Explained with ayahs 61–65
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 92
یعنی اصلی اور حقیقی زندگی اسی کی ہے۔ اپنے بل پر آپ زندہ وہی ہے۔ ازلی و ابدی حیات اس کے سوا کسی کی بھی نہیں ہے۔ باقی سب کی حیات عطائی ہے، عارضی ہے، موت آشنا اور فنا در آغوش ہے۔
سورة الْمُؤْمِن 93
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الزُّمُر، حاشیہ 3۔ 4۔
سورة الْمُؤْمِن 94
یعنی کوئی دوسرا نہیں ہے جس کی حمد و ثنا کے گیت گائے جائیں اور جس کے شکرانے بجا لائے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
(آیت) وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ۔ انسان کی صورت کو اللہ تعالیٰ نے سب جانوروں سے ممتاز، اعلیٰ اور بہتر ہئیت میں بنایا ہے۔ اس کو سوچنے سمجھنے کی عقل عطا فرمائی۔ اس کے ہاتھ پاؤں ایسے بنائے کہ ان سے طرح طرح کی اشیاء و مصنوعات بنا کر اپنی راحت کے سامان پیدا کرلیتا ہے۔ اس کا کھانا پینا بھی عام جانوروں سے ممتاز ہے وہ اپنے منہ سے چرتے اور پیتے ہیں یہ ہاتھوں سے کام لیتا ہے۔ عام جانوروں کی غذا مفردات سے ہے، کوئی گوشت کھاتا ہے کوئی گھاس اور پتے اور وہ بھی بالکل مفرد بخلاف انسان کے کہ یہ اپنے کھانے کو مختلف قسم کی چیزوں پھلوں، ترکاریوں، گوشت اور مصالحہ سے لذیذ و مرغوب بنا کر کھاتا ہے۔ ایک ایک…
Read the full tafseer →یعنی حقیقی زندہ اور زندگی بخش وہی ہے۔ اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ، جیسا کہ دوسرے مقام میں ارشاد ہوا ہے، ’ اموات غیر احیاء ‘ زندگی سے محروم مردے ہیں۔ وہ نہ سنتے ہیں نہ کسی کی مدد کرسکتے ہیں۔ ان کو پکارنا بالکل لاحاصل ہے تو اللہ ہی کو پکارو اور پورے اخلاص کے ساتھ اسی کی اطاعت کرو۔ اس لئے کہ شکر کا سزاوار اللہ ہی ہے جو تمام عالم کا رب ہے۔
Read the full tafseer →65۔ 1 یعنی جب سب کچھ کرنے والا اور دینے والا وہی ہے دوسرا کوئی بنانے میں شریک ہے نہ اختیارات میں تو پھر عبادت کا مستحق بھی صرف اک اللہ ہی ہے، دوسرا کوئی اس میں شریک نہیں ہوسکتا۔ استمداد و استغاثہ بھی اسی سے کرو کہ وہی سب کی فریادیں اور التجائیں سننے پر قادر ہے دوسرا کوئی بھی مافوق الاسباب طریقے سے کسی کی بات سننے پر قادر ہی نہیں ہے جب یہ بات ہے تو دوسرے مشکل کشائی اور حاجت روائی کس طرح کرسکتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
17: مشرکین عرب مانتے تھے کہ آسمان و زمین سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی سی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جو ذات اتنی عظیم الشان چیزیں عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ چنانچہ اس واضح بات کا بھی وہ انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
آیت نمبر 65 تا 66
یہ اعلان ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی آیات سے منہ موڑتے ہیں اور اللہ کے عطیات کی ناشکری کرتے ہیں ، کہ میں تو ان معبودوں کی بندگی سے منع کردیا گیا ہوں جن کو تم پکارتے ہو۔ لہٰذا میں منع ہوگیا ہوں۔ اس لیے کہ میرے پاس نشانات آگئے ہیں اور آئے بھی میرے رب کی طرف سے ہیں۔ میرے پاس دلائل پہنچ چکے ہیں اور میں ان پر ایمان لاچکا ہوں۔ اور اللہ نے میرے پاس جو دلائل بھیجے ہیں ، ان کا حق ہے کہ میں ان پر مطمئن ہوجاؤں اور تصدیق کردوں اور اس سچائی کا اعلان کردوں جو میرے پاس آگئی ہے۔ اور غیر اللہ کی بندگی سے رک جانا ہی کافی نہیں بلکہ رب العالمین کے سامنے سر تسلیم خم کردینا اور ایک مثبت پروگرام…
Read the full tafseer →9 جس پر کسی حیثیت سے کبھی فنا اور موت طاری نہیں ہوئی نہ ہوسکتی ہے۔ اور ظاہر ہے جب اس کی حیات ذاتی ہوئی، تو تمام لوازم حیات بھی ذاتی ہوں گے۔1 کمالات اور خوبیاں سب وجود حیات کے تابع ہیں۔ جو حی علی الاطلاق ہے وہ ہی عبادت کا مستحق اور تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہوگا۔ اسی لیے ہوالحی کے بعد " الحمد للہ رب العالمین " فرمایا جیسا کہ پہلی آیت میں نعمتوں کا ذکر کر کے " فتبارک اللہ رب العالمین " فرمایا تھا۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ " لا الہ الا الہ " کے بعد الحمدللہ رب العالمین کہنا چاہیے۔ اس کا ماخذ یہ ہی آیت ہے۔
