Explained with ayahs 51–56
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔
آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 67
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، الصافّات، 93۔
سورة الْمُؤْمِن 68
یعنی جب اللہ کی عدالت قائم ہوگی اور اس کے حضور گواہ پیش کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
خلاصہ تفسیر
ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگانی میں بھی مدد کرتے ہیں (جیسا اوپر موسیٰ ؑ کے قصہ سے معلوم ہوا) اور اس روز بھی جس میں گواہی دینے والے (فرشتے جو کہ نامہ اعمال لکھتے تھے اور قیامت کے روز اس بات کی گواہی دیں گے کہ رسولوں نے عمل تبلیغ کیا اور کفار نے عمل تکذیب، غرض وہ فرشتے گواہی کے لئے) کھڑے ہوں گے (مراد اس سے قیامت کا دن ہے، وہاں کی مدد کا حال ابھی کفار کے معذب بالنار ہونے سے معلوم ہوچکا ہے، آگے اس دن کا بیان ہے یعنی جس دن کو ظالموں (یعنی کافروں) کو ان کی معذرت کچھ نفع نہ دے گی (یعنی اول تو کوئی معتدبہ معذرت نہ ہوگی اور اگر کچھ حرکت مذبوحی کی طرح ہوئی تو وہ نافع نہ…
Read the full tafseer →رسولوں کے باب میں سنت الٰہی
اس آیت کا تعلق اوپر آیت 45 سے ہے۔ بیچ میں پانچ آیتیں ضمنی طور پر اس عذاب کی وضاحت کے لئے آگئی ہیں جس سے فرعون اور اس جیسے ستکبروں اور ان کے پیروئوں کو سابقہ پیش آئے گا۔ فرمایا کہ جس طرح ہم نے موسیٰ ؑ اور اس مرد مومن کی مدد فرمائی اسی طرح ہم اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہ گواہی کے لئے کھڑے ہوں گے۔
اس آیت کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑی الجھن پیش آئی ہے۔ اس لئے کہ اس میں نہایت صراحت کے ساتھ اس بات کا وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں بھی مدد فرماتا…
Read the full tafseer →51۔ 1 یعنی ان کے دشمن کو ذلیل اور ان کو غالب کریں گے بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ بعض نبی قتل کر دئیے گئے جیسے حضرت یحییٰ و زکریا (علیہما السلام) وغیرہ اور بعض ہجرت پر مجبور ہوگئے جیسے ابراہیم ؑ اور ہمارے پیغمبر ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وعدہ امداد کے باوجود ایسا کیوں ہوا ؟ دراصل یہ وعدہ غالب حالات اور اکثریت کے اعتبار سے ہے اس لیے بعض حالتوں میں اور بعض اشخاص پر کافروں کا غلبہ اس کے منافی نہیں یا مطلب یہ ہے کہ عارضی طور پر یعض دفعہ اللہ کی حکمت و مشیت کے تحت کافروں کو غلبہ عطا فرما دیا جاتا ہے لیکن بالاخر اہل ایمان ہی غالب اور سرخرو ہوتے ہیں جیسے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
14: یعنی جب لوگوں کے اعمال کی گواہی دینے کے لیے گواہوں کو بلایا جائے گا۔ یہ گواہ فرشتے بھی ہوں گے، اور انبیائے کرام وغیرہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
آیت نمبر 51 تا 55
اس دوٹوک موقف پر یہ فیصلہ کن تبصرہ بہت ہی مناسب ہے۔ انسانیت وک معلوم ہوگیا کہ حق و باطل کی کشمکش کا آخری انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس دنیا میں دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور آخرت میں دونوں کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں نے دیکھ لیا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کا انجام اس دنیا میں کیا ہوا جس طرح انہوں نے قیامت کے منظر میں دیکھ لیا کہ وہ آگ میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اور ان کو نہایت حقارت کے ساتھ ناقابل التفات چھوڑدیا گیا ۔ ہر کشمکش کا فیصلہ یہی ہوتا ہے جس طرح قرآن کا صریح فیصلہ ہے۔
انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد…
