Explained with ayahs 51–56
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔
آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
سورة الْمُؤْمِن 69
یعنی موسیٰ کو ہم نے فرعون کے مقابلے پر بھیج کر بس یونہی ان کے حال پر نہیں چھوڑ دیا تھا، بلکہ قدم قدم پر ہم ان کی رہنمائی کرتے رہے یہاں تک کی انہیں کامیابی کی منزل تک پہنچا دیا۔ اس ارشاد میں ایک لطیف اشارہ اس مضمون کی طرف ہے کہ اے محمد ﷺ ، ایسا ہی معاملہ ہم تمہارے ساتھ بھی کریں گے۔ تم کو بھی مکہ کے شہر اور قریش کے قبیلے میں نبوت کے لیے اٹھا دینے کے بعد ہم نے تمہارے حال پر نہیں چھوڑ دیا ہے کہ یہ ظالم تمہارے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں، بلکہ خود تمہاری پشت پر موجود ہیں اور تمہاری رہنمائی کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
خلاصہ تفسیر
ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگانی میں بھی مدد کرتے ہیں (جیسا اوپر موسیٰ ؑ کے قصہ سے معلوم ہوا) اور اس روز بھی جس میں گواہی دینے والے (فرشتے جو کہ نامہ اعمال لکھتے تھے اور قیامت کے روز اس بات کی گواہی دیں گے کہ رسولوں نے عمل تبلیغ کیا اور کفار نے عمل تکذیب، غرض وہ فرشتے گواہی کے لئے) کھڑے ہوں گے (مراد اس سے قیامت کا دن ہے، وہاں کی مدد کا حال ابھی کفار کے معذب بالنار ہونے سے معلوم ہوچکا ہے، آگے اس دن کا بیان ہے یعنی جس دن کو ظالموں (یعنی کافروں) کو ان کی معذرت کچھ نفع نہ دے گی (یعنی اول تو کوئی معتدبہ معذرت نہ ہوگی اور اگر کچھ حرکت مذبوحی کی طرح ہوئی تو وہ نافع نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
وعدہ نصرت کی وضاحت
یہ وضاحت ہے اس نصرت کی جس کا ذکر اوپر ہوا کہ فرعون اور اس کے آل و اتباع تو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور موسیٰ ؑ اور ان پر ایمان لانے والے نبی اسرائیل، ہدایت اور کتاب الٰہی کی وراثت سے نوازے گئے۔
’ واورثنا بنی اسرآئیل الکتب ‘ کے اندر اس دنیا میں غلبہ و تمکن کا وعدہ خود مضمر ہے اس لئے کہ کتاب احکام و قوانین الٰہی کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جس ملت کو یہ عطا ہو اس کو زمین میں غلبہ و تمکن بھی حاصل ہو۔ چناچہ بنی اسرائیل کو یہ چیز حاصل رہی جب تک وہ اپنی کتاب پر عامل رہے۔
’ ھدی و ذکری لاولی الالباب ‘۔ یہ کتاب کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس…
Read the full tafseer →53۔ 1 یعنی نبوت اور تورات عطا کی جیسے فرمایا (اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ) 5۔ المائدہ :44)
53۔ 1 یعنی تورات، حضرت موسیٰ ؑ کے بعد بھی باقی رہی، جس کے نسلاً بعد نسل وہ وارث ہوتے رہے۔ یا کتاب سے مراد وہ تمام کتابیں ہیں جو انبیائے بنی اسرائیل پر نازل ہوئیں، ان سب کتابوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
14: یعنی جب لوگوں کے اعمال کی گواہی دینے کے لیے گواہوں کو بلایا جائے گا۔ یہ گواہ فرشتے بھی ہوں گے، اور انبیائے کرام وغیرہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
آیت نمبر 51 تا 55
اس دوٹوک موقف پر یہ فیصلہ کن تبصرہ بہت ہی مناسب ہے۔ انسانیت وک معلوم ہوگیا کہ حق و باطل کی کشمکش کا آخری انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس دنیا میں دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور آخرت میں دونوں کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں نے دیکھ لیا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کا انجام اس دنیا میں کیا ہوا جس طرح انہوں نے قیامت کے منظر میں دیکھ لیا کہ وہ آگ میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اور ان کو نہایت حقارت کے ساتھ ناقابل التفات چھوڑدیا گیا ۔ ہر کشمکش کا فیصلہ یہی ہوتا ہے جس طرح قرآن کا صریح فیصلہ ہے۔
انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
5 یعنی دنیا ہی میں دیکھ لو کہ فرعون اور اس کی قوم کو باوجود اس قدر طاقت و جبروت کے حق کی دشمنی نے کس طرح ہلاک و برباد کر کے چھوڑا۔ اور موسیٰ علیہ السلا کی برکت و راہنمائی سے بنی اسرائیل کی مظلوم اور کمزور قوم کو کس طرح ابھارا اور اس عظیم الشان کتاب (تورات) کا وارث بنایا۔ جو دنیا کے عقلمندوں کے لیے شمع ہدایت کا کام دیتی تھی۔
Read the full tafseer →آیت 53 { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْہُدٰی وَاَوْرَثْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ الْکِتٰبَ } ”اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام ٰ کو ہدایت دی تھی اور ہم نے وارث بنایا تھا بنی اسرائیل کو کتاب کا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
69 یعنی سیدنا موسیٰ کو فرعون جیسے جابر اور ظالم حکمران کے پاس بھیجا۔ تو ساتھ ہی ساتھ ان کی رہنمائی بھی کرتے رہے کہ اب آگے انہیں کون سا قدم اٹھانا چاہئے تاآنکہ انہیں اور ان کی مظلوم قوم کو فرعون کی چیرہ دستیوں سے نجات دلا کر انہیں کامیابی سے ہمکنار کریں۔
70 کتاب کے وارثوں کی ذمہ داریاں :۔ فرعون کی غرقابی کے بعد موسیٰ کو جو کتاب تورات عطا فرمائی اس میں اہل عقل و خرد کے لئے سبق حاصل کرنے کے لئے بھی بہت کچھ سامان موجود تھا اور دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے بھی وہ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی مہیا کرتی تھی۔ ہم نے اس عظیم الشان کتاب کا بنی اسرائیل کو وارث بنایا تاکہ وہ دنیا میں ہدایت کے علمبردار بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
52۔ یعنی نفع اس کتاب سے وہی اٹھاتے ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ اور جو عقل سے کام نہیں لیتے وہ نفع سے محروم رہ جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جس دن گواہی دینے والے گواہی دیں گے اَشْھاد، شاھِد کی جمع ہے، اور وہ ملائکہ ہیں جو رسولوں کے (پیغام) پہنچانے کی اور کافروں کے جھٹلانے کی گواہی دیں گے جس دن ظالموں کو ان کے (عذر) معذرت کچھ فائدہ نہ دیں گے، (یَنفَعُ ) تاء اور یاء کے ساتھ اگر وہ معذرت کریں گے اور ان کے لئے لعنت ہوگی یعنی رحمت سے دوری اور ان کے لئے آخرت برا گھر ہے یعنی دار آخرت کے عذاب کی شدت اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ یعنی تورات اور معجزات عطا فرمائے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہم نے بنی…
Read the full tafseer →ولقد اتینا موسیٰ الھدی واورثنا بنی اسراء یل الکتب۔ اور (آپ سے پہلے) ہم موسیٰ کو (کتاب) ہدایت (یعنی توریت) دے چکے ہیں اور ہم نے وہ کتاب بنی اسرائیل کو پہنچائی تھی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(53۔ 54) اور ہم نے موسیٰ کو توریت داؤد کو زبور حضرت عیسیٰ ابن مریم کو انجیل دی تھی اور پھر اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو زبور انجیل پہنچائی تھی جو کہ ہدایت اور نصیحت کی چیز تھی عقل والوں کے لیے۔
Read the full tafseer →(1) ولقد اتینا موسیٰ الھدی : اس آیت میں اس نصرت کا بیان ہے جس کا ذکر پچھلی آیت ”انا لننصر رسلنا ‘ میں ہوا۔ واؤ کے ساتھ عطف اس بات پر ہے جس کا ذکر پیچھے گزرا اور جو یہاں مقدر ہے کہ ”ہم نے موسیٰ اور ایمان والوں کی مدد فرعون اور اس کے لشکروں کو غقر کر کے انہیں نجات دینے کے ساتھ کی“ اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو ہدایت عطا فرمائی۔ اس ہدایت میں نبوت، معجزات تورات اور ہر مشلک میں رہنمائی سب شامل ہیں۔
