Al-Ghaafir 40:38

Al-Ghaafir · from ayah 38

40:38

وَقَالَ الَّذِیْۤ اٰمَنَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَهْدِكُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِ ۟ۚوَقَالَ الَّذِىۡۤ اٰمَنَ يٰقَوۡمِ اتَّبِعُوۡنِ اَهۡدِكُمۡ سَبِيۡلَ الرَّشَادِ‌ۚ‏

اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کا رستہ دکھاؤ ں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he who believed said, "O my people, follow me, I will guide you to the way of right conduct.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 5 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:38

وہ شخص جو ایمان لایا تھا، بولا "اے میری قوم کے لوگو، میری بات مانو، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کا رستہ دکھاؤ ں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اس مومن شخص نے کہا کہ اے میری قوم! (کے لوگو) تم (سب) میری پیروی کرو میں نیک راه کی طرف تمہاری رہبری کروں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو شخص ایمان لے آیا تھا اس نے کہا اے میری قوم میری بات مانو، میں تمہیں ہدایت کے راستے پر لے جاؤں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ ایمان والا بولا، اے میری قوم! میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاؤں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اس شخص نے کہا جو ایمان لا چکا تھا: اے میری قوم! تم میری پیروی کرو میں تمہیں خیر و ہدایت کی راہ پر لگا دوں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس شخص نے کہا جو ایمان لایا تھا، اے میری قوم ! میرے پیچھے چلو، میں تمہیں بھلائی کا راستہ بتاؤں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو شخص ایمان لایا تھا، وہ کہنے لگا : اے میری قوم ! میری پیروی کرو تو میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاؤں گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور مرد مومن نے کہا، اے میری قوم کے لوگو، تم میری پیروی کرو، میں تمہاری رہنمائی سیدھی راہ کی طرف کر رہا ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس شخص نے جو کہ ایمان لا چکا تھا مزید کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم میری پیروی کرو میں تم کو صحیح راستہ بتاتا ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہی جو ایمان لاچکا تھا بولا اے میرے بھائیو میری پیروی کرو میں تمہیں ٹھیک راستہ بتا رہا ہوں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کہا اس مومن نے کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم میری پیروی کرو میں تمہاری راہنمائی کروں گا نیکی کے راستے پر۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ شخص جو مومن تھا اس نے کہا کہ بھائیو ! میرے پیچھے چلو میں تمہیں بھلائی کا راستہ دکھاؤں گا

— محترمہ رفعت اعجاز

The person endowed with faith said: “My people, follow me; I shall direct you to the Path of Rectitude.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And said he who had believed, :O my people, follow me, I will show you the path of guidance.

— Muhammad Taqi Usmani

And said he who had believed, :O my people, follow me, I will show you the path of guidance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the man who believed said: "O my people! Follow me, I will guide you to the way of right conduct."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he who believed said: O my people! Follow me. I will show you the way of right conduct.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he who believed said, "O my people, follow me, I will guide you to the way of right conduct.

— Saheeh International

The believing man said, "My people, follow me and I shall show you the right guidance.

— Muhammad Sarwar

And he who believed said: O my people! follow me, I will guide you to the right course;

— Muhammad Habib Shakir

And he who believed said: O my people! follow me, I shall guide you to the path of rectitude,

— Abdul Majid Daryabadi

The man who believed said further: "O my people! Follow me: I will lead you to the Path of Right.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–40

قوم فرعون کے مرد مومن کی سہ بارہ نصیحت۔ فرعون کی قوم کا مومن مرد جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے اپنی قوم کے سرکشوں خود پسندوں اور متکبروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری مانو میری راہ چلو میں تمہیں راہ راست پر ڈال دوں گا۔ یہ اپنے اس قول میں فرعون کی طرح کاذب نہ تھا۔ یہ تو اپنی قوم کو دھوکا دے رہا تھا اور یہ ان کی حقیقی خیر خواہی کر رہا تھا، پھر انہیں دنیا سے بےرعبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کیلئے کہتا ہے کہ دنیا ایک ڈھل جانے والا سایہ اور فنا ہوجانے والا فائدہ ہے۔ لازوال اور قرار و ہمیشگی والی جگہ تو اس کے بعد آنے والی آخرت ہے۔ جہاں کی رحمت و زحمت لبدی اور غیر فانی ہے، جہاں برائی کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 38–39

