دعا کی ہدایت اور قبولیت کا وعدہ۔
اللہ تعالیٰ تبارک و تعالیٰ کے اس احسان پر قربان جائیں کہ وہ ہمیں دعا کی ہدایت کرتا ہے اور قبولیت کا وعدہ فرماتا ہے۔ امام سفیان ثوری اپنی دعاؤں میں فرمایا کرتے تھے اے وہ اللہ جسے وہ بندہ بہت ہی پیارا لگتا ہے جو بکثرت اس سے دعائیں کیا کرے۔ اور وہ بندہ اسے سخت برا معلوم ہوتا ہے جو اس سے دعا نہ کرے۔ اے میرے رب یہ صفت تو صرف تیری ہی ہے۔ شاعر کہتا ہے
اللہ یغضب ان ترکت سوالہ وبنی ادم حین یسال یغضب
یعنی اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ جب تو اس سے نہ مانگے تو وہ ناخوش ہوتا ہے اور انسان کی یہ حالت ہے کہ اس سے مانگو تو وہ روٹھ جاتا ہے۔ حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس امت کو تین…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 82
آخرت کے بعد اب توحید پر کلام شروع ہو رہا ہے جو کفار اور نبی ﷺ کے درمیان دوسری بنائے نزاع تھی۔
سورة الْمُؤْمِن 83
یعنی دعائیں قبول کرنے اور نہ کرنے کے جملہ اختیارات میرے پاس ہیں، لہٰذا تم دوسروں سے دعائیں نہ مانگو بلکہ مجھ سے مانگو۔ اس آیت کی روح کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے تین باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہییں
اول یہ کہ دعا آدمی صرف اس ہستی سے مانگتا ہے جس کو وہ سمیع وبصیر اور فوق الفطری اقتدار (Supernatural powers) کا مالک سمجھتا ہے، اور دعا مانگنے کا محرک دراصل آدمی کا یہ اندرونی احساس ہوتا ہے کہ عالم اسباب کے تحت فطری ذرائع و وسائل اس کی کسی تکلیف کو رفع کرنے یا کسی حاجت…
Read the full tafseer →(آیت) وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ
دعا کی حقیقت اور اس کے فضائل و درجات اور شرط قبولیت
دعا کے لفظی معنے پکارنے کے ہیں اور اکثر استعمال کسی حاجت و ضرورت کے لئے پکارنے میں ہوتا ہے۔ کبھی مطلق ذکر اللہ کو بھی دعا کہا جاتا ہے۔ یہ آیت امت محمدیہ کا خاص اعزاز ہے کہ ان کو دعا مانگنے کا حکم دیا گیا۔ اور اس کی قبولیت کا وعدہ کیا گیا۔ اور جو دعا نہ مانگے اس کے لئے عذاب کی وعید آئی ہے۔
حضرت قتادہ نے کعب احبار سے نقل کیا ہے کہ پہلے زمانے میں یہ خصوصیت انبیاء کی تھی، کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے…
Read the full tafseer →لفظ استکبار ‘ یہاں اعراض کے مفہوم پر متضمن ہے۔ حرف ’ عن ‘ اس پر دلیل ہے۔
اللہ سے مانگنے کے لئے کسی وسیلہ کی ضرورت نہیں ہے
آخرت کی یاد دہانی کے بعد یہ توحید کی یاددہانی ہے کہ تمہارا رب یہ اعلان کرچکا ہے کہ مجھ سے مانگنے کے لئے کسی واسطہ اور وسیلہ کی ضرورت نہیں ہے۔ جس کو مانگنا ہو وہ مجھ سے مانگے، میں اس کی درخواست قبول کروں گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب میں نے اپنے دروازے پر کوئی پہرہ نہیں بٹھایا ہے تو دوسروں کو سفارشی بنانے اور ان کی خوشامد کی کیا ضرورت ہے ؟ یہ مشرکین کے اس وہم کی تردید ہے کہ خدا تک پہنچنے کا ذریعہ ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء ہی ہیں۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے بندوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
60۔ 1 گزشتہ آیت میں جب اللہ نے وقوع قیامت کا تذکرہ فرمایا تو اب اس آیت میں ایسی راہنمائی دی جا رہی ہے، جسے اختیار کر کے انسان آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہو سکے، اس آیت میں دعا سے اکثر مفسرین نے عبادت مراد لی ہے یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ جیسا کہ حدیث میں میں بھی دعا کو عبادت بلکہ عبادت کا مغز قرار دیا گیا، بعض کہتے ہیں کہ دعا سے مراد دعا ہی ہے۔ یعنی اللہ سے جلب نفع اور دفع ضرر کا سوال کرنا، کیونکہ دعا کے شرعی اور حقیقی معنی طلب کرنے کے ہیں، دوسرے مفہوم میں اس کا استعمال مجازی ہے۔ علاوہ ازیں دعا بھی اپنے حقیقی معنی کے اعتبار سے اور حدیث مذکورہ کی رو سے بھی عبادت ہے کیونکہ مافوق الاسباب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
