Al-Ghaafir 40:59

Al-Ghaafir · from ayah 59

40:59

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ ۟اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ

قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the Hour is coming - no doubt about it - but most of the people do not believe.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 6 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:59

یقیناً قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ نہیں مانتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

قیامت آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

قیامت بالیقین اور بےشبہ آنے والی ہے، لیکن (یہ اور بات ہے کہ) بہت سے لوگ ایمان نہیں ﻻتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین رکھو کہ قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے، جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے، لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن بہت لوگ ایمان نہیں لاتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بے شک قیامت ضرور آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اکثر لوگ یقین نہیں رکھتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک قیامت آکے رہے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک (قیامت کی) اس (ہولناک) گھڑی نے بہرحال (اپنے وقت پر) آکر رہنا ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے

— مولانا اسحاق مدنی

قیامت ضرور ہی آکر رہے گی اس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اور دیکھو !) یقینا قیامت آکر رہے گی اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

قیامت تو آنے والی ہے اس میں کچھ شک نہیں لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The Hour will indeed come; there is no doubt about that. Yet most people do not believe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Certainly, the Hour is bound to come. There is no doubt in it, but most of the people do not believe.

— Muhammad Taqi Usmani

Certainly, the Hour is bound to come. There is no doubt in it, but most of the people do not believe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, the Hour is surely coming, there is no doubt about it, yet most men believe not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! the Hour is surely coming, there is no doubt thereof; yet most of mankind believe not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the Hour is coming - no doubt about it - but most of the people do not believe.

— Saheeh International

The Hour of Doom will inevitably come, but most people do not have faith.

— Muhammad Sarwar

Most surely the hour is coming, there is no doubt therein, but most people do not believe.

— Muhammad Habib Shakir

Verily the Hour is coming: there is no doubt thereof; yet most of mankind believe not.

— Abdul Majid Daryabadi

The Hour will certainly come: Therein is no doubt: Yet most men believe not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–59

انسان کی دوبارہ پیدائش کے دلائل۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق فرماتا ہے کہ مخلوق کو وہ قیامت کے دن نئے سرے سے ضرور زندہ کرے گا جبکہ اس نے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو پیدا کردیا تو انسان کا پیدا کرنا یا اسے بگاڑ کر بنانا اس پر کیا مشکل ہے ؟ اور آیت میں ارشاد ہے کہ کیا ایسی بات اور اتنی واضح حقیقت بھی جھٹلائے جانے کے قابل ہے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کردیا اور اس اتنی بڑی چیز کی پیدائش سے نہ وہ تھکا نہ عاجز ہوا اس پر مردوں کا جلانا کیا مشکل ہے ؟ ایسی صاف دلیل بھی جس کے سامنے جھٹلانے کی چیز ہو اس کی معلومات یقینا نوحہ کرنے کے قابل ہیں۔ اس کی جہالت میں کیا شک ہے ؟ جو ایسی موٹی بات بھی نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 81 یہ وقوع آخرت کا قطعی حکم ہے جو استدلال کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف علم ہی کی بنا پر لگایا جاسکتا ہے، اور کلام وحی کے سوا کسی دوسرے کلام میں یہ بات اس قطعیت کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتی۔ وحی کے بغیر محض عقلی استدلال سے جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ بس اسی قدر ہے کہ آخرت ہو سکتی ہے، اور اس کو ہونا چاہیے۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ آخرت یقیناً ہوگی اور ہو کر رہے گی، یہ صرف اس ہستی کے کہنے کی بات ہے جسے معلوم ہے کہ آخرت ہوگی، اور وہ ہستی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قیاس و استدلال کے بجائے خالص علم پر دین کی بنیاد اگر قائم ہو سکتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–59

