Explained with ayahs 30–35
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت۔
اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے ؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یاروکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لئے وبال جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 53
یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے گمراہی میں انہی لوگوں کو پھینکا جاتا ہے جن میں یہ تین صفات موجود ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنی بد اعمالیوں میں حد سے گزر جاتے ہیں اور پھر انہیں فسق و فجور کی ایسی چاٹ لگ جاتی ہے کہ اصلاح اخلاق کی کسی دعوت کو قبول کرنے کے لیے وہ آمادہ نہیں ہوتے۔ دوسرے یہ کہ انبیاء (علیہم السلام) کے معاملہ میں ان کا مستقل رویہ شک کا رویہ ہوتا ہے۔ خدا کے نبی ان کے سامنے خواہ کیسے ہی بینات لے آئیں، مگر وہ ان کی نبوت میں بھی شک کرتے ہیں اور ان حقائق کو بھی ہمیشہ شک ہی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو توحید اور آخرت کے متعلق انہوں نے پیش کیے ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ کتاب اللہ کی آیات…
Read the full tafseer →(آیت) كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ۔ یعنی جس طرح فرعون وہامان کے قلوب نے موسیٰ ؑ اور مومن آل فرعون کی نصیحتوں سے کوئی اثر نہیں لیا اسی طرح اللہ تعالیٰ مہر کردیتے ہیں ہر ایسے شخص کے قلب پر جو متکبر اور جبار ہو (متکبر، تکبر کرنیوالا اور جبار کے معنی ظالم قاتل) جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اس میں نور ایمان داخل نہیں ہوتا اور اس کو اچھے برے کی تمیز نہیں رہتی۔ ایک قرات میں متکبر اور جبار کو قلب کی صفت قرار دیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ تمام اخلاق و اعمال کا منبع اور سرچشمہ قلب ہی ہے، ہر اچھا برا عمل قلب ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے حدیث میں فرمایا ہے کہ انسان کے بدن میں ایک…
Read the full tafseer →دین کے معاملے میں بےدلیل دخل در معقولات کا انجام
یعنی اللہ کی آیات اور اس کے احکام کے باب میں جو گفتگو بھی ہونی چاہئے وہ سند اور دلیل کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ جو لوگ بغیر اس طرح کی کسی دلیل و سند کے ان کی مخالفت کرتے ہیں وہ اللہ اور اہل ایمان کے نزدیک نہایت مبغوض ہیں۔
’ کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار ‘ اس ٹکڑے سے ایک بات تو یہ واضح ہوئی کہ جو لوگ اس طرح کی کٹ حجتی کرتے ہیں یہ اس وجہ سے کرتے ہیں کہ ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر کردیا کرتا ہے جس کے سبب سے ان کی عقلیں الٹ جاتی ہیں اور وہ کوئی بات بھی اپنی خواہش کے خلاف ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اگرچہ وہ کتنی ہی واضح کیوں نہ ہو۔
دوسری بات…
Read the full tafseer →35۔ 1 یعنی اللہ کی طرف سے اتاری ہوئی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہے، اس کے باوجود اللہ کی توحید اور اس کے احکام میں جھگڑتے ہیں، جیسا کہ ہر دور کے اہل باطن کا وطیرہ رہا ہے۔
35۔ 2 یعنی ان کی اس حرکت سے اللہ تعالیٰ ہی ناراض نہیں ہوتا، اہل ایمان بھی اس کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔
35۔ 2 یعنی جس طرح ان مجادلین کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے اسی طرح ہر اس شخص کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے جو اللہ کی آیتوں کے مقابلے میں تکبر اور سرکشی کا اظہار کرتا ہے جس کے بعد معروف ان کو معروف اور منکر، منکر نظر نہیں آتا بلکہ بعض دفعہ منکر، ان کے ہاں معروف اور اور معروف، منکر قرار پاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
