Explained with ayahs 57–59
انسان کی دوبارہ پیدائش کے دلائل۔
اللہ تعالیٰ قادر مطلق فرماتا ہے کہ مخلوق کو وہ قیامت کے دن نئے سرے سے ضرور زندہ کرے گا جبکہ اس نے آسمان و زمین جیسی زبردست مخلوق کو پیدا کردیا تو انسان کا پیدا کرنا یا اسے بگاڑ کر بنانا اس پر کیا مشکل ہے ؟ اور آیت میں ارشاد ہے کہ کیا ایسی بات اور اتنی واضح حقیقت بھی جھٹلائے جانے کے قابل ہے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کردیا اور اس اتنی بڑی چیز کی پیدائش سے نہ وہ تھکا نہ عاجز ہوا اس پر مردوں کا جلانا کیا مشکل ہے ؟ ایسی صاف دلیل بھی جس کے سامنے جھٹلانے کی چیز ہو اس کی معلومات یقینا نوحہ کرنے کے قابل ہیں۔ اس کی جہالت میں کیا شک ہے ؟ جو ایسی موٹی بات بھی نہ…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 80
یہ وجوب آخرت کی دلیل ہے۔ اوپر کے فقرے میں بتایا گیا تھا کہ آخرت ہو سکتی ہے، اس کا ہونا غیر ممکن نہیں ہے۔ اور اس فقرے میں بتایا جا رہا ہے کہ آخرت ہونی چاہیے، عقل اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہو، اور اس کا ہونا نہیں بلکہ نہ ہونا خلاف عقل و انصاف ہے۔ آخر کوئی معقول آدمی اس بات کو کیسے درست مان سکتا ہے کہ جو لوگ دنیا میں اندھوں کی طرح جیتے ہیں اور اپنے برے اخلاق و اعمال سے خدا کی زمین کو فساد سے بھر دیتے ہیں وہ اپنی اس غلط روش کا کوئی برا انجام نہ دیکھیں، اور اسی طرح وہ لوگ بھی جو دنیا میں آنکھیں کھول کر چلتے ہیں اور ایمان لا کر نیک عمل کرتے ہیں اپنی اس اچھی کارکردگی کا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
(آیت) اِنْ فِيْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ۔ یعنی یہ لوگ جو اللہ کی آیات میں بغیر کسی حجت و دلیل کے جدال کرتے ہیں، اور مقصد دراصل اس دین سے انکار کرنا ہے جس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ان کے دلوں میں تکبر ہے۔ یہ اپنی بڑائی چاہتے ہیں اور اپنی بےوقوفی سے یوں سمجھے ہوئے ہیں کہ یہ بڑائی ہمیں اپنے مذہب پر قائم رہنے سے حاصل ہے، اس کو چھوڑ کر مسلمان ہوجائیں گے تو ہماری یہ ریاست و اقتدا نہ رہے گا۔ قرآن کریم نے فرما دیا کہ مّا هُمْ بِبَالِغِيْهِ یعنی وہ اپنی مزعومہ بڑائی عظمت اور ریاست کو اسلام لائے بغیر نہ پاسکیں گے۔ البتہ اسلام لے آئے تو عزت و عظمت ان کے ساتھ ہوتی۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
آخرت کی اخلاقی ضرورت واضح فرمائی کہ اگر آخرت نہیں ہے، جیسا کہ یہ لوگ گمان کئے بیٹھے ہیں، تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا ایک اندھیر نگری ہے۔ اس کے خالق کے نزدیک عقل و دل کے اندھے اور عقل و بصیرت رکھنے والے دونوں یکساں ہیں اور نیکوکار اور بدکار میں اس کے نزدیک کوئی فرق ہی نہیں ہے۔ یہ بات بالبداہت غلط ہے۔ اس سے خدا کی صفات عدل، حکمت، رحم اور قدرت کی نفی ہوجاتی ہے جو دوسرے الفاظ میں خود خدا کی نفی کے ہم معنی ہے۔ اس وجہ سے قیامت کا آنا لازمی ہے۔ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ اکثر لوگ اس بدیہی حقیقت پر بھی ایمان نہیں لا رہے ہیں۔
’ اعمر ‘ یہاں عقل و دل کے اندھوں کے لئے استعمال…
Read the full tafseer →58۔ 1 مطلب ہے جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں، اسی طرح مومن و کافر اور نیکوکار اور بدکار برابر نہیں بلکہ قیامت کے دن ان کے درمیان جو عظیم فرق ہوگا، وہ بالکل واضح ہو کر سامنے آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–66
17: مشرکین عرب مانتے تھے کہ آسمان و زمین سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اتنی سی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ جو ذات اتنی عظیم الشان چیزیں عدم سے وجود میں لاسکتی ہے، اس کے لیے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ چنانچہ اس واضح بات کا بھی وہ انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