(آیت) اِنْ فِيْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ۔ یعنی یہ لوگ جو اللہ کی آیات میں بغیر کسی حجت و دلیل کے جدال کرتے ہیں، اور مقصد دراصل اس دین سے انکار کرنا ہے جس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان کے دلوں میں تکبر ہے۔ یہ اپنی بڑائی چاہتے ہیں اور اپنی بےوقوفی سے یوں سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ بڑائی ہمیں اپنے مذہب پر قائم رہنے سے حاصل ہے، اس کو چھوڑ کر مسلمان ہوجائیں گے تو ہماری یہ ریاست و اقتدا نہ رہے گا۔ قرآن کریم نے فرما دیا کہ مّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ یعنی وہ اپنی مزعومہ بڑائی عظمت اور ریاست کو اسلام لائے بغیر نہ پاسکیں گے۔ البتہ اسلام لے آئے تو عزت و عظمت ان کے ساتھ ہوتی۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 58–59

آخرت کی اخلاقی ضرورت واضح فرمائی کہ اگر آخرت نہیں ہے، جیسا کہ یہ لوگ گمان کئے بیٹھے ہیں، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے۔ اس کے خالق کے نزدیک عقل و دل کے اندھے اور عقل و بصیرت رکھنے والے دونوں یکساں ہیں اور نیکوکار اور بدکار میں اس کے نزدیک کوئی فرق ہی نہیں ہے۔ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اس سے خدا کی صفات عدل، حکمت، رحم اور قدرت کی نفی ہوجاتی ہے جو دوسرے الفاظ میں خود خدا کی نفی کے ہم معنی ہے۔ اس وجہ سے قیامت کا آنا لازمی ہے۔ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ اکثر لوگ اس بدیہی حقیقت پر بھی ایمان نہیں لا رہے ہیں۔ ’ اعمر ‘ یہاں عقل و دل کے اندھوں کے لئے استعمال…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 59–60

60۔ 1 گزشتہ آیت میں جب اللہ نے وقوع قیامت کا تذکرہ فرمایا تو اب اس آیت میں ایسی راہنمائی دی جا رہی ہے، جسے اختیار کر کے انسان آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہو سکے، اس آیت میں دعا سے اکثر مفسرین نے عبادت مراد لی ہے یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ جیسا کہ حدیث میں میں بھی دعا کو عبادت بلکہ عبادت کا مغز قرار دیا گیا، بعض کہتے ہیں کہ دعا سے مراد دعا ہی ہے۔ یعنی اللہ سے جلب نفع اور دفع ضرر کا سوال کرنا، کیونکہ دعا کے شرعی اور حقیقی معنی طلب کرنے کے ہیں، دوسرے مفہوم میں اس کا استعمال مجازی ہے۔ علاوہ ازیں دعا بھی اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے اور حدیث مذکورہ کی رو سے بھی عبادت ہے کیونکہ مافوق الاسباب…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 57–66

17: مشرکین عرب مانتے تھے کہ آسمان و زمین سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی سی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جو ذات اتنی عظیم الشان چیزیں عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ چنانچہ اس واضح بات کا بھی وہ انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 56–60

درس نمبر 225 ایک نظر میں یہ سبق اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے پوری طرح سابق سبق سے بالکل مربوط اور یکساں ہے۔ اس سبق میں وہی مضمون آگے چلتا ہے جو پہلے سبق کے آخر میں چھوڑا گیا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کی جو ناحق تکذیب کرتے ہیں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ وہ آپ کو ایذا دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے ہیں ، یہ سب کچھ وہ اپنے جھوٹے فخرو غرور کی وجہ سے کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بغیر دلیل وبرہان کے اللہ کی آیات میں کیوں جھگڑتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ہیں تو بہت چھوٹے اور بونے مگر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 59–60

2 یعنی میری ہی بندگی کرو کہ اس کی جزاء دوں گا مجھ ہی سے مانگو کہ تمہارا مانگنا خالی نہ جائے گا۔ 3 بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگنا۔ نہ مانگنا غرور ہے۔ اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ بندوں کی پکار کو پہنچتا ہے۔ یہ بات تو بیشک برحق ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بندے کی ہر دعا قبول کیا کرے۔ یعنی جو مانگے وہ ہی چیز دے دے۔ نہیں اس کی اجابت کے بہت سے رنگ ہیں جو احادیث میں بیان کردیے گئے ہیں۔ کوئی چیز دینا اس کی مشیت پر موقوف اور حکمت کے تابع ہے۔ کمال قال فی موضع آخر (فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَيْهِ اِنْ شَاۗءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :41) بہرحال بندہ کا کام ہے مانگنا اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 59 { اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لَّا رَیْبَ فِیْہَاز وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ } ” اور دیکھو ! یقینا قیامت آکر رہے گی اس میں کوئی شک نہیں ہے ‘ لیکن اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