8: یہ خطاب فرعون کی قوم یعنی قبطیوں کو ہو رہا ہے، اور قبطیوں کو ہدایت کا پیغام حضرت یوسف ؑ نے دیا تھا۔
9: یعنی اول تو حضرت یوسف ؑ کی نبوت ہی کا انکار کرتے رہے، اور جب ان کی وفات ہوگئی تو ان کے کارنامے یاد کر کے تم نے یہ کہا کہ اگر وہ رسول تھے بھی تو اب ان جیسا آدمی پیدا نہیں ہوسکتا، اور اس طرح آئندہ بھی کسی پیغمبر کو ماننے کا دروازہ بند کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
آیت نمبر 28 تا 35
یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔
اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔
کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ…
Read the full tafseer →6 یعنی بدون حجت عقلیہ و نقلیہ کے اللہ کی باتوں میں جھگڑے ڈالتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر زیادتی اور بیباکی کیا ہوگی۔ اسی لیے اللہ اور اس کے ایماندار بندے ان لوگوں سے سخت بیزار ہیں جو سبب ہے ان کے انتہائی ملعون ہونے کا۔
7 جو لوگ حق کے سامنے غرور سے گردن نہ جھکائیں اور پیغمبروں کے ارشادات سن کر سر نیچا نہ کریں آخرکار ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ اسی طرح مہر کردیتا ہے کہ پھر قبول حق اور نفوذ خیر کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
Read the full tafseer →آیت 35 { نِ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰـٹہُمْ } ”جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو۔“
{ کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } ”بڑی بیزاری کی بات ہے یہ اللہ کے نزدیک بھی اور اہل ِایمان کے نزدیک بھی۔“
{ کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ } ”اسی طرح اللہ مہر لگا دیا کرتا ہے ہر اس شخص کے دل پر جو متکبر ّاور سرکش ہو۔“
اللہ کے اس فیصلے کے بعد پھر ایسے لوگوں کو ایمان کی دولت نصیب نہیں ہوتی۔
مومن ِآلِ فرعون کی اس تقریر کو پڑھتے ہوئے فرعون کے دربار کا نقشہ ذہن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
49 گمراہ ہونے والوں کی صفات :۔ گمراہ ہونے والوں کی دو صفات تو اوپر مذکور ہوچکیں۔ ایک یہ کہ حق سے انکار کرتے اور اپنی بداخلاقی اور فسق و فجور میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم جس کا اکثر حصہ توحید اور آخرت کے متعلق ہوتا ہے سے ہمیشہ شک و شبہ میں مبتلا رہے ہیں اور ان کی تیسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے اور ان میں اس طرح کج بحثی کرتے ہیں جس کی بنیاد نہ کسی عقلی دلیل پر ہوتی ہے اور نہ نقلی دلیل پر۔ اور اس کی وجہ محض ان کی ضد، ہٹ دھرمی اور تکبر یا پندار نفس ہوتا ہے۔ ان کی یہ صورت حال اللہ اور مومنوں کے نزدیک انتہائی نفرت انگیز ہوتی ہے اور جو انسان…
Read the full tafseer →36۔ (مغرور و جابر ومتکبر وجبار) چونکہ حق طلبی اور حق جوئی سے کام نہیں لیتا، اس لئے رفتہ رفتہ اس میں صلاحیت حق فہمی کی بھی باقی نہیں رہ جاتی۔ (آیت) ” یجادلون ..... سلطن “۔ جدال بلادلیل کی اس مذمت سے یہ نکلا کہ جدال حجت صحیحہ کے ساتھ کرنا مستحسن ہے فی ذمہ لھم بانھم یجادلوں بغیر سلطان دلالۃ علی ان الجدال بالحجۃ حسن وحق (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
آیت نمبر 28 تا 37
ترجمہ : اور ایک مومن شخص نے جو فرعون کے خاندان میں سے تھا کہا گیا ہے کہ وہ اس کا چچا زاد بھائی تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی جانب سے دلیلیں یعنی کھلے ہوئے معجزے لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کے جھوٹ کا (وبال) اسی پر ہے، اور اگر وہ سچا ہو تو جس دنیوی عذاب کا وہ تم سے وعدہ کررہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تم پر آپڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتے جو (شرک کرکے) حد سے تجاوز کرنے والا ہو، جھوٹا ہو، اے میری قوم کے لوگو ! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ تم ملک مصر پر غالب ہو،…
