Al-Ghaafir 40:75

Al-Ghaafir · from ayah 75

40:75

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ ۟ۚذٰ لِكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡرَحُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡـتُمۡ تَمۡرَحُوۡنَ‌

یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں حق کے بغیر (یعنی اس کے خلاف) خوش ہوا کرتے تھے اور اس کی (سزا ہے) کہ اترایا کرتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[The angels will say], "That was because you used to exult upon the earth without right and you used to behave insolently.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 8 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:75

اُن سے کہا جائے گا "یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم زمین میں غیر حق پر مگن تھے اور پھر اُس پر اتراتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں حق کے بغیر (یعنی اس کے خلاف) خوش ہوا کرتے تھے اور اس کی (سزا ہے) کہ اترایا کرتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ بدلہ ہے اس چیز کا جو تم زمین میں ناحق پھولے نہ سماتے تھے۔ اور (بےجا) اتراتے پھرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان سے یہ پہلے ہی کہہ دیا گیا ہوگا کہ : یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ تم زمین میں ناحق بات پر اترایا کرتے تھے اور اس لیے کہ تم زمین میں اکڑ دکھاتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اس کا بدلہ ہے جو تم زمین میں باطل پر خوش ہوتے تھے اور اس کا بدلہ ہے جو تم اتراتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ (سزا) اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں ناحق خوشیاں منایا کرتے تھے اور اُس کا بدلہ ہے کہ تم اِترایا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اس لیے ہے کہ تم زمین میں حق کے بغیر خوش ہوتے تھے اور اس لیے کہ تم اکڑتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(پھر انہیں کہا جائے گا کہ) تمہارا یہ انجام اس وجہ سے ہے کہ کسی معقول وجہ کے بغیر زمین میں پھولے نہ سماتے تھے اور اکڑ اکڑ کر چلتے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اس سبب سے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے اور اکڑتے رہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے کہا جائے گا کہ) یہ بدلہ ہے اس کا جو تم اترایا کرتے تھے زمین میں ناحق طور پر اور اس کا جو تم اکڑا کرتے تھے (وہاں)

— مولانا اسحاق مدنی

یہ (سزا) اس کی ہے کہ تم دنیا میں ناحق خوشی مناتے تھے اور اس کی کہ تم اترایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ سب اس لیے ہوا کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس لیے بھی کہ تم اکڑا بھی کرتے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اس کا بدلہ ہے کہ تم زمین میں حق کے بغیر اس کے خلاف خوش ہوا کرتے تھے ‘ اور اس کی سزا ہے کہ اترایا کرتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

(They will be told): “This is because while you were on earth you took delight in untruth and exulted in it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(It will be said to them,) :This is because you used to rejoice on the earth wrongfully, and because you used to show arrogance.

— Muhammad Taqi Usmani

(It will be said to them,) :This is because you used to rejoice on the earth wrongfully, and because you used to show arrogance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

That was because you had been exulting in the earth without any right, and that you used to rejoice extremely.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(And it is said unto them): This is because ye exulted in the earth without right, and because ye were petulant.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[The angels will say], "That was because you used to exult upon the earth without right and you used to behave insolently.

— Saheeh International

They will be told, "This (torment) is the result of your unreasonable happiness on the earth and of your propagation of falsehood.

— Muhammad Sarwar

That is because you exulted in the land unjustly and because you behaved insolently.

— Muhammad Habib Shakir

That is because ye had been exulting in the earth without right, and because ye had been strutting.

