Al-Ghaafir 40:64

Al-Ghaafir · from ayah 64

40:64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ— ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ۖۚ— فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ۟اَللّٰهُ الَّذِىۡ جَعَلَ لَـكُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءً وَّصَوَّرَكُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَكُمۡ وَرَزَقَكُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ؕ ذٰ لِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ‌ ۖۚ فَتَبٰـرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ

خدا ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھیرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی خوب بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے۔ پس خدائے پروردگار عالم بہت ہی بابرکت ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is Allah who made for you the earth a place of settlement and the sky a ceiling and formed you and perfected your forms and provided you with good things. That is Allah, your Lord; then blessed is Allah, Lord of the worlds.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 7 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:64

وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور اوپر آسمان کا گنبد بنا دیا جس نے تمہاری صورت بنائی اور بڑی ہی عمدہ بنائی جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا وہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رب ہے بے حساب برکتوں والا ہے وہ کائنات کا رب

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے ٹھیرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی خوب بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے۔ پس خدائے پروردگار عالم بہت ہی بابرکت ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنا دیا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمده عمده چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں، یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے، پس بہت ہی برکتوں واﻻ اللہ ہے سارے جہان کا پرورش کرنے واﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار کی جگہ بنایا، اور آسمان کو ایک گنبد، اور تمہاری صورت گری کی، اور تمہاری صورتوں کو اچھا بنایا، اور پاکیزہ چیزوں میں سے تمہیں رزق عطا کیا۔ وہ ہے اللہ جو تمہارا پروردگار ہے۔ غرض بڑی برکت والا ہے اللہ، سارے جہانوں کا پروردگار !

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین ٹھہراؤ بنائی اور آسمان چھت اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں اور تمہیں ستھری چیزیں روزی دیں یہ ہے اللہ تمہارا رب، تو بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار گاہ بنایا اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں شکل و صورت بخشی پھر تمہاری صورتوں کو اچھا کیا اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی بخشی، یہی اللہ تمہارا رب ہے۔ پس اللہ بڑی برکت والا ہے جو سب جہانوں کا رب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو رہنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورت بنائی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا، یہ ہے اللہ تمہارا رب، سو بہت برکت والا ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو جائے قرار اور آسمان کو (بمنزلہ) چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں تو نہایت عمدہ بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔ یہ (ان صفات کا مالک) ہے تمہارا پروردگار جو بڑا برکت والا اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مستقر اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورت گری کی تو تمہاری صورتیں اچھی بنائیں۔ اور تم کو پاکیزہ چیزوں کا رزق بخشا۔ وہی اللہ تمہارا خداوند ہے۔ پس بڑی ہی بابرکت ذات ہے اللہ، عالم کے خداوند کی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین (کے اس عظیم الشان کرے) کو آرام گاہ بنادیا اور آسمان کو ایک عظیم الشان چھت اور اسی نے صورت گری فرمائی تم سب کی سو اس نے کیا ہی عمدہ صورتیں بخشیں تمہیں اور اسی نے طرح طرح کی پاکیزہ چیزوں سے تمہاری روزی کا سامان کیا یہ ہے اللہ رب تم سب کا سو بڑی ہی برکت والا ہے اللہ پروردگار سب جہانوں کا

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار گاہ بنایا اور آسمان کو چھت اور تمہارا نقشہ بنایا سو تمہارا عمدہ نقشہ بنایا اور تم کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں یہی تو ہے اللہ تمہارا پروردگار سو اللہ سارے عالم کا پروردگار بڑا عالی شان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت اور تمہاری صورت گری کی تو کیا ہی عمدہ تمہاری صورتیں بنائیں اور تمہیں رزق بہم پہنچایا پاکیزہ چیزوں سے۔ تو بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہارے ٹھہرنے کی جگہ بنایا اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور صورتیں بھی اچھی بنائیں۔ تمہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں وہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رب ہے بےحساب برکتوں والا وہ کائنات کا رب ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah it is Who made the earth a dwelling place for you and made the sky a canopy, Who shaped you -- and shaped you exceedingly well -- and gave you good things as sustenance. That is Allah, your Lord; blessed be Allah, the Lord of the Universe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah is the One who made for you the earth a place to live, and the sky a roof, and shaped you, and made your shapes so good – and provided you with a lot of good things. That is Allah, your Lord. So, Glorious is Allah, the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah is the One who made for you the earth a place to live, and the sky a roof, and shaped you, and made your shapes so good – and provided you with a lot of good things. That is Allah, your Lord. So, Glorious is Allah, the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah, it is He Who has made for you the earth as a dwelling place and the sky as a canopy, and has given you shape and made your shapes good and pure (looking) and has provided you with good things. That is Allah, your Lord, so Blessed be Allah, the Lord of all that exists.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah it is Who appointed for you the earth for a dwelling-place and the sky for a canopy, and fashioned you and perfected your shapes, and hath provided you with good things. Such is Allah, your Lord. Then blessed be Allah, the Lord of the Worlds!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is Allah who made for you the earth a place of settlement and the sky a ceiling and formed you and perfected your forms and provided you with good things. That is Allah, your Lord; then blessed is Allah, Lord of the worlds.