سورة الْمُؤْمِن 56 یعنی اس دنیا کی عارضی دولت و خوشحالی پر پھول کر تم جو اللہ کو بھول رہے ہو، یہ تمہاری نادانی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–43

(آیت) وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا۔ صرح کے معنی بلند تعمیر کے ہیں۔ ظاہر اس کا یہ ہے کہ فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ ایسی بلند تعمیر بناؤ جو آسمان کے قریب تک چلی جائے جس پر جا کر میں خدا کو جھانک کر دیکھ لوں۔ یہ احمقانہ خیال جو کوئی ادنیٰ سمجھ کا آدمی بھی نہیں کرسکتا سلطنت مصر کے مالک فرعون کا یا تو واقعی ہے جو اس کی انتہائی بےوقوفی اور حماقت کی دلیل ہے اور وزیر نے اگر اس کی تعمیل کی تو وزیرے چنین شہریارے چنین کا مصداق ہے۔ مگر کسی بھی والئی ملک سے ایسے احمقانہ تصور کی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے بعض حضرات مفسرین نے کہا کہ یہ تو وہ بھی جانتا تھا کہ کتنی ہی بلند…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرعون کا جواب مرد مومن نے فرعون کی اس مداخلت کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا۔ بلکہ نہایت واضح الفاظ میں قوم کو دعوت دی کہ لوگو، میری پیروی کرو، میں تمہاری رہنمائی میں صحیح راستہ کی طرف کر رہا ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ فرعون کی اس بات کا جواب ہے جو اوپر گزر چکی ہے کہ وما اھدیکم الا سبیل الرشاد۔ اس سے ثابت ہوا کہ انہوں نے قوم کو واضح الفاظ میں متنبہ کردیا کہ فرعون کی پیروی میں قوم کی تباہی ہے۔ اگر فلاں مطلوب ہے تو لوگوں کو ان کی پیروی کرنی چاہئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

38۔ 1 فرعون کی قوم سے ایمان لانے والا پھر بولا اور کہا کہ دعویٰ تو فرعون بھی کرتا ہے کہ میں تمہیں سیدھے راستے پر چلا رہا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرعون بھٹکا ہوا ہے، میں جس راستے کی نشاندہی کر رہا ہوں وہ سیدھا راستہ ہے اور وہ وہی راستہ ہے، جس کی طرف تمہیں حضرت موسیٰ ؑ دعوت دے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–42

10: ظاہر یہ ہے کہ یہ بات فرعون نے طنز کے طور پر کہی تھی، کیونکہ وہ خود خدائی کا دعوے دار تھا، اور اس نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا تھا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا مانا تو تمہیں قید کردوں گا (دیکھئے سورة شعراء : 29) 11: یعنی اس کی نفسانی خواہشات نے اسے سیدھے راستے پر چلنے سے روک رکھا تھا، اور یہ سمجھا دیا تھا کہ جو کام تم کر رہے ہو، وہ بہت اچھا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–44

آیت نمبر 38 تا 44 یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔ یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا : وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

چونکہ فرعون نے کہا تھا وما اھدیکم الا سبیل الرشاد اس کے جواب میں مرد مومن نے کہا کہ سبیل الرشاد (بھلائی اور بہتری کا راستہ وہ نہیں جو فرعون تجویز کرتا ہے بلکہ تم میرے پیچھے چلے آؤ تاکہ بہتری کے راستہ پر چلنا نصیب ہو

