Explained with ayahs 51–56
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔
آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
سورة الْمُؤْمِن 69
یعنی موسیٰ کو ہم نے فرعون کے مقابلے پر بھیج کر بس یونہی ان کے حال پر نہیں چھوڑ دیا تھا، بلکہ قدم قدم پر ہم ان کی رہنمائی کرتے رہے یہاں تک کی انہیں کامیابی کی منزل تک پہنچا دیا۔ اس ارشاد میں ایک لطیف اشارہ اس مضمون کی طرف ہے کہ اے محمد ﷺ ، ایسا ہی معاملہ ہم تمہارے ساتھ بھی کریں گے۔ تم کو بھی مکہ کے شہر اور قریش کے قبیلے میں نبوت کے لیے اٹھا دینے کے بعد ہم نے تمہارے حال پر نہیں چھوڑ دیا ہے کہ یہ ظالم تمہارے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں، بلکہ خود تمہاری پشت پر موجود ہیں اور تمہاری رہنمائی کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
خلاصہ تفسیر
ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگانی میں بھی مدد کرتے ہیں (جیسا اوپر موسیٰ ؑ کے قصہ سے معلوم ہوا) اور اس روز بھی جس میں گواہی دینے والے (فرشتے جو کہ نامہ اعمال لکھتے تھے اور قیامت کے روز اس بات کی گواہی دیں گے کہ رسولوں نے عمل تبلیغ کیا اور کفار نے عمل تکذیب، غرض وہ فرشتے گواہی کے لئے) کھڑے ہوں گے (مراد اس سے قیامت کا دن ہے، وہاں کی مدد کا حال ابھی کفار کے معذب بالنار ہونے سے معلوم ہوچکا ہے، آگے اس دن کا بیان ہے یعنی جس دن کو ظالموں (یعنی کافروں) کو ان کی معذرت کچھ نفع نہ دے گی (یعنی اول تو کوئی معتدبہ معذرت نہ ہوگی اور اگر کچھ حرکت مذبوحی کی طرح ہوئی تو وہ نافع نہ…
Read the full tafseer →یہ اسی یوم یقوم الاشھاد کی وضاحت ہے کہ اس دن خدائی گواہوں کی گواہی ایسی واضح، ایسی قطعی اور اتنی روشن ہوگی کہ جن بدقسمت لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے ہوں گے ان کا کوئی عذر بھی کچھ کارگر نہیں ہو سکے گا۔ یہاں تک کہ جو لوگ اپنی گمراہی کا ذمہ دار اپنے لیڈروں کو بنانا چاہیں گے ان کا عذر بھی مسموع نہیں ہوگا۔ ان کے لیڈر خود ان کے منہ پر بات پھینک ماریں گے کہ تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے یہ جانتے ہوئے کہ ہم ضلالت پر ہیں تم نے ان کی پیروی نہیں کی تو اب ہم اور تم دونوں یکساں ہیں اور دونوں ہی کو اپنے اعمال کی سزا بھگتنی ہے۔
’ ولھم اللعنۃ ولھم سوء الدار ‘ یعنی ان کی معذرت کے جواب میں ان پر خدا اور اس…
Read the full tafseer →52۔ 1 یعنی اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار۔ اور معذرت کا فائدہ اس لئے نہیں ہوگا کہ وہ معذرت کی جگہ نہیں، اس لئے یہ معذرت، معذرت باطلہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
14: یعنی جب لوگوں کے اعمال کی گواہی دینے کے لیے گواہوں کو بلایا جائے گا۔ یہ گواہ فرشتے بھی ہوں گے، اور انبیائے کرام وغیرہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
آیت نمبر 51 تا 55
اس دوٹوک موقف پر یہ فیصلہ کن تبصرہ بہت ہی مناسب ہے۔ انسانیت وک معلوم ہوگیا کہ حق و باطل کی کشمکش کا آخری انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس دنیا میں دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور آخرت میں دونوں کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں نے دیکھ لیا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کا انجام اس دنیا میں کیا ہوا جس طرح انہوں نے قیامت کے منظر میں دیکھ لیا کہ وہ آگ میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اور ان کو نہایت حقارت کے ساتھ ناقابل التفات چھوڑدیا گیا ۔ ہر کشمکش کا فیصلہ یہی ہوتا ہے جس طرح قرآن کا صریح فیصلہ ہے۔
انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد…