درس نمبر 225 ایک نظر میں
یہ سبق اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے پوری طرح سابق سبق سے بالکل مربوط اور یکساں ہے۔ اس سبق میں وہی مضمون آگے چلتا ہے جو پہلے سبق کے آخر میں چھوڑا گیا تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کی جو ناحق تکذیب کرتے ہیں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ آپ اس پر صبر کریں۔ وہ آپ کو ایذا دیتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکتے ہیں ، یہ سب کچھ وہ اپنے جھوٹے فخرو غرور کی وجہ سے کررہے ہیں۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ لوگ بغیر دلیل وبرہان کے اللہ کی آیات میں کیوں جھگڑتے ہیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ہیں تو بہت چھوٹے اور بونے مگر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے…
Read the full tafseer →1 یعنی ایک اندھا جسے حق کا سیدھا راستہ نہیں سوجھتا، اور ایک آنکھوں والا جو نہایت بصیرت کے ساتھ صراط مستقیم کو دیکھتا اور سمجھتا ہے، کیا دنوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ یا ایک نیکوکار مومن اور کافر بدکار کا انجام یکساں ہوسکتا ہے ؟ اگر ایسا نہیں تو ضرور ایک دن چاہیے جب ان کا باہمی فرق کھلے۔ اور دونوں کے علم کے ثمرات اپنی اکمل ترین صورت میں ظاہر ہوں۔ مگر افسوس کہ تم اتنا بھی نہیں سوچتے۔
Read the full tafseer →آیت 58 { وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ } ”اور برابر نہیں ہوسکتے اندھے اور آنکھوں والے“
{ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الْمُسِیْٓئُ } ”اور نہ برابر ہوسکتے ہیں وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور وہ جو بدکار ہیں۔“
{ قَلِیْلًا مَّا تَتَذَکَّرُوْنَ } ”بہت ہی کم ہے جو کہ تم سبق حاصل کرتے ہو۔“
Read the full tafseer →76 ایک دنیا دار اور متقی کے کردار کا موازنہ :۔ یہ بعث بعد الموت پر دوسری دلیل ہے۔ یعنی ایک شخص اپنا تمام طرز زندگی وحی الٰہی کی روشنی میں استوار کرتا ہے۔ اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے ہر طرح کے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ پھر اپنی زندگی اور اپنی خواہشات پر کئی طرح کی پابندیاں عائد کرتا ہے جو حکم الٰہی کے مطابق ضروری تھیں۔ ہمیشہ راست بازی اور دیانتداری سے کام لیتا ہے۔ کسی کو نہ فریب دیتا ہے نہ کسی پر زیادتی کرتا ہے اور ایک شریف انسان کی طرح اللہ سے ڈرتے ہوئے محتاط زندگی گزار رہا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کے پاس تقلید آباء اور جہالت کی تاریکیوں کے سوا کچھ نہیں۔ اپنے نفس کی خواہشات…
Read the full tafseer →58۔ (ورنہ اب تک نابینا وفسق پیشہ نہ رہتے، سب کے سب بینا وباایمان ہوگئے ہوتے) (آیت) ” المسی ٓ ء “۔ لفظی معنی تو بدکار یا بدعمل کے ہیں، یہاں مراد کافر ہے۔ لا یستوی ال مومن ون الابرار والکفرۃ الفجار (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہی دینے والے گواہی دیں گے اَشْھاد، شاھِد کی جمع ہے، اور وہ ملائکہ ہیں جو رسولوں کے (پیغام) پہنچانے کی اور کافروں کے جھٹلانے کی گواہی دیں گے جس دن ظالموں کو ان کے (عذر) معذرت کچھ فائدہ نہ دیں گے، (یَنفَعُ ) تاء اور یاء کے ساتھ اگر وہ معذرت کریں گے اور ان کے لئے لعنت ہوگی یعنی رحمت سے دوری اور ان کے لئے آخرت برا گھر ہے یعنی دار آخرت کے عذاب کی شدت اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ یعنی تورات اور معجزات عطا فرمائے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بنی…
