Al-Ghaafir 40:78

Al-Ghaafir · from ayah 78

40:78

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ ؕ— وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ— فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ ۟۠وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِكَ مِنۡهُمۡ مَّنۡ قَصَصۡنَا عَلَيۡكَ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ لَّمۡ نَقۡصُصۡ عَلَيۡكَؕ وَمَا كَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ يَّاۡتِىَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰه‌ِۚ فَاِذَا جَآءَ اَمۡرُ اللّٰهِ قُضِىَ بِالۡحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ

اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کئے۔ اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ خدا کے حکم کے سوا کوئی نشانی لائے۔ پھر جب خدا کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑ گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have already sent messengers before you. Among them are those [whose stories] We have related to you, and among them are those [whose stories] We have not related to you. And it was not for any messenger to bring a sign [or verse] except by permission of Allah. So when the command of Allah comes, it will be concluded in truth, and the falsifiers will thereupon lose [all].

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 8 of surah · Ruku 13 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:78

اے نبیؐ، تم سے پہلے ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آتا پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کر دیا گیا اور اُس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑ گئے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سے) پیغمبر بھیجے۔ ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دیئے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کئے۔ اور کسی پیغمبر کا مقدور نہ تھا کہ خدا کے حکم کے سوا کوئی نشانی لائے۔ پھر جب خدا کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل نقصان میں پڑ گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کیے اور کسی رسول کا یہ (مقدور) نہ تھا کہ کوئی معجزه اللہ کی اجازت کے بغیر ﻻ سکے پھر جس وقت اللہ کا حکم آئےگا حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس جگہ اہل باطل خسارے میں ره جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر بھیجے ہیں۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے تمہیں بتا دئیے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے تمہیں نہیں بتائے اور کسی پیغمبر کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے پھر جب اللہ کا حکم آئے گا تو سچائی کا فیصلہ ہوجائے گا، اور جو لوگ باطل کی پیروی کر رہے ہیں، وہ اس موقع پر سخت نقصان اٹھائیں گے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے تم سے پہلے کتنے رسول بھیجے کہ جن میں کسی کا احوال تم سے بیان فرمایا اور کسی کا احوال نہ بیان فرمایا اور کسی رسول کو نہیں پہنچتا کہ کوئی نشانی لے آئے بے حکم خدا کے، پھر جب اللہ کا حکم آئے گا سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور باطل والوں کا وہاں خسارہ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کو بھیجا، ان میں سے بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان فرما دیا اور ان میں سے بعض کا حال ہم نے (ابھی تک) آپ پر بیان نہیں فرمایا، اور کسی بھی رسول کے لئے یہ (ممکن) نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی بھی اﷲ کے اِذن کے بغیر لے آئے، پھر جب اﷲ کا حکم آپہنچا (اور) حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیا تو اس وقت اہلِ باطل خسارے میں رہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے کئی رسول بھیجے، ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا حال ہم نے تجھے سنایا اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کا حال ہم نے تجھے نہیں سنایا۔ اور کسی رسول کا اختیار نہ تھا کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی لے آئے، پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور اس موقع پر اہل باطل خسارے میں رہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ سے پہلے ہم کئی رسول بھیج چکے ہیں ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کا حال ہم نے آپ سے بیان کردیا ہے اور کچھ ایسے جن کا حال بیان نہیں کیا اور کسی رسول میں یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی معجزہ از خود لاسکتا۔ پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو انصاف کے مطابق فیصلہ کردیا گیا اور اس وقت غلط کار لوگ ہی خسارہ میں رہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے جن میں سے کچھ کے حالات تم کو سنا دیئے اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جن کے حالات تم کو نہیں سنائے اور کسی رسول کا بھی یہ مقدور نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی اللہ کے اذن کے بدون لا سکے۔ پس جب اللہ کا حکم آجائے گا، عدل کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت اہل باطل خسارے میں پڑیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں ان میں سے کچھ کے حالات تو ہم نے آپ کو بتا دئیے ہیں اور کچھ کے نہیں بتائے اور کسی رسول کے بس میں نہیں تھا کہ وہ کوئی معجزہ پیش کرسکے مگر اللہ کے اذن کے ساتھ پھر جب آپہنچا اللہ کا حکم تو فیصلہ کردیا گیا حق (اور انصاف) کے ساتھ اور سخت خسارے میں پڑگئے اس موقع پر باطل پرست

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے آپ سے پیشتر بہت سے پیغمبر بھیجے جن میں سے بعض کا حال ہم نے آپ سے بیان کیا ہے اور کسی رسول کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ کوئی معجزہ بدون اذن الہی کے ظاہر کرسکے۔ پھر جس وقت اللہ کا حکم آپہنچے گا ٹھیک ٹھیک فیصلہ ہوجائے گا اور اس وقت اہل باطل بڑے گھاٹے میں رہیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے بہت سے رسول بھیجے آپ ﷺ سے پہلے ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا اور کسی بھی رسول کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ وہ کوئی نشانی لے آتا مگر اللہ کے اذن سے پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو فیصلہ چکا دیا گیا حق کے ساتھ اور اس وقت خسارے میں پڑگئے جھٹلانے والے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سے پیغمبر بھیجے ان میں کچھ تو ایسے ہیں جن کے حالات تم سے بیان کر دئیے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات بیان نہیں کیے اور کسی پیغمبر کے بس میں نہ تھا کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے پھر جب اللہ کا حکم آپہنچا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا گیا اور جھوٹے لوگ نقصان میں پڑگئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Indeed We sent many Messengers before you: of them there are some whose account We have narrated to you and there are others whose account We have not narrated to you. It did not lie in any Messenger's power to bring any Sign except with Allah's leave. So when Allah's decree came, the matter was decided with justice, and those steeped in error courted utter loss, then and there.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We had sent messengers before you. Among them there are those whose history We have narrated to you, and of them there are those whose history We did not narrate to you. And it is not up to a messenger that he could come up with a sign without permission from Allah. So, when the command of Allah will come, matters will stand decided justly, and on that occasion all adherents of falsehood will turn into losers.