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 38 { وَقَالَ الَّذِیْٓ اٰمَنَ یٰـقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَہْدِکُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِ } ”اور کہا اس مومن نے کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم میری پیروی کرو ‘ میں تمہاری راہنمائی کروں گا نیکی کے راستے پر۔“ یہ گویا فرعون کی اس بات کا جواب ہے جو اس نے کہا تھا : { وَمَآ اَہْدِیْکُمْ اِلَّا سَبِیْلَ الرَّشَادِ } ”اور میں تمہاری راہنمائی نہیں کر رہا مگر کامیابی کے راستے کی طرف“۔ جواب میں مرد مومن نے فرعون ہی کے الفاظ دہراتے ہوئے اہل ِدربار کو مخاطب کیا ہے کہ اگر کوئی ”سبیل الرشاد“ کی بات کرتا ہے تو آئو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ”سبیل الرشاد“ کیا ہے۔ تم میری بات مانو ‘ میرے پیچھے آئو ‘ میں تمہاری راہنمائی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–38

50 ہامان کو بلند عمارت بنانے کے لئے کہنا :۔ فرعون نے اس مرد مومن کی باتوں کا کچھ اثر نہ لیا اور نہایت متکبرانہ شان سے اپنے وزیر ہامان سے کہنے لگا : ہامان ! ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ۔ تاکہ میں یہ تو دیکھوں کہ جس الٰہ کی موسیٰ بات کرتا ہے وہ ہے کہاں اور کتنی بلندی پر رہتا ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے سورة قصص کی آیت نمبر 38 کا حاشیہ نمبر 50 دیکھئے) 51 یعنی فرعون جو بھی بنی اسرائیل پر ظلم ڈھا رہا تھا اور سیدنا موسیٰ کی مخالفت میں جو بھی ہتھکنڈے استعمال کر رہا تھا وہ سب اسے اچھے ہی لگتے تھے اور وہ انہیں اپنی حسن تدبیر پر محمول کرتا تھا۔ برے کام کرتے کرتے اس کی کچھ ایسی مت ماری گئی تھی اور ایسی مضحکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 38–39

39۔ مرد مومن کا کہنا یہ ہے کہ حقیقی فوز و فلاح کا راستہ تو وہ ہے جسے میں بتارہا ہوں نہ کہ وہ جس کی رہبری فرعون کررہا ہے۔ (آیت) ” انما ...... القرار “۔ عاجل اور آجل کے راستوں کا فرق جو آج نظر آرہا ہے۔ یہی ہمیشہ رہا ہے ، ع : غافل نے ادھر دیکھا عاقل نے ادھر دیکھا :۔ (آیت) ” متاع “۔ میں تنوین تقلیل کی ہے اظہار تحقیر کیلئے اور (آیت) ” متاع “ کے لفظ میں خودہی اس نفع کے عارضی اور زود فنا ہونے کا مفہوم شامل ہے۔ متعۃ تنتفعون بھا مدۃ ثم تنقطع (معالم) اے یتمتع بھا قلیلا ثم تنقطع وتزول (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–50

آیت نمبر 38 تا 50 ترجمہ : اور اس مومن شخص نے کہا اے میری قوم (کے لوگو) میری پیروی کرو (اتَّبِعونِی) میں اثبات (ی) اور حذف (ی) کے ساتھ میں تمہاری صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کروں گا تقدّمَ ای تقَدَّمَ قرِیْبًا (یعنی اِلاَّ سبیل الرشاد کے ضمن میں عنقریب گذر چکا ہے) اے میری قوم یہ حیات دنیا نہایت قلیل بہت جلد فنا ہونے والی متاع ہے، یقین مانو (کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے جس نے گناہ کیا اس کو تو برابر کا بدلہ ہی ہے اور جس نے نیکی کی خواہ مرد ہو یا عورت اور حال یہ کہ وہ باایمان ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے (یُدْخَلُوْنَ ) میں یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ اور اس کا عکس (بھی) وہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال الذی امن یقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد اور مؤمن نے کہا : اے میری قوم (کے بھائیو ! ) تم میری راہ پر چلو ‘ میں تم کو ٹھیک راستہ بتاتا ہوں۔ سَبِیْلَ الرَّشَاد ایسا راستہ جس پر چلنے والا منزل مقصود پر پہنچ جائے ‘ سبیل الرشاد کہلاتا ہے۔ اس میں فرعون اور اسکے ساتھیوں کے طریقہ پر تعریض ہے کہ وہ طریقہ ‘ رشاد کا طریقہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وقال الذین امن یقوم اثبعون … : مرد مومن نے فرعون کے استہزا سے صرف نظر کرتے ہوئے قوم کو نصیحت جاری رکھی اور کہا کہ اے میری قوم ! ”سبیل الرشا ”‘ (بھلائی کا راستہ) وہ نہیں جو فرعون بتلاتا ہے، بلکہ تم میری بات مانو، میں تمہیں بھلائیک ا راستہ بتاتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–44

