Al-Ghaafir 40:66

Al-Ghaafir · from ayah 66

40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ ؗ— وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟قُلۡ اِنِّىۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِىَ الۡبَيِّنٰتُ مِنۡ رَّبِّىۡ وَاُمِرۡتُ اَنۡ اُسۡلِمَ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ

(اے محمدﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ان کی پرستش کروں (اور میں ان کی کیونکر پرستش کروں) جب کہ میرے پاس میرے پروردگار (کی طرف) سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ پروردگار عالم ہی کا تابع فرمان ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, [O Muhammad], "Indeed, I have been forbidden to worship those you call upon besides Allah once the clear proofs have come to me from my Lord, and I have been commanded to submit to the Lord of the worlds."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 7 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:66

اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ مجھے تو اُن ہستیوں کی عبادت سے منع کر دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو (میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں) جبکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے بینات آ چکی ہیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کے آگے سرِ تسلیم خم کر دوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے محمدﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ان کی پرستش کروں (اور میں ان کی کیونکر پرستش کروں) جب کہ میرے پاس میرے پروردگار (کی طرف) سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ پروردگار عالم ہی کا تابع فرمان ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے ان کی عبادت سے روک دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پکار رہے ہو اس بنا پر کہ میرے پاس میرے رب کی دلیلیں پہنچ چکی ہیں، مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے رب کا تابع فرمان ہو جاؤں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ! کافروں سے) کہہ دو کہ : مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ جب میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی کھلی نشانیاں آچکی ہیں، تو پھر بھی میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے بجائے پکارتے ہو۔ اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے پروردگار کے آگے سر جھکا دوں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ میں منع کیا گیا ہوں کہ انہیں پوجوں جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو جبکہ میرے پاس روشن دلیلیں میرے رب کی طرف سے آئیں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ رب العالمین کے حضور گردن رکھوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اُن کی پرستش کروں جن بتوں کی تم اللہ کو چھوڑ کر پرستش کرتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی جانب سے واضح نشانیاں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمام جہانوں کے پروردگار کی فرمانبرداری کروں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے بیشک مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، جب میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلیلیں آئیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے رب کا فرماں بردار ہوجاؤں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو، جبکہ میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس واضح دلائل بھی آچکے ہیں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں اللہ رب العالمین کا فرمانبردار بن کر رہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ میں ان کی بندگی کروں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح آیتیں آچکی ہیں۔ اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں اپنے تئیں خداوند عالم کے حوالہ کروں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے صاف) کہہ دو کہ مجھے تو بہرحال اس سے منع کیا گیا ہے کہ میں عبادت (و بندگی) کروں ان ہستیوں کی جن کو تم لوگ (پوجتے) پکارتے ہو اللہ کے سوا جب کہ پہنچ چکے میرے پاس روشن دلائل میرے رب کی جانب سے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں سر تسلیم خم کردوں پروردگار عالم کے آگے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس سے منع کردیا گیا ہے کہ میں ان (شریکوں) کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو جبکہ میرے پاس میرے پروردگار کی نشانیاں آچکیں اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں (صرف) پروردگار عالم کے آگے گردن جھکاؤں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے : مجھے تو روک دیا گیا ہے کہ میں بندگی کروں ان کی جن کو تم پکار رہے ہو اللہ کے سوا جبکہ میرے پاس آچکی ہیں واضح تعلیمات میرے رب کی طرف سے اور مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں سرتسلیم خم کر دوں تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے محمد ! ﷺ ان سے کہہ دو کہ مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان کی پوجا کروں اور میں ان کی کیوں پرستش کروں جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ رب العٰلمین ہی کا فرمانبردا ررہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say, (O Prophet): “I have been forbidden to worship those beside Allah whom you call upon. (How can I worship any beside Allah) when clear Signs have come to me from my Lord and I have been commanded to surrender to Allah, the Lord of the Universe?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :I have been ordered not to worship those whom you invoke beside Allah when clear signs from my Lord have (already) come to me, and I have been ordered that I should submit to the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :I have been ordered not to worship those whom you invoke beside Allah when clear signs from my Lord have (already) come to me, and I have been ordered that I should submit to the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "I have been forbidden to worship those whom you worship besides Allah, since there have come to me evidences from my Lord; and I am commanded to submit to the Lord of all that exists.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (O Muhammad): I am forbidden to worship those unto whom ye cry beside Allah since there have come unto me clear proofs from my Lord, and I am commanded to surrender to the Lord of the Worlds.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, [O Muhammad], "Indeed, I have been forbidden to worship those you call upon besides Allah once the clear proofs have come to me from my Lord, and I have been commanded to submit to the Lord of the worlds."

