Explained with ayahs 28–29
ایک مرد مومن کی فرعون کو نصیحت۔
مشہور تو یہی ہے کہ یہ مومن قبطی تھے (ؒ تعالیٰ) اور فرعون کے خاندان کے تھے۔ بلکہ سدی فرماتے ہیں فرعون کے یہ چچا زاد بھائی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی حضرت موسیٰ کے ساتھ نجات پائی تھی۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ بلکہ جن لوگوں کا قول ہے کہ یہ مومن بھی اسرائیلی تھے۔ آپ نے ان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ اسرائیلی ہوتے تو نہ فرعون اس طرح صبر سے ان کی نصیحت سنتا نہ حضرت موسیٰ کے قتل کے ارادے سے باز آتا۔ بلکہ انہیں ایذاء پہنچاتا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے آل فرعون میں سے ایک تو یہ مرد ایمان دار تھا اور دوسرے فرعون کی بیوی ایمان…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 45
یعنی اس نے ایسی کھلی کھلی نشانیاں تمہیں دکھا دی ہیں جن سے یہ بات روز روشن کی طرح ظاہر ہوچکی ہے کہ وہ تمہارے رب کا بھیجا ہوا رسول ہے۔ مومن آل فرعون کا اشارہ ان نشانیوں کی طرف تھا جن کی تفصیلات اس سے پہلے گزر چکی ہیں (تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حواشی 87۔ 89۔ 90۔ 91۔ 94 تا 96، بنی اسرائیل، حواشی 113 تا 116، جلد سوم، طی، حواشی 29 تا 50، الشعراء، حواشی 26 تا 39، النمل، حاشیہ 16)۔
سورة الْمُؤْمِن 46
یعنی اگر ایسی صریح نشانیوں کے باوجود تم اسے جھوٹا سمجھتے ہو تب بھی تمہارے لیے مناسب یہی ہے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ، کیونکہ دوسرا احتمال، اور نہایت قوی احتمال یہ بھی ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
(آیت) يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗٓ۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص اگر لوگوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار نہ کرے دل سے اعتقاد پختہ رکھے تو وہ مومن ہے مگر نصوص صریحہ سے یہ ثابت ہے کہ ایمان کے مقبول ہونے کے لئے صرف دل کا یقین کافی نہیں بلکہ زبان سے اقرار کرنا شرط ہے، جب تک زبان سے اقرار نہ کرے گا مومن نہ ہوگا۔ البتہ زبان کا اقرار لوگوں کے سامنے اعلان کے ساتھ کرنا ضروری نہیں۔ اس کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ جب تک لوگوں کو اس کے ایمان کا علم نہیں ہوگا وہ اس کے ساتھ معاملہ مسلمانوں جیسا نہ کرسکیں گے۔ (قرطبی)
مومن من آل فرعون نے اس مکالمہ میں آل فرعون اور فرعون کو مختلف عنوانات سے حق اور ایمان کی طرف بلایا اور…
Read the full tafseer →ایک مرد مومن کی سرگزشت
یہاں سے ایک بندہ مومن کی سرگزشت شروع ہو رہی ہے۔ یہ تھے تو فرعون کے خاندان شاہی سے لیکن نہایت حق پسند اور خدا ترس آدمی تھے اس وجہ سے ان کی تمام ہمدردیاں شروع ہی سے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ تھیں۔ ان کا ذکر سورة قصص میں بھی گزر چکا ہے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ کے ہاتھوں ایک قبطی کے قتل کا اتفاقی واقعہ پیش آگیا اور اعیان حکومت نے ان کے قتل کے مشورے شروع کردیئے تو انہی نے حضرت موسیٰ کہ اعیان حکومت کے اس ارادے سے باخبر کیا اور ان کو مصر سے کہیں باہر جانے کا مشورہ دیا، جس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ مدین چلے گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت سے پہلے بھی ان کو حضرت موسیٰ ؑ کی اصلاحی…