Read the full tafseer →2 یعنی دنیا میں ان کا بول بالا کرتا ہے۔ جس مقصد کے لیے وہ کھڑے ہوتے ہیں اللہ کی مدد سے اس میں کامیابی ہوتی ہے۔ حق پرستوں کی قربانیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ درمیان میں کتنے ہی اتار چڑھاؤ ہوں اور کیسے ہی امتحانات پیش آئیں مگر آخرکار مشن کامیاب ہو کر رہتا ہے۔ علمی حیثیت سے حجت وبرہان میں تو وہ ہمیشہ ہی منصور رہتے یہیں۔ لیکن مادی فتح اور ظاہری عزت و رفعت بھی آخرکار ان ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ سچائی کے دشمن کبھی معزز نہیں رہ سکتے۔ ان کا علو اور عروج محض ہنڈیا کا جھاگ اور سوڈے کا ابال ہوتا ہے۔ انجام کار مومنین قانتین کے مقابلہ میں ان کو پست اور ذلیل ہونا پڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے اپنے اولیاء کا…
Read the full tafseer →آیت 51 { اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَـقُوْمُ الْاَشْہَادُ } ”ہم لازماً مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی ‘ اور اس دن بھی مدد کریں گے جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
67 اللہ کی امداد کی صورتیں :۔ دنیا میں رسولوں اور مومنوں کی مدد کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے دشمنوں کو تباہ کردیا جائے اور انہیں ظالموں کے پنجہ استبداد سے نجات دلا دی جائے۔ دوسری یہ کہ انہیں سیاسی تفوق بھی حاصل ہوجائے۔ اور تیسری یہ کہ دنیا میں انہیں کا بول بولا ہو یعنی جس مقصد کے لئے وہ کھڑے ہوتے ہیں اللہ کی مدد ان کے شامل حال رہتی ہے۔ اور حق پرستوں کی قربانیاں کسی بھی حال میں ضائع نہیں جاتیں۔ ان تینوں صورتوں میں سے کسی نبی کو صرف ایک قسم کی مدد حاصل ہوئی، کسی کو دو قسم کی اور کسی کو تینوں قسم کی۔ رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کرام اللہ کی طرف سے تینوں طرح کی مدد سے فیض یاب ہوئے۔
68 یعنی…
Read the full tafseer →50۔ یعنی قیامت کے دن۔ (آیت) ” الاشھاد “۔ گواہوں سے یہاں مراد نامہ اعمال لکھنے والے فرشتے ہیں، وہی قیامت میں اس کی بھی گواہی دیں گے کہ رسولوں نے تبلیغ کی اور کافروں نے اس کی تکذیب، انبیاء وعامہ مومنین بھی اس کے تحت میں آسکتے ہیں۔ قال مجاھد الاشھا دالملائکۃ (ابن کثیر) والمراد بھم من یقوم یوم القیامۃ للشھادۃ علی الناس من الملائکۃ تشھد للانبیاء بالابلاغ وعلی الامم بالتکذیب وقال قتادۃ الملائکۃ والانبیاء (قرطبی) (آیت) ” فی الحیوۃ الدنیا “۔ مومینن کی منصوریت، حشر میں ہونا ظاہر ہی ہے۔ باقی دنیا میں بھی جہاں تک دلائل سے غلبہ کا تعلق ہے بالکل ظاہر ہے، اب لے دیکر دنیا میں غلبہ مادی رہ جاتا ہے۔ سو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہی دینے والے گواہی دیں گے اَشْھاد، شاھِد کی جمع ہے، اور وہ ملائکہ ہیں جو رسولوں کے (پیغام) پہنچانے کی اور کافروں کے جھٹلانے کی گواہی دیں گے جس دن ظالموں کو ان کے (عذر) معذرت کچھ فائدہ نہ دیں گے، (یَنفَعُ ) تاء اور یاء کے ساتھ اگر وہ معذرت کریں گے اور ان کے لئے لعنت ہوگی یعنی رحمت سے دوری اور ان کے لئے آخرت برا گھر ہے یعنی دار آخرت کے عذاب کی شدت اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ یعنی تورات اور معجزات عطا فرمائے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بنی…
Read the full tafseer →انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشھاد۔ ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس روز (بھی مدد کریں گے جس روز) گواہی دینے والے (ملائکہ گواہی دینے) کھڑے ہوں گے ‘
Read the full tafseer →ہم نے پیغمبروں کی اور ان کے ماننے والوں کی دنیاوی زندگی میں بھی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کرتے ہیں اور قیامت کے دن بھی عذر اور حجت اور گواہی کے ذریعے ان کی مدد کریں گے۔
جس دن فرشتے گواہی دینے کھڑے ہوں گے یعنی کراما کاتبین ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔
Read the full tafseer →(1) انا لمنصر رسلنا والذین امنوا…سورت کی ابتدا سے یہاں تک آیات کا حاصل یہ تھا کہ نوح ؑ کی قوم نے اور ان کے بعد آنے والے رسلووں کی امتوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، حق کو شکست دینے کیلئے باطل طریقے سے کج بحثی کی اور ہر ایک نے اپنے رسول کو گرفتار کرنے کا ارادہ کیا، مگر وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں ہلاک کیا اور آخرت میں ان کے لئے شدید ترین عذاب رکھا۔ موسیٰ ؑ اور ان کا دفاع کرنے والے مومن کی بھی ا سی طرح مدد فرمائی، مگر اللہ تعالیٰ کی اپنے لوگوں کے ساتھ امداد مخفی ہوتی ہے۔ پہلے کئی طرح سے ان کی آزمائش ہوتی ہے، پھر انجام ان کے حق میں ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
(انا لنصر رسلنا والذین۔۔۔ )
انا لننصر رسلنا رسلنا کو ضمہ کو اس کے ثقل کی وجہ سے حذف کرنا جائز ہے تو کہا جائے گا : رسلنا اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں والذین امنوا فی الحیواۃ الدنیا ہم موصول محل نصب میں ہے اس کا عطف الرسل پر ہے اس سے مراد وہ مومن ہے جس نے وعظ کیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ رسل اور مومنین میں عام ہے۔ ابو العالیہ کے قول کے مطابق ان کی مدد سے مراد ان کے دلائل کو غلبہ دینا اور ان کو کامیابی دینا ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے دشمنوں سے انتقام لینا ہے۔ سدی نے کہا : کسی قوم نے کسی نبی کو قتل نہیں کیا یا ایسی قوم کو قتل نہیں کیا جو مومن تھے (3) اور حق کی طرف دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
1:۔ احمد و ترمذی (رح) (وحسنہ) وابن ابی الدنیا (فی ذم الغیبۃ) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے جہنم کی آگ کو دور کردے گا پھر یہ (آیت ) ” انا لننصررسلنا “ الایہ (ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں)
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح روایت ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا لننصررسلنا “ الایہ فرمایا کہ اس نصرت سے مراد دلیل میں (مدد کرنا ہے) کہ اللہ تعالیٰ ان کی دلیل کو…
Read the full tafseer →اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا [ بیشک ہم یقینا مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی ] وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور ان کی جو ایمان لائے ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ اس دنیوی زندگی میں ] وَيَوْمَ يَقُوْمُ [ اور جس دن کھڑے ہوں گے ] الْاَشْهَادُ [ گواہی دینے والے ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 51 ۔ میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے رسولوں اور مؤمنین کی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی مدد کرے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ مدد مخالفین اور دشمنوں سے مقابلہ کے لئے ہے۔ اکثر انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق تو اس کا وقوع ظاہر ہے ۔ مگر بعض انبیاء (علیہم السلام) جیسے یحیٰ اور زکریا اور شعیب وغیرہ کو قوم نے شہید کردیا ۔ بعض کو وطن چھوڑکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولوں اور اہل ایمان سے نصرت کا وعدہ فرمانا اور ظالمین کے ملعون ہونے کا اعلان فرمانا
دو آیتوں کا ترجمہ ہے ان میں دو باتیں بتائی ہیں اول یہ کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا والی زندگی میں مدد کرتے ہیں، مدد تو ہوتی ہے بعض مرتبہ دیر لگنے میں بڑی حکمتیں ہوتی ہیں انہی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کافروں کو مہلت دی جاتی ہے جو ان کے حق میں استدراج ہوتا ہے اور اسی استدراج کی وجہ سے اور زیادہ بڑھ چڑھ کر شرارت اور بغاوت کرتے ہیں پھر دنیا میں ان سے انتقام لے لیا جاتا ہے۔
(وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) اور ہم اس دن بھی رسولوں اور ایمان والوں کی مدد کریں گے جس دن گواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–60