Read the full tafseer →وما یستوی الاعمی والبصیر والذین امنوا وعملوا الصلحت ولا المسی قلیلا ما تتذکرون
اور نابینا و بینا اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک کام کئے اور جو لوگ بدکردار ہیں ‘ برابر نہیں ہوسکتے۔ تم لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہو۔
اَعْمٰی یعنی جاہل۔ بَصِیْر یعنی عالم۔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یعنی نیکوکار۔ مُسِیْٓءٌ بدکار۔ مطلب یہ کہ جاہل اور عالم ‘ نیکوکار اور بدکار برابر نہیں ‘ ان میں بڑا تفاوت درجات ہے۔ دنیا میں تو ان کے درمیان کوئی تفاوت (محسوس) نہیں ہوتا ‘ لامحالہ مرنے کے بعد اور قیامت کے دن ان کے درمیان فرق مراتب ہونا ضروری ہے۔
قَلِیْلًا مَّا یعنی بہت کم سمجھتے ہو ‘ یا تھوڑی دیر سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →اور کافر و مومن ثواب و اعزاز میں اور اسی طرح جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کیے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والا دونوں برابر نہیں ہوسکتے تم لوگ بہت ہی کم باتوں سے نصیحت حاصل کرتے ہو۔
Read the full tafseer →(1) وما یستوی الاعی و البصیر…: یہ بھی قیامت کی دلیل ہے۔ سب جانتے ہیں کہ اندھا اور بینا برابر نہیں، اسی طرح وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے صالح عمل کئے اور جنہوں نے کفر کیا اور برے عمل کئے، دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ تو اگر قیامت کا انکار کیا جائے اور اس دن پر ایمان نہ رکھا جائے جس میں سب لوگ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے اور ہر نیک و بد کو اس کی جزا یا سزا ملے گی، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بینا و نابینا ایک ہیں اور نیک و بد برابر ہیں۔ بلکہ ایک حساب سے برے اعمال کرنے والا زیادہ فائدہ میں ہے کہ وہ ساری عمر من مانی بھی کرتا رہا۔ دل میں آنے والی ہر بری خواشہ بھی پوری کرتا رہا،…
Read the full tafseer →وما یستوی الا عمی والبصیر یعنی مومن اور کافر، گمراہ اور ہدایت یافتہ برابر نہیں ہو سکتے۔ والذین امنوا و عملوا الصلحت والا المسی جو اچھے اعمال کرتا ہے اور جو برے اعمال کرتا ہے وہ برابر نہیں ہو سکتے قلیلا ما تتذکرون۔ عام قرأت یاء کے ساتھ ہے، ابو عبیدہ اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا کیونکہ اس سے قبل اور ما بعد غائب کے صیغے ہیں۔ کو فیوں نے تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ یعنی یہودیوں نے گمان کیا کہ ہم میں سے آخری زمانہ میں ایک بادشاہ ہوگا کہ سمندر اس کے گھٹنوں تک ہوگا اور بادل اس کے سرکے نیچے ہوگا آسمان اور زمین کے درمیان وہ پرندے کو پکڑے گا اس کے ساتھ روٹی کے پہاڑ اور نہر ہوگی۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” لخلق السموت والارض اکبر من خلق الناس “ (البتہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے)
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ان فی صدورھم الا کبر “ (ان کے دلوں میں بڑائی ہی بڑائی ہے۔ ) اس میں…
Read the full tafseer →وَمَا يَسْتَوِي [ اور برابر نہیں ہوتا ] الْاَعْمٰى [ اندھا ] وَالْبَصِيْرُ ڏ [اور بصارت والا ] وَالَّذِيْنَ [ اور (نہ ) وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ [ اور انہوں نے عمل کئے نیکیوں کے ] وَلَا الْمُسِيْۗءُ ۭ [ اور نہ ہی برا کرنے والا ] قَلِيْلًا مَّا [ بہت ہی تھوڑی سی ] تَتَذَكَّرُوْنَ [ تم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
بینا اور نابینا اور مومنین صالحین اور برے لوگ برابر نہیں ہوسکتے