— Muhammad Taqi Usmani

We had sent messengers before you. Among them there are those whose history We have narrated to you, and of them there are those whose history We did not narrate to you. And it is not up to a messenger that he could come up with a sign without permission from Allah. So, when the command of Allah will come, matters will stand decided justly, and on that occasion all adherents of falsehood will turn into losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And, indeed We have sent Messengers before you, of some of them We have related to you their story. And of some We have not related to you their story, and it was not given to any Messenger that he should bring a sign except by the leave of Allah. But, when comes the commandment of Allah, the matter will be decided with truth, and the followers of falsehood will then be lost.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Verily We sent messengers before thee, among them those of whom We have told thee, and some of whom We have not told thee; and it was not given to any messenger that he should bring a portent save by Allah's leave, but when Allah's commandment cometh (the cause) is judged aright, and the followers of vanity will then be lost.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have already sent messengers before you. Among them are those [whose stories] We have related to you, and among them are those [whose stories] We have not related to you. And it was not for any messenger to bring a sign [or verse] except by permission of Allah. So when the command of Allah comes, it will be concluded in truth, and the falsifiers will thereupon lose [all].

— Saheeh International

We have told you the stories of some of Our Messengers whom We had sent before you and We have not told you the stories of some others. A Messenger is not supposed to show a miracle without the permission of God. When God's decree of punishment comes to pass, He will judge truthfully and the supporters of the falsehood will perish when God's decree of punishemnt comes to pass.

— Muhammad Sarwar

And certainly We sent apostles before you: there are some of them that We have mentioned to you and there are others whom We have not mentioned to you, and it was not meet for an apostle that he should bring a sign except with Allah's permission, but when the command of Allah came, judgment was given with truth, and those who treated (it) as a lie were lost.

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly We have sent apostlesy before thee, of them are these whose store We have recounted Unto thee and these whose story We have net recounted Unto thee. And it was not possible for anv apostle that he should bring a sign san by Allah's leave. So when the commade of Allah cometh, judgment will be given with truth, and then will lose the followers of falsehood.

— Abdul Majid Daryabadi

We did aforetime send messengers before thee: of them there are some whose story We have related to thee, and some whose story We have not related to thee. It was not (possible) for any messenger to bring a sign except by the leave of Allah: but when the Command of Allah issued, the matter was decided in truth and justice, and there perished, there and then those who stood on Falsehoods.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:78

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 77–78

اللہ کے وعدے قطعاً حق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو صبر کا حکم دیتا ہے کہ جو تیری نہیں مانتے تجھے جھوٹا کہتے ہیں تو ان کی ایذاؤں پر صبر و برداشت کر۔ ان سب پر فتح و نصرت تجھے ملے گی۔ انجام کار ہر طرح تیرے ہی حق میں بہتر رہے گا۔ تو اور تیرے یہ ماننے والے ہی تمام دنیا پر غالب ہو کر رہیں گے، اور آخرت تو صرف تمہاری ہی ہے، پس یا تو ہم اپنے وعدے کی بعض چیزیں تجھے تیری زندگی میں دکھا دیں گے، اور یہی ہوا بھی، بدر والے دن کفار کا دھڑ اور سر توڑ دیا گیا قریشیوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ بالاخر مکہ فتح ہوا اور آپ دنیا سے رخصت نہ ہوئے جب تک کہ تمام جزیرہ عرب آپ کے زیر نگیں نہ ہوگیا۔ اور آپ کے دشمن آپ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 107 یہاں سے ایک اور موضوع شروع ہو رہا ہے۔ کفار مکہ رسول اللہ ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم آپ کو اس وقت تک خدا کا رسول نہیں مان سکتے جب تک آپ ہمارا منہ مانگا معجزہ ہمیں نہ دکھا دیں۔ آگے کی آیات میں ان کی اسی بات کو نقل کیے بغیر اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (جس قسم کے معجزات کا وہ لوگ مطالبہ کرتے تھے ان کے چند نمونوں کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، ہود، حاشیہ 13، الحجر، حواشی 4۔ 5، بنی اسرائیل، حواشی 105۔ 106، جلد سوم، الفرقان، حاشیہ 33) سورة الْمُؤْمِن 108 یعنی کسی نبی نے بھی کبھی اپنی مرضی سے کوئی معجزہ نہیں دکھایا ہے، اور نہ کوئی نبی خود معجزہ دکھانے پر قادر تھا۔ معجزہ تو جب بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 77–78

