Explained with ayahs 61–65
احسانات و انعامات کا تذکرہ۔
اللہ تعالیٰ احسان بیان فرماتا ہے کہ اس نے رات کو سکون و راحت کی چیز بنائی۔ اور دن کو روشن چمکیلا تاکہ ہر شخص کو اپنے کام کاج میں، سفر میں، طلب معاش میں سہولت ہو۔ اور دن بھر کا کسل اور تھکان رات کے سکون و آرام سے اتر جائے۔ مخلوق پر اللہ تعالیٰ بڑے ہی فضل و کرم کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر لوگ رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔ ان چیزوں کو پیدا کرنے والا اور یہ راحت و آرام کے سامان مہیا کردینے والا ہی اللہ واحد ہے۔ جو تمام چیزوں کا خالق ہے۔ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نہ اس کے سوا اور کوئی مخلوق کی پرورش کرنے والا ہے۔ پھر تم کیوں اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ جو…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 86
یعنی رات اور دن کے الٹ پھیر نے ثابت کیا کہ وہی تمہارا اور ہر چیز کا خالق ہے۔ اور یہ الٹ پھیر تمہاری زندگی کے لیے جو عظیم فوائد و منافع اپنے اندر رکھتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمہارا نہایت مہربان پروردگار ہے۔ اس کے بعد لامحالہ یہ بات خود بخود ثابت ہوجاتی ہے کہ تمہارا حقیقی معبود بھی وہی ہے۔ یہ بات سراسر عقل اور انصاف کے خلاف ہے کہ خالق اور پروردگار تو ہو اللہ، اور تمہارے معبود بن جائیں دوسرے۔
سورة الْمُؤْمِن 87
یعنی کون تم کو یہ الٹی پٹی پڑھا رہا ہے کہ جو نہ خالق ہیں نہ پروردگار وہ تمہاری عبادت کے مستحق ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
خلاصہ تفسیر
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے (نفع کے) لئے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اسی نے دن کو (دیکھنے کے لئے) روشن بنایا (تا کہ بےتکلف معاش حاصل کرو) بیشک اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بڑا ہی فضل ہے (کہ ان کی مصلحتوں کی کیسی کیسی رعایت فرمائی) لکن اکثر آدمی (ان نعمتوں کا) شکر نہیں کرتے (بلکہ الٹا شرک کرتے ہیں) یہ اللہ ہے تمہارا رب (جس کا ذکر ہوا نہ وہ جن کو تم نے تراش رکھا ہے) وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں سو (بعد اثبات توحید کے) تم لوگ کہاں (شرک کر کے) الٹے چلے جا رہے ہو (اور مخاطبین کی کیا تخصیص ہے جس طرح تعصب وعناد سے یہ الٹے چلے جا رہے ہیں) اسی طرح وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ان آیات میں ’ الیل ‘ کے بعد مظلمات، اور ’ مبصرا ‘ کے بعد ’ لتعملوا ‘ کے الفاظ بربنائے قرینہ محذوف ہیں۔ اس حذف کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔
توحید اور معاد کے آفاقی دلائل
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو ایک ہی ساتھ توحید اور معاد دونوں کو ثابت کرنے والی ہیں۔ ربوبیت کے پہلو سے یہ قیامت پر دلیل ہیں اور توافق کے پہلو سے توحید پر۔ فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئے خنک اور تاریک بنایا کہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا کہ تم اس میں کام کرو۔ یہ لوگوں پر اللہ کا عظیم فضل و احسان ہے لیکن اکثر لوگ اس کے شکر گزار نہیں ہوتے۔
مطلب یہ ہے کہ دوسری تمام…
Read the full tafseer →62۔ 1 یعنی پھر تم اس کی عبادت سے کیوں بدکتے ہو اور اس کی توحید سے کیوں پھرتے اور بھاگتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
17: مشرکین عرب مانتے تھے کہ آسمان و زمین سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی سی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جو ذات اتنی عظیم الشان چیزیں عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ چنانچہ اس واضح بات کا بھی وہ انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
آیت نمبر 61 تا 64