17: مشرکین عرب مانتے تھے کہ آسمان و زمین سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی سی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جو ذات اتنی عظیم الشان چیزیں عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ چنانچہ اس واضح بات کا بھی وہ انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
درس نمبر 225 ایک نظر میں
یہ سبق اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے پوری طرح سابق سبق سے بالکل مربوط اور یکساں ہے۔ اس سبق میں وہی مضمون آگے چلتا ہے جو پہلے سبق کے آخر میں چھوڑا گیا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کی جو ناحق تکذیب کرتے ہیں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ وہ آپ کو ایذا دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے ہیں ، یہ سب کچھ وہ اپنے جھوٹے فخرو غرور کی وجہ سے کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بغیر دلیل وبرہان کے اللہ کی آیات میں کیوں جھگڑتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ہیں تو بہت چھوٹے اور بونے مگر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
2 یعنی میری ہی بندگی کرو کہ اس کی جزاء دوں گا مجھ ہی سے مانگو کہ تمہارا مانگنا خالی نہ جائے گا۔
3 بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگنا۔ نہ مانگنا غرور ہے۔ اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ بندوں کی پکار کو پہنچتا ہے۔ یہ بات تو بیشک برحق ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بندے کی ہر دعا قبول کیا کرے۔ یعنی جو مانگے وہ ہی چیز دے دے۔ نہیں اس کی اجابت کے بہت سے رنگ ہیں جو احادیث میں بیان کردیے گئے ہیں۔ کوئی چیز دینا اس کی مشیت پر موقوف اور حکمت کے تابع ہے۔ کمال قال فی موضع آخر (فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَيْهِ اِنْ شَاۗءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :41) بہرحال بندہ کا کام ہے مانگنا اور…
Read the full tafseer →آیت 60 { وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ } ”اور تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو ‘ میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔“
ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ اس سورت کا مرکزی مضمون دعا ہے۔ چناچہ نوٹ کیجیے یہاں پھر فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم میرے بندے ہو تو مجھ سے مانگو ! انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اس سے مانگا جائے تو اس پر گراں گزرتا ہے ‘ جبکہ اللہ سے اگر نہ مانگا جائے تو وہ ناراض ہوتا ہے۔ گویا عطائے خداوندی خود سائلوں کی تلاش میں رہتی ہے ع ”ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں !“ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ رات کے پچھلے پہر اللہ تعالیٰ سمائے دنیا تک نزول فرماتے ہیں اور ایک ندا ہوتی ہے : ھَلْ…
Read the full tafseer →78 دعا اور عبادت ایک ہی چیز ہے بلکہ دعا عبادت کا مغز ہے۔ اس آیت سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دعا یا کسی کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارنا اور عبادت ہم معنی الفاظ ہیں۔ اس آیت کے پہلے جملہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مجھے پکارا کرو میں تمہاری پکار کو قبول کرتا ہوں اور دوسرے جملہ میں فرمایا کہ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں۔ جو اس آیت پر واضح دلیل ہے کہ دعا اور عبادت ایک ہی چیز ہے پھر اس مفہوم کی تائید احادیث صحیحہ سے بھی ہوجاتی ہے۔ آپ نے فرمایا : (الدُّعَاءُ ھُوَالْعِبَادَۃُ ) (یعنی پکارنا ہی اصل عبادت ہے) اور ایک مرتبہ یوں فرمایا : (الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَۃ) (یعنی دعا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