(آیت) فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ ۚ فَاِمَّا نُرِيَنَّكَ الآیة۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے، کہ رسول اللہ ﷺ خوشی کے ساتھ اس کے منتظر تھے کہ کافروں کو عذاب ملے۔ اس لئے آپ کی تسلی کے لئے اس آیت میں یہ فرمایا کہ آپ ذرا صبر کریں، اللہ نے جو وعدہ ان کے لئے عذاب کا کیا ہے وہ ضرور پورا ہوگا۔ خواہ آپ کی حیات ہی میں یا آپ کی وفات کے بعد۔ کافروں کے عذاب کا انتظار بظاہر شان رحمة اللعالمین کے منافی ہے لیکن مجرمین کو سزا دینے سے مقصد غیر مجرم مومنین کو جن پر ظلم کیا گیا تھا تسلی دینا ہو تو مجرموں کو سز ا، شفقت و رحمت کے منافی نہیں۔ کسی مجرم کو سزا دینا کسی کے نزدیک بھی رحمت کے خلاف نہیں سمجھا جاتا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تسلی کا ایک خاص پہلو یہ وہی تسلی کا مضمون ایک خاص پہلو سے واضح فرمایا جا رہا ہے۔ رسولوں کے مکذبین کی یہ عام روش رہی ہے کہ جب ان کو رسول نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو قوم نے رسول کو زچ کرنے کے لئے اس عذاب کا کوئی نمونہ دکھانے کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبہ کا ایک جواب اوپر والی آیت میں دیا گیا اب اسی کا ایک اور پہلو واضح فرمایا گیا ہے کہ رسولوں کی تاریخ شاہد ہے کہ اس طرح کی نشانیاں دکھانے کا معاملہ رسول کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق تمام تر اللہ تعالیٰ کی حکمت سے ہے۔ اگر اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے تو وہ عذاب بھیجتا ہے۔ اور اگر نہیں ہوتا تو نہیں بھیجتا۔ اس چیز کا مطالبہ لوگوں کو نہ رسول سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

78۔ 1 اور یہ تعداد میں، بہ نسبت ان کے جن کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ بہت زیادہ ہیں۔ اس لئے کہ قرآن کریم میں تو صرف 25، انبیاء و رسل کا ذکر اور ان کی قوموں کے حالات بیان کئے ہیں۔ 78۔ 2 آیت سے مراد یہاں معجزہ اور خرق عادت واقعہ ہے جو پیغمبر کی صداقت پر دلالت کرے کفار پیغمبروں سے مطالبے کرتے رہے کہ ہمیں فلاں فلاں چیز دکھاؤ جیسے خود نبی کریم ﷺ سے کفار مکہ نے کئی چیزوں کا مطالبہ کیا جس کی تفصیل سورة بنی اسرائیل میں موجود ہے اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ نہیں تھا کہ وہ اپنی قوموں کے مطالبے پر ان کو کوئی معجزہ صادر کر کے دکھلادے یہ صرف ہمارے اختیار میں تھا بعض نبیوں کو تو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 78–85

20: کفار مکہ حضور اقدس ﷺ سے بار بار نت نئے معجزے دکھانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور اصرار کرتے تھے کہ وہی معجزہ دکھائیں جو ہم کہیں، اور مقصد سوائے وقت گزاری کے کچھ نہیں تھا، کیونکہ آپ کے کئی معجزات دیکھنے کے باوجود وہ ایمان لانے پر تیار نہیں تھے، اس لئے یہاں ان کو دینے کے لئے یہ جواب سکھایا جارہا ہے کہ معجزہ دکھانا کسی پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے دکھایا جاسکتا ہے۔ اس لیے آپ ان سے صاف کہہ دیں کہ میں تمہاری نت نئی فرمائشیں پوری کرنے سے معذور ہوں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 226 ایک نظر میں یہ پورا سبق اس سے پہلے سبق کے آخر میں آنے والے درس عبرت کی تکمیل وتشریح ہے۔ حضرت نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی مومنین کو ہدایت کی گئی تھی کہ آپ لوگ مشکلات راہ پر صبر کریں۔ اس وقت تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور اللہ نے فتح اسلام کا جو و عدہ کیا ہے وہ پورا ہوجائے ۔ چاہے نبی ﷺ کی زندگی میں ہو یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد ہو۔ کیونکہ اختیار آپ ﷺ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ بلکہ معاملہ اسلام اور اسلام کو ماننے والوں اور ان کے مخالفین اور مجادلین کا ہے۔ دونوں برسرجنگ ہیں اور فیصلہ ان کے درمیان اللہ کو کرنا ہے۔ اور یہ اللہ ہی ہے جو اسلامی انقلاب کی تحریک کو چلاتا ہے ، جس طرح چاہتا ہے۔ یہ سبق جس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی بعض کا تفصیلی حال تجھ سے بیان کیا بعض کا نہیں کیا۔ (اور ممکن ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد ان کا بھی مفصل حال بیان کردیا ہو) بہرحال جن کے نام معلوم ہیں ان پر تفصیلاً اور جن کے نام وغیرہ معلوم نہیں ان پر اجمالاً ایمان لانا ضروری ہے۔ (لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ) 2 ۔ البقرۃ :285) 10 یعنی اللہ کے سامنے سب عاجز ہیں۔ رسولوں کو یہ بھی اختیار نہیں کہ جو معجزہ چاہیں دکھلا دیا کریں، صرف وہ ہی نشانات دکھلا سکتے ہیں جس کی اجازت حق تعالیٰ کی طرف سے ہو۔ 11 یعنی جس وقت اللہ کا حکم پہنچتا ہے رسولوں اور ان کی قوموں کے درمیان منصفانہ فیصلہ کردیا جاتا ہے اس وقت رسول سرخرو اور کامیاب ہوتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 78 { وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ مِنْہُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْہُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ } ”اور ہم نے بہت سے رسول بھیجے آپ ﷺ سے پہلے ‘ ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور کچھ وہ بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا۔“ یعنی ان رسولوں میں سے بعض کے حالات آپ کو سنا دیے ہیں اور بعض کے نہیں سنائے۔ { وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ } ”اور کسی بھی رسول کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ وہ کوئی نشانی لے آتا مگر اللہ کے اذن سے۔“ کبھی کوئی رسول اپنی مرضی اور ذاتی کوشش سے اپنی قوم کو کوئی معجزہ نہیں دکھا سکا۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 78–80