Read the full tafseer →28۔ 1 یعنی اللہ کی ربوبیت پر وہ ایمان یوں ہی نہیں رکھتا، بلکہ اس کے پاس اپنے اس موقف کی واضح دلیلیں ہیں۔ 28۔ یہ اس نے بطور تنزل کے کہا کہ اگر اس کے دلائل سے تم مطمئن نہیں اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے اس سے تعرض نہ کیا جائے اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی اسے اس جھوٹ کی سزا دنیا و آخرت میں دے دے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ایذائیں پہنچائیں تو پھر یقینا وہ تمہیں جن عذابوں سے ڈراتا ہے تم پر ان میں سے کوئی عذاب آسکتا ہے۔
28۔ 3 اس کا مطلب ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہوتا جیسا کہ تم باور کراتے ہو تو اللہ تعالیٰ اسے دلائل معجزات سے نہ نوازتا جب کہ اس کے پاس یہ چیزیں موجود ہیں دوسرا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
6: یہ صاحب کون تھے ؟ ان کا نام قرآن کریم نے نہیں لیا، بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ فرعون کے چچا زاد بھائی تھے، اور ان کا نام شمعان تھا۔ واللہ اعلم
7: یعنی جو شخص نبوت کا جھوٹا دعوی کرے، اسے اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں رسوا کردیتا ہے، اس لیے اگر بالفرض یہ جھوٹے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں خود رسوا کردے گا، تمہیں ان کو قتل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
آیت نمبر 28 تا 35
یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔
اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔
کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ…
Read the full tafseer →5 یعنی ایک مرد مومن جس نے فرعون اور اس کی قوم سے اپنا ایمان ابھی تک مخفی رکھا تھا ذرونی اقتل موسیٰ کے جواب میں بول اٹھا کیا تم ایک شخص کا ناحق خون کرنا چاہتے ہو اس بات پر کہ وہ صرف ایک اللہ کو اپنا رب کیوں کہتا ہے۔ حالانکہ وہ اپنے دعوے کی صداقت کے کھلے کھلے نشان تم کو دکھلا چکا۔ اور اس کے قتل کی تم کو کچھ ضرورت بھی نہیں۔ بلکہ ممکن ہے تمہارے لیے مضر ہو۔ فرض کرو ! وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ثابت ہوا تو اتنے بڑے جھوٹ پر ضرور اللہ اس کو ہلاک یا رسوا کر کے چھوڑے گا۔ خدا کی عادت نہیں کہ وہ ایسے کاذب کو برابر پھولنے پھلنے دے۔ دنیا کو التباس سے بچانے کے لیے یقینا ایک روز اس کی قلعی کھول دی جائے گی۔ ایسے…
Read the full tafseer →آیت 28 { وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌق مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیْمَانَہٗ } ”اور آل فرعون میں سے ایک مومن مرد نے ‘ جو ابھی تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا ‘ کہا :“
اس مرحلے پر اس مرد مومن نے صورت حال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے کلمہ حق زبان پر لانے کا فیصلہ کرلیا۔ چناچہ اس نے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بھرے دربار میں اس مطلق العنان فرعون کے سامنے کھڑے ہو کر ”حق گوئی و بےباکی“ کی ایسی مثال قائم کی کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور جملے گویا ع ”موتی سمجھ کے شان کریمی نے ُ چن لیے !“ اور پھر ان موتیوں کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے جاں نثارانِ حق کی آنکھوں کی طراوت کے لیے صفحاتِ…
Read the full tafseer →38 اپنے ایمان کو چھپانے والا مرد مومن :۔ کہتے ہیں کہ یہ شخص فرعون کا چچا زاد بھائی تھا۔ یا کوئی اور بھی ہو تو کم از کم فرعون کے درباریوں اور قریبی لوگوں میں سے تھا۔ اور وہ سیدنا موسیٰ پر ایمان لاچکا تھا۔ بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ موسیٰ سے جب ایک قبطی مارا گیا تھا تو اسی شخص نے سیدنا موسیٰ کو اطلاع دی تھی کہ تمہارے قتل کے منصوبے ہو رہے ہیں لہذا جلد از جلد یہاں سے بھاگ جاؤ۔ اس وقت اگرچہ موسیٰ نبی نہیں تھے اور اس وقت آپ پر ایمان کا سوال بھی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ تاہم وہ سیدنا موسیٰ کے اخلاق و عادات سے متاثر تھا اور اسی لئے آپ کا ہمدرد بھی تھا اس جملہ سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ فرعون کی سخیتوں…