— Saheeh International

(Muhammad), say, "I have been forbidden to worship whatever you worship besides God after receiving clear evidence from my Lord. I have been commanded to submit myself to the will of the Lord of the Universe".

— Muhammad Sarwar

Say: I am forbidden to serve those whom you call upon besides Allah when clear arguments have come to me from my Lord, and I am commanded that I should submit to the Lord of the worlds.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: verily I am forbidden that should worship these whom ye call upon beside Allah when evidences have come Unto me from my Lord, and I am commanded that I should submit to the Lord of the Worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "I have been forbidden to invoke those whom ye invoke besides Allah,- seeing that the Clear Signs have come to me from my Lord; and I have been commanded to bow (in Islam) to the Lord of the Worlds."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 66–68

رسول اللہ ﷺ کی مشرکین کو دعوت توحید۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی وحدہ لاشریک لہ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر ہوجاتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–68

(آیت) وَّصَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ۔ انسان کی صورت کو اللہ تعالیٰ نے سب جانوروں سے ممتاز، اعلیٰ اور بہتر ہئیت میں بنایا ہے۔ اس کو سوچنے سمجھنے کی عقل عطا فرمائی۔ اس کے ہاتھ پاؤں ایسے بنائے کہ ان سے طرح طرح کی اشیاء و مصنوعات بنا کر اپنی راحت کے سامان پیدا کرلیتا ہے۔ اس کا کھانا پینا بھی عام جانوروں سے ممتاز ہے وہ اپنے منہ سے چرتے اور پیتے ہیں یہ ہاتھوں سے کام لیتا ہے۔ عام جانوروں کی غذا مفردات سے ہے، کوئی گوشت کھاتا ہے کوئی گھاس اور پتے اور وہ بھی بالکل مفرد بخلاف انسان کے کہ یہ اپنے کھانے کو مختلف قسم کی چیزوں پھلوں، ترکاریوں، گوشت اور مصالحہ سے لذیذ و مرغوب بنا کر کھاتا ہے۔ ایک ایک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مناظرہ بازوں کو فیصلہ کن جواب یہ ان مناظرہ بازوں کو نبی ﷺ کی زبان سے فیصلہ کن جواب دلوایا ہے جو آبائی دیوتائوں کی حمایت میں آپ سے لڑ رہے تھے۔ فرمایا کہ ان کو خبردار کر دو کہ مجھے ان تمام دیوتائوں کی پرستش سے روک دیا گیا ہے جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو۔ خواہ تم کتنا ہی زور لگائو میں ان کی پرستش نہیں کرسکتا بالخصوص جب کہ میرے رب کے پاس سے اس باب میں نہایت روشن دلیلیں بھی میرے پاس آچکی ہیں۔ مجھے یہ ہدایت ہوئی ہے کہ میں اپنے آپ کو کلیۃً عالم کے خداوند کے حوالہ کردوں یعنی عبادت بھی اسی کی کروں اور اطاعت بھی اسی کی کروں… یہ اعلان برأت اس لئے کیا گیا کہ مخالفین کے ذہن کے کسی گوشہ میں اگر یہ توقع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

66۔ 1 چاہے وہ پتھر کی مورتیاں ہوں، انبیاء (علیہم السلام) اور صلحا ہوں اور قبروں میں مدفون اشخاص ہوں۔ مدد کے لئے کسی کو مت پکارو، ان کے ناموں کی نذر نیاز مت دو ان کے ورد نہ کرو ان سے خوف مت کھاؤ اور ان سے امیدیں وابستہ نہ کرو کیونکہ یہ سب عبادت کی قسمیں ہیں جو صرف ایک اللہ کا حق ہے۔ 66۔ 2 یہ وہی عقلی اور نقلی دلائل ہیں جن سے اللہ کی توحید یعنی اللہ کے واحد الہ اور رب ہونے کا اثبات ہوتا ہے جو قرآن میں جا بجا ذکر کیے گئے ہیں اسلام کے معنی ہیں اطاعت وانقیاد کے لیے جھک جانا سر اطاعت خم کردینا یعنی اللہ کے سامنے میں جھک جاؤں ان سے سرتابی نہ کروں آگے پھر توحید کے کچھ دلائل بیان کیے جا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 57–66

