Explained with ayahs 61–65
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 88
یعنی ہر زمانے میں عوام الناس صرف اس وجہ سے ان بہکانے والوں کے فریب میں آتے رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے حقیقت سمجھانے کے لیے جو آیات نازل کیں، لوگوں نے ان کو نہ مانا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ان خود غرض فریبیوں کے جال میں پھنس گئے جو اپنی دکان چمکانے کے لیے جعلی خداؤں کے آستانے بنائے بیٹھے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
خلاصہ تفسیر
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے (نفع کے) لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اسی نے دن کو (دیکھنے کے لئے) روشن بنایا (تا کہ بےتکلف معاش حاصل کرو) بیشک اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بڑا ہی فضل ہے (کہ ان کی مصلحتوں کی کیسی کیسی رعایت فرمائی) لکن اکثر آدمی (ان نعمتوں کا) شکر نہیں کرتے (بلکہ الٹا شرک کرتے ہیں) یہ اللہ ہے تمہارا رب (جس کا ذکر ہوا نہ وہ جن کو تم نے تراش رکھا ہے) وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو (بعد اثبات توحید کے) تم لوگ کہاں (شرک کر کے) الٹے چلے جا رہے ہو (اور مخاطبین کی کیا تخصیص ہے جس طرح تعصب وعناد سے یہ الٹے چلے جا رہے ہیں) اسی طرح وہ…
Read the full tafseer →ایک تنبیہ
یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ جس طرح تمہاری عقل الٹ گئی ہے کہ قرآن کی سیدھی سادی بات کا انکار کر کے الٹی راہ چل رہے ہو اسی طرح تم سے پہلے بھی قومیں گزری ہیں جو اللہ کی آیات کا انکار کر کے الٹی چال چلتی رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو انجام ان کا ہوا وہی انجام تمہارا بھی ہوگا اگر تم نے انہی کی روش اختیار کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
64۔ 1 آگے نعمتوں کی کچھ قسمیں بیان کی جا رہی ہیں تاکہ اللہ کی قدرت کاملہ بھی واضح ہوجائے اور اس کا بلا شرکت غیرے معبود ہونا بھی۔
64۔ 2 جس میں تم رہتے چلتے پھرتے کاروبار کرتے اور زندگی گزارتے ہو پھر بالآخر موت سے ہمکنار ہو کر قیامت تک کے لیے اسی میں آسودہ خواب رہتے ہو۔
64۔ 3 یعنی قائم اور ثابت رہنے والی چھت اگر اس کے گرنے کا اندیشہ رہتا تو کوئی شخص آرام کی نیند سو سکتا تھا نہ کسی کے لیے کاروبار حیات کرنا ممکن ہوتا۔
۔ 64۔ 4 جتنے بھی روئے زمین پر حیوانات ہیں، ان سب میں (تم) انسانوں کو سب سے زیادہ خوش شکل اور متناسب الا، عضا بنایا ہے۔
64۔ 5 یعنی اقسام و انواع کے کھانے تمہارے لئے مہیا کئے، جو لذیذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
17: مشرکین عرب مانتے تھے کہ آسمان و زمین سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی سی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جو ذات اتنی عظیم الشان چیزیں عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ چنانچہ اس واضح بات کا بھی وہ انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
آیت نمبر 61 تا 64
گزرش لیل ونہار تو دو کائناتی مظاہر ہیں جبکہ زمین آسمان دو کائناتی تخلیقات ہیں۔ ان دونوں کو یہاں ذکر کرکے پھر بتایا جاتا ہے کہ اس لیل ونہار اور ارض وسماء کے اندر اللہ نے تمہاری خوبصورت شکلیں پیدا کیں اور پھر تمہارے لیے اس جہاں میں قسم قسم کے رزق پیدا کیے۔ یہ ہے تمہارا رب اور یہ ہیں اس کے کارنامے۔ بڑی ہی برکتوں والا ہے رب العالمین ! وہی زندہ ہے اور اس کے سوا کوئی زندہ نہیں ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل ہے۔ لہٰذا اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کائناتی مظاہر اور ان تکوینی معافی اور اللہ کی ان تخلیقات کو اللہ کی توحید اور اللہ کے نظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
7 یعنی قبہ کی طرح بنایا۔
8 سب جانوروں سے انسان کی صورت بہتر اور سب کی روزی سے اس کی روزی ستھری ہے۔
Read the full tafseer →آیت 63 { کَذٰلِکَ یُؤْفَکُ الَّذِیْنَ کَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ } ”اسی طرح وہ لوگ بھی الٹے پھرائے گئے تھے جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