(وقال الذی امن یوم۔۔۔ ) وقال الذین امن یقوم اتبعون آل فرعون کے مومن نے جو کہا یہ اس کا تتمہ ہے یعنی دین میں میری اقتدار کرو اھدکم سبیل الرشاد۔ یعنی ہدایت کے راستہ کی طرف، اس سے مراد جنت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے۔ حضرت معاذبن جبل نے اسے الزشاد پڑھا ہے جبکہ اکثر عربوں کے نزدیک یہ غلط ہے کیونکہ باب افعال سے یوں فعل ذکر کیا جاتا ہے ارشد یرشد۔ افعال سے فعال کا وزن نہیں ہوتا یہ ثلانی سے وزن آتا ہے جب تو رباعی سے کثرت کا ارادہ کرتا ہے تو مفعال کہتا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جائز ہے کہ رشاد، یرشد کے معنی میں ہو نہ کہ وہ اس سے مشتق ہو لیکن جس طرح یہ کہا جاتا ہے لا ال…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–38

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جآء کم یوسف من قبل بالبینت “ (اور اس سے پہلے تم لوگوں کے پاس یوسف (علیہ السلام) واضح دلائل لے کر آچکے ہیں اس میں بینات سے مراد ہے یوسف (علیہ السلام) کا خواب۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن “ (وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی آیات میں بغیر دلیل کے) اس میں سلطان سے مراد ہے دلیل یعنی بغیر دلیل کے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مؤمن جسے اچھاخیال کریں تو وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے اور مؤمن جسے برا خیال کریں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی برا ہے اور اعمش اس آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَ الَّذِيْٓ اٰمَنَ [ اور کہا اس نے جو ایمان لایا ] يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] اتَّبِعُوْنِ [ تم لوگ پیروی کرو میری ] اَهْدِكُمْ [ تو میں رہنمائی کروں گا تمہاری ] سَبِيْلَ الرَّشَادِ [ بھلائی کے راستے کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 38–43

مرد مومن کا فناء دنیا اور بقاء آخرت کی طرف متوجہ کرنا، اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا مرد مومن کا سلسلہ کلام جاری ہے درمیان میں فرعون کی اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ اس نے اپنے وزیر ہامان کو ایک اونچی عمارت بنانے کا حکم دیا اور یوں کہا کہ میں اس عمارت پر چڑھ کر موسیٰ کے معبود کا پتہ چلاؤں گا، مرد مومن نے فرعون کی بات سنی اور قوم فرعون کو مزید نصیحت کی اول تو اس نے یہ کہا کہ تم لوگ میرا اتباع کرو میں تمہیں ہدایت کا راستہ بتاؤں گا جیسے میں موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا ایسے ہی تم بھی ایمان لاؤ اور یہ دنیا جس پر تم دل دئیے پڑے ہو اور اسی کو سب کچھ سمجھ رہے اور یہ سمجھتے ہو کہ موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–45

قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–40

46:۔ ” وقال الذی اٰمن “ مرد مومن نے کہا : میرے بھائیو ! میری بات مان لو، میں تمہیں ٹھیک اور سیدھی راہ تبا رہا ہوں۔ ” یا قوم “ میری قوم ! یہ دنیا کی زندگی تو محض چند روزہ نفع کی چیز ہے اور دائمی گھر اور ہمیشہ رہنے کی جگہ تو دار آخرت ہے، اس لیے تم دنیا کے چند روزہ اور فانی منافع کی خاطر آخرت کی دائمی خوشحال زندگی کو قربان نہ کرو۔ آخرت کی دائمی زندگی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تم موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آؤ اور نیک کام کرو۔ ” من عمل سیئۃ “ جو شخص برے کام کرے گا۔ اس کو اس کے گناہوں سے زیادہ سزا نہیں ملے گی، لیکن جس مرد یا عورت نے ایمان لا کر نیک کام کیے۔ اللہ کی توحید کو اور تمام بنیادی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 38–45

ربط آیات : جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اسی کی قوم کے ایک مرد مومن اللہ تعالیٰ کی نبی کی جان بچانے کے لیے آگے آئے اس شخص کا نام قرآن نے تو ذکر نہیں کیا ، تاہم بعض مفسرین نے حزقیل یاسمعان نام بتایا ہے ، اس شخص نے اپنی قوم کو نصیحت کی اور کہا کہ تم ایک شخص کو محض اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ، اس مرد مومن نے قوم کو خدا کے عذاب سے ڈریا اور ان کے کردار پر سخت تنقید کی مگر فرعون نے کہا میری بات مانو اور موسیٰ (علیہ السلام) کا خاتمہ کر دو ورنہ یہ تمہارا دین بھی بگاڑ دے اور زمین میں بھی فساد بھی برپا کرے گا ۔ (نیکی کا راستہ) فرعون کی اس بات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ الَّذِيْٓ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ اَہْدِكُمْ سَبِيْلَ الرَّشَادِ۝ 38ۚ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–44

ترکیب : اسباب السمٰوٰت بدل مما قبلہ فاطلع بالنصب علی جواب الامر و بالرفع عطفا علی ابلغ و تدعوننی الجملۃ و مایتصل بھا بدل اوتبیین لتدعوننی الاولی۔ وافوض الجملۃ حال من الضمیر فی اقول۔ تفسیر : فرعون نے پہلے کہا تھا وما اھدیکم الاسبیل الرشاد اب اس جگہ اس کی عقل و فہم کی کوتاہی بیان کی جاتی ہے کہ اپنے وزیر یا مصاحب ہامان سے کہا کہ میرے لیے کوئی ایسا بلند مکان بنا کہ جس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں اور میں تو اس کو جھوٹا ہی جانتا ہوں۔ حماقت اس میں یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس کہنے سے کہ اللہ رب السماوات ہے، وہ یہ سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں پر رہتا ہے۔ جیسا کہ طبائعِ عامہ فوقیت کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَ الَّذِیْٓ اٰمَنَ یٰـقَوَمِ اتَّبِعُوْنِ اَھْدِکُمْ سَبِیْلَ الرَّشَادِ ۔ (المؤمن : 38) (اور مردمومن نے کہا : اے میری قوم کے لوگو ! تم میری پیروی کرو، میں تمہیں صحیح راستہ بتارہا ہوں۔ ) مردِمومن نے فرعون کی مداخلت کی پرواہ نہیں کی اور اس کی بات کو اَن سنی کرتے ہوئے اپنی بات کو جاری رکھا۔ فرعون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ میں تمہیں سیدھی اور صحیح راہ کی طرف رہنمائی کررہا ہوں۔ اس کے جواب میں مردمومن نے کہا کہ فرعون جس راہ پر تمہیں چلانا چاہتا ہے وہ ہدایت کی راہ نہیں بلکہ گمراہی کا راستہ ہے۔ اگر تم فرعون کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں تباہی کی طرف لے جائے گا۔ لیکن اگر تم صحیح راستے پر چلنا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 38–40