(2) واورثنا بنی اسرآئیل الکتب : نبوت تو موسیٰ ؑ کو ملی اور وہ صرف نبی ہی کو ملتی ہے، البتہ اس کی کتاب اور اس کے علوم کی وارث اس کی امت بنتی ہے، جیسا کہ ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
(انا لنصر رسلنا والذین۔۔۔ )
انا لننصر رسلنا رسلنا کو ضمہ کو اس کے ثقل کی وجہ سے حذف کرنا جائز ہے تو کہا جائے گا : رسلنا اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں والذین امنوا فی الحیواۃ الدنیا ہم موصول محل نصب میں ہے اس کا عطف الرسل پر ہے اس سے مراد وہ مومن ہے جس نے وعظ کیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ رسل اور مومنین میں عام ہے۔ ابو العالیہ کے قول کے مطابق ان کی مدد سے مراد ان کے دلائل کو غلبہ دینا اور ان کو کامیابی دینا ہے (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے دشمنوں سے انتقام لینا ہے۔ سدی نے کہا : کسی قوم نے کسی نبی کو قتل نہیں کیا یا ایسی قوم کو قتل نہیں کیا جو مومن تھے (3) اور حق کی طرف دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
1:۔ احمد و ترمذی (رح) (وحسنہ) وابن ابی الدنیا (فی ذم الغیبۃ) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے جہنم کی آگ کو دور کردے گا پھر یہ (آیت ) ” انا لننصررسلنا “ الایہ (ہم اپنے پیغمبروں کی اور ایمان والوں کی دنیوی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں)
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح روایت ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا لننصررسلنا “ الایہ فرمایا کہ اس نصرت سے مراد دلیل میں (مدد کرنا ہے) کہ اللہ تعالیٰ ان کی دلیل کو…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى [ اور بیشک ہم دے چکے موسیٰ کو ] الْهُدٰى [ وہ ہدایت نامہ ] وَاَوْرَثْنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ اور ہم نے وارث بنایا بنی اسرائیل کو ] الْكِتٰبَ [ اس کتاب کا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولوں اور اہل ایمان سے نصرت کا وعدہ فرمانا اور ظالمین کے ملعون ہونے کا اعلان فرمانا
دو آیتوں کا ترجمہ ہے ان میں دو باتیں بتائی ہیں اول یہ کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی دنیا والی زندگی میں مدد کرتے ہیں، مدد تو ہوتی ہے بعض مرتبہ دیر لگنے میں بڑی حکمتیں ہوتی ہیں انہی حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کافروں کو مہلت دی جاتی ہے جو ان کے حق میں استدراج ہوتا ہے اور اسی استدراج کی وجہ سے اور زیادہ بڑھ چڑھ کر شرارت اور بغاوت کرتے ہیں پھر دنیا میں ان سے انتقام لے لیا جاتا ہے۔
(وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ) اور ہم اس دن بھی رسولوں اور ایمان والوں کی مدد کریں گے جس دن گواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–60
بعد ازذکر عذاب دنیوی وبیان عذاب برزخ وآخرت ذلت و خواری فرعونیاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” النار یعرضون علیھا ...... الی ....... الا فی ضلل “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آل فرعون کے مرد مومن کا ناصحانہ خطاب کا بیان تھا کہ اس نے کیسے مؤثر وبلیغ اور مدلل انداز سے فرعون اور فرعونیوں کو اللہ کے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کے ارادہ سے باز رکھنے کی کوشش کی اور اس سے آگے بڑھ کر ان کو حق کی دعوت دی اور اللہ رب العزت کی الوہیت ووحدانیت کے دلائل قائم کرتے ہوئے ایمان لانے پر آمادہ کرنا چاہا اور اللہ کی نافرمانی اور بغاوت پر مرتب ہونے والے نتائج سے آگاہ کیا، اب ان آیات میں جو عذاب خداوندی ان پر دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
