Al-Ghaafir 40:36

Al-Ghaafir · from ayah 36

40:36

وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰهَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ ۟ۙوَقَالَ فِرۡعَوۡنُ يٰهَامٰنُ ابۡنِ لِىۡ صَرۡحًا لَّعَلِّىۡۤ اَبۡلُغُ الۡاَسۡبَابَۙ

اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بناؤ تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) رستوں پر پہنچ جاؤں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And Pharaoh said, "O Haman, construct for me a tower that I might reach the ways -

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 4 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:36

فرعون نے کہا "اے ہامان، میرے لیے ایک بلند عمارت بنا تاکہ میں راستوں تک پہنچ سکوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بناؤ تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) رستوں پر پہنچ جاؤں

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لیے ایک باﻻخانہ بنا شاید کہ میں آسمان کے جو دروازے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور فرعون نے (اپنے وزیر سے) کہا کہ اے ہامان ! میرے لیے ایک اونچی عمارت بنادو تاکہ میں ان راستوں تک پہنچوں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور فرعون بولا اے ہامان! میرے لیے اونچا محل بنا شاید میں پہنچ جاؤں راستوں تک،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور فرعون نے کہا: اے ہامان! تو میرے لئے ایک اونچا محل بنا دے تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) راستوں پر جا پہنچوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور فرعون نے کہا اے ہامان ! میرے لیے ایک بلند عمارت بنا، تاکہ میں راستوں پر پہنچ جاؤں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور فرعون کہنے لگا : اے ہا مان : میرے لئے ایک بلند عمارت بناؤ تاکہ میں ان راستوں تک پہنچ سکوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور فرعون نے کہا، اے ہامان ! میرے لئے ایک عمارت بنوا کہ میں اطراف میں پہنچوں، آسمانوں کے اطراف میں ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور فرعون نے (اس لاجواب تقریر سے کھسیانہ ہونے کے بعد) کہا اے ہامان بنوادو میرے لئے ایک بلند وبالا عمارت تاکہ (اس کے ذریعے) میں پہنچ سکوں ان راستوں تک

— مولانا اسحاق مدنی

اور فرعون نے کہا اے ہامان میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا کہ میں (اس سے) آسمان پر جانے کی راہوں تک پہنچ جاؤں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور فرعون نے کہا : اے ہامان ! میرے لیی ایک بلند عمارت بنوائو تاکہ میں پہنچ جائوں راستوں تک

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو فرعون نے کہا کہ ہامان ! میرے لیے ایک محل بناؤ تاکہ میں اس پر چڑھ کر آسمان کے راستے پر جا پہنچوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Pharaoh said: “Haman, build for me a lofty tower that I may scale the highways --

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And Fir'awn (Pharaoh) said, :O Haman, make a tower for me, perhaps I could reach the ways –

— Muhammad Taqi Usmani

And Firawn (Pharaoh) said, :O Haman, make a tower for me, perhaps I could reach the ways –

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Fir`awn said: "O Haman! Build me a lofty tower that I may arrive at the ways --

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And Pharaoh said: O Haman! Build for me a tower that haply I may reach the roads,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And Pharaoh said, "O Haman, construct for me a tower that I might reach the ways -

— Saheeh International

Pharaoh said, "Haman, build a tower of baked bricks for me so that I shall have access.

— Muhammad Sarwar

And Firon said: O Haman! build for me a tower that I may attain the means of access,

— Muhammad Habib Shakir

And Fir'awn said: O Haman! build for me a tower that haply I may reach the ways of access

— Abdul Majid Daryabadi

Pharaoh said: "O Haman! Build me a lofty palace, that I may attain the ways and means-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:36

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–37

فرعون کی سرکشی اور تکبر۔ فرعون کی سرکشی اور تکبر بیان ہو رہا ہے کہ اس نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لئے ایک بلند وبالا محل تعمیر کرا۔ اینٹوں اور چونے کی پختہ اور بہت اونچی عمارت بنا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ اس نے کہا اے ہامان اینٹیں پکا کر میرے لئے ایک اونچی عمارت بنا۔ حضرت ؒ کا قول ہے کہ قبر کو پختہ بنانا اور اسے چونے گج کرنا سلف صالحین مکروہ جانتے تھے۔ (ابن ابی حاتم) فرعون کہتا ہے کہ یہ محل میں اس لئے بنوا رہا ہوں کہ آسمان کے دروازوں اور آسمان کے راستوں تک میں پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے اللہ کو دیکھ لوں گو میں جانتا ہوں کہ موسیٰ ہے جھوٹا۔ وہ جو کہہ رہا ہے کہ اللہ نے اسے بھیجا ہے یہ بالکل غلط ہے،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 36–37

