Explained with ayahs 77–78
اللہ کے وعدے قطعاً حق ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو صبر کا حکم دیتا ہے کہ جو تیری نہیں مانتے تجھے جھوٹا کہتے ہیں تو ان کی ایذاؤں پر صبر و برداشت کر۔ ان سب پر فتح و نصرت تجھے ملے گی۔ انجام کار ہر طرح تیرے ہی حق میں بہتر رہے گا۔ تو اور تیرے یہ ماننے والے ہی تمام دنیا پر غالب ہو کر رہیں گے، اور آخرت تو صرف تمہاری ہی ہے، پس یا تو ہم اپنے وعدے کی بعض چیزیں تجھے تیری زندگی میں دکھا دیں گے، اور یہی ہوا بھی، بدر والے دن کفار کا دھڑ اور سر توڑ دیا گیا قریشیوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ بالاخر مکہ فتح ہوا اور آپ دنیا سے رخصت نہ ہوئے جب تک کہ تمام جزیرہ عرب آپ کے زیر نگیں نہ ہوگیا۔ اور آپ کے دشمن آپ…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 107
یہاں سے ایک اور موضوع شروع ہو رہا ہے۔ کفار مکہ رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم آپ کو اس وقت تک خدا کا رسول نہیں مان سکتے جب تک آپ ہمارا منہ مانگا معجزہ ہمیں نہ دکھا دیں۔ آگے کی آیات میں ان کی اسی بات کو نقل کیے بغیر اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (جس قسم کے معجزات کا وہ لوگ مطالبہ کرتے تھے ان کے چند نمونوں کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، ہود، حاشیہ 13، الحجر، حواشی 4۔ 5، بنی اسرائیل، حواشی 105۔ 106، جلد سوم، الفرقان، حاشیہ 33)
سورة الْمُؤْمِن 108
یعنی کسی نبی نے بھی کبھی اپنی مرضی سے کوئی معجزہ نہیں دکھایا ہے، اور نہ کوئی نبی خود معجزہ دکھانے پر قادر تھا۔ معجزہ تو جب بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(آیت) فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ الآیة۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے، کہ رسول اللہ ﷺ خوشی کے ساتھ اس کے منتظر تھے کہ کافروں کو عذاب ملے۔ اس لئے آپ کی تسلی کے لئے اس آیت میں یہ فرمایا کہ آپ ذرا صبر کریں، اللہ نے جو وعدہ ان کے لئے عذاب کا کیا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔ خواہ آپ کی حیات ہی میں یا آپ کی وفات کے بعد۔ کافروں کے عذاب کا انتظار بظاہر شان رحمة اللعالمین کے منافی ہے لیکن مجرمین کو سزا دینے سے مقصد غیر مجرم مومنین کو جن پر ظلم کیا گیا تھا تسلی دینا ہو تو مجرموں کو سز ا، شفقت و رحمت کے منافی نہیں۔ کسی مجرم کو سزا دینا کسی کے نزدیک بھی رحمت کے خلاف نہیں سمجھا جاتا۔
Read the full tafseer →تسلی کا ایک خاص پہلو
یہ وہی تسلی کا مضمون ایک خاص پہلو سے واضح فرمایا جا رہا ہے۔ رسولوں کے مکذبین کی یہ عام روش رہی ہے کہ جب ان کو رسول نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو قوم نے رسول کو زچ کرنے کے لئے اس عذاب کا کوئی نمونہ دکھانے کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبہ کا ایک جواب اوپر والی آیت میں دیا گیا اب اسی کا ایک اور پہلو واضح فرمایا گیا ہے کہ رسولوں کی تاریخ شاہد ہے کہ اس طرح کی نشانیاں دکھانے کا معاملہ رسول کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق تمام تر اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ہے۔ اگر اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے تو وہ عذاب بھیجتا ہے۔ اور اگر نہیں ہوتا تو نہیں بھیجتا۔ اس چیز کا مطالبہ لوگوں کو نہ رسول سے…
Read the full tafseer →78۔ 1 اور یہ تعداد میں، بہ نسبت ان کے جن کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ بہت زیادہ ہیں۔ اس لئے کہ قرآن کریم میں تو صرف 25، انبیاء و رسل کا ذکر اور ان کی قوموں کے حالات بیان کئے ہیں۔
78۔ 2 آیت سے مراد یہاں معجزہ اور خرق عادت واقعہ ہے جو پیغمبر کی صداقت پر دلالت کرے کفار پیغمبروں سے مطالبے کرتے رہے کہ ہمیں فلاں فلاں چیز دکھاؤ جیسے خود نبی کریم ﷺ سے کفار مکہ نے کئی چیزوں کا مطالبہ کیا جس کی تفصیل سورة بنی اسرائیل میں موجود ہے اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی قوموں کے مطالبے پر ان کو کوئی معجزہ صادر کر کے دکھلادے یہ صرف ہمارے اختیار میں تھا بعض نبیوں کو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–85
