Al-Ghaafir 40:37

Al-Ghaafir · from ayah 37

40:37

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰۤی اِلٰهِ مُوْسٰی وَاِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ؕ— وَكَذٰلِكَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ وَصُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ ؕ— وَمَا كَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ ۟۠اَسۡبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰٓى اِلٰهِ مُوۡسٰى وَاِنِّىۡ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا ؕ وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرۡعَوۡنَ سُوۡٓءُ عَمَلِهٖ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيۡلِ ؕ وَمَا كَيۡدُ فِرۡعَوۡنَ اِلَّا فِىۡ تَبَابٍ

(یعنی) آسمانوں کے رستوں پر، پھر موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اور اسی طرح فرعون کو اس کے اعمال بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ رستے سے روک دیا گیا تھا۔ اور فرعون کی تدبیر تو بےکار تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

The ways into the heavens - so that I may look at the deity of Moses; but indeed, I think he is a liar." And thus was made attractive to Pharaoh the evil of his deed, and he was averted from the [right] way. And the plan of Pharaoh was not except in ruin.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 4 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:37

آسمانوں کے راستوں تک، اور موسیٰؑ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں مجھے تو یہ موسیٰؑ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے" اس طرح فرعون کے لیے اس کی بد عملی خوشنما بنا دی گئی اور وہ راہ راست سے روک دیا گیا فرعون کی ساری چال بازی (اُس کی اپنی) تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) آسمانوں کے رستوں پر، پھر موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اور اسی طرح فرعون کو اس کے اعمال بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ رستے سے روک دیا گیا تھا۔ اور فرعون کی تدبیر تو بےکار تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

(ان) دروازوں تک پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں اور بیشک میں سمجھتا ہوں وه جھوٹا ہے اور اسی طرح فرعون کی بدکرداریاں اسے بھلی دکھائی گئیں اور راه سے روک دیا گیا اور فرعون کی (ہر) حیلہ سازی تباہی میں ہی رہی

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو آسمانوں کے راستے ہیں پھر میں موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور یقین رکھو کہ میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔ اسی طرح فرعون کی بد کرداری اس کی نظر میں خوشنما بنادی گئی تھی اور اسے راستے سے روک دیا گیا تھا۔ اور فرعون کی کوئی چال ایسی نہیں تھی جو بربادی میں گئی ہو

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کا ہے کے راستے آسمان کے تو موسیٰ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں اور بیشک میرے گمان میں تو وہ جھوٹا ہے اور یونہی فرعون کی نگاہ میں اس کا برا کام بھلا کر دکھا گیا اور وہ راستے میں روکا گیا، اور فرعون کا داؤ ہلاک ہونے ہی کو تھا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یعنی) آسمانوں کے راستوں پر، پھر میں موسٰی کے خدا کو جھانک کر دیکھ سکوں اور میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں، اور اس طرح فرعون کے لئے اس کی بد عملی خوش نما کر دی گئی اور وہ (اللہ کی) راہ سے روک دیا گیا، اور فرعون کی پُرفریب تدبیر محض ہلاکت ہی میں تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

آسمانوں کے راستوں پر، پس موسیٰ کے معبود کی طرف جھانکوں اور بیشک میں اسے یقینا جھوٹا گمان کرتا ہوں۔ اور اس طرح فرعون کے لیے اس کا برا عمل خوشنما بنادیا گیا اور وہ سیدھی راہ سے روک دیا گیا اور فرعون کی تدبیر تباہی ہی میں تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو آسمانوں کے راستے ہیں، پھر موسیٰ کے الٰہ کی طرف جھانک سکوں اور میں تو اسے جھوٹا ہی خیال کرتا ہوں۔ اس طرح فرعون کی بدعملی اس کے لئے خوشنما بنادی گئی اور وہ راہ راست سے روک دیا گیا۔ اور فرعون کی چال بازی میں اس کی اپنی ہی تباہی (مضمر) تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں، میں تو اس کو ایک بالکل جھوٹا خیال کرتا ہوں۔ اور اس طرح فرعون کی نگاہوں میں اس کی بدعملی کھبا دی گئی اور وہ سیدھی راہ سے روک دیا گیا۔ اور فرعون کی چال برباد ہو کے رہی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی آسمانوں کے راستوں تک تاکہ وہاں سے میں جھانک کر دیکھ سکوں موسیٰ کے خدا کو میں تو اسے قطعی طور پر جھوٹا ہی سمجھتا ہوں اور اس طرح خوشنما بنادیا گیا فرعون کے لئے اس کے برے عملوں کو اور روک دیا گیا اس کو راہ (حق و صواب) سے اور فرعون کی ساری چالبازی کچھ نہ تھی سوائے اس کی (اپنی ہلاکت و) تباہی کے

— مولانا اسحاق مدنی

اور موسیٰ ؑ کے خدا کو دیکھو بھالوں اور میں تو موسیٰ ؑ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔ اور اسی طرح فرعون کو اس کی بدکرداری خوش نما کردی گئی اور وہ راہ (راست) سے رک گیا اور فرعون کی ہر تدبیر غارت ہی گئی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یعنی آسمان کے راستوں تک پھر میں جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے الٰہ کو اور میرا گمان تو یہ ہے کہ وہ جھوٹا ہے اور اسے روک دیا گیا سیدھی راہ سے۔ اور فرعون کی یہ چال نہیں تھی مگر تباہ ہونے کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی آسمان کے راستوں پر پھر موسیٰ کے رب کو دیکھ لوں ‘ اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کو اس کے اعمال بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ رستے سے روک دیا گیا تھا اور فرعون کی تدبیر تو بےکار تھی

— محترمہ رفعت اعجاز

the highways to the heavens -- and have a look at the God of Moses, although I am certain that Moses is a liar.” Thus Pharaoh's evil deed was made to seem fair to him, and he was barred from the Right Path. Pharaoh's guile only led him to his own perdition.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the ways to the heavens, and peek towards the God of Musa. And indeed I deem him a liar. That is how his evil deeds were made attractive to Fir'awn, and (how) he was held back from the way. The evil design of Fir'awn was (to end) in nothing but ruin.

