Explained with ayahs 38–40
قوم فرعون کے مرد مومن کی سہ بارہ نصیحت۔
فرعون کی قوم کا مومن مرد جس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے اپنی قوم کے سرکشوں خود پسندوں اور متکبروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میری مانو میری راہ چلو میں تمہیں راہ راست پر ڈال دوں گا۔ یہ اپنے اس قول میں فرعون کی طرح کاذب نہ تھا۔ یہ تو اپنی قوم کو دھوکا دے رہا تھا اور یہ ان کی حقیقی خیر خواہی کر رہا تھا، پھر انہیں دنیا سے بےرعبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کیلئے کہتا ہے کہ دنیا ایک ڈھل جانے والا سایہ اور فنا ہوجانے والا فائدہ ہے۔ لازوال اور قرار و ہمیشگی والی جگہ تو اس کے بعد آنے والی آخرت ہے۔ جہاں کی رحمت و زحمت لبدی اور غیر فانی ہے، جہاں برائی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
سورة الْمُؤْمِن 56
یعنی اس دنیا کی عارضی دولت و خوشحالی پر پھول کر تم جو اللہ کو بھول رہے ہو، یہ تمہاری نادانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
(آیت) وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا۔ صرح کے معنی بلند تعمیر کے ہیں۔ ظاہر اس کا یہ ہے کہ فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ ایسی بلند تعمیر بناؤ جو آسمان کے قریب تک چلی جائے جس پر جا کر میں خدا کو جھانک کر دیکھ لوں۔ یہ احمقانہ خیال جو کوئی ادنیٰ سمجھ کا آدمی بھی نہیں کرسکتا سلطنت مصر کے مالک فرعون کا یا تو واقعی ہے جو اس کی انتہائی بےوقوفی اور حماقت کی دلیل ہے اور وزیر نے اگر اس کی تعمیل کی تو وزیرے چنین شہریارے چنین کا مصداق ہے۔ مگر کسی بھی والئی ملک سے ایسے احمقانہ تصور کی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے بعض حضرات مفسرین نے کہا کہ یہ تو وہ بھی جانتا تھا کہ کتنی ہی بلند…
Read the full tafseer →آخر کی یاد دہانی
انہوں نے فرعون کو چیلنج تو کردیا لیکن دنیوی لیڈروں کی طرح اپنی جمعیت و اکثریت کا رعب نہیں جمایا بلکہ انبیائے کرام کے طریقہ پر لوگوں کو آخرت کی یاد دہانی کی کہ اس دنیا کی زندگی اور اس کا تمام عیش و آرام چند روزہ ہے، اصل قیام کا گھر آخرت ہے تو اس چند روزہ عیش کی خاطر ابدی زندگی تباہ نہیں کرنی چاہئے۔
Read the full tafseer →39۔ 1 جس کی زندگی چند روزہ ہے۔ اور وہ بھی آخرت کے مقابلے میں صبح یا شام کی ایک گھڑی کے برابر۔
39۔ 2 جس کو زوال اور فنا نہیں، نہ وہاں انتقال اور کوچ ہوگا۔ کوئی جنت میں جائے یا جہنم میں، دونوں کی زندگیاں ہمیشہ کی ہوں گی۔ ایک راحت اور آرام کی زندگی۔ دوسرے عذاب کی زندگی۔ موت اہل جنت کو آئے گی نہ اہل جہنم کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–42
10: ظاہر یہ ہے کہ یہ بات فرعون نے طنز کے طور پر کہی تھی، کیونکہ وہ خود خدائی کا دعوے دار تھا، اور اس نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا تھا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا مانا تو تمہیں قید کردوں گا (دیکھئے سورة شعراء : 29)
11: یعنی اس کی نفسانی خواہشات نے اسے سیدھے راستے پر چلنے سے روک رکھا تھا، اور یہ سمجھا دیا تھا کہ جو کام تم کر رہے ہو، وہ بہت اچھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
آیت نمبر 38 تا 44
یہ وہ حقائق ہیں جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں دوٹوک الفاظ میں بتادیا گیا تھا۔ یہاں رجل مومن اپنی تقریر میں فرعون کے سامنے ان کو دہرتا ہے۔ یہ فرعون کے سامنے کہتا ہے۔
یٰقوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد (40: 38) ” اے قوم ، میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں “۔ اس سے چند لمحہ پہلے فرعون نے یہ کہا تھا :
وما اھدیکم الا سبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو تمہیں سیدھے راستے کے سوا کوئی راستہ نہیں بتاتا “۔ رجل مومن کی طرف سے گویا فرعون کو اس بادشاہت اور جباری وقہاری کے باوجود صریح چیلنج ہے۔ یہ چیلنج اس وقت دیا جارہا ہے جبکہ اس کے پاس اس کے امراہامان اور قارون بھی بیٹھے…
Read the full tafseer →6 یعنی فانی و زائل زندگی اور چند روزہ عیش و بہار میں پڑ کر آخرت کو نہ بھولو۔ دنیا کی زندگی بہرحال بھلی بری طرح ختم ہونے والی ہے۔ اس کے بعد وہ زندگی شروع ہوگی جس کا کبھی خاتمہ نہیں۔ عاقل کا کام یہ ہے کہ یہاں رہتے ہوئے اس کی درستی کی فکر کرے ورنہ ہمیشہ کی تکلیف میں مبتلا رہنا پڑے گا۔
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
Read the full tafseer →آیت 39 { یٰـقَوْمِ اِنَّمَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا مَتَاعٌز وَّاِنَّ الْاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الْقَرَارِ } ”اے میری قوم کے لوگو ! یہ دنیا کی زندگی تو بس چند روزہ برتنے کا سامان ہے اور مستقل رہنے کی جگہ تو آخرت ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
53 اب وہ مرد مومن کھل کر سامنے آتا ہے۔ فرعون نے کہا تھا کہ میں اپنی بصیرت کے مطابق جو راہ بھلائی کی دیکھتا ہوں وہی تمہیں بتارہا ہوں۔ اس مرد مومن نے فرعون کی اس بات کے جواب میں کہا کہ بھلائی کی راہ وہ نہیں جو تم کہتے ہو کہ موسیٰ کو قتل کردیا جائے بلکہ بھلائی کی راہ چاہتے ہو تو میری بات مانو۔ میں تمہیں بھلائی کی راہ بتاتا ہوں اور وہ راہ یہ ہے کہ یہ دنیا چند روزہ ہے عیش و آرام سے گزر جائے تو بھی کوئی بات نہیں اور تنگی ترشی میں گزرے تو بھی گزر ہی جائے گی فکر تو اخروی زندگی کی کرنی چاہئے جو دائمی اور لازوال ہے۔ یہ دنیا تو صرف دارالامتحان ہے۔ پھر اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانبرداروں کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
39۔ مرد مومن کا کہنا یہ ہے کہ حقیقی فوز و فلاح کا راستہ تو وہ ہے جسے میں بتارہا ہوں نہ کہ وہ جس کی رہبری فرعون کررہا ہے۔ (آیت) ” انما ...... القرار “۔ عاجل اور آجل کے راستوں کا فرق جو آج نظر آرہا ہے۔ یہی ہمیشہ رہا ہے ،
ع : غافل نے ادھر دیکھا عاقل نے ادھر دیکھا :۔ (آیت) ” متاع “۔ میں تنوین تقلیل کی ہے اظہار تحقیر کیلئے اور (آیت) ” متاع “ کے لفظ میں خودہی اس نفع کے عارضی اور زود فنا ہونے کا مفہوم شامل ہے۔ متعۃ تنتفعون بھا مدۃ ثم تنقطع (معالم) اے یتمتع بھا قلیلا ثم تنقطع وتزول (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–50
آیت نمبر 38 تا 50
ترجمہ : اور اس مومن شخص نے کہا اے میری قوم (کے لوگو) میری پیروی کرو (اتَّبِعونِی) میں اثبات (ی) اور حذف (ی) کے
ساتھ میں تمہاری صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کروں گا تقدّمَ ای تقَدَّمَ قرِیْبًا (یعنی اِلاَّ سبیل الرشاد کے ضمن میں عنقریب گذر چکا ہے) اے میری قوم یہ حیات دنیا نہایت قلیل بہت جلد فنا ہونے والی متاع ہے، یقین مانو (کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے جس نے گناہ کیا اس کو تو برابر کا بدلہ ہی ہے اور جس نے نیکی کی خواہ مرد ہو یا عورت اور حال یہ کہ وہ باایمان ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے (یُدْخَلُوْنَ ) میں یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ اور اس کا عکس (بھی) وہاں…