ان آیات میں قیامت کا آنا ثابت فرمایا ہے اور جو لوگ وقوع قیامت کو مستبعد سمجھتے تھے ان کا استبعاد دور فرمایا قیامت کا انکار کرنے والے یوں کہتے تھے کہ قبروں سے نکل کر دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے یہ ان لوگوں کی ناسمجھی اور بیوقوفی کی بات تھی اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ دیکھو یہ آسمان اور یہ زمین اتنی بڑی بڑی چیزیں ہم نے پیدا کیں ایک سمجھ دار منصف آدمی غور کرے گا اس کی سمجھ میں یہی آئے گا کہ مردہ جسم میں جان ڈالنا خالق ارض و سماء کے لیے ذرا بھی بڑی بات نہیں ہے بات تو سیدھی سادی ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ مردوں میں روح دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–60
بعد ازذکر عذاب دنیوی وبیان عذاب برزخ وآخرت ذلت و خواری فرعونیاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” النار یعرضون علیھا ...... الی ....... الا فی ضلل “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آل فرعون کے مرد مومن کا ناصحانہ خطاب کا بیان تھا کہ اس نے کیسے مؤثر وبلیغ اور مدلل انداز سے فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اس سے آگے بڑھ کر ان کو حق کی دعوت دی اور اللہ رب العزت کی الوہیت ووحدانیت کے دلائل قائم کرتے ہوئے ایمان لانے پر آمادہ کرنا چاہا اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا، اب ان آیات میں جو عذاب خداوندی ان پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
61:۔ ” ان الساعۃ “ یہ ثبوت قیامت کا دعوے ہے۔ قیامت لامحالہ آنے والی ہے، اس کے آنے میں کوئی شک نہیں لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ یعنی کفار ایسی یقنی اور قطعی چیز کا بھی انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
ربط آیات :
مسئلہ توحید کی تفہیم ، قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کی وضاحت اور جزائے عمل کے تعین کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کیا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا ، فرعونیوں کا غرور وتکبر اور سرکشی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی منصوبہ بندی کا تذکرہ ہوا ، ایک عبد مومن کی نصیحت اور خیرخواہی کی بات ہوئی ، آخر کار فرعون اور اس کے حواریوں کی تدبیر ناکام ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور مرد مومن دونوں کو بچا لیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں تو آل فرعون اور غرقابی کی سزا ملی اور عالم برزخ میں وہ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ، ان کا آخری ٹھکانا دوزخ…
Read the full tafseer →وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ 0ۥۙ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الْمُسِيْۗءُ 0 ۭ قَلِيْلًا مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ 58
استوا
أن يقال لاعتدال الشیء في ذاته، نحو : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6]
( س و ی ) المسا واۃ
کسی چیز کے اپنی ذات کے اعتبار سے حالت اعتدال پر ہونے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى[ النجم/ 6] یعنی جبرائیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے
عمی
العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
تفسیر : ترغیب و ترہیب کے بعد پھر دلائلِ توحید و اثبات حشر کی طرف رجوع کرتا ہے۔ فقال لخلق السمٰوٰتالخ کہ یہ منکرین حشر اس بات سے کیا تعجب کرتے ہیں کہ قیامت کے روز خدا تعالیٰ بندوں کو باردگر پیدا کرے گا اور اس بات کو کیا محال جانتے ہیں ؟ کس لیے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے جو انسانوں کے پیدا کرنے سے بڑا کام ہے۔ آسمانوں کی وسعت اور ان میں ایسے ایسے بڑے اجرام نورانی یعنی آفتاب و مہتاب اور ستارے کہ جو زمین سے ہزاروں حصہ بڑے ہیں، عاقل کے لیے اس کی قدرت کاملہ پر دلیل میں ہیں۔