— Saheeh International

It is God who has created the earth as a place for you to live and the sky as a dome above you. He has shaped you in the best form and has provided you with pure sustenance. This is God, your Lord. Blessed is God, the Lord of the Universe.

— Muhammad Sarwar

Allah is He Who made the earth a resting-place for you and the heaven a canopy, and He formed you, then made goodly your forms, and He provided you with goodly things; that is Allah, your Lord; blessed then is Allah, the Lord of the worlds.

— Muhammad Habib Shakir

Allah it is Who hath appointed for you the earth for a resting-place and the heaven for a structure, and fashioned you and fashioned you well, and provided you with goodly things. Such is Allah, your Lord. So blessed be Allah, the Lord of the worlds!

— Abdul Majid Daryabadi

It is Allah Who has made for you the earth as a resting place, and the sky as a canopy, and has given you shape- and made your shapes beautiful,- and has provided for you Sustenance, of things pure and good;- such is Allah your Lord. So Glory to Allah, the Lord of the Worlds!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 61–65

احسانات و انعامات کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 89 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد سوم، النمل، حواشی 74۔ 75 سورة الْمُؤْمِن 90 یعنی تمہیں کھلی فضا میں نہیں چھوڑ دیا گیا کہ عالم بالا کی آفات بارش کی طرح برس کر تم کو تہس نہس کردیں، بلکہ زمین کے اوپر ایک نہایت مستحکم سماوی نظام (جو دیکھنے والی آنکھ کو گنبد کی طرح نظر آتا ہے) تعمیر کردیا جس سے گزر کر کوئی تباہ کن چیز تم تک نہیں پہنچ سکتی، حتیٰ کہ آفاق کی مہلک شعاعیں تک نہیں پہنچ سکتیں، اور اسی وجہ سے تم امن و چین کے ساتھ زمین پر جی رہے ہو۔ سورة الْمُؤْمِن 91 یعنی تمہارے پیدا کرنے سے پہلے تمہارے لیے اس قدر محفوظ اور پر امن جائے قرار مہیا کی۔ پھر تمہیں پیدا کیا تو اس طرح کہ ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–68

(آیت) وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ۔ انسان کی صورت کو اللہ تعالیٰ نے سب جانوروں سے ممتاز، اعلیٰ اور بہتر ہئیت میں بنایا ہے۔ اس کو سوچنے سمجھنے کی عقل عطا فرمائی۔ اس کے ہاتھ پاؤں ایسے بنائے کہ ان سے طرح طرح کی اشیاء و مصنوعات بنا کر اپنی راحت کے سامان پیدا کرلیتا ہے۔ اس کا کھانا پینا بھی عام جانوروں سے ممتاز ہے وہ اپنے منہ سے چرتے اور پیتے ہیں یہ ہاتھوں سے کام لیتا ہے۔ عام جانوروں کی غذا مفردات سے ہے، کوئی گوشت کھاتا ہے کوئی گھاس اور پتے اور وہ بھی بالکل مفرد بخلاف انسان کے کہ یہ اپنے کھانے کو مختلف قسم کی چیزوں پھلوں، ترکاریوں، گوشت اور مصالحہ سے لذیذ و مرغوب بنا کر کھاتا ہے۔ ایک ایک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

توحید اور معاد کا مضمون ایک نئے اسلوب سے توحید اور معاد کا وہی مضمون جو اوپر گزرا، ایک نئے اسلوب سے واضح فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو مستقر اور آسمان کو چھت بنایا اور اس طرح تمہارے لئے وہ گہوارہ تعمیر ہوا جس میں تم زندگی بسر کرتے ہو۔ ان دونوں کا تلازم اور ان کی باہمی سازگاری اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ ان دونوں پر ایک ہی خدا کا تصرف ہے۔ اگر ان کے الگ الگ خدا ہوتے تو اس مکان کا تمہاری رہائش کے لئے موزوں ہونا تو درکنار اس کا وجود میں آنا ہی ممکن نہیں تھا۔ پس ثابت ہوا کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے یہ گھر بنایا ہے اور آسمانوں اور زمین دونوں میں اسی کی حکمرانی و کار فرمائی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 63–64