Read the full tafseer →یقوم انما ھذہ الحیوۃ الدنیا متاع زوان الاخرۃ ھی دار القرار اور اے میری قوم (کے بھائیو ! ) یہ
دنیوی زندگی محض چندہ روزہ ہے اور اصل قیام گاہ تو آخرت ہے۔
مَتَاعٌ ایک حقیر متاع کہ تھوڑے دنوں اس سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے ‘ پھر ختم ہوجاتی ہے۔
دَارُ الْقَرَار لازوال مقام ‘ لہٰذا تم کو ایسا ہی کام کرنا چاہئے جس سے آخرت میں فائدہ حاصل ہو۔
Read the full tafseer →یہ دنیاوی زندگی گھر کے سامان کی طرح چند روزہ ہے۔ باقی رہنے والی اور ہمیشہ کے لیے قیام کی جگہ کہ جہاں سے پھر تبدیلی نہ ہوگی وہ جنت ہی ہے۔
Read the full tafseer →یقوم انما ھذہ الحیوۃ الدنیا متاع…: مرد مومن نے اپنی بات کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہیں جو راستہ بتاتا ہوں حقیقت میں صحیح راستہ وہی ہے، کیونکہ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا مطمح نظر اور ساری تگ و دو صرف دنیا کے لئے ہے، انہوں نے آخرت کی زندگی سے بالکل آنکھیں بند کر رکھی ہیں، حالانکہ دنیا کی زندگی معمولی سا فائدہ ہے، (متاع کی تنوین تحقیر کے لئے ہے) جو بہت تھوڑی مدت کے لئے ہے۔ عیش و آرام سے گزرے تو حاصل کچھ نہیں، کیونکہ ناپائیدار ہے اور تنگی ترشی سے گزرے تب بھی گزر ہی جائے گی۔ فکر تو آخرت کی زندگی کی کرنی چاہیے جو دائمی اور لازوال ہے، جہاں ہمیشہ رہنا ہے۔ وہاں دنیا کا یہ حقیر سامان کسی کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
(وقال الذی امن یوم۔۔۔ )
وقال الذین امن یقوم اتبعون آل فرعون کے مومن نے جو کہا یہ اس کا تتمہ ہے یعنی دین میں میری اقتدار کرو اھدکم سبیل الرشاد۔ یعنی ہدایت کے راستہ کی طرف، اس سے مراد جنت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے۔ حضرت معاذبن جبل نے اسے الزشاد پڑھا ہے جبکہ اکثر عربوں کے نزدیک یہ غلط ہے کیونکہ باب افعال سے یوں فعل ذکر کیا جاتا ہے ارشد یرشد۔ افعال سے فعال کا وزن نہیں ہوتا یہ ثلانی سے وزن آتا ہے جب تو رباعی سے کثرت کا ارادہ کرتا ہے تو مفعال کہتا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جائز ہے کہ رشاد، یرشد کے معنی میں ہو نہ کہ وہ اس سے مشتق ہو لیکن جس طرح یہ کہا جاتا ہے لا ال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ دنیا آخرت کے جمعوں میں سے ایک جمعہ ہے سات ہزار سال۔
2:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اس کے سامان میں سے کوئی چیز نیک عورت سے بہتر نہیں ہے وہ عورت کہ جب تو اس کی طرف دیکھے تو تجھ کو خوش کرے اور جو تو اس سے غائب ہو تو اپنی ذات اور تیرے مال کی حفاظت کرے۔
اصل قیامگاہ آخرت ہے :
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وان الاخرۃ ھی دار القرار “ (اور اصل قیام گاہ تو آخرت ہے) اس سے مراد ہے کہ جنت قرار حاصل کرتی ہے اپنے رہنے والوں کے ساتھ اور دوزخ قرار حاصل کرتی ہے اپنے رہنے…
Read the full tafseer →يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ ۡ [ یہ دنیوی زندگی ایک سامان ہے (برتنے کا ) ] وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَ [ اور یقینا آخرت ] هِىَ دَارُ الْقَرَارِ [ ہی ٹھہرنے کا گھر ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
مرد مومن کا فناء دنیا اور بقاء آخرت کی طرف متوجہ کرنا، اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا
مرد مومن کا سلسلہ کلام جاری ہے درمیان میں فرعون کی اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ اس نے اپنے وزیر ہامان کو ایک اونچی عمارت بنانے کا حکم دیا اور یوں کہا کہ میں اس عمارت پر چڑھ کر موسیٰ کے معبود کا پتہ چلاؤں گا، مرد مومن نے فرعون کی بات سنی اور قوم فرعون کو مزید نصیحت کی اول تو اس نے یہ کہا کہ تم لوگ میرا اتباع کرو میں تمہیں ہدایت کا راستہ بتاؤں گا جیسے میں موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا ایسے ہی تم بھی ایمان لاؤ اور یہ دنیا جس پر تم دل دئیے پڑے ہو اور اسی کو سب کچھ سمجھ رہے اور یہ سمجھتے ہو کہ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–45
قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
46:۔ ” وقال الذی اٰمن “ مرد مومن نے کہا : میرے بھائیو ! میری بات مان لو، میں تمہیں ٹھیک اور سیدھی راہ تبا رہا ہوں۔ ” یا قوم “ میری قوم ! یہ دنیا کی زندگی تو محض چند روزہ نفع کی چیز ہے اور دائمی گھر اور ہمیشہ رہنے کی جگہ تو دار آخرت ہے، اس لیے تم دنیا کے چند روزہ اور فانی منافع کی خاطر آخرت کی دائمی خوشحال زندگی کو قربان نہ کرو۔ آخرت کی دائمی زندگی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تم موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آؤ اور نیک کام کرو۔ ” من عمل سیئۃ “ جو شخص برے کام کرے گا۔ اس کو اس کے گناہوں سے زیادہ سزا نہیں ملے گی، لیکن جس مرد یا عورت نے ایمان لا کر نیک کام کیے۔ اللہ کی توحید کو اور تمام بنیادی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
ربط آیات :
جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اسی کی قوم کے ایک مرد مومن اللہ تعالیٰ کی نبی کی جان بچانے کے لیے آگے آئے اس شخص کا نام قرآن نے تو ذکر نہیں کیا ، تاہم بعض مفسرین نے حزقیل یاسمعان نام بتایا ہے ، اس شخص نے اپنی قوم کو نصیحت کی اور کہا کہ تم ایک شخص کو محض اس لیے قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ، اس مرد مومن نے قوم کو خدا کے عذاب سے ڈریا اور ان کے کردار پر سخت تنقید کی مگر فرعون نے کہا میری بات مانو اور موسیٰ (علیہ السلام) کا خاتمہ کر دو ورنہ یہ تمہارا دین بھی بگاڑ دے اور زمین میں بھی فساد بھی برپا کرے گا ۔
(نیکی کا راستہ)
فرعون کی اس بات…
Read the full tafseer →يٰقَوْمِ اِنَّمَا ہٰذِہِ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ 0ۡوَّاِنَّ الْاٰخِرَۃَ ہِىَ دَارُ الْقَرَارِ 39
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
ترکیب : اسباب السمٰوٰت بدل مما قبلہ فاطلع بالنصب علی جواب الامر و بالرفع عطفا علی ابلغ و تدعوننی الجملۃ و مایتصل بھا بدل اوتبیین لتدعوننی الاولی۔ وافوض الجملۃ حال من الضمیر فی اقول۔
تفسیر : فرعون نے پہلے کہا تھا وما اھدیکم الاسبیل الرشاد اب اس جگہ اس کی عقل و فہم کی کوتاہی بیان کی جاتی ہے کہ اپنے وزیر یا مصاحب ہامان سے کہا کہ میرے لیے کوئی ایسا بلند مکان بنا کہ جس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں اور میں تو اس کو جھوٹا ہی جانتا ہوں۔ حماقت اس میں یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس کہنے سے کہ اللہ رب السماوات ہے، وہ یہ سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں پر رہتا ہے۔ جیسا کہ طبائعِ عامہ فوقیت کے…
Read the full tafseer →یٰـقَوْمِ اِنَّمَا ھٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ ز وَّاِنَّ الْاٰخِرَۃَ ھِیَ دَارُالْقَرَارِ ۔ (المؤمن : 39)
(اے میری قوم ! یہ دنیا کی زندگی تو چند روزہ متاع ہے اور ہمیشہ کے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے۔ )
دنیادار کا اصل مرض
