Explained with ayahs 30–35
مرد مومن کی اپنی قوم کو نصیحت۔
اس مومن کی نصیحت کا آخری حصہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے فرمایا دیکھو اگر تم نے اللہ کے رسول کی نہ مانی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں سابقہ قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب اللہ کا برس نہ پڑے۔ قوم نوح اور قوم عاد ثمود کو دیکھ لو کہ پیغمبروں کی نہ ماننے کے وبال میں ان پر کیسے عذاب آئے ؟ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ٹالتا یاروکتا۔ اس میں اللہ کا کچھ ظلم نہ تھا اس کی ذات بندوں پر ظلم کرنے سے پاک ہے ان کے اپنے کرتوت تھے جو ان کے لئے وبال جان بن گئے، مجھے تم پر قیامت کے دن کے عذاب کا بھی ڈر ہے۔ جو ہانک پکار کا دن ہے۔ صور کی حدیث میں ہے کہ جب زمین میں زلزلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
سورة الْمُؤْمِن 50
یعنی اللہ کو بندوں سے کوئی عداوت نہیں ہے کہ وہ خواہ مخواہ انہیں ہلاک کر دے، بلکہ وہ ان پر عذاب اسی وقت بھیجتا ہے جبکہ وہ حد سے گزر جاتے ہیں، اور اس وقت ان پر عذاب بھیجنا عین تقاضائے عدل و انصاف ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
(آیت) يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗٓ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اگر لوگوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار نہ کرے دل سے اعتقاد پختہ رکھے تو وہ مومن ہے مگر نصوص صریحہ سے یہ ثابت ہے کہ ایمان کے مقبول ہونے کے لئے صرف دل کا یقین کافی نہیں بلکہ زبان سے اقرار کرنا شرط ہے، جب تک زبان سے اقرار نہ کرے گا مومن نہ ہوگا۔ البتہ زبان کا اقرار لوگوں کے سامنے اعلان کے ساتھ کرنا ضروری نہیں۔ اس کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ جب تک لوگوں کو اس کے ایمان کا علم نہیں ہوگا وہ اس کے ساتھ معاملہ مسلمانوں جیسا نہ کرسکیں گے۔ (قرطبی)
مومن من آل فرعون نے اس مکالمہ میں آل فرعون اور فرعون کو مختلف عنوانات سے حق اور ایمان کی طرف بلایا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
مرد مومن کی تقریر جاری رہی
مرد مومن نے فرعون کی اس مداخلت کی کوئی پرا کئے بغیر اپنی تقریر جاری رکھی۔ فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو، میں آپ کو آگاہ کئے دیتا ہوں کہ اگر موسیٰ ؑ کو گزند پہنچانے کی کوشش کی گئی تو آپ لوگوں پر اسی طرح عذاب آدھمکے گا جس طرح پچھلی قوموں یعنی قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد کی قوموں پر آیا۔ ان قوموں نے اپنے رسولوں کو گزند پہنچانے کی کوشش کی تو اس کے نتیجہ میں تباہ ہوئیں، اسی طرح آپ لوگ بھی تباہ ہو کر رہیں گے اگر انہی کے نقش قدم کی پیروی کریں گے۔
’ وما اللہ یرید ظلما للعبا ‘۔ اور یہ بات بھی یاد رکھئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی رحیم ہے۔ اس وجہ سے کوئی عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
31۔ 1 یہ اس مومن آدمی نے دوبارہ اپنی قوم کو ڈرایا کہ اگر اللہ کے رسول کی تکذیب (جھٹلایا) پر ہم اڑے رہے تو خطرہ ہے کہ گزشتہ قوموں کی طرح عذاب الٰہی کی گرفت میں آجائیں گے
۔ 31۔ 2 یعنی اللہ نے جن کو بھی ہلاک کیا ان کے گناہوں کی پاداش میں اور رسولوں کی تکذیب و مخالفت کی وجہ سے ہی ہلاک کیا ورنہ وہ شفیق ورحیم رب اپنے بندوں پر ظلم کرنے کا ارادہ ہی نہیں کرتا گویا قوموں کی ہلاکت یہ ان پر اللہ کا ظلم نہیں ہے بلکہ قانون مکافات کا ایک لازمی نتیجہ ہے جس سے کوئی قوم اور فرد مستثنی نہیں از مکافات عمل غافل مشو گندم از گندم بروید جو از جو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