— Muhammad Taqi Usmani

the ways to the heavens, and peek towards the God of Musa. And indeed I deem him a liar. That is how his evil deeds were made attractive to Firawn, and (how) he was held back from the way. The evil design of Firawn was (to end) in nothing but ruin.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The ways of the heavens, and I may look upon the God of Musa, but verily, I think him to be a liar." Thus it was made fair seeming, in Fir`awn's eyes, the evil of his deeds, and he was hindered from the path; and the plot of Fir`awn led to nothing but loss and destruction.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The roads of the heavens, and may look upon the god of Moses, though verily I think him a liar. Thus was the evil that he did made fairseeming unto Pharaoh, and he was debarred from the (right) way. The plot of Pharaoh ended but in ruin.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The ways into the heavens - so that I may look at the deity of Moses; but indeed, I think he is a liar." And thus was made attractive to Pharaoh the evil of his deed, and he was averted from the [right] way. And the plan of Pharaoh was not except in ruin.

— Saheeh International

to the heavens and be able to climb up to the Lord of Moses. I think that Moses is lying." Thus, Pharaoh's evil deeds seemed attractive to him and prevented him from the right path. The Pharaoh's plots only led him to his own destructor.

— Muhammad Sarwar

The means of access to the heavens, then reach the god of Musa, and I surely think him to be a liar. And thus the evil of his deed was made fairseeming to Firon, and he was turned away from the way; and the struggle of Firon was not (to end) in aught but destruction.

— Muhammad Habib Shakir

The way of access to the heavens so that may be apprised of the God of Musa, and verily I believe him to be a liar. And thus fair- seeming was made Unto FIr'awn the evil of his work, and he was hindered from the path. And the plot of Fir'awn ended only in ruin.

— Abdul Majid Daryabadi

"The ways and means of (reaching) the heavens, and that I may mount up to the god of Moses: But as far as I am concerned, I think (Moses) is a liar!" Thus was made alluring, in Pharaoh's eyes, the evil of his deeds, and he was hindered from the Path; and the plot of Pharaoh led to nothing but perdition (for him).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–37

فرعون کی سرکشی اور تکبر۔ فرعون کی سرکشی اور تکبر بیان ہو رہا ہے کہ اس نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لئے ایک بلند وبالا محل تعمیر کرا۔ اینٹوں اور چونے کی پختہ اور بہت اونچی عمارت بنا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ اس نے کہا اے ہامان اینٹیں پکا کر میرے لئے ایک اونچی عمارت بنا۔ حضرت ؒ کا قول ہے کہ قبر کو پختہ بنانا اور اسے چونے گج کرنا سلف صالحین مکروہ جانتے تھے۔ (ابن ابی حاتم) فرعون کہتا ہے کہ یہ محل میں اس لئے بنوا رہا ہوں کہ آسمان کے دروازوں اور آسمان کے راستوں تک میں پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے اللہ کو دیکھ لوں گو میں جانتا ہوں کہ موسیٰ ہے جھوٹا۔ وہ جو کہہ رہا ہے کہ اللہ نے اسے بھیجا ہے یہ بالکل غلط ہے،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 36–37

سورة الْمُؤْمِن 55 مومن آل فرعون کی تقریر کے دوران میں فرعون اپنے وزیر ہامان کو مخاطب کر کے یہ بات کچھ اس انداز میں کہتا ہے کہ گویا وہ اس مومن کے کلام کو کسی التفات کے قابل نہیں سمجھتا، اس لیے متکبرانہ شان کے ساتھ اس کی طرف سے منہ پھیر کر ہامان سے کہتا ہے کہ ذرا میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا، دیکھوں تو سہی کہ یہ موسیٰ جس خدا کی باتیں کر رہا ہے وہ کہاں رہتا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، القصص، حواشی 52 تا 54)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–43

(آیت) وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا۔ صرح کے معنی بلند تعمیر کے ہیں۔ ظاہر اس کا یہ ہے کہ فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ ایسی بلند تعمیر بناؤ جو آسمان کے قریب تک چلی جائے جس پر جا کر میں خدا کو جھانک کر دیکھ لوں۔ یہ احمقانہ خیال جو کوئی ادنیٰ سمجھ کا آدمی بھی نہیں کرسکتا سلطنت مصر کے مالک فرعون کا یا تو واقعی ہے جو اس کی انتہائی بےوقوفی اور حماقت کی دلیل ہے اور وزیر نے اگر اس کی تعمیل کی تو وزیرے چنین شہریارے چنین کا مصداق ہے۔ مگر کسی بھی والئی ملک سے ایسے احمقانہ تصور کی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے بعض حضرات مفسرین نے کہا کہ یہ تو وہ بھی جانتا تھا کہ کتنی ہی بلند…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 36–37