— Abdul Majid Daryabadi

"That was because ye were wont to rejoice on the earth in things other than the Truth, and that ye were wont to be insolent.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 69–76

کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 104 یعنی تم نے صرف اتنے ہی پر اکتفا نہ کیا کہ جو چیز حق نہ تھی اس کی تم نے پیروی کی، بلکہ تم اس غیر حق پر ایسے مگن رہے کہ جب حق تمہارے سامنے پیش کیا گیا تو تم نے اس کی طرف التفات نہ کیا اور الٹے اپنی باطل پرستی پر اتراتے رہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–76

(آیت) بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ۔ تفرحون۔ فرح سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہیں خوش ہونا اور مسرور ہونا۔ اور تمرحون، مرح سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں اترانا اور مال و دولت پر فخر و غرور میں مبتلا ہو کر دوسروں کے حقوق میں تعدی کرنا۔ مرح تو مطلقاً مذموم اور حرام ہے اور فرح یعنی خوشی میں یہ تفصیل ہے کہ مال و دولت کے نشہ میں خدا کو بھول کر معاصی سے لذت حاصل کرنا اور ان پر خوش ہونا یہ تو حرام و ناجائز ہے اور اس آیت میں یہی فرح مراد ہے جیسے قارون کے قصہ میں بھی فرح اسی معنے میں آیا ہے (آیت) لا تفرح ان اللہ لا یحب الفرحین۔ یعنی بہت خوش نہ ہو۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

کبریائی صرف خدا کے لئے زیبا ہے یعنی یہ جو کچھ تمہارے سامنے آیا ہے نتیجہ ہے اس بات کا کہ تم زمین میں بلا کسی حق کے اکڑتے اور اتراتے تھے۔ دنیا میں جو چیزیں بھی تمہیں ملیں ان میں سے کوئی چیز بھی تمہاری ذاتی نہیں بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی تھی اس وجہ سے ان کا حق یہ تھا کہ تم اپنے رب کے شکر گزار اور اس کے فرمانبردار بنتے لیکن تم نے اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کو اپنا ذاتی حق سمجھا اور غرور وتکبر میں مبتلا ہو کر اکڑنے اور اترانے لگ گئے اور اس غرور میں اللہ کے ان رسولوں کی بھی تم نے توہین و تکذیب کی جنہوں نے تمہیں اصل حقیقت کی یاددہانی کرنی چاہی۔ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

75۔ 1 یعنی تمہاری یہ گمراہی اس بات کا نتیجہ ہے کہ تم کفر و تکذیب اور فسق و فجور میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ ان پر تم خوش ہوتے اور اتراتے تنے اترانے میں مزید خوشی کا اظہار ہے جو تکبر کو مستلزم ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 74–77

19: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس وقت جھوٹ بول جائیں گے، اور یہ کہیں گے کہ ہم نے کبھی شرک کا ارتکاب نہیں کیا، جیسا کہ سورة انعام : 23 میں مذکور ہے۔ اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ اس وقت وہ یہ اعتراف کریں گے کہ جن بتوں وغیرہ کو ہم دنیا میں پکارا کرتے تھے، اب ہمیں پتہ چل گیا کہ وہ کوئی حقیقی چیز نہیں تھے، اور ہم کسی حقیقی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 69–76

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی دیکھ لیا، ناحق کی شیخی اور غرور وتکبر کا انجام یہ ہوتا ہے اب وہ اکڑ فوں کدھر گئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 75 { ذٰلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ } ”اور یہ سب اس لیے ہوا کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس لیے بھی کہ تم اکڑا بھی کرتے تھے۔“ تم لوگ دنیا کے مال و متاع پر خواہ مخواہ اکٹرفوں دکھاتے تھے۔ گویا تم ہلدی کی گانٹھ مل جانے پر پنساری بن بیٹھے تھے۔ حالانکہ دنیا میں تمہارا وہ سارا مال و متاع ہمارا ہی عطا کیا ہوا تھا جس پر اترانے اور فخر جتلانے کا تمہیں کوئی حق نہیں تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 74–75