56:۔ ” ولقد اتینا موسیٰ “ یہ دعوے سورت پر دلیل نقلی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے۔ یعنی ہم نے موسیٰ کو تورات میں یہی پیغام ہدایت دیا تھا اور بنی اسرائیل کے لیے اس کو دستور بنایا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل رکوع 1 میں ارشاد فرمایا۔ ” واتینا موسیٰ الکتب وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل ان لا تتخذوا من دونی وکیلا۔ اور پھر بنی اسرائیل کو اس کتاب (تورات) کا وارث بنایا جو اس پیغام ہدایت (توحید) پر مشتمل اور اہل دانش اور ارباب بصیرت کے لیے سراپا بند و نصیحت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
ربط آیات :
مسئلہ توحید کی تفہیم ، قرآن کریم کی حقانیت وصداقت کی وضاحت اور جزائے عمل کے تعین کے لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ بیان کیا اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کیا ، فرعونیوں کا غرور وتکبر اور سرکشی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی منصوبہ بندی کا تذکرہ ہوا ، ایک عبد مومن کی نصیحت اور خیرخواہی کی بات ہوئی ، آخر کار فرعون اور اس کے حواریوں کی تدبیر ناکام ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور مرد مومن دونوں کو بچا لیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا میں تو آل فرعون اور غرقابی کی سزا ملی اور عالم برزخ میں وہ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں ، ان کا آخری ٹھکانا دوزخ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْہُدٰى وَاَوْرَثْنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْكِتٰبَ 53ۙ
آتینا
وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] .
[ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ
[ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني .
{ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ترکیب : والذین فی محل نصب عطفا علی رسلنا ای لتنصر رسلنا و ننصر الذین آمنوا معھم، فی الحیوۃ الجار متعلق بننصر و یوم معطوف علی فی الحیوۃ ای ننصرھم فے الدنیا و فی الاخرۃ، یوم بدل من یوم یقوم الاشہاد ولھم اللعنۃ الجملۃ الاسمیۃ معطوف علی لاینفع ھدی حال من الکتاب قال الزجاج الاشھاد جمع شاھد کصاحب و اصحاب و قال النحاس لایحییٰ جمع فاعل علی افعال بلھی جمع شہید کشریف و اشراف۔
تفسیر : فرعونیوں کی بربادی اور بنی اسرائیل اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی سلامتی کا ذکر کرکے یہ بات بتلاتا ہے کہ کچھ موسیٰ ( علیہ السلام) اور اس کی قوم ہی پر سلامتی اور امداد غیبی موقوف نہیں، ہم اپنے سب رسولوں اور ان کے ماننے والوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْھُدٰی وَاَوْرَثْـنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ الْـکِتٰبَ ۔ ھُدًی وَّ ذِکْرٰی لِاُوْلِی الْاَلْـبَابِ ۔ (المؤمن : 53، 54)
(ہم نے موسیٰ کو ہدایت عطا فرمائی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنادیا۔ جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی۔ )
نصرتِ الٰہی کی وضاحت
اوپر کی دو آیتوں میں پروردگار نے اپنی سنت کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہمیشہ رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کی نصرت فرمائی ہے اور دشمنوں کو اپنے عذاب کا نشانہ بنایا۔ چناچہ اس کی وضاحت کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے آل و اتباع کا ذکر کیا کہ دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت اور کتاب کے ساتھ مبعوث فرمایا اور بنی اسرائیل کو تورات کا وارث بنایا۔ جس میں عقل مندوں کے لیے نصیحت اور راہنمائی موجود ہے۔ کتاب سے مراد تورات ہے جو پہلی آسمانی کتابوں کی ترجمان ہے اور ہدایت سے مراد وہ راہنمائی ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو چلنے کی توفیق دیتا ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور علماء کی ذمہ داری لگائی گئی کہ وہ اس کتاب کے مطابق لوگوں کی راہنمائی کریں۔ جو عقل مندوں کے لیے راہنمائی اور نصیحت کا سرچشمہ تھی۔ اولی الالباب کی تخصیص اس لیے کی…