بعد ازذکر عذاب دنیوی وبیان عذاب برزخ وآخرت ذلت و خواری فرعونیاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” النار یعرضون علیھا ...... الی ....... الا فی ضلل “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آل فرعون کے مرد مومن کا ناصحانہ خطاب کا بیان تھا کہ اس نے کیسے مؤثر وبلیغ اور مدلل انداز سے فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اس سے آگے بڑھ کر ان کو حق کی دعوت دی اور اللہ رب العزت کی الوہیت ووحدانیت کے دلائل قائم کرتے ہوئے ایمان لانے پر آمادہ کرنا چاہا اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا، اب ان آیات میں جو عذاب خداوندی ان پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
55:۔ ” انا لننصر رسلنا “ یہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے لیے تسلی ہے۔ ہم اپنے پیغمبروں اور ایمان والوں کی دنیا میں مدد کرتے ہیں، دشمنوں کے ہاتھوں ہم انہیں ذلیل نہیں ہونے دیتے اور آخرت میں بھی انہیں بہترین جزا دینگے اور ان کو اعلی درجات پر فائز کریں گے۔ ” ویوم یقوم الاشہاد “ یہ علفتہا تبنا و ماء باردا کے قبیل سے ہے۔ اور اصل میں ہے وجزیھم جزاء حسنا یوم یقوم الشہاد قالہ الشیخ قدس سرہ۔ ” یوم لا ینفع “ یہ ” یوم یقوم “ سے بدل ہے۔ جس دن انبیاء علیہم السلام، فرشتے اور دوسرے گواہ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں وہاں پورا پورا انصاف ہوگا۔ اس دن مشرکین کا کوئی حیلہ وبہانہ کامیاب نہ ہوگا اور وہ اللہ کی رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
ربط آیات :
مسئلہ توحید کی تفہیم ، قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کی وضاحت اور جزائے عمل کے تعین کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کیا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا ، فرعونیوں کا غرور وتکبر اور سرکشی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی منصوبہ بندی کا تذکرہ ہوا ، ایک عبد مومن کی نصیحت اور خیرخواہی کی بات ہوئی ، آخر کار فرعون اور اس کے حواریوں کی تدبیر ناکام ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور مرد مومن دونوں کو بچا لیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں تو آل فرعون اور غرقابی کی سزا ملی اور عالم برزخ میں وہ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ، ان کا آخری ٹھکانا دوزخ…
Read the full tafseer →اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْہَادُ 51ۙ
نصر
النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ
[ الصف/ 13]
( ن ص ر ) النصر والنصر
کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی
إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی
رسل
وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ترکیب : والذین فی محل نصب عطفا علی رسلنا ای لتنصر رسلنا و ننصر الذین آمنوا معھم، فی الحیوۃ الجار متعلق بننصر و یوم معطوف علی فی الحیوۃ ای ننصرھم فے الدنیا و فی الاخرۃ، یوم بدل من یوم یقوم الاشہاد ولھم اللعنۃ الجملۃ الاسمیۃ معطوف علی لاینفع ھدی حال من الکتاب قال الزجاج الاشھاد جمع شاھد کصاحب و اصحاب و قال النحاس لایحییٰ جمع فاعل علی افعال بلھی جمع شہید کشریف و اشراف۔
تفسیر : فرعونیوں کی بربادی اور بنی اسرائیل اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی سلامتی کا ذکر کرکے یہ بات بتلاتا ہے کہ کچھ موسیٰ ( علیہ السلام) اور اس کی قوم ہی پر سلامتی اور امداد غیبی موقوف نہیں، ہم اپنے سب رسولوں اور ان کے ماننے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ۔ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ الظّٰلِمِیْنَ مَعْذِرَتُہُمْ وَلَھُمُ اللَّغْنَۃُ وَلَھُمْ سُوْٓئُ الدَّارِ ۔ (المؤمن : 51، 52)
(یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ نفع نہیں دے گی اور ان کے اوپر لعنت ہوگی اور ان کے لیے برا ٹھکانہ ہوگا۔ )
حق و باطل کی کشمکش اور اللہ تعالیٰ کی سنت