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کے جواب میں مرد حق کا جواب۔ قرآن مجید کسی بات کو داستان گوئی کے انداز میں بیان نہیں کرتا۔ قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ قاری کی توجہ صرف ان نکات پر مرکوز رکھی جائے جو اس کی راہنمائی کے لیے مفید ہوں۔ اس لیے یہ نہیں بتلایا گیا کہ فرعون اور مرد مومن کی گفتگو کسی ایک اجتماع میں ہوئی یا مختلف مجالس میں ہونے والی گفتگو کا خلاصہ ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ مرد مومن کے خطاب کے وقت فرعون کے ہاں اس کی قوم کے نمائندے ضرور موجود تھے۔ جس بنا پر مرد مومن فرعون کی بجائے باربار قوم کو مخاطب کرتے ہیں۔ اور فرعون کی بیہودہ باتوں کے جواب کا جواب دینے کی بجائے قوم کے نمائندوں کو مخاطب کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وَقَالَ الَّذِيْٓ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اتَّبِعُوْنِ (اور اس مومن نے کہا اے بھائیو ! تم میری راہ پر چلو) قراءت : مکی و یعقوب نے دونوں حالتوں میں اتبعونی پڑھا ہے۔ اَهْدِكُمْ سَبِيْلَ الرَّشَادِ (میں تم کو ٹھیک ٹھیک راستہ بتلاتا ہوں) الرشاد کا لفظ یہ الغی کا عکس ہے اس میں تعریفض کی گئی ہے جو کہ تصریح کے مشابہ ہے کہ فرعون اور قوم فرعون گمراہی کے راستہ پر چل رہا ہے۔ اولا مجمل و مختصر بیان کیا پھر وضاحت کی۔ دنیا کی مذمت اور اس کی بےحیثیتیں بیان کرتے ہوئے کہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

37، اسباب السموات، یعنی اس کے راستے اور اس کے دروازے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک۔ ، فاطلع الی موسیٰ ، اکثر حضرات کی قرأت عین کے پیش کے ساتھ ہے۔ ، ابلغ الاسباب، کے مطابق اور حفص (رح) نے عاصم (رح) سے عین کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور یہی حمید اعرج کی قرأت ہے فاء کے ساتھ ، لعل ، کا جواب ہونے کی بناء پر، وانی لاظنہ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو، کاذبا، اس بات میں جو وہ کہتے ہیں کہ ان کا میرے سوارب ہے۔ ، وکذلک زین لفرعون سوء عملہ وصدعن السبیل، اہل کوفہ اور یعقوب نے، وصد، کو صاد کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے، زین لفرعون، کے مطابق۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت کے راستے سے روک دیا اور دیگر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–45

38۔ 45۔ ایماندار قبطی کی نصیحت کا سلسلہ یہاں سے پھر شروع ہوا۔ سورة الاعراف 1 ؎ میں گزر چکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ٹڈیوں کی مینڈکوں کی غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخر ہر آفت کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی التجا کی گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا۔ اسی بات کو ایماندار قبطی نے قوم کے لوگوں کو سمجھایا ہے کہ سبیل الرشاد کہہ کر جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلا رہا ہے اس طریقہ میں ہرگز کچھ بھلائی نہیں ہے کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–46

آیت 23 ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔ اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 36–45

سورة المومن ہامان کی تعمیر کردہ عمارت قول باری ہے (یا ھامان ابن لی صرحا۔ اے ہامان ! میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا) سفیان نے منصور سے اور انہوں نے ابراہیم سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ ہامان نے اینٹ کی عمارت بنوائی جبکہ لوگ اینٹوں کی عمارت کو ناپسند کرتے تھے وہ انہیں مقبروں میں استعمال کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 36–39