Read the full tafseer →الذین یجادلون فی ایت بغیر سلطان اتاھم کبر مقتا عند اللہ وعند اذین امنوا کذلک
یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار جو بغیر کسی خداداد سند کے اللہ کی آیات میں جھگڑاے نکالا کرتے ہیں۔ اس (کج بحثی) سے اللہ تعالیٰ کو بھی بڑی نفرت ہے اور مؤمنوں کو بھی۔ اسی طرح اللہ ہر مغرور و جابر کے پورے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
اَلَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ موصول اول سے بدل ہے ‘ کیونکہ مَنْ ھُوَ (یعنی موصول اول) جمع کے حکم میں ہے۔
سُلْطٰنٍ واضح دلیل ‘ یعنی آیات الٰہیہ میں کسی واضح دلیل کی روشنی میں جھگڑے نہیں نکالتے بلکہ صرف تقلید اسلاف یا بےبنیاد شبہات کی وجہ سے جھگڑتے ہیں۔
کَبُرَ مَقْتًا ‘ کَبُر کی ضمیر مفرد مَنْکی طرف…
Read the full tafseer →جو بلا کسی سند کے جو اللہ کی جانب سے ان کے پاس ہو رسول اکرم اور قرآن کریم کی تکذیب کرتے ہیں جیسا کہ ابوجہل اور اس کے بدکردار ساتھی ان کی باتیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی غصہ اور نفرت کا باعث ہیں اور مومنین کو بھی دنیا میں ان سے نفرت ہے اسی طرح اللہ ہر ایک ایمان سے تکبر کرنے والے اور حق و ہدایت کے قبول کرنے سے سرکشی کرنے والے کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →(1) الذین یجادلون فی ایت اللہ …: یہ ان لوگوں کی تیسری صفت ہے جنہیں اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا، بلکہ انہیں ضلالت میں مبتلا کردیتا ہے، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی واضح اور روشن آیات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے اور انہیں سعادت مندی کے ساتھ تسلیم کرنے کے بجائے انہیں ٹھکرانے کے لئے صحیح عقل یا نقل سے آنے والی کسی دلیل کے بغیر جھگڑتے اور کج بحثی کرتے ہیں۔ فرمایا، ان کا کل سرمایہ شور و غوغا، استہزاء اور ہٹ دھرمی ہوتا ہے۔ یہ تین عیوب جن لوگوں میں پیدا ہوجاتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ بھی گمراہی کے گڑھے میں پھینک یدتا ہے۔
(2) کبر مقتا عند اللہ و عند الذین امنوا :”کبر“ کا فاعل وہ جدال ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
( ولقد جاء کم یوسف۔۔۔۔۔۔ )
ولقد جاء کم یوسف من قبل بالبینت ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آل فرعون کے مومن کی نصیحت کا کلمہ ہے انہیں یاد دلایا کہ وہ انبیاء پر پہلے بھی سرکشی کرتے آتے ہیں یہ ارادہ کیا کہ حضرت یوسف بن یعقوب (علیہما السلام) ان کے پاس بینات لائے :” ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القھار۔ “ (یوسف) ابن جریج نے کہا : اس سے مراد حضرت یوسف بن یعقوب ہیں اللہ تعالیٰ نے جنہیں قبطیوں کی طرف بھیجا تھا جبکہ بادشاہ فوت ہوچکا تھا یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے ہوا، بینات سے مراد خواب ہیں (1) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد یوسف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–38