20: کفار مکہ حضور اقدس ﷺ سے بار بار نت نئے معجزے دکھانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور اصرار کرتے تھے کہ وہی معجزہ دکھائیں جو ہم کہیں، اور مقصد سوائے وقت گزاری کے کچھ نہیں تھا، کیونکہ آپ کے کئی معجزات دیکھنے کے باوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں تھے، اس لئے یہاں ان کو دینے کے لئے یہ جواب سکھایا جارہا ہے کہ معجزہ دکھانا کسی پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے دکھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے آپ ان سے صاف کہہ دیں کہ میں تمہاری نت نئی فرمائشیں پوری کرنے سے معذور ہوں۔
Read the full tafseer →درس نمبر 226 ایک نظر میں
یہ پورا سبق اس سے پہلے سبق کے آخر میں آنے والے درس عبرت کی تکمیل وتشریح ہے۔ حضرت نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی مومنین کو ہدایت کی گئی تھی کہ آپ لوگ مشکلات راہ پر صبر کریں۔ اس وقت تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور اللہ نے فتح اسلام کا جو و عدہ کیا ہے وہ پورا ہوجائے ۔ چاہے نبی ﷺ کی زندگی میں ہو یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد ہو۔ کیونکہ اختیار آپ ﷺ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ بلکہ معاملہ اسلام اور اسلام کو ماننے والوں اور ان کے مخالفین اور مجادلین کا ہے۔ دونوں برسرجنگ ہیں
اور فیصلہ ان کے درمیان اللہ کو کرنا ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جو اسلامی انقلاب کی تحریک کو چلاتا ہے ، جس طرح چاہتا ہے۔
یہ سبق جس پر…
Read the full tafseer →9 یعنی بعض کا تفصیلی حال تجھ سے بیان کیا بعض کا نہیں کیا۔ (اور ممکن ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد ان کا بھی مفصل حال بیان کردیا ہو) بہرحال جن کے نام معلوم ہیں ان پر تفصیلاً اور جن کے نام وغیرہ معلوم نہیں ان پر اجمالاً ایمان لانا ضروری ہے۔ (لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ) 2 ۔ البقرۃ :285)
10 یعنی اللہ کے سامنے سب عاجز ہیں۔ رسولوں کو یہ بھی اختیار نہیں کہ جو معجزہ چاہیں دکھلا دیا کریں، صرف وہ ہی نشانات دکھلا سکتے ہیں جس کی اجازت حق تعالیٰ کی طرف سے ہو۔
11 یعنی جس وقت اللہ کا حکم پہنچتا ہے رسولوں اور ان کی قوموں کے درمیان منصفانہ فیصلہ کردیا جاتا ہے اس وقت رسول سرخرو اور کامیاب ہوتے…
Read the full tafseer →آیت 78 { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ مِنْہُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْہُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ } ”اور ہم نے بہت سے رسول بھیجے آپ ﷺ سے پہلے ‘ ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا۔“
یعنی ان رسولوں میں سے بعض کے حالات آپ کو سنا دیے ہیں اور بعض کے نہیں سنائے۔
{ وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ } ”اور کسی بھی رسول کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ وہ کوئی نشانی لے آتا مگر اللہ کے اذن سے۔“
کبھی کوئی رسول اپنی مرضی اور ذاتی کوشش سے اپنی قوم کو کوئی معجزہ نہیں دکھا سکا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
99 حِسی معجزہ اور اس کے تقاضے :۔ کیونکہ معجزہ نبی کا فعل نہیں ہوتا بلکہ براہ راست اللہ کا فعل ہوتا ہے البتہ اس کا صدور نبی کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ معجزہ محض کھیل تماشا کے طور پر عطا نہیں ہوتا بلکہ اس سے مقصود کسی اہم دینی یا دنیوی غرض کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ بعض انبیاء کو کچھ معجزات ان کے طلب کرنے کے بغیر کافروں پر دلیل نبوت اور اتمام حجت کے طور پر عطا کئے گئے اور اگر کوئی پیغمبر کوئی حسی معجزہ پیش نہ کرے اور قوم اس سے حسی معجزہ کا مطالبہ کرے پھر اللہ تعالیٰ قوم کے مطالبہ پر ایسا معجزہ نبی کو دے دے لیکن کافر قوم پھر بھی ایمان نہ لائے تو اس پر یقیناً عذاب…
