Al-Ghaafir 40:74

Al-Ghaafir · from ayah 74

40:74

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ— قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْـًٔا ؕ— كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ ۟مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا بَلْ لَّمۡ نَـكُنۡ نَّدۡعُوۡا مِنۡ قَبۡلُ شَيۡـئًـا ؕ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ الۡكٰفِرِيۡنَ

(یعنی غیر خدا) کہیں گے وہ تو ہم سے جاتے رہے بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے۔ اسی طرح خدا کافروں کو گمراہ کرتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Other than Allah?" They will say, "They have departed from us; rather, we did not used to invoke previously anything." Thus does Allah put astray the disbelievers.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 8 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:74

وہ جواب دیں گے "کھوئے گئے وہ ہم سے، بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے" اِس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کر دے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی غیر خدا) کہیں گے وہ تو ہم سے جاتے رہے بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے۔ اسی طرح خدا کافروں کو گمراہ کرتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو اللہ کے سوا تھے وه کہیں گے کہ وه تو ہم سے بہک گئے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی کو بھی پکارتے ہی نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو اسی طرح گمراه کرتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ کے سوا۔ یہ کہیں گے وہ سب تو ہم سے کھوئے گئے بلکہ ہم پہلے کسی چیز کو نہی پکارا کرتے تھے اس طرح اللہ کافروں کو بد حواس کردیتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کے مقابل، کہیں گے وہ تو ہم سے گم گئے بلکہ ہم پہلے کچھ پوجتے ہی نہ تھے اللہ یونہی گمراہ کرتا ہے کافروں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ کے سوا، وہ کہیں گے: وہ ہم سے گم ہو گئے بلکہ ہم تو پہلے کسی بھی چیز کی پرستش نہیں کرتے تھے، اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ ٹھہراتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ کے سوا۔ کہیں گے وہ ہم سے گم ہوگئے، بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔ اسی طرح اللہ کافروں کو گمراہ کرتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہیں گے : وہ ہماری یاد سے گم ہوچکے ہیں۔ بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی چیز کو بھی پکارتے ہی نہ تھے۔ اللہ اسی طرح کافروں کو بھول بھلیوں میں ڈال دیتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ کہیں گے، وہ سب ہم سے کھوئے گئے بلکہ پہلے ہم کسی چیز کو بھی نہیں پوجتے رہے۔ اس طرح اللہ کافروں کے حواس گم کر دے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ کے سوا ؟ وہ کہیں گے کہ وہ سب کھو گئے ہم سے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی چیز کو (سرے سے) پکارتے ہی نہیں تھے اسی طرح اللہ گمراہی (کے گڑھے) میں ڈالتا ہے کافروں کو

— مولانا اسحاق مدنی

وہ کہیں گے کہ وہ تو سب ہم سے غائب ہوگئے بلکہ ہم تو کسی کو بھی اس کے قبل نہیں پکارتے تھے اللہ اسی طرح کافروں کو گمراہی میں رکھتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ کے سوا ؟ وہ کہیں گے : سب گم ہوگئے ہم سے بلکہ ہم نہیں پکار رہے تھے اس سے پہلے کسی بھی شے کو۔ اسی طرح اللہ بھٹکا دیتا ہے کافروں کو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی غیر اللہ کہیں گے وہ تو ہم سے جاتے رہے بلکہ ہم تو پہلے کسی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے۔ اسی طرح اللہ کفار کو گمراہ کرتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

associated with Allah in His Divinity?” They will say: “We have lost them; rather, we never used to call upon anyone before.” Thus will Allah cause them to stumble in error.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

beside Allah? They will say, :They are lost to us, rather, we used to invoke nothing at all. This is how Allah makes disbelievers get lost.

— Muhammad Taqi Usmani

beside Allah? They will say, :They are lost to us, rather, we used to invoke nothing at all. This is how Allah makes disbelievers get lost.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Besides Allah" They will say: "They have vanished from us. Nay, we did not call upon anything before." Thus Allah leads astray the disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Beside Allah? They say: They have failed us; but we used not to pray to anything before. Thus doth Allah send astray the disbelievers (in His guidance).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Other than Allah?" They will say, "They have departed from us; rather, we did not used to invoke previously anything." Thus does Allah put astray the disbelievers.

— Saheeh International

They will reply, "They have abandoned us. In fact, we had worshipped nothing" Thus does God cause the disbelievers to go astray.

— Muhammad Sarwar

Besides Allah? They shall say: They are gone away from us, nay, we used not to call upon anything before. Thus does Allah confound the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

Beside Allah? They will say: they have failed us: aye! we have not been calling upon aught afore. Thus doth Allah lead the infidels astray.