سورة الْمُؤْمِن 55 مومن آل فرعون کی تقریر کے دوران میں فرعون اپنے وزیر ہامان کو مخاطب کر کے یہ بات کچھ اس انداز میں کہتا ہے کہ گویا وہ اس مومن کے کلام کو کسی التفات کے قابل نہیں سمجھتا، اس لیے متکبرانہ شان کے ساتھ اس کی طرف سے منہ پھیر کر ہامان سے کہتا ہے کہ ذرا میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا، دیکھوں تو سہی کہ یہ موسیٰ جس خدا کی باتیں کر رہا ہے وہ کہاں رہتا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، القصص، حواشی 52 تا 54)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–43

(آیت) وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا۔ صرح کے معنی بلند تعمیر کے ہیں۔ ظاہر اس کا یہ ہے کہ فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ ایسی بلند تعمیر بناؤ جو آسمان کے قریب تک چلی جائے جس پر جا کر میں خدا کو جھانک کر دیکھ لوں۔ یہ احمقانہ خیال جو کوئی ادنیٰ سمجھ کا آدمی بھی نہیں کرسکتا سلطنت مصر کے مالک فرعون کا یا تو واقعی ہے جو اس کی انتہائی بےوقوفی اور حماقت کی دلیل ہے اور وزیر نے اگر اس کی تعمیل کی تو وزیرے چنین شہریارے چنین کا مصداق ہے۔ مگر کسی بھی والئی ملک سے ایسے احمقانہ تصور کی امید نہیں کی جاسکتی۔ اس لئے بعض حضرات مفسرین نے کہا کہ یہ تو وہ بھی جانتا تھا کہ کتنی ہی بلند…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 36–37

فرعون کا ایک اشغلہ اوپر آپ نے دیکھا کہ مرد مومن کی تقریر بالتدریج اپنے نقطہ ٔ عروج پر پہنچ گئی جس سے قدرتی طور پر اہل دربار متاثر ہوتے نظر آئے ہوں گے۔ اس وجہ سے فرعون نے پہلے کی طرح پھر مداخلت کی اور درباریوں کو بیوقوف بنانے کے لئے ایک اشغلہ چھوڑا۔ ہامان کو مخاطب کر کے اس نے حکم دیا کہ ہامان ! ایک بلند عمارت بنوائو، میں آسمانوں کے اطراف میں پہنچ کر ذرا موسیٰ کے اس رب کو جھانک کے دیکھنا چاہتا ہوں جس نے اس کے زعم کے مطابق اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ مجھے تو یہ شخص بالکل جھوٹا مدعی معلوم ہوتا ہے۔ ’ وکذلک ذین یفرعون ‘۔ یعنی اتنی واضح تقریر کے بعد بھی فرعون کو قبول حق کی توفیق نہیں ہوئی۔ فکر ہوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

36۔ 1 یہ فرعون کی سرکشی کا بیان ہے کہ اس نے اپنے وزیر ہامان کو بلند عمارت بنانے کا حکم دیا تاکہ اس کے ذریعے سے وہ آسمان کے دروازوں تک پہنچ جائے۔ اسباب کے معنی دروازے، یا راستے کے ہیں مزید دیکھئے القصص، آیت۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 34–36

8: یہ خطاب فرعون کی قوم یعنی قبطیوں کو ہو رہا ہے، اور قبطیوں کو ہدایت کا پیغام حضرت یوسف ؑ نے دیا تھا۔ 9: یعنی اول تو حضرت یوسف ؑ کی نبوت ہی کا انکار کرتے رہے، اور جب ان کی وفات ہوگئی تو ان کے کارنامے یاد کر کے تم نے یہ کہا کہ اگر وہ رسول تھے بھی تو اب ان جیسا آدمی پیدا نہیں ہوسکتا، اور اس طرح آئندہ بھی کسی پیغمبر کو ماننے کا دروازہ بند کردیا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–37