اس آیت میں جو بات ارشاد فرمائی گئی ہے یوں تو اس کا مخاطب ہر شخص ہے کیونکہ دنیا کا کوئی شخص ہی ایسا ہوگا جو دنیا کی چند روزہ زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح نہیں دیتا۔ لیکن جن لوگوں میں یہ بیماری سب سے زیادہ پائی جاتی ہے اور وہ توجہ دلانے پر بھی اپنے رویئے میں کبھی تبدیلی پیدا نہیں کرتے، وہ بادشاہ کے اہل دربار، حاشیہ بردار اور اس کے عمائدینِ سلطنت ہیں وہ علم و دانش کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کے جواب میں مرد حق کا جواب۔
قرآن مجید کسی بات کو داستان گوئی کے انداز میں بیان نہیں کرتا۔ قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ قاری کی توجہ صرف ان نکات پر مرکوز رکھی جائے جو اس کی راہنمائی کے لیے مفید ہوں۔ اس لیے یہ نہیں بتلایا گیا کہ فرعون اور مرد مومن کی گفتگو کسی ایک اجتماع میں ہوئی یا مختلف مجالس میں ہونے والی گفتگو کا خلاصہ ہے۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ مرد مومن کے خطاب کے وقت فرعون کے ہاں اس کی قوم کے نمائندے ضرور موجود تھے۔ جس بنا پر مرد مومن فرعون کی بجائے باربار قوم کو مخاطب کرتے ہیں۔ اور فرعون کی بیہودہ باتوں کے جواب کا جواب دینے کی بجائے قوم کے نمائندوں کو مخاطب کرتے…
Read the full tafseer →يٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ (اے میرے بھائیو ! یہ دنیا کی زندگی محض سامان ہے) حقیر سامان ہے اس کو ہمیشگی کی چیز سمجھ لینا یہ شر کی جڑ اور فتنوں کا منبع ہے اور آخرت کی عظمت بیان کی اور واضح کیا کہ اصلی وطن اور جائے قرار وہی ہے۔ ۡ وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَ هِىَ دَارُ الْقَرَارِ (ٹھہرنے کا مقام تو آخرت ہے)
پھر اعمال حسنہ اور سیئہ کا ذکر کرکے ہر ایک کا انجام بیان کردیا تاکہ نقصان دہ سے بچا جائے اور فائدہ مند کو مضبوطی سے تھاما جائے۔
Read the full tafseer →38، وقال الذی امن یا قوم اتبعون اھدکم سبیل الرشاد، ہدایت کا راستہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
38۔ 45۔ ایماندار قبطی کی نصیحت کا سلسلہ یہاں سے پھر شروع ہوا۔ سورة الاعراف 1 ؎ میں گزر چکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ٹڈیوں کی مینڈکوں کی غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخر ہر آفت کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی التجا کی گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا۔ اسی بات کو ایماندار قبطی نے قوم کے لوگوں کو سمجھایا ہے کہ سبیل الرشاد کہہ کر جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلا رہا ہے اس طریقہ میں ہرگز کچھ بھلائی نہیں ہے کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–46
آیت 23
ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–45
سورة المومن
ہامان کی تعمیر کردہ عمارت
قول باری ہے (یا ھامان ابن لی صرحا۔ اے ہامان ! میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا) سفیان نے منصور سے اور انہوں نے ابراہیم سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ ہامان نے اینٹ کی عمارت بنوائی جبکہ لوگ اینٹوں کی عمارت کو ناپسند کرتے تھے وہ انہیں مقبروں میں استعمال کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