Read the full tafseer →4 یعنی ان کی کوئی مدد اور دستگیری نہ ہوگی۔ یہ مقبولین کے بالمقابل مطرودین کا انجام بیان فرما دیا۔
Read the full tafseer →آیت 52 { یَوْمَ لَا یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُہُمْ } ”جس دن کہ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی“
{ وَلَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوْٓئُ الدَّارِ } ”اور ان کے لیے لعنت ہوگی اور ان کے لیے بہت ُ برا گھرہو گا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
67 اللہ کی امداد کی صورتیں :۔ دنیا میں رسولوں اور مومنوں کی مدد کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے دشمنوں کو تباہ کردیا جائے اور انہیں ظالموں کے پنجہ استبداد سے نجات دلا دی جائے۔ دوسری یہ کہ انہیں سیاسی تفوق بھی حاصل ہوجائے۔ اور تیسری یہ کہ دنیا میں انہیں کا بول بولا ہو یعنی جس مقصد کے لئے وہ کھڑے ہوتے ہیں اللہ کی مدد ان کے شامل حال رہتی ہے۔ اور حق پرستوں کی قربانیاں کسی بھی حال میں ضائع نہیں جاتیں۔ ان تینوں صورتوں میں سے کسی نبی کو صرف ایک قسم کی مدد حاصل ہوئی، کسی کو دو قسم کی اور کسی کو تینوں قسم کی۔ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کرام اللہ کی طرف سے تینوں طرح کی مدد سے فیض یاب ہوئے۔
68 یعنی…
Read the full tafseer →51۔ (اور آپ اور آپ کے پیرو منصور رہیں گے۔ سو آپ تسلی رکھئے) (آیت) ” الظلمین “۔ ظالمین سے جیسا کہ قرآن کی عام اصطلاح ہے یہاں بھی کافر ہی مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہی دینے والے گواہی دیں گے اَشْھاد، شاھِد کی جمع ہے، اور وہ ملائکہ ہیں جو رسولوں کے (پیغام) پہنچانے کی اور کافروں کے جھٹلانے کی گواہی دیں گے جس دن ظالموں کو ان کے (عذر) معذرت کچھ فائدہ نہ دیں گے، (یَنفَعُ ) تاء اور یاء کے ساتھ اگر وہ معذرت کریں گے اور ان کے لئے لعنت ہوگی یعنی رحمت سے دوری اور ان کے لئے آخرت برا گھر ہے یعنی دار آخرت کے عذاب کی شدت اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ یعنی تورات اور معجزات عطا فرمائے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بنی…
Read the full tafseer →یوم یا ینفع الظمین معذرتھم ولھم اللعنۃ ولھم سوء الدار اس روز کافروں کا عذر ان کو فائدہ نہیں دے گا اور رحمت خدا سے ان کو دوری ہوگی اور اس عالم میں ان کیلئے خرابی ہوگی۔
اِنَّا لَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ضحاک نے کہا : دنیا میں مدد کرنے سے مراد ہے دلیل وبرہان سے مدد کرنا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : غلبہ عطا کرنا مراد ہے۔ بیضاوی نے کہا : اگرچہ کبھی کافروں کو بھی غلبہ عطا کیا گیا ‘ لیکن اعتبار انجام و مآل اور اکثریت کا ہے (اور اکثر صورتوں میں پیغمبروں کو کافروں پر غلبہ ہی عطا کیا گیا ہے) بعض لوگوں نے کہا : نصرت رسل سے مراد ہے دشمنوں سے انتقام (یعنی دنیا میں…
Read the full tafseer →اور جس روز کافروں کو اپنے کفر کی وجہ سے معذرت پیش کرنا کچھ فائدہ نہ دے گی اور ان پر غصہ اور عذاب اور ان کے لیے دوزخ ہوگی۔
Read the full tafseer →(1) یوم لاینفع الظلمین معذرتھم : ”الظلمین“ سے مراد مشرک ہیں۔ (دیکھیے انعام : 82) انہیں ان کی معذرت اس لئے فائدہ نہیں دے گی کہ ان کے پاس کوئی صحیح عذر ہوگا ہی نہیں۔ رسولوں کے پیغام پہنچانے کی وجہ سے لاعلمی کا عذر ہو کر نہیں سکیں گے۔ اس دن ان کے پاس عذر یا تو صریح جھوٹ ہوگا کہ وہ کہیں گے (واللہ ربنا ما کنا مشرکین) (الانعام : 22)”اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے، ہم مشرک نہیں تھے۔“ یا تقدیر کا عذر کر کے اپنے آپ کو بےقصور ثابت کرنے کی کوشش کریں گے جیسا کہ سورة مومنوں میں ان کا قول ہے (ربنا غلبت علینا شقوتنا) (المومنون : 106)“ اے ہمارے رب ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی۔“ ظاہر ہے ان میں سے کوئی عذر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