82 یعنی ایک عام اور معمولی عقل رکھنے والے انسان کو بھی ایسے سادہ اور عام فہم دلائل کی سمجھ آسکتی ہے مگر اسے بہکانے والے کوئی اور حضرات ہیں جن کے شرکیہ رسوم کے ساتھ اپنے ذاتی مفادات وابستہ ہیں۔ ایسے ہی لوگوں نے عام الناس کو اپنے جال میں اس طرح پھنسا رکھا ہے کہ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آنے دیتے کہ کس خوبصورتی کے ساتھ انہیں اصل راہ سے پھیر دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →62۔ یعنی کچھ تم ہی پر موقوف نہیں، تم سے قبل بھی بہت سی قوموں نے تعصب وعناد سے یہی راہ تکذیب اختیار کی ہے۔ (آیت) ” بایت اللہ “۔ ایات سے یہاں تکوینی وتشریعی دونوں قسم کی آیات یا معجزات و دلائل اور احکام دونوں مراد ہیں۔ (آیت) ” یجحدون “۔ جحد پر اوپر کہیں حاشیہ گذر چکا ہے کہ اس سے مراد اس انکار سے ہوتی ہے جو ہٹ دھرمی پر مبنی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیت نمبر 61 تا 68
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے رات بنادی تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرو، اور ان کو دیکھنے والا (روشن) بنادیا، مُبْصِرًا کی اسناد نہار کی جانب مجازی ہے، اس لئے کہ اس میں دیکھا جاتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل و کرم والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر گذاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم ایمان سے دلیل کے باوجود کہاں الٹے چلے جارہے ہو ؟ اسی طرح یعنی ان لوگوں کے الٹے چلنے کے مانندوہ لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی آیتوں یعنی معجزات کا انکار کیا کرتے تھے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قیام گاہ…
Read the full tafseer →کذلک یؤفک الذین کانوا بایت اللہ یجحدون اور اسی طرح وہ لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی نشانیوں کا انکار کرتے تھے۔
ذٰلِکُمْ یعنی یہ ذات جس کے تمام افعال الوہیت اور ربوبیت کے مقتضی ہیں۔ اللہ ہی تمہارا رب ہے ‘ ہر چیز کا خالق ہے۔ جوہر ہو ‘ عرض ہو ‘ یا بندوں کے افعال ہوں ‘ ہر چیز اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔
لَآ اِلٰہَ الاَّ ھُوَ اللہ کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ‘ کیونکہ اس کے سوا کسی میں ایسی صفات نہیں جو مستحق الوہیت بنا سکیں۔
فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ پھر اسکی عبادت سے دوسروں کی عبادت کی طرف کہاں پھرے جاتے ہو (تمہارا رخ دوسروں کی طرف کیوں ہوجاتا ہے) ۔
کَذٰلِکَ یُؤْفَکُ یعنی کفار مکہ کی طرح وہ لوگ…
Read the full tafseer →اسی طرح وہ لوگ جھوٹ باندھتے ہیں جو رسول اکرم اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →کذلک یوفک الذین کانوا …: اگرچہ ”افک“ کا معنی جھوٹ اور بہتان بھی ہے، مگر یہاں ”افک بافک افکا“ (ض) (ہمزہ کے فتح کے ساتھ) سے ہے، جس کا معنی ”پھیرنا“ ہے، جیسا کہ سورة احقاف میں ہے :(قالوا اجنتنا لتافکنا عن الھتنا فاتنا بما تعدناً ان کنت من الصدیقین) (الاحقاف : 22)”انہوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے ہٹا دے، سو ہم پر وہ (عذاب) لے آجس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو سچوں سے ہے۔“ (کانوا بایت اللہ یجحدون“ میں ”کان“ کی وجہ سے استمرار ہے، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے :”ال ہیک آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔“”جحد یجحد جحوداً“ (ف) جاننے کے باوجود انکار کردینا۔ یہ اس سوال کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
ذلکم اللہ ربکم خالق کلی شیء اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور اپنی قدرت پر دلالت کو واضح کیا لا الہ الا ھو فاتی توفکون۔ جب تمہارے لیے دلائل واضح ہوچکے ہیں تو تم ایمان سے کیسے پھرتے ہو یعنی جس طرح دلیل کے قائم ہونے کے باوجود تم حق سے پھرتے ہو اسی طرح ان لوگوں کو حق سے پھیر دیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