فیثا غورث حکیم اور اس کے مبتعین جو آسمانوں کا وجود ہمارے خیال کے موافق تسلیم نہیں کرتے اور آسمان فضاء کو کہتے…
Read the full tafseer →وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰے وَالْبَصِیْرُ لا 5 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلاَ الْمُسِیْٓ ئُ ط قَلِیْلاً مَّا تَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (المؤمن : 58)
(اندھا اور بینا اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے اور جو برائی کرنے والے ہیں برابر نہیں ہوسکتے، تم لوگ بہت کم سمجھتے ہو۔ )
اخلاقی اعتبار سے آخرت کا وجوب
اس آیت کریمہ میں وجوبِ آخرت کی دلیل بیان کی گئی ہے۔ یعنی صرف ایسا نہیں کہ آخرت آسکتی ہے بلکہ اخلاقی امکانات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا چاہیے کہ آخرت کا آنا اخلاقی ضرورت ہے، ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ دنیا میں نیکی اور بدی برابر ہے، اچھے اور برے یکساں ہیں۔ جو آدمی دل بیدار کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
فہم القرآن
ربط کلام : حق کے بارے میں کبر اختیار کرنے والوں کو دیکھنا اور سوچنا چاہیے کہ پیدائش اور وجود کے اعتبار سے وہ بڑے ہیں یا زمین و آسمان بڑے ہیں۔ ظاہر ہے کہ زمین و آسمان بڑے ہیں مگر جو لوگ بلادلیل اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں حقیقتاً وہ اندھے ہیں اس لیے بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت برپا ہونے والی ہے جس کے بارے میں یہ شک یعنی قیامت کے دن ان کے کبر کا فیصلہ ہوجائے گا۔
جب آدمی تکبر کا شکار ہوجاتا ہے تو حقیقت پر غور کرنا تو درکنار اسے سننا بھی پسند نہیں کرتا۔ ایسا آدمی کافر ہے تو قولاً بھی قیامت کا انکار کرتا ہے۔ پھر اپنے انکار کو برحق ثابت کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →وَمَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ڏ وَالَّذِيْنَ (اور آنکھوں والا اور اندھا برابر نہیں ہوتے اور) اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَلَا الْمُسِيْۗءُ ۭ قَلِيْلًا (وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے اور بدکار باہم برابر) مَّا تَتَذَكَّرُوْنَ (نہیں ہوتے۔ تم لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہو) ۔ تتذکرون کا معنی نصیحت پکڑنا۔
قراءت : دونوں تاء کے ساتھ کوفی قراء نے پڑھا اور باقی قرارء نے یاء اور تاء سے پڑھا (تتذکرون، یتذکرون) قلیلا یہ مصدر محذوف کی صفت ہے۔ تذکرا قلیلا ما یتذکرون۔ وہ نصیحت حاصل کرتے ہیں حاصل کرنا تھوڑا۔ لا المسیئ کا لا زائد ہے۔ ما صلہ زائدہ ہے۔
Read the full tafseer →57، لخلق السموات والارض، اپنی عظمت کے باو جود، اکبر، مینوں میں بڑا ہے۔ ، من خلق الناس، یعنی موت کے بعدان کو دوبارہ لوٹا نے سے، ولکن اکثرالناس، یعنی کفار، لایعلمون، کیونکہ وہ اس سے اپنے خالق کی توحید پر استدلال نہیں کرتے اور ایک قوم نے کہا ہے کہ اکبر یعنی دجال کے پیدا کرنے سے عظیم ہے۔ ، ولکن اکثر الناس لا یعلمون، یعنی وہ یہودجودجال کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں۔ ہشام بن عامر (رح) سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے قیامت کے قائم ہونے تک کوئی فتنہ دجال سے بڑا نہیں ہے۔
دجال کے خروج کے متعلق احادیث
حضرت اسماء بنت یزیدبن سکن کی روایت ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