59۔ (خواہ عاجلا خواہ آجلا اپنے قانون حکمت ومشیت کے ماتحت) خطاب یہاں عام نسل انسانی سے ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے عبدیت کی فضیلت اور اس کا منافی توکل ورضا ہونا ثابت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہی دینے والے گواہی دیں گے اَشْھاد، شاھِد کی جمع ہے، اور وہ ملائکہ ہیں جو رسولوں کے (پیغام) پہنچانے کی اور کافروں کے جھٹلانے کی گواہی دیں گے جس دن ظالموں کو ان کے (عذر) معذرت کچھ فائدہ نہ دیں گے، (یَنفَعُ ) تاء اور یاء کے ساتھ اگر وہ معذرت کریں گے اور ان کے لئے لعنت ہوگی یعنی رحمت سے دوری اور ان کے لئے آخرت برا گھر ہے یعنی دار آخرت کے عذاب کی شدت اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ یعنی تورات اور معجزات عطا فرمائے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بنی…
Read the full tafseer →وقال ربکم ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم
دخرین اور تمہارے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھے پکارو ‘ میں تمہاری درخواست قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت سے غرور کی وجہ سے سرتابی کرتے ہیں ‘ وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
اُدْعُوْنِیْ بعض اہل علم نے کہا کہ دعا سے مراد عبادت ہے ‘ یعنی میری ہی عبادت کرو ‘ کسی اور کی پوجا نہ کرو۔ اور عبادت کی جگہ چونکہ دعا کا صیغہ استعمال کیا ہے ‘ اسلئے ثواب کے صیغہ کی جگہ اَسْتَجِبْ فرمایا۔ دعا سے عبادت اور استجابت سے عطاء ثواب مراد ہونے کا قرینہ آئندہ آیت میں عَنْ عِبَادَتِیْ کا لفظ ہے۔
ظاہر یہ ہے کہ دعا اور عبادت دونوں سے مراد سوال…
Read the full tafseer →اور تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ میری توحید کے قائل ہوجاؤ میں تمہاری مغفرت کروں گا یا یہ کہ مجھے پکارو میں تمہاری ہر درخواست قبول کروں گا۔
جو لوگ میری توحید و عبادت سے انکار کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
Read the full tafseer →(1) وقال ربکم ادعونی استجب لکم …: آخرت کی یاد دہانی کیساتھ ہی توحید کی تاکید فرمائی، جو رسول اللہ ﷺ اور کفار کے درمیان جھگڑے کی سب سیب ڑی وجہ تھی۔ آیت کے آخر میں جہنم کے ذکر ک صورت میں آخرت کا تذکرہ بھی فرما دیا۔
(2) ”’ عا“ کا واحد حق دار ہونے کی دلیل کے طور پر اپنا تعارف ”ربکم“ (تمہارا رب) کے لفظ کے ساتھ کروایا کہ ”اعونی“ (مجھے پکارو) کا حکم تمہیں وہ دے رہا ہے جو ہر لمحے کسی کی شرکت کیب غیر تمہاری پرورش کر رہا ہے اور تمہاری ہر ضرورت پوری کر رہا ہے۔
(3) تمہارے رب نے فرمایا : تم مجھے پکارو ، مجھ سے مانگو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا، میں تمہیں دوں گا۔ نہ مجھ سے بدگمان ہو ، نہ کسی اور کو پکارتے…
Read the full tafseer →( وقال ربکم ادعونی۔۔۔۔۔۔ )
وقال رجکم ادعونی اسجب لکم حضرت عمان بن بشر ؓ نے روایت نقل کی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” دعا ہی عبادت ہے (1) “ پھر اس آیت ” وََقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْط اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ ۔ “ تلاوت کی۔ ابو عیسیٰ امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (2) یہ اس امر پر دال ہے کہ دعا ہی عبادت ہے : اکثر مفسرین نے اسی طرح کہا معنی یہ ہے تم میری وحدانیت کو بیان کرو اور میری عبادت کرو میں تمہاری عبادت کروں گا اور میں تمہیں بخش دوں گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد ذکر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ یعنی یہودیوں نے گمان کیا کہ ہم میں سے آخری زمانہ میں ایک بادشاہ ہوگا کہ سمندر اس کے گھٹنوں تک ہوگا اور بادل اس کے سرکے نیچے ہوگا آسمان اور زمین کے درمیان وہ پرندے کو پکڑے گا اس کے ساتھ روٹی کے پہاڑ اور نہر ہوگی۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے)
