Explained with ayahs 28–29
ایک مرد مومن کی فرعون کو نصیحت۔
مشہور تو یہی ہے کہ یہ مومن قبطی تھے (ؒ تعالیٰ) اور فرعون کے خاندان کے تھے۔ بلکہ سدی فرماتے ہیں فرعون کے یہ چچا زاد بھائی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی حضرت موسیٰ کے ساتھ نجات پائی تھی۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ بلکہ جن لوگوں کا قول ہے کہ یہ مومن بھی اسرائیلی تھے۔ آپ نے ان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ اسرائیلی ہوتے تو نہ فرعون اس طرح صبر سے ان کی نصیحت سنتا نہ حضرت موسیٰ کے قتل کے ارادے سے باز آتا۔ بلکہ انہیں ایذاء پہنچاتا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے آل فرعون میں سے ایک تو یہ مرد ایمان دار تھا اور دوسرے فرعون کی بیوی ایمان…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 48
یعنی کیوں اللہ کی دی ہوئی اس نعمت غلبہ و اقتدار کی ناشکری کر کے اس کے غضب کو اپنے اوپر دعوت دیتے ہو ؟
سورة الْمُؤْمِن 49
فرعون کے اس جواب سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابھی تک وہ یہ راز نہیں پاسکا تھا کہ اس کے دربار کا یہ امیر دل میں مومن ہوچکا ہے، اسی لیے اس نے اس شخص کی بات پر کسی ناراضی کا اظہار تو نہیں کیا، البتہ یہ واضح کردیا کہ اس کے خیالات سننے کے بعد بھی اپنی رائے بدلنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
(آیت) يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗٓ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اگر لوگوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار نہ کرے دل سے اعتقاد پختہ رکھے تو وہ مومن ہے مگر نصوص صریحہ سے یہ ثابت ہے کہ ایمان کے مقبول ہونے کے لئے صرف دل کا یقین کافی نہیں بلکہ زبان سے اقرار کرنا شرط ہے، جب تک زبان سے اقرار نہ کرے گا مومن نہ ہوگا۔ البتہ زبان کا اقرار لوگوں کے سامنے اعلان کے ساتھ کرنا ضروری نہیں۔ اس کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ جب تک لوگوں کو اس کے ایمان کا علم نہیں ہوگا وہ اس کے ساتھ معاملہ مسلمانوں جیسا نہ کرسکیں گے۔ (قرطبی)
مومن من آل فرعون نے اس مکالمہ میں آل فرعون اور فرعون کو مختلف عنوانات سے حق اور ایمان کی طرف بلایا اور…
Read the full tafseer →مرد مومن کی تقریر بالتدریج واضح ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے قوم کے اعیان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج آپ لوگوں کو ملک میں اقتدار حاصل ہے۔ آپ لوگ جو چاہیں کرسکتے ہیں، کوئی آپ کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے۔ لیکن اس سوال پر سنجیدگی سے غور کر لیجیے کہ اگر اس کے نتیجہ میں ہم پر خدا کا عذاب آ دھمکا تو خدا کی پکڑ سے ہم کو بچانے والا کون بنے گا۔
فرعون کی ایک بےمحل مداخلت
’ قال فرعون ما اریکم الا ما اری وما اھدیکم الا سبیل الرشاد ‘۔ مرد مومن کی یہ تقریر بھرے دربار میں، فرعون کے سامنے، ہو رہی تھی اس وجہ سے فرعون نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جو تجویز (درباب قتل موسیٰ ؑ آپ لوگوں کے سامنے رکھی ہے وہ…
Read the full tafseer →29۔ 1 یعنی یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ تمہیں زمین پر غلبہ عطا فرمایا اس کا شکر ادا کرو اور اس کے رسول کی تکذیب کر کے اللہ کی ناراضی مول نہ لو۔
29۔ 2 یہ فوجی لشکر تمہارے کچھ کام نہ آئیں گے، نہ اللہ کے عذاب ہی کو ٹال سکیں گے اگر وہ آگیا۔ یہاں تک اس مومن کا کلام تھا جو ایمان چھپائے ہوئے تھا۔