آیت نمبر 36 تا 37 فرعون نے ہامان سے کہا میرے لیے ایک بلند عمارت بناتک کہ میں آسمان کے راستوں تک پہنچ سکوں اور موسیٰ کے حدا کے بارے میں جان سکوں۔ وانی لاظنه جاذبا (40: 37) ” مجھے تو یہ موسیٰ جھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے “۔ یہ سرکش فرعون کی چالاکی اور اٹکل بازی ہے ، وہ سچائی کے مقابلے میں علانیہ آنا نہیں چاہتا اور عقیدۂ توحید کا اعتراف بھی نہیں کرتا کیونکہ اس صورت میں اس کی حکومت جاتی ہے ، جن افسانوں پر اس کی مملک قائم تھی وہ عقیدۂ توحید کے بعد باطل قرار پاتے تھے۔ یہ بات بعید ازامکان ہے کہ فرعون اس قدر کم عقل تھا اور وہ اس علمی سطح کا آدمی تھا۔ اور وہ الہہ موسیٰ کو اس سادہ انداز سے دھوکہ دے رہا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 36–37

1 یہ اس ملعون کی انتہائی بےشرمی اور بےباکی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شاید اللہ تعالیٰ کی صفت علو وغیرہ کو سن کر یہ قرار دیا ہوگا کہ موسیٰ کا خدا آسمان پر رہتا ہے۔ اسی پر یہ استہزاء و تمسخر شروع کردیا۔ سچ ہے چیونٹی کی موت آتی ہے تو پر لگ جاتے ہیں۔ سورة " قصص " میں اس مقام کی تقریر گزر چکی۔ 2 یعنی دعوائے رسالت میں بھی اور اس دعوے میں بھی کہ سارے جہان کا کوئی اور معبود ہے۔ مجھے تو اپنے سوا دوسرا نظر نہیں آتا۔ کماقال (مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ ) 28 ۔ القصص :38) 3 برے کام کرتے کرتے آدمی کی یوں ہی عقل ماری جاتی ہے اور ایسی ہی مضحکہ خیز حرکتیں کرنے لگتا ہے جس کے بعد راہ پر آنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 36 { وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰـہَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ } ”اور فرعون نے کہا : اے ہامان ! میرے لیی ایک بلند عمارت بنوائو تاکہ میں پہنچ جائوں راستوں تک۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 35–36

49 گمراہ ہونے والوں کی صفات :۔ گمراہ ہونے والوں کی دو صفات تو اوپر مذکور ہوچکیں۔ ایک یہ کہ حق سے انکار کرتے اور اپنی بداخلاقی اور فسق و فجور میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم جس کا اکثر حصہ توحید اور آخرت کے متعلق ہوتا ہے سے ہمیشہ شک و شبہ میں مبتلا رہے ہیں اور ان کی تیسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے اور ان میں اس طرح کج بحثی کرتے ہیں جس کی بنیاد نہ کسی عقلی دلیل پر ہوتی ہے اور نہ نقلی دلیل پر۔ اور اس کی وجہ محض ان کی ضد، ہٹ دھرمی اور تکبر یا پندار نفس ہوتا ہے۔ ان کی یہ صورت حال اللہ اور مومنوں کے نزدیک انتہائی نفرت انگیز ہوتی ہے اور جو انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 36–37

37۔ فرعون اس مرد مومن کی تقریروں کا تو کچھ جواب دے نہ سکا جواب ہو کر فرمائش ہامان سے یہ کردی۔ (آیت) ” یھامن “۔ ھامان پر حاشیہ سورة القصص (پ 20) میں گزر چکا۔ ھامان، جو دیوتا آمن کے مندر کا سب سے بڑا پروہت یا پجاری تھا۔ وہی سلطنت کا چیف انجینئر بھی ہوتا تھا یامان سے متعلق اسی سابق حاشیہ میں گذر چکا ہے کہ یہ شخصی نام نہیں بلکہ ایک عظیم الشان سرکاری عہدہ کالقب تھا جیسے فرعون خود شاہی لقب تھا۔ (آیت) ” ابن لی صرحا “۔ روایات یہود میں بھی آتا ہے کہ شاہ مصر کے لئے زمین و آسمان کے درمیان ایک محل تعمیر ہوا تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” انی لاظنہ “۔ لفظ ظن سے یہ خیال نہ گذرے کہ فرعون اس بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 28–37

