Explained with ayahs 47–50
دوزخیوں کیلئے ایک اور عذب۔
جہنمی لوگ جہنم کے اور عذابوں کو برداشت کرتے ہوئے ایک اور عذاب کے بھی شکار ہوں گے جس کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ یہ عذاب فرعون کو بھی ہوگا اور دوسرے دوزخیوں کو بھی یعنی آپس میں تھوکنا تذلیل اور لڑائی جھگڑے۔ چھوٹے بڑوں سے یعنی تابعداری کرنے اور حکم احکام کے ماننے والے جن کی بڑائی اور بزرگی کے قائل تھے اور جن کی باتیں تسلیم کیا کرتے تھے اور جن کے کہے ہوئے پر عامل تھے ان سے کہیں گے۔ کہ دنیا میں ہم تو آپ کے تابع فرمان رہے۔ جو آپ نے کہا ہم بجا لاتے۔ کفر اور گمراہی کے احکام بھی جو آپ کی بارگاہ سے صادر ہوئے آپ کے تقدس اور علم و فضل سرداری اور حکومت کی بنا پر ہم سب کو مانتے رہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
سورة الْمُؤْمِن 66
یعنی جب واقعہ یہ ہے کہ رسول تمہارے پاس بینات لے کر آ چکے تھے اور تم اس بنا پر سزا پاکر یہاں آئے ہو کہ تم نے ان کی بات ماننے سے انکار (کفر) کردیا تھا، تو اب ہمارے لیے تمہارے حق میں اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے، کیونکہ ایسی دعا کے لیے کوئی نہ کوئی عذر تو ہونا چاہیے، اور تم اپنی طرف سے ہر معذرت کی گنجائش پہلے ہی ختم کرچکے ہو۔ اس حالت میں تم خود دعا کرنا چاہو تو کر دیکھو۔ مگر ہم یہ پہلے ہی تمہیں بتائے دیتے ہیں کہ تمہاری طرح کفر کر کے جو لوگ یہاں آئے ہوں ان کی دعا بالکل لا حاصل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت بھی پیش نظر رکھنے کے قابل ہے) جبکہ کفار دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو ادنیٰ درجہ کے لوگ (یعنی تابعین) بڑے درجہ کے لوگوں سے (یعنی متبوعین سے جن کا وہ دنیا میں اتباع کیا کرتے تھے) کہیں گے کہ ہم (دنیا میں) تمہارے تابع تھے کیا تم ہم سے آگ کا کوئی جز ہٹا سکتے ہو (یعنی جب دنیا میں تم نے ہمیں اپنا تابع اور پیرو بنا رکھا تھا تو آج تمہیں ہماری مدد کرنا چاہئے) وہ بڑے لوگ کہیں گے کہ ہم سب ہی دوزخ میں ہیں (یعنی ہم اپنا ہی عذاب کم نہیں کرسکتے تو تمہارا کیا کریں گے) اللہ تعالیٰ (اپنے) بندوں کے درمیان (قطعی) فیصلہ کرچکا (اب اس کے خلاف کرنے کی کس کو مجال ہے) اور (اس کے بعد) جتنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
اہل دوزخ کی آخری نذیر اور اس کی ناکامی
جب دوزخی دیکھیں گے کہ یہاں نہ ان کے شرکاء و شغعاء کام آنے والے بنے اور نہ ان کے لیڈر ہی ان کی کوئی مدد کرسکے تو وہ ہر طرف سے مایوس ہو کر دوزخ کے داروغوں ہی سے التجا کریں گے کہ آپ ہی لوگ اپنے رب سے درخواست کیجیے کہ ہمارے عذاب میں زیادہ نہیں تو ایک ہی دن کی تخفیف کردی جائے کہ ہم ذرا دم لے لیں۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا تم لوگوں کے پاس تمہارے رسول نہایت واضح دلیلیں لے کر نہیں آتے رہے ہیں ؟ وہ کہیں گے، ہاں ! یہ بات تو ضرور ہے۔ وہ جواب دیں گے، اگر یہ بات ہے تو تم ہی درخواست کرو، ہم تمہارے جیسے لوگوں کے لئے کوئی درخواست نہیں کرسکتے۔
’ دما دعوا الکفرین الا فی ضلل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
50۔ 1 ہم ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے کیونکر کچھ کہہ سکتے ہیں جن کے پاس اللہ کے پیغمبر دلائل و معجزات لے کر آئے لیکن انہوں نے پروا نہ کی ؟
50۔ 2 یعنی بالآخر وہ خود ہی اللہ سے فریاد کریں گے لیکن اس فریاد کی وہاں شنوائی نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ دنیا میں ان پر حجت تمام کی جا چکی تھی اب آخرت تو ایمان، توبہ اور عمل کی جگہ نہیں، وہ تو دار الجزا ہے، دنیا میں جو کچھ کیا ہوگا، اس کا نتیجہ وہاں بھگتنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