6: یہ صاحب کون تھے ؟ ان کا نام قرآن کریم نے نہیں لیا، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ فرعون کے چچا زاد بھائی تھے، اور ان کا نام شمعان تھا۔ واللہ اعلم
7: یعنی جو شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے، اسے اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں رسوا کردیتا ہے، اس لیے اگر بالفرض یہ جھوٹے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں خود رسوا کردے گا، تمہیں ان کو قتل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
آیت نمبر 28 تا 35
یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔
اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔
کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1 یعنی اگر تم اسی طرح تکذیب و عداوت پر جمے رہے تو سخت اندیشہ ہے کہ تم کو بھی کہیں وہ ہی دن دیکھنا نہ پڑے جو پہلی قومیں اپنے انبیاء کا مقابلہ کر کے دیکھ چکی ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ہاں بےانصافی نہیں۔ اگر ایسے سخت جرائم پر تم کو یا دوسری قوموں کو اس نے تباہ کیا تو وہ عین عدل و انصاف کے تقاضا سے ہوگا۔ کون سی حکومت ہے جو اپنے سفراء کو قتل اور رسوا ہوتے دیکھتی رہے۔ اور قاتلین و معاندین سے انتقام نہ لے۔
Read the full tafseer →آیت 30 { وَقَالَ الَّذِیْٓ اٰمَنَ یٰــقَوْمِ } ”اور مرد مومن نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا : اے میری قوم کے لوگو !“
{ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِ } ”مجھے اندیشہ ہے تم پر ایسے دن کا جیسے دن پہلی قوموں پر آئے تھے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
42 کیا تم اس کے قتل کی بات محض اس لئے کرتے ہو کہ آج تمہارے ہاتھ میں حکومت ہے اور اگر تم ایساکر بھی لو گے تو تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ لیکن اگر وہ سچا ہوا اور تم پر اللہ کی طرف سے عذاب آگیا تو اس وقت تمہاری یہ حکومت کسی کام نہ آئے گی۔ اور سب تباہ ہوجائیں گے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک بھی اس نے اپنا ایمان ظاہر نہ کیا تھا۔ اور فرعون اور اس کے درباریوں سے غیر جانبدار رہ کر ناصحانہ قسم کی باتیں کر رہا تھا۔
43 فرعون کے اس جملہ سے بھی معلوم ہو رہا ہے کہ فرعون اسے تاحال اپنا مخالف یا مومن نہیں سمجھتا تھا بلکہ اسے اپنا ناصح ہی سمجھ رہا تھا۔ اسی لئے اس نے اس مرد مومن کو یہ جواب دیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
31۔ (لیکن جب تم خود ہی اس کے عذاب کو بلا رہے ہو تو ضرور کیفر کردار کو پہنچ کر رہو گے) (آیت) ” ما ...... للعباد “۔ اس فقرہ میں تعریض ہے مشرکوں کے خونخواروخوں، آشام دیوی دیوتاؤں پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
آیت نمبر 28 تا 37
ترجمہ : اور ایک مومن شخص نے جو فرعون کے خاندان میں سے تھا کہا گیا ہے کہ وہ اس کا چچا زاد بھائی تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی جانب سے دلیلیں یعنی کھلے ہوئے معجزے لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کے جھوٹ کا (وبال) اسی پر ہے، اور اگر وہ سچا ہو تو جس دنیوی عذاب کا وہ تم سے وعدہ کررہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تم پر آپڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتے جو (شرک کرکے) حد سے تجاوز کرنے والا ہو، جھوٹا ہو، اے میری قوم کے لوگو ! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ تم ملک مصر پر غالب ہو،…