Read the full tafseer →74۔ (سو آپ سے یہ توقع رکھنا ہی عبث ہے کہ آپ ان کے فرمائشی معجزات کو اپنے آپ سے پورا کرسکیں گے) (آیت) ” منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک “۔ رسول جتنے دنیا میں آچکے ان کی صحیح تعدادتو اللہ ہی کے علم میں ہے۔ یہاں یہ اصولی حقیقت بیان کردی ہے کہ جتنے پیغمبروں کا ذکر قرآن مجید میں لانا قرین مصلحت تھا۔ ان کے علاوہ بھی ایک تعداد پیغمبروں کی ہوئی ہے۔ (آیت) ” وما کان ..... اللہ “۔ یہ ایک بار پھر اس حقیقت کا اعادہ ہے کہ ظہور معجزات وخوارق پیغمبر کے اختیار کی چیز نہیں ہوتی۔ یہ تمامتر تصرف خداوندی ہی ہے کہ جب کسی خارق یا معجزہ کا ظہور قرین حکمت ہوتا ہے، کسی نبی کے ہاتھ پر ظاہر کردیا جاتا ہے، اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
آیت نمبر 69 تا 78
ترجمہ : کیا آپ نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں قرآن میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان سے کہاں پھرے چلے جارہے ہیں ؟ جن لوگوں نے کتاب قرآن کو اور اس توحید اور بعث بعد الموت کو بھی جس کو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا جھٹلایا اور وہ کفار مکہ ہیں، سو ان کو ان کی تکذیب کی سزا (کی حقیقت) ابھی ابھی معلوم ہوا چاہتی ہے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اِذَا ہے اور زنجیریں ہوں گی (والسلاسل) کا عطف الْاغْلال پر ہے، تو وہ زنجیریں گردنوں میں ہوں گی، یا السلاسِلُ مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، یعنی ان کے پیروں میں (زنجیریں ہوں گی) یا یُسْحَبُوْنَ اس کی خبر ہے، یعنی…
Read the full tafseer →ولقد ارسلنا رسلا من قبلک منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک اور
ہم آپ سے پہلے بہت رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے احوال تو ہم نے آپ سے بیان کر دئیے اور بعض کے احوال آپ سے نہیں بیان کئے۔
رُسُلاً اس میں تنوین تکثیر ہے (بکثرت پیغمبر) ۔
احمد نے اور ابن راہویہ نے اپنی مسندوں میں اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے مستدرک میں حضرت ابو لبابہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے انبیاء کی تعداد دریافت کی گئی ‘ فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار۔ دریافت کیا گیا : ان میں رسول کتنے ہوئے ؟ فرمایا : 313‘ ایک بڑی جماعت۔ ابن حبان نے حضرت ابوذر کی روایت سے بھی اسی مضمون کی حدیث نقل کی ہے۔ قرآن…
Read the full tafseer →اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو ان میں سے بعضوں کا تو نام ہم نے آپ کو بتا دیا تاکہ آپ ان کو بھی تعلیم کردیں اور بعضوں کا ہم نے آپ سے نام بھی نہیں لیا۔
البتہ اتنی بات سن لو کہ جب انبیاء کرام (علیہم السلام) سے ان کی قوموں نے معجزہ بتانے کا مطالبہ کیا تو کسی رسول سے یہ نہ ہوسکا کہ کوئی معجزہ بغیر حکم الہی کے ظاہر کردے۔
غرض کہ جبکہ گزشتہ قوموں میں عذاب الہی کا وقت آگیا تو حق کے مطابق ان کو عذاب دیا گیا یا یہ کہ قیامت کے دن انبیاء کرام (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت کافر خسارہ میں رہ جائیں گے۔
Read the full tafseer →(1) ولقد ارسلنا رسلاً من قبلک : کفار نے آپ ﷺ کو پریشان کرنے اور نیچا دکھانے کے لئے اور اللہ کی آیات کا مقابلہ کرنے اور ان کے بارے میں کج بحثی کیلئے جو ناجائز مطالبے کئے ان میں سے ایک مطالبہ ان کی طلب اور تقاضے کے مطابق عجیب وغ ریب نشانیاں اور معجزے دکھانا تھا، جیسا کہ سورة نبی اسرائیل (90 تا 93؛) میں گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے بطور اسوہ و نمونہ پہلے رسولوں کا ذکر فرمایا کہ آپ ان کے ایسے مطالبوں سے پریشان یا غم زدہ نہ ہوں، آپ سے پہلے بہت سے رسول گزرے، مگر معجزہ دکھانا ان میں سے بھی کسی کے اختیار میں نہ تھا۔ سو اگر آپ انہیں ان کی طلب کے مطابق معجزہ نہ دکھا سکیں تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
