ کا رسول اس وقت مانیں گے جب تم ہمیں فرمائشی معجزہ دکھاؤ گے۔ اس کا جواب ان کے مطالبے کو نقل کئے بغیر یہاں دیا گیا ہے۔ [27] مطلب یہ ہے کہ معجزہ ایک فیصلہ کن چیز ہے اور اس کے دکھائے جانے کے بعد جب کوئی قوم ایمان نہیں لاتی تو پھر وہ ختم کردی جاتی ہے۔ لہذا کفار کا فرمائشی معجزوں کا تقاضا کرنا خود اپنی شامت کو بلانا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–76

ف 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی حالت پر تبصرہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ بغیر علم و دلیل کے اللہ کی آیتوں میں میں میخ نکالتے ہیں ۔ اور بحث ومناظرہ کرتے ہیں ۔ قرآن کو جھٹلاتے ہیں اور ساری کتابوں کی تکذیب کرتے ہیں ۔ انہیں عنقریب معلوم ہوگا ۔ جب کہ ذلت ورسوائی کے گراں بار طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے ۔ اور زنجیریں ان کے پیروں میں ۔ جب یہ گھسیٹتے ہوئے گرم پانی کے چشموں کی طرف لے جائیں گے ۔ اور پھر جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ۔ تب ان سے پوچھا جائیگا ۔ کہ آج تمہارے معبودان باطل کہاں ہیں ۔ آج وہ کیوں تمہاری عقیدت مندی اور نیاز مندی کا صلہ نہیں دیتے ۔ اس وقت ان کو محسوس ہوگا کہ ہم غلطی پر تھے ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(76) جائو جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لئے اس کے دروازوں میں داخل ہوجائو سو وہ دوزخ کیا بری قرار گاہ ہے تکبر کرنے والوں کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 75–76

ف 3۔ فرح متعلق قلب کے ہے اور مرح متعلق بدن کے، خواہ لغة یا مقابلة، یعنی متاع دنیا کو اصل مقصود سمجھ کر اس کے حصول پر دل میں ایسے خوش ہوتے تھے کہ اس کے آثار ظاہر پر نمودار ہوتے تھے، جیسے چال وغیرہ میں جس کی ممانعت آئی ہے۔ ولا تمش فی الارض مرحا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جہنم میں داخل ہو جائو بغیر حق کے تکبر کرنے والوں کا یہی ٹھکانا ہے 76۔ جہنم کی ساری راہیں تمہارے لیے کھلی ہیں جس دروازے سے چاہو داخل ہو جائو اور وہاں ہمیشہ ہمشہ کے لیے رہو کیونکہ اب تو قیامت بپا ہوچکی ہے اور موت صاحب کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اب کسی کے لیے مرنا ہی کب ہے ؟ زیر نظر آیت میں (ادخلوا ابواب جھنم) کے الفاظ آئے ہیں اور اس سے قبل (فی النار یسجرون) کے ان میں کوئی تضاد نہ سمجھ لے حقیقت یہ ہے کہ اس روز بھی دوزخیوں کی کئی اقسام ہوں گی اور ہر قسم کے لوگوں کے لیے الگ الگ احکام جاری کیے جائیں گے بعض کو دوزخ میں پھینکا جائے گا ، بعض کو گھسیٹ کر پھینکا جائے گا ، بعض کو داخل ہونے کے لیے کہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–77

In verse 77, it was said: فَاصْبِرْ‌ إِنَّ وَعْدَ اللَّـهِ حَقٌّ فَإِمَّا نُرِ‌يَنَّكَ (Therefore, be patient. Surely, the promise of Allah is true. Then, whether We show you [ in your life ] a part of the promise We are making to them, or make you die [ before they are punished ], in any case they have to be returned to Us). From this verse it appears that the Holy Prophet ﷺ was hopefully waiting for the disbelievers to be punished. Therefore, it was to comfort him that he was asked to be somewhat patient about it. The promise of Allah for them, that they will be punished, will certainly be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–77

105 That is, "You should have patience at what those people say and do, who arc opposing you by disputation and wrangling and want to defeat you by mean devices." 106 That is, "It is not necessary that We should punish every such person who has tried to harm you, in this world and during yow lifetime. Whether a person receives his punishment here or not, he cannot in any case escape Ow grasp: he has to return to Us after death. Then he will receive full punishment of his misdeeds."

Read the full tafseer →