(انا لنصر رسلنا والذین۔۔۔ )
انا لننصر رسلنا رسلنا کو ضمہ کو اس کے ثقل کی وجہ سے حذف کرنا جائز ہے تو کہا جائے گا : رسلنا اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں والذین امنوا فی الحیواۃ الدنیا ہم موصول محل نصب میں ہے اس کا عطف الرسل پر ہے اس سے مراد وہ مومن ہے جس نے وعظ کیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ رسل اور مومنین میں عام ہے۔ ابو العالیہ کے قول کے مطابق ان کی مدد سے مراد ان کے دلائل کو غلبہ دینا اور ان کو کامیابی دینا ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے دشمنوں سے انتقام لینا ہے۔ سدی نے کہا : کسی قوم نے کسی نبی کو قتل نہیں کیا یا ایسی قوم کو قتل نہیں کیا جو مومن تھے (3) اور حق کی طرف دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
1:۔ احمد و ترمذی (رح) (وحسنہ) وابن ابی الدنیا (فی ذم الغیبۃ) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے جہنم کی آگ کو دور کردے گا پھر یہ (آیت ) ” انا لننصررسلنا “ الایہ (ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں)
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح روایت ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا لننصررسلنا “ الایہ فرمایا کہ اس نصرت سے مراد دلیل میں (مدد کرنا ہے) کہ اللہ تعالیٰ ان کی دلیل کو…
Read the full tafseer →يَوْمَ لَا يَنْفَعُ [ جس دن نفع نہیں دے گا ] الظّٰلِمِيْنَ [ ظالموں کو ] مَعْذِرَتُهُمْ [ ان کا معذرت پیش کرنا ] وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ [ اور ان کے لئے لعنت ہے ] وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ [اور ان کے لئے اس ( آخری ) گھر کی برائی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولوں اور اہل ایمان سے نصرت کا وعدہ فرمانا اور ظالمین کے ملعون ہونے کا اعلان فرمانا
دو آیتوں کا ترجمہ ہے ان میں دو باتیں بتائی ہیں اول یہ کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا والی زندگی میں مدد کرتے ہیں، مدد تو ہوتی ہے بعض مرتبہ دیر لگنے میں بڑی حکمتیں ہوتی ہیں انہی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کافروں کو مہلت دی جاتی ہے جو ان کے حق میں استدراج ہوتا ہے اور اسی استدراج کی وجہ سے اور زیادہ بڑھ چڑھ کر شرارت اور بغاوت کرتے ہیں پھر دنیا میں ان سے انتقام لے لیا جاتا ہے۔
(وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) اور ہم اس دن بھی رسولوں اور ایمان والوں کی مدد کریں گے جس دن گواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–60
بعد ازذکر عذاب دنیوی وبیان عذاب برزخ وآخرت ذلت و خواری فرعونیاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” النار یعرضون علیھا ...... الی ....... الا فی ضلل “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آل فرعون کے مرد مومن کا ناصحانہ خطاب کا بیان تھا کہ اس نے کیسے مؤثر وبلیغ اور مدلل انداز سے فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اس سے آگے بڑھ کر ان کو حق کی دعوت دی اور اللہ رب العزت کی الوہیت ووحدانیت کے دلائل قائم کرتے ہوئے ایمان لانے پر آمادہ کرنا چاہا اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا، اب ان آیات میں جو عذاب خداوندی ان پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