77 جہاں عقل کی حد ختم ہوجائے وہاں سے وحی کا آغاز ہوتا ہے اور وحی کی بنیاد یقینی علم پر ہے :۔ اس آیت میں بڑے زور دار الفاظ میں انسان کو اللہ تعالیٰ متنبہ فرما رہے ہیں کہ قیامت کے آنے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ وہ آکے رہے گی کسی کے روکنے یا نہ چاہنے سے رک نہیں سکتی۔ عقلی دلائل کا ماحصل تو یہی ہوسکتا تھا کہ فلاں چیز کا ہونا ممکن ہے یا ہونا چاہئے لیکن عقل یہ حکم نہیں لگا سکتی کہ فلاں چیز یقیناً واقع ہو کے رہے گی۔ یہ بس وحی الٰہی کا کام ہے جو کائنات کے خالق اور اس کے آغاز اور انجام سے پوری طرح واقف ہے۔ ضمناً اس سے یہ بات بھی معلوم ہوجاتی ہے کہ دین کی بنیاد محض قیاس و استدلال پر نہیں رکھی گئی بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 59–60

59۔ (خواہ عاجلا خواہ آجلا اپنے قانون حکمت ومشیت کے ماتحت) خطاب یہاں عام نسل انسانی سے ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے عبدیت کی فضیلت اور اس کا منافی توکل ورضا ہونا ثابت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–60

آیت نمبر 51 تا 60 ترجمہ : یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہی دینے والے گواہی دیں گے اَشْھاد، شاھِد کی جمع ہے، اور وہ ملائکہ ہیں جو رسولوں کے (پیغام) پہنچانے کی اور کافروں کے جھٹلانے کی گواہی دیں گے جس دن ظالموں کو ان کے (عذر) معذرت کچھ فائدہ نہ دیں گے، (یَنفَعُ ) تاء اور یاء کے ساتھ اگر وہ معذرت کریں گے اور ان کے لئے لعنت ہوگی یعنی رحمت سے دوری اور ان کے لئے آخرت برا گھر ہے یعنی دار آخرت کے عذاب کی شدت اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ یعنی تورات اور معجزات عطا فرمائے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الساعۃ لاتیہ لاریب فیھا ولکن اکثر الناس لا یؤمنون بیشک وہ گھڑی یعنی قیامت ضرور آنے والی ہے ‘ اس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ‘ لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے۔ لَاٰتِیَۃٌ ضرور آنے والی ہے تاکہ نیکوکار اور بدکار کا فرق مرتبہ ظاہر ہوجائے۔ لاَّ رَیْبَ فِیْھَا اللہ کی دی ہوئی خبر میں جھوٹ کی آمیزش بھی محال ہے ‘ اسلئے جب اللہ نے فرما دیا کہ قیامت آئے گی تو یقیناً بلاشک و شبہ آئے گی۔ لَا یُؤْمِنُوْنَ یعنی قیامت کو نہیں مانتے اور اللہ کے وعدہ کو سچا نہیں جانتے۔ اکثر لوگ غافل ہیں ‘ شقی ہیں ‘ ان کی نظر محسوسات سے آگے نہیں بڑھتی ‘ اسلئے قیامت پر ان کا ایمان نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