گزرش لیل ونہار تو دو کائناتی مظاہر ہیں جبکہ زمین آسمان دو کائناتی تخلیقات ہیں۔ ان دونوں کو یہاں ذکر کرکے پھر بتایا جاتا ہے کہ اس لیل ونہار اور ارض وسماء کے اندر اللہ نے تمہاری خوبصورت شکلیں پیدا کیں اور پھر تمہارے لیے اس جہاں میں قسم قسم کے رزق پیدا کیے۔ یہ ہے تمہارا رب اور یہ ہیں اس کے کارنامے۔ بڑی ہی برکتوں والا ہے رب العالمین ! وہی زندہ ہے اور اس کے سوا کوئی زندہ نہیں ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل ہے۔ لہٰذا اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھتے ہوئے صرف اسی کی بندگی کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کائناتی مظاہر اور ان تکوینی معافی اور اللہ کی ان تخلیقات کو اللہ کی توحید اور اللہ کے نظام…
Read the full tafseer →6 یعنی رات دن کی سب نعمتیں اس کی طرف سے مانتے ہو، تو بندگی بھی صرف اسی کی ہونی چاہیے۔ اس مقام پر پہنچ کر تم کہاں بھٹک جاتے ہو کہ مالک حقیقی تو کوئی ہو اور بندگی کسی کی کی جائے۔
Read the full tafseer →آیت 62 { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ ”وہ ہے اللہ تمہارا رب جو ہرچیز کا خالق ہے۔“
{ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَز فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ } ”اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو کہاں سے تم پھرائے جا رہے ہو !“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
82 یعنی ایک عام اور معمولی عقل رکھنے والے انسان کو بھی ایسے سادہ اور عام فہم دلائل کی سمجھ آسکتی ہے مگر اسے بہکانے والے کوئی اور حضرات ہیں جن کے شرکیہ رسوم کے ساتھ اپنے ذاتی مفادات وابستہ ہیں۔ ایسے ہی لوگوں نے عام الناس کو اپنے جال میں اس طرح پھنسا رکھا ہے کہ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں آنے دیتے کہ کس خوبصورتی کے ساتھ انہیں اصل راہ سے پھیر دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →61۔ (کہ اس کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کئے جاتے ہو) (آیت) ” اللہ ..... ھو “۔ خدائے واحد کی یہاں پہلی صفت یہ بیان ہوئی کہ وہ ساری مخلوق کا پروردگار، یاپالنہار ہے۔ دوسری صفت یہ کہ موجودات میں سے بڑی، چھوٹی، بلااستثناء ہر چیز کو عدم سے وجود میں لانے والا وہی ہے اور تیسری صفت یہ کہ معبودیت میں کوئی بھی کسی جہت سے اس کا شریک نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
آیت نمبر 61 تا 68
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے رات بنادی تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرو، اور ان کو دیکھنے والا (روشن) بنادیا، مُبْصِرًا کی اسناد نہار کی جانب مجازی ہے، اس لئے کہ اس میں دیکھا جاتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل و کرم والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر گذاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم ایمان سے دلیل کے باوجود کہاں الٹے چلے جارہے ہو ؟ اسی طرح یعنی ان لوگوں کے الٹے چلنے کے مانندوہ لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی آیتوں یعنی معجزات کا انکار کیا کرتے تھے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قیام گاہ…
Read the full tafseer →ذلکم اللہ ربکم خالق کل شی لا الہ الا ھو فانی تؤفکون۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب ‘ وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے ‘ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ‘ سو تم لوگ (شرک کر کے) کہاں الٹے جا رہے ہو ؟
Read the full tafseer →جو ذات یہ سب کچھ کرتی ہے وہ ہی تمہارا رب ہے اسی کا شکر کرو وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اس کے علاوہ اور کوئی پیدا کرنے والا نہیں پھر تم لوگ اللہ تعالیٰ پر کہاں کا بہتان لگا رہے ہو۔