فرعون کا ایک اشغلہ اوپر آپ نے دیکھا کہ مرد مومن کی تقریر بالتدریج اپنے نقطہ ٔ عروج پر پہنچ گئی جس سے قدرتی طور پر اہل دربار متاثر ہوتے نظر آئے ہوں گے۔ اس وجہ سے فرعون نے پہلے کی طرح پھر مداخلت کی اور درباریوں کو بیوقوف بنانے کے لئے ایک اشغلہ چھوڑا۔ ہامان کو مخاطب کر کے اس نے حکم دیا کہ ہامان ! ایک بلند عمارت بنوائو، میں آسمانوں کے اطراف میں پہنچ کر ذرا موسیٰ کے اس رب کو جھانک کے دیکھنا چاہتا ہوں جس نے اس کے زعم کے مطابق اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ مجھے تو یہ شخص بالکل جھوٹا مدعی معلوم ہوتا ہے۔ ’ وکذلک ذین یفرعون ‘۔ یعنی اتنی واضح تقریر کے بعد بھی فرعون کو قبول حق کی توفیق نہیں ہوئی۔ فکر ہوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 یعنی دیکھوں کہ آسمانوں پر کیا واقعی کوئی اللہ ہے ؟ 37۔ 2 اس بات میں کہ آسمان پر اللہ ہے جو آسمان و زمین کا خالق اور ان کا مدبر ہے۔ یا اس بات میں کہ وہ اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہے۔ 37۔ 3 یعنی شیطان نے اس طرح اسے گمراہ کئے رکھا اور اس کے برے عمل اسے اچھے نظر آتے رہے۔ 37۔ 4 یعنی حق اور درست راستے سے اسے روک دیا گیا اور وہ گمراہیوں کی بھول بھلیوں میں بھٹکتا رہا۔ 37۔ 5 تباب خسارہ، ہلاکت۔ یعنی فرعون نے جو تدبیر اختیار کی، اس کا نتیجہ اس کے حق میں برا ہی نکلا۔ اور بالآخر اپنے لشکر سمیت پانی میں ڈبو دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 37–42

10: ظاہر یہ ہے کہ یہ بات فرعون نے طنز کے طور پر کہی تھی، کیونکہ وہ خود خدائی کا دعوے دار تھا، اور اس نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا تھا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو خدا مانا تو تمہیں قید کردوں گا (دیکھئے سورة شعراء : 29) 11: یعنی اس کی نفسانی خواہشات نے اسے سیدھے راستے پر چلنے سے روک رکھا تھا، اور یہ سمجھا دیا تھا کہ جو کام تم کر رہے ہو، وہ بہت اچھا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–37

آیت نمبر 36 تا 37 فرعون نے ہامان سے کہا میرے لیے ایک بلند عمارت بناتک کہ میں آسمان کے راستوں تک پہنچ سکوں اور موسیٰ کے حدا کے بارے میں جان سکوں۔ وانی لاظنه جاذبا (40: 37) ” مجھے تو یہ موسیٰ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے “۔ یہ سرکش فرعون کی چالاکی اور اٹکل بازی ہے ، وہ سچائی کے مقابلے میں علانیہ آنا نہیں چاہتا اور عقیدۂ توحید کا اعتراف بھی نہیں کرتا کیونکہ اس صورت میں اس کی حکومت جاتی ہے ، جن افسانوں پر اس کی مملک قائم تھی وہ عقیدۂ توحید کے بعد باطل قرار پاتے تھے۔ یہ بات بعید ازامکان ہے کہ فرعون اس قدر کم عقل تھا اور وہ اس علمی سطح کا آدمی تھا۔ اور وہ الہہ موسیٰ کو اس سادہ انداز سے دھوکہ دے رہا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 36–37

1 یہ اس ملعون کی انتہائی بےشرمی اور بےباکی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شاید اللہ تعالیٰ کی صفت علو وغیرہ کو سن کر یہ قرار دیا ہوگا کہ موسیٰ کا خدا آسمان پر رہتا ہے۔ اسی پر یہ استہزاء و تمسخر شروع کردیا۔ سچ ہے چیونٹی کی موت آتی ہے تو پر لگ جاتے ہیں۔ سورة " قصص " میں اس مقام کی تقریر گزر چکی۔ 2 یعنی دعوائے رسالت میں بھی اور اس دعوے میں بھی کہ سارے جہان کا کوئی اور معبود ہے۔ مجھے تو اپنے سوا دوسرا نظر نہیں آتا۔ کماقال (مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ ) 28 ۔ القصص :38) 3 برے کام کرتے کرتے آدمی کی یوں ہی عقل ماری جاتی ہے اور ایسی ہی مضحکہ خیز حرکتیں کرنے لگتا ہے جس کے بعد راہ پر آنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 37 { اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰٓی اِلٰہِ مُوْسٰی } ”یعنی آسمان کے راستوں تک ‘ پھر میں جھانک کر دیکھوں موسیٰ کے الٰہ کو“ یہ موسیٰ جس الٰہ کا ذکر کرتا ہے میں اس تک پہنچ کر خود اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔ { وَاِنِّیْ لَاَظُنُّہٗ کَاذِبًا } ”اور میرا گمان تو یہ ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔“ { وَکَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ } ”اور اس طرح فرعون کے لیے اس کا ُ برا عمل بھی ّمزین کردیا گیا“ یعنی فرعون کی نگاہوں میں اس کی بدعملی خوشنما بنا دی گئی۔ { وَصُدَّ عَنِ السَّبِیْلِ وَمَا کَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِیْ تَبَابٍ } ”اور اسے روک دیا گیا سیدھی راہ سے۔ اور فرعون کی یہ چال نہیں تھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–38