95 اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور وہ دونوں ہی درست ہیں۔ ایک جو ترجمہ سے واضح ہے کہ مشرک لوگ سب کچھ بھول بھلا کر اپنے شرک سے ہی یکسر انکار کردیں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جن چیزوں کو ہم دنیا میں پکارتے رہے فی الواقع ان کے اختیار میں کچھ بھی نہ تھا اور وہ لاشی محض تھے۔ یہ ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں کوئی چیز سمجھتے رہے۔ 96 مشرکین کی بدحواسی۔ ایک ہی سوال کے متضاد جوابات :۔ اس جملہ میں مشرکوں کی بدحواسی کا ذکر کیا گیا ہے کہ ایک ہی سوال کے مختلف اور متضاد جواب دیتے جائیں گے۔ سوال یہ تھا کہ آج وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جنہیں تم اللہ کے شریک بنایا کرتے تھے اس کا ایک جواب وہ تو یہ دیں گے کہ ہمیں تو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

71۔ (اپنی حقیقت اور حقوق الہی کو بھول کر) مطلب یہ ہوا کہ متاع دنیا کو اصل مقصود سمجھ کر اس کے حصول پر دل میں بھی خوب خوش ہوتے تھے اور ظاہر میں بھی اس کے آثار خوب نمودار ہوتے تھے۔ (آیت) ” تفرحون۔ تمرحون “۔ فرح کا تعلق قلب سے ہے اور مرح کا جسم سے۔ آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فرح یا خوشی اپنی مطلق صورت میں ممنوع ہے۔ مذمت صرف اس فرح کی وارد ہوئی ہے جو آخرت فراموشی اور خدا فراموشی کا نتیجہ ہو یا اہل ایمان کے مصائب پر بطور نعمتوں پر یا اللہ کی رحمت کو یاد کرکے ہو وہ تو بجائے خود ایک عبادت ہے اور ہر طرح سے محمود ومستحسن۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–78

آیت نمبر 69 تا 78 ترجمہ : کیا آپ نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں قرآن میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان سے کہاں پھرے چلے جارہے ہیں ؟ جن لوگوں نے کتاب قرآن کو اور اس توحید اور بعث بعد الموت کو بھی جس کو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا جھٹلایا اور وہ کفار مکہ ہیں، سو ان کو ان کی تکذیب کی سزا (کی حقیقت) ابھی ابھی معلوم ہوا چاہتی ہے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اِذَا ہے اور زنجیریں ہوں گی (والسلاسل) کا عطف الْاغْلال پر ہے، تو وہ زنجیریں گردنوں میں ہوں گی، یا السلاسِلُ مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، یعنی ان کے پیروں میں (زنجیریں ہوں گی) یا یُسْحَبُوْنَ اس کی خبر ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذلکم بما کنتم تفرحون فی الارض بغیرالحق وبما کنتم تمرحون۔ یہ (سزا) اس کے بدلے میں ہے کہ تم دنیا میں ناحق خوشیاں مناتے تھے ‘ اور اس کے بدلے میں ہے کہ تم اتراتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 75–76

(75۔ 76) تمہارے لیے دوزخ کا عذاب اس وجہ سے ہے کہ تم دنیا میں ناحق اترایا کرتے تھے اور شرک وتکبر کیا کرتے تھے۔ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہو نہ یہاں موت آئے گی اور نہ یہاں سے نکالے جاؤ گے دوزخ کفار کا برا ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ذلکم بما کنتم تفرحون فی الارض :”فرح“”خوشی سے پھول جانا“ یہ دل کی حلات کا نام ہے اور ”مرح“ ”اکڑنا“ یہ اسی خوش کے نتیجے میں اعضائے بدن سے ظاہر ہونے والے تکبر کا نام ہے ، جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں ہے :(ولا تمس فی الارض مرحاً) (بنی اسرائیل : 38) ”اور زمین میں اکڑ کر نہ چل۔“ یعنی قیامت کے دن تمہاری اس ساری رسوائی اور عذاب کا باعث دنیا میں تمہارا اپنے پاس موجود نعمتوں اور پانے دنیوی علوم پر بھول جانا، اکڑنا اور تکبر کرنا ہے، جیسا کہ آگے فرمایا :(فلما جآء تھم رسلھم بالبینت فرحوا بما عندھم من العلم) (المومن : 83) ”پھر جب ان کے رسول ان کے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس پر پھول گئے جو ان کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–76