29۔ 3 فرعون نے اپنے دنیاوی جاہ جلال کی بنیاد پر جھوٹ بولا اور کہا کہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں وہی تمہیں بتلا رہا ہوں اور میری بتلائی ہوئی راہ ہی صحیح ہے حالانکہ ایسا نہیں تھا وما امر فرعون برشید (ھود)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
6: یہ صاحب کون تھے ؟ ان کا نام قرآن کریم نے نہیں لیا، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ فرعون کے چچا زاد بھائی تھے، اور ان کا نام شمعان تھا۔ واللہ اعلم
7: یعنی جو شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے، اسے اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں رسوا کردیتا ہے، اس لیے اگر بالفرض یہ جھوٹے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں خود رسوا کردے گا، تمہیں ان کو قتل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
آیت نمبر 28 تا 35
یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔
اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔
کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ…
Read the full tafseer →7 یعنی اپنے سامانوں اور لشکروں پر مغرور مت بنو۔ آج تمہاری یہ شان و شکوہ ہے لیکن کل اگر خدا کے عذاب نے آگھیرا تو کوئی بچانے والا نہ ملے گا۔ یہ سب سازو سامان یوں ہی رکھے رہ جائیں گے۔
8 یعنی تمہاری تقریر سے میرے خیالات تبدیل نہیں ہوئے۔ جو کچھ میرے نزدیک مصلحت ہے وہ ہی تم کو سجھا رہا ہوں۔ میرے خیال میں بہتری کا راستہ یہ ہی ہے کہ اس شخص کا قصہ پہلے ہی قدم پر ختم کردیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 29 { یٰــقَوْمِ لَکُمُ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ظٰہِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ } ”اے میری قوم کے لوگو ! آج تو تمہارے ہاتھ میں حکومت ہے اور تم ہر طرح سے زمین میں غالب ہو۔“
آج تو تم ایک عظیم الشان سلطنت کے مالک ہو اور پوری دنیا میں تمہاری طاقت کا ڈنکا بج رہا ہے۔
{ فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْم بَاْسِ اللّٰہِ اِنْ جَآئَ نَا } ”لیکن اگر کہیں ہم پر اللہ کا عذاب آگیا تو اس سے بچانے کے لیے ہماری مدد کون کرے گا ؟“
{ قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ اُرِیْکُمْ اِلَّا مَآ اَرٰی } ”فرعون نے کہا : میں تو تمہیں وہی کچھ دکھا رہا ہوں جو مجھے نظر آ رہا ہے“
مجھے تو یہ نظر آ رہا ہے کہ اگر اب بھی موسیٰ علیہ السلام ٰ کا قصہ پاک نہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
42 کیا تم اس کے قتل کی بات محض اس لئے کرتے ہو کہ آج تمہارے ہاتھ میں حکومت ہے اور اگر تم ایساکر بھی لو گے تو تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ لیکن اگر وہ سچا ہوا اور تم پر اللہ کی طرف سے عذاب آگیا تو اس وقت تمہاری یہ حکومت کسی کام نہ آئے گی۔ اور سب تباہ ہوجائیں گے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک بھی اس نے اپنا ایمان ظاہر نہ کیا تھا۔ اور فرعون اور اس کے درباریوں سے غیر جانبدار رہ کر ناصحانہ قسم کی باتیں کر رہا تھا۔
43 فرعون کے اس جملہ سے بھی معلوم ہو رہا ہے کہ فرعون اسے تاحال اپنا مخالف یا مومن نہیں سمجھتا تھا بلکہ اسے اپنا ناصح ہی سمجھ رہا تھا۔ اسی لئے اس نے اس مرد مومن کو یہ جواب دیا کہ…
Read the full tafseer →30۔ (اور اس کا وقوع ایک سچے نبی کے قتل کے بعد یقینی ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
آیت نمبر 28 تا 37
ترجمہ : اور ایک مومن شخص نے جو فرعون کے خاندان میں سے تھا کہا گیا ہے کہ وہ اس کا چچا زاد بھائی تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی جانب سے دلیلیں یعنی کھلے ہوئے معجزے لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کے جھوٹ کا (وبال) اسی پر ہے، اور اگر وہ سچا ہو تو جس دنیوی عذاب کا وہ تم سے وعدہ کررہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تم پر آپڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتے جو (شرک کرکے) حد سے تجاوز کرنے والا ہو، جھوٹا ہو، اے میری قوم کے لوگو ! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ تم ملک مصر پر غالب ہو،…