Read the full tafseer →وقال الذی امن یقوم انی اخاف علیکم مثل یوم الاحزاب۔ اور اس مؤمن نے کہا : میرے عزیزو ! مجھے تمہارے متعلق اور امتوں جیسے روزبد کا اندیشہ ہے ‘
Read the full tafseer →حضرت حزقیل نے کہا کہ مجھے تمہاری نسبت پہلی قوموں جیسے نزول عذاب کا اندیشہ ہے۔
Read the full tafseer →وقال الذی امن یقوم …:”یوم“ سے مراد کوئی نادر واقعہ ہوتا ہے جو کسی قوم کو کسی ہولناک عذاب یا اعلیٰ درجے کی نعمت کی صورت میں پیش آیا ہو، مثلاً یوم بدر مسلمانوں کے لئے نعمت اور کفار کے لئے عذاب تھا۔ ”الاحزاب“ ”حرب“ کی جمع ہے، وہ جماعتیں جو کسی کی مخالفت میں اکٹھی ہوئی ہوں۔ مرد مومن نے جب فرعون کا موسیٰ کے قتل کی رائے پر اصرار اور تمام سرداروں کا خاموش رہ کر اس کی تائید کرنا دیکھا تو اس نے مصلحت کا لبادہ اتار کر صریح الفاظ میں ان سے کہا، اے میری قوم ! اگر تم نے اللہ کے رسول کو قتل کرنے یا کوئی نقصان پہنچانے کا ارادہ ترک نہ کیا تو میں ڈرتا ہوں کہ تم پر ان جماعتوں پر آنے والے عذابوں جیسا عذاب آجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
(یقوم لکم الملک۔۔۔۔۔۔ )
یقوم لکم الملک الیوم یہ آل فرعون کے فرعون کا قول ہے اس کا یہ قول لقوم اس امر پر دلیل ہے کہ وہ قبطی تھا وہ اسی وجہ سے اس نے انہیں اپنی ذات کی طرف منسوب کیا اس نے کہا : یقوم تاکہ اس کے وعظ کو قبول کرنے کے قریب ہوجائیں آج حکومت تمہاری ہے اس لیے تم اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو ظھرین فی الارض یعنی غالب۔ یہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی تمہارے غلبہ کی حالت میں یہاں ارض سے مراد ارض مصر ہے : یہ سدی اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ اسی طرح فرمایا :” وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ج “ (یوسف : 56) مصر کے علاقہ میں ” فَمَنْ یَّنْصُرُنَا مِنْم بَاْسِ اللہ اِنْ جَآئَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
1:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثل داب “ سے مراد ہے حال۔
2:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثل داب قوم نوح “ (قوم نوح کے حال کی طرح) اور وہ جماعتیں تھیں (آیت ) ” قوم نوح وعاد وثمود “ یعنی نوح (علیہ السلام) کی قوم عاد اور قوم ثمود۔
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْٓ اٰمَنَ [ اور کہا اس نے جو ایمان لایا ] يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ [ کہ میں ڈرتا ہوں تم پر ] مِّثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَابِ [ مضبوط جتھوں کے دن کی مانند سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–34
بندہ مومن کا سابقہ امتوں کی بربادی کو یاد دلانا اور قیامت کے دن کی بدحالی سے آگاہ کرنا
بندہ مومن نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے تہدید اور تخویف سے بھی کام لیا اور یوں کہا کہ اے میری قوم تم جو حق کے انکار پر اور اس شخص کی تکذیب پر تلے ہوئے ہو تمہارا یہ رویہ خود تمہارے حق میں صحیح نہیں ہے تم سے پہلے بھی قومیں گزری ہیں ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے تو قوموں نے ان کی تکذیب کی اور برباد ہوئے اس طرح کی ہلاک شدہ جو جماعتیں گزری ہیں ان میں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم بھی گزری ہے عاد اور ثمود بھی اس دنیا میں آئے اور بسے یہ سب قومیں حق کو ٹھکرانے کی وجہ سے ہلاک اور برباد ہوئیں ان کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–45
قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
40:۔ ” وقال الذی اٰمن “ فرعون کی گفتگو کے بعد اس مومن نے پھر سب کو خطاب کر کے ناصحانہ انداز میں کہنا شروع کیا۔ اے میری قوم ! اگر تم اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب اور ان کی ایذاء کے درپے رہے، تو مجھے ڈر ہے کہ تم پر اسی طرح کا قہر و غضب عذاب کی شکل میں نازل ہو جس طرح گذشتہ امتوں مثلاً قوم نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد کی قوموں کے سرکشوں پر نازل ہو اور ان کو دیکھتے ہی دیکھتے تہس نہس کر کے ردکھ دیا۔ گذشتہ امتوں کے ان سرکشوں سے اللہ تعالیٰ نے جو سلک فرمایا وہ ظلم نہیں تھا وہ مستحق ہی اس عذاب کے تھے۔ ظلم کرنا تو درکنار، اللہ تعالیٰ تو بندوں پر ظلم کرنے کا ارادہ بھی نہیں فرماتا۔ امم سابقہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے کفر وشرک کی تردید اور مشرکین کو تنبیہ کے انداز میں پہلے لوگوں کا حال ذکر کیا ، اور ان سرکشوں کا بھی جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبوث فرمایا یہ فرعون ، ہامان ، اور قارون ، تھے جنہوں نے غلط تدبیریں سوچ کر موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مشن کو ناکام کرنا چاہا ، حتی کہ آپ کے قتل کا ارادہ کیا ، فرعون دل میں موسیٰ (علیہ السلام) سے خوف بھی کھاتا تھا کیونکہ وہ آپ کے ہاتھ پر واضح نشانیاں دیکھ چکا تھا مگر لوگوں میں اپنا رعب قائم رکھنے کے لیے کہتا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے مت روکو ، یہ شخص تمہارے دین کو تبدیل اور زمین میں فساد برپا کرنا چاہتا ہے ،…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْٓ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَابِ 30ۙ
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
خوف
الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية .
قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
تفسیر : یہ اسی قصہ کا تتمہ ہے کہ فرعون نے لوگوں کی تسلی اور اپنی شوکت جتلانے کے لیے یہ بھی کہا کہ مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ اپنے رب کو بلاوے ‘ دیکھیں، وہ کیا کرتا ہے اور کیونکر بچاتا ہے۔ (جانتا تھا کہ قتل کروں گا تو بلا آجاوے گی کس لیے کہ معجزات دیکھ چکا تھا، گویا لوگوں نے اس کو قتل سے روک رکھا تھا) یہ اس لیے کہ اگر قتل نہ کروں تو مجھے ڈر ہے کہ تمہارے دین کو بدل دے گا ‘ بت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی پر لگا دے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا کہ وہ سرغنہ ہے، بہت لوگ اس کے تابع ہو کر سرکشی اور بغاوت پر آمادہ ہوجائیں گے۔
اس کے جواب میں موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ کہا انی عذت الخ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
وَقَالَ الَّذِیْٓ اٰمَنَ یٰـقَوْمِ اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ مِّثْلَ یَوْمِ الْاَحْزَابِ ۔ مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ وَالَّذِیْنَ مِنْ م بَعْدِھِمْ ط وَمَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ ۔ (المؤمن : 30، 31)