گزشتہ آیات میں مردمومن کی جرأتِ اظہار، حق گوئی، اللہ تعالیٰ پر توکل اور حکومتِ وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کفار کی فریاد بھی قبول نہ ہوگی۔ ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے رسولوں اور مومنوں کی مدد کرتا ہے اور اس دن بھی مدد کرے گا جس دن گواہ پیش کیے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور بندوں کی دنیا میں مدد کرتا ہے اور قیامت کے دن بھی مدد فرمائے گا۔ جس دن ظالموں کی معذرت تک قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کے لیے برا ٹھکانہ ہوگا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ پھٹکار برستی رہے گی۔ دنیا میں رسولوں اور مومنوں کی مدد کرنے کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا پوری طرح کوئی نہیں جانتا۔ تاہم قرآن مجید، تاریخ اور انبیاء کی سیرت سے جو بات سمجھ میں آتی…
Read the full tafseer →اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ (ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی جس میں کہ گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے) ۔ یعنی دنیا و آخرت میں مدد کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو دارین میں غلبہ دیں گے ان کے مخالفین پر حجت و فتح کے ساتھ اور اگر کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور امتحان کبھی مغلوب ہوگئے پھر بھی عافیت انہی کیلئے اور ان کے اعداء میں سے ایسے لوگ میسر فرما دیں گے خواہ کچھ وقت بعد ہو۔
نحو : یوم یہ منصوب ہے جار ومجرور کے موضع میں شمار کرنے کی وجہ سے جیسے کہتے ہیں جئتک فی…
Read the full tafseer →50، قالوا، یعنی جہنم کے داروغے ان کو، اولم تک تاتیکم رسلکم بالبینات قالوابلی قالو افاد عوا، تم ہی اب اپنے رب کو یعنی ہم تمہارے لیے اللہ سے دعانہ کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان سے عذاب ہلکانہ ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںـــــــ:، وما دعاء الکافرین الافی ضلال ، یعنی باطل ہوجائے گی اور گمراہ ہوگی اور ان کو کوئی نفع نہ دے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
51۔ 52۔ اس سورة میں کئی جگہ ذکر آیا کہ مشرک لوگ قرآن شریف کی آیتوں میں طرح طرح کے جھگڑے اور حجتیں نکالتے تھے اور آنحضرت ﷺ اور مسلمان لوگ ان کو حق بات سمجھاتے تھے تو نہیں مانتے تھے اس سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو ایک طرح کا رنج ہوتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی تسکین کے لئے فرمایا کہ گھبرانا نہیں چاہئے حق بات کا مددگار اللہ ہے ہمیشہ سے جس طرح اللہ نے اپنے پیغمبروں کے فرمانبرداروں کی مدد دی ہے اب بھی دین دنیا میں اللہ ان کی مدد کرے گا اور پھر اس مدد کے وعدہ کے بعد حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا ذکر مثال کے طور پر فرمایا تاکہ اس مثال سے سمجھ میں آجائے کہ حضرت موسیٰ کی نبوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
آیت 51
جب اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کے لئے دنیا، برزخ اور قیامت کے روز کے عذاب کا ذکر فرمایا اور اہل جہنم کے، جو اس کے رسولوں سے عناد رکھتے اور ان کے خلاف جنگ کرتے تھے، برے حال کا ذکر کیا، تو فرمایا : (انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا) ” ہم یقیناً اپنے رسولوں کی اور ان کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں۔ “ یعنی ہم دنیا میں دلیل، برہان اور نصرت کے ذریعے سے اپنے رسولوں کی مدد کرتے ہیں (آیت) ” اور اس دن بھی (مدد کریں گے) جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ “ آخرت میں ان کے حق میں فیصلے کے ذریعے سے ان کی مدد کریں گے، ان کے متبعین کو ثواب سے نوازیں گے اور ان لوگوں کو سخت عذاب دیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
قیامت سے پہلے بھی عذاب ہے