17: مشرکین عرب مانتے تھے کہ آسمان و زمین سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی سی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جو ذات اتنی عظیم الشان چیزیں عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ چنانچہ اس واضح بات کا بھی وہ انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 65–66

آیت نمبر 65 تا 66 یہ اعلان ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کی آیات سے منہ موڑتے ہیں اور اللہ کے عطیات کی ناشکری کرتے ہیں ، کہ میں تو ان معبودوں کی بندگی سے منع کردیا گیا ہوں جن کو تم پکارتے ہو۔ لہٰذا میں منع ہوگیا ہوں۔ اس لیے کہ میرے پاس نشانات آگئے ہیں اور آئے بھی میرے رب کی طرف سے ہیں۔ میرے پاس دلائل پہنچ چکے ہیں اور میں ان پر ایمان لاچکا ہوں۔ اور اللہ نے میرے پاس جو دلائل بھیجے ہیں ، ان کا حق ہے کہ میں ان پر مطمئن ہوجاؤں اور تصدیق کردوں اور اس سچائی کا اعلان کردوں جو میرے پاس آگئی ہے۔ اور غیر اللہ کی بندگی سے رک جانا ہی کافی نہیں بلکہ رب العالمین کے سامنے سر تسلیم خم کردینا اور ایک مثبت پروگرام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی کھلے کھلے نشانات دیکھنے کے بعد کیا حق ہے کہ کوئی آدمی خدائے واحد کے سامنے سر عبودیت نہ جھکائے اور خالص اسی کا تابع فرمان نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 66 { قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے : مجھے تو روک دیا گیا ہے کہ میں بندگی کروں ان کی جن کو تم پکار رہے ہو اللہ کے سوا“ آیت 60 کی طرح یہاں بھی عبادت اَعْبُدَ اور دعا تَدْعُوْنَ کے الفاظ ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ { لَمَّا جَآئَ نِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ } ”جبکہ میرے پاس آچکی ہیں واضح تعلیمات میرے رب کی طرف سے“ { وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں سرتسلیم خم کر دوں تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے۔“ جہاں تک سورة المومن میں توحید ِعملی کے داخلی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

89 دعا اور عبادت ہم معنی ہیں :۔ اس آیت میں بھی دعا اور عبادت کو ایک دوسرے کا ہم معنی قرار دیا گیا ہے۔ نیز اس آیت میں ان کافروں کو دو ٹوک اور کھرا کھرا جواب دے دیا گیا ہے جو کچھ لینے اور کچھ دینے یعنی مدا ہنت کے اصول پر سمجھوتہ کی راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

65۔ (تو میں اس مسلک توحید سے کہیں بال بھر بھی ادھر ادھر کیسے ہوسکتا ہوں) (آیت) ” البینت “۔ بینات کا عموم ہر قسم کے دلائل و شواہد پر شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–68