قرآن کی اکثر باتوں پر غور نہیں کرتے قیامت تو بالآخر قائم ہو کر رہے گی اس کے آنے میں تو کسی قسم کا شک ہی نہیں مگر مکہ والے قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ان الساعۃ لاتیۃ لاریب فیھا، وہ بات جو اس سے پہلی وہ آیات میں دلیلوں کے ساتھ بیان فرمائی۔ اب نہایت صریح الفاظ میں ”ان“ اور ”لام“ کی تاکید کے ساتھ بیان فرمائی۔ ان دونوں لفظوں کا اکٹھا آنا اہل عرب کے ہاں تاکید کی قوت میں قسم کے برابر ہے۔ پھیل آیات میں قیامت کے حق ہونے کی دلیلیں ذکر فرمائیں، اب کائنات کے خلالق ومالک نے قسم کھا کر فرمایا آنے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قسمک ھا کر یہ بات کہنا بجائے خود دلیل ہے اور سب سے بڑی دلیل ہے۔ (2) ولکن اکثر الناس لایومنون : اور لیکن اکثر لوگ اتنی واضح اور سچی بات ماننے کے لئے تیار نہیں کیونکہ اسے ماننے کے بعد انہیں اپنی سرکش خواہشوں اور لذتوں کو ترک کر نا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ان الساعۃ لاتیۃ یہ لام تاکید ہے جو ان کی خبر پر داخل ہے اس کا اصل طریقہ تو یہ ہے کہ کلام کے شروع میں ہو کیونکہ یہ جملہ کی تاکید کے لیے آتا ہے مگر اسے اپنی جگہ سے ہٹا دیا گیا ہے سیبویہ نے بھی اسی طرح کہا ہے تو کہتا ہے : ان عمر الخارج عمرو جانے والا ہے۔ اسے اپنی جگہ سے مؤخر کیا گیا ہے تاکہ لام مفتوح اور ان دونوں جمع نہ ہوجائیں کیونکہ یہ دونوں ایک ہی معنی دیتے ہیں اسی طرح بصریوں کے نزدیک ان ان کو جمع کیا جاتا۔ ہشام نے اس کو جائز قرار دیا ہے کہ ان ان زیدا منطلق حق اگر تو حق کے لفظ کو حذف کر دے تو میں کسی نحوی کو نہیں جانتا کہ جس نے کہا ہو کہ یہ جائز ہے جتنا میں علم رکھتا ہوں : یہ نحاس کا قول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–60

3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ یعنی یہودیوں نے گمان کیا کہ ہم میں سے آخری زمانہ میں ایک بادشاہ ہوگا کہ سمندر اس کے گھٹنوں تک ہوگا اور بادل اس کے سرکے نیچے ہوگا آسمان اور زمین کے درمیان وہ پرندے کو پکڑے گا اس کے ساتھ روٹی کے پہاڑ اور نہر ہوگی۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے) 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ان فی صدورھم الا کبر “ (ان کے دلوں میں بڑائی ہی بڑائی ہے۔ ) اس میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ السَّاعَةَ [ بیشک وہ گھڑی (قیامت ) ] لَاٰتِيَةٌ [ یقینا آنے والی ہے ] لَّا رَيْبَ فِيْهَا [ کوئی بھی شک نہیں ہے اس میں ] وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ [ اور لیکن لوگوں کی اکثریت ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتی ] پھر آگے آیت ۔ 59 ۔ میں وقوع آخرت کا قطعی حکم لگا دیا گیا ۔ کیونکہ عقلی استدلال سے جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ بس اسی قدر کہ آخرت ہوسکتی ہے اور اس کو ہونا چاہیے ۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ آخرت یقینا ہوگی اور ہوکر رہے گی ، یہ صرف اس ہستی کے کہنے کی بات ہے جسے معلوم ہے کہ آخرت ہوگی اور وہ ہستی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر یہ بات واضح ہوجاتی ہے۔ کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 58–59

بینا اور نابینا اور مومنین صالحین اور برے لوگ برابر نہیں ہوسکتے ان آیات میں قیامت کا آنا ثابت فرمایا ہے اور جو لوگ وقوع قیامت کو مستبعد سمجھتے تھے ان کا استبعاد دور فرمایا قیامت کا انکار کرنے والے یوں کہتے تھے کہ قبروں سے نکل کر دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے یہ ان لوگوں کی ناسمجھی اور بیوقوفی کی بات تھی اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ دیکھو یہ آسمان اور یہ زمین اتنی بڑی بڑی چیزیں ہم نے پیدا کیں ایک سمجھ دار منصف آدمی غور کرے گا اس کی سمجھ میں یہی آئے گا کہ مردہ جسم میں جان ڈالنا خالق ارض و سماء کے لیے ذرا بھی بڑی بات نہیں ہے بات تو سیدھی سادی ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ مردوں میں روح دوبارہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–60