50 ہامان کو بلند عمارت بنانے کے لئے کہنا :۔ فرعون نے اس مرد مومن کی باتوں کا کچھ اثر نہ لیا اور نہایت متکبرانہ شان سے اپنے وزیر ہامان سے کہنے لگا : ہامان ! ایک بلند عمارت تعمیر کراؤ۔ تاکہ میں یہ تو دیکھوں کہ جس الٰہ کی موسیٰ بات کرتا ہے وہ ہے کہاں اور کتنی بلندی پر رہتا ہے۔ (مزید تفصیل کے لئے سورة قصص کی آیت نمبر 38 کا حاشیہ نمبر 50 دیکھئے) 51 یعنی فرعون جو بھی بنی اسرائیل پر ظلم ڈھا رہا تھا اور سیدنا موسیٰ کی مخالفت میں جو بھی ہتھکنڈے استعمال کر رہا تھا وہ سب اسے اچھے ہی لگتے تھے اور وہ انہیں اپنی حسن تدبیر پر محمول کرتا تھا۔ برے کام کرتے کرتے اس کی کچھ ایسی مت ماری گئی تھی اور ایسی مضحکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 36–37

37۔ فرعون اس مرد مومن کی تقریروں کا تو کچھ جواب دے نہ سکا جواب ہو کر فرمائش ہامان سے یہ کردی۔ (آیت) ” یھامن “۔ ھامان پر حاشیہ سورة القصص (پ 20) میں گزر چکا۔ ھامان، جو دیوتا آمن کے مندر کا سب سے بڑا پروہت یا پجاری تھا۔ وہی سلطنت کا چیف انجینئر بھی ہوتا تھا یامان سے متعلق اسی سابق حاشیہ میں گذر چکا ہے کہ یہ شخصی نام نہیں بلکہ ایک عظیم الشان سرکاری عہدہ کالقب تھا جیسے فرعون خود شاہی لقب تھا۔ (آیت) ” ابن لی صرحا “۔ روایات یہود میں بھی آتا ہے کہ شاہ مصر کے لئے زمین و آسمان کے درمیان ایک محل تعمیر ہوا تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” انی لاظنہ “۔ لفظ ظن سے یہ خیال نہ گذرے کہ فرعون اس بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–37

آیت نمبر 28 تا 37 ترجمہ : اور ایک مومن شخص نے جو فرعون کے خاندان میں سے تھا کہا گیا ہے کہ وہ اس کا چچا زاد بھائی تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی جانب سے دلیلیں یعنی کھلے ہوئے معجزے لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کے جھوٹ کا (وبال) اسی پر ہے، اور اگر وہ سچا ہو تو جس دنیوی عذاب کا وہ تم سے وعدہ کررہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تم پر آپڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتے جو (شرک کرکے) حد سے تجاوز کرنے والا ہو، جھوٹا ہو، اے میری قوم کے لوگو ! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ تم ملک مصر پر غالب ہو،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اسباب السموت فاطلع الی الہ موسیٰ وانی لاظنہ کاذبا پھر (وہاں پہنچ کر) موسیٰ کے خدا کو دیکھوں بھالوں ‘ میں تو موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔ وَقَالَ فِرْعَوْنُ یعنی فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا۔ صَرْحًا ایسی اور اونچی عمارت (منارہ وغیرہ) جو دور سے دیکھنے والوں کو بھی دکھائی دے ‘ اسی مناسبت سے تصریح کا لفظ بمعنی اظہار آتا ہے۔ اَسْبَاب السَّمٰوٰتِ آسمانوں کی راہیں اور دروازے ‘ یعنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پہنچنے کے راستے۔ کسی چیز تک پہنچنے کے ذریعہ کو سبب کہتے ہیں ‘ جیسے رسی اور ڈول کو سبب اسلئے کہتے ہیں کہ یہ پانی تک پہنچنے کے ذریعے ہیں۔ ظاہر یہ ہے کہ نمرود کی طرح فرعون نے کسی عمارت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور میں وہاں جاکر موسیٰ کے اللہ کو دیکھوں جس کے رسول ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور یہ کہ وہ اللہ آسمان پر ہے اور میں تو موسیٰ کو اس دعوی میں کہ میرے علاوہ آسمانوں پر اور اللہ ہے جھوٹا سمجھتا ہوں اور پھر وہ محل نہیں بنا اور اسی طرح فرعون کی اور بدکاریاں بھی اس کو اچھی معلوم ہوتی تھیں اور فرعون حق و ہدایت کے راستہ سے رک گیا اور فرعون کی ہر ایک تدبیر اکارت ہی گئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) اسباب السموت فاظلع الی الہ موسیٰ : فرعون نے پہلے صرف یہ کہا : ”تاکہ میں اسباب تک پہنچ سکوں“ مقصد تجسس پیدا کرنا تھا کہ وہ کس چیز کے اسباب تک پہنچنا چاہتا ہے۔ چناچہ اس نے دوبارہ وضاحت کی، تاکہ میں آسمانوں کے راستوں اور دروازوں تک پہنچ جاؤں، جہاں سے آسمانوں تک رسائی ہوتی ہے، پھر موسیٰ کے معبود کی طرف جھانکوں ، جو اس کے کہنے کے مطابق آسمانوں کے اوپر ہے۔ (2) وانی لاظنہ کاذباً ”ان اور ”لام“ کے ساتھ تاکید کی وجہ سے یہاں ظن (گمان) یقین کے معنی میں ہے، یعنی موسیٰ جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے، یا یہ کہ اس کا رب آسمانوں کے اور عرش پر ہے، تو مجھے یقین ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔ اس آیت سے ثابت ہتا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–37