55:۔ ” انا لننصر رسلنا “ یہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے لیے تسلی ہے۔ ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان والوں کی دنیا میں مدد کرتے ہیں، دشمنوں کے ہاتھوں ہم انہیں ذلیل نہیں ہونے دیتے اور آخرت میں بھی انہیں بہترین جزا دینگے اور ان کو اعلی درجات پر فائز کریں گے۔ ” ویوم یقوم الاشہاد “ یہ علفتہا تبنا و ماء باردا کے قبیل سے ہے۔ اور اصل میں ہے وجزیھم جزاء حسنا یوم یقوم الشہاد قالہ الشیخ قدس سرہ۔ ” یوم لا ینفع “ یہ ” یوم یقوم “ سے بدل ہے۔ جس دن انبیاء علیہم السلام، فرشتے اور دوسرے گواہ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں وہاں پورا پورا انصاف ہوگا۔ اس دن مشرکین کا کوئی حیلہ وبہانہ کامیاب نہ ہوگا اور وہ اللہ کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
ربط آیات :
مسئلہ توحید کی تفہیم ، قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کی وضاحت اور جزائے عمل کے تعین کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کیا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا ، فرعونیوں کا غرور وتکبر اور سرکشی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی منصوبہ بندی کا تذکرہ ہوا ، ایک عبد مومن کی نصیحت اور خیرخواہی کی بات ہوئی ، آخر کار فرعون اور اس کے حواریوں کی تدبیر ناکام ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور مرد مومن دونوں کو بچا لیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں تو آل فرعون اور غرقابی کی سزا ملی اور عالم برزخ میں وہ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ، ان کا آخری ٹھکانا دوزخ…
Read the full tafseer →يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِـمِيْنَ مَعْذِرَتُہُمْ وَلَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَہُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ 52
نفع
النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3]
( نع ) النفع
ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ترکیب : والذین فی محل نصب عطفا علی رسلنا ای لتنصر رسلنا و ننصر الذین آمنوا معھم، فی الحیوۃ الجار متعلق بننصر و یوم معطوف علی فی الحیوۃ ای ننصرھم فے الدنیا و فی الاخرۃ، یوم بدل من یوم یقوم الاشہاد ولھم اللعنۃ الجملۃ الاسمیۃ معطوف علی لاینفع ھدی حال من الکتاب قال الزجاج الاشھاد جمع شاھد کصاحب و اصحاب و قال النحاس لایحییٰ جمع فاعل علی افعال بلھی جمع شہید کشریف و اشراف۔
تفسیر : فرعونیوں کی بربادی اور بنی اسرائیل اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی سلامتی کا ذکر کرکے یہ بات بتلاتا ہے کہ کچھ موسیٰ ( علیہ السلام) اور اس کی قوم ہی پر سلامتی اور امداد غیبی موقوف نہیں، ہم اپنے سب رسولوں اور ان کے ماننے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ۔ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُہُمْ وَلَھُمُ اللَّغْنَۃُ وَلَھُمْ سُوْٓئُ الدَّارِ ۔ (المؤمن : 51، 52)
(یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ نفع نہیں دے گی اور ان کے اوپر لعنت ہوگی اور ان کے لیے برا ٹھکانہ ہوگا۔ )
حق و باطل کی کشمکش اور اللہ تعالیٰ کی سنت
گزشتہ آیات میں مردمومن کی جرأتِ اظہار، حق گوئی، اللہ تعالیٰ پر توکل اور حکومتِ وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کفار کی فریاد بھی قبول نہ ہوگی۔ ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے رسولوں اور مومنوں کی مدد کرتا ہے اور اس دن بھی مدد کرے گا جس دن گواہ پیش کیے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور بندوں کی دنیا میں مدد کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی مدد فرمائے گا۔ جس دن ظالموں کی معذرت تک قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کے لیے برا ٹھکانہ ہوگا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ پھٹکار برستی رہے گی۔ دنیا میں رسولوں اور مومنوں کی مدد کرنے کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا پوری طرح کوئی نہیں جانتا۔ تاہم قرآن مجید، تاریخ اور انبیاء کی سیرت سے جو بات سمجھ میں آتی…