بعد ازذکر عذاب دنیوی وبیان عذاب برزخ وآخرت ذلت و خواری فرعونیاں : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” النار یعرضون علیھا ...... الی ....... الا فی ضلل “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آل فرعون کے مرد مومن کا ناصحانہ خطاب کا بیان تھا کہ اس نے کیسے مؤثر وبلیغ اور مدلل انداز سے فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اس سے آگے بڑھ کر ان کو حق کی دعوت دی اور اللہ رب العزت کی الوہیت ووحدانیت کے دلائل قائم کرتے ہوئے ایمان لانے پر آمادہ کرنا چاہا اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا، اب ان آیات میں جو عذاب خداوندی ان پر دنیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 58–59

61:۔ ” ان الساعۃ “ یہ ثبوت قیامت کا دعوے ہے۔ قیامت لامحالہ آنے والی ہے، اس کے آنے میں کوئی شک نہیں لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ یعنی کفار ایسی یقنی اور قطعی چیز کا بھی انکار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–60

ربط آیات : مسئلہ توحید کی تفہیم ، قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کی وضاحت اور جزائے عمل کے تعین کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کیا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا ، فرعونیوں کا غرور وتکبر اور سرکشی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی منصوبہ بندی کا تذکرہ ہوا ، ایک عبد مومن کی نصیحت اور خیرخواہی کی بات ہوئی ، آخر کار فرعون اور اس کے حواریوں کی تدبیر ناکام ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور مرد مومن دونوں کو بچا لیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں تو آل فرعون اور غرقابی کی سزا ملی اور عالم برزخ میں وہ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ، ان کا آخری ٹھکانا دوزخ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِيَۃٌ لَّا رَيْبَ فِيْہَا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝ 59 ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 57–60

تفسیر : ترغیب و ترہیب کے بعد پھر دلائلِ توحید و اثبات حشر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ فقال لخلق السمٰوٰتالخ کہ یہ منکرین حشر اس بات سے کیا تعجب کرتے ہیں کہ قیامت کے روز خدا تعالیٰ بندوں کو باردگر پیدا کرے گا اور اس بات کو کیا محال جانتے ہیں ؟ کس لیے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے جو انسانوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے۔ آسمانوں کی وسعت اور ان میں ایسے ایسے بڑے اجرام نورانی یعنی آفتاب و مہتاب اور ستارے کہ جو زمین سے ہزاروں حصہ بڑے ہیں، عاقل کے لیے اس کی قدرت کاملہ پر دلیل میں ہیں۔ فیثا غورث حکیم اور اس کے مبتعین جو آسمانوں کا وجود ہمارے خیال کے موافق تسلیم نہیں کرتے اور آسمان فضاء کو کہتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ السَّاعَۃَ لَاٰتِیَۃٌ لاَّرَیْبَ فِیْھَا وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (المؤمن : 59) (بےشک قیامت کی گھڑی آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ نہیں مانتے۔ ) وقوعِ آخرت کا حتمی اعلان گزشتہ دونوں آیتوں سے امکانِ آخرت اور آخرت کی اخلاقی ضرورت واضح ہوجاتی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں وقوع آخرت کو یقینی اور حتمی انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ عقلی اور واقعاتی استدلال سے کسی چیز کا امکان اور اس کی ضرورت کو تو واضح کیا جاسکتا ہے لیکن حتمی انداز میں اس کے وقوع کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے لیے ایک ایسے علم کی ضرورت ہے جس کا سرچشمہ یقین کی قوت سے بہرہ ور ہو۔ اور وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 57–59

فہم القرآن ربط کلام : حق کے بارے میں کبر اختیار کرنے والوں کو دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ پیدائش اور وجود کے اعتبار سے وہ بڑے ہیں یا زمین و آسمان بڑے ہیں۔ ظاہر ہے کہ زمین و آسمان بڑے ہیں مگر جو لوگ بلادلیل اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں حقیقتاً وہ اندھے ہیں اس لیے بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت برپا ہونے والی ہے جس کے بارے میں یہ شک یعنی قیامت کے دن ان کے کبر کا فیصلہ ہوجائے گا۔ جب آدمی تکبر کا شکار ہوجاتا ہے تو حقیقت پر غور کرنا تو درکنار اسے سننا بھی پسند نہیں کرتا۔ ایسا آدمی کافر ہے تو قولاً بھی قیامت کا انکار کرتا ہے۔ پھر اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيْهَا (قیامت تو ضرور ہی آ کر رہے گی اس میں کسی طرح کا شک ہے ہی نہیں) ۔ قیامت کی آمد ضروری ہے اور اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں کیونکہ جزاء تو یقینی ہے تاکہ مخلوق کی پیدائش صرف فناء کے لیے نہ ماننی پڑے۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ (مگر اکثر لوگ نہیں مانتے) ۔ اس کی تصدیق نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 59–60