آیت نمبر 61 تا 68 ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے رات بنادی تاکہ تم اس میں آرام حاصل کرو، اور ان کو دیکھنے والا (روشن) بنادیا، مُبْصِرًا کی اسناد نہار کی جانب مجازی ہے، اس لئے کہ اس میں دیکھا جاتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل و کرم والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر گذاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم ایمان سے دلیل کے باوجود کہاں الٹے چلے جارہے ہو ؟ اسی طرح یعنی ان لوگوں کے الٹے چلنے کے مانندوہ لوگ بھی الٹے چلا کرتے تھے جو اللہ کی آیتوں یعنی معجزات کا انکار کیا کرتے تھے، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قیام گاہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ لما جاءنی البینت من ربی وامرت ان اسلم لرب العلمین آپ (ان مشرکوں سے) کہہ دیجئے کہ مجھے ان معبودوں کی پوجا کرنے کی ممانعت کردی گئی ہے جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ‘ جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس (توحید ‘ ربوبیت و الوہیت کی) کھلی ہوئی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف رب العٰلمین کے سامنے سر جھکا لو۔ الْبَیِّنَات دلائل اور نشانیاں جن کی تائید براہین عقلیہ سے ہو رہی ہے اور جو غیر اللہ کی عبادت سے روک رہی ہیں۔ اَنْ اُسْلِمَ کہ میں اطاعت کروں اور اپنی اطاعت و عبادت کو شرک سے پاک رکھوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے محمد جس وقت یہ مکہ والے آپ سے آبائی دین اختیار کرنے کو کہیں تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ مجھے بذریعہ قرآن کریم اس چیز سے منع کردیا گیا ہے کہ میں ان بتوں کی عبادت کروں جنہیں اللہ کے علاوہ تم پوجتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی اس چیز کے بارے میں نشانیاں اور دلائل آچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لا شری اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں رب العالمی ہی کے دین اسلام پر ثابت قدم رہوں۔ شان نزول : قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ (الخ) جبیر نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ نے کہا کہ اے محمد اپنی بات سے رجوع کرلو اور اپنے آباؤ اجداد کا طریقہ اختیار کرو اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی آپ کہہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) قل انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ : اکیلے اللہ کی عبادت کے حکم کے بعد صریح الفاظ میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کو بھی تم پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت کرنے سے منع کردیا گیا ہے یعنی انہیں پکارنے سے منع کردیا گیا ہے۔ کفار کی خواہش اور مطالبہ تھا کہ کچھ عبادت اللہ کی کرلی جائے اور کچھ ان کے مشکل کشاؤں کی۔ فرمایا، ان سے کہہ دو کہ مجھے ان سب کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اللہ کی توحید کے خل اف نہ تمہاری کوئی بات مانی جاسکتی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی سمجھوتہ ہوسکتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة قلم (9) اور سورة کافرون۔ (2) لما جآء فی البینت من…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 66–68

( قل انی نھیت۔۔۔۔۔۔ ) قل انی نھیت اے محمد ﷺ ! کہہ دیجئے مجھے اس اللہ نے منع کیا ہے جو حی وقیوم ہے اور لا الہ الا غیرہ ہے کہ میں کسی اور کی عبادت کروں لما جاءنی المینت من ربی یہاں بینات سے مراد توحید کے دلائل ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں عاجزی کا اظہار کروں رب العٰلمین کے لیے۔ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کو اپنے آباء کے دین کی طرف دعوت دی تو آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ یہ کہیں۔ ھو الذین خلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقمۃ ثم یخر جکم طفلا ًیہاں طفل بمعنی اطفال ہے یہ بحث پہلے گزر چکی ہے ثم لتبلغوا اشد کم یہ وہ حالت ہے جس میں قوت مجتمع ہوجاتی ہے اور عقل مکمل ہوجاتی ہے۔ سورة الانعام میں یہ وضاحت گزر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–67

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ولید بن مغیرہ اور شیبہ بن ربیعہ دونوں نے کہا اے محمد ﷺ ان باتوں سے لوٹ جاؤ جو کچھ تم کہتے ہو اور اپنے آباؤواجداد کے دین کو لازم پکڑو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” قل انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ لما جآءنی البینت من ربی وامرت ان اسلم لرب العلمین (66) ۔ (آپ ان مشرکوں سے کہہ دیجئے کہ مجھے ان معبودوں کی پوجا کرنے کی ممانعت کردی گئی ہے جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو جبکہ میرے رب کی طرف سے میرے پاس اس کی کئی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف رب العالمین کے سامنے سرجھکالوں )

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] اِنِّىْ نُهِيْتُ [ کہ مجھ کو منع کیا گیا ] اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ [ کہ میں بندگی کروں ان کی جن کو ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] لَمَّا [ جب (کہ ) ] جَاۗءَنِيَ [ آئیں میرے پاس ] الْبَيِّنٰتُ [واضح (نشانیاں) ] مِنْ رَّبِّيْ ۡ [ میرے رب سے ] وَاُمِرْتُ [ اور مجھ کو حکم دیا گیا ] اَنْ اُسْلِمَ [ کہ میں تابعداری کروں ] لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