فاصبر ان وعد اللہ حق یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ہے۔ ہم تیرے لیے ان سے انتقام ضرور لیں گے اس دنیا میں اور آخرت میں فاما نرینک شرط کی وجہ سے محل جزم میں ہے ” ما “ تاکید کی وجہ سے زائدہ ہے اسی طرح نون بھی تاکید کے لیے ہے جزم زائل ہوگئی اور فعل منبی پر فتحہ ہوگیا۔ اوتتو فینک اس کا اس پر عطف ہے فالینا یرجعون یہ شرط کا جواب ہے
ولقد ارسلنا رسلا ًمن قبلک اس آیت میں بھی نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ ان سے قبل رسولوں نے تکلیفیں پائی ہیں منھم من قصصنا علیک یعنی ہم نے ان خبریں تمہیں بتائیں اور انہوں نے اپنی قوموں سے جو کچھ حاصل کیا وہ تمہیں بتایا ومنھم من لم نقصص علیک وما کان الرسول ان یاتی یاتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
1:۔ طبرانی (رح) نے الاوسط میں وابن مردویہ (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومنہم من لم نقصص علیک “ (اور ان میں سے بعض کے احوال آپ سے بیان نہیں کئے) یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک حبشی بندے کو بھی نبی بنایا اور وہ ان پیغمبروں میں سے ہے کہ جس کا ذکر محمد ﷺ سے نہیں کیا گیا
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [ اور بیشک ہم بھیج چکے ] رُسُلًا [ کچھ رسول ] مِّنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] مِنْهُمْ مَّنْ [ ان میں وہ بھی ہیں جن کو ] قَصَصْنَا عَلَيْكَ [ ہم نے بیان کیا آپ پر ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جن کو ] لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ ۭ [ ہم نے نہیں بیان کیا آپ پر ] وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ [ اور نہیں تھا کسی رسول کے لئے ] اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ [ کہ وہ لائے کوئی نشانی (معجزہ ) ] اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ [ مگر اللہ کی اجازت سے ] فَاِذَا جَاۗءَ اَمْرُ اللّٰهِ [ پھر جب آئے گا اللہ کا حکم ] قُضِيَ بِالْحَقِّ [ تو فیصلہ کیا جائے گا حق کے ساتھ ] وَخَسِرَ [ اور گھاٹے میں رہیں…
Read the full tafseer →ہم نے آپ سے بعض رسولوں کا تذکرہ کردیا ہے اور بعض کا نہیں کیا، کسی نبی کو اختیار نہ تھا کہ اذن الٰہی کے بغیر کوئی نشانی لے آئے
آیت بالا میں دو باتیں ذکر فرمائیں اولاً رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے بڑی تعداد میں رسول بھیجے جن میں سے بعض کا تذکرہ ہم نے آپ سے کردیا اور بعض کا تذکرہ نہیں کیا۔ جن حضرات کا تذکرہ فرمایا ہے سورة بقرہ، سورة مائدہ، سورة انعام اور سورة اعراف و سورة ہود اور سورة الانبیاء میں اور بعض دیگر سورتوں میں مذکور ہیں یہ اس کے معارض نہیں ہے کہ اجمالی طور پر ان حضرات کی تعداد سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو باخبر فرما دیا ہو تفصیلی اخبار و آثار کا بیان نہ فرمانا اجمالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
حیرت واستعجاب بر جدال مجادلین ومکذبین ووعید از غذاب آخرت :
قال اللہ تعالیٰ : الم تر الی الذین یجادلون ...... الی ...... وخسرھنا لک المبطلون “۔
(ربط) آیات سابقہ میں حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور دلائل قدرت کا ذکر فرما کر کفر ونافرمانی اور شرک پر وعید وتنبیہ فرمائی تھی اور یہ کہ فطرت اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ خدائے وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لائے، اب ان آیات میں جدال وخصومت کرنے والے منکرین پر تعجب وحیرت کا اظہار فرمایا جارہا ہے، اور بتایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کا حال جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، عجیب بات ہے یہ کہاں بھٹک رہے ہیں بیشک جن لوگوں نے اس کتاب یعنی قرآن…