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ان فی صدورھم الا کبر “ (ان کے دلوں میں بڑائی ہی بڑائی ہے۔ ) اس میں…
Read the full tafseer →وَقَالَ رَبُّكُمُ [ اور کہا تم لوگوں کے رب نے ] ادْعُوْنِيْٓ [ تم لوگ پکارو مجھ کو ] اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ [ میں جواب دوں گا تم لوگوں کو ] اِنَّ الَّذِيْنَ [ یقینا جو لوگ ] يَسْتَكْبِرُوْنَ [ بڑے بنتے ہیں ] عَنْ عِبَادَتِيْ [ میری عبادت سے ] سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ [ وہ لوگ داخل ہوں گے جہنم میں ] دٰخِرِيْنَ [ حقیر ہونے والے ہوتے ہوئے ]
نوٹ ۔ 2: آیت ۔ 60 ۔ کی روح کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ آدمی دعا صرف اس ہستی سے مانگتا ہے جس کو وہ سمیع وبصیر اور فوق الفطری اقتدار (Supernatural powers) کا مالک سمجھتا ہے ۔ دعا مانگنے کا محرک دراصل آدمی کا یہ اندرونی احسان ہوتا ہے کہ عالم اسباب کے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعا کرنے کا حکم اور قبول فرمانے کا وعدہ
اس آیت کریمہ میں حکم فرمایا ہے کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا یہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کا بہت بڑا انعام اور احسان ہے کہ بندوں کو اپنی ذات عالی سے مانگنے کی اجازت دے دی اور پھر قبول کرنے کا وعدہ بھی فرمالیا دعا مانگنے میں جو کیف ہے اسے وہی بندے جانتے ہیں جو دعا کے طریقہ پر دعا کرتے ہیں دعا سراپا عبادت ہے جیسا کہ آیت کے ختم پر فرمایا (اِِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِی سَیَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیْنَ ) بیشک جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں (یعنی دعا سے منہ موڑتے ہیں) وہ عنقریب ذلیل ہونے کی حالت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–60
بعد ازذکر عذاب دنیوی وبیان عذاب برزخ وآخرت ذلت و خواری فرعونیاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” النار یعرضون علیھا ...... الی ....... الا فی ضلل “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آل فرعون کے مرد مومن کا ناصحانہ خطاب کا بیان تھا کہ اس نے کیسے مؤثر وبلیغ اور مدلل انداز سے فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اس سے آگے بڑھ کر ان کو حق کی دعوت دی اور اللہ رب العزت کی الوہیت ووحدانیت کے دلائل قائم کرتے ہوئے ایمان لانے پر آمادہ کرنا چاہا اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا، اب ان آیات میں جو عذاب خداوندی ان پر دنیا…
Read the full tafseer →62:َ ” وقال ربکم “ یہ دعوائے سورت کا دوسری بار ذکر ہے، تمہارے پروردگار کا اعلان عام ہے میرے بندو ! مصائب وحاجات میں مافوق الاسباب صرف مجھے ہی پکارو، اگر میں چاہوں گا تو تمہاری دعا کو قبول کرلوں گا۔ ” استجب لکم ان شئت “ جیسا کہ دوسری جگہ ہے ” عجلنا فیہا ما نشاء لمن نرید “ (بنی اسرائیل رکوع 2) ۔ نیز فرمایا ” ویکشف ا تدعون الیہ ان شاء “ (انعام رکوع 4) ۔ یا مطلب یہ ہوگا کہ تم مجھے پکارو، تمہاری دعائیں قبول کرنے کی طاقت مجھ ہی میں ہے میرے سوا کوئی دعاء اور پکار کو نہ سن سکتا ہے، نہ قبول کرسکتا ہے۔ ” ان الذین یستکبرون جو لوگ صرف مجھے ہی پکارنے سے استکبار کرتے ہیں، صرف مجھے ہی پکارنے پر اکتفا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
ربط آیات :
مسئلہ توحید کی تفہیم ، قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کی وضاحت اور جزائے عمل کے تعین کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کیا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا ، فرعونیوں کا غرور وتکبر اور سرکشی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی منصوبہ بندی کا تذکرہ ہوا ، ایک عبد مومن کی نصیحت اور خیرخواہی کی بات ہوئی ، آخر کار فرعون اور اس کے حواریوں کی تدبیر ناکام ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور مرد مومن دونوں کو بچا لیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں تو آل فرعون اور غرقابی کی سزا ملی اور عالم برزخ میں وہ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ، ان کا آخری ٹھکانا دوزخ…