— Abdul Majid Daryabadi

"In derogation of Allah?" They will reply: "They have left us in the lurch: Nay, we invoked not, of old, anything (that had real existence)." Thus does Allah leave the Unbelievers to stray.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:74

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 69–76

کفار کو عذاب جہنم اور طوق و سلاسل کی وعید۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ کیا تمہیں ان لوگوں پر تعجب نہیں ہوتا جو اللہ کی باتوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنے باطل کے سہارے حق سے اڑتے ہیں ؟ تم نہیں دیکھ رہے کہ کس طرح ان کی عقلیں ماری گئی ہیں ؟ اور بھلائی کو چھوڑ برائی کو کیسے بری طرح چمٹ گئے ہیں ؟ پھر ان بدکردار کفار کو ڈرا رہا ہے کہ ہدایت و بھلائی کو جھوٹ جاننے والے کلام اللہ اور کلام رسول کے منکر اپنا انجام ابھی دیکھ لیں گے۔ جیسے فرمایا جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے، جبکہ گردنوں میں طوق اور زنجیریں پڑی ہوئی ہوں گی اور داروغہ جہنم گھسیٹے گھسیٹے پھر رہے ہوں گے۔ کبھی حمیم میں اور کبھی حجیم میں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 103 یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم دنیا میں شرک نہیں کرتے تھے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اب ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ ہم جنھیں دنیا میں پکارتے تھے وہ کچھ بھی نہ تھے، ہیچ تھے، لاشے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) قَالُوْا ضَلُّوْاعَنَّا۔ یعنی جہنم میں پہنچ کر مشرکین کہیں گے وہ بت اور شیاطین جن کی ہم عبادت کیا کرتے تھے آج غائب ہوگئے۔ مراد یہ ہے کہ ہمیں نظر نہیں آ رہے اگرچہ وہ بھی جہنم کے کسی گوشہ میں پڑے ہوں جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے ان کا جہنم میں ہونا ثابت ہے۔ ، (آیت) انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 73–74

مشرکین کی بدحواسی اس کے بعد ان سے سوال ہوگا کہ اب تائو، خدا کی پکڑ سے بچانے کے لئے اس کے مقابل میں دوسرے جو شریک تم نے ٹھہرا رکھے تھے، وہ کہاں گئے ! اگر وہ ہیں تو ان کو بلائو، تمہیں اس عذاب سے چھڑائیں ! ’ من دون اللہ ‘ یہاں اللہ کے مدمقابل کے مفہوم میں ہے اور اس مفہوم میں یہ آتا ہے۔ اس کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔ وہ جواب دیں گے کہ وہ تو سب ہم سے کھوئے گئے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے ہم کسی چیز کو پوجتے ہی نہیں تھے۔ یعنی پہلے دہلہ میں وہ اقرار کرلیں گے کہ ان کے کچھ معبود تھے جن کی وہ پرستش کرتے رہے تھے لیکن یہاں ان میں سے کوئی بھی ان کی مدد کے لئے موجود نہیں ہے لیکن پھر جب وہ یہ محسوس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 73–74

74۔ 1 کیا وہ آج تمہاری مدد کرسکتے ہیں ؟ 74۔ 2 یعنی پتہ نہیں، کہاں چلے گئے ہیں، وہ ہماری مدد کیا کریں گے ؟ 74۔ 3 اقرار کرنے کے بعد، پھر ان کی عبادت کا ہی انکار کردیں گے کیونکہ وہاں ان پر واضح ہوجائے گا کہ وہ ایسی چیزوں کی عبادت کرتے رہے جو سن سکتی تھیں، نہ دیکھ سکتی تھیں اور نقصان پہنچا سکتی تھیں نہ نفع (فتح القدیر اور اس کا دوسرا معنی واضح ہے اور وہ یہ کہ وہ شرک کا سرے سے انکار ہی کریں گے۔ 74۔ 4 یعنی ان مکذبین ہی کی طرح اللہ تعالیٰ کافروں کو بھی گمراہ کرنا ہے مطلب یہ ہے کہ مسلسل تکذیب اور کفر یہ ایسی چیزیں ہیں کہ جن سے انسانوں کے دل سیاہ اور زنگ آلود ہوجاتے ہیں اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے قبول حق…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 74–77

19: اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس وقت جھوٹ بول جائیں گے، اور یہ کہیں گے کہ ہم نے کبھی شرک کا ارتکاب نہیں کیا، جیسا کہ سورة انعام : 23 میں مذکور ہے۔ اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ اس وقت وہ یہ اعتراف کریں گے کہ جن بتوں وغیرہ کو ہم دنیا میں پکارا کرتے تھے، اب ہمیں پتہ چل گیا کہ وہ کوئی حقیقی چیز نہیں تھے، اور ہم کسی حقیقی چیز کو نہیں پکارتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 69–76