64۔ 1 آگے نعمتوں کی کچھ قسمیں بیان کی جا رہی ہیں تاکہ اللہ کی قدرت کاملہ بھی واضح ہوجائے اور اس کا بلا شرکت غیرے معبود ہونا بھی۔ 64۔ 2 جس میں تم رہتے چلتے پھرتے کاروبار کرتے اور زندگی گزارتے ہو پھر بالآخر موت سے ہمکنار ہو کر قیامت تک کے لیے اسی میں آسودہ خواب رہتے ہو۔ 64۔ 3 یعنی قائم اور ثابت رہنے والی چھت اگر اس کے گرنے کا اندیشہ رہتا تو کوئی شخص آرام کی نیند سو سکتا تھا نہ کسی کے لیے کاروبار حیات کرنا ممکن ہوتا۔ ۔ 64۔ 4 جتنے بھی روئے زمین پر حیوانات ہیں، ان سب میں (تم) انسانوں کو سب سے زیادہ خوش شکل اور متناسب الا، عضا بنایا ہے۔ 64۔ 5 یعنی اقسام و انواع کے کھانے تمہارے لئے مہیا کئے، جو لذیذ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 57–66

17: مشرکین عرب مانتے تھے کہ آسمان و زمین سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی سی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جو ذات اتنی عظیم الشان چیزیں عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ چنانچہ اس واضح بات کا بھی وہ انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 61–64

آیت نمبر 61 تا 64 گزرش لیل ونہار تو دو کائناتی مظاہر ہیں جبکہ زمین آسمان دو کائناتی تخلیقات ہیں۔ ان دونوں کو یہاں ذکر کرکے پھر بتایا جاتا ہے کہ اس لیل ونہار اور ارض وسماء کے اندر اللہ نے تمہاری خوبصورت شکلیں پیدا کیں اور پھر تمہارے لیے اس جہاں میں قسم قسم کے رزق پیدا کیے۔ یہ ہے تمہارا رب اور یہ ہیں اس کے کارنامے۔ بڑی ہی برکتوں والا ہے رب العالمین ! وہی زندہ ہے اور اس کے سوا کوئی زندہ نہیں ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل ہے۔ لہٰذا اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کائناتی مظاہر اور ان تکوینی معافی اور اللہ کی ان تخلیقات کو اللہ کی توحید اور اللہ کے نظام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 63–64

7 یعنی قبہ کی طرح بنایا۔ 8 سب جانوروں سے انسان کی صورت بہتر اور سب کی روزی سے اس کی روزی ستھری ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 64 { اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآئَ بِنَآئً } ”اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت“ { وَّصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ } ”اور تمہاری صورت گری کی ‘ تو کیا ہی عمدہ تمہاری صورتیں بنائیں“ { وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ } ”اور تمہیں رزق بہم پہنچایا پاکیزہ چیزوں سے۔“ { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْج } ”وہ ہے اللہ تمہارا رب !“ { فَتَبٰـرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ } ”تو بہت بابرکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

83 زمین کے جائے قرار ہونے کے مختلف پہلو :۔ زمین کے جائے قرار ہونے کے بھی کئی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے توازن و تناسب سے اس میں پہاڑ رکھ دیئے کہ وہ انسانوں اور تمام جانداروں کے لئے جائے قرار بن گئی۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان اسی زمین پر پیدا ہوتا ہے اسی پر زندگی گزارتا ہے اسی میں مرنے کے بعد دفن ہوتا ہے اور تیسرا پہلو یہ ہے کہ انسان کے کھانے، پینے، لباس اور دوسری تمام ضروریات اسی زمین سے وابستہ ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ زمین میں ایسی خصوصیات نہ رکھ دیتا تو نہ یہاں کوئی جاندار زندہ رہ سکتا اور نہ ہی زمین جائے قرار بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

63۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ اللہ کائنات کا صرف خالق ہی ہو کر اب معطل نہیں ہوگیا ہے (جیسا کہ بعض جاہلی قوموں کا خیال ہے) بلکہ منتظم، مدبر، رازق بھی ہے۔ (آیت) ” جعل ...... بنآء “۔ یہ زمین و آسمان سب اسی کا خالق بھی وہی ہے۔ جوہر وعرض سب اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ (آیت) ” فاحسن صورکم “۔ ترکیب انسانی کے بہترین ہونے اور اس کے قوی واعضاء کے تناسب کی طرف اشارہ ہے۔ صوفیہ نے یہیں سے یہ رمز سمجھا ہے کہ انسان جمال و کمال خداوندی کا آئینہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–68