Read the full tafseer →ہدی میں تمام دینی اشیاء شامل ہیں :
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْهُدٰى (اور ہم موسیٰ کو ہدایت نامہ دے چکے ہیں) ۔ الھدی اس سے وہ تمام چیزیں مراد ہیں جو دین کے سلسلہ میں ان کو دیں گئیں مثلا معجزات، تورات، احکامات، وَاَوْرَثْنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْكِتٰبَ (اور ہم نے وہ کتاب بنی اسرائیل کو پہنچائی تھی) الکتاب سے تورات، انجیل اور زبور مراد ہے۔ کیونکہ الکتاب جنس ہے۔
Read the full tafseer →52، یوم لا ینفع الظالمین معذرتھم، اگر وہ اپنے کفر کا عذربیان کریں گے تو ان سے قبول نہ کیا جائے گا اورا گر توبہ کرلیں تو ان کو نفع نہ دے گی۔ ، ولھم اللعنۃ ، رحمت سے دوری ہے۔ ، ولھم سوء الدار، یعنی جہنم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
53۔ 56۔ اوپر کی آیت میں رسولوں اور ایمان والوں کی مدد کرنے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اس مدد کی ایک مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی بیان فرمائی اور فرمایا کہ بیشک دی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت ھدے سے مفراد توریت اور نبوت ہے جس طرح اس آیت میں فرمایا انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدے ونور اس کا مطلب یہ ہے کہ بیشک اتارا ہم نے توراۃ کو اس میں ہدایت اور نور ہے اور وارث کیا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب کا بعد اس ذلت اور خواری کے کہ جس میں وہ مبتلا تھے فرعون کے تمام شہروں اور مال و زمین کا ان کو وارث بنایا اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ کی اور اس کی کتاب و رسول (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
آیت 53
موسیٰ ٰ اور فرعون کے مابین جو کچھ واقع ہوا نیز فرعون اور اس کے لشکروں کا جو انجام ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا، پھر وہ حکم عام بیان کیا جو اس کو اور تمام جہنمیوں کو شامل ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ اس نے موسیٰ کو (الھدی) ہدایت سے سرفراز فرمایا، یعنی آیات اور علم سے نواز جن سے راہنمائی حاصل کرنے والے راہنمائی حاصل کرتے ہیں (آیت) ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا “ یعنی ہم نے نسل در نسل ان کو کتاب کا وارث بنایا اور اس سے مراد تورات ہے۔ یہ کتاب ہدایت پر مشتمل ہے اور ہدایت سے مراد احکام شرعیہ کا علم ہے اور اس کے اندر بھلائی کی یاد دہانی، اس کی ترغیب اور برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
قیامت سے پہلے بھی عذاب ہے
قول باری ہے (النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا۔ وہ لوگ صبح وشام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں) یہ آیت عذاب قبر پر دلات کرتی ہے کیونکہ قول باری ہے (ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ اور جس روز قیامت قائم ہوگی (یہ کہا جائے گا) اہل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کردو) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت زیر بحث میں وہ عذاب مراد ہے جو قیامت سے پہلے انہیں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