( الم ترالی الذین۔۔۔۔۔ ) الم ترالی الذین یجادلوں فی ایت اللہ انی یصرفون۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد مشرک ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” الذین کذبوا بالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا اکثر مفسرین نے کہا : یہ آیت قدریہ کے حق میں نازل ہوئی۔ ابن سیرین نے کہا : اگر یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی تو میں نہیں جانتا کہ یہ کس کے حق میں نازل ہوئی ؟ ابو قبیل نے کہا : میں تقدیر کو جھٹلانے والوں کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ وہی ایمان والوں سے مجادلہ کرتے ہیں۔ عقبہ بن عامر نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی “ یہ مہدوی نے ذکر کیا۔ اذا لا غلل فی اعناقھم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–77

5:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون (71) فی الحمیم، یعنی ان پر ہر چیز کو اتاردے گی کھال گوشت اور رگیں یہاں تک کہ وہ اس کی ایڑیوں میں چلی جائے گی یہاں تک کہ اس کے گوشت کی لمبائی ستر ہاتھ کے بقدر ہوگی، پھر اس کو دوسری کھال پہنائی جائے گی، پھر اسے آگ میں جلایا جائے گا ہر چیز ان سے تر ہوجائے گی کھال گوشت اور آنتوں میں سے۔ 6:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون “ سے مراد ہے کہ ان پر آگ کو جلایا جائے گا ” تمرحون “ (تم اتراتے تھے) یعنی تم اتراتے تھے اور اکڑتے تھے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ذٰلِكُمْ [ یہ ] بِمَا [ اس سبب سے ہے جو ] كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ [ تم لوگ شاداں پھیرا کرتے تھے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] بِغَيْرِ الْحَقِّ [ حق کے بغیر ] وَبِمَا [ اور اس سبب سے ہے جو ] كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ [ تم لوگ اٹھلایا کرتے تھے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 75 ۔ میں تفرحون کے معنی ہیں خوش ہونا۔ مسرور ہونا ۔ جبکہ تمرحون کے معنی ہیں اترانا ۔ فخر و غرور میں مبتلا ہونا، مرح تو مطلقا حرام ہے اور فرح میں یہ تفصیل ہے کہ مال و دولت کے نشہ میں خدا کو بھول کر گناہوں پر خوش ہونا، یہ تو ناجائز ہے۔ اور فرح کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ دنیا کی نعمتوں اور راحتوں کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھ کر خوشی اور مسرت کا اظہار…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 69–77

دوزخیوں کا طوقون اور زنجیروں میں گھسیٹا جانا، دوزخ میں داخل ہونا اور ان سے یہ سوال ہونا کہ تمہارے باطل معبود کہاں ہیں اوپر چند آیات کا ترجمہ ذکر کیا گیا ہے اولاً ان لوگوں کی وعید ذکر فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑے بازی کرتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور اللہ کے پیغام کو جھٹلاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ عنقریب اپنی سزا کو جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی اسی حالت میں فرشتے انہیں گھسیٹتے ہوئے کھولتے ہوئے پانی میں لے جائیں گے پھر یہ لوگ آگ میں جھونک دئیے جائیں گے وہاں ان سے دریافت کیا جائے گا کہ اللہ کے سوا تم نے جو معبود بنا رکھے تھے وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–78

حیرت واستعجاب بر جدال مجادلین ومکذبین ووعید از غذاب آخرت : قال اللہ تعالیٰ : الم تر الی الذین یجادلون ...... الی ...... وخسرھنا لک المبطلون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور دلائل قدرت کا ذکر فرما کر کفر ونافرمانی اور شرک پر وعید وتنبیہ فرمائی تھی اور یہ کہ فطرت اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ خدائے وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لائے، اب ان آیات میں جدال وخصومت کرنے والے منکرین پر تعجب وحیرت کا اظہار فرمایا جارہا ہے، اور بتایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کا حال جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، عجیب بات ہے یہ کہاں بھٹک رہے ہیں بیشک جن لوگوں نے اس کتاب یعنی قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 75–76