99 حِسی معجزہ اور اس کے تقاضے :۔ کیونکہ معجزہ نبی کا فعل نہیں ہوتا بلکہ براہ راست اللہ کا فعل ہوتا ہے البتہ اس کا صدور نبی کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ معجزہ محض کھیل تماشا کے طور پر عطا نہیں ہوتا بلکہ اس سے مقصود کسی اہم دینی یا دنیوی غرض کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ بعض انبیاء کو کچھ معجزات ان کے طلب کرنے کے بغیر کافروں پر دلیل نبوت اور اتمام حجت کے طور پر عطا کئے گئے اور اگر کوئی پیغمبر کوئی حسی معجزہ پیش نہ کرے اور قوم اس سے حسی معجزہ کا مطالبہ کرے پھر اللہ تعالیٰ قوم کے مطالبہ پر ایسا معجزہ نبی کو دے دے لیکن کافر قوم پھر بھی ایمان نہ لائے تو اس پر یقیناً عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

74۔ (سو آپ سے یہ توقع رکھنا ہی عبث ہے کہ آپ ان کے فرمائشی معجزات کو اپنے آپ سے پورا کرسکیں گے) (آیت) ” منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک “۔ رسول جتنے دنیا میں آچکے ان کی صحیح تعدادتو اللہ ہی کے علم میں ہے۔ یہاں یہ اصولی حقیقت بیان کردی ہے کہ جتنے پیغمبروں کا ذکر قرآن مجید میں لانا قرین مصلحت تھا۔ ان کے علاوہ بھی ایک تعداد پیغمبروں کی ہوئی ہے۔ (آیت) ” وما کان ..... اللہ “۔ یہ ایک بار پھر اس حقیقت کا اعادہ ہے کہ ظہور معجزات وخوارق پیغمبر کے اختیار کی چیز نہیں ہوتی۔ یہ تمامتر تصرف خداوندی ہی ہے کہ جب کسی خارق یا معجزہ کا ظہور قرین حکمت ہوتا ہے، کسی نبی کے ہاتھ پر ظاہر کردیا جاتا ہے، اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–78

آیت نمبر 69 تا 78 ترجمہ : کیا آپ نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں قرآن میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان میں تکرار کرتے ہیں ؟ ایمان سے کہاں پھرے چلے جارہے ہیں ؟ جن لوگوں نے کتاب قرآن کو اور اس توحید اور بعث بعد الموت کو بھی جس کو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا جھٹلایا اور وہ کفار مکہ ہیں، سو ان کو ان کی تکذیب کی سزا (کی حقیقت) ابھی ابھی معلوم ہوا چاہتی ہے جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اِذَا ہے اور زنجیریں ہوں گی (والسلاسل) کا عطف الْاغْلال پر ہے، تو وہ زنجیریں گردنوں میں ہوں گی، یا السلاسِلُ مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، یعنی ان کے پیروں میں (زنجیریں ہوں گی) یا یُسْحَبُوْنَ اس کی خبر ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد ارسلنا رسلا من قبلک منھم من قصصنا علیک ومنھم من لم نقصص علیک اور ہم آپ سے پہلے بہت رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے احوال تو ہم نے آپ سے بیان کر دئیے اور بعض کے احوال آپ سے نہیں بیان کئے۔ رُسُلاً اس میں تنوین تکثیر ہے (بکثرت پیغمبر) ۔ احمد نے اور ابن راہویہ نے اپنی مسندوں میں اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور حاکم نے مستدرک میں حضرت ابو لبابہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے انبیاء کی تعداد دریافت کی گئی ‘ فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار۔ دریافت کیا گیا : ان میں رسول کتنے ہوئے ؟ فرمایا : 313‘ ایک بڑی جماعت۔ ابن حبان نے حضرت ابوذر کی روایت سے بھی اسی مضمون کی حدیث نقل کی ہے۔ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو ان میں سے بعضوں کا تو نام ہم نے آپ کو بتا دیا تاکہ آپ ان کو بھی تعلیم کردیں اور بعضوں کا ہم نے آپ سے نام بھی نہیں لیا۔ البتہ اتنی بات سن لو کہ جب انبیاء کرام (علیہم السلام) سے ان کی قوموں نے معجزہ بتانے کا مطالبہ کیا تو کسی رسول سے یہ نہ ہوسکا کہ کوئی معجزہ بغیر حکم الہی کے ظاہر کردے۔ غرض کہ جبکہ گزشتہ قوموں میں عذاب الہی کا وقت آگیا تو حق کے مطابق ان کو عذاب دیا گیا یا یہ کہ قیامت کے دن انبیاء کرام (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت کافر خسارہ میں رہ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ولقد ارسلنا رسلاً من قبلک : کفار نے آپ ﷺ کو پریشان کرنے اور نیچا دکھانے کے لئے اور اللہ کی آیات کا مقابلہ کرنے اور ان کے بارے میں کج بحثی کیلئے جو ناجائز مطالبے کئے ان میں سے ایک مطالبہ ان کی طلب اور تقاضے کے مطابق عجیب وغ ریب نشانیاں اور معجزے دکھانا تھا، جیسا کہ سورة نبی اسرائیل (90 تا 93؛) میں گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے بطور اسوہ و نمونہ پہلے رسولوں کا ذکر فرمایا کہ آپ ان کے ایسے مطالبوں سے پریشان یا غم زدہ نہ ہوں، آپ سے پہلے بہت سے رسول گزرے، مگر معجزہ دکھانا ان میں سے بھی کسی کے اختیار میں نہ تھا۔ سو اگر آپ انہیں ان کی طلب کے مطابق معجزہ نہ دکھا سکیں تو اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 77–78