Read the full tafseer →28۔ معلوم ہوتا ہے کہ فرعونیوں میں سے کچھ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کے قائل ہوگئے تھے اور اتنا تو توریت میں بھی ہے کہ کچھ فرعونی خوف خدا رکھنے والے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ایک منذر پیشگوئی کے سلسلہ میں ہے :۔ ” فرعون کے نوکروں میں ہر ایک جو خداوند کے کلام سے ڈرتا تھا اپنے نوکروں اور اپنے مواشی کو گھروں میں بھگا لے آیا “۔ (خروج 9: 20) (آیت) ” یکتم ایمانہ “۔ علماء محققین نے لکھا ہے کہ اسلام ہی کی مصلحت سے اپنے اسلام کا چھپانا بالکل جائز ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل باطل کے سامنے حق کا اخفاء خوف فتنہ سے منافی کمال نہیں، خصوصا جبکہ سہولت ارشاد وتبلیغ کی مصلحت بھی شامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
آیت نمبر 28 تا 37
ترجمہ : اور ایک مومن شخص نے جو فرعون کے خاندان میں سے تھا کہا گیا ہے کہ وہ اس کا چچا زاد بھائی تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی جانب سے دلیلیں یعنی کھلے ہوئے معجزے لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کے جھوٹ کا (وبال) اسی پر ہے، اور اگر وہ سچا ہو تو جس دنیوی عذاب کا وہ تم سے وعدہ کررہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تم پر آپڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتے جو (شرک کرکے) حد سے تجاوز کرنے والا ہو، جھوٹا ہو، اے میری قوم کے لوگو ! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ تم ملک مصر پر غالب ہو،…
Read the full tafseer →وقال رجل مؤمن من ال فرعون یکتم ایمانہ اتقتلون رجلا ان یقول ربی اللہ وقد جائکم
بالبینت من ربکم وا اللہ یک کاذبا فعلیہ کذبہ وان یک صادقا یصبکم بعض الذی یعدکم ان اللہ لا یھدی من ھو مسرف اور ایک مؤمن شخص نے جو فرعون کے خاندان سے تھا (اور) اپنا ایمان (اب تک) چھپائے ہوئے تھا (مشورہ کمیٹی والوں سے) کہا : کیا تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ‘ حالانکہ (وہ اپنے دعوے پر) تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں بھی لے کر آیا ہے۔ اگر وہ (بالفرض) جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو وہ جس چیز سے تم کو ڈرا رہا ہے ‘ اس میں سے کچھ تو (ضرور) تم پر آپڑے گا۔ اللہ…
Read the full tafseer →اور حزقیل نامی ایک شخص نے کہا جو کہ فرعون کے چچازاد بھائی تھے اور تقریبا سو سال سے فرعون اور اس کی قوم اور فرعون کے خاندان سے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے انہوں نے کہا کیا ایک شخص کو محض اتنی سی بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے حالانکہ وہ اوامرو نواہی اور علامات نبوت بھی لے کر آیا ہے۔ بالفرض اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہی ہو تو وہ خود اپنے جھوٹ کی سزا بھگت لے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم اس کی تکذیب کر رہے ہو تو تمہیں ضرور دنیا میں بھی عذاب بھگتنا پڑے گا اور اللہ تعالیٰ مشرک اور جھوٹے کو اپنے دین کی طرف رہنمائی نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →(1) وقال رجل مومن من ال فرعون … موسیٰ ؑ نے ہر متکبر سے اللہ کی پناہ مانگی جو یوم حساب پر ایمان نہ رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرماتے ہوئے ان کی حمایت میں ایکس ایسے آدمی کو کھڑا کردیا جو فرعون کی آل میں سے تھا، جو موسیٰ ؑ پر ایمان لا چکا تھا مگر اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا۔ اس نے بہت اچھے طریقے سے موسیٰ ؑ کا دفاع کیا اور فرعون کو ان کے قتل سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ فرعون کے اپنے لوگوں میں سے ہونے کی وجہ سے اس نے بات کی جرأت کی اور اسی وجہ سے فرعون نے اس کی بات کے بعد اپنی قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کی، ورنہ اس کے دربار میں کسی اسرائیلی کی نہ یہ جرأت تھی اور نہ ہی اسکی برداشت تھی۔…
Read the full tafseer →(وقال رجل مومن۔۔۔۔۔ )
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ وقال رجل مومن بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے اس آدمی کا نام حبیب تھا (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام شمعان تھا۔ سہیلی نے کہا : یہ سب سے صحیح قول ہے، تاریخ طبرمی میں ہے اس کا نام فیر تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام حزقیل تھا، ثعلبی نے یہ قول حضرت ابن عباس اور اکثر علماء سے ذکر کیا ہے۔ زمحشرمی نے کہا : اس کا حبیب شا شمعان تھا (2) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام خربیل یا جزبیل تھا۔ یہ اختلاف ہے کہ وہ قطبی تھا یا اسرائیلی تھا۔ حضرت حسن بصری اور دوسرے علماء نے کہا : یہ قطبی تھا (3) ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ فرعون کا چچا زاد تھا…
Read the full tafseer →خاندان فرعون کا مؤمن :
1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فرعون والوں میں اس کے علاوہ کوئی اور مؤمن نہیں ہوا اور فرعون کی بیوی کے علاوہ (کوئی عورت مؤمن نہیں ہوئی) اور اس مؤمن کے علاوہ جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ڈرایا تھا جس نے کہا تھا (آیت ) ” ان الملأ یأتمرون بک لیقتلوک “ (بلاشبہ سرداروں نے حکم دیا تیرے بارے میں تاکہ وہ تجھ کو قتل کردیں) ابن المنذر (رح) نے فرمایا کہ کا نام حزقیل تھا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ اس آدمی کا نام جو فرعون کی قوم میں سے ایمان لایا تھا حبیب تھا۔
3:۔ البخاری (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے…
Read the full tafseer →وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ ڰ [ اور کہا ایک مومن مرد نے جو ] مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ [ آل فرعون میں سے تھا ] يَكْتُمُ [ وہ چھپاتا تھا ] اِيْمَانَهٗٓ [ اپنے ایمان کو ] اَتَقْتُلُوْنَ [کیا تم لوگ قتل کروگے ] رَجُلًا [ ایک شخص کو ] اَنْ يَّقُوْلَ [کہ وہ کہتا ہے ] رَبِّيَ [ میرا رب ] اللّٰهُ [ اللہ ہے ] وَ [حالانکہ ] قَدْ جَاۗءَكُمْ [ وہ آیا ہے تمہارے پاس ] بِالْبَيِّنٰتِ [ روشن (نشانیوں) کے ساتھ ] مِنْ رَّبِّكُمْ ۭ [ تمہارے رب (کی طرف ) سے ] وَاِنْ يَّكُ [ اور اگر وہ ہوگا ] كَاذِبًا [ جھوٹا ] فَعَلَيْهِ كَذِبُهٗ ۚ [تو اس پر ہی ہے اس کا جھوٹ ] وَاِنْ يَّكُ [ اور اگر وہ ہوگا ] صَادِقًا [ سچا ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
آل فرعون میں سے ایک مومن بندہ کی حق گوئی نیز تنبیہ اور تہدید
آل فرعون میں سے ایک شخص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا تھا (جیسا کہ فرعون کی بیوی مسلمان ہوگئی تھی) کہا جاتا ہے کہ یہ شخص فرعون کے چچا کا لڑکا تھا اور یہ بھی لکھا ہے کہ وہ فرعون کا ولی عہد سمجھا جاتا تھا اور محکمہ پولیس کا ذمہ دار تھا یہ مومن تو تھا لیکن اپنے ایمان کو چھپاتا تھا اس نے بطور ہمدردی فرعون سے اور اس کے ساتھیوں سے جو اس کی ہاں میں ہاں ملاتے تھے یوں کہا کہ تم جو اس شخص کو قتل کرنے کے منصوبے بنا رہے ہو یہ کوئی سمجھداری کی بات نہیں اول تو اس کا کوئی قصور نہیں کوئی چوری نہیں کی کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا اس نے ایک حق بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–45