قول باری ہے (النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا۔ وہ لوگ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں) یہ آیت عذاب قبر پر دلات کرتی ہے کیونکہ قول باری ہے (ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ اور جس روز قیامت قائم ہوگی (یہ کہا جائے گا) اہل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت زیر بحث میں وہ عذاب مراد ہے جو قیامت سے پہلے انہیں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
102 ظالموں کا ٹھکانا اور انجام بڑا ہی برا ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ دے گی۔ ان کے لیے لعنت اور پھٹکار ہوگی۔ اور بڑا ہی برا گھر ہوگا ظالموں کا "۔ اور اتنا اور ایسا برا اور اس قدر برا کہ اس جہاں میں رہتے ہوئے کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ان کے لئے وہاں پر لعنت و پھٹکار اور خدائے پاک کی رحمت سے دوری اور محرومی ہی ہوگی کہ انہوں نے اپنے کفر وعناد کی بناء پر خدائے پاک کی رحمت کو کمانے اور حاصل کرنے کے موقع و فرصت یعنی فرصت عمر کو خود ضائع کردیا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جن ظالم اور بدقسمت لوگوں نے نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
رکوع نمبر 6: آیات 51 تا 60:
اسرار و معارف :
اقوام سابقہ کے حالات بھی شاہد ہیں کہ اللہ اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والون کی دار دنیا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور ہمیشہ آخری کامیابی بھی انہی کی ہوتی ہے اور عزت و آرام بھی انہی کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ بات آج کے حالات میں بھی بالکل واضح ہے اور آخرت میں جب اعمال کا حساب ہوگا اور سب پر گواہیاں پیش ہوں گی تو یہ کفار و مشرکین سب اکڑ بھول کر معذرت کرنے لگیں گے لیکن تب یہ سب منظور نہ ہوسکے گا اور ان پر لعنت و پھٹکار ہوگی نیز انہیں بہت برا ٹھکانہ نصیب ہوگا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت کی راہ دکھائی انہیں بھی آسمانی کتاب ملی پھر بہت بڑی کافر طاقت…
Read the full tafseer →ف 1” اس لئے وہ اپنے دشمنوں پر غالب آتے ہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ آخر کار دین حق غالب ہو کر رہتا ہے اور جن پیغمبروں کو شہید کردیا گیا ان کا دشمنوں سے طرح انتقام لیا گیا کہ ان کے دشمنوں پر ایسے لوگوں کو مسلط کیا گیا جو انہیں ذلیل و خوار کرتے رہے۔ چناچہ جن یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو سولی دینے کا پروگرام بنایا، ان پر رومیوں کو مسلط کیا گیا جنہوں نے انہیں ہر طریقہ سے ذلیل و خوار کیا اور پھر حق کی فتح کے لئے مادی غلبہ اور نصرت شرط نہیں ہے۔2 گواہوں سے مراد فرشتے ہیں جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور انبیاء ( علیہ السلام) کے حق میں گواہی دینگے کہ انہوں نے اپنی اپنی قوموں تک تیرا پیغام پہنچا…
Read the full tafseer →(40:51) لننصر۔ لام تاکید کا ہے۔ ننصر مضارع جمع متکلم۔ نصر مصدر (فعل یفعل) ہم یقینی مدد کرتے ہیں۔
ویوم یقوم الاشھاد۔ واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف جملہ ماقبل پر ہے۔ یوم بوجہ ظرفیت کے منصوب ہے یہ فی الحیوۃ الدنیا کا معطوف ہے۔ یعنی ہم مدد کرتے رہتے ہیں اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی اور اس روز بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے (یعنی روز قیامت)
الاشھاد یا شاھد کی جمع ہے جیسے صاحب کی جمع اصحاب ہے۔ یا یہ شھید کی جمع ہے جیسے شریف کی جمع اشراف ہے۔ الاشھاد گواہ۔ گواہی دینے والے۔ جمہور مفسرین نے اس سے مراد نامہ اعمال لکھنے والے فرشتے لئے ہیں جو قیامت کے دن اس کی بھی گواہی دیں گے کہ رسولوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ ہم اپنے پیغمبروں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا میں مدد کریں گے ان کو غلبہ عطا فرمائیں گے اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے ہوں گے یعنی قیامت کے دن کہ ملائکہ رسولوں کی تبلیغ اور کفار کی تکذیب کی گواہی دیں گے اب ان گواہوں کے بعد کافروں کا کوئی عذر نہ سناجائے گا اور رحمت الٰہی سے محروم کیا جاکر ، دوزخ میں ان کو جھونک دیاجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