Read the full tafseer →آیت 65 { ہُوَ الْحَیُّ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَ } ”وہ زندہ وجاوید ہستی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں“
ایک وہی ذات ہے جو خود زندہ ہے ‘ صرف اسی کی حیات ذاتی ہے۔ باقی زندگی جہاں بھی ہے ‘ جس شکل میں بھی ہے اسی کی عطا کردہ ہے۔ ہمیں بھی زندگی کے یہ چار دن اسی نے مستعار دیے ہیں۔ ع ”عمر ِدراز مانگ کے لائے تھے چار دن !“
{ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ } ”پس اسی کو پکارو ! اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔“
نوٹ کیجیے ‘ پھر وہی حکم دہرایا جا رہا ہے کہ دعا اسی سے مانگو ‘ وہ قبول بھی کرے گا ‘ مگر شرط یہ ہے کہ تمہاری اطاعت خالص اسی کے لیے ہونی چاہیے۔
{ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن } ”کل…
Read the full tafseer →87 اللہ کی صفات ازلی اور انبدی ہیں :۔ وہی ایک ذات ایسی ہے کہ ازل سے زندہ ہے اور ابدا لآباد تک زندہ رہے گی۔ باقی سب چیزیں حادث ہیں اور وہ کسی نہ کسی وقت فنا سے دوچار ہوجائیں گی خواہ وہ جاندار ہیں یا بےجان۔ باقی تمام جانداروں کی زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے جب کہ اس کی زندگی ذاتی ہے۔ لہذا اصل میں زندہ کہلانے کا وہی مستحق ہے پھر جس طرح اس کی زندگی ازلی اور انبدی ہے اسی طرح اس کی دوسری تمام صفات بھی ازلی ابدی ہیں۔ اور معبود برحق صرف وہی ذات ہوسکتی ہے جس کی حیات اور دوسری صفات مستقل اور دائمی ہوں۔ دوسرے کسی الٰہ میں یہ صفات موجود نہیں ہیں۔
88 اس کی تشریح کے لئے سورة زمر کی آیت نمبر 2 اور 3 کا…
Read the full tafseer →64۔ (اور مخلوق کا ہر ظاہری کمال حقیقتہ اسی کمال خداوندی کا پر تو ہے) (آیت) ” ھوالحی ........ ھو۔ یعنی صفت حیات صرف اسی مالک، مولی کا خاصہ ہے۔ حیات ازلی وابدی میں اس کا کوئی شریک نہیں نہ مسیح نہ کوئی اور۔ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس حی وقیوم کو کبھی فناء نہیں اسے کہیں مشرک جاہلی قوموں کی دیویوں دیوتاؤں پر نہ قیام کربیٹھنا، جن کا حادث وفانی ہونا خود انہیں مسلم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیت نمبر 61 تا 68
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے رات بنادی تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرو، اور ان کو دیکھنے والا (روشن) بنادیا، مُبْصِرًا کی اسناد نہار کی جانب مجازی ہے، اس لئے کہ اس میں دیکھا جاتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل و کرم والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر گذاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم ایمان سے دلیل کے باوجود کہاں الٹے چلے جارہے ہو ؟ اسی طرح یعنی ان لوگوں کے الٹے چلنے کے مانندوہ لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی آیتوں یعنی معجزات کا انکار کیا کرتے تھے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قیام گاہ…
Read the full tafseer →ھو الحی لا الہ الا ھو وہی زندہ ہے ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یعنی اس کی حیات ذاتی ہے ‘ وہ حیات ذاتی میں
منفرد ہے (اس کی حیات مستعار اور کسی کی عطا کردہ نہیں ہے) وجود اس کا تقاضاء ذات ہے اور واجب ہے ‘ وجود اور وجوب اگرچہ اس کی صفات کمالیہ ہیں ‘ لیکن (جس طرح دوسری صفات اس کی ذات کا پرتو ہیں ‘ اسی طرح) وجود و وجوب بھی اس کی ذات کے پرتو ہیں۔
فادعوہ مخلصین لہ الدین سو تم (سب) لوگ خالص اعتقاد کر کے اسی کو پکارو۔
فَادْعُوْہُ یعنی اس کی عبادت کرو ‘ اپنی ہر حاجت اسی سے ہی مانگو۔