Read the full tafseer →یقوم لکم الملک الیوم ظھرین فی الارض فمن ینصرنا من باس اللہ ان جاء نا اے میری
قوم والو ! آج تو تمہاری حکومت ہے ‘ اس ملک میں تم غالب ہو ‘ لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو اس سے ہم کو کون مدد کر کے بچائے گا ؟
ظٰھِرِیْنَ غالب ‘ اونچے۔ الْاَرْضِ یعنی مصر کی سرزمین۔ مطلب یہ ہے کہ ملک مصر میں تمہاری حکومت ہے ‘ تم کو غلبہ حاصل ہے ‘ اسلئے اللہ کے نبی کو قتل کر کے عذاب خداوندی کا نشانہ نہ بنو کہ تمہاری حکومت اور سلطنت تباہ ہوجائے۔ اگر اللہ کا عذاب آگیا تو کوئی اس سے ہم کو بچا نہ سکے گا۔
یَنْصُرُنَا میں نَا ضمیر جمع اسلئے ذکر کی کہ وہ بندۂ مؤمن نسب کے لحاظ سے قبطی ہی تھا ‘ اس کے علاوہ وہ یہ بات بتانا…
Read the full tafseer →اے میرے بھائیو آج سرزمین مصر پر تمہاری بادشاہت ہے تو اللہ کے عذاب میں ہماری کون مدد کرے گا اگر وہ ہم پر آپڑا۔
فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی رائے دوں گا جو میں خود صحیح سمجھ رہا ہوں کہ تم میری عبادت کرو اور میں تمہیں عین حق و ہدایت کا راستہ بتاتا ہوں۔
Read the full tafseer →(1) یقوم لکم الملک الیوم …: اس مرد مومن نے ”اے میری قوم !“ کہہ کر ان کے ساتھ اپنے اس تعلق کا اظہار کیا جو وہ فرعون کے خاندان کا ایک قبطی فرد ہونے کی بنا پر ان سے رکھتا تھا اور ”الیوم“ (آج) کہہ کر اس نے انہیں زمانے کے انقلابات کی طرف توجہ دلائی کہ یہ غلبہ و اقتدار دائمی چیز نہیں، اگر یہ کل یوسف ؑ اور ان کے جانشین اسرائیلیوں کے پاس تھا اور آج اس سر زمین مصر میں تمہارے پاس ہے اور تم اسرائیلیوں پر غالب ہو تو اسرائیلیوں کی طرح تم سے بھی چھن سکتا ہے اور کفر و شرک اور ظلم وتعدی کی وجہ سے پہلی اقوام کی طرح تم بھی اللہ کے عذاب کا نشانہ بن سکتے ہو۔ تو اگر وہ آگیا تو ہمیں اس سے کون بچائے گا ؟”الارض“ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
(یقوم لکم الملک۔۔۔۔۔۔ )
یقوم لکم الملک الیوم یہ آل فرعون کے فرعون کا قول ہے اس کا یہ قول لقوم اس امر پر دلیل ہے کہ وہ قبطی تھا وہ اسی وجہ سے اس نے انہیں اپنی ذات کی طرف منسوب کیا اس نے کہا : یقوم تاکہ اس کے وعظ کو قبول کرنے کے قریب ہوجائیں آج حکومت تمہاری ہے اس لیے تم اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو ظھرین فی الارض یعنی غالب۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی تمہارے غلبہ کی حالت میں یہاں ارض سے مراد ارض مصر ہے : یہ سدی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ اسی طرح فرمایا :” وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ج “ (یوسف : 56) مصر کے علاقہ میں ” فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْم بَاْسِ اللہ اِنْ جَآئَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثل داب “ سے مراد ہے حال۔
2:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثل داب قوم نوح “ (قوم نوح کے حال کی طرح) اور وہ جماعتیں تھیں (آیت ) ” قوم نوح وعاد وثمود “ یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم عاد اور قوم ثمود۔