میں تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کرسکتا، مجھے حکم ہوا ہے کہ رب العالمین کی فرمانبرداری کروں یہ تین آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو حکم فرمایا کہ آپ مشرکین سے فرما دیں کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلائل آچکے ہیں میں تو صرف اللہ جل مجدہٗ ہی کی عبادت کروں گا تم اللہ تعالیٰ شانہٗ کو چھوڑ کر جو غیروں کی عبادت کرتے ہو میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا مجھے اس سے منع کیا گیا ہے کہ میں شرک اختیار کروں مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ رب العالمین جل مجدہٗ کی خالص فرمانبرداری کروں یہ اعلان کرکے مشرکین کو یہ بتادیا کہ تم جو یہ امید لیے بیٹھے ہو کہ میں اپنی توحید کی دعوت کو چھوڑ دوں گا یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–68

بیان انعامات خداوندی وذکر دلائل قدرت واسباب معرفت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ الذی جعل لکم الیل ...... الی ...... کن فیکون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنے انبیاء اور اہل ایمان کی نصرت و کامیابی کا قانون بیان کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو بشارت دی تھی اور ساتھ ہی ساتھ تسلی بھی کی گئی، اور صبر و استقامت کی تلقین فرمائی، اب ان آیات میں اپنے انعامات عامہ اور خاصہ کا ذکر فرمایا، تاکہ ان سے اللہ کی معرفت حاصل ہو، اس کی قدرت کاملہ پر ایمان لایا جائے تو فرمایا، اللہ ہی ہے جس نے تمہارے آرام کے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور اس نے دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس کی روشنی میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

65:۔ دوسرا حصہ : ” قل انی نہیت “ یہاں سے سورت کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔ اس حصے میں پہلے حصے کے مضامین کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس آیت میں دلیل وحی کا اعادہ ہے۔ میرے پروردگار نے مجھ پر وحی کے ذریعے سے آیات بینات اور دلائل وبراہین نازل فرما کر مجھے روک دیا ہے کہ میں ان معبودانِ باطلہ کی عبادت کروں اور ان کو پکاروں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ نیز مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کا فرمانبردار بندہ رہوں اور اس کے سوا کسی کو نہ پکاروں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–68

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل کا ذکر تھا اور ساتھ ساتھ ہدایت اور گمراہی کی وضاحت بھی کی گئی تھی قیامت کے برحق ہونے کی بات تھی اور دعا کا مسئلہ بھی بیان ہوا تھا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہر وقت اس کے دامنے دت بدعا رہو ، جو شخص تکبر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے گریز کریگا ، اس کو ذلیل و خوار کر کے جہنم میں داخل کیا جائیگا ۔ جیسا کہ سورة کی ابتداء میں بیان ہوچکا ہے ، حوامیم کی ساری سورتیں اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، قرآن کی حقانیت اور معاد پر مشتمل ہیں چناچہ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی مضمون مختلف انداز سے بیان ہو رہے ہیں توحید کا مسئلہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنِّىْ نُہِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ لَمَّا جَاۗءَنِيَ الْبَيِّنٰتُ مِنْ رَّبِّيْ۝ 0 ۡوَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 66 نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 66–68

ترکیب : لما ظرف لا عبد طفلا حال من ضمیر فی یخرجکم ای المنصوب المتصل اعنی کم۔ والتوحید لارادۃ الجنس اوعلی تاویل کل واحدہ المراد اطفالا لتبغلوا اللام متعلقہ بمحذوف ای ثم یبقیکم لبتلغواو کذا فی قولہ ثم لتکونوا شیوخًا جمع الشیخ والشیوخ بضم الشین و بکسرہا ولتبغلوا ذلک لتبلغوا اجلاً مسمی۔ تفسیر : دلائلِ توحید بیان فرما کر شرک کی برائی مؤکد کرنے کے لیے آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے۔ قل انی نہیت کہ ان سے کہہ دو مجھ کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین کامل ہوگیا ہے اور شرک کی قباحت منکشف ہوگئی ہے۔ میں ان معبودوں کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہوں کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کیونکہ میرے پاس میرے رب کی طرف…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اِنِّیْ نُھِیْتُ اَنْ اَعْبُدَالَّذِینَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَمَّا جَآئَ نِیَ الْـبَـیِّـنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ ز وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (المؤمن : 66) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ! کہ مجھے روک دیا گیا ہے کہ میں ان کی بندگی کروں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، جبکہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے بینات آچکی ہیں، اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے تئیں رب العالمین کے سپرد کردوں۔ ) حتمی اعلانِ حق تاریخ و سیر کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے اور احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ مشرکینِ مکہ نے ایک سے زیادہ مرتبہ آنحضرت ﷺ سے مصالحت کی گفتگو کی۔ اور بعض دفعہ حضرت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 65–66