فَادْعُوْہُ میں فَ سببی ہے (یعنی سابق کلام فَ سے بعد والے کلام کا سبب ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ کی صفات مذکورہ اس امر کی موجب…
Read the full tafseer →وہ حی لا یموت ہے اس کے علاوہ اور کوئی یہ کام نہیں کرسکتا اس کی توحید کا سچا اقرار کرلو اور خالص اعتقاد کر کے اسی کی عبادت کرو۔ تمام خوبیاں اور خدائی اسی اللہ کے لیے ہے جو کہ ہر اس جاندار کا بھی اللہ ہے جو روئے زمین پر رہتا ہے۔
Read the full tafseer →(1) ھو الحی لا الہ الا ھو :”الحی“ خبر پر الف لام نے کلام میں حصر کا مفہوم پیدا کردیا ہے کہ وہی زندہ ہے، یعنی ہمیشہ سے زادہ اور ہمیشہ زندہ رہنے والا وہی ہے، تو عبادت کے لائق بھی وہی ہے۔ اس کے سوا سب موت کی وادی سے وجود میں آئے ہیں اور موت کی آغوش میں جانے والے ہیں۔ تو مرنے والے عبادت کے حق دار کیسے بن گئے ؟ مزید دیکھیے آیت الکرسی (بقرہ : 255) اور سورة نحل (21) کی تفسیر۔
(2) فادعوہ مخلصین لہ الذین : تفصیل کے لئے دیکھیے سورة اعراف (29) اور سورة مومن (14) کی تفسیر۔
(3) الحمد للہ رب العلمین : یعنی جب یہ سب نعمتیں اس اکیلے کی عطا کردہ ہیں اور یہ سب اوصاف اور خوبیاں اس اکیلے میں پائی جاتی ہیں جو رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
اللہ الذی جعل لکم الارض قرارا تعریف اور دلیل کی تاکید میں زیادتی کی، زمین کو تمہاری زندگی اور تمہاری موت کے بعد ٹھکانہ بنائو یا والسماء بناء کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔
وصور کم فاحسن صور کم یعنی تمہیں بہترین صورت میں پیدا کیا۔ ابو رزین اشہب عقیلی نے صور کم پڑھا ہے۔ جوہری نے کہا : صور میں صور بھی ایک قرأت ہے یہ صورۃ کی جمع ہے اس شعر کو اس لغت میں پڑھا جاتا ہے وہ لونڈیوں کی تعریف کرتا ہے :
اشبھن من بقر الخلصا اعینھا وھن احسن من صیرانھا صورا
محل استدلال صور ہے صیران یہ صوار یا صوار کی جمع ہے یہ گائیوں کا ریوڑ ہے صوار کا معنی کستوری کا برتن بھی ہے شاعر نے دونوں کو اس شعر میں جمع کیا :
اذا اخ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو آدمی ” لا الہ الا اللہ “ کہتے تو اس کو چاہئے کہ اس کے پیچھے (آیت ) ” الحمد للہ رب العلمین “ بھی کہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” فادعوہ مخلصین لہ الدین، الحمد للہ رب العلمین “ کا یہی مطلب ہے (تم سب لوگ خاص اعتقاد کرکے اسی کو پکارو ساری خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ جب کوئی کہے ” لا الہ الا اللہ “ تو اس کے پیچھے (آیت ) ” الحمد للہ رب العلمین “ کہے پھر…
Read the full tafseer →هُوَ الْـحَيُّ [وہ ہی (حقیقتا ) زندہ ہے ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ [ مگر وہ ] فَادْعُوْهُ [ تو تم لوگ پکارو اس کو ] مُخْلِصِيْنَ [ خالص کرنے والے ہوتے ہوئے ] لَهُ الدِّيْنَ ۭ[ اس کے لئے دین کو ] اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ [ تمام شکر و سپاس اللہ کے لئے ہے ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ جو تمام جہانوں کا رب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، لیل و نہار، ارض و سماء اسی نے پیدا فرمائے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کبیرہ اور اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائیں، ارشاد فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات دن بنائے رات میں آرام کرتے ہو سکون اور چین سے رہتے ہو اور دن کو ایسی چیز بنا دی جس میں دیکھتے بھالتے ہو آتے جاتے ہو رزق تلاش کرتے ہو، رات اور دن دونوں اس کی بڑی نعمتیں ہیں لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔
اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رب ہے وہ ہر چیز کو پیدا فرمانے والا ہے اسی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ان باتوں کا تقاضا ہے کہ تم اسی کی طرف متوجہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