آیت نمبر 69 تا 76 یعنی گزشتہ آیات ہیں اللہ کی جو نشانیاں ہوئیں ان کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کا رویہ قابل تعجب ہے جو اللہ کی ان نشانیوں کے بارے میں بھی بھی جث وجدال کرتے ہیں ، لیکن ان کا انجام کیا ہونے والا ہے ، نہایت عبرت آموز ! الم تر۔۔۔۔۔ رسلنا (40: 69 تا 70) ” تم نے دیکھا ان لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟ یہ لوگ جو اس کتاب کو اور اب ساری کتابوں کو جھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں “۔ انہوں نے تو صرف کتاب قرآن اور ایک رسول حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا تھا مگر اس طرح کرکے انہوں نے تمام کتابوں اور تمام رسولوں کو جھٹلادیا کیونکہ تمام رسولوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 73–74

2 یعنی اس وقت ان میں سے کوئی کام نہیں آتا۔ ہو سکے تو ان کو مدد کے لیے بلاؤ۔ 3 یعنی ہم سے گئے گزرے ہوئے۔ شاید اس وقت عابدین اور معبودین الگ الگ کردیے جائیں گے یا ضلوا عناکا مطلب یہ ہو کہ گو موجود ہیں، مگر جب ان سے کوئی فائدہ نہیں تو ہوئے نہ ہوئے برابر ہیں۔ 4 اکثر مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ ہم جن کو دنیا میں پکارتے تھے، اب کھلا کہ وہ واقع میں کچھ چیز نہ تھے۔ گویا یہ بطور حسرت و افسوس کے اپنی غلطی کا اعتراف ہوگا۔ لیکن حضرت شاہ صاحب کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین اول منکر ہوچکے تھے کہ ہم نے شریک ٹھہرائے ہی نہیں۔ اب گھبرا کر منہ سے نکل جائے گا ضلوا عنا جس میں شریک ٹھہرانے کا اعتراف ہوگا۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 73–74

آیت 73 ‘ 74 { ثُمَّ قِیْلَ لَہُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : کہاں ہیں وہ جنہیں تم شریک بنایا کرتے تھے اللہ کے سوا ؟“ { قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًاط } ”وہ کہیں گے : سب گم ہوگئے ہم سے ‘ بلکہ ہم نہیں پکار رہے تھے اس سے پہلے کسی بھی شے کو۔“ اے اللہ ! آج اس وقت ہم پر یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ جنہیں معبود سمجھ کر ہم پکارا کرتے تھے ان کا تو کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ { کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الْکٰفِرِیْنَ۔ ’ ‘ ’ اسی طرح اللہ بھٹکا دیتا ہے کافروں کو۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 74–75

95 اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور وہ دونوں ہی درست ہیں۔ ایک جو ترجمہ سے واضح ہے کہ مشرک لوگ سب کچھ بھول بھلا کر اپنے شرک سے ہی یکسر انکار کردیں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جن چیزوں کو ہم دنیا میں پکارتے رہے فی الواقع ان کے اختیار میں کچھ بھی نہ تھا اور وہ لاشی محض تھے۔ یہ ہماری ہی غلطی تھی کہ ہم انہیں کوئی چیز سمجھتے رہے۔ 96 مشرکین کی بدحواسی۔ ایک ہی سوال کے متضاد جوابات :۔ اس جملہ میں مشرکوں کی بدحواسی کا ذکر کیا گیا ہے کہ ایک ہی سوال کے مختلف اور متضاد جواب دیتے جائیں گے۔ سوال یہ تھا کہ آج وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جنہیں تم اللہ کے شریک بنایا کرتے تھے اس کا ایک جواب وہ تو یہ دیں گے کہ ہمیں تو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 73–74

70۔ (انکی زندگی بھر ان کے کفر اختیاری کی پاداش میں) (آیت) ” بل ..... شیئا “۔ یعنی یہ حقیقت تو ہم پر اب منکشف ہوئی کہ ہم دنیا میں جن چیزوں کی عبادت کرتے تھے وہ تو نفی محض تھیں، ہم نے درحقیقت نفی محض کی عبادت میں اپنی عمریں گنوادیں۔ ولیس ھذا انکار العبادۃ الاصنام بل ھو اعتراف ان عبادتھم الاصنام کانت باطلۃ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–78