Read the full tafseer →وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ 0 ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَہَنَّمَ دٰخِرِيْنَ 60ۧ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
تفسیر : ترغیب و ترہیب کے بعد پھر دلائلِ توحید و اثبات حشر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ فقال لخلق السمٰوٰتالخ کہ یہ منکرین حشر اس بات سے کیا تعجب کرتے ہیں کہ قیامت کے روز خدا تعالیٰ بندوں کو باردگر پیدا کرے گا اور اس بات کو کیا محال جانتے ہیں ؟ کس لیے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے جو انسانوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے۔ آسمانوں کی وسعت اور ان میں ایسے ایسے بڑے اجرام نورانی یعنی آفتاب و مہتاب اور ستارے کہ جو زمین سے ہزاروں حصہ بڑے ہیں، عاقل کے لیے اس کی قدرت کاملہ پر دلیل میں ہیں۔
فیثا غورث حکیم اور اس کے مبتعین جو آسمانوں کا وجود ہمارے خیال کے موافق تسلیم نہیں کرتے اور آسمان فضاء کو کہتے…
Read the full tafseer →وَقَالَ رَبُّـکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَـکُمْ ط اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَـکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْ خُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِیْنَ ۔ (المؤمن : 60)
(اور تمہارے رب کا ارشاد ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا، جو لوگ میری بندگی سے گھمنڈ میں آکر اعراض کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ )
عقیدہ آخرت کو نقصان پہنچانے والے دو سبب اور ان کا رد
آخرت کے عقیدے کو جن تصورات نے نقصان پہنچایا ہے ان میں سے ایک تصور یہ ہے کہ اس کا وقوع بعیداز عقل ہے۔ اوپر کی آیات میں اس کا جواب دیتے ہوئے ایک تو اس کا امکان واضح کیا گیا اور دوسرے اسے اخلاقی ضرورت قرار دیا گیا۔ اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اندھے پن سے نجات اور قیامت کی ہولناکیوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ صرف ایک رب کی عبادت کی جائے۔ اور صرف اسی سے دعائیں کی جائیں۔
قیامت کا انکار کرنے والوں کی اکثریت ہمیشہ ایسی رہی ہے جو اپنے رب کی عبادت کرنے اور صرف اسی سے مانگنے کی بجائے بتوں، دیوتاؤں، جنّات اور فوت شدہ بزرگوں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی اور ہستی سے مانگنا اپنے رب کے ساتھ تکبّر کرنا ہے۔ کیونکہ اس کا حکم ہے کہ لوگو ! صرف مجھ ہی سے مانگا کرو۔ میں ہی تمہاری دعاؤں کو قبول کرتا ہوں۔ جو لوگ للہ تعالیٰ سے اس کے حکم کے مطابق نہیں مانگتے وہ متکبر ہیں۔ اس کا…
Read the full tafseer →ادعوا کا معنی اعبدوا ہے :
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ (اور تمہارے پروردگار نے فرما دیا ہے کہ مجھ کو پکارو) ادعوا بمعنی اعبدوا ہے اَسْتَجِبْ لَكُمْ (میں تمہاری درخواستوں کو قبول کروں گا) تم کو ثواب دوں گا۔ الدعاء کا لفظ عبادت کے معنی میں قرآن مجید میں بہت استعمال ہوعا ہے قرآن مجید کی یہ آیت اسی پر دلالت کرتی ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ (اور جو لوگ میری عبادت سے سرتابی کرتے ہیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ادعاء ھو العبادۃ، اور پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی (رواہ احمد : 4:267، ابو داود 1479، الترمذی 3247، ابن ماجہ 3828) ۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے تم مجھے وحدہ لا شریک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