Read the full tafseer →يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] لَكُمُ [ تمہاری ہی ہے ] الْمُلْكُ [ بادشاہت ] الْيَوْمَ [ آج کے دن ] ظٰهِرِيْنَ [ غالب ہونے والے ہوتے ہوئے ] فِي الْاَرْضِ ۡ [ زمین میں ] فَمَنْ يَّنْصُرُنَا [ تو کون مدد کرے گا ہماری ] مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ [ اللہ کی سختی سے ] اِنْ جَاۗءَنَا ۭ [ اگر وہ آئی ہمارے پاس ] قَالَ فِرْعَوْنُ [ فرعون نے کہا ] مَآ اُرِيْكُمْ [ میں نہیں سمجھا تاتم لوگوں کو ] اِلَّا مَآ [ سوائے اس کے جو ] اَرٰى [ میں سمجھتا ہوں ] وَمَآ اَهْدِيْكُمْ [ اور میں رہنمائی نہیں کرتا تمہاری ] اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ [ مگر بھلائی کے راستے کی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آل فرعون میں سے ایک مومن بندہ کی حق گوئی نیز تنبیہ اور تہدید
آل فرعون میں سے ایک شخص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا تھا (جیسا کہ فرعون کی بیوی مسلمان ہوگئی تھی) کہا جاتا ہے کہ یہ شخص فرعون کے چچا کا لڑکا تھا اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ فرعون کا ولی عہد سمجھا جاتا تھا اور محکمہ پولیس کا ذمہ دار تھا یہ مومن تو تھا لیکن اپنے ایمان کو چھپاتا تھا اس نے بطور ہمدردی فرعون سے اور اس کے ساتھیوں سے جو اس کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے یوں کہا کہ تم جو اس شخص کو قتل کرنے کے منصوبے بنا رہے ہو یہ کوئی سمجھداری کی بات نہیں اول تو اس کا کوئی قصور نہیں کوئی چوری نہیں کی کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا اس نے ایک حق بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–45
قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…
Read the full tafseer →39:۔ ” یقوم لکم الملک “ میری قوم ! آج تو ملک مصر کی حکومت تمہارے ہاتھ میں ہے اور ارض مصر میں تم بنی اسرائیل پر غالب اور حکمران ہوں، لیکن مجھے یہ تو بتاؤ کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) سچے ہوں اور پھر ہم ان کو نہ مانیں، بلکہ الٹا اس کے قتل کے درپے ہوجائیں تو اس وجہ سے اگر ہم پر اللہ کا عذاب آگیا تو اس سے ہمیں کون بچائے گا ؟ ” قال فرعون “ جب فرعون نے محسوس کیا کہ مومن کی گفتگو نہایت مدلل اور معقول ہے، تو سامعین پر سے اس کا اثر زائل کرنے کے لیے بول اٹھا۔ ” ما اریکم الا ما اری “ میں تو تمہیں اب بھی وہی مشورہ دیتا ہوں جو میری اپنی رائے ہے اور جسے میں صحیح سمجھتا ہوں اور جو میں پہلے تمہیں بتا چکا ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے کفر وشرک کی تردید اور مشرکین کو تنبیہ کے انداز میں پہلے لوگوں کا حال ذکر کیا ، اور ان سرکشوں کا بھی جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبوث فرمایا یہ فرعون ، ہامان ، اور قارون ، تھے جنہوں نے غلط تدبیریں سوچ کر موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مشن کو ناکام کرنا چاہا ، حتی کہ آپ کے قتل کا ارادہ کیا ، فرعون دل میں موسیٰ (علیہ السلام) سے خوف بھی کھاتا تھا کیونکہ وہ آپ کے ہاتھ پر واضح نشانیاں دیکھ چکا تھا مگر لوگوں میں اپنا رعب قائم رکھنے کے لیے کہتا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے مت روکو ، یہ شخص تمہارے دین کو تبدیل اور زمین میں فساد برپا کرنا چاہتا ہے ،…
Read the full tafseer →يٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظٰہِرِيْنَ فِي الْاَرْضِ 0 ۡفَمَنْ يَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللہِ اِنْ جَاۗءَنَا 0 ۭ قَالَ فِرْعَوْنُ مَآ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَآ اَرٰى وَمَآ اَہْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ 29
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
ملك) بادشاه)
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور
وَالمِلْكُ ضربان :
مِلْك هو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
تفسیر : یہ اسی قصہ کا تتمہ ہے کہ فرعون نے لوگوں کی تسلی اور اپنی شوکت جتلانے کے لیے یہ بھی کہا کہ مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ اپنے رب کو بلاوے ‘ دیکھیں، وہ کیا کرتا ہے اور کیونکر بچاتا ہے۔ (جانتا تھا کہ قتل کروں گا تو بلا آجاوے گی کس لیے کہ معجزات دیکھ چکا تھا، گویا لوگوں نے اس کو قتل سے روک رکھا تھا) یہ اس لیے کہ اگر قتل نہ کروں تو مجھے ڈر ہے کہ تمہارے دین کو بدل دے گا ‘ بت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی پر لگا دے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا کہ وہ سرغنہ ہے، بہت لوگ اس کے تابع ہو کر سرکشی اور بغاوت پر آمادہ ہوجائیں گے۔
اس کے جواب میں موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ کہا انی عذت الخ کہ…
Read the full tafseer →یٰـقَوْمِ لَـکُمُ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ظٰہِرِیْنَ فِی الْاَرْضِ ز فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْ م بَاْسِ اللّٰہِ اِنْ جَآئَ نَا ط قَالَ فِرْعَوْنُ مَـآ اُرِیْکُمْ اِلاَّ مَـآ اَرٰی وَمَـآ اَھْدِیْکُمْ اِلاَّ سَبِیْلَ الرَّشَادِ ۔ (المؤمن : 29)
(اے میری قوم کے لوگو ! آج تمہاری حکومت ہے اور اس ملک کی سرزمین پر تم غالب ہو، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہماری مدد کرے گا، فرعون نے کہا کہ میں تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جسے میں صحیح سمجھتا ہوں اور میں تمہاری رہنمائی ٹھیک سیدھی راہ کی طرف کررہا ہوں۔ )
مردِمومن کا سلسلہ کلام اور فرعون کی مداخلت
مردِمومن نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
فہم القرآن
ربط کلام : مرد مومن کے خطاب کے جواب میں فرعون کا جواب۔
مرد مومن نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے قوم کو یہ کہہ کر مزید احساس دلایا کہ آج ملک پر تمہاری بادشاہی ہے اور تم مملکت مصر پر برسراقتدار ہو۔ لیکن یاد رکھو ! اگر ہم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو بتاؤ ہمیں کون اس کے عذاب سے بچائے گا ؟ مرد مومن نے اس قدر مؤثر اور جاندار انداز میں فرعون اور اپنی قوم کے نمائندوں کو خطاب کیا کہ جو فرعون توحید کی بات سننا گوارا نہیں کرتا تھا۔ وہ مرد مومن کے جواب میں صرف اتنی بات کہہ سکا کہ میں تو تمہیں وہی کچھ کہہ رہا ہوں جو کچھ میں دیکھتا اور سمجھتا ہوں۔ میرے خیال کے مطابق اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ فرعون…
Read the full tafseer →يٰقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظٰهِرِيْنَ (اے میرے بھائیو ! آج تو تمہاری سلطنت ہے کہ اس سرزمین میں تم حاکم ہو) ظاہرین کا معنی غلبہ پانے والے۔ لکم کے کم سے حال ہے۔ فِي الْاَرْضِ (زمین میں) ارض مصر۔ فَمَنْ يَّنْصُرُنَا مِنْۢ بَاْسِ اللّٰهِ اِنْ جَاۗءَنَا (اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ہماری مدد کون کریگا اگر وہ ہم پر آن پڑی) مطلب یہ ہے کہ تمہیں ملک مصر میسر ہے اور لوگوں پر تم صاحب اقتدار ہو اور وہ تمہارے مطیع بنے ہیں۔ پس اپنا معاملہ مت بگاڑو۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سامنا مت کرو۔ اگر وہ آگیا تو تم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور نہ کوئی اس سے تمہیں بچا سکتا ہے۔
اگرچہ تم صاحب اقتدار ہو مگر اللہ کے عذاب…