58۔ 60۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا کہ لوگوں کے دوسری بار پیدا کرنے سے آسمان اور زمین کا پیدا کرنا بغیر کسی نمونہ کے عقل کے نزدیک بہت بڑا ہے کیونکہ بڑی چیز کے بنانے میں چھوٹی چیز کے بنانے سے زیادہ قدرت درکار ہے مگر اللہ کے نزدیک چھوٹی بڑی چیز کے بنانے میں کچھ فرق نہیں حاصل یہ کہ جب تم اس کی ایسی ایسی بڑی چیزیں بنائی ہوئی رات دن دیکھ رہے ہو تو پھر کیوں دوسری بار پیدا ہونے کو دشوار جانتے ہو جو صاحب قدرت ایسی بڑی چیزوں کے پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے وہ انسان کے دوسری بار پیدا کرنے پر بطریق اولیٰ قادر ہے پھر کیوں اندھوں کی طرح قیامت سے انکار کرتے ہو اور جو لوگ اس بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
آیت 57
اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو عقلا ثابت ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق ان کی عظمت و وسعت کے ساتھ، اناسنوں کی تخلیق سے زیادہ بڑا کرشمہ ہے کیونکہ اناسن کی تخلیق آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی نسبت بہت معمولی ہے۔ پس وہ ہستی جس نے اتنے بڑے بڑے اجرام فلکی کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا ہے اس کا لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا، زیادہ اولیٰ ہے۔ یہ عقل مند کے لئے حیات بعد الموت پر قطعی اور عقلی دلیل ہے، جو حیات بعد الموت کے بارے میں کسی شک و شبہ کو قبول نہیں کرتی، جس کے وقوع کی انبیاء ومرسلین نے خبر دی ہے، مگر ہر شخص اس میں غور و فکر نہیں کرسکتا۔ بنا بریں فرمایا : (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
قیامت سے پہلے بھی عذاب ہے
قول باری ہے (النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا۔ وہ لوگ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں) یہ آیت عذاب قبر پر دلات کرتی ہے کیونکہ قول باری ہے (ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ اور جس روز قیامت قائم ہوگی (یہ کہا جائے گا) اہل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت زیر بحث میں وہ عذاب مراد ہے جو قیامت سے پہلے انہیں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →110 ضرورت آخرت اختلاف اخلاق کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " برابر نہیں ہوسکتے اندھا اور دیکھنے والا اور نہ ہی نیک اور بد "۔ تو پھر ان کا انجام کیسے برابر ہوسکتا ہے ؟ اور جب اس دنیا میں اس فرق و انجام کا نتیجہ ظاہر نہیں ہوتا تو لازماً کوئی وقت ایسا ہوگا اور ضرور ہونا چاہیئے جس میں پورا انصاف ہو اور ہر کسی کو اپنے کئے کرائے کا پورا بدلہ ملے اور نتائج کا فرق بھرپور طریقے سے ظاہر ہو۔ سو وہی قیامت کا دن ہے جس کو یَوْمُ الدِّیْنِ یعنی " بدلے اور جزا و سزا کا دن " کہا جاتا ہے۔ لہٰذا قیامت کے اس دن کا آنا عقل و نقل دونوں کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ تاکہ عدل و انصاف اور سزا و جزا کے تقاضے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
ذکر قیامت ‘ عبادت کی روح دعا
تشریح : ان آیات میں فرعون کی مثال دیکر یہ سمجھایا گیا ہے کہ اس کو اور اس کے ساتھیوں کو تمام نشانیاں خوب کھول کر بیان کردی گئیں مگر وہ نہ مانے تو ان کی بڑائی اور غرور نے ان کو ذلیل و خوار کردیا۔ سب نشانیاں دیکھ کر بھی جو ایمان نہ لائے تو پھر اس کو اندھا ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہاں قیامت ‘ دعا اور عبادت کا ذکر کیا گیا ہے اور آخرت کا بیان کیا گیا ہے۔ اور پھر اللہ کی قدرتوں کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ انسان کو پیدا کرنا کائنات کو پیدا کرنے سے آسان ہے۔ اب اس کو ہم یوں سمجھ سکتے ہیں کہ انسانی جسم اور روح آج تک انسان کیلئے کافی پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ جسمانی نظم و نسق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