بیان انعامات خداوندی وذکر دلائل قدرت واسباب معرفت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الیل ...... الی ...... کن فیکون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کی نصرت و کامیابی کا قانون بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو بشارت دی تھی اور ساتھ ہی ساتھ تسلی بھی کی گئی، اور صبر و استقامت کی تلقین فرمائی، اب ان آیات میں اپنے انعامات عامہ اور خاصہ کا ذکر فرمایا، تاکہ ان سے اللہ کی معرفت حاصل ہو، اس کی قدرت کاملہ پر ایمان لایا جائے تو فرمایا، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے آرام کے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور اس نے دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
64:۔ ” اللہ الذی “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار اور آسمان کو چھت بنا دیا اور تمہیں نہایت ہی ھسین و جمیل شکل و صورت میں پیدا فرمایا اور تمہیں نہایت عمدہ اور پکایزہ چیزوں سے تمہیں روزی عطا فرمائی۔ ” ذلکم اللہ ربکم “ یہ دلیل ثانی کا ثمرہ ہے۔ یہ اللہ جو صفات بالا سے متصف ہے وہی تمہارا رب اور کارساز ہے۔ کیسا عالیشان ہے وہ اللہ برکات دہندہ، جگ داتا، سارے جہانوں کا پروردگار۔ ” ھو الحی الخ “ اس کے علاوہ وہ زندہ جاوید ہے اس پر کبھی موت نہیں آئے گی اس کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ ” فادعواہ مخلصین لہ الدین “ یہ تیسری بار دعوائے سورت کا ذکر ہے۔ فاء فصیحہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ ہدایت اور گمراہی کی وضاحت بھی کی گئی تھی قیامت کے برحق ہونے کی بات تھی اور دعا کا مسئلہ بھی بیان ہوا تھا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر وقت اس کے دامنے دت بدعا رہو ، جو شخص تکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے گریز کریگا ، اس کو ذلیل و خوار کر کے جہنم میں داخل کیا جائیگا ۔
جیسا کہ سورة کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے ، حوامیم کی ساری سورتیں اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت اور معاد پر مشتمل ہیں چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی مضمون مختلف انداز سے بیان ہو رہے ہیں توحید کا مسئلہ…
Read the full tafseer →ہُوَالْـحَيُّ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَفَادْعُوْہُ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ 0 ۭ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 65
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
تفسیر : جبکہ یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ کو پکارا کرو کہ وہ تمہارا کہنا سنتا ہے، تمہاری مرادیں دیتا ہے تو مناسب ہوا کہ ان مشرکین کو کہ جن کے مقابلہ میں کلام ہورہا ہے اور جو اوہام باطلہ کی پرستش صرف دنیاوی کامیابیوں کے لیے کرتے تھے، دو باتیں بتلائی جائیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ موجودو قادر مطلق بھی ہے کہ نہیں کس لیے کہ اوہام عامہ اس کے محسوس نہ ہونے سے پیشتر تردد میں پڑجاتے ہیں اور اس لیے اپنے تراشیدہ معبودوں کو جو ان کے سامنے موجود دکھائی دیتے ہیں، پوجتے ہیں پس اللہ الذی الخ ان آیات میں دلائل وبراہین سے خدا تعالیٰ کا وجود اور متصف بصفات معبودیت ہونا ثابت کیا گیا اور خدا تعالیٰ کے آثار و علامات سے…
Read the full tafseer →ھُوَالْحَیُّ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ فَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (المؤمن : 65)
(وہی زندہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس اسی کو پکارو، اسی کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے، ساری تعریف (شکر) اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ )
نتیجہ بحث