(اور جو شخص ایمان لایا تھا اس نے کہا، اے میری قوم کے لوگو ! میں تم پر اسی طرح کے دن کا خوف رکھتا ہوں جس طرح کا دن گروہوں پر آیا۔ جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والی قوموں پر آیا تھا اور اللہ تعالیٰ بندوں پر کسی طرح کا ظلم نہیں چاہتا۔ )
مردِمومن کی جرأت و استقامت
مردِمومن کی جرأت اور اپنے ایمان پر استقامت کی جتنی تعریف بھی کی جائے کم ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
فہم القرآن
ربط کلام : مرد مومن کے خطاب کے جواب میں فرعون کا جواب۔
مرد مومن نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے قوم کو یہ کہہ کر مزید احساس دلایا کہ آج ملک پر تمہاری بادشاہی ہے اور تم مملکت مصر پر برسراقتدار ہو۔ لیکن یاد رکھو ! اگر ہم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تو بتاؤ ہمیں کون اس کے عذاب سے بچائے گا ؟ مرد مومن نے اس قدر مؤثر اور جاندار انداز میں فرعون اور اپنی قوم کے نمائندوں کو خطاب کیا کہ جو فرعون توحید کی بات سننا گوارا نہیں کرتا تھا۔ وہ مرد مومن کے جواب میں صرف اتنی بات کہہ سکا کہ میں تو تمہیں وہی کچھ کہہ رہا ہوں جو کچھ میں دیکھتا اور سمجھتا ہوں۔ میرے خیال کے مطابق اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ فرعون…
Read the full tafseer →وَقَالَ الَّذِيْٓ اٰمَنَ يٰقَوْمِ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ مِّثْلَ يَوْمِ الْاَحْزَابِ (اور اس مومن نے کہا اے میرے دوستو ! مجھ کو تمہارے متعلق اور امتوں جیسے برے دن کا ندیشہ ہے) یعنی ان جیسے دن جن میں ان پر عذاب اترے۔
ربط : جب اس نے احزاب کی طرف نسبت کی تو پھر اس کی وضاحت کی۔
Read the full tafseer →تفسیر 29۔۔۔۔۔۔۔۔ ، یا قوم لکم الملک الیوم ظاھرین فی الارض ، ملک مصر میں غائب ہوگئے۔ ، فمن ینصرنا من باس اللہ ، کون ہمیں اللہ کے عذاب سے بچائے گا۔ ، ان جاء نا، اور معنی یہ ہے کہ آج تمہارے پاس بادشاہت ہے تو تم تکذیب اور نبی کو قتل کرکے اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دوکیوں اگر اللہ کا عذاب آگیا تو تم سے اس کو روکنے والا کوئی نہ ہوگا۔ ، قال فرعون مااریکم ، رائے اور خیرخواہی سے۔ ، الا مااری، اپنی ذات کے لیے اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ میں تمہیں وہی بات بتارہاہوں جو میں خود جانتا ہوں۔ ، وما اھدیکم الا سبیل الرشاد، یعنی میں تمہیں صرف ہدایت کے راستے کی طرف بلاتاہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
30۔ 35۔ اس ایماندار شخص کی نصیحت کے بیچ میں وہ بات فرعون نے کہہ دی تھی جس کا ذکر اوپر کی آیت میں تھا اب پھر اس ایماندار شخص کی نصیحت کا سلسلہ شروع ہوا اس ایماندار شخص نے اپنی اس نصیحت میں یہ جو کہا کہ مصر کے لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد یوں کہتے تھے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پیچھے اللہ تعالیٰ اور کوئی پیغمبر نہ بھیجے گا اس سے یہ مطلب اس ایماندار شخص کا نہیں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پیغمبری کے مصر کے لوگ قائل تھے کیونکہ انہی آیتوں میں ہے فماز لتم فی شک مما جاء کم بہ جس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کے دھوکے طرح تم یوسف (علیہ السلام) کے معجزوں سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–46
آیت 23
ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…