آیت نمبر 61 تا 68 ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے رات بنادی تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرو، اور ان کو دیکھنے والا (روشن) بنادیا، مُبْصِرًا کی اسناد نہار کی جانب مجازی ہے، اس لئے کہ اس میں دیکھا جاتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل و کرم والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر گذاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم ایمان سے دلیل کے باوجود کہاں الٹے چلے جارہے ہو ؟ اسی طرح یعنی ان لوگوں کے الٹے چلنے کے مانندوہ لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی آیتوں یعنی معجزات کا انکار کیا کرتے تھے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قیام گاہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اللہ الذی جعل لکم الارض قرار والسماء بناء وصورکم فاحسن صورکم اللہ ہی تو ہے جس نے زمین کو تمہاری قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا ‘ اور تم لوگوں کی صورتیں بنائیں اور اچھی صورتیں بنائیں۔ قَرَارًا بمعنی مستقر ‘ یعنی قرار گاہ۔ بِنَآءً یعنی تمہارے اوپر چھت۔ اس جملہ میں (الوہیت و ربوبیت کی) دوسری دلیل بیان کی ہے جس میں اللہ نے دوسری طرح کے مخصوص افعال سے استدلال کیا ہے۔ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ یعنی تمہارے قد موزوں ‘ جلد صاف ‘ اعضاء مناسب اور صنائع و کمالات حاصل کرنے کے قابل ارکان بدن (اور قویٰ ) بنائے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اللہ نے آدمی کو کشیدہ قامت ‘ معتدل (اعضاء والا) بنایا۔ وہ ہاتھ سے کھانا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ ہی ہے جس نے زمین کو زندوں اور مردوں کی آرام گاہ بنایا اور آسمان کو اوپر چھت کی طرح بنایا اور رحموں کے اندر تمہاری شکلیں بنائیں اور جانوروں کی روزی کے مقابلہ میں تمہیں عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں یا یہ کہ حلال روزی دی بس ان چیزوں کا خالق یہ اللہ ہے تمہارا رب اسی کا شکر کرو سو وہ بڑی عالی شان اور برکتوں والا ہے جو کہ ہر اس جاندار چیز کا بھی خدا ہے جو کہ روئے زمین پر موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) اللہ الذی جعل لکم الارض قراراً …: اس سے پہلے لیل و نہار کے ذکر کے ساتھ زمانی نعمتوں کا ذکر فرمایا : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر پانی بیشمار نعمتوں میں سے مزید پانچ نعمتوں کا ذکر فرما اکر اپنے اکیلے رب ہونے کی یاد دہانی فرمائی۔ ان نعمتوں کا تعلق مکان سے ہے یا انسان کی ذات یہ۔ پہلی نعمت زمین کو رہنے کی جگہ بنانا ہے۔ اس میں کئی چیزیں شامل ہیں، ایک یہ کہ اس نے زمین کو پیدا کیا تو ہم چکولے کھاتی تھی، پھر اس میں ایسے توازن و تنساب سے پہاڑ گاڑ دیے کہ وہ انسانوں اور تمام جاندارں کے لئے جائے قرار بن گئی۔ اگر اس میں مسلسل زلزلے کی کیفیت رہتی تو کوئی متنفس اس پر نہ بس سکتا۔ (دیکھیے نحل : 15۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 64–65

اللہ الذی جعل لکم الارض قرارا تعریف اور دلیل کی تاکید میں زیادتی کی، زمین کو تمہاری زندگی اور تمہاری موت کے بعد ٹھکانہ بنائو یا والسماء بناء کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ وصور کم فاحسن صور کم یعنی تمہیں بہترین صورت میں پیدا کیا۔ ابو رزین اشہب عقیلی نے صور کم پڑھا ہے۔ جوہری نے کہا : صور میں صور بھی ایک قرأت ہے یہ صورۃ کی جمع ہے اس شعر کو اس لغت میں پڑھا جاتا ہے وہ لونڈیوں کی تعریف کرتا ہے : اشبھن من بقر الخلصا اعینھا وھن احسن من صیرانھا صورا محل استدلال صور ہے صیران یہ صوار یا صوار کی جمع ہے یہ گائیوں کا ریوڑ ہے صوار کا معنی کستوری کا برتن بھی ہے شاعر نے دونوں کو اس شعر میں جمع کیا : اذا اخ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–64