Read the full tafseer →يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ (جس دن کہ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ فائدہ نہ دے گی)
نحو : یہ یوم یقوم سے بدل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے لایقبل عذرہم ولا ینفع۔ ان کا عذر قبول نہ ہوگا۔
قراءت : کوفی اور نافع نے لا ینفع پڑھا ہے۔
وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ ( اور ان کے لیے لعنت ہوگی) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری۔ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ (اور ان کے لیے اس عالم میں خرابی ہوگی) ۔ سوء الدر سے آخرت کا عذاب مراد ہے۔
Read the full tafseer →51، انا لننصررسلنا والذین امنوافی الحیوۃ الدنیا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں غلبہ کے ذریعے اور ضحاک رحمہ فرماتے ہیں کہ حجت کے ذریعے اور آخرت میں عذاب کے ساتھ اور کہا گیا ہے کہ دنیا وآخرت میں دشمنوں سے انتقام لے کر اور یہ تمام صورتیں انبیاء (علیہم السلام) اور مؤ منین کے لیے ہوچکی ہیں۔ یہ ان کے مخالفین پر ان کی حجت کے ذریعے مدد کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے دشمنوں پر غلبہ دے کر اور ان کو ہلاک کرکے بھی ان کی مدد کی اور انبیاء (علیہم السلام) کے قتل کیے جانے کے بعد ان کے دشمنوں سے انتقام لے کر بھی مدد کی۔ جیسے یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) کے قتل کیے جانے کے بعد ان کی مدد کی گئی اور بدلہ میں سترہزارلوگ قتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
51۔ 52۔ اس سورة میں کئی جگہ ذکر آیا کہ مشرک لوگ قرآن شریف کی آیتوں میں طرح طرح کے جھگڑے اور حجتیں نکالتے تھے اور آنحضرت ﷺ اور مسلمان لوگ ان کو حق بات سمجھاتے تھے تو نہیں مانتے تھے اس سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو ایک طرح کا رنج ہوتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی تسکین کے لئے فرمایا کہ گھبرانا نہیں چاہئے حق بات کا مددگار اللہ ہے ہمیشہ سے جس طرح اللہ نے اپنے پیغمبروں کے فرمانبرداروں کی مدد دی ہے اب بھی دین دنیا میں اللہ ان کی مدد کرے گا اور پھر اس مدد کے وعدہ کے بعد حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا ذکر مثال کے طور پر فرمایا تاکہ اس مثال سے سمجھ میں آجائے کہ حضرت موسیٰ کی نبوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
آیت 51
جب اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کے لئے دنیا، برزخ اور قیامت کے روز کے عذاب کا ذکر فرمایا اور اہل جہنم کے، جو اس کے رسولوں سے عناد رکھتے اور ان کے خلاف جنگ کرتے تھے، برے حال کا ذکر کیا، تو فرمایا : (انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا) ” ہم یقیناً اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں۔ “ یعنی ہم دنیا میں دلیل، برہان اور نصرت کے ذریعے سے اپنے رسولوں کی مدد کرتے ہیں (آیت) ” اور اس دن بھی (مدد کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ “ آخرت میں ان کے حق میں فیصلے کے ذریعے سے ان کی مدد کریں گے، ان کے متبعین کو ثواب سے نوازیں گے اور ان لوگوں کو سخت عذاب دیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
قیامت سے پہلے بھی عذاب ہے