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد جآء کم یوسف من قبل بالبینت “ (اور اس سے پہلے تم لوگوں کے پاس یوسف (علیہ السلام) واضح دلائل لے کر آچکے ہیں اس میں بینات سے مراد ہے یوسف (علیہ السلام) کا خواب۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن “ (وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی آیات میں بغیر دلیل کے) اس میں سلطان سے مراد ہے دلیل یعنی بغیر دلیل کے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ مؤمن جسے اچھاخیال کریں تو وہ اللہ کے نزدیک اچھا ہے اور مؤمن جسے برا خیال کریں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی برا ہے اور اعمش اس آیت…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ [ جو لوگ کٹ حجتی کرتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ اللہ کی آیتوں میں ] بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ [ کسی ایسی دلیل کے بغیر ] اَتٰىهُمْ ۭ [ جو پہنچی ان کو ] كَبُرَ [ (یہ بات) بڑی ہے ] مَقْتًا [ بلحاظ بیزاری کے ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے نزدیک ] وَعِنْدَ الَّذِيْنَ [اور ان کے نزدیک جو ] اٰمَنُوْا ۭ [ایمان لائے ] كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ [ اس طرح ٹھپہ لگا دیتا ہے اللہ ] عَلٰي كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ [ کسی بھی شبہ کرنے والے تکبر کرنے والے کے دل کے کل پر ]
Read the full tafseer →مسرف و مرتاب کا گمراہ ہونا اور ہر متکبر جبار کے دل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہر لگ جانا
مرد مومن کا سلسلہ کلام جاری ہے اس نے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو ڈرایا اور یاد دلایا کہ دیکھو تم سے پہلے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلا کر گزشتہ امتیں ہلاک ہوچکی ہیں اس کے بعد ان سے خصوصی طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بعثت کا تذکرہ کیا جو اہل مصر کی طرف مبعوث ہوئے تھے انہیں یاد دلایا کہ دیکھو حضرت یوسف (علیہ السلام) دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آئے لیکن تم نے ان کو بھی جھٹلایا اور انہوں نے جو دعوت پیش کی اور اللہ تعالیٰ کے احکام بتلائے تم اس میں برابر شک کرتے رہے تم نے یہ تسلیم نہ کیا کہ یہ اللہ کے رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–45
قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…
Read the full tafseer →43:۔ ” الذین یجادلون “ جو محض ضد وع ناد کی وجہ سے دلیل و حجت کے بغیر ہی اللہ کی آیتوں میں جدال اور جھگرا کرتے رہتے ہیں۔ ” کبر مقتا الخ “ یہ بات یعنی اللہ کی توحید اور اس کی آیتوں میں جھگرنا اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کے نزدیک نہایت ہی ممقوت و مبغوض اور قابل مذمت فعل ہے۔ کذالک ای لذلک یعنی مبدا توحید (آیات الٰہی) میں جدال و نزاع کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ہر مغرور اور جابر کے دل پر مہر جباریت ثبت کردیتا ہے، چونکہ وہ حق جوئی کے جذبے سے عاری اور ضد پر قائم ہوتے ہیں، اس لیے انہیں ہدایت قبول کرنے کی فوفیق نہیں ملتی۔ جب آدمی توحید کے دلائل واضحہ اور آیات بینات دیکھ کر پھر بھی شک میں رہا، تو یہ شک اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید اور جزائے عمل کی بات سمجھانے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا جس وقت آپ نے فرعون ، ہامان ، اور قارون ، کے سامنے خدا تعالیٰ کا پیغام رکھا تو انہوں نے آپ کو ساحر اور کذاب کہہ دیا ، فرعون خاص طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کو راستے سے ہٹانے کے لیے بری تدبیریں سوچنے لگا ، اس نے اپنے حواریوں سے کہا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے دو ، موسیٰ (علیہ السلام) نے ہر متکبر کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی ۔ اس دوران میں فرعون کی قوم کا ایک مرد مومن سامنے آگیا جو اپنے ایمان کو چھپا رہا تھا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا تم ایک ایسے شخص کو…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِ اللہِ بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىہُمْ 0 ۭ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللہِ وَعِنْدَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا 0 ۭ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللہُ عَلٰي كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ 35