104 صبر و استقامت کی تعلیم و تلقین : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آپ ہمارے بھیجے ہوئے رسول اور قطعی طور پر حق پر ہیں اور رسولوں اور اہل ایمان کی نصرت و امداد سے متعلق ہمارا وعدہ قطعی ہے جس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے تو آپ ﷺ صبر۔ و استقامت ۔ ہی سے کام لیتے رہیں۔ کہ آپ بہرحال حق پر ہیں ۔ { اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ } ۔ اور انجام بہرحال حق ہی کا ہے ۔ { وَالْعَاقِبَۃُ للتَّقْوٰی } ۔ اللہ کی نصرت و امداد بہرحال آپ ہی کے ساتھ ہے اور ان منکرین کی زیادہ فکر و پروا نہ کریں ۔ { وَدَعْ اَذَاہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ } ۔ اور آپ کے ذمے تو صرف پیغام حق کو پہنچا دینا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
رکوع نمبر 6: آیات 51 تا 60:
اسرار و معارف :
اقوام سابقہ کے حالات بھی شاہد ہیں کہ اللہ اپنے رسولوں کی اور ان پر ایمان لانے والون کی دار دنیا میں بھی مدد فرماتے ہیں اور ہمیشہ آخری کامیابی بھی انہی کی ہوتی ہے اور عزت و آرام بھی انہی کو نصیب ہوتا ہے۔ یہ بات آج کے حالات میں بھی بالکل واضح ہے اور آخرت میں جب اعمال کا حساب ہوگا اور سب پر گواہیاں پیش ہوں گی تو یہ کفار و مشرکین سب اکڑ بھول کر معذرت کرنے لگیں گے لیکن تب یہ سب منظور نہ ہوسکے گا اور ان پر لعنت و پھٹکار ہوگی نیز انہیں بہت برا ٹھکانہ نصیب ہوگا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت کی راہ دکھائی انہیں بھی آسمانی کتاب ملی پھر بہت بڑی کافر طاقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 3 جیسا کہ دوسری آیت میں توراۃ کو ” ہدی و نور “ فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →(40:53) الھدی : اسم ومصدر۔ ہدایت۔ ہدایت کرنا۔ انبیاء (کیونکہ وہ بھی مجمہ ہدایت بنا کر بھیجے جاتے ہیں) یا اللہ کی طرف سے کتابیں و صحیفے وغیرہ۔ جو سب بجائے خود ہدایت بھی ہیں اور ہدایت کرنے والی بھی۔ یہاں مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ توریت۔ معجزات وغیرہ ہیں۔
الکتب۔ اسم جنس ہے یہاں الکتب سے مراد وہ کتابیں جو بنی اسرائیل پر نازل کی گئی تھیں مثلا تورات، انجیل، زبور، و دیگر صحائف وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–78
لغات القرآن آیت نمبر 51 تا 60 : یوم الاشھاد ( گواہی کا دن) معذرۃ ( معذرت ، شرمندگی) سوء الدار ( بد ترین گھر، برا ٹھکانہ) اور ثنا (ہم نے وارث بنا دیا ، ذمہ داری بنا دیا) داخرین ( داخر) ذلیل اور رسوا کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 51 تا 60 :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے پیغمبروں اور ان پر ایمان لانے والوں کی اس دنیا میں اور آخرت کے اس دن میں بھی مدد فرمائے گا جب فرشتے اللہ کے سامنے حاضر ہو کر لوگوں کے اعمال پر گواہی پیش کریں گے ۔ فرمایا کہ اللہ کا یہ سچا وعدہ ہے پورا ہو کر رہے گا ۔
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ جس طرح ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت جیسی پر نور کتاب دی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
منکرین کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب دی، یعنی توریت جو کتاب ہدایت تھی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا اس سبب سے کہ انہوں نے اللہ اور اس کی کتاب اور رسول کی تابعداری پر صبر کیا، اور جس کتاب کے وہ وارث کیے گئے اس میں ان کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل کامل عطا فرمائی ، اب آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب آپ کفار کی زبان درازی اور فریب بازی پر صبر کیجئے خدا کا وعدہ حق ویقین ہے ضرور تمہاری اور تمہارے ساتھ کے مسلمانوں کی مدد ہوگی، اور دشمن ہلاک ہوں گے اور خدا سے اپنی امت کے واسطے استغفار اور بخشش چاہیں گے اور ہمیشہ رات دن صبح وشام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