فاصبر ان وعد اللہ حق یہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے کے لیے ہے۔ ہم تیرے لیے ان سے انتقام ضرور لیں گے اس دنیا میں اور آخرت میں فاما نرینک شرط کی وجہ سے محل جزم میں ہے ” ما “ تاکید کی وجہ سے زائدہ ہے اسی طرح نون بھی تاکید کے لیے ہے جزم زائل ہوگئی اور فعل منبی پر فتحہ ہوگیا۔ اوتتو فینک اس کا اس پر عطف ہے فالینا یرجعون یہ شرط کا جواب ہے ولقد ارسلنا رسلا ًمن قبلک اس آیت میں بھی نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ ان سے قبل رسولوں نے تکلیفیں پائی ہیں منھم من قصصنا علیک یعنی ہم نے ان خبریں تمہیں بتائیں اور انہوں نے اپنی قوموں سے جو کچھ حاصل کیا وہ تمہیں بتایا ومنھم من لم نقصص علیک وما کان الرسول ان یاتی یاتہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–80

1:۔ طبرانی (رح) نے الاوسط میں وابن مردویہ (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومنہم من لم نقصص علیک “ (اور ان میں سے بعض کے احوال آپ سے بیان نہیں کئے) یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک حبشی بندے کو بھی نبی بنایا اور وہ ان پیغمبروں میں سے ہے کہ جس کا ذکر محمد ﷺ سے نہیں کیا گیا

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [ اور بیشک ہم بھیج چکے ] رُسُلًا [ کچھ رسول ] مِّنْ قَبْلِكَ [ آپ سے پہلے ] مِنْهُمْ مَّنْ [ ان میں وہ بھی ہیں جن کو ] قَصَصْنَا عَلَيْكَ [ ہم نے بیان کیا آپ پر ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جن کو ] لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ ۭ [ ہم نے نہیں بیان کیا آپ پر ] وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ [ اور نہیں تھا کسی رسول کے لئے ] اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ [ کہ وہ لائے کوئی نشانی (معجزہ ) ] اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ [ مگر اللہ کی اجازت سے ] فَاِذَا جَاۗءَ اَمْرُ اللّٰهِ [ پھر جب آئے گا اللہ کا حکم ] قُضِيَ بِالْحَقِّ [ تو فیصلہ کیا جائے گا حق کے ساتھ ] وَخَسِرَ [ اور گھاٹے میں رہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ہم نے آپ سے بعض رسولوں کا تذکرہ کردیا ہے اور بعض کا نہیں کیا، کسی نبی کو اختیار نہ تھا کہ اذن الٰہی کے بغیر کوئی نشانی لے آئے آیت بالا میں دو باتیں ذکر فرمائیں اولاً رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ہم نے آپ سے پہلے بڑی تعداد میں رسول بھیجے جن میں سے بعض کا تذکرہ ہم نے آپ سے کردیا اور بعض کا تذکرہ نہیں کیا۔ جن حضرات کا تذکرہ فرمایا ہے سورة بقرہ، سورة مائدہ، سورة انعام اور سورة اعراف و سورة ہود اور سورة الانبیاء میں اور بعض دیگر سورتوں میں مذکور ہیں یہ اس کے معارض نہیں ہے کہ اجمالی طور پر ان حضرات کی تعداد سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو باخبر فرما دیا ہو تفصیلی اخبار و آثار کا بیان نہ فرمانا اجمالی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–78

حیرت واستعجاب بر جدال مجادلین ومکذبین ووعید از غذاب آخرت : قال اللہ تعالیٰ : الم تر الی الذین یجادلون ...... الی ...... وخسرھنا لک المبطلون “۔ (ربط) آیات سابقہ میں حق تعالیٰ نے اپنے انعامات اور دلائل قدرت کا ذکر فرما کر کفر ونافرمانی اور شرک پر وعید وتنبیہ فرمائی تھی اور یہ کہ فطرت اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ خدائے وحدہ لاشریک لہ پر ایمان لائے، اب ان آیات میں جدال وخصومت کرنے والے منکرین پر تعجب وحیرت کا اظہار فرمایا جارہا ہے، اور بتایا جارہا ہے، ارشاد فرمایا کیا نہیں دیکھا آپ نے ان لوگوں کا حال جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، عجیب بات ہے یہ کہاں بھٹک رہے ہیں بیشک جن لوگوں نے اس کتاب یعنی قرآن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

72:۔ ” ولقد ارسلنا “ یہ دلیل نقلی کا اعادہ ہے۔ یہ دلیل نقلی اجمالی ہے تمام انبیاء (علیہم السلام) سے۔ تمام گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کو اسی دعوے کے ساتھ بھیجا گیا۔ ان میں سے بعض کا ذکر ہم نے آپ سے کیا ہے اور بعض کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن ہر حال دعوت سب کی ایک ہی تھی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ لہذا حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکارو۔ ” وما کان لرسول الخ “ یہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ مشرکین ازراع عناد کہتے ہم تب مانیں گے اگر پیغمبر (علیہ السلام) ہمیں مطلوبہ معجزہ دکھائے فرمایا معجزہ دکھانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں کہ جب کوئی اس سے مطالبہ کرے فورًا دکھا دے، بلکہ معجزہ اللہ کے اختیار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 69–78