آیت نمبر 69 تا 78 ترجمہ : کیا آپ نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں قرآن میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان سے کہاں پھرے چلے جارہے ہیں ؟ جن لوگوں نے کتاب قرآن کو اور اس توحید اور بعث بعد الموت کو بھی جس کو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا جھٹلایا اور وہ کفار مکہ ہیں، سو ان کو ان کی تکذیب کی سزا (کی حقیقت) ابھی ابھی معلوم ہوا چاہتی ہے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اِذَا ہے اور زنجیریں ہوں گی (والسلاسل) کا عطف الْاغْلال پر ہے، تو وہ زنجیریں گردنوں میں ہوں گی، یا السلاسِلُ مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، یعنی ان کے پیروں میں (زنجیریں ہوں گی) یا یُسْحَبُوْنَ اس کی خبر ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من دون اللہ قالوا ضلوا عنا بل لم نکن ندعو منقبل شیئا وہ کہیں گے : وہ تو سب ہم سے غائب ہوگئے ‘ بلکہ اس سے پہلے ہم تو کسی کو نہیں پوجتے تھے۔ ضَلُّوْا یعنی ہم سے غائب ہوگئے ‘ ہم کو کہیں نظر نہیں آتے۔ یہ جواب اس وقت دیں گے جب ان کے معبود ان کے ساتھ نہیں ہوں گے۔ یا ضلّوا عنّا کا معنی ہے وہ ہم سے کھو گئے ‘ ہم کو جو ان سے امیدیں تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں۔ بَلّ لَّمْ نَکنْ نَّدْعُوْ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ کافروں کی طرف سے یہ شرک کرنے کا ہی انکار ہوگا ‘ یعنی وہ کہیں گے : ہم شرک کرتے ہی نہیں تھے۔ جیسے دوسری آیت میں مقولہ (معنوی) نقل کیا ہے کہ وہ کہیں گے : وا اللہ ربّنا ما کنَّا مشرکین۔ بعض علماء نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 71–74

(71۔ 74) جبکہ لوہے کے طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے اور اس کے ساتھ ان کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی شیاطین بھی ان کے ساتھ ہوں گے ان کو گھسیٹ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا پھر یہ آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔ پھر ان سے فرشتے کہیں گے کہ وہ تمہارے شریک کہاں گئے جن کو پوجتے تھے وہ کہیں گے کہ وہ شرکاء تو ہم سے غائب ہوگئے اور پھر خود ہی اس بات کے منکر ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ ہم تو اس سے پہلے اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پوجتے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کفار کو دلیل سے گمراہ کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 73–74

(1) ثم قیل لھم این ماکنتم تشرکون من دون اللہ : پھر انہیں ذلیل کرنے کے لئے اور ان کے خود ساختہ مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں کی بےبسی واضح کرنے کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جنہیں تم اللہ کے سوا شریک بناتے تھیڈ اگر وہ واقعی شریک تھے اور تم اس لئے ان کی عبادت کرتے تھے کہ وہ مشکل وقت میں تمہاری دستگیری کریں گے تو لاؤ وہ کہاں ہیں، تمہاری مدد کیوں نہیں کر رہے ؟ (2) قالوا صلوا عنا : یہ انسانی ضمیر کا اصل سچ ہے، اس کے مطابق پہلے وہ بےاختیار قرار کریں گے کہ وہ ہم سے گم ہوگئے ، نہ کہیں ملتے ہیں نہ دکھائی دیتے ہیں۔ (3) بل لم نکن ندعوا من قبل شیاً پھر یہ سوچیں گے کہ یہ کہنا کہ وہ ہم سے گم ہوگئے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 69–76

( الم ترالی الذین۔۔۔۔۔ ) الم ترالی الذین یجادلوں فی ایت اللہ انی یصرفون۔ ابن زید نے کہا : اس سے مراد مشرک ہیں اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :” الذین کذبوا بالکتب وبما ارسلنا بہ رسلنا اکثر مفسرین نے کہا : یہ آیت قدریہ کے حق میں نازل ہوئی۔ ابن سیرین نے کہا : اگر یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل نہیں ہوئی تو میں نہیں جانتا کہ یہ کس کے حق میں نازل ہوئی ؟ ابو قبیل نے کہا : میں تقدیر کو جھٹلانے والوں کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ وہی ایمان والوں سے مجادلہ کرتے ہیں۔ عقبہ بن عامر نے کہا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ آیت قدریہ کے بارے میں نازل ہوئی “ یہ مہدوی نے ذکر کیا۔ اذا لا غلل فی اعناقھم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 72–77

5:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون (71) فی الحمیم، یعنی ان پر ہر چیز کو اتاردے گی کھال گوشت اور رگیں یہاں تک کہ وہ اس کی ایڑیوں میں چلی جائے گی یہاں تک کہ اس کے گوشت کی لمبائی ستر ہاتھ کے بقدر ہوگی، پھر اس کو دوسری کھال پہنائی جائے گی، پھر اسے آگ میں جلایا جائے گا ہر چیز ان سے تر ہوجائے گی کھال گوشت اور آنتوں میں سے۔ 6:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یسحبون “ سے مراد ہے کہ ان پر آگ کو جلایا جائے گا ” تمرحون “ (تم اتراتے تھے) یعنی تم اتراتے تھے اور اکڑتے تھے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے سوا ] قَالُوْا [ وہ لوگ کہیں گے ] ضَلُّوْا [ وہ سب بھٹک گئے (گم ہوگئے ) ] عَنَّا [ہم سے ] بَلْ لَّمْ نَكُنْ [ بلکہ ہم تھے ہی نہیں ] نَّدْعُوْا [ (کہ ) ہم پکارتے تھے ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] شَـيْـــــًٔا ۭ [ کسی چیز کو ] كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ [ اسی طرح بھٹکا دیتا ہے اللہ ] الْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 69–77

دوزخیوں کا طوقون اور زنجیروں میں گھسیٹا جانا، دوزخ میں داخل ہونا اور ان سے یہ سوال ہونا کہ تمہارے باطل معبود کہاں ہیں اوپر چند آیات کا ترجمہ ذکر کیا گیا ہے اولاً ان لوگوں کی وعید ذکر فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑے بازی کرتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اور اللہ کے پیغام کو جھٹلاتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ عنقریب اپنی سزا کو جان لیں گے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں ہوں گی اسی حالت میں فرشتے انہیں گھسیٹتے ہوئے کھولتے ہوئے پانی میں لے جائیں گے پھر یہ لوگ آگ میں جھونک دئیے جائیں گے وہاں ان سے دریافت کیا جائے گا کہ اللہ کے سوا تم نے جو معبود بنا رکھے تھے وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–78

حیرت واستعجاب بر جدال مجادلین ومکذبین ووعید از غذاب آخرت : قال اللہ تعالیٰ : الم تر الی الذین یجادلون ...... الی ...... وخسرھنا لک المبطلون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور دلائل قدرت کا ذکر فرما کر کفر ونافرمانی اور شرک پر وعید وتنبیہ فرمائی تھی اور یہ کہ فطرت اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ خدائے وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لائے، اب ان آیات میں جدال وخصومت کرنے والے منکرین پر تعجب وحیرت کا اظہار فرمایا جارہا ہے، اور بتایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کا حال جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، عجیب بات ہے یہ کہاں بھٹک رہے ہیں بیشک جن لوگوں نے اس کتاب یعنی قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 73–74

69:۔ ” ثم قیل لہم “ تحسیر و توبیخ کے طور پر فرشتے ان سے کہیں گے کہ آج کہاں ہیں تمہارے کارساز اور شفعاء (سفارشی) جن کو تم اللہ کی الوہیت میں شریک کیا کرتے تھے ؟ آج ان کو باؤ ناں تاکہ تمہیں جہنم کے عذاب سے بچائیں۔ ” قالوا ضلوا عنا “ فوری طور پر جواب دیں گے کہ جی آج تو وہ کہیں نظر نہیں آتے، ہم بلائیں کس کو ؟ اس کے فورًا بعد وہ سنبھلیں گے اور خیال کریں گے کہ ہم نے اپنے جرم کا اقبال کرلیا، جرم کا سرے سے انکار کردیا شاید اس طرح بچاؤ کی کوئی صورت نکل آئے چناچہ اس کے فورًا بعد کہیں گے۔ نہیں ! نہیں ! ! ہم بھول گئے، بلکہ ہم تو دنیا میں اللہ کے سوا کسی کو پکارتے ہی نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو ان کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–78

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں میں انسانی تخلیق کے مختلف ادوار کا بیان ہوا زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنانے کا تذکرہ ہوا ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور پاکیزہ روزی عطا کی اور ساتھ یہ بھی کہ موت وحیات کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی تلقین کی کہ ان دلائل قدرت میں غور وفکر کے توحید الہی کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ ّ (آیات الہی میں جھگڑا) اب آج کے درس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ واضح نشانیوں کے باوجود یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مِنْ دُوْنِ اللہِ۝ 0 ۭ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَـيْـــــًٔا۝ 0 ۭ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللہُ الْكٰفِرِيْنَ۝ 74 دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 69–76