فہم القرآن ربط کلام : جس ” اللہ “ سے مانگنے اور صرف اس کی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی یہ صفت ہے کہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جس ” اللہ “ نے زمین کو باعث قرار، آسمان کو چھت بنایا اور لوگوں کی بہترین شکلیں بنائیں اور ان کے لیے پاکیزہ رزق کا بندوبست فرمایا وہ بابرکت ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔” اَلْحَیُّ “ کا معنٰی ہے ہمیشہ ہمیش زندہ رہنے والا اور جب تک چاہے مخلوق کو زندہ رکھنے والا۔ اس کے سوانہ کوئی ہمیشہ سے زندہ ہے اور نہ رہے گا اور نہ اس کے سوا زمین و آسمانوں، اور انسان کی شکل و صورت بنانے والا ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی رزق دینے والا ہے۔ وہ اپنی صفات اور ذات میں اکیلا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عبادت اوثان کے مطالبہ کے جواب میں یہ آیت اتری : جب کفار نے آپ سے عبادت اوثان کا مطالبہ کیا تو یہ آیت اتری۔ قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَاۗءَنِيَ الْبَيِّنٰتُ مِنْ رَّبِّيْ (آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو اس بات سے ممانعت کردی گئی ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ پکارتے ہو جبکہ میرے پاس میرے رب کی نشانیاں آچکیں) ۔ البینات سے قرآن مجید مراد ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے عقل و وحی مراد ہے۔ وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ (اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں گردن جھکا لوں) اسلم کا معنی استقامت اختیار کرنا ہے۔ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (رب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 65–66

تفسیر (64) ۔۔۔۔۔۔ ، اللہ الذی جعل لکم الارض قرارا، بچھونا، والسماء بنائ، چھت گنبد کی طرح۔ ، وصورکم فاحسن صورکم، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ تم کو پیدا کیا پس تمہاری پیدائش کو حسین بنایا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اولادآدم کو سید ھا اور متناسب بنایا کہ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر کھا سکتا ہے اور ابن آدم کے علاوہ جاندار اپنے منہ سے پکڑکر کھاتے ہیں۔ ورزقکم من الطیات، کہا گیا ہے کہ یہ مویشیوں کے رزق کے علاوہ ہے۔ ، ذ(رح) لکم اللہ ربکم فتبرک اللہ رب العلمین ھو الحی لاالہ الا ھو فاد عوہ مخلصین لہ الدین الحمد للہ رب العلمین، فراء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ خبر ہے اور اس میں امر (حکم) پوشیدہ ہے۔ اصل یوں ہے کہ تم اس کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–66

61۔ 66۔ اوپر خالص اللہ کی عبادت کا حکم دے کر ان آیتوں میں مثال کے طور پر سمجھانے کے لئے رات دن کے پیدا کرنے کا فضل اور احسان جتایا اور فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور انسان کی ضرورت کی ہر ایک چیز کو اس طرح پیدا کیا کہ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے تو پھر یہ لوگ اپنے پیدا کرنے والے کی خالص عبادت سے کیوں پھرے ہوئے ہیں اور اس کی تعظیم میں دوسروں کو کس استحقاق سے شریک کرتے ہیں کیا ان کو معلوم نہیں کہ ان کی عادتوں کے لوگ ان سے پہلے گزرچکے ہیں اور ان کا انجام جو کچھ ہوا وہ بھی ان کو کوئی دفعہ سنایا گیا ہے کہ آخر طرح طرح کے عذابوں سے وہ ہلاک ہوگئے اگر یہ لوگ ان کے قدم بہ قدم رہے تو یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 66–76