81 ہمیشہ کا گھر آخرت ہی کا ہے : سو اس مرد مومن نے مزید کہا اور کلمات تاکید کے ساتھ کہا کہ " بلاشبہ آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے "۔ لہذا اصل اور حقیقی کامیابی وہی ہے جو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں حاصل ہو۔ پس عاقل کا کام یہ ہے کہ وہ اسی ابدی زندگی کی کامیابی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصیب العین بنائے کہ دنیا کی یہ زندگی تو بہرحال فانی و عارضی اور نہایت مختصر ہے۔ اور آخرت کی اس ابدی زندگی میں فوز و فلاح اور کامیابی کا دار و مدار انسان کے سچے پکے ایمان و یقین اور عمل صالح پر ہے جس کی دعوت میں آپ لوگوں کو دے رہا ہوں۔ سو اس مرد مومن نے فرعون کو اس طرح چیلنج کرنے کے بعد دنیاوی لیڈروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–50
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 38 ۔ تا۔ 50:
اسرار معارف :
اس بندہ مومن نے بہت کوشش کی اور بتایا کہ لوگوں میری بات مان لو میں تمہیں نیکی اور ہدایت کی طرف دعوت دے رہا ہوں کہ یہ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے یہاں کی دولت و عیش فانی اس پر فدا ہو کر آخرت کو مت بھولو کہ آخرت ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے اور جو کوئی بھی گناہ کرے گا اس کو اسی کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا لیکن جس کسی نے ایمان قبول کرلیا مرد ہو یا خاتون اور پھر ایمان کے مطابق اپنا کردار بھی ڈھال لیا اور اعمال درست کرلیے تو ایسے لوگ جنت میں پہنچیں گے جہاں انہیں بیحد و حساب آرام اور عیش نصیب ہوگا ارے بوقوفو تم مجھے اپنے عقیدے کی طرف بلاتے ہو حیرت ہے میں تمہیں اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ف 5 یعنی اسے اسی کے بقدر سزا ملے گی۔
Read the full tafseer →(40:39) متاع اسم مفرد امتعۃ جمع۔ معین و ممتد وقت تک فائدہ اٹھانا ۔ (یعنی دنیا کی زندگی ایک محدود وقت تک لطف اندوزی ہے) ۔
دار القرار ہمیشہ ٹھہرنے کی جگہ (آخرت کی زندگی کو متاع کی ضد کے طور پر لایا گیا جہاں تک ان کی طوالت کو سوال ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 46 :۔ دارالقرار ( ہمیشہ رہنے والا ، سکون والا گھر) مالی ( تعجب کے لئے) مجھے کیا ہوا ؟ ) لا جرم ( شک نہیں) ( یقینا ) افوض ( میں سپرد کرتا ہوں) مکروا ( انہوں نے تدبیر کی) حاق ( چھا گیا) یعرضون (پیش کیا جاتا ہے) غدوا ( صبح) عشی ( شام ( رات) اشد ( سخت ، شدید)
تشریح : آیت نمبر 38 تا 46 :۔ آل فرعون میں سے جو مرد مومن ایمان لا چکا تھا اس نے فرعون کے دربار میں فرعون اور درباریوں کے دبائو ، دھمکی اور لالچ دیئے جانے کے باوجود اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم میری باتوں کو غور سے سنو اور میں تمہیں جس راستے پر چلنے کی دعوت دے رہا ہوں اس پر چلو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
(ف 1) سورة الاعراف میں گزرچکا ہے کہ قوم فرعون پر طوفان کی ، ٹڈیوں کی، مینڈکوں کی، غرض طرح طرح کی آفتیں آئیں اور فرعون اس طرح کا جھوٹا خدا تھا، کہ اس سے کوئی آفت نہیں ٹالی گئی آخرہرآفت کے وقت حضرت موسیٰ سے دعا کی التجا کی گئی اور حضرت موسیٰ کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک آفت کو ٹالا اسی بات کو ایماندار شخص نے ہر ایک آفت کو سمجھایا کہ جس طریقہ کو فرعون بھلائی کا طریقہ بتلارہا ہے اس طریقہ میں ہرگز نہیں بھلائی کیونکہ اس طریقہ میں اگر کچھ بھلائی ہوتی تو ان آفتوں کے وقت کچھ بھلائی ضرور پہنچتی، ہاں جس طریقہ کی حضرت موسیٰ نصیحت کرتے ہیں بھلائی کا طریقہ وہ ہے کہ اسکے طفیل تمہاری سب آفتیں رفع دفع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–46