1:۔ سعید بن منصور (رح) وابن ابی شیبہ (رح) واحمد وعبد بن حمید (رح) والبخاری فی الادب و ابوداؤد و ترمذی (رح) والنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی (رح) وابن حبان وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ و ابونعیم فی الحلیہ و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دعا عبادت کا محصل ہے پھر یہ (آیت) پڑھی ” وقال ربک ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی “ (اور تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے غرور کی وجہ سے سرتابی کرتے ہیں یعنی میری دعا ہے (آیت ) ” سیدخلون جھنم دخرین “ (وہ…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ يُؤْفَكُ [ اس طرح پھیر دیا جاتا ہے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] كَانُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ [ اللہ کی نشانیوں کا جانتے بوجھتے انکار کیا کرتے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، لیل و نہار، ارض و سماء اسی نے پیدا فرمائے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کبیرہ اور اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائیں، ارشاد فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات دن بنائے رات میں آرام کرتے ہو سکون اور چین سے رہتے ہو اور دن کو ایسی چیز بنا دی جس میں دیکھتے بھالتے ہو آتے جاتے ہو رزق تلاش کرتے ہو، رات اور دن دونوں اس کی بڑی نعمتیں ہیں لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔
اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رب ہے وہ ہر چیز کو پیدا فرمانے والا ہے اسی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ان باتوں کا تقاضا ہے کہ تم اسی کی طرف متوجہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
بیان انعامات خداوندی وذکر دلائل قدرت واسباب معرفت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الیل ...... الی ...... کن فیکون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کی نصرت و کامیابی کا قانون بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو بشارت دی تھی اور ساتھ ہی ساتھ تسلی بھی کی گئی، اور صبر و استقامت کی تلقین فرمائی، اب ان آیات میں اپنے انعامات عامہ اور خاصہ کا ذکر فرمایا، تاکہ ان سے اللہ کی معرفت حاصل ہو، اس کی قدرت کاملہ پر ایمان لایا جائے تو فرمایا، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے آرام کے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور اس نے دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
64:۔ ” اللہ الذی “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار اور آسمان کو چھت بنا دیا اور تمہیں نہایت ہی ھسین و جمیل شکل و صورت میں پیدا فرمایا اور تمہیں نہایت عمدہ اور پکایزہ چیزوں سے تمہیں روزی عطا فرمائی۔ ” ذلکم اللہ ربکم “ یہ دلیل ثانی کا ثمرہ ہے۔ یہ اللہ جو صفات بالا سے متصف ہے وہی تمہارا رب اور کارساز ہے۔ کیسا عالیشان ہے وہ اللہ برکات دہندہ، جگ داتا، سارے جہانوں کا پروردگار۔ ” ھو الحی الخ “ اس کے علاوہ وہ زندہ جاوید ہے اس پر کبھی موت نہیں آئے گی اس کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ ” فادعواہ مخلصین لہ الدین “ یہ تیسری بار دعوائے سورت کا ذکر ہے۔ فاء فصیحہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ ہدایت اور گمراہی کی وضاحت بھی کی گئی تھی قیامت کے برحق ہونے کی بات تھی اور دعا کا مسئلہ بھی بیان ہوا تھا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر وقت اس کے دامنے دت بدعا رہو ، جو شخص تکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے گریز کریگا ، اس کو ذلیل و خوار کر کے جہنم میں داخل کیا جائیگا ۔
جیسا کہ سورة کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے ، حوامیم کی ساری سورتیں اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت اور معاد پر مشتمل ہیں چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی مضمون مختلف انداز سے بیان ہو رہے ہیں توحید کا مسئلہ…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِيْنَ كَانُوْا بِاٰيٰتِ اللہِ يَجْحَدُوْنَ 63
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