Read the full tafseer →65 گزشتہ قوموں کے عذاب کی تذکیر و یاددہانی : سو اس مرد مومن نے ان لوگوں کو درس عبرت لینے کے لیے گزشتہ قوموں کے عذاب کی تذکیر و یاددہانی کرائی تاکہ نشہ اقتدار سے بدمست یہ لوگ ہوش میں آئیں اور راہ حق و ہدایت کو اپنائیں۔ سو اس مرد مومن نے مزید کہا کہ " اے میری قوم مجھے تمہارے بارے میں پہلی قوموں کے انجام جیسے انجام کا خدشہ ہے "۔ کہ تمہارا جرم اور مرض بھی وہی ہے جو ان کا تھا۔ اس لئے مجھے سخت خدشہ ہے کہ تم بھی اسی انجام سے دوچار ہو کر رہو جس سے ان کو ہونا پڑا تھا۔ پس تم ہوش کے ناخن لو اور کفر و تکذیب کی اس روش سے توبہ کرلو قبل اس سے کہ تم اپنے اس آخری اور ہولناک انجام سے دوچار ہوجاؤ جس سے ماضی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 28 تا 37:
اسرار و معارف :
چناچہ قوم فرعون کا بندہ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر قوم پر ظاہر نہ ہونے دیا تھا بول اٹھا کہ تم لوگ اس بات پر ایک انسان کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا پروردگار مانتا ہے حالانکہ وہ اللہ ہی کو تمہارا پروردگار بھی ثابت کرتا ہے اور اسی کی طرف سے واضح دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہے اگر بالفرض یہ جھوٹ کہتا ہے تو معمولی جرم نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولا جائے لہذا اسے اس کی سز ابھگتنا پڑے گی یعنی خود اللہ کی طرف سے سز اپائیگا تم کیوں تکلیف کرتے ہو لیکن یہ بھی دیکھو کہ یہ جو یہ کہ رہا ہے سچ ہوا تو تمہارا کیا بنے گا اگر تم انکار کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 4 جنہوں نے اللہ کے رسولوں ( علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اس کی پاداش میں تباہ کردیئے گئے۔ “5 یعنی اللہ کو اپنے بندوں سے دشمنی نہیں ہے کہ وہ قصور کریں یا نہ کریں انہیں ضرور تباہ کر دے۔
Read the full tafseer →(40:30) قال الذی امن سے مراد وہی مرد مومن ہے جس کا اوپر ذکر چلا آرہا ہے۔
مثل یوم الاحزاب۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مثل کا مضاف الیہ۔ مثل مضاف، الاحزاب : الامم قومیں۔ حزب کی جمع، ای مثل ایام الامر الماضیۃ۔ والایام، الوقائع۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ مجھے ڈر ہے کہ گزشتہ امتوں کے (افعال بد کے نتیجے میں) جو عذاب و ہلاکت کے واقعات ان کو پیش آئے ویسے ہی واقعات (تم جو حضرت موسیٰ کی ہلاکت کے جو منصوبے باندھ رہے ہو اس کے نتیجے میں) تم کو بھی نہ آلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–37
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 37 : داب (دستور ، قاعدہ ، قانون) التناد ( چیخ و پکار) عاصم (بچانے والا) ھاد (ہدایت دینے والا ، رہبر و رہنمائ) مازلتم ( تم ہمیشہ رہے) مرتاب ( شک کرنے والا) یطبع ( وہ مہر لگاتا ہے) جبار (بہت سختی کرنے والا) ابن ( بنائ) ( تعمیر کر دے) صرحا ( عمارت ، محل) اطلع ( میں جھانکوں گا) زین (خوبصورت بنا دیا گیا) صد ( اس نے روک دیا) کید ( تدبیر ، فریب) تباب (تباہی ، بربادی)
تشریح : آیت نمبر 30 تا 37 :۔ اس سے پہلی آیات میں آپ نے پڑھ لیا ہے کہ آل فرعون میں سے ایک مرد مومن نے بھرے دربار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تائید کرتے ہوئے آل فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