[15] یہ آیت عذاب برزخ کا صریح ثبوت ہے۔ یہاں واضح الفاظ میں عذاب کے دو مرحلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک کم درجے کا عذاب یعنی صبح و شام فرعونیوں کو دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ آگ تمہارا ٹھکانہ ہے۔ اسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہیں گے۔ چناچہ قیامت تک ان کے ساتھ یہی معمول رہے گا۔ پھر قیامت میں انہیں دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ یہ معاملہ صرف فرعونیوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر مرنے والے کو اس کا آخری مقام صبح و شام دکھایا جاتا ہے، جنتی کو جنت کا اور دوزخی کو دوزخ کا اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں تو اس وقت جائے گا جب اللہ
تجھے قیامت کے دن زندہ کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
ف 1: اس مرد مومن نے اپنی قوم کو اچھی طرح حضرت موسیٰ کی تعلیمات سے روشناس کیا ۔ اور پوری ماعظانہ قوت سے کام لے کر ان کو سمجھایا کہ کسی طرح وہ رشدوہدایت کی راہ قبول کرلیں ۔ اور فرعون کی غلامی سے آزاد ہوجائیں ۔ کبھی یہ کہا کہ میں تمہیں ٹھیک ٹھیک راستہ پر گامزن کرنا چاہتا ہوں ۔ کبھی دنیائے دوں کے فنا اور عارضی ہونے کی طرف ان کی توجہ کو مبذول کیا ۔ اور کبھی یہ کہا ۔ کہ دیکھو تم پر تمہارے یہاں کے اعمال کی پوری پوری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اگر برائی کا ارتکاب کروگے ۔ تو سزا ملے گی اور اگر نیک اور صالح ہوگے تو جنت کی نعمتوں سے تمہیں نوازا جائے گا ۔
Read the full tafseer →(39) اے میری قوم یہ دنیوی زندگی محض چند روزہ نفع اور فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور اصلی قرار گاہ تو آخرت ہی ہے۔ یعنی دنیا چند روزہ برتنے کی چیز ہے اور آخرت تو وہی اصلی قرار گاہ اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–45
ف 1۔ یعنی سبیل الرشاد میرا بتلایا ہوا راستہ ہے نہ فرعون کا۔
Read the full tafseer →اے میری قوم کے لوگو ! یہ دنیا چار روزہ ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے کی جگہ
39۔ اس مرد مومن نے فرعون کی ایک ایک بات کا باقاعدہ دلیل سے رد کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر تک نہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ساری تعلیم کا خلاصہ بھی بیان کردیا۔ قابل غور امر ہے کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کا نام تک آخر کیوں نہ لیا ؟ اس لیے کہ وہ قوم کے لوگوں اور فرعون کو چڑ نہیں دلانا چاہتا تھا بلکہ پیغام پہنچانا چاہتا تھا اور جن حالات میں وہ یہ بیان دے رہا تھا ان حالات میں جو نقصان چڑ سے کسیف کو ہو سکتا ہے اس سے بھی اپنی قوم کو بچانا چاہتا تھا اور یہ علامت ہے اس بات کی کہ وہ صحیح معنوں میں قوم کا خیرخواہ تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–44
In verse 44, it was said: فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ وَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ (Soon you will remember what I am saying to you. And I entrust my matter with Allah. Surely, Allah has all (His) servants in sight.). This is what the believer from the House of Pharaoh said at the end of his address to his people inviting them to accept the message of truth. Here, it was said that, should they not listen to him within that point of time, there would come a time when the punishment would seize them, and they would remember what he had told…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
56 That is, 'You are being forgetful of Allah on account of your pride in the transient wealth and prosperity of this world: this is your folly."
Read the full tafseer →