آیت 66 (آیت) ” کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں۔ “ کیا آپ کو ان لوگوں کی مذموم حالت پر تعجب نہیں جو اللہ تعالیٰ کی واضح آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ (آیت) ” کہاں سے وہ (حق سے) پھیرے جا رہے ہیں ؟ “ یعنی ان آیات سے کیسے منہ موڑ رہے ہیں ؟ اس کامل تو ضیح وتبین کے باوجود وہ کدھر جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات سے متعارض ہوں ؟ اللہ کی قسم ! ہرگز نہیں۔ یا وہ ایسے شبہات پاتے ہیں جو ان کی خواہشات کے موافق ہیں اور وہ اپنے باطل نظریات کی تائید میں ان شبہات کو لے کر چڑھ دوڑتے ہیں ؟ بدترین ہے وہ چیز جو انہوں نے اپنے لئے اختیار کی اور کتاب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–85

دعا ہی عبادت ہے قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

122 مشرکین و منکرین سے اظہار براءت کی تعلیم و تلقین : سو پیغمبر کو حکم فرمایا گیا کہ " آپ ان لوگوں سے کہو کہ مجھے بہرحال اس بات سے منع فرمایا گیا ہے کہ میں ان لوگوں کی بندگی کروں جن کو تم لوگ پوجتے پکارتے ہو اللہ کے سوا "۔ سو یہ معاندین و منکرین حق کے لئے ایک داعی حق کا آخری جواب ہے کہ اگر تم لوگ غیر اللہ کی پرستش سے باز نہیں آتے تو تمہاری مرضی کہ دلوں کو بدل دینا اور حق کو منوا کر چھوڑنا نہ تو میرے بس میں ہے اور نہ ہی میری ذمہ داری۔ سو اب تمہاری مرضی تم جو چاہو کرو۔ میں بہرحال تمہارے اس کفر و شرک سے بےزار ہوں ۔ { لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ } ۔ جن معبودان باطلہ کی پوجا پاٹ میں تم لوگ لگے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–68

اللہ کی وحدانیت کے دلائل تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں سے چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کی وضاحت پچھلے اسباق میں بڑی اچھی طرح ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔ خالق ومالک ہے۔ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے۔ رازق ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بابرکت ہے۔ تمام جہانوں کا رب ہے۔ سب تعریف اسی کیلئے ہے۔ اللہ تعالیٰ پیارے نبی ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ ان سے کہہ دو کہ مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان کی پوجا کروں، میں ان کی کیوں پرستش کروں جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے کھلی دلیلیں آچکی ہیں اور مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ رب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–68

رکوع نمبر 7: آیات 61 تا 68: اسرار و معارف : عظمت الہی کو دیکھو وہ ذات کتنی عظیم بھی ہے اور کریم بھی کہ تم آرام کے مھتاج تھے اس نے رات پیدا کردی کہ وقتی طور پر نظام کار رک جاتا ہے اور ایک پرسکون ماحول آرام کے لیے پیدا ہوجاتا ہے بنی آدم آرام کرکے کھوئی ہوئی طاقت بحال کرلیتا ہے پھر ایک موزوں وقفے کے بعد دن کی روشنی میں سارے ہنگامے پلٹ آتے ہیں اور انسان تازہ دم ہو کر کاروبار حیات میں جت جاتا ہے وہ ذات بنی آدم پہ کس قدر مہربان ہے کہ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا اہتمام فرمایا لیکن اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ کیسا کریم ہے تمہار اپالنے ولا ا کہ ہر شئے کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 65–66

ف 6 پھر مجھ سے یہ توقع کیوں رکھتے ہو کہ میں تمہارا کہنا مانوں اور تمہارے ان جھوٹے معبودوں کی بندگی کرنے لگوں ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:66) نھیت : ماضی مجہول واحد متکلم۔ نہی مصدر (باب فتح) سے، مجھے ممانعت کردی گئی ہے، میں منع کیا گیا ہوں، مجھے روکا گیا ہے تدعون : مضارع جمع مذکر حاضر دعاء (باب نصر) مصدر سے (جسے) تم پکارتے ہو۔ یعنی (جس کی) تم عبادت کرتے ہو۔ اسلم : مضارع واحد متکلم اسلام (افعال) مصدر۔ میں تابعدار ہوجاؤں میں سرتسلیم خم کر دوں۔ میں گردن جھکاؤں۔ مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) ہے۔ (ان مصدریہ ہے)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–78