ترکیب : اذا الاغلالظرف لیعلمون والمراد معنی الاستقبال والسلاسل جمع سلسلۃ معطوف علی الاغلال و الخبرفی اعناقہم او مبتداء خبرہ یسبحون والعائد محذوف ای یسبحون بھا و ھو علی الاول حال و قریٰ بالنصب و یسبحون بفتح الیاء ای یسبحون السلاسل۔ تفسیر : آیات الٰہیہ میں جھگڑا کرنے والوں کی پھر مذمت بیان کی جاتی ہے۔ فقال الم ترالی الذین الخ خدا تعالیٰ تعجب کے طور پر ارشاد فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ! کیا آپ نے وہ لوگ نہیں دیکھے جو آیات الٰہیہ میں ناحق حجت کیا کرتے ہیں، وہ کہاں بہکے جاتے ہیں ؟ پھر فرماتا ہے وہ کون ہیں۔ الذین کذبوا بالکتابوہ ہیں کہ جنہوں نے کتاب اللہ کو جھٹلایا، عام ہے کہ قرآن مجید ہو یا اگلی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 73–74

ثُمَّ قِیْلَ لَہُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَـکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا ط کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (المؤمن : 73، 74) (پھر ان سے پوچھا جائے گا کہاں ہیں وہ جن کو تم شریک کرتے تھے۔ اللہ کے سوا، وہ جواب دیں گے وہ سب ہم سے کھوئے گئے بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو بھی نہ پکارتے تھے، اس طرح اللہ کافروں کے حواس گم کردے گا۔ ) مشرکین کا اعتراف جب یہ لوگ اپنے کفر و شرک کی پاداش میں جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے تو پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے کچھ قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا اور ان کے بارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 73–76

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں سے کیے جانے والے سوالات میں سے ایک سوال۔ جہنمیوں کو جہنّم میں داخل کرنے سے پہلے میدان محشر میں دوسری مرتبہ عین جہنّم کے دروازوں کے سامنے کھڑا کرکے اور تیسری دفعہ جہنّم میں جھونک دینے کے بعد دیگرسوالات کے ساتھ ہر مرحلہ پر ان سے پہلا یہ سوال ہوگا کہ دنیا میں جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا مشکل کشا سمجھ کر پکارتے تھے۔ آج وہ کہاں ہیں اور وہ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے ؟ جہنمی کہیں گے۔ مولا ہمیں تو کچھ یاد نہیں کہ وہ کون تھے۔ خوف کے مارے یہ بھی کہیں گے کہ ہم نے تو کبھی کسی کو پکارا ہی نہیں تھا۔ رب ذوالجلال کے رعب اور جہنم کے عذاب کی وجہ سے وہ سب کچھ بھول جائیں گے۔ دنیا میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 73–74

73 ۔ 74 ثُمَّ قِيْلَ لَهُمْ (پھر ان کو کہا جائے گا) یعنی ان کو جہنم کے نگران فرشتے کہیں گے۔ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ (وہ غیر اللہ کہاں گئے جن کو تم اللہ تعالیٰ کے شریک بناتے تھے) وہ اصنام جن کی تم عبادت کرتے تھے۔ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا (وہ کہیں گے وہ تو سب ہم سے غائب ہوگئے) ہماری آنکھوں سے غائب ہوگئے۔ نہ ہم ان کو دیکھتے ہیں اور نہ ان سے نفع اٹھاتے ہیں۔ غیر اللہ کی عبادت کو وہ بیکار قرار دیں گے : بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَـيْـــــًٔا (بلکہ ہم تو اس سے قبل کسی کو بھی نہیں پوجتے تھے) یعنی ہمارے سامنے کھل گئی کہ وہ کچھ بھی نہ تھے اور ان کی جو ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 73–74

72۔۔۔۔ ، فی الحمیم ثم فی الناریسجرون، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے ذریعے آگ روشن کی جائے گی اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ آگ کا ایندھن ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–78

69۔ 78۔ مشرکین مکہ یوں تو سارے قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتے تھے لیکن حشر اور قیامت کا ذکر جن آیتوں میں ہوتا تھا یا جن آیتوں میں شرک کی مذمت ہوتی تھی خاص کر ایسی آیتوں میں یہ لوگ بڑا جھگڑا کیا کرتے تھے اللہ نے اوپر کی آیتوں میں انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا تاکہ ان مشرکوں کی سمجھ میں آجائے کہ حضرت آدم کی پیدائش تو حشر کے نمونہ کے طور پر ہے کہ خاک کا پتلا بنایا گیا اور اس پتلے میں پھر روح پھونک دی گئی اور اولاد آدم کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت جتلانے کے لئے حشر کے نمونہ سے بھی مشکل طریقہ کو اختیار فرمایا ہے کہ مٹی کے اثر سے طرح طرح کے اناج اور ترکاریاں اور کھانے کی چیزیں پیدا ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–76

آیت 66 (آیت) ” کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ “ کیا آپ کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ (آیت) ” کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جا رہے ہیں ؟ “ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں ؟ اس کامل تو ضیح وتبین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں ؟ اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں ؟ بدترین ہے وہ چیز جو انہوں نے اپنے لئے اختیار کی اور کتاب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–85