(وقال فرعون یھا من۔۔۔ ) وقال فرعون لھا من ابی لی صرحا ًجب آل فرعون نے کہا جو کہا تو فرعون کو خوف ہوا کہ اس مومن کا کلام قوم کے دل میں اثر انداز ہوگا تو اسے خیال گزرا کہ وہ اس چیز کا امتحان لے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توحید کا پیغام لائے ہیں اگر اس کا درست ہونا صحیح ہوگیا تو وہ ان سے مخفی نہیں رکھے گا اگر وہ درست نہ ہو تو وہ انہیں ان کے دین پر پختہ رکھے گا اس نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ وہ محل بنائے، سورة قصص میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ لعلی ابلغ الاسباب۔ اسباب السموات، اسباب السموات پہلے الاسباب سے بدل ہے۔ قتادہ، زہری، سدی اور خفش کے قول کے مطابق اسباب السماء سے مراد اس کے دروازے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–38

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جآء کم یوسف من قبل بالبینت “ (اور اس سے پہلے تم لوگوں کے پاس یوسف (علیہ السلام) واضح دلائل لے کر آچکے ہیں اس میں بینات سے مراد ہے یوسف (علیہ السلام) کا خواب۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن “ (وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی آیات میں بغیر دلیل کے) اس میں سلطان سے مراد ہے دلیل یعنی بغیر دلیل کے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مؤمن جسے اچھاخیال کریں تو وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے اور مؤمن جسے برا خیال کریں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی برا ہے اور اعمش اس آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ [ جو آسمانوں کی سیڑھی ہے ] فَاَطَّلِعَ [ نتیجتا میں جھانکوں ] اِلٰٓى اِلٰهِ مُوْسٰى [ موسیٰ کے الہ کی طرف ] وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٗ [ اور وہ بیشک میں یقینا خیال کرتا ہوں اس کو ] كَاذِبًا ۭ [ جھوٹا ] وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ [ اور اس طرح خوشنما کیا گیا ] لِفِرْعَوْنَ [ فرعون کے لئے ] سُوْۗءُ عَمَلِهٖ [ اس کے عمل کی برائی کو ] وَصُدَّ [ اور وہ روک دیا گیا ] عَنِ السَّبِيْلِ ۭ [راستے سے ] وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ [ اور نہیں تھی فرعون کی چالبازی ] اِلَّا فِيْ تَبَابٍ [ مگر ہلاکت میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَکَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوءُ عَمَلِہٖ ) اور اسی طرح فرعون کے لیے اس کی بد کرداری مزین کردی گئی جسے وہ اچھی سمجھتا تھا۔ (وَصُدَّ عَنْ السَّبِیْلِ ) اور وہ راہ حق سے روک دیا گیا موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کرنے کے لیے تدبیریں سوچتا رہا مگر کوئی تدبیر کام نہ آئی (وَمَا کَیْدُ فِرْعَوْنَ اِِلَّا فِیْ تَبَابٍ ) اور فرعون کی تدبیر ہلاکت ہی میں لے جانے والی تھی جو سوچا سب الٹا پڑا بالآخر ہلاک ہوا خود بھی ڈوبا اپنے لشکروں کو بھی لے ڈوبا۔ قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ ، (فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِہٖ فَغَشِیَھُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَھُمْ وَاَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَہٗ وَ مَا ھَدٰی)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–45

قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

45:۔ ” وکذلک زین “ یوں فرعون کے لیے اس کے مشرکانہ اعمال اور اس کی متکبرانہ حرکات اس کی نگاہوں میں مزین کردی گئیں۔ اور اسے راہ راست پر آنے سے روک دیا گیا۔ یعنی اس کے ضد وعناد کی وجہ سے اسے قبول حق کی توفیق سے محروم کردیا گیا۔ ” وما کید فرعون الخ “ یہ ادخال الٰہی ہے۔ فرعون کی ہر چال اور اس کا ہر فریب بیکار اور رئیگاں تھا۔ وہ کسی تدبیر سے بھی اپنے کو سوء عاقبت سے نہ بچا سکا۔ آخر لاؤ لشکر سمیت غرق ہو کر رہا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–37