Read the full tafseer →28، وقال رجل مؤمن من آل فرعون یکتم ایمانہ، اس مؤمن کی تعیین میں اختلاف ہے۔ سدی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہی کہ یہ قبطی تھا فرعون کا چچازاد بھائی اور یہ وہی شخص ہے جس کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ یوں بیان کیا، وجاہ رجل من اقصی المدینۃ یسعی، اور بعض کا قول ہے کہ یہ اسرائیلی تھا اور آیت کی اصل ترتیب یوں ہوگی، وقال رجل مؤمن یکتم ایمانہ من آل فرعون، اور ابن عباس ؓ اور اکثر علماء حمہم اللہ کے نزدیک اس کا نام حزبیل تھا۔ اور ابن اسحاق (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا نام جبریل تھا اور کہا گیا ہے کہ جو شخص آل فرعون میں سے ایمان لایا تھا اس کا نام حبیب تھا۔
، اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ لان یقول…
Read the full tafseer →29۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو شرک کے چھوڑنے اور توحید کے اختیار کرنے کا طریقہ لوگوں کو بتلاتے تھے اس کو تو فرعون نے اوپر کی آیتوں میں فسادی طریقہ بتلایا اور جس دہر یہ طریقہ پر آپ تھا کہ اپنے آپ کو خدا کہلواتا تھا اور لوگوں کو بت پرستی سکھاتا تھا اس طریقہ کو اس نے کہا کہ یہی بھلائی کی راہ ہے یہ باتیں فرعون کی کچھ اس سبب سے نہیں تھیں کہ فرعون یا اس کی قوم کو خدا کی خدائی یا حضرت موسیٰ کی نبوت کا کسی طرح یقین نہ آیا ہو بلکہ متواتر معجزے دیکھ کر فرعون اور اس کی قوم کے دلوں میں یہ بات یقینی طور پر آچکی تھی کہ جو باتیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ظہور میں آتی ہیں وہ باتیں بڑے بڑے جادوگروں سے جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–46
آیت 23
ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…
Read the full tafseer →62 مرد مومن کی فرعونیوں کے دلوں پر ایک اور دستک : سو اس مرد مومن نے اپنی قوم کے متکبروں کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے اور ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے اپنے درد بھرے انداز میں مزید کہا کہ " اے میری قوم کے لوگو بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب آگیا تو پھر کون ہے جو اس کے مقابلے میں ہماری مدد کرسکے ؟ "۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی نہیں جو ہمیں اللہ کے مقابلے میں اس کے عذاب سے بچا سکے۔ پس تم لوگ ہوش کے ناخن لو اور راہ راست پر آجاؤ قبل اس سے کہ اس کا وہ عذاب تم کو آپکڑے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو مرد مومن نے فرعونیوں کے قلوب و ضمائر پر دستک دیتے ہوئے ان سے کہا کہ آج تو آپ لوگوں کو اس ملک میں اقتدار حاصل ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 28 تا 37:
اسرار و معارف :
چناچہ قوم فرعون کا بندہ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر قوم پر ظاہر نہ ہونے دیا تھا بول اٹھا کہ تم لوگ اس بات پر ایک انسان کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا پروردگار مانتا ہے حالانکہ وہ اللہ ہی کو تمہارا پروردگار بھی ثابت کرتا ہے اور اسی کی طرف سے واضح دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہے اگر بالفرض یہ جھوٹ کہتا ہے تو معمولی جرم نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولا جائے لہذا اسے اس کی سز ابھگتنا پڑے گی یعنی خود اللہ کی طرف سے سز اپائیگا تم کیوں تکلیف کرتے ہو لیکن یہ بھی دیکھو کہ یہ جو یہ کہ رہا ہے سچ ہوا تو تمہارا کیا بنے گا اگر تم انکار کرتے…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی کیوں اس نعمت اقتداء کی ناشکری کرتے ہو اور کیوں موسیٰ ( علیہ السلام) کو قتل کر کے اپنے آپ کو خدا کے عذاب کا مستحق بناتے ہو ؟۔3 کیونکہ اگر تم اسے قتل نہ کرو گے تو اپنا نقصان آپ کرو گے “۔
Read the full tafseer →(40:29) یقوم : ای یا قومی۔ اے میری قوم۔ اے میرے بھائیوں ! اے میری قوم والو !