[17] بنی اسرائیل کو تورات کا وارث بنانے کے یہ معنی ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے انتقال کے بعد وہ کتاب بنی اسرائیل میں رہی اور ان کے علماء لوگوں کو اس کے مطابق ہدایت کرتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
خدا حشر اجساد پر قادر ہے
1: جو لوگ قیامت کے منکر ہیں اور اس حقیقت کو تسلمی نہیں کرتے کہ موت کے بعداللہ تعالیٰ حشر جساد پر قادر ہے ۔ ان کے لئے قرآن کہتا ہے ۔ کہ تم آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرو ۔ جب یہ طے ہے کہ ان دونوں چیزوں کو اس نے محض اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا ہے ۔ اور اس میں کسی نوع کی دشواری محسوس نہیں کی ۔ تو پھر اس مشت غبار انسان کو دوبارہ پیدا کرتا کیونکر دشوار ہوگا ۔ جو خدا محض ارادہ کی حرکت سے ہزار جہاں منصہ وجود پر لاسکتا ہے ۔ جس کو وسائل کی ضرورت ہے اور نہ ذرائع کی حاجت ۔ جو زندگی کے عناصر کو پیدا کرنے والا ہے ۔ جس کا علم وسیع ہے ۔ جو یہ جانتا ہے ۔ کہ کہاں کہاں کے آخذ…
Read the full tafseer →(53) اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ کو ہدایت عنی راہ کی سوجھ عنایت کی اور بنی اسرائیل کو ایک ایسی کتاب کا وارث بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
ف 5۔ یعنی اول تو کوئی معتد بہ معذرت نہ ہوگی، اور اگر کچھ حرکت مذبوحی کی طرف ہوئی تو وہ نافع نہ ہوگی۔
6۔ پس اسی طرح آپ اور آپ کے اتباع بھی منصور ہوں گے، اور مخالفین مخذول و مقہور ہوں گے، تو آپ تسلی رکھیئے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کتاب ہدایت دی اور بنی اسرائیل کو وارث بنایا
53۔ گزشتہ آیت میں رسولوں کی مدد کا ذکر تھا اب اس کی مثال پیش کی جا رہی ہے کہ تم غور کرو کہ فرعون اور اس کے لوگ بنی اسرائیل پر کس طرح مظالم ڈھا رہے تھے اور ہم نے فرعون اور اس کے لوگوں کے مقابلہ میں موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی گری پڑی قوم بنی اسرائیل کی مدد کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرعون اور اس کے لوگ اس دنیا میں عذاب الٰہی میں پھنس کر رہ گئے اور ان کو بنی اسرائیل کے سامنے غرق کردیا گیا اور موسیٰ وہارون (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور اللہ تعالیٰ کی کتاب تورات کے وارث بنادئیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
In verse 56, it was said: إِن فِي صُدُورِهِمْ إِلَّا كِبْرٌ مَّا هُم بِبَالِغِيهِ (there is nothing in their hearts but pride of greatness that they are not [ able ] to reach). It means that people who quarrel in the matter of the verses of Allah without having any valid argument really look forward to rejecting this faith simply because their hearts are filled with pride and arrogance. They would like to stay ahead in the game and are so dim-witted that they have taken for granted that they have this position of strength as a result of their staunch adherence to their faith, and if they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
69 That is, "We did not just leave Moses alone when We sent him against Pharaoh, but We gave him guidance at every step till success." This contains a subtle allusion to the effect: "O Muhammad, We shall help you too in the same manner. We have neither left you alone after raising you as a Prophet in the city of Makkah and the tribe of Quraish so that these wicked people may treat you as they like, but We Ourselves are at your back and are giving you guidance at every step."
Read the full tafseer →