13: انسان کے مرنے کے بعد اور قیامت سے پہلے انسان کی روح جس عالم میں رہتی ہے، اسے عالم برزخ کہا جاتا ہے۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کو عالم برزخ میں دوزخ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، تاکہ انہیں پتہ چلے کہ ان کا ٹھکانا یہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
آیت نمبر 45 تا 50
یہاں اس دنیا کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے اور کتاب دنیا کا آخری صفحہ جو ہم نے پڑھا یہ ہے کہ رجل مومن جس نے کلمہ حق نہایت بےباکی کے ساتھ کہا اور چلا گیا تو اسکو اللہ نے فرعون کی بری اور گہری مکاریوں سے بچالیا۔ فرعون اور اسکے حاشیہ نشین نہ اسے اس دنیا میں گزند پہنچاسکے اور نہ آخرت میں جبکہ فرعون اور اس کے تمام ساتھی ایک نہایت ہی برے عذاب میں گھر گئے۔
النار یعرضون۔۔۔۔ اشد العذاب (40: 46) ” دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے یہ صبح وشام پیش کیے جاتے ہیں اور جب قیامت کی گھڑی آئے گی تو حکم ہوگا کہ آل فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو “۔ آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ صبح وشام ان کو آگ پر پیش…
Read the full tafseer →1 یعنی اس وقت ان کی بات نہ مانی اور انجام کی فکر نہ کی جو کچھ کام چلتا۔ اب موقع ہاتھ سے نکل چکا۔ کوئی سعی سفارش یا خوشامد درآمد کام نہیں دے سکتی۔ پڑے چیختے چلاتے رہو۔ نہ ہم ایسے معاملات میں سفارش کرسکتے ہیں، نہ تمہاری چیخ و پکار سے کوئی فائدہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " دوزخ کے فرشتے کہیں گے سفارش کرنا ہمارا کام نہیں۔ ہم تو عذاب دینے پر مقرر ہیں۔ سفارش کا کام رسولوں کا، رسولوں سے تم برخلاف ہی تھے۔ " (تنبیہ) آیہ ہذا سے معلوم ہوا کہ آخرت میں کافروں کی دعا کا کوئی اثر نہ ہوگا۔ باقی دنیا میں کافر کے مانگنے پر اللہ تعالیٰ کوئی چیز دے دیں وہ دوسری بات ہے جیسے ابلیس کو قیامت تک کی مہلت دے دی۔
Read the full tafseer →آیت 50 { قَالُوْٓا اَوَلَمْ تَکُ تَاْتِیْکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنٰتِ } ”وہ جواب میں کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس رسول علیہ السلام نہیں آتے رہے تھے واضح نشانیوں اور واضح تعلیمات کے ساتھ ؟“
{ قَالُوْا بَلٰی } ”وہ کہیں گے : ہاں آئے تو تھے !“
{ قَالُوْا فَادْعُوْاج وَمَا دُعٰٓؤُا الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ } ”وہ کہیں گے : تو اب تم خود ہی پکارو ! اور کافروں کی دعا نہیں ہے مگر بھٹک کر رہ جانے والی۔“
دنیا کی زندگی میں جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی تھی آج ان کی دعا بالکل صدا بصحرا ثابت ہوگی۔ ان لوگوں کی دعا کا نہ کوئی اثر ہوگا اور نہ ہی اس کی کہیں شنوائی ہوگی۔ بالکل یہی کیفیت ان…
Read the full tafseer →64 وہ کہیں گے کہ سفارش بھی آخر کسی عذر کی بنا پر ہی ہوسکتی ہے۔ لیکن تم نے معذرت کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تو سفارش میں ہم کیا کہیں۔ یا تو تم یہ کہو کہ ہمارے پاس نہ رسول آئے تھے نہ ہمیں اللہ کا پیغام پہنچا تھا۔ اور جب تمہارے پاس اللہ کے رسول واضح دلائل لے کر گئے تھے اور تمہیں ہر طرح کے انجام سے مطلع کردیا تھا تو پھر سفارش کس بنیاد پر کی جاسکتی ہے ؟
65 یہ فرشتوں کا دوسرا جواب ہے۔ کہ ہمارا کام سفارش کرنا نہیں اور جو ہمارا کام ہے وہ ہم کر ہی رہے ہیں سفارش کرنا رسولوں کا کام ہے اور ان کی مخالفت کرکے تم نے انہیں پہلے ہی ناراض کر رکھا ہے۔ لہذا اب خود ہی دعا کرکے دیکھ لو۔
66 یعنی بےاثر، بےنتیجہ…
Read the full tafseer →48۔ (اور انہوں نے تمہیں دوزخ سے بچے رہنے کے طریقے نہیں بتائے تھے ؟ (آیت) ” بالبینت “۔ بینات کے تحت میں معجزات، دلائل عقلی وغیرہ ہر وہ چیز آئے گی جو ایمان ویقین پیدا کرسکتی ہے۔