آیت نمبر 28 تا 37 ترجمہ : اور ایک مومن شخص نے جو فرعون کے خاندان میں سے تھا کہا گیا ہے کہ وہ اس کا چچا زاد بھائی تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی جانب سے دلیلیں یعنی کھلے ہوئے معجزے لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کے جھوٹ کا (وبال) اسی پر ہے، اور اگر وہ سچا ہو تو جس دنیوی عذاب کا وہ تم سے وعدہ کررہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تم پر آپڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتے جو (شرک کرکے) حد سے تجاوز کرنے والا ہو، جھوٹا ہو، اے میری قوم کے لوگو ! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ تم ملک مصر پر غالب ہو،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال فرعون یا ھامان ابن لی صرحا لعلی ابلغ الاسباب۔ اور فرعون نے کہا : اے ہامان ! میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا ‘ شاید میں آسمان کی راہوں تک پہنچ جاؤں ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک محل بنواؤ کہ میں وہاں چڑھ کر رستے تلاش کروں ممکن ہے کہ میں آسمانوں کے دروازوں تک پہنچ جاؤں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وقال فرعون یھامن ابن لی صرحاً …”صرحاً“ بلند و بالا عمارت جو دور سے صاف نظر آئے۔”صراحت“ کسی بات کے خوب ظاہر اور واضح ہونے کو کہتے ہیں۔ ”الاسباب“ ”سبب“ کی جمع ہے، کسی چیز تک پہنچنھے کا ذریعہ، مراد راستے اور دروازے ہیں۔ فرعون نے جب دیکھا کہ اس کے پاس اس مرد مومن کی کسی بات کا جواب نہیں تو اس نے اس کی نصیحت کا اثر ختم کرنے اور مذاق اڑانے کے لئے اپنے وزیر ہامان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے ایک بلند و بالا عمارت بناؤ، تاکہ میں راستوں تک پہنچ جاؤں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–37

(وقال فرعون یھا من۔۔۔ ) وقال فرعون لھا من ابی لی صرحا ًجب آل فرعون نے کہا جو کہا تو فرعون کو خوف ہوا کہ اس مومن کا کلام قوم کے دل میں اثر انداز ہوگا تو اسے خیال گزرا کہ وہ اس چیز کا امتحان لے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توحید کا پیغام لائے ہیں اگر اس کا درست ہونا صحیح ہوگیا تو وہ ان سے مخفی نہیں رکھے گا اگر وہ درست نہ ہو تو وہ انہیں ان کے دین پر پختہ رکھے گا اس نے اپنے وزیر ہامان کو حکم دیا کہ وہ محل بنائے، سورة قصص میں اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ لعلی ابلغ الاسباب۔ اسباب السموات، اسباب السموات پہلے الاسباب سے بدل ہے۔ قتادہ، زہری، سدی اور خفش کے قول کے مطابق اسباب السماء سے مراد اس کے دروازے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 34–38

1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جآء کم یوسف من قبل بالبینت “ (اور اس سے پہلے تم لوگوں کے پاس یوسف (علیہ السلام) واضح دلائل لے کر آچکے ہیں اس میں بینات سے مراد ہے یوسف (علیہ السلام) کا خواب۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن “ (وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی آیات میں بغیر دلیل کے) اس میں سلطان سے مراد ہے دلیل یعنی بغیر دلیل کے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مؤمن جسے اچھاخیال کریں تو وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے اور مؤمن جسے برا خیال کریں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی برا ہے اور اعمش اس آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَ فِرْعَوْنُ [ اور فرعون نے کہا ] يٰهَامٰنُ [اے ہامان ] ابْنِ لِيْ [ تو تعمیر کر میرے لئے ] صَرْحًا [ ایک بلند عمارت ] لَّعَلِّيْٓ اَبْلُغُ [ شاید میں پہنچوں ] الْاَسْبَابَ [ اس سیڑھی تک ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

فرعون کا اوپر چڑھنے کے لیے اونچا محل بنانے کا حکم دینا اور اس کی تدبیر کا بربادی کا سبب بننا جب فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی دعوت پیش کی تو اس نے سوال و جواب کیے قتل کی دھمکی دی بڑی ڈینگیں ماریں اور اپنے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے طرح طرح کی باتیں نکالیں انہیں باتوں میں سے ایک یہ بات تھی کہ اس نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ ذرا ایک محل یعنی اونچی عمارت تو بناؤ میں اوپر چڑھوں گا۔ آسمانوں کے راستوں میں پہنچوں گا اور موسیٰ (علیہ السلام) کے معبود کا پتہ چلاؤں گا جھوٹے معبود ایسے ہی ہوتے ہیں دعویٰ تو اس کا یہ تھا کہ میں سب سے بڑا رب ہوں اور حال اس کا یہ تھا کہ آسمانوں کی خبر جاننے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 28–45

قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

44:۔ ” وقال فرعون “ فرعون کو اندیشہ ہوا کہ مبادا مومن کے کلام سے قوم متاثر ہوجائے، اس لیے اس نے قوم کو دوسری طرف مشغول کرنے کے لیے اپنے وزیر ھامان کو حکم دیا کہ ایک نہایت ہی بلند مینار تعمیر کرائے تاکہ وہ اس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھ تو سہی جس کی عبادت کی وہ دعوت دیتا ہے۔ لیکن یاد رکھو، یہ صرف تمہارے اطمینان کے لیے ہے ویسے مجھے تو اپنی جگہ یقین ہے کہ موسیٰ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے کہ میرے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے (العیاذ باللہ) یہاں ظن بمعنی یقین ہے۔ ان الطن بمعنی الیقین ای وانا (تیقن انہ کاذب وانما اقوال ما اقولہ لازالۃ الشبۃ عمن لا یتیقن ما اتیقنہ (قرطبی ج 15 ص 315) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–37

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید اور جزائے عمل کی بات سمجھانے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جس وقت آپ نے فرعون ، ہامان ، اور قارون ، کے سامنے خدا تعالیٰ کا پیغام رکھا تو انہوں نے آپ کو ساحر اور کذاب کہہ دیا ، فرعون خاص طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو راستے سے ہٹانے کے لیے بری تدبیریں سوچنے لگا ، اس نے اپنے حواریوں سے کہا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے دو ، موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر متکبر کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی ۔ اس دوران میں فرعون کی قوم کا ایک مرد مومن سامنے آگیا جو اپنے ایمان کو چھپا رہا تھا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا تم ایک ایسے شخص کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰہَامٰنُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا لَّعَلِّيْٓ اَبْلُغُ الْاَسْـبَابَ۝ 36ۙ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ بنی يقال : بَنَيْتُ أَبْنِي بِنَاءً وبِنْيَةً وبِنًى. قال عزّ وجلّ : وَبَنَيْنا فَوْقَكُمْ سَبْعاً شِداداً […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–44

ترکیب : اسباب السمٰوٰت بدل مما قبلہ فاطلع بالنصب علی جواب الامر و بالرفع عطفا علی ابلغ و تدعوننی الجملۃ و مایتصل بھا بدل اوتبیین لتدعوننی الاولی۔ وافوض الجملۃ حال من الضمیر فی اقول۔ تفسیر : فرعون نے پہلے کہا تھا وما اھدیکم الاسبیل الرشاد اب اس جگہ اس کی عقل و فہم کی کوتاہی بیان کی جاتی ہے کہ اپنے وزیر یا مصاحب ہامان سے کہا کہ میرے لیے کوئی ایسا بلند مکان بنا کہ جس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں اور میں تو اس کو جھوٹا ہی جانتا ہوں۔ حماقت اس میں یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس کہنے سے کہ اللہ رب السماوات ہے، وہ یہ سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں پر رہتا ہے۔ جیسا کہ طبائعِ عامہ فوقیت کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 36–37

وَقَالَ فِرْعَوْنُ یٰـھَامٰنُ ابْنِ لِیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ ۔ اَسْبَابَ السَّمٰوٰتِ فَاَطَّلِعَ اِلٰٓی اِلٰـہِ مُوْسٰی وَاِنِّیْ لاَ ظُنُّـہٗ کَاذِبًا ط وَکَذٰلِکَ زُیِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُؤٓئُ عَمَلِہٖ وَصُدَّعَنِ السَّبِیْلِ ط وَمَا کَیْدُ فِرْعَوْنَ اِلاَّ فِیْ تَبَابٍ ۔ (المؤمن : 36، 37) (فرعون نے کہا : اے ہامان ! میرے لیے ایک بلند عمارت بنوا تاکہ میں اطراف میں پہنچوں) آسمانوں کے اطراف میں، اور موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں، میں تو اس کو جھوٹا خیال کرتا ہوں، اور اس طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنادی گئی اور وہ سیدھی راہ سے روک دیا گیا، اور فرعون کی تدبیر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–37