رکوع نمبر 6: آیات 51 تا 60:
اسرار و معارف :
اقوام سابقہ کے حالات بھی شاہد ہیں کہ اللہ اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والون کی دار دنیا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور ہمیشہ آخری کامیابی بھی انہی کی ہوتی ہے اور عزت و آرام بھی انہی کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ بات آج کے حالات میں بھی بالکل واضح ہے اور آخرت میں جب اعمال کا حساب ہوگا اور سب پر گواہیاں پیش ہوں گی تو یہ کفار و مشرکین سب اکڑ بھول کر معذرت کرنے لگیں گے لیکن تب یہ سب منظور نہ ہوسکے گا اور ان پر لعنت و پھٹکار ہوگی نیز انہیں بہت برا ٹھکانہ نصیب ہوگا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت کی راہ دکھائی انہیں بھی آسمانی کتاب ملی پھر بہت بڑی کافر طاقت…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی جس طرح آخرت پر ایمان رکھنے والے اور اس پر یقین نہ رکھنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ یہی معاملہ ان لوگوں کا بھی ہے جو ایمان لا کر نیک عمل کریں اور جو کفر و شرک کی راہ پر چلتے ہیں۔10 اگر سوچو تو یہ حقیقت بڑی آسانی سے تمہاری سمجھ میں آسکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
(40:58) یستوی : مضارع واحد مذکر غائب ۔ استواء (افتعال) مصدر برابر ہونا۔ ما یستوی براب نہیں ہے۔ یکساں نہیں ہے۔
اعمی۔ اندھا۔ یعنی جاہل۔ بصیر بینا۔ دیکھنے والا۔ مراد ہے عالم ، دانا۔
الذین امنوا وعملوا الصلحت : وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔
المسیئ : اسم فاعل واحد مذکر اساء ۃ (افعال) مصدر۔ سوء مادہ : بدی کرنے والا۔ مراد کافر المسیء سے پہلے لام زائد ہے
مطلب یہ کہ جس طرح ایک جاہل اور ایک عالم برابر نہیں ہیں اسی طرح مومن نیکوکار اور کافر بدکار بھی آپس میں برابر نہیں ہیں۔
قلیلا ما تتذکرون : قلیلا مصدر محذوف کی صفت ہے۔ ای تذکرا قلیلا۔ تتذکرون : اس صورت میں ما صلہ زائدہ ہے۔ تم کم نصیحت پکڑتے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–63
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں، اسی طرح ایماندار نیک کردار اور کافر بدکار برابر نہیں، کیونکہ ایماندار شخص جو نہایت بصیرت کے ساتھ صراط مستقیم کو دیکھتا اور سمجھتا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کرو اور اللہ کو پہچانتا ہے اور کافر اندھے جسے حق کاسیدھاراستہ نہیں سوجھتا، اور قدرت کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان کا اندھاپن اس لیے ہے کہ یہ اللہ کی دی ہوئی سمجھ سے کام نہیں لیتے تھے اگر ذرا بھی سمجھ سے کام لیویں تو بت پرستی ، حشر کے انکار اور ایسی اور نافرمانی کی باتوں کی برائی ان کو اچھی طرح سب کھل جائے پھر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
[20] یہ آخرت کی اخلاقی ضرورت واضح فرمائی کہ اگر آخرت نہیں ہے جیسا کہ یہ لوگ گمان کئے بیٹھے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے اور اس کے خالق کے نزدیک عقل و دل کے اندھے اور عقل و بصیرت رکھنے والے دونوں یکساں ہیں اور نیکوکار اور بدکار میں اس کے نزدیک کوئی فرق نہیں۔ پس آخرت نہ ہونے کے معنی یہ ہوئے کہ نیک وبد آخرکار مر کر مٹی ہوجائیں اور ایک ہی انجام سے دوچار ہوں۔ پھر تو ایک بدکار آدمی بڑا عقلمند ہے کہ مرنے سے پہلے خوب دادعیش دے گیا اور ایک نیک بخت آدمی سخت بیوقوف ہے کہ خواہ مخواہ اپنے اوپر اخلاقی پابندیاں عائد کئے رہا۔ اس کے علاوہ آخرت کے انکار سے اللہ تعالیٰ کی صفات عدل، حکمت،…