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) شان نزول ؛ کفار نابکار نے براہ جہالت وگمراہی اپنے دین باطل کی طرف حضور ﷺ پرنور سید عالم کو دعوت دی تھی اور آپ سے بت پرستی کی درخواست کی تھی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–67

[22] یعنی تمہیں سمجھنا چاہئے کہ زندگی کی اتنی حالتوں سے تم گزرتے ہو تو ممکن ہے کہ ایک حالت اور بھی گزرے اور وہ مر کر جی اٹھنا ہے۔ آخر اسے کیوں محال سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 66–67

ف 1: ان آیات میں بتایا ہے ۔ کہ ہم مجبور ہیں ۔ کہ ایک ہی خدا کی پرستش کریں ۔ کیونکہ دلائل و شواہد کا یہی تقاضا ہے ۔ اور اسی چیز کے لئے ہم مامور بھی ہیں ۔ اس کے بعد انسان کی پیدائش کی چند منزلیں گنائی ہیں ۔ کہ دیکھوں کیونکر اس نے تمہیں زندگی کے مختلف دوروں میں اپنی تربیت خاص سے نوازا ہے ۔ اور تمہیں اس قابل کیا ہے ۔ کہ زندگی کے مقصد کو سمجھ سکو ۔ حل لغات :۔ نطفۃ ۔ قطرہ آب صانی علقہ ۔ ہوسکتا ہے اس کے معنے جرثومہ حیات کے ہوں ۔ جو کہ مم رحم میں جاکر چپک جاتا ہے اشدکم ۔ یعنی وہ عمر جس میں انسان کی فکری اور جسمانی قوتیں انتہائی ترقی پر ہوں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(66) اے پیغمبر آپ فرمادیجئے مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ تم جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا پکارا کرتے ہو میں ان کی عبادت کروں جبکہ میرے پاس میرے پروردگار کی جانب سے واضح دلائل آچکے اور پہنچ چکی اور مجھ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کافرماں بردار رہوں۔ یعنی یہ کہہ دیجئے کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو اور جن کو تم پککارا کرتے ہو مجھ کو ان کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے بالخصوص ایسی حالت میں جب کہ میرے پاس واضح اور صاف دلائل بھی شرک کی مذمت میں پہنچ چکے ہیں اور مجھ کو تو یہی حکم کیا گیا ہے کہ میں رب العالمین کی اطاعت و فرمانبرداری کے لئے سرخم کردوں اور اپنے کو اس کے حوالے کردوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ مراد دلائل عقلیہ و نقلیہ ہیں، مطلب یہ کہ شرک سے مجھ کو ممانعت ہوئی ہے۔ 8۔ مطلب یہ کہ مجھ کو توحید کا حکم ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ اعلان کر دیجئے کہ مجھے غیر اللہ کی پکار سے منع کیا گیا ہے 66۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیں کہ مجھے تو منع کیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں کو پکاروں جن کو تم پکارتے ہو۔ اس جگہ دوبارہ عبادت اور دعا کو ہم معنی قرار دیا گیا ہے اور اس کے متعلق میرے رب کی طرف سے روشن دلائل میرے پاس آچکے ہیں۔ وہ دلائل کیا ہیں ؟ وہی جو پیچھے بیان ہوتے چلے آ رہے ہیں اور آفاق وانفس سے ان دلائل کو بیان کیا گیا ہے کہ اس کائنات کا رب صرف اور صرف اللہ ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جس کا کام ربوبیت کے نظام میں ایک ذرہ کا بھی پیدا کرنا ہو۔ یہ دو ٹوک باتیں کرنے کا حکم خود نبی کریم ﷺ کو دے کر آپ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–72

Commentary In verses 71 and 72, it was said: يُسْحَبُونَ فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ‌ يُسْجَرُ‌ونَ (They will be dragged [ 71] into the hot water after which they will be thrown in the Fire as a fuel.). The word: الْحَمِيمِ (al-hameem) is boiling hot water. The verse seems to suggest that the people of Jahannam will first be put into the hameem, then, into the jahim, that is, the Jahannam. Again, it also seems to suggest that the hameem is somewhere outside the Jahannam. The verse: ثُمَّ إِنَّ مَرْ‌جِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ (Then, their return is but to the Fire - As-Saffat, 37:68)…

Read the full tafseer →