81 ہمیشہ کا گھر آخرت ہی کا ہے : سو اس مرد مومن نے مزید کہا اور کلمات تاکید کے ساتھ کہا کہ " بلاشبہ آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے "۔ لہذا اصل اور حقیقی کامیابی وہی ہے جو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں حاصل ہو۔ پس عاقل کا کام یہ ہے کہ وہ اسی ابدی زندگی کی کامیابی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصیب العین بنائے کہ دنیا کی یہ زندگی تو بہرحال فانی و عارضی اور نہایت مختصر ہے۔ اور آخرت کی اس ابدی زندگی میں فوز و فلاح اور کامیابی کا دار و مدار انسان کے سچے پکے ایمان و یقین اور عمل صالح پر ہے جس کی دعوت میں آپ لوگوں کو دے رہا ہوں۔ سو اس مرد مومن نے فرعون کو اس طرح چیلنج کرنے کے بعد دنیاوی لیڈروں کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–55

موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–50

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 50: اسرار معارف : اس بندہ مومن نے بہت کوشش کی اور بتایا کہ لوگوں میری بات مان لو میں تمہیں نیکی اور ہدایت کی طرف دعوت دے رہا ہوں کہ یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے یہاں کی دولت و عیش فانی اس پر فدا ہو کر آخرت کو مت بھولو کہ آخرت ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے اور جو کوئی بھی گناہ کرے گا اس کو اسی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا لیکن جس کسی نے ایمان قبول کرلیا مرد ہو یا خاتون اور پھر ایمان کے مطابق اپنا کردار بھی ڈھال لیا اور اعمال درست کرلیے تو ایسے لوگ جنت میں پہنچیں گے جہاں انہیں بیحد و حساب آرام اور عیش نصیب ہوگا ارے بوقوفو تم مجھے اپنے عقیدے کی طرف بلاتے ہو حیرت ہے میں تمہیں اللہ کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:38) اتبعون : ای اتبعونی : تم میری اتباع کرو۔ اتبعوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم (محذوف) اھدکم۔ جواب امر۔ میں تم کو (راہ راست) دکھاؤں گا۔ سبیل الرشاد۔ مضاف مضاف الیہ۔ رشاد۔ رشد یرشد (باب نصر) سے مصدر ہے۔ بمعنی نیکی، راستی، بھلائی۔ راہ راستگی۔ سبیل راستہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–46

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 46 :۔ دارالقرار ( ہمیشہ رہنے والا ، سکون والا گھر) مالی ( تعجب کے لئے) مجھے کیا ہوا ؟ ) لا جرم ( شک نہیں) ( یقینا ) افوض ( میں سپرد کرتا ہوں) مکروا ( انہوں نے تدبیر کی) حاق ( چھا گیا) یعرضون (پیش کیا جاتا ہے) غدوا ( صبح) عشی ( شام ( رات) اشد ( سخت ، شدید) تشریح : آیت نمبر 38 تا 46 :۔ آل فرعون میں سے جو مرد مومن ایمان لا چکا تھا اس نے فرعون کے دربار میں فرعون اور درباریوں کے دبائو ، دھمکی اور لالچ دیئے جانے کے باوجود اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم میری باتوں کو غور سے سنو اور میں تمہیں جس راستے پر چلنے کی دعوت دے رہا ہوں اس پر چلو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–45

(ف 1) سورة الاعراف میں گزرچکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ، ٹڈیوں کی، مینڈکوں کی، غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا، کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخرہرآفت کے وقت حضرت موسیٰ سے دعا کی التجا کی گئی اور حضرت موسیٰ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا اسی بات کو ایماندار شخص نے ہر ایک آفت کو سمجھایا کہ جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلارہا ہے اس طریقہ میں ہرگز نہیں بھلائی کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور پہنچتی، ہاں جس طریقہ کی حضرت موسیٰ نصیحت کرتے ہیں بھلائی کا طریقہ وہ ہے کہ اسکے طفیل تمہاری سب آفتیں رفع دفع…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 38–46