فہم القرآن ربط کلام : مرد حق کے خطاب کے مقابلے میں فرعون کا ردّ عمل۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مرد حق کے مدلّل اور مؤثر خطاب کے بعد فرعون ہدایت قبول کرتا۔ لیکن اس نے اپنے خصوصی مشیر ہامان کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک بلندو بالا عمارت تعمیر کی جائے تاکہ میں اس کے ذریعے آسمان کے دروازوں تک پہنچ جاؤں اور دیکھوں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا الٰہ کہاں بیٹھا ہوا ہے۔ میں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا سمجھتا ہوں۔ فرعون کے تکبّر اور حد سے تجاوز کرنے کی وجہ سے اس کی رسی کھلی چھوڑ دی گئی۔ جس بنا پر اسے اپنی غلط سوچ، سیاست اور کردار بہترین دکھائی دیتا تھا۔ اسی بنا پر وہ سیدھے راستہ سے روک دیا گیا۔ فرعون کا ہر قدم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرعون کی ملمع سازی : وَقَالَ فِرْعَوْنُ (اور فرعون نے کہا) اپنی قوم کے ساتھ ملمع سازی کرتے ہوئے یا ان کی جہالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ يٰهَامٰنُ ابْنِ لِيْ صَرْحًا (اے ہامان ایک بلند عمارت بناؤ) صرح محل کے معنی میں آتا ہے۔ الصرح ایسی عمارت جو دیکھنے والے پر مخفی نہ رہے اگرچہ دور ہو جیسے کہا جاتا ہے صرح الشیء اذا ظہر۔ لَّعَلِّيْٓ اَبْلُغُ الْاَسْبَابَ (شاید میں آسمان پر جانے کی راہوں تک پہنچ جاؤں) قراءت : لعلی یہ یاء کے فتحہ کے ساتھ حجازی، شامی، ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ پھر اس کو تفخیم شان کیلئے بدل دیا اور اس غرض سے بدلا کہ اس سے مقصود امر عظیم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 35۔۔۔۔۔۔۔۔ ، الذین یجادلون فی آیات اللہ ، زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ یہ مسرف اور مرتاب کی تفسیر ہے یعنی جو لوگ اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہیں یعنی تکذیب کرکے ان کو باطل کرنے میں ۔ ، بغیر سلطان ، بغیرحجت کے ، اتا ھم، اللہ کی طرف سے ، کبرمقتا، یعنی یہ جگڑابڑا ہے ناراضگی میں ۔ ، ھنداللہ وعند الذین امنواکذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبرجبار، ابوعمر و اور ابن عامر رحمہما اللہ نے قلب کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دلیل حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قرأت ہے۔ ، علی کل قلب کل متکبرجبار،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–37

36۔ 37۔ ایمان دار قبطی کی نصیحت کے بیچ میں فرعون نے پہلی بات جو کہی تھی اسکا ذکر تو اوپر گزرا اس نصیحت کے بیچ میں فرعون کی دوسری بات ہے جس کا ذکر اس آیت میں ہے۔ دہریہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے خدا کو آنکھ سے نہیں دیکھا اس لئے ہم اس کی ہستی کے قائل نہیں علمائے پابند شریعت نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ جس عقل کے بھروسہ پر تم لوگوں نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے کی ہستی کا انکار کیا ہے اس عقل کو تم نے آنکھوں سے کب دیکھا ہے جو تم عقل کی ہستی کے قائل ہو اگر یہ کہتے ہو کہ عقل کی نشانیاں دیکھ کر ہم نے عقل کا اقرار کیا ہے تو پھر یہ بتلاؤ کہ اس نشانیوں والی عقل کو اور خود تم کو کس نے پیدا کیا ہے کیا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–46

آیت 23 ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔ اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 36–45

سورة المومن ہامان کی تعمیر کردہ عمارت قول باری ہے (یا ھامان ابن لی صرحا۔ اے ہامان ! میرے لئے ایک بلند عمارت بنوا) سفیان نے منصور سے اور انہوں نے ابراہیم سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ ہامان نے اینٹ کی عمارت بنوائی جبکہ لوگ اینٹوں کی عمارت کو ناپسند کرتے تھے وہ انہیں مقبروں میں استعمال کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 36–39