49۔ (آخرت میں) ایمان اجابت دعا کی شرط ہے اور اس کا موقع اس دنیا کے دار العمل میں تھا۔ آخرت کے دارالجزاء میں اس کا امکان ہی نہیں۔ فرشتے دعاء سے اس لئے انکار کریں گے کہ ایمان سے محروموں کے حق میں دعاء کا اذن ہی نہیں۔ لم یؤذن لنا فی الدعاء لامثالکم (بیضاوی) (آیت) ” وما ..... ضلل “۔ دعاء کی اس بےاثری کا تعلق کافروں کی دعاؤں سے اور وہ بھی دنیا میں نہیں قیامت کی دن کا ہے۔ والحق بان الایۃ فی دعاء الکفار یوم القیامۃ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–50
آیت نمبر 38 تا 50
ترجمہ : اور اس مومن شخص نے کہا اے میری قوم (کے لوگو) میری پیروی کرو (اتَّبِعونِی) میں اثبات (ی) اور حذف (ی) کے
ساتھ میں تمہاری صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کروں گا تقدّمَ ای تقَدَّمَ قرِیْبًا (یعنی اِلاَّ سبیل الرشاد کے ضمن میں عنقریب گذر چکا ہے) اے میری قوم یہ حیات دنیا نہایت قلیل بہت جلد فنا ہونے والی متاع ہے، یقین مانو (کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے جس نے گناہ کیا اس کو تو برابر کا بدلہ ہی ہے اور جس نے نیکی کی خواہ مرد ہو یا عورت اور حال یہ کہ وہ باایمان ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے (یُدْخَلُوْنَ ) میں یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ اور اس کا عکس (بھی) وہاں…
Read the full tafseer →قالوا اولم تک تاتیکم رسلکم بالبینت قالوا بلی قالوا فاعودا وما دعوا الکفرین الا فی
ضلل جہنم کے دربان کہیں گے : کیا تمہارے پیغمبر تمہارے پاس واضح احکام لے کر نہیں پہنچے تھے ؟ دوزخی کہیں گے : پہنچے کیوں نہ تھے۔ اس پر دوزخ کے کارندے کہیں گے : تو اب تم (خود) ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض بیکار ہے۔
اَوَلَمْ تَکُ تَأتِیْکُمْ استفہام انکاری ہے اور اس امر پر زجر کرنا مقصود ہے کہ تم نے دعا کا وقت اور قبول دعا کے اسباب کو کھو دیا۔
قَالُوْا فَادْعُوْا۔ فَادْعُوْا امر کا صیغہ ہے اور بطور استہزاء استعمال کیا گیا ہے ‘ اس سے مراد ہے ناامید بنا دینا۔
اِلاَّ فِیْ ضَلٰلٍ یعنی بیکار ‘ ناقابل قبول۔ یہ جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
(49۔ 50) اس کے بعد دوزخی کو جب عذاب کی سختی ہوگی اور ان کی برداشت سے باہر ہوجائے گی اور وہ اپنی دعاؤں سے بھی مایوس ہوجائیں گے تو سب ملکر جہنم کے موکل فرشتوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ ہم سے ایک دن جتنا تو عذاب ہلکا کردے تو فرشتے کہیں گے کیا تمہارے پاس انبیاء کرام اوامرو نواہی اور معجزات اور اللہ کی جانب رسالت لے کر نہیں آتے رہے تھے وہ دوزخی بولیں گے ہاں رسول آتے تو رہے تھے تو فرشتے بطور مذاق کے ان دوزخیوں سے کہیں گے تم خود ہی دعا کرلو باقی دوزخ میں دعا محض بےاثر ہے یا یہ کہ کفار دنیا میں جو عبادت کرتے تھے وہ جھوٹے ہی تھے۔
Read the full tafseer →قالواولم تک تاتیکم رسلکم بالبینت…: جہنم کے دربان ان پر واضح کرنے کے لئے کہ تم اس قابل ہی نہیں کہ تمہاری بات سنی جائے یا تمہاری سفارش کی جائے ان سے کہیں گے، کیا تمہارے رسول تمہارے پاس واضح دلیلیں لے کر نہیں آیا کرتے تھے ؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں اس پر فرشتے ان سے کہیں گے، پھر جب تم نے ان کی پکار پر لبیک نہیں کہا تو تمہاری پکار بھی کوئی نہیں سنے گا، سو پکارتے رہو، کافروں کی پکار بالکل بےسود اور بےکار ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں ”’ دوزخ کے فرشتے کہیں گے۔ سفارش ہمارا کام نہیں، ہم تو عذاب پر مقرر ہیں۔ سفارش کام ہے، رسولوں کا رسولوں سے تو تم برخلاف ہی تھے۔“ (موضح) دوسری جگہ فرمایا کہ وہ مالک (یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
(واذ یتحاجون۔۔۔ )
واذیتحاجون فی النار جب وہ آگ میں جھگڑیں گے تو کمزورلوگ انہیں کہیں گے جو انبیاء کی اطاعت سے تکبر یا کرتے تھے : ہم دنیا میں تمہا ری ان معاملات میں پیروی کیا کرتے تھے جس شرک کی طرف تم ہمیں بلا یا کرتے تھے کیا تم ہم سے اس چیز کو اٹھاتے ہو عذاب میں س سے جز کی صورت میں ہمیں ملا ہے۔ تبع یہ واحد ہے اور بصریوں کے قول کے مطابق یہ جمع ہے اس کی واحد تابع ہے۔ اہل کوفہ نے کہا : یہ جمع ہے اس کا کوئی واحد نہیں جس طرح مصدر ہوا کرتا ہے اسی وجہ سے اس کی جمع نہیں بنائی جاتی اگر اس کی جمع بناتے تو کہتے۔ اتباع۔ قال الذین استکبرو انا کل فیھا، فیھا میں ھاء ضمیر سے مراد جہنم ہے اخفش نے کہا : کل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