[15] یہ آیت عذاب برزخ کا صریح ثبوت ہے۔ یہاں واضح الفاظ میں عذاب کے دو مرحلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک کم درجے کا عذاب یعنی صبح و شام فرعونیوں کو دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آگ تمہارا ٹھکانہ ہے۔ اسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہیں گے۔ چناچہ قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا۔ پھر قیامت میں انہیں دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ یہ معاملہ صرف فرعونیوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر مرنے والے کو اس کا آخری مقام صبح و شام دکھایا جاتا ہے، جنتی کو جنت کا اور دوزخی کو دوزخ کا اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس وقت جائے گا جب اللہ تجھے قیامت کے دن زندہ کر کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–40

ف 1: اس مرد مومن نے اپنی قوم کو اچھی طرح حضرت موسیٰ کی تعلیمات سے روشناس کیا ۔ اور پوری ماعظانہ قوت سے کام لے کر ان کو سمجھایا کہ کسی طرح وہ رشدوہدایت کی راہ قبول کرلیں ۔ اور فرعون کی غلامی سے آزاد ہوجائیں ۔ کبھی یہ کہا کہ میں تمہیں ٹھیک ٹھیک راستہ پر گامزن کرنا چاہتا ہوں ۔ کبھی دنیائے دوں کے فنا اور عارضی ہونے کی طرف ان کی توجہ کو مبذول کیا ۔ اور کبھی یہ کہا ۔ کہ دیکھو تم پر تمہارے یہاں کے اعمال کی پوری پوری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اگر برائی کا ارتکاب کروگے ۔ تو سزا ملے گی اور اگر نیک اور صالح ہوگے تو جنت کی نعمتوں سے تمہیں نوازا جائے گا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(38) اور اس مومن مذکور نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم میرے کہنے پر اور میری راہ چلو میں تم کو بھلائی کا راستہ بتاتا ہوں۔ جب اس مرد مومن نے دیکھا کہ فرعون کوئی معقول بات اور معقول دلیل سنتا ہی نہیں تو اس نے پھر قوم سے خطاب کیا یعنی تم اس رستے چلو جو رستہ میں بتاتا ہوں میں تم کو دین اور دنیا کی بھلائی کا راستہ بتاتا ہوں۔ رشد اور رشاد کے معنی ہیں وہ راستہ اختیار کرنا جو دین اور دنیا دونوں کے لئے بھلا ہو رشاد غی اور ضلال کے مقابل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 38–45

ف 1۔ یعنی سبیل الرشاد میرا بتلایا ہوا راستہ ہے نہ فرعون کا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون کی بات پوری ہوتے ہی وہ مرد مومن پھر بول پڑا 38۔ فرعون نے اس مرد مومن کو مخاطب کر کے بات کرنے کی بجائے اپنے حاشیہ نشینوں کو مخاطب کیا تھا تو اس مرد مومن نے بھی اب فرعون کو مخاطب کر کے بات کرنا ترک کردیا اور قوم کے دوسرے لوگوں کو مخاطب کیا اور بجائے اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) یا ان کی دعوت کو موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کہتا یا موسیٰ کا ذکر کرتا اس نے براہ راست لوگوں کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف دعوت دے دی اور ان کو کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! آئو میں تم کو سیدھی راہ کی طرف دعوت دیتا ہوں اس طرح اس اللہ کے بندے نے فرعون کی دعوت کی تکذیب بھی کردی اور فرعون کا نام تک بھی نہیں لیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–44

In verse 44, it was said: فَسَتَذْكُرُ‌ونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ وَأُفَوِّضُ أَمْرِ‌ي إِلَى اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ بَصِيرٌ‌ بِالْعِبَادِ (Soon you will remember what I am saying to you. And I entrust my matter with Allah. Surely, Allah has all (His) servants in sight.). This is what the believer from the House of Pharaoh said at the end of his address to his people inviting them to accept the message of truth. Here, it was said that, should they not listen to him within that point of time, there would come a time when the punishment would seize them, and they would remember what he had told…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–39

56 That is, 'You are being forgetful of Allah on account of your pride in the transient wealth and prosperity of this world: this is your folly."

Read the full tafseer →