1:۔ سعید بن منصور (رح) وابن ابی شیبہ (رح) واحمد وعبد بن حمید (رح) والبخاری فی الادب و ابوداؤد و ترمذی (رح) والنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی (رح) وابن حبان وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ و ابونعیم فی الحلیہ و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دعا عبادت کا محصل ہے پھر یہ (آیت) پڑھی ” وقال ربک ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی “ (اور تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے غرور کی وجہ سے سرتابی کرتے ہیں یعنی میری دعا ہے (آیت ) ” سیدخلون جھنم دخرین “ (وہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَللّٰهُ الَّذِيْ [ اللہ وہ ہے جس نے ] جَعَلَ لَكُمُ [ بنایا تمہارے لئے ] الْاَرْضَ قَرَارًا [ زمین کو قرار ] وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً [ اور آسمان کو بلندی ] وَّصَوَّرَكُمْ [ اور اس نے شکل دی تم لوگوں کو ] فَاَحْسَنَ [ پھر اس نے حسن دیا ] صُوَرَكُمْ [ تمہاری صورتوں کو ] وَرَزَقَكُمْ [ اور اس نے روزی دی تمہیں ] مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ۭ [ پاکیزہ (چیزوں ) میں سے ] ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [ یہ اللہ ] رَبُّكُمْ ښ [ تمہارا پروردگار ہے ] فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ [ تو بابرکت ہوا اللہ ] [رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ : جو تمام جہانوں کا رب ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 61–65

اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، لیل و نہار، ارض و سماء اسی نے پیدا فرمائے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کبیرہ اور اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائیں، ارشاد فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات دن بنائے رات میں آرام کرتے ہو سکون اور چین سے رہتے ہو اور دن کو ایسی چیز بنا دی جس میں دیکھتے بھالتے ہو آتے جاتے ہو رزق تلاش کرتے ہو، رات اور دن دونوں اس کی بڑی نعمتیں ہیں لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رب ہے وہ ہر چیز کو پیدا فرمانے والا ہے اسی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ان باتوں کا تقاضا ہے کہ تم اسی کی طرف متوجہ ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–68

بیان انعامات خداوندی وذکر دلائل قدرت واسباب معرفت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الیل ...... الی ...... کن فیکون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کی نصرت و کامیابی کا قانون بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو بشارت دی تھی اور ساتھ ہی ساتھ تسلی بھی کی گئی، اور صبر و استقامت کی تلقین فرمائی، اب ان آیات میں اپنے انعامات عامہ اور خاصہ کا ذکر فرمایا، تاکہ ان سے اللہ کی معرفت حاصل ہو، اس کی قدرت کاملہ پر ایمان لایا جائے تو فرمایا، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے آرام کے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور اس نے دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 63–65

64:۔ ” اللہ الذی “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار اور آسمان کو چھت بنا دیا اور تمہیں نہایت ہی ھسین و جمیل شکل و صورت میں پیدا فرمایا اور تمہیں نہایت عمدہ اور پکایزہ چیزوں سے تمہیں روزی عطا فرمائی۔ ” ذلکم اللہ ربکم “ یہ دلیل ثانی کا ثمرہ ہے۔ یہ اللہ جو صفات بالا سے متصف ہے وہی تمہارا رب اور کارساز ہے۔ کیسا عالیشان ہے وہ اللہ برکات دہندہ، جگ داتا، سارے جہانوں کا پروردگار۔ ” ھو الحی الخ “ اس کے علاوہ وہ زندہ جاوید ہے اس پر کبھی موت نہیں آئے گی اس کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ ” فادعواہ مخلصین لہ الدین “ یہ تیسری بار دعوائے سورت کا ذکر ہے۔ فاء فصیحہ ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–68

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ ہدایت اور گمراہی کی وضاحت بھی کی گئی تھی قیامت کے برحق ہونے کی بات تھی اور دعا کا مسئلہ بھی بیان ہوا تھا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر وقت اس کے دامنے دت بدعا رہو ، جو شخص تکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے گریز کریگا ، اس کو ذلیل و خوار کر کے جہنم میں داخل کیا جائیگا ۔ جیسا کہ سورة کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے ، حوامیم کی ساری سورتیں اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت اور معاد پر مشتمل ہیں چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی مضمون مختلف انداز سے بیان ہو رہے ہیں توحید کا مسئلہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَللہُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ۝ 0 ۭ ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ۝ 0 ۚۖ فَتَبٰرَكَ اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 64 أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ قرار قَرَّ في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–65