عذاب قبر کے احوال :
1:۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید (رح) نے ہذیل بن شرجیل (رح) سے روایت کیا کہ فرعون والوں کی روحیں سیاہ پرندوں کے پیٹوں میں ہیں ان کو صبح اور شام کو آگ پر پیش کیا جاتا ہے، یہی ان کا پیش کرنا ہے اور شہدا کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہیں اور مسلمان کی اولاد جو بلوغت کو نہیں پہنچی (اور موت آگئی) تو ان کی روحیں جنت کی چڑیوں کے پیٹوں میں ہیں (جنت کے باغوں میں) چرتی ہیں، وہ گھومتی پھرتی ہیں۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ان سے شہداء کی روحوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے پیٹوں میں رکھ دیا جاتا ہے جو جنت کے چکر لگاتے…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا [ وہ کہیں گے ] اَوَ لَمْ تَكُ تَاْتِيْكُمْ [ کیا نہیں آیا کرتے تھے تمہارے پاس ] رُسُلُكُمْ [ تمہارے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ ۭ [ واضح (نشانیوں) کے ساتھ ] قَالُوْا بَلٰى ۭ [ وہ کہیں گے کیوں نہیں ] قَالُوْا فَادْعُوْا ۚ [ (داروغے ) کہیں گے پھر تم لوگ پکارو ] وَمَا دُعٰۗـؤُا الْكٰفِرِيْنَ [ اور نہیں ہوتی کافروں کی پکار ] اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ [ مگر بھٹکنے میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
دوزخیوں کا فرشتوں سے تخفیف عذاب کے لیے عرض معروض کرنا
دوزخی عذاب ہلکا کروانے کے لیے دوزخ پر مقرر فرشتوں سے بھی عرض معروض کریں گے اور ان سے کہیں گے تم اپنے رب سے دعا کردو کہ وہ ایک ہی دن ہمارا عذاب ہلکا کردے وہ سوال کریں گے کہ یہاں تمہارے آنے کا جو سبب بنا ہے وہ کیا ہے ؟ تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے تمہارے پاس رسول بھیجے تھے انہوں نے ایمان کی دعوت دی تھی وہ جب تمہارے پاس آئے تم نے ان کو جھٹلایا اور ان کی بات نہ مانی بولو کیا یہ بات ٹھیک ہے ؟ اس پر وہ لوگ جواب دیں گے کہ ہاں واقعی یہ بات صحیح ہے داروغہ ہائے دوزخ کہیں گے کہ ہم ایسے لوگوں کے لیے کچھ بھی سفارش نہیں کرسکتے تم ہی دعا کرلو، وہاں ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–60
بعد ازذکر عذاب دنیوی وبیان عذاب برزخ وآخرت ذلت و خواری فرعونیاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” النار یعرضون علیھا ...... الی ....... الا فی ضلل “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آل فرعون کے مرد مومن کا ناصحانہ خطاب کا بیان تھا کہ اس نے کیسے مؤثر وبلیغ اور مدلل انداز سے فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اس سے آگے بڑھ کر ان کو حق کی دعوت دی اور اللہ رب العزت کی الوہیت ووحدانیت کے دلائل قائم کرتے ہوئے ایمان لانے پر آمادہ کرنا چاہا اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا، اب ان آیات میں جو عذاب خداوندی ان پر دنیا…
Read the full tafseer →54:۔ ” قالوا اولم تک “ فرشتے تہدید و توبیخ کے طور پر ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس انبیاء (علیہم السلام) معجزات اور واضح دلائل لے کر نہیں آئے تھے ؟ ” قالوا بلی “ جواب دیں گے۔ کیوں نہیں، آئے تو تھے۔ انہوں نے ہمیں اللہ کے احکام سنائے۔ ماننے والوں کو جنت کی خوشخبری دی اور منکرین کو خدا کے عذاب سے ڈرایا۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان کی نہ سنی۔ ” قالوا فادعوا “ اوقات دعا اور اسباب قبولیت کو تو تم نے دنیا میں ضائع کردیا اور تم وہاں متنبہ نہ ہوئے، تم ایسے لوگوں کے حق میں دعا کرنا ہمارے لیے تو ممکن نہیں۔ ہم نے تمہارے عا کرسکتے ہیں، نہ تمہاری درخواست قبول کرسکتے ہیں، بلکہ ہم تو تم سے ہیں ہی بیزار، اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے توحید اور جزائے عمل کی بات سمجھانے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ آل فرعون کا ذکر کیا کہ انہوں نے کسی طرح سرکشی کی ، حق کی مخالفت کرتے رہے ، موسیٰ (علیہ السلام) کو تکالیف پہنچائیں اور آخر میں قتل کے درپے ہوئے اس دوران میں قوم فرعون میں سے ایک مرد مومن نے آل فرعون کو نصیحت کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی مخالفت کی اور پھر اپنے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ، اللہ تعالیٰ نے اس مرد مومن اور موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کے حواریوں کی بری تدبیر سے بچا لیا اور خود انہی کو عذاب میں مبتلا کیا ، دنیا میں تو وہ بحر قلزم میں غرقی ہوئے اور اب عالم برزخ…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اَوَلَمْ تَكُ تَاْتِيْكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ 0 ۭ قَالُوْا بَلٰى 0 ۭ قَالُوْا فَادْعُوْا 0 ۚ وَمَا دُعٰۗـؤُا الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ 50ۧ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
تفسیر : اس کے بعد خدا تعالیٰ اس مومن کے ایمان کا نتیجہ بیان کرتا ہے جو دنیا میں بھی اس کے سامنے آیا اور فرعونیوں کا انجام کار بیان فرماتا ہے۔ فقال فوقہ اللہ کہ اللہ نے اس مومن کو فرعونیوں کے فریب و ایذاء سے جو اس کو مومن سمجھ کردینا چاہتے تھے بچالیا اور خود فرعونیوں پر بڑا عذاب آپڑا کہ وہ اول تو طرح طرح کی مصیبتوں میں جو موسیٰ ( علیہ السلام) کی بددعا سے ان پر آئیں، مبتلا ہوئے، پھر بحر قلزم میں غرق ہوئے اور مرنے کے بعد ان کا یہ حال ہوا۔ النار یعرضون الخ کہ صبح و شام آتش جہنم کے سامنے کئے جاتے ہیں۔ صبح و شام سے مراد خاص یہی دو وقت نہیں بلکہ دوام مراد ہے۔ اس کو محاورہ میں صبح و شام سے تعبیر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
وَقَالَ الَّذِیْنَ فِی النَّارِ لِخَزَنَۃِ جَھَنَّمَ ادْعُوْا رَبَّـکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ ۔ قَالُوْٓا اَوَلَمْ تَـکُ تَاْ تِیْکُمْ رُسُلُـکُمْ بِالْـبَـیِّنٰتِ ط قَالُوْا بَلٰی ط قَالُوْا فَادْعُوْا ج وَمَا دُعٰٓـؤُا الْـکٰفِرِیْنَ اِلاَّ فِیْ ضَلٰـلٍ ۔ (المؤمن : 49، 50)
(پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے داروغوں سے کہیں گے اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں ایک دن کی تخفیف کردے۔ وہ کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول بینات لے کر نہیں آئے تھے، وہ کہیں گے ہاں، تو جہنم کے داروغے بولیں گے پھر تم ہی دعا کرو، اور کافروں کی دعا اکارت ہی جانے والی ہے۔ )
اہلِ جہنم کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
فہم القرآن
ربط کلام : آل فرعون اور دوسرے جہنّمیوں کا جہنّم میں کیا حال ہوگا ؟
جب جہنّمی جہنم میں جھونکے جائیں گے تو وہ آپس میں جھگڑیں گے۔ جو لوگ دنیا میں جس کسی کی تابعداری کرتے تھے ان سے کہیں گے کہ ہم تمہارے تابعدار تھے۔ کیا اب تم آگ کا کچھ حصہ ہم سے ہٹا سکتے ہو۔ بڑے لوگ کہیں گے کہ ہم سب اس آگ میں اکٹھے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے۔ اس کا فیصلہ بدلنے کی نہ ہم میں ہمّت ہے اور نہ تم بدل سکتے ہو۔ لہٰذا ہم نے اسی آگ میں رہنا ہے۔ اس کے بعد نہایت مجبور ہو کر جہنم کے فرشتوں سے کہیں گے کہ تم ہی ہمارے لیے اپنے پروردگار سے سفارش کرو ! کہ ایک دن تو عذاب سے رخصت مل جایا کرے۔…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا (وہ کہیں گے) وہ نگران فرشتے طرویل مدت کے بعد توبیخ کے طور پر کہیں گے۔ اَوَ لَمْ تَكُ (کیا تمہارے پاس) کیا تمہارا قصہ اس طرح نہیں۔ تَاْتِيْكُمْ رُسُلُكُمْ (تمہارے رسول نہیں آتے رہے تھے) یہ القصہ کی تفسیر ہے۔ بِالْبَيِّنٰتِ (دلائل کے ساتھ) معجزات کے ساتھ۔ قَالُوْا (وہ کہیں گے) یعنی کفار۔ بَلٰى ۭ قَالُوْا (ہاں) نگران فرشتے بطور تحکم کہیں گے۔ فَادْعُوْا (تو پھر تم دعا کرلو) تمہاری دعا قبول نہ کی جائے گی۔ وَمَا دُعٰۗـؤُا الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ (اور کافروں کی دعا محض بےاثر ہے) ۔ ضلال بمعنی باطل ہے بیکار یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ نگران فرشوں کا قول ہو۔