(ف 1) اس مسلمان نے کہا جو قوم فرعون میں سے تھا کہ اے لوگو مجھ کو یہ خوف ہے کہ کہیں تم پر ایسا عذاب نہ آجائے جیسا کہ اگلی جماعتوں پر آیا ، جیسے قوم نوح کا حال ہوا تھا اور قوم عاد اور ثمود کا اور ان لوگوں کا جو ان کے بعد گزرے، دیکھو ان لوگوں کے سامنے پیغمبر ان برحق نے دعوی نبوت کیا، انہوں نے جھٹلایا اس کا نتیجہ یہ پایا کہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوئے کسی پر کسی قسم کا عذاب آیا کسی پر کسی قسم کا، پس اس لیے تم سے کہتا ہوں کہ ذراسوچ سمجھ کر کام کرو، اگر ان کا قول سچ ہوا، یعنی یہ اگر پیغمبر برحق ہوئے تو یاد رکھنا کہ سخت بلاؤں میں مبتلا ہوجاؤ گے اپنے کیے کی سزا پاؤ گے دنیا میں برباد ہوگی، اور دین بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
[11] اصل الفاظ ہیں '' یوم التناد '' یعنی چیخ وپکار کا دن۔ مراد اس سے روز قیامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(ف 1) تم بھی کہیں قوم نوح الور ثمود کی طرح کے عذاب کا شکار نہ بن جاؤ اے قوم مجھے اندیشہ ہے ۔ کہ قیامت کے دن جب تم موقف حساب سے پشت پھیر کر دوزخ کی طرف لوٹو گے ۔ تو تمہیں کوئی قوت نہ بچا سکے گی ۔ اس وقت یہ حکومت واقتدار اور بادشاہت اور اختیارات تمہارے کام نہ آسکیں گے ۔ تم کو معلوم ہے کہ جب حضرت یوسف تم میں پہلے پہل تشریف لائے تھے ۔ اور انہوں نے دلائل و شواہد سے اپنی نبوت کا اعلان کیا تھا ۔ تو تم اس وقت بھی شک وشبہ میں مبتلا رہے ۔ اور پھر جب ان کا انتقال ہوگیا ۔ تو تم نے ازراہ محرومی وبدبختی کہا ۔ کہ اچھا ہوا ۔ اب ان کے بعد تو کوئی شخص نہ آئے گا ۔ اور ہم کو عیس و عشرت کی زندگی سے نہ منع کریں گا…
Read the full tafseer →(30) اور اس شخص نے جو ایمان لے آیا تھا کہا اے میری قوم میں ڈرتا ہوں کہ تم کو بھی کہیں اور گروہوں اور فرقوں کی طرح روز بدنہ دیکھنا پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 2۔ اس مومن نے جب دیکھا کہ نصیحت میں نرمی اور رعایت خیال مخاطب یعنی تلطیف سے کام نہیں چلتا تو اب تہدید و تخویف سے کام لیا۔
Read the full tafseer →مومن نے ایک مثال سے اپنی قوم کے لوگوں کو سمجھانا چاہا
30۔ اس مومن نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تمہارے متعلق اس بات سے ڈرتا ہوں کی کہیں تمہارا وہی حال نہ ہو جو پہلے بہت سی جماعتوں کا ان کی بداعمالیوں کے باعث ہوچکا ہے کہ وہ اپنی بداعمالیوں ہی کی وجہ سے تباہ وبربادہو چکی ہیں بہتر ہوتا کہ تم لوگ ان کی سرگزشتوں سے سبق حاصل کرتے اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو اتنی جالدی نہ جھٹلا دیتے جتنی جلدی تم نے جھٹلا دیا۔ اس لیے کہ اس طرح ضروری ہوگیا کہ جو حال ان کا ہوا وہی تمہارا حال بھی ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
In verse 32, it was said: يَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ (0 my people, I fear for you a day when people will call one another). The last word: تَّنَادِ (tanad) with a kasrah on the letter: دال (dal) is an abbreviated form of the word: تَنَادِی (tanadi) which means calling each other. The day of Qiyamah (the Day of Doom, or Judgment) was called: يَوْمَ التَّنَادِ (yowm-ut-tanad) for the reason that this horrendous day would be reverberating with countless calls and cries. According to a narration of Sayyidna ` Abdullah Ibn ` Umar ؓ ، the Holy Prophet ﷺ said, "When comes…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
50 That is, "AIlah has no enmity with His servants that He should destroy them without any reason: He sends calamities upon them only when they have transgressed all limits, and sending the torment then is the very demand of justice. "
Read the full tafseer →