81 ہمیشہ کا گھر آخرت ہی کا ہے : سو اس مرد مومن نے مزید کہا اور کلمات تاکید کے ساتھ کہا کہ " بلاشبہ آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے "۔ لہذا اصل اور حقیقی کامیابی وہی ہے جو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں حاصل ہو۔ پس عاقل کا کام یہ ہے کہ وہ اسی ابدی زندگی کی کامیابی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصیب العین بنائے کہ دنیا کی یہ زندگی تو بہرحال فانی و عارضی اور نہایت مختصر ہے۔ اور آخرت کی اس ابدی زندگی میں فوز و فلاح اور کامیابی کا دار و مدار انسان کے سچے پکے ایمان و یقین اور عمل صالح پر ہے جس کی دعوت میں آپ لوگوں کو دے رہا ہوں۔ سو اس مرد مومن نے فرعون کو اس طرح چیلنج کرنے کے بعد دنیاوی لیڈروں کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–55

موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 28–37

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 28 تا 37: اسرار و معارف : چناچہ قوم فرعون کا بندہ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر قوم پر ظاہر نہ ہونے دیا تھا بول اٹھا کہ تم لوگ اس بات پر ایک انسان کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا پروردگار مانتا ہے حالانکہ وہ اللہ ہی کو تمہارا پروردگار بھی ثابت کرتا ہے اور اسی کی طرف سے واضح دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہے اگر بالفرض یہ جھوٹ کہتا ہے تو معمولی جرم نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولا جائے لہذا اسے اس کی سز ابھگتنا پڑے گی یعنی خود اللہ کی طرف سے سز اپائیگا تم کیوں تکلیف کرتے ہو لیکن یہ بھی دیکھو کہ یہ جو یہ کہ رہا ہے سچ ہوا تو تمہارا کیا بنے گا اگر تم انکار کرتے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 36–37

ف 2 یعنی موسیٰ جو دعویٰ کرتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا یہ کہ میرا خدا آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے تو میرے گمان میں وہ جھوٹا ہے۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے اوپر عرش پر ہے اس پر سب انبیاء ( علیہ السلام) و رسل ( علیہ السلام) اور صحابہ ؓ وتابعین (رح) اور ائمہ دین (رح) کا اتفاق ہے۔ ” غنیہ “ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آسمان پر ہونا ہر آسمانی کتاب میں مذکورہ ہے جو کسی پیغمبر ﷺ پر نازل کی گئی۔ نیز دیکھئے قصص 38 ( وجیز و حاشیہ جامع وغیرہ)3 برے کاموں سے مراد کفرو شرک کے کام ہیں۔ بھلے کر دکھانے کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے اس کی عقل مار دی، یہاں تک کہ وہ ان کاموں کو اچھا سمجھتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:36) ھامان : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے فرعون کا وزیر تھا جو کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سخت دشمن تھا اور فرعون کا بڑا معتمد تھا۔ ابن : فعل امر واحد مذکر حاضر کا صیغہ بناء (باب ضرب) مصدر سے۔ تو بنا۔ تو تعمیر کر۔ صرحا : ایک عالیشان عمارت یا محل جس میں نقش و نگار ہوں۔ ایسی اونچی عمارت (منارہ وغیرہ) جو دور سے دیکھنے والوں کو بھی دکھائی دے۔ اسی مناسبت سے تصریح کا لفظ بمعنی اظہار آتا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں آتا ہے قال انہ صرح ممرد من قواریر (27:44) (حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا) یہ ایسا محل ہے جس میں شیشے جڑے ہوئے ہیں ۔ لعلی ابلغ الاسباب ، لعی ، لعل حرف مشبہ بالفعل۔ ی ضمیر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 30–37

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 37 : داب (دستور ، قاعدہ ، قانون) التناد ( چیخ و پکار) عاصم (بچانے والا) ھاد (ہدایت دینے والا ، رہبر و رہنمائ) مازلتم ( تم ہمیشہ رہے) مرتاب ( شک کرنے والا) یطبع ( وہ مہر لگاتا ہے) جبار (بہت سختی کرنے والا) ابن ( بنائ) ( تعمیر کر دے) صرحا ( عمارت ، محل) اطلع ( میں جھانکوں گا) زین (خوبصورت بنا دیا گیا) صد ( اس نے روک دیا) کید ( تدبیر ، فریب) تباب (تباہی ، بربادی) تشریح : آیت نمبر 30 تا 37 :۔ اس سے پہلی آیات میں آپ نے پڑھ لیا ہے کہ آل فرعون میں سے ایک مرد مومن نے بھرے دربار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کرتے ہوئے آل فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–37