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے سلسلے میں اپنی قدرت کی کچھ نشانیوں میں انسانی تخلیق کے مختلف ادوار کا بیان ہوا زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنانے کا تذکرہ ہوا ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور پاکیزہ روزی عطا کی اور ساتھ یہ بھی کہ موت وحیات کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی تلقین کی کہ ان دلائل قدرت میں غور وفکر کے توحید الہی کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ ّ (آیات الہی میں جھگڑا) اب آج کے درس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ واضح نشانیوں کے باوجود یہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْہُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْہُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ۝ 0 ۭ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَۃٍ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ۝ 0 ۚ فَاِذَا جَاۗءَ اَمْرُ اللہِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ ہُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۝ 78ۧ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 77–78

ترکیب : فا ما ان شرطیۃ وما مزیدۃ لتاکید الشرط فالینا یرجعون جواب نتوفینک و جواب نرینک محذوف مثل فذاک ویمکن ان یکون جوابا لھما بمعنی ان نعذبھم فی حیاتک اولم نعذبھم فانا نعذبھم فی الآخرۃ اشد العذاب ویدل علیٰ شدتہ الاقتصار بذکر الرجوع فی ھذا المعرض بیضاوی۔ تفسیر : اول اس سورة سے لے کر یہاں تک آیات اللہ میں جھگڑنے والوں کی برائی اور ان کے طریقہ کی مذمت تھی، اس جگہ اپنے رسول کو ان کی ایذائوں پر صبر کرنے کا حکم دیتا ہے اور منکروں کو ایک آنے والی مصیبت سے خبردار کرتا ہے کہ آپ صبر کیجئے، کیونکہ اگر آپ کی زندگی میں کفار کو بعض آنے والی مصیبت دکھاویں جیسا کہ بدر کے روز کا معاملہ تو فھو المراد آپ بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّنْ قَبْلِکَ مِنْھُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ ط وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیـَۃٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ ج فَاِذَا جَـآئَ اَمْرُاللّٰہِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ ھُنَالِکَ الْمُبْطِلُوْنَ ۔ (المؤمن : 78) (اے پیغمبر ! ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے جن میں سے بعض کے حالات ہم نے آپ کو سنا دیئے اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کے حالات آپ کو نہیں سنائے، کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ کوئی نشانی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر لاسکے، پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کردیا گیا اور اس وقت اہل باطل خسارے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 77–78

فہم القرآن ربط کلام : ٹھوس دلائل اور پُر خلوص کوشش کے ساتھ سمجھانے کے باوجود جو لوگ نصیحت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو اے نبی ﷺ آپ کو صبر سے کام لینا اور اپنے رب کے حکم کا انتظار کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ اپنا کام اور آرام چھوڑ کر دن، رات اس کوشش میں لگے رہتے کہ لوگ ہدایت پاجائیں۔ لیکن آپ کے مخاطب ہدایت حاصل کرنے کی بجائے آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں پر ہر قسم کی زیادتیاں کرتے۔ جس پر آپ ﷺ کو رنج پہنچتا اور آپ سوچتے کہ یہ کیسے ناہنجار لوگ ہیں کہ میں کسی مفاد کے بغیر ان کے لیے رات، دن ایک کیے ہوئے ہوں۔ لیکن یہ ” اللہ “ کا قرآن سمجھنے کی بجائے اس سے مزید دور ہورہے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

رسول تو پہلے بھی آئے مگر معجزہ ظاہر کرنا ان کے اختیار میں تھا : وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ (اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر بھیجے) ان کی امتوں کی طرف۔ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ (جن میں سے بعض تو وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے آپ سے بیان کردئیے اور بعض وہ ہیں جن کا واقعہ ہم نے آپ سے بیان نہیں کیا) ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار پیغمبر بھیجے جن میں چار ہزار بنی اسرائیل میں سے اور چار ہزار دیگر تمام انسانوں میں سے۔ قول علی ؓ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسود کو پیغمبر بنایا پس وہ ان میں سے ہے جس کا واقعہ قرآن میں بیان نہیں کیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 77–78

(76۔ 77) ۔۔۔۔۔۔ ، ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبیرین فاصبران وعداللہ ، آپ کی مدد کرنے کا۔ ، حق فامانرینکم بعض الذی نعدھم، آپ کی زندگی میں عذاب کا۔ ، اونتوفینک ، ان پر عذاب نازل کرنے سے پہلے۔ ، فالینا یرجعون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–78

69۔ 78۔ مشرکین مکہ یوں تو سارے قرآن کو کلام الٰہی نہیں مانتے تھے لیکن حشر اور قیامت کا ذکر جن آیتوں میں ہوتا تھا یا جن آیتوں میں شرک کی مذمت ہوتی تھی خاص کر ایسی آیتوں میں یہ لوگ بڑا جھگڑا کیا کرتے تھے اللہ نے اوپر کی آیتوں میں انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا تاکہ ان مشرکوں کی سمجھ میں آجائے کہ حضرت آدم کی پیدائش تو حشر کے نمونہ کے طور پر ہے کہ خاک کا پتلا بنایا گیا اور اس پتلے میں پھر روح پھونک دی گئی اور اولاد آدم کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت جتلانے کے لئے حشر کے نمونہ سے بھی مشکل طریقہ کو اختیار فرمایا ہے کہ مٹی کے اثر سے طرح طرح کے اناج اور ترکاریاں اور کھانے کی چیزیں پیدا ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 78–80