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید اور جزائے عمل کی بات سمجھانے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جس وقت آپ نے فرعون ، ہامان ، اور قارون ، کے سامنے خدا تعالیٰ کا پیغام رکھا تو انہوں نے آپ کو ساحر اور کذاب کہہ دیا ، فرعون خاص طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو راستے سے ہٹانے کے لیے بری تدبیریں سوچنے لگا ، اس نے اپنے حواریوں سے کہا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے دو ، موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر متکبر کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی ۔ اس دوران میں فرعون کی قوم کا ایک مرد مومن سامنے آگیا جو اپنے ایمان کو چھپا رہا تھا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا تم ایک ایسے شخص کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَسْـبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰٓى اِلٰہِ مُوْسٰى وَاِنِّىْ لَاَظُنُّہٗ كَاذِبًا۝ 0 ۭ وَكَذٰلِكَ زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْۗءُ عَمَلِہٖ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيْلِ۝ 0 ۭ وَمَا كَيْدُ فِرْعَوْنَ اِلَّا فِيْ تَبَابٍ۝ 37ۧ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–44

ترکیب : اسباب السمٰوٰت بدل مما قبلہ فاطلع بالنصب علی جواب الامر و بالرفع عطفا علی ابلغ و تدعوننی الجملۃ و مایتصل بھا بدل اوتبیین لتدعوننی الاولی۔ وافوض الجملۃ حال من الضمیر فی اقول۔ تفسیر : فرعون نے پہلے کہا تھا وما اھدیکم الاسبیل الرشاد اب اس جگہ اس کی عقل و فہم کی کوتاہی بیان کی جاتی ہے کہ اپنے وزیر یا مصاحب ہامان سے کہا کہ میرے لیے کوئی ایسا بلند مکان بنا کہ جس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں اور میں تو اس کو جھوٹا ہی جانتا ہوں۔ حماقت اس میں یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس کہنے سے کہ اللہ رب السماوات ہے، وہ یہ سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں پر رہتا ہے۔ جیسا کہ طبائعِ عامہ فوقیت کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 36–37

وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰـھَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ ۔ اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰٓی اِلٰـہِ مُوْسٰی وَاِنِّیْ لاَ ظُنُّـہٗ کَاذِبًا ط وَکَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُؤٓئُ عَمَلِہٖ وَصُدَّعَنِ السَّبِیْلِ ط وَمَا کَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلاَّ فِیْ تَبَابٍ ۔ (المؤمن : 36، 37) (فرعون نے کہا : اے ہامان ! میرے لیے ایک بلند عمارت بنوا تاکہ میں اطراف میں پہنچوں) آسمانوں کے اطراف میں، اور موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں، میں تو اس کو جھوٹا خیال کرتا ہوں، اور اس طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنادی گئی اور وہ سیدھی راہ سے روک دیا گیا، اور فرعون کی تدبیر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–37

فہم القرآن ربط کلام : مرد حق کے خطاب کے مقابلے میں فرعون کا ردّ عمل۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مرد حق کے مدلّل اور مؤثر خطاب کے بعد فرعون ہدایت قبول کرتا۔ لیکن اس نے اپنے خصوصی مشیر ہامان کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک بلندو بالا عمارت تعمیر کی جائے تاکہ میں اس کے ذریعے آسمان کے دروازوں تک پہنچ جاؤں اور دیکھوں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا الٰہ کہاں بیٹھا ہوا ہے۔ میں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ فرعون کے تکبّر اور حد سے تجاوز کرنے کی وجہ سے اس کی رسی کھلی چھوڑ دی گئی۔ جس بنا پر اسے اپنی غلط سوچ، سیاست اور کردار بہترین دکھائی دیتا تھا۔ اسی بنا پر وہ سیدھے راستہ سے روک دیا گیا۔ فرعون کا ہر قدم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ (آسمانوں پر جانے کی راہیں) اسباب راستہ اور باب اور جو چیز اس تک پہنچانے کے لیے استعمال ہو ہر وہ چیز جو کسی چیزتک پہنچائے اس کو سبب کہا جاتا ہے مثلاً رسی وغیرہ۔ فَاَطَّلِعَ (پھر دیکھوں بھالوں) قراءت : حفص نے نصب سے پڑھا ہے۔ ترجی کا جواب قرار دیا اور ترجی کو تمنی کے مشابہ مانا۔ دیگر قراء نے رفع پڑھا اور ابلغ پر عطف کیا۔ اِلٰٓى اِلٰهِ مُوْسٰى (موسی کے معبود) معنی یہ ہے پس میں اس کو دیکھوں۔ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٗ كَاذِبًا (اور میں تو موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں) ہ ٗ کی ضمیر موسیٰ کی طرف لوٹی ہے کاذب سے اس بات میں جھوٹا کہنا مراد ہے کہ وہ کہتا ہے میرے سوا اور بھی کوئی معبود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36، وقال فرعون، اپنے وزیرکو، باھامان ابن لی صرحا، الصرح ایسی واضح عمارت جو دور سے دیکھنے والوں پر بھی مخفی نہ ہو اور اس کی اصل تصریح سے ہے بمعنی اظہار، لعلی ابلغ الاسباب،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–37

36۔ 37۔ ایمان دار قبطی کی نصیحت کے بیچ میں فرعون نے پہلی بات جو کہی تھی اسکا ذکر تو اوپر گزرا اس نصیحت کے بیچ میں فرعون کی دوسری بات ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ دہریہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے خدا کو آنکھ سے نہیں دیکھا اس لئے ہم اس کی ہستی کے قائل نہیں علمائے پابند شریعت نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ جس عقل کے بھروسہ پر تم لوگوں نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے کی ہستی کا انکار کیا ہے اس عقل کو تم نے آنکھوں سے کب دیکھا ہے جو تم عقل کی ہستی کے قائل ہو اگر یہ کہتے ہو کہ عقل کی نشانیاں دیکھ کر ہم نے عقل کا اقرار کیا ہے تو پھر یہ بتلاؤ کہ اس نشانیوں والی عقل کو اور خود تم کو کس نے پیدا کیا ہے کیا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–46