تفسیر 58۔ ، وما یستوی الا عمی والبصیر والذین امنوا وعملوا الصالحات ولا المسیء قلیلا ما تتذکرون، اہل کوفہ نے ، تتذکرون، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس لیے کہ آیات کا اول واخرقوم کی خب رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 58–60

58۔ 60۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا کہ لوگوں کے دوسری بار پیدا کرنے سے آسمان اور زمین کا پیدا کرنا بغیر کسی نمونہ کے عقل کے نزدیک بہت بڑا ہے کیونکہ بڑی چیز کے بنانے میں چھوٹی چیز کے بنانے سے زیادہ قدرت درکار ہے مگر اللہ کے نزدیک چھوٹی بڑی چیز کے بنانے میں کچھ فرق نہیں حاصل یہ کہ جب تم اس کی ایسی ایسی بڑی چیزیں بنائی ہوئی رات دن دیکھ رہے ہو تو پھر کیوں دوسری بار پیدا ہونے کو دشوار جانتے ہو جو صاحب قدرت ایسی بڑی چیزوں کے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ انسان کے دوسری بار پیدا کرنے پر بطریق اولیٰ قادر ہے پھر کیوں اندھوں کی طرح قیامت سے انکار کرتے ہو اور جو لوگ اس بات کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 57–59

آیت 57 اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو عقلا ثابت ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق ان کی عظمت و وسعت کے ساتھ، اناسنوں کی تخلیق سے زیادہ بڑا کرشمہ ہے کیونکہ اناسن کی تخلیق آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی نسبت بہت معمولی ہے۔ پس وہ ہستی جس نے اتنے بڑے بڑے اجرام فلکی کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا ہے اس کا لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا، زیادہ اولیٰ ہے۔ یہ عقل مند کے لئے حیات بعد الموت پر قطعی اور عقلی دلیل ہے، جو حیات بعد الموت کے بارے میں کسی شک و شبہ کو قبول نہیں کرتی، جس کے وقوع کی انبیاء ومرسلین نے خبر دی ہے، مگر ہر شخص اس میں غور و فکر نہیں کرسکتا۔ بنا بریں فرمایا : (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–59

قیامت سے پہلے بھی عذاب ہے قول باری ہے (النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا۔ وہ لوگ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں) یہ آیت عذاب قبر پر دلات کرتی ہے کیونکہ قول باری ہے (ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ اور جس روز قیامت قائم ہوگی (یہ کہا جائے گا) اہل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت زیر بحث میں وہ عذاب مراد ہے جو قیامت سے پہلے انہیں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 59–60

112 دعا و پکار اللہ ہی سے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور فرمایا تمہارے رب نے کہ تم سب مجھ ہی کو پکارو میں تمہاری پکار کو سنوں گا "۔ یعنی براہ راست مجھے پکارو۔ میں تمہاری پکار کو سنوں گا اور تمہاری دعا کو قبول کروں گا۔ دیکھئے اللہ پاک کس صراحت و وضاحت کے ساتھ اپنے بندوں کو براہ راست اور بلاواسطہ اپنے رب کو پکارنے کی تعلیم دیتا اور اس کی قبولیت کا وعدہ فرماتا ہے مگر اس کے باوجود دور حاضر کا جاہل مسلمان کہتا ہے کہ اللہ ہم گناہ گاروں کی براہ راست نہیں سنتا۔ بلکہ " ہماری فلاں کے آگے اور اس کی خدا کے آگے " وغیرہ۔ اور جاہل پیر اور گمراہ ملاں اس سادہ لوح مسلمان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 56–60