آیت 78 یعنی آپ سے پہلے بھی ہم نے بہت سے رسول ان کی قوموں کی طرف مبعوث فرمائے۔ جو انہیں توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کی ایذا راسنی پر صبر کرتے تھے۔ (منھم من قصصنا علیک) جن میں سے کچھ کے بارے میں ہم نے آپ کو خبر دی (ومنھم من لم نقصص علیک) ” اور کچھ ایسے ہیں جن کے حالات ہم نے آپ پر بیان نہیں کئے۔ “ تمام انبیاء اور رسول اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہیں انکے اپنے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ تمام رسولوں میں سے کسی کے اختیار میں نہیں (آیت) ” کہ وہ کوئی نشانی، معجزہ لائے۔ “ یعنی ان رسولوں کے اختیار میں نہیں کہ وہ سمعی یا عقلی نشانی لاسکیں۔ (الا باذن اللہ) مگر اللہ کی مشیت اور اس کے حکم سے، اس لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–85

دعا ہی عبادت ہے قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

145 رسولوں کا ذکر برائے تسلیہ و تسکین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ سے پہلے کتنے ہی رسول بھیجے جن میں سے کچھ کے حالات ہم نے آپ کو سنائے اور کچھ کے حالات ہم نے آپ کو نہیں بتائے "۔ چناچہ قرآن پاک میں مجموعی طور پر صرف پچیس انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں جبکہ مسند امام احمد کی روایت کے مطابق حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے فرمایا کہ اللہ پاک نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا ہے جن میں سے رسول تین سو پندرہ ہوئے ہیں ۔ باقی سب نبی تھے ۔ مگر ان کے تفصیلی حالات تو کیا ان سب کے ناموں کا بھی پتہ نہیں۔ اور قرآن و سنت میں ان میں سے ایک محدود عدد کے سوا کسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–85

جھٹلانے والوں کا انجام تشریح : یہ ان بدنصیب لوگوں کی داستان ہے جن کو پیغمبروں نے ہدایت کی طرف بلایا توحید کی دعوت دی ‘ توحید کی خوبیاں بتائیں ‘ اللہ سے ڈرایا ‘ برے کاموں سے منع کیا اور بار بار دلیلوں کے ساتھ سمجھایا کہ برے کام نہ صرف دنیا میں ہی نقصان دیتے ہیں بلکہ آخرت کو بھی خراب کردیتے ہیں۔ جہنم کے عذاب کا نقشہ بیان کیا جس کو اگر انسان غور ‘ یقین اور توجہ سے دیکھے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔ مـگر کفار پہلے بھی اب بھی اور آئندہ بھی شیطان کی گرفت میں اتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ روشنی اور ہدایت کی بات ان پر اثر ہی نہیں کرتی بلکہ الٹا پیغمبروں کو ہی جھٹلاتے ہیں مذاق اڑاتے ہیں اور نیکی سے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–78

رکوع نمبر 8: آیات 69 ۔ تا۔ 78: اسرار و معارف ؛ ذرا ان لوگوں کو دیکھ جو ایسے عظیم پروردگار کے احکام کا انکار کرتے ہیں بلکہ اپنی خرافات کو درست منوانے پہ زور لگا رہے ہیں یہ کس قدر گمراہ ہیں اور بھٹک رہے ہیں کہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کا انکار کرتے ہیں جس میں جو کچھ ارشاد ہے سراسر حق ہے اور یونہی پھینک نہیں دی اللہ نے اپنا رسول مبعوث فرمایا کتاب کے ساتھ کہ اس کی شرافت نیکی اور ورع تقوی مثالی ہے مگر انہیں کچھ اثر نہیں تو اس کا نتیجہ بھی بہت جلد ان کے سامنے آجائے گا جب ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر اور انہیں زنجیروں میں جکڑ کر دوزخ کے کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا اور پھر دوزخ کے بھڑکتے شعلوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی بعض کا تفصیلی حال بیان کیا اور بعض کا نہیں کیا۔ بہر حال سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں : یہ یعنی لم نفص ان پیغمبروں ﷺ سے کئی گنا کثیر تعداد میں ہیں جن کے احوال قرآن میں مذکور ہیں۔ جیسا کہ سورة نساء آیت 64 میں اس پر تنبیہ گزر چکی ہے۔ ( واللہ الحمد وامنہ) کسی قوم کے کسی قدیم رہنماء کے متعلق ( جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہو کر گزرے ہیں) قطعی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ وہ نبی نہ تھا۔ ممکن ہے کہ وہ نبی ہو اور اس نے توحید ہی کی دعوت پیش کی ہو مگر بعد کے لوگوں نے اس کی تعلیمات کو مسخ کردیا۔13 مطلب یہ ہے کہ معجزہ کوئی کھیل نہیں کہ کافروں نے جب چاہا نبی ﷺ سے اس کا مطلب کردیا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 78–79

(40:78) وما کان لرسول ۔۔ باذن اللّٰہ۔ میں ایۃ سے مراد عجزہ ہے۔ ترجمہ یہ ہے کہ : اور کسی رسول کا یہ مقدور نہیں کہ وہ کوئی معجزہ بدون اذن الٰہی ظاہر کرسکے۔ یعنی کوئی رسول کوئی معجزہ صرف اس وقت ظاہر کرسکتا ہے جب اللہ چاہتا ہے کہ وہ معجزہ کسی منکر منکر قوم کو دکھایا جائے۔ کیونکہ معجزہ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک فیصلہ کن چیز ہے کیونکہ جب ایک قوم اس کے دکھائے جانے کے بعد بھی نہیں مانتی تو پھر اس کا خاتمہ کردیا جاتا ہے۔ یعنی ان کے انکار حق پر قضی بینھم بالحق وخسرھنالک المبطلون۔ کا معاملہ وقوع پذیر ہوجانا ہے تو فیصلہ حق کے مطابق کردیا جاتا ہے اور باطل پرست پھر گھاٹا کھانے والے ہی ہوتے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–78