Read the full tafseer →72:۔ ” ولقد ارسلنا “ یہ دلیل نقلی کا اعادہ ہے۔ یہ دلیل نقلی اجمالی ہے تمام انبیاء (علیہم السلام) سے۔ تمام گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کو اسی دعوے کے ساتھ بھیجا گیا۔ ان میں سے بعض کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور بعض کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن ہر حال دعوت سب کی ایک ہی تھی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ لہذا حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو۔ ” وما کان لرسول الخ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین ازراع عناد کہتے ہم تب مانیں گے اگر پیغمبر (علیہ السلام) ہمیں مطلوبہ معجزہ دکھائے فرمایا معجزہ دکھانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں کہ جب کوئی اس سے مطالبہ کرے فورًا دکھا دے، بلکہ معجزہ اللہ کے اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں میں انسانی تخلیق کے مختلف ادوار کا بیان ہوا زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنانے کا تذکرہ ہوا ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور پاکیزہ روزی عطا کی اور ساتھ یہ بھی کہ موت وحیات کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی تلقین کی کہ ان دلائل قدرت میں غور وفکر کے توحید الہی کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔
ّ (آیات الہی میں جھگڑا)
اب آج کے درس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ واضح نشانیوں کے باوجود یہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْہُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْہُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ 0 ۭ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَۃٍ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ 0 ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَمْرُ اللہِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ ہُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ 78ۧ
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ،
( ر س ل ) الرسل
اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
ترکیب : فا ما ان شرطیۃ وما مزیدۃ لتاکید الشرط فالینا یرجعون جواب نتوفینک و جواب نرینک محذوف مثل فذاک ویمکن ان یکون جوابا لھما بمعنی ان نعذبھم فی حیاتک اولم نعذبھم فانا نعذبھم فی الآخرۃ اشد العذاب ویدل علیٰ شدتہ الاقتصار بذکر الرجوع فی ھذا المعرض بیضاوی۔
تفسیر : اول اس سورة سے لے کر یہاں تک آیات اللہ میں جھگڑنے والوں کی برائی اور ان کے طریقہ کی مذمت تھی، اس جگہ اپنے رسول کو ان کی ایذائوں پر صبر کرنے کا حکم دیتا ہے اور منکروں کو ایک آنے والی مصیبت سے خبردار کرتا ہے کہ آپ صبر کیجئے، کیونکہ اگر آپ کی زندگی میں کفار کو بعض آنے والی مصیبت دکھاویں جیسا کہ بدر کے روز کا معاملہ تو فھو المراد آپ بھی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّنْ قَبْلِکَ مِنْھُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ ط وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیـَۃٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ ج فَاِذَا جَـآئَ اَمْرُاللّٰہِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ ھُنَالِکَ الْمُبْطِلُوْنَ ۔ (المؤمن : 78)
(اے پیغمبر ! ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے جن میں سے بعض کے حالات ہم نے آپ کو سنا دیئے اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے حالات آپ کو نہیں سنائے، کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ کوئی نشانی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر لاسکے، پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کردیا گیا اور اس وقت اہل باطل خسارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
فہم القرآن