ذکر قیامت ‘ عبادت کی روح دعا تشریح : ان آیات میں فرعون کی مثال دیکر یہ سمجھایا گیا ہے کہ اس کو اور اس کے ساتھیوں کو تمام نشانیاں خوب کھول کر بیان کردی گئیں مگر وہ نہ مانے تو ان کی بڑائی اور غرور نے ان کو ذلیل و خوار کردیا۔ سب نشانیاں دیکھ کر بھی جو ایمان نہ لائے تو پھر اس کو اندھا ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہاں قیامت ‘ دعا اور عبادت کا ذکر کیا گیا ہے اور آخرت کا بیان کیا گیا ہے۔ اور پھر اللہ کی قدرتوں کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ انسان کو پیدا کرنا کائنات کو پیدا کرنے سے آسان ہے۔ اب اس کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ انسانی جسم اور روح آج تک انسان کیلئے کافی پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ جسمانی نظم و نسق کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–60

رکوع نمبر 6: آیات 51 تا 60: اسرار و معارف : اقوام سابقہ کے حالات بھی شاہد ہیں کہ اللہ اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والون کی دار دنیا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور ہمیشہ آخری کامیابی بھی انہی کی ہوتی ہے اور عزت و آرام بھی انہی کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ بات آج کے حالات میں بھی بالکل واضح ہے اور آخرت میں جب اعمال کا حساب ہوگا اور سب پر گواہیاں پیش ہوں گی تو یہ کفار و مشرکین سب اکڑ بھول کر معذرت کرنے لگیں گے لیکن تب یہ سب منظور نہ ہوسکے گا اور ان پر لعنت و پھٹکار ہوگی نیز انہیں بہت برا ٹھکانہ نصیب ہوگا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت کی راہ دکھائی انہیں بھی آسمانی کتاب ملی پھر بہت بڑی کافر طاقت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 59–60

ف 11 دعا کے اصل معنی پکارنا ہیں۔ قرآن میں عموماً عبادت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ( الدعا ھوا العبادۃ) کہ دعا عبادت ہی ہے اور پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ بعض روایات میں دعا کو ( افضل العبادۃ) یا ( مح العبادۃ) بھی فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کرنا دراصل اپنی عبودیت کا اقرار کرنا ہے اور حدیث ہے جو اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔ (شوکانی)12 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگا، نہ مانگنا غرور ہے۔ اگر دنیا نہ مانگے تو مغفرت ہی مانگے۔ ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 58–60

(40:58) یستوی : مضارع واحد مذکر غائب ۔ استواء (افتعال) مصدر برابر ہونا۔ ما یستوی براب نہیں ہے۔ یکساں نہیں ہے۔ اعمی۔ اندھا۔ یعنی جاہل۔ بصیر بینا۔ دیکھنے والا۔ مراد ہے عالم ، دانا۔ الذین امنوا وعملوا الصلحت : وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ المسیئ : اسم فاعل واحد مذکر اساء ۃ (افعال) مصدر۔ سوء مادہ : بدی کرنے والا۔ مراد کافر المسیء سے پہلے لام زائد ہے مطلب یہ کہ جس طرح ایک جاہل اور ایک عالم برابر نہیں ہیں اسی طرح مومن نیکوکار اور کافر بدکار بھی آپس میں برابر نہیں ہیں۔ قلیلا ما تتذکرون : قلیلا مصدر محذوف کی صفت ہے۔ ای تذکرا قلیلا۔ تتذکرون : اس صورت میں ما صلہ زائدہ ہے۔ تم کم نصیحت پکڑتے ہو۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–78

لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–63

(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں، اسی طرح ایماندار نیک کردار اور کافر بدکار برابر نہیں، کیونکہ ایماندار شخص جو نہایت بصیرت کے ساتھ صراط مستقیم کو دیکھتا اور سمجھتا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کرو اور اللہ کو پہچانتا ہے اور کافر اندھے جسے حق کاسیدھاراستہ نہیں سوجھتا، اور قدرت کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان کا اندھاپن اس لیے ہے کہ یہ اللہ کی دی ہوئی سمجھ سے کام نہیں لیتے تھے اگر ذرا بھی سمجھ سے کام لیویں تو بت پرستی ، حشر کے انکار اور ایسی اور نافرمانی کی باتوں کی برائی ان کو اچھی طرح سب کھل جائے پھر فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 59–60