Read the full tafseer →ف 2: یعنی جس طرح اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہیں ۔ اس طرح مومن اور منکر برابر نہیں ہیں ۔ مومن بصیرت والا ہوتا ہے ۔ اس کا وجدان زیادہ عجلے اور پاکیزہ ہے ۔ وہ بےپناہ دانش وخرد کا مالک ہے ۔ وہ حقائق کو دیکھتا اور محسوس کرتا ہے اور اس نوع کے شکوک اس کے دل میں کبھی پیدا نہیں ہوتے ۔ کہ یہ عالم انسانی دوبارہ وجود پذیر ہوسکے گا یا نہیں ۔ منکر اندھا ہوتا ہے ۔ وہ بصیرت سے محروم اور جہل واحمق اس درجہ مبتلا ہوتا ہے ۔ کہ دین کی معمولی اور ادنی باتوں کو بھی نہیں سمجھ پاتا ۔ یہاں منکر کے لئے المسئی کا لفظ استعمال فرمایا ہے ۔ یعنی ایسا آدمی جس کا کفر و انکار دنیا والوں کے لئے ایک بڑائی اور تکلیف ہے یہ…
Read the full tafseer →(58) اور اندھا اور دیکھتا دونوں برابر نہیں ہوتے اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہ اور بدکار دونوں برابر نہیں ہوسکتے تم لوگ بہت کم غور کرتے ہو۔ چونکہ دو نظریوں پر بحث ہورہی ہے بعض لوگ غور کرتے ہیں سوچتے ہیں اور حق بات کو مان لیتے ہیں اور بعض نہ غور کرتے ہیں نہ سوچنے کی عادی ہیں اور نہ مانتے ہیں اس لئے دو فرقے بن گئے ہیں دونوں کے عدم مساوات کا اعلان ہے غور کرنے سوچنے اور ایمان لانے والے کو آنکھوں والا اور سوجھا کا فرمایا ہے اور عدم تدبر والوں کو اندھا فرمایا۔
دوسری بات میں صراحتاً فرمایا کہ اہل ایمان جو ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند بھی رہے اور دوسرے بدکردار یعنی کفرو شرک میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
ف 10۔ اور نہ اعمی اور مسی نہ رہتے۔
Read the full tafseer →اندھا اور بینا دونوں برابر نہیں ہو سکتے لیکن لوگ کم ہی غور کرتے ہیں
58۔ کافر اندھا بھی ہے ، بہر ابھی اور مومن بینا بھی ہے اور سماعت بھی اس کی درست ہے بلاشبہ دونوں انسان ہیں لیکن دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اتنی بات تو تم بھی تسلیم کرتے ہو کہ اندھا اور بینا دونوں برابر نہیں لیکن تم یہ بات تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ کافر اور مومن میں بھی کوئی فرق ہے بلکہ بظاہر دیکھ کر تم کافر کو بھی اچھا قرار دے دیتے ہو ، بنسبت ایک مومن کی کیونکہ ایمان کی قدروقیمت کیا ہے ؟ تم کو اس بات کا احساس نہیں کہ کفر موت ہے اور ایمان زندگی ۔ اس وقت اگر تم اس بات کو نہیں سمجھتے تو عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا اس دارالعمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
The reality of du` a' (supplication) and its merits, levels and conditions of acceptance
In the last verse cited in this unit, it was said:
وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
And your Lord has said, “ Call Me, I will respond to you. Definitely those who show arrogance against worshipping Me shall enter Jahannam, disgraced. - 40:60.
Literally, du'a means to call, and it is frequently used to call for something needed. On occasions, the dhikr of Allah (acts devoted to His remembrance) is also…
Read the full tafseer →80 This is an argument for the necessity of 'the Hereafter. In the preceding sentence it was said that the Hereafter can take place, and its .occurrence is not impossible; in this it is being said that the Hereafter should take place; it is the demand of both reason and justice that it should occur, and its nonoccurrence is against reason and justice, not its occurrence. After all, how can a reasonable man believe it to be right that those who live like the blind in the world and fill God's earth with mischief by their immoral and wicked deeds, should not see the evil end of their misdeeds…
Read the full tafseer →