الملک۔ بادشاہت، حکومت۔ الیوم۔ آج کے دن ۔ آج
ظاھرین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ بحالت نصب۔ غالب۔ غلبہ پانے والے۔
فی الارض : ای فی ارض مصر۔ سرزمین مصر۔
باس اللّٰہ مضاف مضاف الیہ۔ باس سختی۔ آفت۔ لڑائی، دبدبہ۔ جنگ کی شدت۔ اصل میں تو اس کے معنی سختی اور آفت کے ہیں مگر لڑائی اور غلبہ کے معنی میں اس کا استعمال بکثرت ہوتا ہے۔
البؤس و الباس اور الباساء تینوں ایک ہی مادہ بئس سے ہیں اور تینوں میں سختی و ناگواری کے معنی پائے جاتے ہیں۔ مگر یؤس کا لفظ زیادہ فقرہ فاقیہ کے لئے آتا ہے۔ معجم الوسیط میں ہے البؤس المشقۃ والفقر : البأساء بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 29 : یکتم (وہ چھپاتا ہے) یصیب (وہ پہنچے گا) مسرف ( حد سے بڑھنے والا) کذاب (بہت جھوٹ بولنے والا) ظھرین (چھا جانے والے ، غائب ہونے والے) باس ( عذاب ، تکلیف) اری (میں دیکھتا ہوں) الرشاد (ہدایت ، رہنمائی)
تشریح : آیت نمبر 28 تا 29 :۔ یہاں ایک مرد مومن کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کی مناسبت سے اس سورة کا نام المومن رکھا گیا ہے۔ وہ مرد مومن فرعون کے شاہی خاندان کے ایک فرد تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ دربار کے کوئی اعلیٰ عہدیدار تھے بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ فرعون کے چچا زاد بھائی اور آل فرعون میں سے تھے۔
یہ مرد مومن جن کے تین نام نقل کئے گئے ہیں شمعان ، حزقیل اور جبر ۔ یہ مرد…
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کا توحیدی اعلان۔
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو توحید کے اختیار کرنے کا طریقہ لوگوں کو بتلاتے تھے اس کو فرعون نے اوپر کی آیتوں میں فسادی طریقہ بتلایا اور جس دہریہ طریقہ پر آپ تھا کہ اپنے آپ کو خدا کہلوایا تھا اور لوگوں کو بت پرستی سکھاتا ہے ، اس طریقہ کو اس نے کہا یہ بھلائی کی راہ ہے یہ باتیں فرعون کی کچھ اس سبب سے نہیں تھی کہ فرعون یا اس کی قوم کو خدا کی خدائی یا حضرت موسیٰ موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا کسی طرح یقین نہ آیا ہو بلکہ نخوت اور تکبر کے سبب سے وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کی فساد کی باتیں بتلاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
[11] اصل الفاظ ہیں '' یوم التناد '' یعنی چیخ وپکار کا دن۔ مراد اس سے روز قیامت ہے۔
Read the full tafseer →ف 1: حالانکہ وہ بیشمار دلائل بھی اپنی صداقت کے ثبوت میں پیش کرچکا ہے ۔ اس لئے بہتر رائے یہ ہے کہ تم اسے کچھ نہ کہو ۔ اگر یہ جھوٹا ہے تو اپنی سزا خودبھگت لے گا اور اگر صداقت شعار ہے تو پھر وہ عذاب ضرور آئیگا ۔ جس کا وہ تم سے وعدہ کررہا ہے اور یاد رکھو ۔ کہ آج یقینا ارض مصر میں تمہاری بادشاہی ہے ۔ مگر جب اللہ کے غضب اور غصہ میں تحریک ہوئی ۔ تو کون ہماری مدد کریگا
مرد مومن کی وسعت نظری :
مرد مومن نے قوم کو ارادہ قتل سے باز رکھنے کی کوشش کی ۔ بہت عقل مند اور صاحب بصیرت آدمی معلوم ہوتا ہے اور ان کی گفتگو سے یہ بھی ٹپکتا ہے ۔ کہ اسے اقوام وملل کی تاریخ پر پورا عبور حاصل تھا ۔ چناچہ جب فرعون نے اس…