70:۔ ” ذلکم بما کنتم “ یہ دردناک عذاب تمہیں اس لیے دیا جائے گا کہ دنیا میں غیر الحق (باطل) یعنی شرک اور معاصی پر خوش وخرم رہتے تھے۔ بغیر الحق وھو الشرک وعبادۃ الاوثان (مدارک ج 4 ص 65) ۔ وھو الشرک والمعاصی (روح ج 24 ص 87) ۔ اور مشرک پیشواؤں کے پیدا کردہ شبہات میں پھنس کر باطل پر مسرور و مطمئن ہو کر اکڑتے اور اتراتے تھے اور اہل حق کو حقیر جانتے تھے۔ ” ادخلوا ابواب جہنم “۔ لہذا اب جہنم کے سوا تمہارا کوئی ٹھکانا نہیں۔ اب جہنم کے ساتوں دروازوں سے جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے داخل ہوجاؤ۔ یہ جہنم متکبرین کا کیسا ہی بد ترین ٹھکانا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–78

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں میں انسانی تخلیق کے مختلف ادوار کا بیان ہوا زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنانے کا تذکرہ ہوا ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور پاکیزہ روزی عطا کی اور ساتھ یہ بھی کہ موت وحیات کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی تلقین کی کہ ان دلائل قدرت میں غور وفکر کے توحید الہی کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ ّ (آیات الہی میں جھگڑا) اب آج کے درس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ واضح نشانیوں کے باوجود یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْـرَحُوْنَ۝ 75ۚ فرح الْفَرَحُ : انشراح الصّدر بلذّة عاجلة، وأكثر ما يكون ذلک في اللّذات البدنيّة الدّنيوية، فلهذا قال تعالی: لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] ، وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] ، ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] ، (ر ح ) ا لفرح کے معنی کسی فوری یا دینوی لذت پر انشراح صدر کے ہیں ۔ عموما اس کا اطلاق جسمانی لذتوں پر خوش ہونے کے معنی میں ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 69–76

ترکیب : اذا الاغلالظرف لیعلمون والمراد معنی الاستقبال والسلاسل جمع سلسلۃ معطوف علی الاغلال و الخبرفی اعناقہم او مبتداء خبرہ یسبحون والعائد محذوف ای یسبحون بھا و ھو علی الاول حال و قریٰ بالنصب و یسبحون بفتح الیاء ای یسبحون السلاسل۔ تفسیر : آیات الٰہیہ میں جھگڑا کرنے والوں کی پھر مذمت بیان کی جاتی ہے۔ فقال الم ترالی الذین الخ خدا تعالیٰ تعجب کے طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ! کیا آپ نے وہ لوگ نہیں دیکھے جو آیات الٰہیہ میں ناحق حجت کیا کرتے ہیں، وہ کہاں بہکے جاتے ہیں ؟ پھر فرماتا ہے وہ کون ہیں۔ الذین کذبوا بالکتابوہ ہیں کہ جنہوں نے کتاب اللہ کو جھٹلایا، عام ہے کہ قرآن مجید ہو یا اگلی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ذٰلِـکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ ۔ (المؤمن : 75) (یہ اس سبب سے ہوا کہ تم زمین میں غیرحق پر خوشیاں مناتے اور اکڑتے تھے۔ ) کافروں کے جرائم کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جس انجام کو پہنچے ہو اس کا سبب کوئی ایک جرم نہیں بلکہ جرائم کی ایک فہرست ہے۔ انھیں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم نے زندگی کے جو اصول بنا رکھے تھے اور پھر ان میں جو ترجیحات قائم کر رکھی تھیں ان پر کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ سند تمہارے پاس موجود نہ تھی۔ تمہاری ہوس اور خواہشِ نفس نے جیسے تمہیں رہنمائی دی اسی کو تم نے حرف آخر جانا اور اسی کو حق قرار دے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 73–76