Read the full tafseer →49، وقال الذین فی النار، جب ان پر عذاب سخت ہوگیا۔ ، لخزنۃ جھنم ادعواربکم یخفف عنا یوما من العذاب،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
47۔ 50۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ دوزخیوں کے آپس میں جھگڑنے کی خبر دیتا ہے فرعون اور اس کی قوم بھی ان میں ہوگی تابعداری کرنے والے اپنے سرداروں سے اور پیشواؤں سے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں تمہارے تابعدار تھے جس گمراہی کی طرف تم نے ہم کو بلایا ہم نے تمہارا کہا مانا اب اتنا کرو کہ کوئی حصہ عذاب کا ہم سے دفع کرو وہ جواب دیں گے ہم سب اس میں مبتلا ہیں ہم عذاب کا کوئی حصہ دفع نہیں کرسکتے اللہ فیصلہ کرچکا اپنے بندوں کے حق میں کہ ہر ایک کو بقدر اس کے گناہوں کے عذاب بانٹ دیا وہ اب کیسے کم ہوسکتا ہے اور جب دوزخیوں نے یہ بات معلوم کرلی کہ خدا تعالیٰ ان کی دعا کو نہ سنے گا تو خازنوں سے جو مانند درواغہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
آیت 47
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل جہنم کے جھگڑنے، ایک دوسرے پر عتاب کرنے اور جہنم کے داروغے سے مدد مانگنے اور اس کے بےفائدہ ہونے کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، چناچہ فرمایا : (آیت) ” اور جب وہ دو زخ میں باہم جھگڑیں گے۔ “ یعنی پیروکار یہ حجت پیش کریں گے کہ ان کے قائدین نے ان کو گمراہ کیا اور قائدین اپنے پیروں کاروں سے بیزاری اور برأت کا اظہار کریں گے۔
(فیقول الضعفوآء) ” پس کمزور کہیں گے “ یعنی پیروکار کار (للذین استکبروآ) ان قائدین سے جنہوں نے حق کے خلاف تکبر کیا اور جنہوں نے ان کو اس موقف کی طرف بلایا جو ان کے تکبر کا باعث تھا۔ (انا کنا لکم تبعا) ” ہم تمہارے تابع تھے۔ “ تم نے ہم کو گمراہ کیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
قیامت سے پہلے بھی عذاب ہے
قول باری ہے (النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا۔ وہ لوگ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں) یہ آیت عذاب قبر پر دلات کرتی ہے کیونکہ قول باری ہے (ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ اور جس روز قیامت قائم ہوگی (یہ کہا جائے گا) اہل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت زیر بحث میں وہ عذاب مراد ہے جو قیامت سے پہلے انہیں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
98 دوزخ کے کارندوں کا اہل دوزخ کو رسوا کن جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر دوزخ کے کارندے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول کھلے دلائل کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہاں کیوں نہیں۔ اس پر دوزخ کے داروغے ان سے کہیں گے کہ پھر تم خود ہی دعا و درخواست کرو۔ کہ جب تم نے جان بوجھ کر حق کو چھوڑا اور اس کے پہنچ چکنے کے بعد تم نے اس سے منہ موڑا اور تم پر حجت تمام ہوگئی تو اب اپنی درخواست تم خود ہی پیش کرو۔ پس تم جیسے لوگوں کی کوئی درخواست ہم نہیں پیش کرسکتے کہ اسکا کوئی فائدہ نہیں۔ سو رسولوں کی دعوت سے منہ موڑنا اور ان کی تکذیب کرنا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جرموں کا جرم اور محرومیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–50
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 50:
اسرار معارف :
اس بندہ مومن نے بہت کوشش کی اور بتایا کہ لوگوں میری بات مان لو میں تمہیں نیکی اور ہدایت کی طرف دعوت دے رہا ہوں کہ یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے یہاں کی دولت و عیش فانی اس پر فدا ہو کر آخرت کو مت بھولو کہ آخرت ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے اور جو کوئی بھی گناہ کرے گا اس کو اسی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا لیکن جس کسی نے ایمان قبول کرلیا مرد ہو یا خاتون اور پھر ایمان کے مطابق اپنا کردار بھی ڈھال لیا اور اعمال درست کرلیے تو ایسے لوگ جنت میں پہنچیں گے جہاں انہیں بیحد و حساب آرام اور عیش نصیب ہوگا ارے بوقوفو تم مجھے اپنے عقیدے کی طرف بلاتے ہو حیرت ہے میں تمہیں اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 10 ” لیکن ہم نے ان کی بات نہ مانی “11 ہم کافروں کی سفارش نہیں کرسکتے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : دوزخ کے فرشتے کہیں گے سفارش کوئی ہمارا کام نہیں، ہم عذاب پر مقرر ہیں، سفارش کام ہے رسولوں ( علیہ السلام) کا، رسولوں کے تم بر خلاف تھے۔ ( موضح) ۔
Read the full tafseer →(40:50) اولم تک تاتیکم رسلکم بالبینت : ہمرزہ استفہامیہ۔ واؤ کا عطف جملہ مقدرہ پر ہے لم تک مضارع نفی جحد بلم۔ (لم کے عمل سے مضارع تکون۔ تک ہوگیا) ۔ اولم تک قصہ ہے تاتیکم تفسیر قصہ ہے۔ رسلکم ضمیر قصہ کا مرجع بالبینت باء تعدیہ کا ہے۔ بینات ، معجزات، روشن دلائل۔ ترجمہ :۔ کیا تمہارے (یعنی اللہ کی طرف سے تمہاری طرف بھیجے گئے پیغمبر) تمہارے پاس واضح احکام لے کر نہیں آئے تھے ؟
یہ استفہام انکاری ہے اور زجرو توبیخ کے لئے ہے یعنی پیغمبر تو آئے تھے لیکن تم نے دعا کا وقت اور قبولیت کے اسباب کو کھو دیا۔
فادعوا۔ فعل امر جمع مذکر حاضر کا صیغہ دعوۃ (باب نصر) مصدر۔ پس پھر تم خود ہی پکارو۔ یعنی دعا کرو۔ تم خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 50 :۔ یتحاجون ( وہ جھگڑتے ہیں) مغنون ( بےنیازی کرنے والے ( بچانے والے) حکم ( اس نے فیصلہ کردیا) خزنۃ ( جہنم پر مقرر ( فرشتہ) یخفف ( وہ کمی کرتا ہے) دعائ ( پکار ، بلانا)
تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 :۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ حق و باطل کا فیصلہ فرمادیں گے ۔ اہل جنت اللہ کی رحمتوں کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ اور جن لوگوں پر ان کا جرم ثابت ہوجائے گا ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا تب وہ لوگ جو دنیا میں اپنے پیشواؤں کی تابع داری کرتے تھے اور ان کے کہنے پر چلتے تھے عذاب کی شدت سے بوکھلا کر اپنے بڑوں سے یہ کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھروہی کیا جو تم نے ہمیں حکم دیا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
(ف 1) اے محبوب آپ اپنی قوم سے جہنم کے اندر کفار کے آپس میں جھگڑنے کا حال ذکر فرمایے کہ جب سب کفار دوزخ میں جمع ہوں گے تو آپس میں جھگڑاکریں گے کمزور لوگ سرکشوں سے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں تمہارے تابعدار تھے ، اور تمہاری بدولت ہی کافر بنے اب اتنا کرو کہ کوئی حصہ عذاب کا ہم سے دفع ہو، وہ جواب دیں گے کہ ہم سب اس میں مبتلا ہیں ہم عذاب کا کوئی حصہ دفعہ نہیں کرسکتے، اللہ فیصلہ کرچکا اپنے بندوں کے حق میں کہ ایمانداروں کو اس نے جنت میں داخل کردیا اور کافروں کو جہنم میں ، جو ہونا تھا ہوچکا، جب دوزخیوں پر عذاب کی سختی ہوگی اور صبر باقی نہ رہے گا اور خدا کو پکارتے پکارتے تھک جائیں گے تو دوزخ کے داروغہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