تفسیر : جبکہ یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ کو پکارا کرو کہ وہ تمہارا کہنا سنتا ہے، تمہاری مرادیں دیتا ہے تو مناسب ہوا کہ ان مشرکین کو کہ جن کے مقابلہ میں کلام ہورہا ہے اور جو اوہام باطلہ کی پرستش صرف دنیاوی کامیابیوں کے لیے کرتے تھے، دو باتیں بتلائی جائیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ موجودو قادر مطلق بھی ہے کہ نہیں کس لیے کہ اوہام عامہ اس کے محسوس نہ ہونے سے پیشتر تردد میں پڑجاتے ہیں اور اس لیے اپنے تراشیدہ معبودوں کو جو ان کے سامنے موجود دکھائی دیتے ہیں، پوجتے ہیں پس اللہ الذی الخ ان آیات میں دلائل وبراہین سے خدا تعالیٰ کا وجود اور متصف بصفات معبودیت ہونا ثابت کیا گیا اور خدا تعالیٰ کے آثار و علامات سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّالسَّمَآئَ بِنَـآئً وَّصَوَّرَکُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَکُمْ وَرَزَقَـکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّـکُمْ صلے ج فَتَبٰـرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (المؤمن : 64) (وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو مستقر اور آسمان کو چھت بنایا، اور تمہاری صورت بنائی، پس اس نے تمہاری صورتوں کو بہترین بنایا، اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق بخشا، وہی اللہ تمہارا رب ہے، بس بڑی ہی برکتوں والا اللہ جو کائنات کا رب ہے۔ ) توحید اور ربوبیت پر ایک اور دلیل اللہ کی توحید اور اس کی ربوبیت کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا : بہت دور کی باتیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ “ نے اپنی ذات سے مانگنے کا حکم دیا ہے اور جس نے رات کو پرسکون بنایا اور دن کو روشن کیا ہے اس کی یہ بھی صفت اور قدرت ہے کہ اس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور وہی لوگوں کی شکل و صورت بناتا ہے اور انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے بارے میں مشرک اور کافر جھگڑتے ہیں۔ حالانکہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے لوگوں کے لیے زمین کو جائے قرار بنایا اور آسمان کو چھت ٹھہرایا ہے اور پھر وہی ہے جو لوگوں کی بہتر سے بہتر شکل و صورت بناتا ہے اور اسی نے انسانوں کے لیے پاکیزہ رزق کا بندوبست کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی زندہ یا فوت شدہ اور کوئی بھی ہستی نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

انسان سب حیوانات سے زیادہ خوبصورت ہے۔ اَللّٰهُ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا (اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا) قرار بمعنی مستقر ہے۔ وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً (اور آسمان کو چھت) تمہارے اوپر چھت۔ وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ (اور تمہارا نقشہ بنایا پس عمدہ نقشہ بنایا) ۔ ایک قول اللہ تعالیٰ نے کوئی حیوان انسان سے زیادہ خوبصورت نہیں بنایا۔ ایک قول کہ ان کو بہائم کی طرح اوندھے سر والے پیدا نہیں کیا۔ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ (اور تم کو عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو دیں) طیبات سے لذیذ اشیاء مراد ہیں۔ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ښ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 63–64

62، ذلکم اللہ ربکم خالق کل شیء لا الہ الا ھوفانی تؤفکون، یعنی جس طرح تم دلائل قائم ہونے کے باوجود حق سے پلٹ رہے ہو (63) کذ (رح) لک اسی طرح ، ، یؤفک الذین کانوابایت اللہ یجحدون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–66

61۔ 66۔ اوپر خالص اللہ کی عبادت کا حکم دے کر ان آیتوں میں مثال کے طور پر سمجھانے کے لئے رات دن کے پیدا کرنے کا فضل اور احسان جتایا اور فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی ضرورت کی ہر ایک چیز کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو پھر یہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی خالص عبادت سے کیوں پھرے ہوئے ہیں اور اس کی تعظیم میں دوسروں کو کس استحقاق سے شریک کرتے ہیں کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان کی عادتوں کے لوگ ان سے پہلے گزرچکے ہیں اور ان کا انجام جو کچھ ہوا وہ بھی ان کو کوئی دفعہ سنایا گیا ہے کہ آخر طرح طرح کے عذابوں سے وہ ہلاک ہوگئے اگر یہ لوگ ان کے قدم بہ قدم رہے تو یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 61–65

آیت 61 آیات کریمہ میں غور و فکر کیجیے، جو اللہ تعالیٰ کیے بےپایاں رحمت، اس کے لامحدود و فضل و کرم، اس کے لئے و جوب شکر، اس کی قدرت کاملہ، اس کی عظیم طاقت، اس کی وسیع اقتدار، تمام اشیا کو اس کے تخلیق کرنے، اس کی حیات کاملہ اور اس کی تمام صفات کاملہ اور افعال حسنہ سے موصوف ہونے کی بنا پر ہر قسم کی حمد و ثنا سے متصف ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس کی کامل ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کے متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام تدابیر، ماضی، حال اور مستقبل کے اوقات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ہستی کو کوئی قدرت و اختیار نہیں۔ اس سے یہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–85