Read the full tafseer →(1) ذلکم اللہ ”ذلکم“ اسم اشارہ بعید کیلئے استعمال ہوتا ہے، مگر یہاں قریب کیلئے استعمال ہوا ہے۔ قریب کے لئے اسم اشارہ بعید لا کر اس ذات کی عظمت و بلندی اور اس کے انسانی سوچ سے بےحساب بالاتر ہونے کا اظہار مقصود ہے اور ”ذلک“ کے بجائے ”ذلکم“ کے استعمال کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة یوسف کی آیت (32) (قالت فذالکن الذی لمنتنی فیہ) کی تفسیر۔
(2) خبر معرفہ ہو تو کلام میں حصر پیدا ہوتا ہے، اس لئے ترجمہ کیا گیا ہے ”یہی ہے اللہ تمہارا رب۔“ یاں ”ذلکم“ مبتدا ہے، جس کے بعد چار خبریں ہیں۔ یعنی وہ جس کے متعلق تم نے ابھی سنا کہ وہ آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، جو رات کو سکون کے لئے تاریک اور دن کو حرکت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
ذلکم اللہ ربکم خالق کلی شیء اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور اپنی قدرت پر دلالت کو واضح کیا لا الہ الا ھو فاتی توفکون۔ جب تمہارے لیے دلائل واضح ہوچکے ہیں تو تم ایمان سے کیسے پھرتے ہو یعنی جس طرح دلیل کے قائم ہونے کے باوجود تم حق سے پھرتے ہو اسی طرح ان لوگوں کو حق سے پھیر دیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
1:۔ سعید بن منصور (رح) وابن ابی شیبہ (رح) واحمد وعبد بن حمید (رح) والبخاری فی الادب و ابوداؤد و ترمذی (رح) والنسائی وابن ماجہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم و طبرانی (رح) وابن حبان وحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ و ابونعیم فی الحلیہ و بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دعا عبادت کا محصل ہے پھر یہ (آیت) پڑھی ” وقال ربک ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی “ (اور تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے غرور کی وجہ سے سرتابی کرتے ہیں یعنی میری دعا ہے (آیت ) ” سیدخلون جھنم دخرین “ (وہ…
Read the full tafseer →ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [ یہ اللہ ] رَبُّكُمْ [ تم لوگوں کا پرورش کرنے والا ہے ] خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۘ [ جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ] لَآ اِلٰهَ [ کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ 5 [ مگر وہ ] فَاَنّٰى [ تو کہاں سے ] تُؤْفَكُوْنَ [ تم لوگ پھیر دیئے جاتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، لیل و نہار، ارض و سماء اسی نے پیدا فرمائے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کبیرہ اور اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ بیان فرمائیں، ارشاد فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات دن بنائے رات میں آرام کرتے ہو سکون اور چین سے رہتے ہو اور دن کو ایسی چیز بنا دی جس میں دیکھتے بھالتے ہو آتے جاتے ہو رزق تلاش کرتے ہو، رات اور دن دونوں اس کی بڑی نعمتیں ہیں لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔
اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رب ہے وہ ہر چیز کو پیدا فرمانے والا ہے اسی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ان باتوں کا تقاضا ہے کہ تم اسی کی طرف متوجہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
بیان انعامات خداوندی وذکر دلائل قدرت واسباب معرفت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الیل ...... الی ...... کن فیکون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کی نصرت و کامیابی کا قانون بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو بشارت دی تھی اور ساتھ ہی ساتھ تسلی بھی کی گئی، اور صبر و استقامت کی تلقین فرمائی، اب ان آیات میں اپنے انعامات عامہ اور خاصہ کا ذکر فرمایا، تاکہ ان سے اللہ کی معرفت حاصل ہو، اس کی قدرت کاملہ پر ایمان لایا جائے تو فرمایا، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے آرام کے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور اس نے دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