گزشتہ آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس سے خودبخود جو نتیجہ نکلتا ہے اس کو اس آیت میں ذکر فرما دیا گیا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ حقیقی زندہ اور زندگی عطا کرنے والا وہی اللہ ہے۔ یعنی اپنے بل پر اور بغیر کسی کی عطا کے وہی زندہ ہے۔ ازلی اور ابدی حیات اس کے سوا کسی کو بھی میسر نہیں۔ اس کے مقابلے میں جن کو تم پکارتے ہو ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
فہم القرآن
ربط کلام : جس ” اللہ “ سے مانگنے اور صرف اس کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی یہ صفت ہے کہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
جس ” اللہ “ نے زمین کو باعث قرار، آسمان کو چھت بنایا اور لوگوں کی بہترین شکلیں بنائیں اور ان کے لیے پاکیزہ رزق کا بندوبست فرمایا وہ بابرکت ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔” اَلْحَیُّ “ کا معنٰی ہے ہمیشہ ہمیش زندہ رہنے والا اور جب تک چاہے مخلوق کو زندہ رکھنے والا۔ اس کے سوانہ کوئی ہمیشہ سے زندہ ہے اور نہ رہے گا اور نہ اس کے سوا زمین و آسمانوں، اور انسان کی شکل و صورت بنانے والا ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی رزق دینے والا ہے۔ وہ اپنی صفات اور ذات میں اکیلا ہے…
Read the full tafseer →هُوَ الْـحَيُّ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ (وہی زندہ ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔ پس اس کو پکارو) ۔ اس کی عبادت کرو۔ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ (خالص اعتقاد کر کے) اطاعت کو شرک و ریاء سے خالص کرنے والے ہو۔ یہ کہتے ہوئے، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (تمام خوبیاں اسی اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہاں کا پروردگار ہے) ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جس نے لا الہ الا للہ کہا پس وہ اس کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، تمام تعریف ہے اللہ کے لیے جو تمام جہانوں کا رب ہے، کہہ لے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
تفسیر (64) ۔۔۔۔۔۔ ، اللہ الذی جعل لکم الارض قرارا، بچھونا، والسماء بنائ، چھت گنبد کی طرح۔
، وصورکم فاحسن صورکم، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ تم کو پیدا کیا پس تمہاری پیدائش کو حسین بنایا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اولادآدم کو سید ھا اور متناسب بنایا کہ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر کھا سکتا ہے اور ابن آدم کے علاوہ جاندار اپنے منہ سے پکڑکر کھاتے ہیں۔ ورزقکم من الطیات، کہا گیا ہے کہ یہ مویشیوں کے رزق کے علاوہ ہے۔ ، ذ(رح) لکم اللہ ربکم فتبرک اللہ رب العلمین ھو الحی لاالہ الا ھو فاد عوہ مخلصین لہ الدین الحمد للہ رب العلمین، فراء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ خبر ہے اور اس میں امر (حکم) پوشیدہ ہے۔ اصل یوں ہے کہ تم اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
61۔ 66۔ اوپر خالص اللہ کی عبادت کا حکم دے کر ان آیتوں میں مثال کے طور پر سمجھانے کے لئے رات دن کے پیدا کرنے کا فضل اور احسان جتایا اور فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی ضرورت کی ہر ایک چیز کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو پھر یہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی خالص عبادت سے کیوں پھرے ہوئے ہیں اور اس کی تعظیم میں دوسروں کو کس استحقاق سے شریک کرتے ہیں کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان کی عادتوں کے لوگ ان سے پہلے گزرچکے ہیں اور ان کا انجام جو کچھ ہوا وہ بھی ان کو کوئی دفعہ سنایا گیا ہے کہ آخر طرح طرح کے عذابوں سے وہ ہلاک ہوگئے اگر یہ لوگ ان کے قدم بہ قدم رہے تو یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
آیت 61