دعا ہی عبادت ہے قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

120 اللہ کی معرفت اس کے کارخانہ قدرت کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہے اللہ رب تم سب کا "۔ یعنی ان اور ان عظیم الشان قدرتوں، عظمتوں، رحمتوں، عنایتوں اور نوازشوں والا ۔ جَلَّ جَلَالُہ وَعَمَّ نَوَالُہ ۔ سو اس وحدہ لاشریک کی معرفت اگر تم لوگ حاصل کرنا چاہتے ہو اور اس سلسلے میں اگر تم سچے اور مخلص ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ تم اس کی تخلیق فرمودہ کائنات کی اس کھلی کتاب میں غور کرو جس میں اس کی عظمت وقدرت، رحمت و عنایت اور بخشش و حکمت کے مظاہر ہر چار سو پھیلے بکھرے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہی ہے اللہ جو ان قدرتوں، حکمتوں اور رحمتوں و عنایتوں والا ہے۔ نہ کہ وہ جن کو لوگوں نے ازخود مختلف…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–68

اللہ کی وحدانیت کے دلائل تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں سے چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کی وضاحت پچھلے اسباق میں بڑی اچھی طرح ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔ خالق ومالک ہے۔ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ رازق ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بابرکت ہے۔ تمام جہانوں کا رب ہے۔ سب تعریف اسی کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ ان سے کہہ دو کہ مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان کی پوجا کروں، میں ان کی کیوں پرستش کروں جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ رب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–68

رکوع نمبر 7: آیات 61 تا 68: اسرار و معارف : عظمت الہی کو دیکھو وہ ذات کتنی عظیم بھی ہے اور کریم بھی کہ تم آرام کے مھتاج تھے اس نے رات پیدا کردی کہ وقتی طور پر نظام کار رک جاتا ہے اور ایک پرسکون ماحول آرام کے لیے پیدا ہوجاتا ہے بنی آدم آرام کرکے کھوئی ہوئی طاقت بحال کرلیتا ہے پھر ایک موزوں وقفے کے بعد دن کی روشنی میں سارے ہنگامے پلٹ آتے ہیں اور انسان تازہ دم ہو کر کاروبار حیات میں جت جاتا ہے وہ ذات بنی آدم پہ کس قدر مہربان ہے کہ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا اہتمام فرمایا لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ کیسا کریم ہے تمہار اپالنے ولا ا کہ ہر شئے کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 62–64

ف 3 چناچہ کسی حیوان کو وہ عمدہ شکل و صورت اور جسمانی ساخت حاصل نہیں ہے جو انسان کو حاصل ہے۔ سیدھا قد اور با وقار طریقہ سے دو پائوں پر چلتا ہے جبکہ تمام جانور زمین کی طرف جھک کر چلتے ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں سب جانوروں سے انسان کی صورت بہتر اور روزی ستھری ہے۔ ( موضح)4 اس کے سوا کوئی تمہارا مالک نہیں کیونکہ تمہیں یہ نعمتیں دینے میں کسی کا کوئی حصہ نہیں۔5 کسی دوسرے کا یہ حق نہیں کہ اسکی نعریف کی جائے اور شکر ادا کرنے کیلئے اس کی بندگی کی جائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:64) قرارا۔ آرام گاہ۔ ٹھہرنے کی جگہ۔ مصدر و اسم مصدر۔ بنائ : چھت۔ عمارت۔ جو چیز بنائی جائے عمارت کہلاتی ہے۔ صورکم : تمہاری صورت گری کی۔ تمہاری صورت بنائی۔ صور (باب تفعیل سے ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ احسن ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے اچھا کیا۔ اس نے اچھا بنایا۔ احسان (افعال) مصدر۔ صورکم تمہاری صورتیں۔ صور تصویر کی جمع۔ تبارک : وہ بہت برکت والا ہے۔ تبارک مصدر جس کے معنی بابرکت ہونے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے اس کی گردان نہیں آتی صرف ماضی کا صیغہ (تبارک) مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–78

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–65

(ف 1) ان آیتوں میں مثال کے طور پر سمجھانے کے لیے رات دن کے پیدا کرنے کا فضل اور احسان جتایا کہ اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پیدا کیا کہ تم اس میں تسکین و آرام پاؤ اور دن پیدا کیا کہ چلو پھر کام دھنداکرو، روشنی میں جو کام چاہوانجام دو ، اللہ آدمیوں پر فضل و احسان والا ہے مگر اکثر آدمی شکر نہیں کرتے ایمان نہیں لاتے خدا ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے سب سے برتر ہے سوائے اس کے کوئی معبود خالق نہیں، غور کرو جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی ضرورت کی ہر چیز کو اس چیز کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر یہ کافر لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی عبادت سے کیوں پھرے ہوئے ہیں کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–67