جدل
الجِدَال : المفاوضة علی سبیل المنازعة والمغالبة، وأصله من : جَدَلْتُ الحبل، أي : أحكمت فتله ۔ قال اللہ تعالی: وَجادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ [ النحل/ 125]
( ج د ل ) الجدال
( مفاعلۃ ) کے معنی ایسی گفتگو کرنا ہیں جسمیں طرفین ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کریں اصل میں یہ جدلت الحبل سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں رسی کو مضبوط بٹنا اسی سے بٹی ہوئی رسی کو الجدیل کہا جاتا ہے ۔ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
تفسیر : یہ اس مومن کا ایک اور قول ہے یا قوم انی اخاف علیکم یوم التناد تناد کو جمہور نے تخفیف دال و حذف یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کی اصل تنادی ہے، باب تفاعل ہے۔ نادیٰ ینادی نداء بمعنی آواز سے مشتق ہے کہ اے قوم ! مجھے تمہاری نسبت آواز دینے کے دن سے ڈر ہے۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے کہ ملائکہ پکاریں گے اور اہل جنت کو ان کے مقامات کی طرف آنے کو کہیں گے یا ایک دوسرے کو مدد کے لیے پکارے گا، جس طرح کہ مصیبت کے وقت پکارا کرتے ہیں اور ممکن ہے کہ اس سے غرض اس کی دنیا میں مصیبت اور ہزیمت کا دن ہو، جس کے آنے کی خبر اس کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے دی تھی یا اس کو خود سنت اللہ کو دیکھ کر معلوم ہوگیا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
وَلَقَدْ جَآئَ کُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَـبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْـتُمْ فِیْ شَکٍّ مِّمَّا جَآئَ کُمْ بِہٖ ط حَتّٰیٓ اِذَا ھَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَّـبْـعَثَ اللّٰہُ مِنْ م بَعْدِہٖ رَسُوْلاً ط کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ نِ ۔ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰـہُمْ ط کَبُرَمَقْتًا عِنْدَاللّٰہِ وَعِنْدَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ۔ (المؤمن : 34، 35)
(اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بینات لے کر آئے تھے، مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے ہمیشہ شک ہی میں پڑے رہے، حتیٰ کہ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
فہم القرآن
ربط کلام : مرد مومن کا خطاب جاری ہے۔
مرد مومن نے مصر کی پرانی تاریخ کا حوالہ دے کر اپنی قوم کو سمجھایا کہ یاد کرو ! جب تمہارے پاس اس سے پہلے یوسف (علیہ السلام) کھلے دلائل کے ساتھ آئے تھے۔ تم نے ان کے بارے میں بھی شک کا اظہار کیا تھا۔ جب یوسف (علیہ السلام) فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعد کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے۔ ایسے لوگوں کو جو حق بات میں شک کرنے والے اور حد سے تجاوز کرنے والے ہوتے ہیں اور بغیر کسی دلیل کے اللہ کے احکام اور ارشادات کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ بلاجواز جھگڑنا اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کے نزدیک بڑی بری بات ہے۔ اللہ…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ (جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات میں جھگڑا نکالتے ہیں) یہ من ھو مسرف سے بدل ہے۔ اور اس کا بدل بننا درست ہے اگرچہ وہ مفرد اور یہ جمع ہے کیونکہ ایک مسرف مراد نہیں بلکہ ہر مسرف مراد ہے۔ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ (اللہ تعالیٰ کی آیات میں) یعنی ان کے باطل قرار دینے اور دور کرنے میں بِغَيْرِ سُلْطٰنٍ (بغیر کسی دلیل کے) اَتٰىهُمْ ۭ كَبُرَ مَقْتًا (جو ان کے پاس موجود ہو۔ بڑی نفرت) یعنی غصہ کے لحاظ سے بہت بڑی ہے۔ کبر کا فاعل من ھو مسرف کی ضمیر ہے۔ وہ لفظاً واحد ہے مگر معناً جمع ہے پس بدل معنی کے لحاظ سے لایا گیا۔ اور ضمیر میں لفظ کا لحاظ رکھا گیا اور واحد لائے اور الذین کا مرفوع ہونا…