قول باری ہے (النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا۔ وہ لوگ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں) یہ آیت عذاب قبر پر دلات کرتی ہے کیونکہ قول باری ہے (ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ اور جس روز قیامت قائم ہوگی (یہ کہا جائے گا) اہل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت زیر بحث میں وہ عذاب مراد ہے جو قیامت سے پہلے انہیں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
102 ظالموں کا ٹھکانا اور انجام بڑا ہی برا ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ دے گی۔ ان کے لیے لعنت اور پھٹکار ہوگی۔ اور بڑا ہی برا گھر ہوگا ظالموں کا "۔ اور اتنا اور ایسا برا اور اس قدر برا کہ اس جہاں میں رہتے ہوئے کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ان کے لئے وہاں پر لعنت و پھٹکار اور خدائے پاک کی رحمت سے دوری اور محرومی ہی ہوگی کہ انہوں نے اپنے کفر وعناد کی بناء پر خدائے پاک کی رحمت کو کمانے اور حاصل کرنے کے موقع و فرصت یعنی فرصت عمر کو خود ضائع کردیا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جن ظالم اور بدقسمت لوگوں نے نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
رکوع نمبر 6: آیات 51 تا 60:
اسرار و معارف :
اقوام سابقہ کے حالات بھی شاہد ہیں کہ اللہ اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والون کی دار دنیا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور ہمیشہ آخری کامیابی بھی انہی کی ہوتی ہے اور عزت و آرام بھی انہی کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ بات آج کے حالات میں بھی بالکل واضح ہے اور آخرت میں جب اعمال کا حساب ہوگا اور سب پر گواہیاں پیش ہوں گی تو یہ کفار و مشرکین سب اکڑ بھول کر معذرت کرنے لگیں گے لیکن تب یہ سب منظور نہ ہوسکے گا اور ان پر لعنت و پھٹکار ہوگی نیز انہیں بہت برا ٹھکانہ نصیب ہوگا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت کی راہ دکھائی انہیں بھی آسمانی کتاب ملی پھر بہت بڑی کافر طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 3 جیسا کہ دوسری آیت میں توراۃ کو ” ہدی و نور “ فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →(40:52) یوم لا ینفع الظلمین معذرتھم : یہ یوم، یوم اول (الیوم یقوم الاشھاد) سے بدل ہے یعنی وہ دن جب ظالموں کو ان کی معذرت (عذر خواہی) کچھ نفع نہ دے گی۔ ظلمین سے مراد کافر ہیں۔
الہم اللعنۃ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع ظلمین ہے یہ جملہ اسمیہ ہے اس کا عطف جملہ ماقبل لا ینفع الظلمین معذرتھم پر ہے اور ان کے لئے لعنت ہوگی۔
ولہم سوء الدار۔ اور ان کے لئے گھر کی سختی یا برائی ہوگی یعنی ایسا گھر جس میں غم والم اور سختی و ناگواری ہوگی۔ یعنی بہت برا گھر۔
الدار کو اگر عالم آخرت لیا جائے تو معنی ہوں گے : ان کے لئے اس عالم آخرت میں خرابی ہی خرابی ہوگی۔
المدارک میں ہے ولم سوء دار الاخرۃ ھو عذابھا۔ یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ ہم اپنے پیغمبروں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا میں مدد کریں گے ان کو غلبہ عطا فرمائیں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے یعنی قیامت کے دن کہ ملائکہ رسولوں کی تبلیغ اور کفار کی تکذیب کی گواہی دیں گے اب ان گواہوں کے بعد کافروں کا کوئی عذر نہ سناجائے گا اور رحمت الٰہی سے محروم کیا جاکر ، دوزخ میں ان کو جھونک دیاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