تفسیر 58۔ ، وما یستوی الا عمی والبصیر والذین امنوا وعملوا الصالحات ولا المسیء قلیلا ما تتذکرون، اہل کوفہ نے ، تتذکرون، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس لیے کہ آیات کا اول واخرقوم کی خب رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
58۔ 60۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا کہ لوگوں کے دوسری بار پیدا کرنے سے آسمان اور زمین کا پیدا کرنا بغیر کسی نمونہ کے عقل کے نزدیک بہت بڑا ہے کیونکہ بڑی چیز کے بنانے میں چھوٹی چیز کے بنانے سے زیادہ قدرت درکار ہے مگر اللہ کے نزدیک چھوٹی بڑی چیز کے بنانے میں کچھ فرق نہیں حاصل یہ کہ جب تم اس کی ایسی ایسی بڑی چیزیں بنائی ہوئی رات دن دیکھ رہے ہو تو پھر کیوں دوسری بار پیدا ہونے کو دشوار جانتے ہو جو صاحب قدرت ایسی بڑی چیزوں کے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ انسان کے دوسری بار پیدا کرنے پر بطریق اولیٰ قادر ہے پھر کیوں اندھوں کی طرح قیامت سے انکار کرتے ہو اور جو لوگ اس بات کو…
Read the full tafseer →آیت 60
یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و کرم اور اس کی عظیم نعمت ہے کہ اس نے انہیں اس چیز کی طرف دعوت دی جس میں ان کے دین و دنیا کی بھلائی ہے اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے دعا کریں۔۔۔ یعنی دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ۔۔۔ اور ان سے وعدہ فرمایا کہ وہ ان کی دعا قبول فرمائے گا اور ان متکبرین کو وعید سنائی ہے جو تکبر کی بنا پر اس کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں، چناچہ فرمایا (آیت) ” جو لوگ میری عبادت (دعا) سے تکبر کرتے ہیں عنقریب وہ جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہوں گے۔ “ یعنی انکے تکبر کی پاداش میں ان کے لئے عذاب اور رسوائی کو اکٹھا کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–85
دعا ہی عبادت ہے
قول باری ہے (وقال ربکم ادعونی استجب لکم۔ اور تمہارے رب نے کہا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا) سفیان ثوری نے اعمش اور منصور سے انہوں نے سبیع الکندی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (ان الدعاء ھوالعبادۃ دعا ہی عبادت ہے) پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
112 دعا و پکار اللہ ہی سے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور فرمایا تمہارے رب نے کہ تم سب مجھ ہی کو پکارو میں تمہاری پکار کو سنوں گا "۔ یعنی براہ راست مجھے پکارو۔ میں تمہاری پکار کو سنوں گا اور تمہاری دعا کو قبول کروں گا۔ دیکھئے اللہ پاک کس صراحت و وضاحت کے ساتھ اپنے بندوں کو براہ راست اور بلاواسطہ اپنے رب کو پکارنے کی تعلیم دیتا اور اس کی قبولیت کا وعدہ فرماتا ہے مگر اس کے باوجود دور حاضر کا جاہل مسلمان کہتا ہے کہ اللہ ہم گناہ گاروں کی براہ راست نہیں سنتا۔ بلکہ " ہماری فلاں کے آگے اور اس کی خدا کے آگے " وغیرہ۔ اور جاہل پیر اور گمراہ ملاں اس سادہ لوح مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
ذکر قیامت ‘ عبادت کی روح دعا
تشریح : ان آیات میں فرعون کی مثال دیکر یہ سمجھایا گیا ہے کہ اس کو اور اس کے ساتھیوں کو تمام نشانیاں خوب کھول کر بیان کردی گئیں مگر وہ نہ مانے تو ان کی بڑائی اور غرور نے ان کو ذلیل و خوار کردیا۔ سب نشانیاں دیکھ کر بھی جو ایمان نہ لائے تو پھر اس کو اندھا ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہاں قیامت ‘ دعا اور عبادت کا ذکر کیا گیا ہے اور آخرت کا بیان کیا گیا ہے۔ اور پھر اللہ کی قدرتوں کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ انسان کو پیدا کرنا کائنات کو پیدا کرنے سے آسان ہے۔ اب اس کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ انسانی جسم اور روح آج تک انسان کیلئے کافی پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ جسمانی نظم و نسق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
رکوع نمبر 6: آیات 51 تا 60:
اسرار و معارف :