Read the full tafseer →34، ولقد جاء کم یوسف من قبل، یعنی یوسف بن یعقوب (علیہ السلام) اس سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے۔ ، بالبینات، اس سے یوسف (علیہ السلام) کا قول ، ء ارباب متفرقون خیرام اللہ الواحد القھار، مراد ہے۔
، فمازلتم فی شک مماجاء کم بہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت سے۔ ، حتی اذا ھلک، وفات پاگئے۔ ، قلتم لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا، یعنی تم اپنے کفرپرقائم رہے اور تم نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ تم پر نئی حجت نہ بھیجیں گے۔ ، کذلک یضل اللہ من ھومسرف، مشرک ہو۔ ، مرتاب، شک کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
30۔ 35۔ اس ایماندار شخص کی نصیحت کے بیچ میں وہ بات فرعون نے کہہ دی تھی جس کا ذکر اوپر کی آیت میں تھا اب پھر اس ایماندار شخص کی نصیحت کا سلسلہ شروع ہوا اس ایماندار شخص نے اپنی اس نصیحت میں یہ جو کہا کہ مصر کے لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد یوں کہتے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پیچھے اللہ تعالیٰ اور کوئی پیغمبر نہ بھیجے گا اس سے یہ مطلب اس ایماندار شخص کا نہیں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پیغمبری کے مصر کے لوگ قائل تھے کیونکہ انہی آیتوں میں ہے فماز لتم فی شک مما جاء کم بہ جس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کے دھوکے طرح تم یوسف (علیہ السلام) کے معجزوں سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–46
آیت 23
ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
74 اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر سند کے جھگڑنا باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ایسے لوگوں کی صفت کاشفہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر کسی سند کے "۔ اس سے مراد وہ جدال اور جھگڑا ہے جو حق کو نیچا دکھانے اور اس میں کجی پیدا کرنے کے لئے ہو۔ ورنہ وہ بحث مباحثہ جو اللہ پاک کی آیتوں کو سیکھنے سکھانے اور سمجھنے سمجھانے کے لئے اور حجت و دلیل کی بنا پر ہو تو وہ محمود و مطلوب ہے کہ وہ ہوتا ہے سند اور دلیل کی بنا پر۔ جبکہ ایسے لوگوں کا تمام بحث و مباحثہ اور جدال و جھگڑا بغیر کسی سند اور دلیل کے محض نفس پرستی کی بنیاد پر اور اوہام و خرافات کے سہاروں پر ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 28 تا 37:
اسرار و معارف :
چناچہ قوم فرعون کا بندہ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر قوم پر ظاہر نہ ہونے دیا تھا بول اٹھا کہ تم لوگ اس بات پر ایک انسان کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا پروردگار مانتا ہے حالانکہ وہ اللہ ہی کو تمہارا پروردگار بھی ثابت کرتا ہے اور اسی کی طرف سے واضح دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہے اگر بالفرض یہ جھوٹ کہتا ہے تو معمولی جرم نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولا جائے لہذا اسے اس کی سز ابھگتنا پڑے گی یعنی خود اللہ کی طرف سے سز اپائیگا تم کیوں تکلیف کرتے ہو لیکن یہ بھی دیکھو کہ یہ جو یہ کہ رہا ہے سچ ہوا تو تمہارا کیا بنے گا اگر تم انکار کرتے…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی اللہ تعالیٰ گمراہی میں انہی لوگوں کو مبتلا کرتا ہے جن میں تین صفات پائی جاتی ہے۔ ایک ’ ’ مسرف “ یعنی جو اپنی بد اعمالی یا کسی شخص کی عقیدت میں حد سے بڑھنے والے ہوں۔ دوسرے ” مرتاب “ یعنی اللہ کی آیات اور اس کے رسولوں کی کہی ہوئی باتوں میں شک کرنے والے ہوں اور تیسرے ” لجدال بالباطل “ یعنی قرآن و حدیث پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی بجائے ان میں کج بحثیاں کرتے ہوں اور تکبر سے کام لیتے ہوں۔
1 یعنی جب کوئی شخص تکبر و تجبر ( غرور اور اینٹھوپن) میں حد سے گزر جاتا ہے اور کوئی صحیح بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا تو اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ پھر اسراف و ارتیاب کے کام اس سے صادر ہوتے رہتے…
Read the full tafseer →(40:35) الذین یجادلون : یہ من ھو مسرف سے بدل ہے کیونکہ مسرف جمع کے حکم میں ہے۔ لانہ لایرید مسرفا واحدا بل کل مسرف جو جھگڑے نکالتے ہیں جھگڑتے ہیں جھگڑا کرتے رہتے ہیں۔ یجادلون مضارع جمع مذکر غائب مجادلۃ (مفاعلۃ) سے۔ جدال جھگڑا۔ آیات اللہ میں جدال کی مندرجہ ذیل تین صورتیں ہیں :۔
(1) آیات کی بےجا تاویل کرنا۔
(2) ان میں عیب نکالنا۔
(3) ان میں تضاد پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔
سلطن۔ برہان، حجت، دلیل، سند وغیرہ ۔
اتھم : اتی ۔ ایتاء (افعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ اس نے ان کو دیا۔ یا۔ دی۔ بغیر سلطن اتھم : بغیر کسی سند یا دلیل کے جو اس نے ان کو دی ہو۔ اتی میں ضمیر فاعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 37 : داب (دستور ، قاعدہ ، قانون) التناد ( چیخ و پکار) عاصم (بچانے والا) ھاد (ہدایت دینے والا ، رہبر و رہنمائ) مازلتم ( تم ہمیشہ رہے) مرتاب ( شک کرنے والا) یطبع ( وہ مہر لگاتا ہے) جبار (بہت سختی کرنے والا) ابن ( بنائ) ( تعمیر کر دے) صرحا ( عمارت ، محل) اطلع ( میں جھانکوں گا) زین (خوبصورت بنا دیا گیا) صد ( اس نے روک دیا) کید ( تدبیر ، فریب) تباب (تباہی ، بربادی)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 37 :۔ اس سے پہلی آیات میں آپ نے پڑھ لیا ہے کہ آل فرعون میں سے ایک مرد مومن نے بھرے دربار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کرتے ہوئے آل فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
(ف 1) اس مسلمان نے کہا جو قوم فرعون میں سے تھا کہ اے لوگو مجھ کو یہ خوف ہے کہ کہیں تم پر ایسا عذاب نہ آجائے جیسا کہ اگلی جماعتوں پر آیا ، جیسے قوم نوح کا حال ہوا تھا اور قوم عاد اور ثمود کا اور ان لوگوں کا جو ان کے بعد گزرے، دیکھو ان لوگوں کے سامنے پیغمبر ان برحق نے دعوی نبوت کیا، انہوں نے جھٹلایا اس کا نتیجہ یہ پایا کہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوئے کسی پر کسی قسم کا عذاب آیا کسی پر کسی قسم کا، پس اس لیے تم سے کہتا ہوں کہ ذراسوچ سمجھ کر کام کرو، اگر ان کا قول سچ ہوا، یعنی یہ اگر پیغمبر برحق ہوئے تو یاد رکھنا کہ سخت بلاؤں میں مبتلا ہوجاؤ گے اپنے کیے کی سزا پاؤ گے دنیا میں برباد ہوگی، اور دین بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
[14] یہ مضمون سورة قصص کی آیت 38 صفحہ 914 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
میں موسیٰ کے خدا ل کو دیکھنا چاہتا ہوں
1: فرعون نے جب دیکھا ۔ کہ موسیٰ کے مشن کو کامیابی ہورہی ہے ۔ اور لوگ خفیہ خفیہ اس کی تعلیمات پر ایمان لارہے ہیں ۔ تو اس کے ازراہ استخفاف ہامان سے کہا کہ یہ موسیٰ کس خدا کی دعوت دیتے ہیں ؟ ذرا ایک بلند معیار وبالا مینار نو تعمیر کرو ۔ میں ابھی تو دیکھوں کہ آسمانوں میں موسیٰ کا خدا کیونکر قرار پذیر ہے ۔ کیا یہ لوگوں کو بتلانا چاہتا تھا ۔ کہ میرے سوا اور کون خدا ہوسکتا ہے ؟ اور اگر کوئی خدا ہے تو وہ آسمانوں میں ہوگا ۔ اور اس کو میری طرح نظر آنا چاہیے ۔ گویا اس بیوقوف نے یہ سمجھا ۔ کہ خدا بھی میری طرح کوئی جسمانی قوت ہے جو مکان وجہت کی محتاج ہے اور جس کو…