[17] بنی اسرائیل کو تورات کا وارث بنانے کے یہ معنی ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد وہ کتاب بنی اسرائیل میں رہی اور ان کے علماء لوگوں کو اس کے مطابق ہدایت کرتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 1: ابتدائے سورت میں یہ بتایا تھا ۔ کہ یہ لوگ جو منکرین ہیں ۔ ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے ۔ ہم ضرور ان سے ان کی سرکشیوں کا انتقام لیں گے ۔ اس کے بعد ان لوگوں کا قصہ تھا ۔ جنہوں نے حق کا مقابلہ کیا ۔ اور ناکام رہے ۔ اور ان کی تمام تدبیریں باطل رہیں ۔ اس آیت میں بتایا ہے ۔ کہ ہمارا قانون ہے ۔ کہ تمام صداقت شعار لوگوں کی حمایت کی جائے ۔ ہم کفر کے مقابلہ میں ایمان کو رسوا نہیں کرتے ۔ انبیاء ورسل کی اور اس کے ماننے والوں کی ہم دنیا میں تائید کرتے ہیں ۔ اور آخرت میں بھی ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ۔ جنہوں نے عقل و خرد سے کام نہیں لیا ۔ وہ یہاں بھی ذلیل ہیں اور عقبیٰ میں بھی…
Read the full tafseer →(52) جس دن کافروں کو ان کا کوئی عذر نفع نہ دے گا اور ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت و پھٹکار ہوگی اور ان کے رہنے کو برا گھر ہوگا۔ گواہ کھڑے ہوں گے بظاہر معلوم ہوتا ہے وہ فرشتے جو اعمال لکھتے رہتے یا فرشتے اور انبیاء اور امت محمدیہ بھی گواہی دے گی اور خود مجرموں کے ہاتھ پائوں بھی شاہد ہوں گے۔ عذر قبول نہ کیا جائے گا۔ یعنی تمام دلائل اور حجتیں دنیا میں ختم ہوچکیں اب عذر ہی کیا ہوگا اور اگر کوئی نامعقول عذر پیش بھی کیا تو وہ مسموع نہ ہوگا۔
برا گھر فرمایا جہنم کو اور جہنم سے زیادہ بر گھرکون سا ہوسکتا ہے حدیث شریف میں آتا ہے مسلمانوں میں برا گھر وہ ہے کہ جس گھر میں کوئی یتیم ہو اور اس یتیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
ف 5۔ یعنی اول تو کوئی معتد بہ معذرت نہ ہوگی، اور اگر کچھ حرکت مذبوحی کی طرف ہوئی تو وہ نافع نہ ہوگی۔
6۔ پس اسی طرح آپ اور آپ کے اتباع بھی منصور ہوں گے، اور مخالفین مخذول و مقہور ہوں گے، تو آپ تسلی رکھیئے۔
Read the full tafseer →(یوم الاشھاد) وہ ہے کہ ظالموں کو معذرت سے بھی کچھ فائدہ نہ ہو گا
52۔ آج اگر ظلم کا دور دورہ ہے اور اس طرح کسی کو ظلم ظلم دکھائی نہیں دیتا تو کل جب عدل و انصاف کا دن آئے گا تو بات روز روشن سے بھی زیادہ واضح ہوجائے گی پھر سارے ظالم معذرتیں پیش کریں گے لیکن ان کے دنیوی ظلم کے باعث ظلم کا نتیجہ ظاہر ہوگا اور وہ لعنت الٰہی کے مستحق قرار پائیں گے اس طرح ٹھکانوں میں سے برا ٹھکانہ ان کے حصے میں آئے گا جس کا نام دوزخ یا جہنم ہے اس طرح ان کا خسارہ سب پر واضح ہوجائے گا اور ان کی کوئی معذرت بھی قابل سماعت نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
In verse 56, it was said: إِن فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ (there is nothing in their hearts but pride of greatness that they are not [ able ] to reach). It means that people who quarrel in the matter of the verses of Allah without having any valid argument really look forward to rejecting this faith simply because their hearts are filled with pride and arrogance. They would like to stay ahead in the game and are so dim-witted that they have taken for granted that they have this position of strength as a result of their staunch adherence to their faith, and if they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
69 That is, "We did not just leave Moses alone when We sent him against Pharaoh, but We gave him guidance at every step till success." This contains a subtle allusion to the effect: "O Muhammad, We shall help you too in the same manner. We have neither left you alone after raising you as a Prophet in the city of Makkah and the tribe of Quraish so that these wicked people may treat you as they like, but We Ourselves are at your back and are giving you guidance at every step."
Read the full tafseer →