آیت 23 ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔ اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 36–45

سورة المومن ہامان کی تعمیر کردہ عمارت قول باری ہے (یا ھامان ابن لی صرحا۔ اے ہامان ! میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا) سفیان نے منصور سے اور انہوں نے ابراہیم سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ ہامان نے اینٹ کی عمارت بنوائی جبکہ لوگ اینٹوں کی عمارت کو ناپسند کرتے تھے وہ انہیں مقبروں میں استعمال کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 36–39

81 ہمیشہ کا گھر آخرت ہی کا ہے : سو اس مرد مومن نے مزید کہا اور کلمات تاکید کے ساتھ کہا کہ " بلاشبہ آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے "۔ لہذا اصل اور حقیقی کامیابی وہی ہے جو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں حاصل ہو۔ پس عاقل کا کام یہ ہے کہ وہ اسی ابدی زندگی کی کامیابی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصیب العین بنائے کہ دنیا کی یہ زندگی تو بہرحال فانی و عارضی اور نہایت مختصر ہے۔ اور آخرت کی اس ابدی زندگی میں فوز و فلاح اور کامیابی کا دار و مدار انسان کے سچے پکے ایمان و یقین اور عمل صالح پر ہے جس کی دعوت میں آپ لوگوں کو دے رہا ہوں۔ سو اس مرد مومن نے فرعون کو اس طرح چیلنج کرنے کے بعد دنیاوی لیڈروں کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–55

موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–37

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 28 تا 37: اسرار و معارف : چناچہ قوم فرعون کا بندہ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر قوم پر ظاہر نہ ہونے دیا تھا بول اٹھا کہ تم لوگ اس بات پر ایک انسان کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا پروردگار مانتا ہے حالانکہ وہ اللہ ہی کو تمہارا پروردگار بھی ثابت کرتا ہے اور اسی کی طرف سے واضح دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہے اگر بالفرض یہ جھوٹ کہتا ہے تو معمولی جرم نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولا جائے لہذا اسے اس کی سز ابھگتنا پڑے گی یعنی خود اللہ کی طرف سے سز اپائیگا تم کیوں تکلیف کرتے ہو لیکن یہ بھی دیکھو کہ یہ جو یہ کہ رہا ہے سچ ہوا تو تمہارا کیا بنے گا اگر تم انکار کرتے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 36–37

ف 2 یعنی موسیٰ جو دعویٰ کرتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا یہ کہ میرا خدا آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے تو میرے گمان میں وہ جھوٹا ہے۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے اوپر عرش پر ہے اس پر سب انبیاء ( علیہ السلام) و رسل ( علیہ السلام) اور صحابہ ؓ وتابعین (رح) اور ائمہ دین (رح) کا اتفاق ہے۔ ” غنیہ “ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آسمان پر ہونا ہر آسمانی کتاب میں مذکورہ ہے جو کسی پیغمبر ﷺ پر نازل کی گئی۔ نیز دیکھئے قصص 38 ( وجیز و حاشیہ جامع وغیرہ)3 برے کاموں سے مراد کفرو شرک کے کام ہیں۔ بھلے کر دکھانے کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے اس کی عقل مار دی، یہاں تک کہ وہ ان کاموں کو اچھا سمجھتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:37) فاطلع۔ مضارع واحد متکلم اطلاع افتعال مصدر ، میں جھانکوں ۔ میں مطلع ہوں۔ میں اطلاع پاسکوں۔ میں معلوم کرسکوں۔ مضارع منصوب بوجہ جواب امر ہے۔ اگر رفع کے ساتھ ہو تو ابلغ کا معطوف ہوگا۔ لاظنہ لام تاکید کا ہے اظن مضارع کا صیغہ واحد متکلم ظن باب نصر سے مصدر جس کے معنی اس اعتقاد راجح کے ہیں جس میں اس کے خلاف ظہور پذیر ہونے کا بھی احتمال ہو یہ کبھی شک اور کبھی یقین کے معنی بھی دیتا ہے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے جو حضرت موسیٰ کے لئے آیا ہے۔ میں تو اس (حضرت موسیٰ ) کو جھوٹا ہی سمجھتا ہو مجھے تو یقین ہے کہ وہ جھوٹا ہے۔ کذلک۔ اسی طرح (یعنی جس طرح رب السموت کو دیکھنے کے لئے اونچی عمارت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–37

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 37 : داب (دستور ، قاعدہ ، قانون) التناد ( چیخ و پکار) عاصم (بچانے والا) ھاد (ہدایت دینے والا ، رہبر و رہنمائ) مازلتم ( تم ہمیشہ رہے) مرتاب ( شک کرنے والا) یطبع ( وہ مہر لگاتا ہے) جبار (بہت سختی کرنے والا) ابن ( بنائ) ( تعمیر کر دے) صرحا ( عمارت ، محل) اطلع ( میں جھانکوں گا) زین (خوبصورت بنا دیا گیا) صد ( اس نے روک دیا) کید ( تدبیر ، فریب) تباب (تباہی ، بربادی) تشریح : آیت نمبر 30 تا 37 :۔ اس سے پہلی آیات میں آپ نے پڑھ لیا ہے کہ آل فرعون میں سے ایک مرد مومن نے بھرے دربار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کرتے ہوئے آل فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–37