Read the full tafseer →(35) مسرف ومرتاب وہ لوگ ہیں جو بغیر کسی ایسی دلیل کے جوان کو ملی ہو اور ان کے پاس آئی ہو اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑا نکالتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اور ان لوگوں کے نزدیک جو ایمان لائے ہیں یہ رویہ بڑاناپسندیدہ ہے اور یہ کج بحثی اللہ تعالیٰ کے اور مسلمانوں کے نزدیک بہت مبغوض ہے جس طرح تمہارے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے مہر کردی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر متکبر اور سرکش کے دل پر مہر کردیا کرتا ہے۔ یعنی یہ مسرف ومرتاب وہی لوگ ہیں جو بغیر کسی دلیل آسمانی کے خواہ وہ دلیل عقلی ہو یا نقلی اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں جھگڑا نکالا کرتے ہیں اور کج بحثیاں کرتے ہیں اور یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے اور ایمان والوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
ف 5۔ اس لئے اس میں اصلا گنجائش حق فہمی کی نہیں رہتی۔
(فائدہ) یہ تقریر تھی ان مومن بزرگ کی اور اس تقریر سے ان بزرگ کا کتمان ایمان جاتا رہا۔
Read the full tafseer →دین کے معاملہ میں بےدلیل بات کبھی قابل قبول نہیں ہوتی
35۔ اس مرد مومن نے جو باتیں کیں وہ سب کی سب ایک دوسرے سے زیادہ بڑھ کر عقل وفکر کو اپیل کرنے والی ہیں اور اتنی سچی اور صاف ہیں کہ کوئی شخص ان کو من حیث العقل غیر معقول نہیں کہہ سکتا اگرچہ تسلیم کرنا نہ کرنا اس کا ذاتی فعل ہے۔ زیر نظر آیت میں اس کا بیان ہے جو اس نے قوم کے سامنے دیا اور ان کو باور کرایا کہ دین کے معاملہ میں کوئی بات بےسند اور بےدلیل قابل قبول نہیں ہونی چاہیے اور جو لوگ بغیر کسی دلیل اور سند کے مخالفت کرتے ہیں وہ اللہ اور اہل ایمان کے نہایت مبغوض ہیں لیکن افسوس کہ اس وقت ہمارے زمنہ میں لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ دین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
In verse 35, it was said: كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ (That is how Allah stamps a seal on the entire heart of an arrogant tyrant), that is, the way the hearts of Pharaoh and Haman remained unaffected by the good counsel of Sayyidna Musa (علیہ السلام) and the believer from the House of Pharaoh, similarly, Allah Ta’ ala cancels out or puts a seal on the heart of every such person who is arrogant and tyrannical (someone proud and arrogant, someone unjust and oppressive). When this happens, the effect is that the light of faith does not enter that heart,…
Read the full tafseer →52 It so appears that the ncxt few sentences are an addition by Allah and an explanation of the words of the Believer of the people of Pharaoh.
53 That is, "Allah allows only those people to go astray who possess the following three qualities: (1) They transgress all limits in their evildoing. and then develop such a taste for it that they do not feel inclined to accept any invitation to reform their morals (2) their permanent attitude in respect of the Prophets is characterised by doubt and suspicion. The Prophets of God may bring any clear Signs before them, yet they doubt their Prophethood…
Read the full tafseer →