اقوام سابقہ کے حالات بھی شاہد ہیں کہ اللہ اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والون کی دار دنیا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور ہمیشہ آخری کامیابی بھی انہی کی ہوتی ہے اور عزت و آرام بھی انہی کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ بات آج کے حالات میں بھی بالکل واضح ہے اور آخرت میں جب اعمال کا حساب ہوگا اور سب پر گواہیاں پیش ہوں گی تو یہ کفار و مشرکین سب اکڑ بھول کر معذرت کرنے لگیں گے لیکن تب یہ سب منظور نہ ہوسکے گا اور ان پر لعنت و پھٹکار ہوگی نیز انہیں بہت برا ٹھکانہ نصیب ہوگا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت کی راہ دکھائی انہیں بھی آسمانی کتاب ملی پھر بہت بڑی کافر طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ف 11 دعا کے اصل معنی پکارنا ہیں۔ قرآن میں عموماً عبادت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ( الدعا ھوا العبادۃ) کہ دعا عبادت ہی ہے اور پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ بعض روایات میں دعا کو ( افضل العبادۃ) یا ( مح العبادۃ) بھی فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کرنا دراصل اپنی عبودیت کا اقرار کرنا ہے اور حدیث ہے جو اللہ سے دعا نہیں کرتا اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔ (شوکانی)12 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگا، نہ مانگنا غرور ہے۔ اگر دنیا نہ مانگے تو مغفرت ہی مانگے۔ ( موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
(40:58) یستوی : مضارع واحد مذکر غائب ۔ استواء (افتعال) مصدر برابر ہونا۔ ما یستوی براب نہیں ہے۔ یکساں نہیں ہے۔
اعمی۔ اندھا۔ یعنی جاہل۔ بصیر بینا۔ دیکھنے والا۔ مراد ہے عالم ، دانا۔
الذین امنوا وعملوا الصلحت : وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔
المسیئ : اسم فاعل واحد مذکر اساء ۃ (افعال) مصدر۔ سوء مادہ : بدی کرنے والا۔ مراد کافر المسیء سے پہلے لام زائد ہے
مطلب یہ کہ جس طرح ایک جاہل اور ایک عالم برابر نہیں ہیں اسی طرح مومن نیکوکار اور کافر بدکار بھی آپس میں برابر نہیں ہیں۔
قلیلا ما تتذکرون : قلیلا مصدر محذوف کی صفت ہے۔ ای تذکرا قلیلا۔ تتذکرون : اس صورت میں ما صلہ زائدہ ہے۔ تم کم نصیحت پکڑتے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–63
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں، اسی طرح ایماندار نیک کردار اور کافر بدکار برابر نہیں، کیونکہ ایماندار شخص جو نہایت بصیرت کے ساتھ صراط مستقیم کو دیکھتا اور سمجھتا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کرو اور اللہ کو پہچانتا ہے اور کافر اندھے جسے حق کاسیدھاراستہ نہیں سوجھتا، اور قدرت کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان کا اندھاپن اس لیے ہے کہ یہ اللہ کی دی ہوئی سمجھ سے کام نہیں لیتے تھے اگر ذرا بھی سمجھ سے کام لیویں تو بت پرستی ، حشر کے انکار اور ایسی اور نافرمانی کی باتوں کی برائی ان کو اچھی طرح سب کھل جائے پھر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
[21] اس آیت میں تین باتیں قابل توجہ ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی کو جو کچھ مانگنا ہے وہ اللہ ہی سے مانگے اور اس کے سوا کسی کو نہ پکارے۔ دوسرے یہ کہ دعا قبول کرنے کے کل اختیارات اللہ ہی کے پاس ہیں۔ اگر اس
سے خلوص نیت کے ساتھ دعا مانگی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے بشرطیکہ وہ گناہ کے لئے نہ ہو۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ دعا قبول ہونے کی تین صورتیں ہیں یا تو دعا اس دنیا میں قبول کرلی جاتی ہے، یا اسے آخرت میں اجر دینے کے لئے محفوظ رکھ لیا جاتا ہے یا اس درجے کی کسی آفت کو اس پر آنے سے روک دیا جاتا ہے۔ تیسری بات جو قابل غور ہے وہ یہ کہ پہلے فقرے میں جس چیز کو دعا سے تعبیر کیا گیا تھا اسی کو دوسرے فقرے میں عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