63:۔ ” اللہ الذی جعل “ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے رات کو تمہارے آرام کے لیے تاریک اور دن کو تمہارے کام کاج کے لیے روشن بنایا۔ بیشک اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان اور متفضل ہے، لیکن اکثر لوگ اس کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ” ذلکم اللہ ربکم الخ “ یہ دلیل کا نتیجہ وثمرہ ہے۔ یہ اللہ جو صفا بالا سے متصف ہے، نظام شمسی (نظام کائنات) جس کے ہاتھ میں ہے وہی تمہارا رب ہے ہر چیز کا خالق، لہذا اس کے سوا کوئی الہ نہیں، بس صرف اسی کی عبادت کرو اور مصائب و حاجات میں مافوق الاسباب صرف اسی کو پکارو۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ایسے روشن دلائل کے باوجود تم کدھر الٹے جارہے ہو، تمہای عقل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ ہدایت اور گمراہی کی وضاحت بھی کی گئی تھی قیامت کے برحق ہونے کی بات تھی اور دعا کا مسئلہ بھی بیان ہوا تھا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر وقت اس کے دامنے دت بدعا رہو ، جو شخص تکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے گریز کریگا ، اس کو ذلیل و خوار کر کے جہنم میں داخل کیا جائیگا ۔
جیسا کہ سورة کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے ، حوامیم کی ساری سورتیں اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت اور معاد پر مشتمل ہیں چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی مضمون مختلف انداز سے بیان ہو رہے ہیں توحید کا مسئلہ…
Read the full tafseer →ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ 0 ۘ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ 0 ۡۚ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ 62
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
تفسیر : جبکہ یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ کو پکارا کرو کہ وہ تمہارا کہنا سنتا ہے، تمہاری مرادیں دیتا ہے تو مناسب ہوا کہ ان مشرکین کو کہ جن کے مقابلہ میں کلام ہورہا ہے اور جو اوہام باطلہ کی پرستش صرف دنیاوی کامیابیوں کے لیے کرتے تھے، دو باتیں بتلائی جائیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ موجودو قادر مطلق بھی ہے کہ نہیں کس لیے کہ اوہام عامہ اس کے محسوس نہ ہونے سے پیشتر تردد میں پڑجاتے ہیں اور اس لیے اپنے تراشیدہ معبودوں کو جو ان کے سامنے موجود دکھائی دیتے ہیں، پوجتے ہیں پس اللہ الذی الخ ان آیات میں دلائل وبراہین سے خدا تعالیٰ کا وجود اور متصف بصفات معبودیت ہونا ثابت کیا گیا اور خدا تعالیٰ کے آثار و علامات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّھَارَ مُبْصِرًا ط اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْفَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَ کْثَرَالنَّاسِ لاَ یَشْکُرُوْنَ ۔ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّـکُمْ خَالِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ م لَآ اِلٰـہَ اِلاَّھُوَ ز ج فَاَنّٰی تُؤْفَـکُوْنَ ۔ (المؤمن : 61، 62)
(اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو اور دن کو روشن بنایا، بیشک اللہ لوگوں پر بڑا فضل والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے ہر چیز کا خالق، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو پھر تم کس طرح اوندھے ہوجاتے ہو۔ )
قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ جو بات کسی لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
فہم القرآن