ربط کلام : ٹھوس دلائل اور پُر خلوص کوشش کے ساتھ سمجھانے کے باوجود جو لوگ نصیحت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اے نبی ﷺ آپ کو صبر سے کام لینا اور اپنے رب کے حکم کا انتظار کرنا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ اپنا کام اور آرام چھوڑ کر دن، رات اس کوشش میں لگے رہتے کہ لوگ ہدایت پاجائیں۔ لیکن آپ کے مخاطب ہدایت حاصل کرنے کی بجائے آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں پر ہر قسم کی زیادتیاں کرتے۔ جس پر آپ ﷺ کو رنج پہنچتا اور آپ سوچتے کہ یہ کیسے ناہنجار لوگ ہیں کہ میں کسی مفاد کے بغیر ان کے لیے رات، دن ایک کیے ہوئے ہوں۔ لیکن یہ ” اللہ “ کا قرآن سمجھنے کی بجائے اس سے مزید دور ہورہے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ…
Read the full tafseer →رسول تو پہلے بھی آئے مگر معجزہ ظاہر کرنا ان کے اختیار میں تھا :
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ (اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر بھیجے) ان کی امتوں کی طرف۔ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ (جن میں سے بعض تو وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کردئیے اور بعض وہ ہیں جن کا واقعہ ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا) ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار پیغمبر بھیجے جن میں چار ہزار بنی اسرائیل میں سے اور چار ہزار دیگر تمام انسانوں میں سے۔ قول علی ؓ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسود کو پیغمبر بنایا پس وہ ان میں سے ہے جس کا واقعہ قرآن میں بیان نہیں کیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(76۔ 77) ۔۔۔۔۔۔ ، ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبیرین فاصبران وعداللہ ، آپ کی مدد کرنے کا۔ ، حق فامانرینکم بعض الذی نعدھم، آپ کی زندگی میں عذاب کا۔ ، اونتوفینک ، ان پر عذاب نازل کرنے سے پہلے۔ ، فالینا یرجعون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
69۔ 78۔ مشرکین مکہ یوں تو سارے قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتے تھے لیکن حشر اور قیامت کا ذکر جن آیتوں میں ہوتا تھا یا جن آیتوں میں شرک کی مذمت ہوتی تھی خاص کر ایسی آیتوں میں یہ لوگ بڑا جھگڑا کیا کرتے تھے اللہ نے اوپر کی آیتوں میں انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا تاکہ ان مشرکوں کی سمجھ میں آجائے کہ حضرت آدم کی پیدائش تو حشر کے نمونہ کے طور پر ہے کہ خاک کا پتلا بنایا گیا اور اس پتلے میں پھر روح پھونک دی گئی اور اولاد آدم کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت جتلانے کے لئے حشر کے نمونہ سے بھی مشکل طریقہ کو اختیار فرمایا ہے کہ مٹی کے اثر سے طرح طرح کے اناج اور ترکاریاں اور کھانے کی چیزیں پیدا ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
آیت 78
یعنی آپ سے پہلے بھی ہم نے بہت سے رسول ان کی قوموں کی طرف مبعوث فرمائے۔ جو انہیں توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کی ایذا راسنی پر صبر کرتے تھے۔ (منھم من قصصنا علیک) جن میں سے کچھ کے بارے میں ہم نے آپ کو خبر دی (ومنھم من لم نقصص علیک) ” اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات ہم نے آپ پر بیان نہیں کئے۔ “ تمام انبیاء اور رسول اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہیں انکے اپنے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ تمام رسولوں میں سے کسی کے اختیار میں نہیں (آیت) ” کہ وہ کوئی نشانی، معجزہ لائے۔ “ یعنی ان رسولوں کے اختیار میں نہیں کہ وہ سمعی یا عقلی نشانی لاسکیں۔ (الا باذن اللہ) مگر اللہ کی مشیت اور اس کے حکم سے، اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →145 رسولوں کا ذکر برائے تسلیہ و تسکین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ سے پہلے کتنے ہی رسول بھیجے جن میں سے کچھ کے حالات ہم نے آپ کو سنائے اور کچھ کے حالات ہم نے آپ کو نہیں بتائے "۔ چناچہ قرآن پاک میں مجموعی طور پر صرف پچیس انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں جبکہ مسند امام احمد کی روایت کے مطابق حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے فرمایا کہ اللہ پاک نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا ہے جن میں سے رسول تین سو پندرہ ہوئے ہیں ۔ باقی سب نبی تھے ۔ مگر ان کے تفصیلی حالات تو کیا ان سب کے ناموں کا بھی پتہ نہیں۔ اور قرآن و سنت میں ان میں سے ایک محدود عدد کے سوا کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