[16] یعنی قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی اور گواہ حاضر کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 1: ابتدائے سورت میں یہ بتایا تھا ۔ کہ یہ لوگ جو منکرین ہیں ۔ ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے ۔ ہم ضرور ان سے ان کی سرکشیوں کا انتقام لیں گے ۔ اس کے بعد ان لوگوں کا قصہ تھا ۔ جنہوں نے حق کا مقابلہ کیا ۔ اور ناکام رہے ۔ اور ان کی تمام تدبیریں باطل رہیں ۔ اس آیت میں بتایا ہے ۔ کہ ہمارا قانون ہے ۔ کہ تمام صداقت شعار لوگوں کی حمایت کی جائے ۔ ہم کفر کے مقابلہ میں ایمان کو رسوا نہیں کرتے ۔ انبیاء ورسل کی اور اس کے ماننے والوں کی ہم دنیا میں تائید کرتے ہیں ۔ اور آخرت میں بھی ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ۔ جنہوں نے عقل و خرد سے کام نہیں لیا ۔ وہ یہاں بھی ذلیل ہیں اور عقبیٰ میں بھی…
Read the full tafseer →(51) بلا شبہ ہم اپنے پیغمبروں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان والے ہیں دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے اور ان کا انتقام لیتے ہیں اور اس دن بھی مدد کریں گے جس دن لواہی دینے والے گواہی دینے کھڑے ہوں گے اور موجود ہوں گے۔ یہاں سے نبی کریم ﷺ کے لئے تسلی اور تشفی کا ذکر فرمایا اور آپ ساتھ آپ کے متبعین کو بھی اطمینان دلایا کہ ہماری امداد ان کو بھی شامل ہے دنیا اور آخرت میں۔
بعض اکابر مفسرین نے لنتصر کی تفسیر لننتقم سے کی ہے ہم نے تیسیر میں اس کی طرف بھی اشارہ کیا، بہرحال مظلوم کی امداد کا وعدہ تو احادیث میں آتا ہی ہے ہر مظلوم کی امداد کی جاتی ہے اور اس کا بدلا لیا جاتا ہے خواہ کچھ تاخیر سے ہو لیکن اہل حق…
Read the full tafseer →ف 4۔ مراد اس سے قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →رسولوں کے بارے میں ہماری طے شدہ بات ہے کہ ہم ان کی مدد کرتے ہیں
51۔ زیر نظر آیت مفسرین کے درمیان ایک معرکہ آرا آیت ہے اور بہت کچھ اس کے متعلق کہا گیا ہے بعض نے رسولوں اور نبیوں میں ایک فرق بیان کرکے تحریر کیا ہے کہ اس جگہ چونکہ رسولوں کی مدد کا ذکر ہے اس لیے جتنے رسولوں کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے ان سب کی قوموں کو انجام کار ہلاک کیا گیا ہے اور ان کو صرف ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اس دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہوتی ہے ور یہ بیان کر کے وہ بہت کوش ہیں کہ ہم نے حرف آخر کہہ دیا اور اب ہمارے نظریہ کا کوئی بدل ممکن نہیں حالانکہ قرآن کریم نے کتنے ہی لوگوں کو رسول کہا ہے اگرچہ ان کے نام نہیں لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
Commentary
In the opening statement of verse 51, it was said: إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (Surely, We do help Our messengers and those who believe in the worldly life, 40:51). This verse carries the promise of Allah Ta’ ala that He would keep helping His messengers and believers, both in the present world and in the Hereafter. It is obvious that this help is intended to be against adversaries and enemies. That it so happened in the case of most prophets (علیہم السلام) ، peace be on them all, is clear enough. But, there were prophets (علیہم…
Read the full tafseer →67 For explanation, see E.N. 93 of As-Saaffat.
68 That is, when Allah's Court will be established and the witnesses will be produced before Him.
Read the full tafseer →