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) اللہ تعالیٰ نے پچھلے نبیوں اور رسولوں کا تذکرہ فرما کر نبی ﷺ کی تسکین فرمائی کہ ہمیشہ سے اللہ کے نبی اور رسول آتے رہے اور منکر لوگ ان سے جھگڑا کرتے آئے ہیں اور وہ وقت مقررہ آنے کے ساتھ ہی اس طرح فیصلہ اللہ کی طرف سے ہوا ہے جس سے منکروں کو بڑا نقصان پہنچا ہے اور بعض پچھلے نبی اور رسولوں کا حال تو اللہ نے اپنے کلام میں مثال کے طور پر جگہ جگہ ذکر فرمایا ہے اور کتنے ہی نبی اور رسولوں کا ذکر بھی نہیں فرمایا۔ (ف 1) شان نزول : کافر مسخراپن کے طور پر نئے نئے معجزے مانگتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 75–78

[26] مشرکین مکہ نبی ﷺ سے کہتے تھے کہ ہم تم کو اللہ کا رسول اس وقت مانیں گے جب تم ہمیں فرمائشی معجزہ دکھاؤ گے۔ اس کا جواب ان کے مطالبے کو نقل کئے بغیر یہاں دیا گیا ہے۔ [27] مطلب یہ ہے کہ معجزہ ایک فیصلہ کن چیز ہے اور اس کے دکھائے جانے کے بعد جب کوئی قوم ایمان نہیں لاتی تو پھر وہ ختم کردی جاتی ہے۔ لہذا کفار کا فرمائشی معجزوں کا تقاضا کرنا خود اپنی شامت کو بلانا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

بعض انبیاء کا ذکر قرآن میں نہیں ہے 1: چونکہ قرآن عربوں میں نازل ہوا ۔ اور عربی زبان میں نازل ہوا اس لئے ضروری تھا ۔ کہ اس میں انہیں انبیاء کا تذکرہ ہو جن سے ان کے گوش آشنا ہوں ۔ اور جن کے متعلق انہیں کچھ بیوقوف ہو اس لئے جمیعا قرآن حکیم نے اس التزام کو قائم رکھا ہے ۔ گو کہ اس نے اس نظریہ کو بڑے زور کے ساتھ اشاعت کی ۔ کہ مذہب کس مرزویوم کے ساتھ مختص نہیں اور کائنات میں ہر جگہ اللہ کے پیغمبر آئے ۔ پھر بھی ان سے شامی انبیاء کا زیادہ تر ذکر کیا ہے ۔ کہ یہودی اور عیسائی انہیں پاکبازوں کے حالات سے واقف تھے ۔ اور ان کے لئے انہیں حضرات کا اسوہ پاک قابل تقلید ومتبع قرار دیا جاسکتا تھا ۔ اس آیت میں اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(78) اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیجے ہیں جن میں سے کچھ تو وہ ہیں جن کے حالات ہم نے آپ سے بیان کردیئے ہیں اور بعض وہ ہیں جن کا بیان ہم نے آپ سے نہیں کیا اور کسی رسول کو یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی معجزہ لاسکے اور دکھا سکے پھر جس وقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کا حکم آگے گا تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت جھوٹے اور بےہودہ گو سخت خسارے میں رہیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کی تعداد علی اختلاف الروایات خواہ کچھ ہو لیکن آپ سے پہلے بہت سے رسول آچکے پھر ان میں سے کسی کا حال آپ کو بتادیا گیا اور بعض کا نہیں بھی بتایا بہرحال ایک چیز سب میں مشترک ہے وہ یہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کتنے انبیاء ورسل بھیجے گئے بعض کا ہم نے ذکر کیا اور بعض کے ذکر کو چھوڑ دیا 78۔ یہ مضمون اکثر بیان ہوا ہے جو زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا کہ آپ اے پیغمبر اسلام کوئی نئے رسول نہیں اور نہ ہی آپ کی قوم کوئی نئی قوم ہے آپ سے پہلے کتنے ہی رسول بھیجے گئے جن میں سے بعض کا ذکر نام بنام قرآن کریم میں کیا گیا اور اکثر کا ذکر چھوڑ دیا گیا اور مجمل طور پر ان کا نام لیا گیا۔ پھر جن رسولوں کا نام لیا گیا ان کی قوموں کا تذکرہ بھی کیا گیا اور ان کا رویہ بھی آپ کو بتایا گیا اور پھر ان سب کا انجام بھی تم پڑھ چکے ہو کہ رسولوں کو جھٹلانے والوں کی عام روش یہی رہی ہے کہ جب ان کے رسول نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو قوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–83

Commentary In verse 83, it was said: فَرِ‌حُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ (they exulted because of whatever of knowledge they had,) that is, when the messengers of Allah Ta’ ala came to these deniers, who were utterly oblivious to their end, with clear arguments in favor of tauhid (Oneness of Allah) and 'iman (faith), they took their knowledge to be better and truer than the knowledge brought by prophets, and started rejecting what they said. What was this knowledge with which the disbelievers were exultant to the extent that they would even reject the body of knowledge brought by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

107 A new theme starts from here. The disbelievers of Makkah said to the Holy Prophet, "We would not believe you to be Allah's Messenger unless you showed us the miracle that we ask you to show us." In the following verses an answer is being given to this very demand without mentioning it. (For the type of the miracles they demanded, see Hud: 12, Al-Hijr 7, Bani Isra'il: 90-93, Al-Furqan: 21 and the E.N.'s thereof). 108 That is, "No Prophet ever showed a miracle by his own will and desire, nor had any Prophet the power to show a miracle by himself. Whenever a miracle was shown through a…

Read the full tafseer →