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں سے کیے جانے والے سوالات میں سے ایک سوال۔ جہنمیوں کو جہنّم میں داخل کرنے سے پہلے میدان محشر میں دوسری مرتبہ عین جہنّم کے دروازوں کے سامنے کھڑا کرکے اور تیسری دفعہ جہنّم میں جھونک دینے کے بعد دیگرسوالات کے ساتھ ہر مرحلہ پر ان سے پہلا یہ سوال ہوگا کہ دنیا میں جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا مشکل کشا سمجھ کر پکارتے تھے۔ آج وہ کہاں ہیں اور وہ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے ؟ جہنمی کہیں گے۔ مولا ہمیں تو کچھ یاد نہیں کہ وہ کون تھے۔ خوف کے مارے یہ بھی کہیں گے کہ ہم نے تو کبھی کسی کو پکارا ہی نہیں تھا۔ رب ذوالجلال کے رعب اور جہنم کے عذاب کی وجہ سے وہ سب کچھ بھول جائیں گے۔ دنیا میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ذٰلِكُمْ (یہ) عذاب جو تم پر نازل ہوا۔ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ (اس کے بدلہ میں ہے کہ تم دنیا میں ناحق خوشیاں مناتے تھے۔ اور اس کے بدلہ میں ہے کہ تم اتراتے تھے) بما کی باء سببیہ ہے اس سبب سے کہ تم ناحق خوش ہوتے اور اتراتے تھے۔ اور ناحق اترانا شرک ہی ہے۔ اور بتوں کی پوجا بھی حرام ہے۔ پس ان کو کہا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

74، من دون اللہ، یعنی بتوں کی۔ ، قالواضلواعنا، وہ ہم سے گم ہوگئے۔ اب ہم ان کو نہیں دیکھتے۔ ، بل لم نکن لدعوامن قبل شیئا، کہا گیا ہے کہ وہ انکار کردیں گے اور کہا گیا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ بلکہ ہم اس سے پہلے کسی ایسی چیزکو نہیں پکارتے تھے جو نفع یا نقصان دیتی اور حسین بن فضل (رح) فرماتے ہیں کہ ہم اس سے پہلے کچھ نہ کرتے یعنی ہماری ان بتوں کی عبادت ضائع ہوگئی۔ جیسا کہ جس شخص کی محنت بیکار جائے وہ کہتا ہے کہ میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ، کذلک ، یعنی جیسے ان لوگوں کو گمراہ کیا۔ ، یضل اللہ الکافرین،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–78

69۔ 78۔ مشرکین مکہ یوں تو سارے قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتے تھے لیکن حشر اور قیامت کا ذکر جن آیتوں میں ہوتا تھا یا جن آیتوں میں شرک کی مذمت ہوتی تھی خاص کر ایسی آیتوں میں یہ لوگ بڑا جھگڑا کیا کرتے تھے اللہ نے اوپر کی آیتوں میں انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا تاکہ ان مشرکوں کی سمجھ میں آجائے کہ حضرت آدم کی پیدائش تو حشر کے نمونہ کے طور پر ہے کہ خاک کا پتلا بنایا گیا اور اس پتلے میں پھر روح پھونک دی گئی اور اولاد آدم کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت جتلانے کے لئے حشر کے نمونہ سے بھی مشکل طریقہ کو اختیار فرمایا ہے کہ مٹی کے اثر سے طرح طرح کے اناج اور ترکاریاں اور کھانے کی چیزیں پیدا ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–76

آیت 66 (آیت) ” کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ “ کیا آپ کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ (آیت) ” کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جا رہے ہیں ؟ “ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں ؟ اس کامل تو ضیح وتبین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں ؟ اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں ؟ بدترین ہے وہ چیز جو انہوں نے اپنے لئے اختیار کی اور کتاب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–85