جھٹلانے والوں کا انجام
تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–78
رکوع نمبر 8: آیات 69 ۔ تا۔ 78:
اسرار و معارف ؛
ذرا ان لوگوں کو دیکھ جو ایسے عظیم پروردگار کے احکام کا انکار کرتے ہیں بلکہ اپنی خرافات کو درست منوانے پہ زور لگا رہے ہیں یہ کس قدر گمراہ ہیں اور بھٹک رہے ہیں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کا انکار کرتے ہیں جس میں جو کچھ ارشاد ہے سراسر حق ہے اور یونہی پھینک نہیں دی اللہ نے اپنا رسول مبعوث فرمایا کتاب کے ساتھ کہ اس کی شرافت نیکی اور ورع تقوی مثالی ہے مگر انہیں کچھ اثر نہیں تو اس کا نتیجہ بھی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گا جب ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ کے کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا اور پھر دوزخ کے بھڑکتے شعلوں…
Read the full tafseer →ف 12 یعنی بعض کا تفصیلی حال بیان کیا اور بعض کا نہیں کیا۔ بہر حال سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : یہ یعنی لم نفص ان پیغمبروں ﷺ سے کئی گنا کثیر تعداد میں ہیں جن کے احوال قرآن میں مذکور ہیں۔ جیسا کہ سورة نساء آیت 64 میں اس پر تنبیہ گزر چکی ہے۔ ( واللہ الحمد وامنہ) کسی قوم کے کسی قدیم رہنماء کے متعلق ( جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہو کر گزرے ہیں) قطعی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ وہ نبی نہ تھا۔ ممکن ہے کہ وہ نبی ہو اور اس نے توحید ہی کی دعوت پیش کی ہو مگر بعد کے لوگوں نے اس کی تعلیمات کو مسخ کردیا۔13 مطلب یہ ہے کہ معجزہ کوئی کھیل نہیں کہ کافروں نے جب چاہا نبی ﷺ سے اس کا مطلب کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(40:78) وما کان لرسول ۔۔ باذن اللّٰہ۔ میں ایۃ سے مراد عجزہ ہے۔ ترجمہ یہ ہے کہ : اور کسی رسول کا یہ مقدور نہیں کہ وہ کوئی معجزہ بدون اذن الٰہی ظاہر کرسکے۔ یعنی کوئی رسول کوئی معجزہ صرف اس وقت ظاہر کرسکتا ہے جب اللہ چاہتا ہے کہ وہ معجزہ کسی منکر منکر قوم کو دکھایا جائے۔ کیونکہ معجزہ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک فیصلہ کن چیز ہے کیونکہ جب ایک قوم اس کے دکھائے جانے کے بعد بھی نہیں مانتی تو پھر اس کا خاتمہ کردیا جاتا ہے۔ یعنی ان کے انکار حق پر قضی بینھم بالحق وخسرھنالک المبطلون۔ کا معاملہ وقوع پذیر ہوجانا ہے تو فیصلہ حق کے مطابق کردیا جاتا ہے اور باطل پرست پھر گھاٹا کھانے والے ہی ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پچھلے نبیوں اور رسولوں کا تذکرہ فرما کر نبی ﷺ کی تسکین فرمائی کہ ہمیشہ سے اللہ کے نبی اور رسول آتے رہے اور منکر لوگ ان سے جھگڑا کرتے آئے ہیں اور وہ وقت مقررہ آنے کے ساتھ ہی اس طرح فیصلہ اللہ کی طرف سے ہوا ہے جس سے منکروں کو بڑا نقصان پہنچا ہے اور بعض پچھلے نبی اور رسولوں کا حال تو اللہ نے اپنے کلام میں مثال کے طور پر جگہ جگہ ذکر فرمایا ہے اور کتنے ہی نبی اور رسولوں کا ذکر بھی نہیں فرمایا۔
(ف 1) شان نزول : کافر مسخراپن کے طور پر نئے نئے معجزے مانگتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
[26] مشرکین مکہ نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم تم کو اللہ کا رسول اس وقت مانیں گے جب تم ہمیں فرمائشی معجزہ دکھاؤ گے۔ اس کا جواب ان کے مطالبے کو نقل کئے بغیر یہاں دیا گیا ہے۔
[27] مطلب یہ ہے کہ معجزہ ایک فیصلہ کن چیز ہے اور اس کے دکھائے جانے کے بعد جب کوئی قوم ایمان نہیں لاتی تو پھر وہ ختم کردی جاتی ہے۔ لہذا کفار کا فرمائشی معجزوں کا تقاضا کرنا خود اپنی شامت کو بلانا ہے۔