دعا ہی عبادت ہے قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 73–74

135 مستکبرین کی تذلیل و تحقیر کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم لوگ شریک ٹھہرایا کرتے تھے اللہ وحدہ لا شریک کا ؟ "۔ سو یہ ان سے ان کی مزید تذلیل و توبیخ کے لئے کہا جائے گا۔ یعنی ان کو زیادہ رسوا کرنے کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم لوگوں نے خدائی اختیارات میں شریک وسہیم بنا رکھا تھا اور تم لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ ہمیں چھڑا اور بچا لیں گے۔ آج وہ تمہاری مدد کیوں نہیں کر رہے ؟ ان کو بلاتے کیوں نہیں ؟ کہ وہ اس مشکل وقت میں تمہارے کام آئیں اور تمہیں اس عذاب سے رہائی دلائیں۔ { من دون اللہ } یہاں پر مدِّمقابل کے معنیٰ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–85

جھٹلانے والوں کا انجام تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–78

رکوع نمبر 8: آیات 69 ۔ تا۔ 78: اسرار و معارف ؛ ذرا ان لوگوں کو دیکھ جو ایسے عظیم پروردگار کے احکام کا انکار کرتے ہیں بلکہ اپنی خرافات کو درست منوانے پہ زور لگا رہے ہیں یہ کس قدر گمراہ ہیں اور بھٹک رہے ہیں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کا انکار کرتے ہیں جس میں جو کچھ ارشاد ہے سراسر حق ہے اور یونہی پھینک نہیں دی اللہ نے اپنا رسول مبعوث فرمایا کتاب کے ساتھ کہ اس کی شرافت نیکی اور ورع تقوی مثالی ہے مگر انہیں کچھ اثر نہیں تو اس کا نتیجہ بھی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گا جب ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ کے کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا اور پھر دوزخ کے بھڑکتے شعلوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی وہ مشکل وقت میں ہمیں چھوڑ کر ایسے غائب ہوگئے جیسے دنیا میں ہم نے انہیں پکارا ہی نہ تھا اور وہ ہمیں جانتے تک نہ تھے۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جس ” بل “ کا ترجمہ ” گویا کہ “ کیا جائے اور اگر اس کا ترجمہ ” بلکہ “ کیا جائے جو اس کا معروف ترجمہ ہے تو مطلب یہ ہوگا ” بلکہ ہم دنیا میں کسی چیز کو سرے سے پکارتے ہی نہ تھے “۔ یعنی گھبراہٹ چیز کو سرے سے پکارتے ہی نہ تھے۔ جیسا کہ دوسری آیات میں ہے (واللہ ربنا ما کنا مشرکین) تیسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اب ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ ہم دنیا میں کسی شی ( چیز) کو نہیں بلکہ لا شی ( ناچیز) ہستیوں کو پکارا کرتے تھے یعنی ہماری محنت رائیگاں گئی۔ ( جامع…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:74) ضلوا۔ ماضی جمع مذکر غائب ضلال وضلالۃ مصدر۔ (باب سمع و ضرب) کجراہ ہونا ۔ حق راستہ سے بھٹکنا ، دین سے پھرنا۔ راستہ کھونا۔ گم ہونا۔ کھو جانا۔ ضلواعنا وہ ہم سے کھو گئے۔ ہم کو ان سے جو امیدیں تھیں وہ پوری نہ ہوئیں۔ بل لم نکن تدعوا من قبل شیئا : بل حرف اضراب ہے۔ لم تکن تدعوا مضارع نفی جحد بلم جمع متکلم۔ ندعوا دعاء دعوۃ مصدر (باب نصر) سے ہم پکارتے نہ تھے یعنی ہم عبادت اور پوجا نہیں کرتے تھے۔ یہ مطلب نہیں کہ ہم دنیا میں شرک نہیں کرتے تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اب ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ ہم جنہیں دنیا میں پکارتے تھے وہ کچھ بھی نہ تھے ہیچ تھے لاشئے تھے۔ (تفہیم القرآن) ای بل تبین لنا انا لم نکن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–78

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 70–77

مشرکوں کی ہٹ دھرمی۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اپنے رسول ﷺ سے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ باوجود اس طرح تفصیل سے سمجھانے کے بھی یہ مشرک لوگ کس طرح کی ہٹ دھرمی کرتے ہیں اور اللہ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں پھر فرمایا کہ کہ ابھی ان مشرکوں کو اس ہٹ دھرمی کے جھگڑوں کا انجام کچھ نہیں معلوم ہوتا، جس وقت اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کے جرم میں ان لوگوں کو مجرموں کی طرح طوق اور زنجیر میں جکڑ کر دوزخ میں ڈالاجائے گا اس وقت ان کو اس ہٹ دھرمی کی سب حقیقت کھل جائے گی پھر فرمایا کہ جن بتوں کی مذمت سے چڑ کر یہ لوگ آج اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں کل قیامت کے دن جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 72–74