دعا ہی عبادت ہے قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–76

140 انکار اور تکبر کا نتیجہ دائمی دوزخ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکروں اور متکبروں کو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں داخلے کا حکم کردیا جائے گا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تب ان کو حکم ہوگا کہ اب تم لوگ داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں جہاں تم کو ہمیشہ رہنا ہے "۔ جو کہ سات ہیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْئٌ مَقْسُوْمٌ } ۔ (الحجر : 44) ۔ یعنی اب تمہارے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں اب تم جہنم میں داخل ہوجاؤ جہاں تم نے ہمیشہ رہنا ہے۔ سو جہنم کے یہ دروازے تمہارے سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ اب تم داخل ہوجاؤ ان کے ذریعے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–85

جھٹلانے والوں کا انجام تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–78

رکوع نمبر 8: آیات 69 ۔ تا۔ 78: اسرار و معارف ؛ ذرا ان لوگوں کو دیکھ جو ایسے عظیم پروردگار کے احکام کا انکار کرتے ہیں بلکہ اپنی خرافات کو درست منوانے پہ زور لگا رہے ہیں یہ کس قدر گمراہ ہیں اور بھٹک رہے ہیں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کا انکار کرتے ہیں جس میں جو کچھ ارشاد ہے سراسر حق ہے اور یونہی پھینک نہیں دی اللہ نے اپنا رسول مبعوث فرمایا کتاب کے ساتھ کہ اس کی شرافت نیکی اور ورع تقوی مثالی ہے مگر انہیں کچھ اثر نہیں تو اس کا نتیجہ بھی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گا جب ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ کے کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا اور پھر دوزخ کے بھڑکتے شعلوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:75) ذلکم : سے اشارہ بروز قیامت کافروں کے گلوں میں طوق و زنجیر کے ہونے اور ان کو کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹنے کی طرف اور ان کو آگ میں جھونکنے کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوا ہے۔ ابن عطیہ اسی طرف گئے ہیں۔ ای ذلکم العذاب الذی انتم فیہ یعنی یہ عذاب جس میں تم اب اپنے آپ کو پا رہے ہو۔ (یہ اس لئے ہے کہ ۔۔ بما کنتم ۔۔ الخ ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اشارہ اللہ تعالیٰ کافروں کو دنیا میں ضلالت و گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دینے کی طرف ہو جو ابھی اوپر مذکور ہوا بما میں باء سببیہ ہے اور ما موصولہ ہے یہ سبب اس بات کے کہ تم ۔۔ کنتم تفرحون ۔ ماضی استمراری جمع مذکر حاضر فرح مصدر (باب سمع) الفرح کے معنی کسی فوری یا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–78

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–77

مشرکوں کی ہٹ دھرمی۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنے رسول ﷺ سے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ باوجود اس طرح تفصیل سے سمجھانے کے بھی یہ مشرک لوگ کس طرح کی ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں پھر فرمایا کہ کہ ابھی ان مشرکوں کو اس ہٹ دھرمی کے جھگڑوں کا انجام کچھ نہیں معلوم ہوتا، جس وقت اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کے جرم میں ان لوگوں کو مجرموں کی طرح طوق اور زنجیر میں جکڑ کر دوزخ میں ڈالاجائے گا اس وقت ان کو اس ہٹ دھرمی کی سب حقیقت کھل جائے گی پھر فرمایا کہ جن بتوں کی مذمت سے چڑ کر یہ لوگ آج اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں کل قیامت کے دن جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 75–78

[26] مشرکین مکہ نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم تم کو اللہ کا رسول اس وقت مانیں گے جب تم ہمیں فرمائشی معجزہ دکھاؤ گے۔ اس کا جواب ان کے مطالبے کو نقل کئے بغیر یہاں دیا گیا ہے۔ [27] مطلب یہ ہے کہ معجزہ ایک فیصلہ کن چیز ہے اور اس کے دکھائے جانے کے بعد جب کوئی قوم ایمان نہیں لاتی تو پھر وہ ختم کردی جاتی ہے۔ لہذا کفار کا فرمائشی معجزوں کا تقاضا کرنا خود اپنی شامت کو بلانا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–76