تفسیر : جبکہ یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ کو پکارا کرو کہ وہ تمہارا کہنا سنتا ہے، تمہاری مرادیں دیتا ہے تو مناسب ہوا کہ ان مشرکین کو کہ جن کے مقابلہ میں کلام ہورہا ہے اور جو اوہام باطلہ کی پرستش صرف دنیاوی کامیابیوں کے لیے کرتے تھے، دو باتیں بتلائی جائیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ موجودو قادر مطلق بھی ہے کہ نہیں کس لیے کہ اوہام عامہ اس کے محسوس نہ ہونے سے پیشتر تردد میں پڑجاتے ہیں اور اس لیے اپنے تراشیدہ معبودوں کو جو ان کے سامنے موجود دکھائی دیتے ہیں، پوجتے ہیں پس اللہ الذی الخ ان آیات میں دلائل وبراہین سے خدا تعالیٰ کا وجود اور متصف بصفات معبودیت ہونا ثابت کیا گیا اور خدا تعالیٰ کے آثار و علامات سے…
Read the full tafseer →کَذٰلِکَ یُؤْفَـکُ الَّذِیْنَ کَانُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجْحَدُوْنَ ۔ (المؤمن : 63)
(اسی طرح وہ لوگ بھی اوندھے ہوجاتے رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔ )
قوموں کی دیرینہ بیماری
آنحضرت ﷺ کی دعوت کے مخالفین کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ حق سے انحراف اور اس راہ میں سیدھی سادھی باتیں ماننے سے بھی گریز آج کی نئی بیماری نہیں بلکہ یہ وہ پرانا مرض ہے جس کا شکار قدیم زمانے کی قومیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ جو سبب ان کی بیماری کا تھا، وہی آج بھی ہے۔ وہ بیماری یہ ہے کہ انسان جب اتباعِ ہویٰ کا شکار ہوجاتا ہے اور وہ ہر بات کو خواہشِ نفس کے آئینہ میں دیکھتا ہے۔ وہ ہر بات کا مشورہ عقل سے نہیں بلکہ نفس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
فہم القرآن
ربط کلام : جس رب کی عبادت کرنے اور اس سے مانگنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی صفات یہ ہیں۔ جو کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔ لہٰذا صرف اسی کی عبادت کرو اور اسی کے سامنے اپنا دامن حاجت پھیلاؤ۔ جس طرح تمہاری نیند کے بعد تمہیں اٹھاتا ہے اسی طرح تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھائے گا اور تم سے حساب لے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی جن قدرتوں کا کئی بار تذکرہ کیا ہے ان میں سے لیل و نہار بھی ہیں۔ انہیں اپنی قدرت کی عظیم دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ رات کو لباس اور باعث سکون بنایا ہے۔ رات کے مقابلے میں دن ہے جس کے لیے یہاں ” مُبْصِراً “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی دن کو دیکھنے والا بنایا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ يُؤْفَكُ الَّذِيْنَ كَانُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ (اسی طرف وہ لوگ بھی الٹا چلا کرتے تھے۔ جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا انکار کیا کرتے تھے) ہر وہ جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کیا اور ان میں غور و فکر نہ کی۔ اور حق کی طلب نہ کی اور الٹے پھرے جیسے وہ الٹے پھرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
62، ذلکم اللہ ربکم خالق کل شیء لا الہ الا ھوفانی تؤفکون، یعنی جس طرح تم دلائل قائم ہونے کے باوجود حق سے پلٹ رہے ہو (63) کذ (رح) لک اسی طرح ، ، یؤفک الذین کانوابایت اللہ یجحدون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
61۔ 66۔ اوپر خالص اللہ کی عبادت کا حکم دے کر ان آیتوں میں مثال کے طور پر سمجھانے کے لئے رات دن کے پیدا کرنے کا فضل اور احسان جتایا اور فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی ضرورت کی ہر ایک چیز کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو پھر یہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی خالص عبادت سے کیوں پھرے ہوئے ہیں اور اس کی تعظیم میں دوسروں کو کس استحقاق سے شریک کرتے ہیں کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان کی عادتوں کے لوگ ان سے پہلے گزرچکے ہیں اور ان کا انجام جو کچھ ہوا وہ بھی ان کو کوئی دفعہ سنایا گیا ہے کہ آخر طرح طرح کے عذابوں سے وہ ہلاک ہوگئے اگر یہ لوگ ان کے قدم بہ قدم رہے تو یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
آیت 61