Read the full tafseer →بعض انبیاء کا ذکر قرآن میں نہیں ہے
1: چونکہ قرآن عربوں میں نازل ہوا ۔ اور عربی زبان میں نازل ہوا اس لئے ضروری تھا ۔ کہ اس میں انہیں انبیاء کا تذکرہ ہو جن سے ان کے گوش آشنا ہوں ۔ اور جن کے متعلق انہیں کچھ بیوقوف ہو اس لئے جمیعا قرآن حکیم نے اس التزام کو قائم رکھا ہے ۔ گو کہ اس نے اس نظریہ کو بڑے زور کے ساتھ اشاعت کی ۔ کہ مذہب کس مرزویوم کے ساتھ مختص نہیں اور کائنات میں ہر جگہ اللہ کے پیغمبر آئے ۔ پھر بھی ان سے شامی انبیاء کا زیادہ تر ذکر کیا ہے ۔ کہ یہودی اور عیسائی انہیں پاکبازوں کے حالات سے واقف تھے ۔ اور ان کے لئے انہیں حضرات کا اسوہ پاک قابل تقلید ومتبع قرار دیا جاسکتا تھا ۔ اس آیت میں اس…
Read the full tafseer →(78) اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں جن میں سے کچھ تو وہ ہیں جن کے حالات ہم نے آپ سے بیان کردیئے ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا بیان ہم نے آپ سے نہیں کیا اور کسی رسول کو یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ لاسکے اور دکھا سکے پھر جس وقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کا حکم آگے گا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت جھوٹے اور بےہودہ گو سخت خسارے میں رہیں گے۔
مطلب یہ ہے کہ رسولوں کی تعداد علی اختلاف الروایات خواہ کچھ ہو لیکن آپ سے پہلے بہت سے رسول آچکے پھر ان میں سے کسی کا حال آپ کو بتادیا گیا اور بعض کا نہیں بھی بتایا بہرحال ایک چیز سب میں مشترک ہے وہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
ف 4۔ یعنی آپ کی حیات میں ان پر اس کا نزول ہوجائے۔
Read the full tafseer →کتنے انبیاء ورسل بھیجے گئے بعض کا ہم نے ذکر کیا اور بعض کے ذکر کو چھوڑ دیا
78۔ یہ مضمون اکثر بیان ہوا ہے جو زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا کہ آپ اے پیغمبر اسلام کوئی نئے رسول نہیں اور نہ ہی آپ کی قوم کوئی نئی قوم ہے آپ سے پہلے کتنے ہی رسول بھیجے گئے جن میں سے بعض کا ذکر نام بنام قرآن کریم میں کیا گیا اور اکثر کا ذکر چھوڑ دیا گیا اور مجمل طور پر ان کا نام لیا گیا۔ پھر جن رسولوں کا نام لیا گیا ان کی قوموں کا تذکرہ بھی کیا گیا اور ان کا رویہ بھی آپ کو بتایا گیا اور پھر ان سب کا انجام بھی تم پڑھ چکے ہو کہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کی عام روش یہی رہی ہے کہ جب ان کے رسول نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
Commentary
In verse 83, it was said: فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ (they exulted because of whatever of knowledge they had,) that is, when the messengers of Allah Ta’ ala came to these deniers, who were utterly oblivious to their end, with clear arguments in favor of tauhid (Oneness of Allah) and 'iman (faith), they took their knowledge to be better and truer than the knowledge brought by prophets, and started rejecting what they said. What was this knowledge with which the disbelievers were exultant to the extent that they would even reject the body of knowledge brought by…
Read the full tafseer →107 A new theme starts from here. The disbelievers of Makkah said to the Holy Prophet, "We would not believe you to be Allah's Messenger unless you showed us the miracle that we ask you to show us." In the following verses an answer is being given to this very demand without mentioning it. (For the type of the miracles they demanded, see Hud: 12, Al-Hijr 7, Bani Isra'il: 90-93, Al-Furqan: 21 and the E.N.'s thereof).
108 That is, "No Prophet ever showed a miracle by his own will and desire, nor had any Prophet the power to show a miracle by himself. Whenever a miracle was shown through a…
Read the full tafseer →