ربط کلام : جس رب کی عبادت کرنے اور اس سے مانگنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی صفات یہ ہیں۔ جو کسی اور میں نہیں پائی جاتیں۔ لہٰذا صرف اسی کی عبادت کرو اور اسی کے سامنے اپنا دامن حاجت پھیلاؤ۔ جس طرح تمہاری نیند کے بعد تمہیں اٹھاتا ہے اسی طرح تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھائے گا اور تم سے حساب لے گا۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی جن قدرتوں کا کئی بار تذکرہ کیا ہے ان میں سے لیل و نہار بھی ہیں۔ انہیں اپنی قدرت کی عظیم دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ رات کو لباس اور باعث سکون بنایا ہے۔ رات کے مقابلے میں دن ہے جس کے لیے یہاں ” مُبْصِراً “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی دن کو دیکھنے والا بنایا گیا ہے۔…
Read the full tafseer →ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ (یہ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا رب ہے) جس نے تمہارے لیے رات دن بنائے۔ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ۘ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ (وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا کوئی اور لائق عبادت نہیں) یہ مبتداء کی مترادف خبریں ہیں۔ مطلب یہ ہے وہ ان صفات کا جامع ہے الوہیت ربوبیت، خلق کل شیء اور وحدانیت۔ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ (پس تم لوگ کہا الٹے چلے جا رہے ہو) انی، کیف کے معنی میں ہے۔ کس طرح اور کس وجہ سے تم اس کی عبادت سے بتوں کی عبادت کی طرف پھرتے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
60، وقال ربکم ادعونی استجب لکم ، یعنی تم میری ہی عبادت کرو، میرے غیر کی نہیں۔ میں تمہاری بات قبول کروں گا اور تمہیں ثواب دوں گا اور تمہاری مغفرت کروں گا۔ جب آیت میں عبادت کو دعاء سے تعبیر کیا ہے تو ثواب کو قبولیت دعا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبرپرفرماتے ہوئے سنا کہ بیشک دعاء عبادت ہے۔
پھر آپ (علیہ السلام) نے یہ آیت پڑھی، ادعونی استجب لکم ، ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو نہیں پکارتا، اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–66
61۔ 66۔ اوپر خالص اللہ کی عبادت کا حکم دے کر ان آیتوں میں مثال کے طور پر سمجھانے کے لئے رات دن کے پیدا کرنے کا فضل اور احسان جتایا اور فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی ضرورت کی ہر ایک چیز کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو پھر یہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی خالص عبادت سے کیوں پھرے ہوئے ہیں اور اس کی تعظیم میں دوسروں کو کس استحقاق سے شریک کرتے ہیں کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان کی عادتوں کے لوگ ان سے پہلے گزرچکے ہیں اور ان کا انجام جو کچھ ہوا وہ بھی ان کو کوئی دفعہ سنایا گیا ہے کہ آخر طرح طرح کے عذابوں سے وہ ہلاک ہوگئے اگر یہ لوگ ان کے قدم بہ قدم رہے تو یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
آیت 61
آیات کریمہ میں غور و فکر کیجیے، جو اللہ تعالیٰ کیے بےپایاں رحمت، اس کے لامحدود و فضل و کرم، اس کے لئے و جوب شکر، اس کی قدرت کاملہ، اس کی عظیم طاقت، اس کی وسیع اقتدار، تمام اشیا کو اس کے تخلیق کرنے، اس کی حیات کاملہ اور اس کی تمام صفات کاملہ اور افعال حسنہ سے موصوف ہونے کی بنا پر ہر قسم کی حمد و ثنا سے متصف ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات کریمہ اس کی کامل ربوبیت اور اس ربوبیت میں اس کے متفرد ہونے پر دلالت کرتی ہیں، نیز اس عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام تدابیر، ماضی، حال اور مستقبل کے اوقات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ہستی کو کوئی قدرت و اختیار نہیں۔ اس سے یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →118 حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی معرفت اس کی مخلوق کے ذریعے : سو مخلوق کی مختلف شؤن کے ذکر وبیان کے بعد ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہے اللہ رب تم سب کا "۔ جس کی رحمتوں، عنایتوں، قدرتوں، حکمتوں اور فیاضیوں کے یہ عظیم الشان مظاہر ہر چار سو پھیلے بکھرے ہیں۔ اور جب ان میں سے کسی میں بھی کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم آخر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پھر تمہاری مت کہاں اور کیسے ماری جاتی ہے کہ تم لوگ اے مشرکو اس وحدہ لاشریک کے لئے اس کی مخلوق میں سے طرح طرح کے خود ساختہ شریک ٹھہراتے ہو ؟ اور انہیں حاجت روا و مشکل کشا سمجھتے ہوئے ان کو پوجتے پکارتے، ان کے آگے جھکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
اللہ کی وحدانیت کے دلائل
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں سے چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کی وضاحت پچھلے اسباق میں بڑی اچھی طرح ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔ خالق ومالک ہے۔ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ رازق ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بابرکت ہے۔ تمام جہانوں کا رب ہے۔ سب تعریف اسی کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ ان سے کہہ دو کہ مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان کی پوجا کروں، میں ان کی کیوں پرستش کروں جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–68
رکوع نمبر 7: آیات 61 تا 68:
اسرار و معارف :
عظمت الہی کو دیکھو وہ ذات کتنی عظیم بھی ہے اور کریم بھی کہ تم آرام کے مھتاج تھے اس نے رات پیدا کردی کہ وقتی طور پر نظام کار رک جاتا ہے اور ایک پرسکون ماحول آرام کے لیے پیدا ہوجاتا ہے بنی آدم آرام کرکے کھوئی ہوئی طاقت بحال کرلیتا ہے پھر ایک موزوں وقفے کے بعد دن کی روشنی میں سارے ہنگامے پلٹ آتے ہیں اور انسان تازہ دم ہو کر کاروبار حیات میں جت جاتا ہے وہ ذات بنی آدم پہ کس قدر مہربان ہے کہ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا اہتمام فرمایا لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ کیسا کریم ہے تمہار اپالنے ولا ا کہ ہر شئے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
ف 3 چناچہ کسی حیوان کو وہ عمدہ شکل و صورت اور جسمانی ساخت حاصل نہیں ہے جو انسان کو حاصل ہے۔ سیدھا قد اور با وقار طریقہ سے دو پائوں پر چلتا ہے جبکہ تمام جانور زمین کی طرف جھک کر چلتے ہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں سب جانوروں سے انسان کی صورت بہتر اور روزی ستھری ہے۔ ( موضح)4 اس کے سوا کوئی تمہارا مالک نہیں کیونکہ تمہیں یہ نعمتیں دینے میں کسی کا کوئی حصہ نہیں۔5 کسی دوسرے کا یہ حق نہیں کہ اسکی نعریف کی جائے اور شکر ادا کرنے کیلئے اس کی بندگی کی جائے۔
Read the full tafseer →(40:62) انی : کیونکر۔ اسم ظر زمان و اسم ظرف مکان ہے ظرف زمان ہو تو بمعنی متی (جب، جس وقت) اور ظرف مکان ہو تو بمعنی این (جہاں۔ کہاں) اور اگر استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف (کیسے ، کیونکر) ہوتا ہے۔
تؤفکون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ افک (باب ضرب) مصدر سے۔ جس کے معنی کسی شے کے اپنے اصلی رخ سے پھرنے کے ہیں۔ یہاں اعتقاد میں حق سے باطل کی طرف۔ قول میں راستی سے دروغ بیانی کی طرف اور فعل میں نیکوکاری سے بدکاری کی طرف پھیرا جانا مراد ہے ۔ تم پھیرے جاتے ہو تم پلٹائے جاتے ہو۔ (تم کدھر کو بھٹکائے جا رہے ہو یعنی پھر اللہ کی عبادت سے دوسروں کی عبادت کی طرف کہاں پھرے جاتے ہو)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–63