آیات کریمہ میں غور و فکر کیجیے، جو اللہ تعالیٰ کیے بےپایاں رحمت، اس کے لامحدود و فضل و کرم، اس کے لئے و جوب شکر، اس کی قدرت کاملہ، اس کی عظیم طاقت، اس کی وسیع اقتدار، تمام اشیا کو اس کے تخلیق کرنے، اس کی حیات کاملہ اور اس کی تمام صفات کاملہ اور افعال حسنہ سے موصوف ہونے کی بنا پر ہر قسم کی حمد و ثنا سے متصف ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس کی کامل ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کے متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام تدابیر، ماضی، حال اور مستقبل کے اوقات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ہستی کو کوئی قدرت و اختیار نہیں۔ اس سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →119 اللہ کی آیتوں کے انکار کا نتیجہ و انجام اوندھا پن ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح اوندھے کیے جاتے رہے وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے رہے تھے۔ پس دور حاضر کے ان لوگوں کا یہ انکار کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے۔ پس آپ ﷺ ان لوگوں کے روئے پر نہ تعجب کریں نہ غم۔ سو اس ارشاد ربانی میں تسکین وتسلیہ کا سامان ہے۔ آنحضرت ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر مبلغ اور داعی حق و صداقت کے لئے کہ آپ منکرین کے انکار و تکذیب سے دل برداشتہ نہ ہوں ۔ صَلَوات اللّٰہِ وَسَلَامُہ عَلَیْہِ وَعَلیٰ الہٖ وَصَحْبِہٖ اجمعین ومن اہتدی بہدیہ ودعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
اللہ کی وحدانیت کے دلائل
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں سے چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کی وضاحت پچھلے اسباق میں بڑی اچھی طرح ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔ خالق ومالک ہے۔ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ رازق ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بابرکت ہے۔ تمام جہانوں کا رب ہے۔ سب تعریف اسی کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ ان سے کہہ دو کہ مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان کی پوجا کروں، میں ان کی کیوں پرستش کروں جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
رکوع نمبر 7: آیات 61 تا 68:
اسرار و معارف :
عظمت الہی کو دیکھو وہ ذات کتنی عظیم بھی ہے اور کریم بھی کہ تم آرام کے مھتاج تھے اس نے رات پیدا کردی کہ وقتی طور پر نظام کار رک جاتا ہے اور ایک پرسکون ماحول آرام کے لیے پیدا ہوجاتا ہے بنی آدم آرام کرکے کھوئی ہوئی طاقت بحال کرلیتا ہے پھر ایک موزوں وقفے کے بعد دن کی روشنی میں سارے ہنگامے پلٹ آتے ہیں اور انسان تازہ دم ہو کر کاروبار حیات میں جت جاتا ہے وہ ذات بنی آدم پہ کس قدر مہربان ہے کہ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا اہتمام فرمایا لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ کیسا کریم ہے تمہار اپالنے ولا ا کہ ہر شئے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
ف 3 چناچہ کسی حیوان کو وہ عمدہ شکل و صورت اور جسمانی ساخت حاصل نہیں ہے جو انسان کو حاصل ہے۔ سیدھا قد اور با وقار طریقہ سے دو پائوں پر چلتا ہے جبکہ تمام جانور زمین کی طرف جھک کر چلتے ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں سب جانوروں سے انسان کی صورت بہتر اور روزی ستھری ہے۔ ( موضح)4 اس کے سوا کوئی تمہارا مالک نہیں کیونکہ تمہیں یہ نعمتیں دینے میں کسی کا کوئی حصہ نہیں۔5 کسی دوسرے کا یہ حق نہیں کہ اسکی نعریف کی جائے اور شکر ادا کرنے کیلئے اس کی بندگی کی جائے۔
Read the full tafseer →(40:63) کذلک۔ اسی طرح : (یعنی کفار مکہ کی طرح)
یجدون : مضارع جمع مذکر غائب جحد وجحود مصدر (باب فتح) وہ انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–63
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں، اسی طرح ایماندار نیک کردار اور کافر بدکار برابر نہیں، کیونکہ ایماندار شخص جو نہایت بصیرت کے ساتھ صراط مستقیم کو دیکھتا اور سمجھتا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کرو اور اللہ کو پہچانتا ہے اور کافر اندھے جسے حق کاسیدھاراستہ نہیں سوجھتا، اور قدرت کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان کا اندھاپن اس لیے ہے کہ یہ اللہ کی دی ہوئی سمجھ سے کام نہیں لیتے تھے اگر ذرا بھی سمجھ سے کام لیویں تو بت پرستی ، حشر کے انکار اور ایسی اور نافرمانی کی باتوں کی برائی ان کو اچھی طرح سب کھل جائے پھر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