فرعون کی نافرمانی۔ (ف 1) فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا کہ میرے لیے ایک اونچا محل تیار کرو تاکہ میں اس پر چڑھ کر آسمان کے رستوں میں پہنچوں وہاں چڑھ کر ذرادیکھوں تو سہی کہ حضرت موسیٰ کا خدا کیسا ہے ؟ اور میں تو حضرت موسیٰ کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں مجھے تو یہ یقین نہیں کہ میرے سوا کوئی اور معبود بھی ہے فرعون نے اپنے آپ کو خدا کہلوایا اور بت پرستی پھیلائی اور شریعت موسوی کی باتوں کو خرابی کی باتیں بتلاتا، اور اپنے ان سب برے کاموں کو اچھا جانتا تھا، حضرت موسیٰ کے زندہ رہنے کے داؤ کے لیے فرعون نے بنی اسرائیل کے ہزاروں لڑکے قتل کرائے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آنے کے داؤ کے لیے حضرت موسیٰ اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–37

میں موسیٰ کے خدا ل کو دیکھنا چاہتا ہوں 1: فرعون نے جب دیکھا ۔ کہ موسیٰ کے مشن کو کامیابی ہورہی ہے ۔ اور لوگ خفیہ خفیہ اس کی تعلیمات پر ایمان لارہے ہیں ۔ تو اس کے ازراہ استخفاف ہامان سے کہا کہ یہ موسیٰ کس خدا کی دعوت دیتے ہیں ؟ ذرا ایک بلند معیار وبالا مینار نو تعمیر کرو ۔ میں ابھی تو دیکھوں کہ آسمانوں میں موسیٰ کا خدا کیونکر قرار پذیر ہے ۔ کیا یہ لوگوں کو بتلانا چاہتا تھا ۔ کہ میرے سوا اور کون خدا ہوسکتا ہے ؟ اور اگر کوئی خدا ہے تو وہ آسمانوں میں ہوگا ۔ اور اس کو میری طرح نظر آنا چاہیے ۔ گویا اس بیوقوف نے یہ سمجھا ۔ کہ خدا بھی میری طرح کوئی جسمانی قوت ہے جو مکان وجہت کی محتاج ہے اور جس کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(36) فرعون نے کہا اے ہامان میرے واسطے ایک محل اور بلند عمارت بناتا کہ میں اس پر چڑھ کر ان ذرائع اور اسباب کو حاصل کروں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 35–37

ف 5۔ اس لئے اس میں اصلا گنجائش حق فہمی کی نہیں رہتی۔ (فائدہ) یہ تقریر تھی ان مومن بزرگ کی اور اس تقریر سے ان بزرگ کا کتمان ایمان جاتا رہا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون نے اس مرد مومن کی کسی بات کا جواب نہ دیا لیکن ہامان سے مخاطب ہوا 36۔ فرعون نے اس مرد مومن کی باتیں سنیں اور ان میں سے کسی ایک بات کا جواب بھی نہ دیا اور ہامان سے مخاطب ہو کر کہنے لگا اے ہامان ! تم ایک بہت بلند عمارت ( طول منارہ ) بنائو جس کے اوپر چرھ کر میں موسیٰ کے رب کو تو جھانکوں کہ وہ اوپر کہاں ہے۔ یہ اس نے از راہ مذاق اور استہزاء کہا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے باربار رب کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میرا رب وہ ہے جو آسمانوں کا رب ہے اور یقینا باتوں ہی باتوں میں اوپر کو اشارہ بھی کیا ہوگیا کیونکہ قدرت الٰہی کا جب ذکر آتا ہے تو انسان فطرتا اوپر کو اشارہ کرتا ہے اور اس سے احمق اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The word: صرح (sarh) in verse 36: وَقَالَ فِرْ‌عَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْ‌حًا (And the Pharaoh said, "0 Haman, make a tower for me,) means a structure that rises high. An outward look at this statement suggests that the Pharaoh ordered his minister, Haman to build a structure that rises high into the sky close enough for him to go up, peek in and have a glimpse of God. If this wild thought, not imaginable even in the case of a man of very ordinary commonsense, really comes from Pharaoh, the sole master of the kingdom of Egypt, then, it is an evidence of his unbelievable folly - and if…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 36–37

55 Pharaoh addresses these words to Hamim, his minister, interposing in the speech of the Believer in a way as though he has no regard for what he was saying. Therefore, he turns away from him arrogantly and says to Haman, "Build me a high tower so that I may climb it to see where the God of whom this Moses speaks, lives." (For explanation, see AI-Qasas: 38 and E.N.'s thereof).

Read the full tafseer →