فرعون کی نافرمانی۔ (ف 1) فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک اونچا محل تیار کرو تاکہ میں اس پر چڑھ کر آسمان کے رستوں میں پہنچوں وہاں چڑھ کر ذرادیکھوں تو سہی کہ حضرت موسیٰ کا خدا کیسا ہے ؟ اور میں تو حضرت موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں مجھے تو یہ یقین نہیں کہ میرے سوا کوئی اور معبود بھی ہے فرعون نے اپنے آپ کو خدا کہلوایا اور بت پرستی پھیلائی اور شریعت موسوی کی باتوں کو خرابی کی باتیں بتلاتا، اور اپنے ان سب برے کاموں کو اچھا جانتا تھا، حضرت موسیٰ کے زندہ رہنے کے داؤ کے لیے فرعون نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لڑکے قتل کرائے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آنے کے داؤ کے لیے حضرت موسیٰ اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–37

میں موسیٰ کے خدا ل کو دیکھنا چاہتا ہوں 1: فرعون نے جب دیکھا ۔ کہ موسیٰ کے مشن کو کامیابی ہورہی ہے ۔ اور لوگ خفیہ خفیہ اس کی تعلیمات پر ایمان لارہے ہیں ۔ تو اس کے ازراہ استخفاف ہامان سے کہا کہ یہ موسیٰ کس خدا کی دعوت دیتے ہیں ؟ ذرا ایک بلند معیار وبالا مینار نو تعمیر کرو ۔ میں ابھی تو دیکھوں کہ آسمانوں میں موسیٰ کا خدا کیونکر قرار پذیر ہے ۔ کیا یہ لوگوں کو بتلانا چاہتا تھا ۔ کہ میرے سوا اور کون خدا ہوسکتا ہے ؟ اور اگر کوئی خدا ہے تو وہ آسمانوں میں ہوگا ۔ اور اس کو میری طرح نظر آنا چاہیے ۔ گویا اس بیوقوف نے یہ سمجھا ۔ کہ خدا بھی میری طرح کوئی جسمانی قوت ہے جو مکان وجہت کی محتاج ہے اور جس کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(37) جو ذرائع آسمانوں پر جانے کے ہیں پھر ذرا موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود کی ٹوہ لگائوں اور دیکھ بھال کرسکوں اور واقعہ یہ ہے کہ میں تو موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں اور اسی طرح فرعون کے عمل کی برائی اس کے لئے خوش منظر اور دیدہ زیب کردی گئی اور اسے سیدھی راہ سے روک دیا گیا اور فرعون کی چال اور حیلہ سازی نہ تھی مگر غارت اور تباہ ہونے والی - یعنی برسراقتدار لوگوں کا قاعدہ ہے کہ وہ عام لوگوں کو گمراہ کرنے کی غرض سے اور فریب میں مبتلا کرنے کے لئے ایک نئی بات کیا کرتے ہیں تاکہ لوگ اس میں الجھ جائیں۔ اسی طرح اس نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ ایک محل بنا یعنی ایک اونچی عمارت بناتا کہ اس پرچڑھ کر ایسے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 35–37

ف 5۔ اس لئے اس میں اصلا گنجائش حق فہمی کی نہیں رہتی۔ (فائدہ) یہ تقریر تھی ان مومن بزرگ کی اور اس تقریر سے ان بزرگ کا کتمان ایمان جاتا رہا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون کا پیغام ہامان کے نام ابھی جاری ہے جو از راہ مذاق اس نے دیا 37۔ گزشتہ آیت میں جو بیان فرعون نے دیا تھا جس کا مقصد محض اس مرد مومن کی باتوں سے لوگوں کی توجہ کو ہٹانا تھا اور اس نے ہامان سے آسمان پر جھانکنے کے لیے ایک محل یا منارہ بنانے کا کہا تھا اس بیان کو مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ایسا راستہ مجھے ملا کہ میں موسیٰ کے معبود کو ایک بار تاک جھانک سکوں حالانکہ موسیٰ کے بیان کی سوائے اس کے کوئی حقیقت نہیں کہ یہ نظریہ اس نے میری مخالفت کے لیے گھڑ لیا ہے جو سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔ غور کیجئے کہ خود فریبی اور جھوٹا ہے اور الزام موسیٰ (علیہ السلام) پر دے رہا ہے کہ اس نے جھوٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–44

In verse 44, it was said: فَسَتَذْكُرُ‌ونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ وَأُفَوِّضُ أَمْرِ‌ي إِلَى اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ بَصِيرٌ‌ بِالْعِبَادِ (Soon you will remember what I am saying to you. And I entrust my matter with Allah. Surely, Allah has all (His) servants in sight.). This is what the believer from the House of Pharaoh said at the end of his address to his people inviting them to accept the message of truth. Here, it was said that, should they not listen to him within that point of time, there would come a time when the punishment would seize them, and they would remember what he had told…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 36–37

55 Pharaoh addresses these words to Hamim, his minister, interposing in the speech of the Believer in a way as though he has no regard for what he was saying. Therefore, he turns away from him arrogantly and says to Haman, "Build me a high tower so that I may climb it to see where the God of whom this Moses speaks, lives." (For explanation, see AI-Qasas: 38 and E.N.'s thereof).

Read the full tafseer →