ف 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی حالت پر تبصرہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ بغیر علم و دلیل کے اللہ کی آیتوں میں میں میخ نکالتے ہیں ۔ اور بحث ومناظرہ کرتے ہیں ۔ قرآن کو جھٹلاتے ہیں اور ساری کتابوں کی تکذیب کرتے ہیں ۔ انہیں عنقریب معلوم ہوگا ۔ جب کہ ذلت ورسوائی کے گراں بار طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے ۔ اور زنجیریں ان کے پیروں میں ۔ جب یہ گھسیٹتے ہوئے گرم پانی کے چشموں کی طرف لے جائیں گے ۔ اور پھر جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ۔ تب ان سے پوچھا جائیگا ۔ کہ آج تمہارے معبودان باطل کہاں ہیں ۔ آج وہ کیوں تمہاری عقیدت مندی اور نیاز مندی کا صلہ نہیں دیتے ۔ اس وقت ان کو محسوس ہوگا کہ ہم غلطی پر تھے ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(75) یہ عذاب اس کا بدلا اور اس سبب سے ہے جو تم دنیا میں ناحق اتراتے پھرتے تھے اور نیز اس کا بدلا ہے جو تم اکڑتے پھرتے تھے۔ فرح اپنے پر ناز کرنا اور مرح تکبر سے چلنا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 75–76

ف 3۔ فرح متعلق قلب کے ہے اور مرح متعلق بدن کے، خواہ لغة یا مقابلة، یعنی متاع دنیا کو اصل مقصود سمجھ کر اس کے حصول پر دل میں ایسے خوش ہوتے تھے کہ اس کے آثار ظاہر پر نمودار ہوتے تھے، جیسے چال وغیرہ میں جس کی ممانعت آئی ہے۔ ولا تمش فی الارض مرحا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایسا کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ ان کا خوش ہونا اور اترانا بےمحل تھا 75۔ فرمایا جا رہا ہے کہ تم تو بڑے بڑے سمجھدار اور دنیا میں ایک اچھی بھلی پوزیشن رکھنے والے لوگ تھے تم کو اس عذاب سے کیوں دوچار کیا گیا ؟ اور پھر ان کو مخاطب کر کے جواب دیا جائے گا کہ اس لیے کہ تم نے دنیا میں خوش ہو کر اور اترا کر اس دن کا انکار کیا تھا کہ تم ہم کو اس طرح اس دن سے ڈراتے ہو اگر ہم ایسے ہوتے کہ ہم کو عذاب دیا جانا ہوتا تو دنیا میں جو یہ انعام واکرام ہم پر کیے جا رہے ہیں یہ کیوں ہیں ؟ اس بات نے تم کو حقیقت فراموش کردیا حالانکہ جس رب کریم نے تم پر یہ احسان کیا تھا اگر تم اس پر خوش ہو کر سیدھی راہ اختیار کرتے اور سیدھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The word: تَفْرَ‌حُونَ (tafrahun) in verse 75: (This is because you used to rejoice on the earth wrongfully, and because you used to show arrogance.) has been derived from: فَرَح (farah) which means to be happy while the word: تَمْرَ‌حُونَ (tamrahun) is from: مَرَح (marah) which means to exult unduly or to trample over the rights of others by priding on one's wealth and power. Hence, this kind of marah or undue exultation is absolutely blameworthy and Haram (unlawful). As for farah or marah, it can be explained by saying that seeking enjoyment out of sinfulness under the intoxication of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

104 That is, "You not only followed that which was untrue and false, but you became so enamoured of the untruth that when the Truth was presented before you, you paid no heed to it, but continued to exult in yow worship of the falsehood.

Read the full tafseer →