[16] یعنی قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی اور گواہ حاضر کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 1: غرض یہ ہے کہ وہ مقام ہوگا جہاں ارادت اور عقیدت کے تمام تعلقات منقطع ہوجائیں گے اور ہر شخص اپنی ذاتی ذمہ داری کو محسوس کرے گا ۔ اس وقت معلوم ہوگا ۔ کہ حاملین ملت ومقتدائے دین کس درجہ مکار تھے اور کیونکر کمزور استعداد کے لوگوں کو گمراہ کرتے تھے ۔ پھر جب یہ لوگ دیکھیں گے ۔ کہ یہ کبراء تو کچھ نہیں کرسکتے ۔ تو فرشتوں سے کہیں گے ۔ تم ہی ہمارے لئے تخفیف عذاب کی دعا کرو ۔ وہ کہیں گے اب تو دعا کا کوئی موقع ہی نہیں رہا ۔ کیا تمہارے پاس انبیاء ورسل نہیں آئے تھے اور کیا انہوں نے دلائل و شواہد سے تمہیں نہیں نوازا تھا ۔ تم نے اس وقت کیوں انکار کیا ۔ کیوں حق و صداقت کی تعلیم کو ٹھکرایا ۔ وہ جواباً کہیں…
Read the full tafseer →(50) وہ فرشتے جوا ب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول واضح دلائل اور معجزات لے کر نہیں آئے تھے اہل جہنم کہیں گے ہاں رسول تو آتے رہتے تھے اس پر دوزخ کے موکل فرشتے کہیں گے تو بس اب تم خود ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا کچھ نہیں مگر بےسود و بےنتیجہ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دوزخ کے فرشتے کہیں گے۔ سفارش کرنی ہمارا کام نہیں ہم تو عذاب پر مقرر ہیں سفارش کام ہے رسولوں کا سو رسولوں سے تو بر خلاف ہی تھے۔ یعنی سب ہی اہل جہنم فرشتوں سے درخواست کریں گے تم ہی اپنے پروردگار سے درخواست کرو کہ وہ ہمیشہ کے لئے عذاب نہ ہٹائے تو کم از کم ایک دن کے لئے تو کچھ کمی کر دے وہ کہیں گے معاملہ کیا ہے تم کو دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 3۔ یعنی اس کی تو کیا امید کریں کہ عذاب بالکل ہٹ جاوے یا ہمیشہ کے لئے ہلکا ہوجاوے، مگر خیر ایک ہی دن کے لئے ہلکا ہوجاوے۔
Read the full tafseer →دوزخ کے دربان انسے کہیں گے کیا تمہارے پاس ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟
50۔ دوزخ کے دربان ان کی بات کو سنیں گے اور ان سے استفسار کریں گے کہ کیا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر نہیں آئے تھے ؟ وہ جواب دیں گے کہ ہاں ضرور آئے تھے لیکن ہم نے اس وقت ان کی ایک نہ سنی تھی بلکہ ان کو کہا تھا کہ اللہ نے تم سے یہ بات نہیں کی بلکہ تم خود ہی جھوٹ گھڑ کر بیان کر رہے ہو پھر دوزخ کے دربان ان سے کہیں گے کہ اگر یہ بات ہے تو پھر تم خود ہی اپنی درخواست کرو ہم تو تمہارے جیسے لوگوں کی سفارش کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں پھر یہی وہ وقت ہے کہ مخالفین ومعاندین کو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
Commentary
In the opening statement of verse 51, it was said: إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (Surely, We do help Our messengers and those who believe in the worldly life, 40:51). This verse carries the promise of Allah Ta’ ala that He would keep helping His messengers and believers, both in the present world and in the Hereafter. It is obvious that this help is intended to be against adversaries and enemies. That it so happened in the case of most prophets (علیہم السلام) ، peace be on them all, is clear enough. But, there were prophets (علیہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
66 That is, 'When the fact is this that the Messengers had come to you with the clear Signs, and you have already been sentenced to suffer punishment here, because you had refused to believe in them, it is not possible for us to pray for you to Allah. For obviously there should be some plea for such a prayer, and you have exhausted every plea by your misconduct. So, you pray for yourselves if you so like: but we would tell you beforehand that the prayers of the people who had disbelieved in the world like you have been of no avail.
Read the full tafseer →