[21] اس آیت میں تین باتیں قابل توجہ ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی کو جو کچھ مانگنا ہے وہ اللہ ہی سے مانگے اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارے۔ دوسرے یہ کہ دعا قبول کرنے کے کل اختیارات اللہ ہی کے پاس ہیں۔ اگر اس سے خلوص نیت کے ساتھ دعا مانگی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے بشرطیکہ وہ گناہ کے لئے نہ ہو۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ دعا قبول ہونے کی تین صورتیں ہیں یا تو دعا اس دنیا میں قبول کرلی جاتی ہے، یا اسے آخرت میں اجر دینے کے لئے محفوظ رکھ لیا جاتا ہے یا اس درجے کی کسی آفت کو اس پر آنے سے روک دیا جاتا ہے۔ تیسری بات جو قابل غور ہے وہ یہ کہ پہلے فقرے میں جس چیز کو دعا سے تعبیر کیا گیا تھا اسی کو دوسرے فقرے میں عبادت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 3: مکہ والوں کو قیامت کا بھی انکار تھا ۔ اس لئے فرمایا کہ وہ تو قطعی ہے ۔ اس کے آنے میں شک وشبہ نہیں ۔ مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ ایمان نہیں رکھتے اور محرومی کی وجہ سے ان حقائق کا انکار کررہے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(59) یقین جانو قیامت ضرور آنے والی ہے اس میں کسی طرح کا شک نہیں لیکن اکثر نہیں مانتے اور قیامت آنے کی تصدیق نہیں کرتے۔ آگے پھر اپنی عبادت کا ذکر فرمایا کہ میری عبادت کے مقابلے میں تکبر سے اجتناب کرو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ایک دن چاہیے کہ ان کا فرق کھلے۔ خلاصہ : یہ ہے آنکھوں والے ایمان دار اور بد کردار کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کے لئے ایک دن تو ہونا چاہیے جوان کا فرق ظاہر ہو اور دنیا کی مخلوق جان لے کہ ایمان داروں اور سوجھا کوں کے ساتھ کیا ہوا اور بدکرداروں اور راہ حق کے اندھوں کے ساتھ کیسا معاملہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قیامت یقینا آئے گی اگرچہ اکثریت ایمان لانے والی نہ ہو 59۔ بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اور وہ یقینا آئے گی کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے اس سے کوئی فرق اس کی آمد میں نہیں پڑے گا لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ جو لوگ نہیں مانتے ان کو منوانے کے لیے وہ ابھی آجائے ایسا نہیں ہو سکتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح قیامت صغریٰ یعنی افراد کی موت کے لیے وقت مقرر کر رکھا ہے قیامت کبریٰ یعنی قیامت کے لیے بھی وقت مقرر کر رکھا ہے اور جس طرح موت کا وقت کسی کو نہیں بتایا گیا اس طرح قیامت کا وقت بھی کسی کو نہیں بتایا گیا اور نہ بتایا جاسکتا تھے کیونکہ انسانوں کی اس میں بھلائی ہے اگرچہ انسانوں ہی کی اکثریت اس بات کو ماننے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–60

The reality of du` a' (supplication) and its merits, levels and conditions of acceptance In the last verse cited in this unit, it was said: وَقَالَ رَ‌بُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُ‌ونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِ‌ينَ And your Lord has said, “ Call Me, I will respond to you. Definitely those who show arrogance against worshipping Me shall enter Jahannam, disgraced. - 40:60. Literally, du'a means to call, and it is frequently used to call for something needed. On occasions, the dhikr of Allah (acts devoted to His remembrance) is also…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

81 This is the absolute assertion about the occurrence of the Hereafter, which can be made only on the basis of knowledge and not on the basis of reasoning, and in no other discourse than of Revelation this assertion can be made with. such absoluteness. That which can be said without Revelation only on the basis of intellecual reasoning is that Resurrection can take place and it should take place. Beyond this, to assert that Resurrection will certainly take place, can be said only by that Being Who knows that Resurrection will occur, and that Being is none but Allah. It is here that it…

Read the full tafseer →