ف 1: مشرکین کے لئے قابل غور اور فکریہ بات ہے ۔ کہ آخر کیوں رب العزت کی دہلیز اجابت کو چھوڑ کر وہ دوسروں کے آہستیانوں پر جھکتے ہیں ۔ جب کہ اس نے براہ راست دعا مانگنے کی اجازت دی ہے اور کہا ہے ۔ کہ تم مجھے جس وقت اور جس حالت میں بھی چاہو پکارو ۔ میں تمہاری سنوں گا ۔ ایسے رحیم اور شفیق خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرنا محض ناشکری اور کبر و غرور ہے ۔ جن کی سزا ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے ۔ غور تو کرو ۔ وہ خدا جس نے تمہارے لئے رات کو پیدا کیا ۔ کہ تم اس میں آرام اور آسودگی حاصل کرو ۔ جس نے دن کو روشنی بخشی ۔ کہ تم اس میں اپنے کاروبار کو سہولت سے جاری رکھ سکو ۔ ایسے صاحب فضل وکرم مالک کا شکر ادا نہ…
Read the full tafseer →(60) اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے مجھ سے دعا مانگو مجھ کو پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور تمہاری پکار کو پہنچوں گا بلا شبہ جو لوگ میری عبادت سے سرتابی اور غور و فکر وتکبر کا برتائو کرتے ہیں وہ عنقریب جہنم میں ذلیل ہوکر داخل ہوں گے وہ بہت جلد مرنے کے بعد جہنم میں داخل ہوں گے درآنحالیکہ وہ ذلیل ہوں گے - حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بندگی کی شرط ہے اپنے رب سے مانگنا نہ مانگنا غرور ہے اگر دنیا نہ مانگے تو مغفرت ہی مانگے اور اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پکار کو پہنچتا ہے سو برحق بات یہ ہے مگر یہ نہیں کہ ہر بندے کی ہر دعا قبول کرے اپنی مرضی کے موافق مالک ہے اپنی خوشی کرتا ہے۔
عبادت میں…
Read the full tafseer →ف 1۔ حاصل یہ ہوا کہ جو لوگ توحید سے اعراض کر کے شرک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ربِ کریم کا یہ کلمہ ہے کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا
60۔ دعا کیا ہے ؟ عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کا ارشاد ہے کہ الدعا مخ العبادہ کہ دعا عبادت کا مغز ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” اسئلونی اعطکم “ تم مجھ سے مانگو میں تم کو دوں گا اور پھر دونوں فریقوں میں دونوں معنوں میں کوئی فرق نہیں ہے جس طرح دعا عبادت ہے اسی طرح دعا سوال بھی ہے اور جس طرح غیر اللہ کی عبادت جائز اور درست نہیں اسی طرح غیر اللہ سے دعا بھی جائز اور درست نہیں اور بالکل اس طرح غیر اللہ کے سامنے دست سوال پھیلانا بھی ناجائز و حرام ہے۔ خیال رہے کہ انتہا درجہ کی عاجزی اور نیاز مندی کو عبادت کہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
The reality of du` a' (supplication) and its merits, levels and conditions of acceptance
In the last verse cited in this unit, it was said:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
And your Lord has said, “ Call Me, I will respond to you. Definitely those who show arrogance against worshipping Me shall enter Jahannam, disgraced. - 40:60.
Literally, du'a means to call, and it is frequently used to call for something needed. On occasions, the dhikr of Allah (acts devoted to His remembrance) is also…
Read the full tafseer →82 After the Hereafter the discourse now turns to Tauhid which was the second point of dispute between the Holy Prophet and the disbelievers.
83 That is, "all the powers to answer our prayers vest in Me only; so you should not pray to others but pray to Me." To understand the spirit of this verse well, three points should be comprehended properly: First, man prays only to that being whom he regards as all-Hearing and all-Seeing and Possessor of supernatural powers. And the real motive of prayer for man is the internal feeling that the natural means and resources of the material world are not…
Read the full tafseer →