[22] یعنی تمہیں سمجھنا چاہئے کہ زندگی کی اتنی حالتوں سے تم گزرتے ہو تو ممکن ہے کہ ایک حالت اور بھی گزرے اور وہ مر کر جی اٹھنا ہے۔ آخر اسے کیوں محال سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
خالق کون ہے ؟
1: قرآن حکیم نے انسانی توجہ کو مبذول کیا ہے ۔ کہ وہ کائنات کی عظمت و رفعت کو دیکھے ۔ اور غور کرے ۔ کہ یہ عریض وبسیط زمین کس نے ہمارے پاؤں تلے بچھا دی ہے ۔ اور کس نے نیلگون آسمان پیدا کیا ہے ۔ اور کون ہے جس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے ۔ اور کس نے ہماری تمام ضروریات پوری کی ہیں ۔ کیا بتوں نے اور پھتر کی بےجان مورتیوں نے ایسا کیا ہے کیا احبارو رہبان کی یہ صنعت کاری ہے ۔ یا قبروں اور لاشوں کی یہ کار فرمائی ہے ؟ اگر انہیں سے کسی نے بھی یہ نہیں کیا ۔ اور یہ بات کسی کیا ختیار میں نہیں ہے ۔ تو پھر سوائے رب العالمین کے اور کون عبادت اور پرستش کا مستحق ہوسکتا ہے ۔ اور…
Read the full tafseer →(63) جس طرح یہ لوگ پھرے جارہے ہیں اسی طرح وہ لوگ پھیر دیئے جاتے ہیں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح یہ کفار عرب راہ حق سے پھرے جارہے ہیں اسی طرح سب معاندین کے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے خواہ وہ لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہوں یا ان کے بعد ہوں جو شخص ازراہ عناد اور سرکشی اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ان کے دل راہ حق سے پھر دیئے جاتے ہیں کیونکہ دستور اللہ تعالیٰ کا یہی ہے بعض حضرات نے صرف قبل کے لوگ مراد لئے ہیں لیکن بعض حضرات نے پہلے اور پچھلے سب کے لئے آیت کو عامرکھا ہے یعنی وہ کسی زمانے کے لوگ ہوں جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ معاندانہ رویہ اختیار کیا تو ان…
Read the full tafseer →ف 4۔ اس میں ایک گونہ آپ کی تسلی بھی ہے۔
Read the full tafseer →ان سب کو کون الٹی پٹی پڑھا رہا ہے کہ یہ لوگ آیات سے جھگڑا کر رہے ہیں
63۔ ان لوگوں کو کون الٹی پٹی پڑھا گیا ہے اور کس نے کہا ہے کہ تم پروردگارِ عالم کی عبادت چھوڑ کر غیروں کی عبادت شروع کر دو اور دوسروں کے نام کے ورد وظیفے پڑھا کرو اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ جھگڑا شروع کردو۔ پھر تعجب ہے کہ عوام الناس تو پہلے ہی عوام الناس ہوتے ہیں خواص کو یہ چکمہ کون دے گیا ؟ ہاں ! جن کو خواص سمجھ لیا گیا وہ محض ان کے منصب ومقام کے باعث سمجھ لیا گیا اس وقت خواص عوام کے مطیع وفرمانبردار ہو کر خواص کہلاتے ہیں ان کی حالت عوام سے بھی گئی گزری ہے وہ خود خود غرضیوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں اس لیے انہوں نے جگہ جگہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
In verse 64, it was said: وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ (and shaped you, and made your shapes so good -). Allah Ta’ ala has blessed the human person with the most distinct, superior and better-balanced form and shape out of all animals. He was given reason. He was given such hands and feet that he could get together materials to make things for his needs and comfort. Then, his eating and drinking is different, rather far distinct from common animals. They eat or graze or drink directly with their mouth. He uses hands. Common animals eat singles. Some eat meat, others eat grass or…
Read the full tafseer →88 That is, "In every age the common people have been deluded by the misguides only because the people did not believe in the Revelations that Allah sent down through His Messengers to make them understand the Truth. Consequently; they were trapped by the selfish, dishonest people, who had set up shrines of false gods as a business. "
Read the full tafseer →