[22] یعنی تمہیں سمجھنا چاہئے کہ زندگی کی اتنی حالتوں سے تم گزرتے ہو تو ممکن ہے کہ ایک حالت اور بھی گزرے اور وہ مر کر جی اٹھنا ہے۔ آخر اسے کیوں محال سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–64

خالق کون ہے ؟ 1: قرآن حکیم نے انسانی توجہ کو مبذول کیا ہے ۔ کہ وہ کائنات کی عظمت و رفعت کو دیکھے ۔ اور غور کرے ۔ کہ یہ عریض وبسیط زمین کس نے ہمارے پاؤں تلے بچھا دی ہے ۔ اور کس نے نیلگون آسمان پیدا کیا ہے ۔ اور کون ہے جس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے ۔ اور کس نے ہماری تمام ضروریات پوری کی ہیں ۔ کیا بتوں نے اور پھتر کی بےجان مورتیوں نے ایسا کیا ہے کیا احبارو رہبان کی یہ صنعت کاری ہے ۔ یا قبروں اور لاشوں کی یہ کار فرمائی ہے ؟ اگر انہیں سے کسی نے بھی یہ نہیں کیا ۔ اور یہ بات کسی کیا ختیار میں نہیں ہے ۔ تو پھر سوائے رب العالمین کے اور کون عبادت اور پرستش کا مستحق ہوسکتا ہے ۔ اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(64) اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے زمین کو قرار کی جگہ اور ٹھہرنے کی جگہ بنایا اور آسان کو مثل چھت کے بنایا اور اس نے تمہاری شکل و صورت بنائی سو تمہاری صورتیں بہترین بنائیں اور تم کو لزیذ اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار سو بڑی برکت ہے اللہ تعالیٰ کی اور اللہ تعالیٰ بڑا عالیشان ہے جو تمام عالموں کا پروردگار ہے۔ یعنی رہنے کی زمین اور وہ زمین آسمان کے ساتھ مستقف یعنی آسمان کی چھت اس نے ہی تمہاری صورت اور تمہارا نقشہ بھی بہترین بنایا اور تم کو لذیذ ونفیس اور خوش ذائقہ پاکیزہ اور عمدہ چیزوں سے روزی دی اب سمجھ لو کہ جس نے یہ سب کچھ کیا وہی تمہارا پروردگار ہے اور وہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ وہ ہے جس نے آسمان و زمین بنائے تم کو اور تمہارے لیلے رزق بنایا 64۔ اللہ تعالیٰ وہ ذات الٰہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے جائے قرار بنایا اور آسمان کو تم پر سائبان کی طرح اٹھا دیا اور تمہاری اتنی خوب صورت صورتیں بنائیں کہ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سے تم اشرف المخلوقات قرار پائے تمہیں عقل وفکر اور سمجھ سوچ عطا کی اور اپنی پوری کائنات سے تم کو استفادہ کرنے کی صلاحیت اس نے عطا کی پھر تعجب ہے کہ تم اس کی اس کائنات سے استفادہ بھی کر رہے ہو اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بھی ٹھہراتے ہو ، اس کا دیا رزق بھی کھاتے ہو اور اس سے تم کا انکار ہے بہرحال تم مانو نہ مانو یہی اللہ تمہارا رب ہے بلاشبہ وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–64

In verse 64, it was said: وَصَوَّرَ‌كُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَ‌كُمْ (and shaped you, and made your shapes so good -). Allah Ta’ ala has blessed the human person with the most distinct, superior and better-balanced form and shape out of all animals. He was given reason. He was given such hands and feet that he could get together materials to make things for his needs and comfort. Then, his eating and drinking is different, rather far distinct from common animals. They eat or graze or drink directly with their mouth. He uses hands. Common animals eat singles. Some eat meat, others eat grass or…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

89 For explanation, see An-Naml: 61 and E.N. 74 on it. 90 That is, "You have not been exposed to outer space so that heavenly calamities should rain on you and annihilate you completely, but We have built over the earth a fully fortified celestial system (which appears like a dome to the eye), which does not allow any destructive element to reach you; so much so that even the destructive cosmic rays cannot reach you and that is. how you are living peacefully on the earth. " 91 That is, "We had provided for you such a safe and peaceful place of rest even before your creation. Then We created…

Read the full tafseer →