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں، اسی طرح ایماندار نیک کردار اور کافر بدکار برابر نہیں، کیونکہ ایماندار شخص جو نہایت بصیرت کے ساتھ صراط مستقیم کو دیکھتا اور سمجھتا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کرو اور اللہ کو پہچانتا ہے اور کافر اندھے جسے حق کاسیدھاراستہ نہیں سوجھتا، اور قدرت کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان کا اندھاپن اس لیے ہے کہ یہ اللہ کی دی ہوئی سمجھ سے کام نہیں لیتے تھے اگر ذرا بھی سمجھ سے کام لیویں تو بت پرستی ، حشر کے انکار اور ایسی اور نافرمانی کی باتوں کی برائی ان کو اچھی طرح سب کھل جائے پھر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
[22] یعنی تمہیں سمجھنا چاہئے کہ زندگی کی اتنی حالتوں سے تم گزرتے ہو تو ممکن ہے کہ ایک حالت اور بھی گزرے اور وہ مر کر جی اٹھنا ہے۔ آخر اسے کیوں محال سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
خالق کون ہے ؟
1: قرآن حکیم نے انسانی توجہ کو مبذول کیا ہے ۔ کہ وہ کائنات کی عظمت و رفعت کو دیکھے ۔ اور غور کرے ۔ کہ یہ عریض وبسیط زمین کس نے ہمارے پاؤں تلے بچھا دی ہے ۔ اور کس نے نیلگون آسمان پیدا کیا ہے ۔ اور کون ہے جس نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے ۔ اور کس نے ہماری تمام ضروریات پوری کی ہیں ۔ کیا بتوں نے اور پھتر کی بےجان مورتیوں نے ایسا کیا ہے کیا احبارو رہبان کی یہ صنعت کاری ہے ۔ یا قبروں اور لاشوں کی یہ کار فرمائی ہے ؟ اگر انہیں سے کسی نے بھی یہ نہیں کیا ۔ اور یہ بات کسی کیا ختیار میں نہیں ہے ۔ تو پھر سوائے رب العالمین کے اور کون عبادت اور پرستش کا مستحق ہوسکتا ہے ۔ اور…
Read the full tafseer →(62) یہ ہے اللہ پروردگار تمہارا وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اس کے سوا اور کوئی حقیقی معبود نہیں سو تم پر کہاں لوٹے جارہے ہو - یعنی جب سب کچھ وہی پیدا کرنے والا پالنے والا اس کے علاوہ کوئی لائق عبادت بھی نہیں پھر اب تم شرک کرنے کی غرض سے کہاں پھرے جارہے ہو۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی جس کا ذکر ہوا، نہ وہ جن کو تم نے تراش رکھا ہے۔
Read the full tafseer →یہ ہے تمہارا اللہ جو تمہارا رب بھی ہے تم کہاں دھکے کھاتے ہو
62۔ یہ دن رات اور کائنات کی ہرچیز کا جو کالق حقیقی ہے یہی تمہارا اللہ اور پروردگار ہے اس نے تم کو بھی تخلیق کیا ہے اور اس کائنات کہ ہر ایک چیز کو بھی تمہارے فائدہ کے لیے بنایا ہے کوئی چیز اس کے حکم سے باہر نہیں ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے پھر تم اس ذات الٰہ کو چھوڑ کر کہاں دھکے کھا رہے ہو اور کن کن لوگوں کی چوکھٹوں پر جبہ فرسائی کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
In verse 64, it was said: وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ (and shaped you, and made your shapes so good -). Allah Ta’ ala has blessed the human person with the most distinct, superior and better-balanced form and shape out of all animals. He was given reason. He was given such hands and feet that he could get together materials to make things for his needs and comfort. Then, his eating and drinking is different, rather far distinct from common animals. They eat or graze or drink directly with their mouth. He uses hands. Common animals eat singles. Some eat meat, others eat grass or…
Read the full tafseer →86 That is, "The alternation of the night and day has proved that Allah alone is your Creator as well as of everything else, and the great advantage and benefits that accrue from this alternation for your life, prove that He is your highly Beneficent Lord. After this, it automatically follows that He is your real Deity too. For it would be wholly against reason and justice that your Creator and Providence should be Allah and your deities others."
87 That is, "Who is misleading you to think that those who are neither the creators nor providers should deserve to be worshipped by you?"
Read the full tafseer →