[25] یعنی پہلے تو گھبرا کر منہ سے نکل جائے گا کہ وہ ہم سے کھوئے گئے، پھر سنبھل کا انکار کردیں گے کہ ہم نے اللہ کے سوا کسی چیز کو پکارا ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 69–76

ف 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی حالت پر تبصرہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ بغیر علم و دلیل کے اللہ کی آیتوں میں میں میخ نکالتے ہیں ۔ اور بحث ومناظرہ کرتے ہیں ۔ قرآن کو جھٹلاتے ہیں اور ساری کتابوں کی تکذیب کرتے ہیں ۔ انہیں عنقریب معلوم ہوگا ۔ جب کہ ذلت ورسوائی کے گراں بار طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے ۔ اور زنجیریں ان کے پیروں میں ۔ جب یہ گھسیٹتے ہوئے گرم پانی کے چشموں کی طرف لے جائیں گے ۔ اور پھر جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ۔ تب ان سے پوچھا جائیگا ۔ کہ آج تمہارے معبودان باطل کہاں ہیں ۔ آج وہ کیوں تمہاری عقیدت مندی اور نیاز مندی کا صلہ نہیں دیتے ۔ اس وقت ان کو محسوس ہوگا کہ ہم غلطی پر تھے ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(74) وہ اب کہاں گئے وہ جواب دیں گے وہ تو سب ہم سے کہیں غائب ہوگئے اور ہماری نظر سے چوک گئے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ ہم تو اس عالم سے پہلے کسی چیز کو پوجتے ہی نہ تھے اسی طرح اللہ تعالیٰ کافروں کو غلطی میں مبتلا رکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا شریک ٹھہراتے تھے وہ کہاں ہیں ان کو بلائو تاکہ تمہاری فریاد رسی کریں وہ ان کو کہیں ملیں گے نہیں پھر شرک سے ہی انکار کردیں گے۔ اسی کو فرمایا کہ جس طرح گمراہ کیا اللہ تعالیٰ نے اسی طرح تمام منکرین و معاندین کو گمراہ رکھتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اول منکر ہوچکے تھے کہ ہم نے شریک نہیں پکڑے اب گھبرا کر منہ سے نکل جائے گا پھر سنبھل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی معلوم ہوا کہ وہ لاشے محض تھے، ایسی بات غلط ظاہر ہونے کے وقت کہی جاتی ہے، جیسے کوئی شخص تجارت میں خسارہ اٹھاوے اور اس سے پوچھا جاوے کہ تم فلان مال کی تجارت کیا کرتے ہو، اور وہ کہے کہ میں تو کہیں کی بھی تجارت نہیں کرتا، یعنی جب اس کا ثمرہ حاصل نہ ہوا تو یوں سمجھنا چاہئے کہ گویا وہ عمل ہی نہیں ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ تو ہم سے کھوئے گئے ، نہیں ہم ان کو پکارتے ہی کب تھے ؟ 74۔ وہ بوکھلا کر جواب دیں گے اور جواب ان کا صحیح ہوگا کہ ( ضلوا عنا) وہ تو ہم سے کھوئے گئے لیکن فورا ہی سنبھل کر مزید بولیں گے کہ ہم تو کسی کو کبھی پکارا ہی کب کرتے تھے اس کو کہتے ہیں کہ رسی جل گئی پر بل نہ گیا۔ دوزخ عذاب میں گرفتار ہیں لیکن اب بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے اور پھر سچی بات کو چھپا کر جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہم تو اللہ کے سوا کسی کو پکار ہی کب کرتے تھے۔ مفسرین نے ان کا یہ بیان بدحواس پر محمول کیا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں صحیح یہی ہے کہ پہلے مرحلہ میں بات سنتے ہی وہ وسچی بات کہہ دیں گے اگرچہ انہوں نے کچھ سوچ سمجھ کر جواب نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 73–74

In verse 74, it was said: قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا (They will say, "They are lost to us,...), that is, once they reach Jahannam, the disbelievers will say that all those idols and shaitans they used to worship have disappeared in the sense that they do not see them around, though, they might as well be lying somewhere in a corner of Jahannam, as their being in Jahannam stands proved from other verses of the Qur'an, for instance: إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ , (Surely, you and whatever you worship other than Allah are the fuel for Jahannam - Al-Anbiya', 21:98)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

103 They do not mean to say, "We did not associate them with God in the world," but they mean: "Now we have understood well that those whom we invoked in the world, were nothing and mere nonentities."

Read the full tafseer →