Read the full tafseer →(29) اے میری قوم کے لوگو ! آج تو تمہاری سلطنت ہے کہ تم اس ملک میں غالب اور حکمراں ہو لیککن اگر خدا کا عذاب ہم پر آپڑا تو پھر کون اللہ تعالیٰ کی اس آفت سے ہماری مدد کرے گا۔ فرعون نے کہا میں تو تم کو وہی رائے دوں جو خود سمجھ رہا ہوں اور میں تو تم کو صرف وہی طریقہ بتاتا ہوں جو طریقہ عین مصلحت ہے اور میں تم کو نہیں راہ دکھاتا مگر وہی راہ جو بھلائی کی راہ ہے۔
یعنی اے میری قوم کے لوگوں تمہاری اس ملک میں آج کے دن حکومت ہے دراں حالیکہ تم غالب ہورہے ہو ملک میں اگر موسیٰ کو قتل کرنا چاہو تو قتل کرسکتے ہو لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے اگر کوئی آفت اور عذاب ہم پر آگیا تو عذاب خداوندی کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 2۔ اس مومن نے جب دیکھا کہ نصیحت میں نرمی اور رعایت خیال مخاطب یعنی تلطیف سے کام نہیں چلتا تو اب تہدید و تخویف سے کام لیا۔
Read the full tafseer →اس مومن نے اپنی قوم کو مخاطب کر کے خود موسیٰ (علیہ السلام) کا پیغام جاری کر دیا
29۔ اس مومن کی تقریر پر غور کریں کہ کس قدر اس کے نظریات پختہ اور ایمان کامل ہے کہ وہ قوم کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ اے میری قوم کے لوگو ! مانا کہ آج تمہاری حکومت ہے اور ملک کی باگ ڈور تمہارے ہاتھ میں ہے اور اس سرزمین پر تم کو غلبہ حاصل ہے لیکن میں تم سے پوچھتا ہوں کہ اگر کل اللہ تعالیٰ کے عذاب نے تم کو آلیا تو آخر کون ہے جو تم کو اس عذاب سے بچائے گا۔ اس کی باتیں سن کر فرعون بھی دم بخود رہ گیا کیونکہ یہ آدمی اس کی قوم سے تعلق رکھتا تھا اور معلوم ہوتا ہے یہ آدمی بھی کوئی معمولی نہیں تھا بلکہ اچھے بھلے اثر و رسوخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
In verse 32, it was said: يَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ (0 my people, I fear for you a day when people will call one another). The last word: تَّنَادِ (tanad) with a kasrah on the letter: دال (dal) is an abbreviated form of the word: تَنَادِی (tanadi) which means calling each other. The day of Qiyamah (the Day of Doom, or Judgment) was called: يَوْمَ التَّنَادِ (yowm-ut-tanad) for the reason that this horrendous day would be reverberating with countless calls and cries. According to a narration of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Umar ؓ ، the Holy Prophet ﷺ said, "When comes…
Read the full tafseer →48 That is, "Why are you being ungrateful to Allah for His blessing of granting you domination in the land and are inviting His scourge to visit you?"
49 From this answer of Pharaoh it appears that he had not yet found out that thenoble of his court had become a Believer in his heart. That is why he did not show any displeasure at what he said, but made clear that he was not inclined to change his opinion even after hearing what he had to say.
Read the full tafseer →