آیات کریمہ میں غور و فکر کیجیے، جو اللہ تعالیٰ کیے بےپایاں رحمت، اس کے لامحدود و فضل و کرم، اس کے لئے و جوب شکر، اس کی قدرت کاملہ، اس کی عظیم طاقت، اس کی وسیع اقتدار، تمام اشیا کو اس کے تخلیق کرنے، اس کی حیات کاملہ اور اس کی تمام صفات کاملہ اور افعال حسنہ سے موصوف ہونے کی بنا پر ہر قسم کی حمد و ثنا سے متصف ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس کی کامل ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کے متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام تدابیر، ماضی، حال اور مستقبل کے اوقات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ہستی کو کوئی قدرت و اختیار نہیں۔ اس سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →121 اللہ ہی زندہ ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے زندہ "۔ کہ اس کی زندگی حقیقی، ذاتی اور دائمی ہے۔ اس کو نہ عدم سابق سے واسطہ نہ لاحق سے۔ اس کو نہ فنا ہے نہ زوال۔ اور یہ شان اس کے سوا اور کسی کی بھی نہیں۔ پس معبود برحق بھی وہی اور صرف وہی ہے۔ اس کے سوا اور کسی کے لئے نہ کسی قسم کی عبادت کا حق ہے نہ جواز۔ پس تم سب لوگ اسی کو پکارو بندگی کو اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے۔ اس کے سوا دوسروں کو جو لوگ پکارتے ہیں وہ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ وہ نہ کسی کی سن سکتے ہیں اور نہ مدد کرسکتے ہیں۔ انکو پوجنا، پکارنا اوہام اور خرافات کی پیروی کے سوا کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
اللہ کی وحدانیت کے دلائل
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں سے چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کی وضاحت پچھلے اسباق میں بڑی اچھی طرح ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔ خالق ومالک ہے۔ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ رازق ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بابرکت ہے۔ تمام جہانوں کا رب ہے۔ سب تعریف اسی کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ ان سے کہہ دو کہ مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان کی پوجا کروں، میں ان کی کیوں پرستش کروں جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
رکوع نمبر 7: آیات 61 تا 68:
اسرار و معارف :
عظمت الہی کو دیکھو وہ ذات کتنی عظیم بھی ہے اور کریم بھی کہ تم آرام کے مھتاج تھے اس نے رات پیدا کردی کہ وقتی طور پر نظام کار رک جاتا ہے اور ایک پرسکون ماحول آرام کے لیے پیدا ہوجاتا ہے بنی آدم آرام کرکے کھوئی ہوئی طاقت بحال کرلیتا ہے پھر ایک موزوں وقفے کے بعد دن کی روشنی میں سارے ہنگامے پلٹ آتے ہیں اور انسان تازہ دم ہو کر کاروبار حیات میں جت جاتا ہے وہ ذات بنی آدم پہ کس قدر مہربان ہے کہ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا اہتمام فرمایا لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ کیسا کریم ہے تمہار اپالنے ولا ا کہ ہر شئے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ف 6 پھر مجھ سے یہ توقع کیوں رکھتے ہو کہ میں تمہارا کہنا مانوں اور تمہارے ان جھوٹے معبودوں کی بندگی کرنے لگوں ؟
Read the full tafseer →(40:65) الحی۔ زندہ۔ حیاۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی سے ہے اللہ کی صفت میں جب حی کہا جائے تو اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ذات اقدس ایسی ہے کہ جس کے لئے موت کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔
مخلصین لہ الدین دین کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے (نیز ملاحظہ ہو 40:14)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
(ف 1) ان آیتوں میں مثال کے طور پر سمجھانے کے لیے رات دن کے پیدا کرنے کا فضل اور احسان جتایا کہ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پیدا کیا کہ تم اس میں تسکین و آرام پاؤ اور دن پیدا کیا کہ چلو پھر کام دھنداکرو، روشنی میں جو کام چاہوانجام دو ، اللہ آدمیوں پر فضل و احسان والا ہے مگر اکثر آدمی شکر نہیں کرتے ایمان نہیں لاتے خدا ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے سب سے برتر ہے سوائے اس کے کوئی معبود خالق نہیں، غور کرو جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی ضرورت کی ہر چیز کو اس چیز کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر یہ کافر لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت سے کیوں پھرے ہوئے ہیں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
[22] یعنی تمہیں سمجھنا چاہئے کہ زندگی کی اتنی حالتوں سے تم گزرتے ہو تو ممکن ہے کہ ایک حالت اور بھی گزرے اور وہ مر کر جی اٹھنا ہے۔ آخر اسے کیوں محال سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →منبع حیات
2: حکمائے مادیت کے نزدیک یہ مسئلہ بہت اہم ہے کہ زندگی اور اصلی ماخذ کون ہے ۔ کیونکہ جہاں تک مادہ کی تقلیات وتصرفات کا تعلق ہے ۔ یہ اپنی ہر منزت اور ہر سٹیج پر بےجان ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے ۔ کہ پھر زندگی آتی کہاں سے ہے ؟ قرآن اس کا جواب دیتا ہے ۔ کہ زندگی کا منج وہ خدائے حق ہے ۔ جس کی وجہ سے کارگاہ حیات میں زندگی کے ہیں ۔ ورنہ مادہ ہزار ارتقاء کے بعد بھی یہ صلاحیت نہیں رکھتا ۔ کہ زندگی کی رمق بھی پیدا کرسکے ۔ فرمایا اس خدائے حقیقی کی عبادت کرو ۔ یہی معبود ہے ۔ اور اسی کے لئے تمام نوع کی ستائشیں ہیں ۔ یہ ساری کائنات کا بلا امتیاز پروردگار ہے ۔
حل لغات :۔ یجحدون ۔ یعنی انکار کرنا…
Read the full tafseer →(65) وہی اللہ تعالیٰ زندہ ہے اس کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں سو تم خالص اسی کی عبادت اور فرمانبرداری کے اعتقاد سے اس کو پکارا کرو تمام تعریفیں اور خوبیاں اسی اللہ تعالیٰ کو سزاوار ہیں جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔
Read the full tafseer →ف 6۔ اور شرک نہ کیا کرو۔
Read the full tafseer →وہی زندہ ہے اور اس سے زندگی ہے وہی تعریفوں کا مالک ہے
65۔ وہ زندہ ہے اور بلاشبہ زندگی اس سے تعبیر ہے اور اس ذات الٰہ کے سوا تم جن جن ہستیوں کو بھی پکارتے ہو وہ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکار اجائے اور ان کے نام کے وظیفے پڑھے جائیں اس کے سوا کوئی پکار کے لائق نہیں اور کسی کو حق نہیں کہ وہ اپنے الٰہ ہونے کا اعلان کرے یا اس کے لیے کوئی خفیہ کوشش میں مصروف ہو کیونکہ وہی ہمیشہ سے زندہ ہے اور وہی ہمیشہ زندہ رہے گا وہ نہ تو کسی کی سنتے ہیں اور نہ ہی کسی کی مدد کرسکتے ہیں ان کو پکارنا لا حاصل ہے جس سے بجائے فائدہ کے سراسر نقصان ہے کہ انسان شرک کے مرتکب ہو کر اپنا سچ کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
Commentary
In verses 71 and 72, it was said: يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ (They will be dragged [ 71] into the hot water after which they will be thrown in the Fire as a fuel.). The word: الْحَمِيمِ (al-hameem) is boiling hot water. The verse seems to suggest that the people of Jahannam will first be put into the hameem, then, into the jahim, that is, the Jahannam. Again, it also seems to suggest that the hameem is somewhere outside the Jahannam. The verse: ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ (Then, their return is but to the Fire - As-Saffat, 37:68)…
Read the full tafseer →92 That is, "His is the real and true life. He only is living by virtue of His own power. No one else has the eternal and everlasting lift but He. All others have borrowed and temporary life, which is destined to death and perishable. "
93 For explanation, see E.N.'s :3, 4 of Az-Zumar.
94 That is, "There is none else the hymns of whose praise may be sung and who may be thanked. "
Read the full tafseer →