قصہ مرد مومن از آل فرعون ونصیحت و ارشاد ودعوت و ایمان : فرعون وارکان سلطنت وزجر وتوبیخ برارادۂ قتل موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون ....... الی ........ کل قلب متکبر جبار “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ مضمون چل رہا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اللہ کے احکام نشانیاں اور کھلی سند لے کر آئے اور ان دلائل سے لوگوں کے سامنے حق اور باطل کا فرق واضح ہونے لگا تو فرعون اور اس کے اہل دربار کو یہ خطرہ ہوا کہ اس طرح کہیں لوگ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئیں، جس کا انجام فرعون کی حکومت کا زوال ہے تو اس نے یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے…
Read the full tafseer →35:۔ ” وقال رجل “ جب فرعون کے دربار میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا پروگرام بن رہا تھا اس وقت قوم فرعون ہی کا ایک آدمی اس گھناؤنے جرم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ یہ آدمی فرعون کا چچا زاد بھائی تھا اور درپردہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا۔ مؤمن، من آل فرعون، یکتم ایمانہ، تینوں ” رجل “ کی صفات ہیں۔ دوسری صفت کو تیسری صفت پر اس لیے مقدم کیا گیا ہے تاکہ واضح ہوجائے کہ وہ رجل ؤمن، آل فرعون سے تھا، اگر اس کا عکس ہوتا تو من اٰل فرعون، یکتم سے متعلق ہوجاتا اور اس طرح وہ فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ مؤمن آل فرعون، اگرچہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا، لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا پروگرام سن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–33
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے کفر وشرک کی تردید اور مشرکین کو تنبیہ کے انداز میں پہلے لوگوں کا حال ذکر کیا ، اور ان سرکشوں کا بھی جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبوث فرمایا یہ فرعون ، ہامان ، اور قارون ، تھے جنہوں نے غلط تدبیریں سوچ کر موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مشن کو ناکام کرنا چاہا ، حتی کہ آپ کے قتل کا ارادہ کیا ، فرعون دل میں موسیٰ (علیہ السلام) سے خوف بھی کھاتا تھا کیونکہ وہ آپ کے ہاتھ پر واضح نشانیاں دیکھ چکا تھا مگر لوگوں میں اپنا رعب قائم رکھنے کے لیے کہتا کہ مجھے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے مت روکو ، یہ شخص تمہارے دین کو تبدیل اور زمین میں فساد برپا کرنا چاہتا ہے ،…
Read the full tafseer →وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ 0 ۤۖ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَہٗٓ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ يَّقُوْلَ رَبِّيَ اللہُ وَقَدْ جَاۗءَكُمْ بِالْبَيِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْ 0 ۭ وَاِنْ يَّكُ كَاذِبًا فَعَلَيْہِ كَذِبُہٗ 0 ۚ وَاِنْ يَّكُ صَادِقًا يُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِيْ يَعِدُكُمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِيْ مَنْ ہُوَمُسْرِفٌ كَذَّابٌ 28
رجل
الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا
[ الأنعام/ 9]
( ر ج ل ) الرجل
کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
تفسیر : یہ اسی قصہ کا تتمہ ہے کہ فرعون نے لوگوں کی تسلی اور اپنی شوکت جتلانے کے لیے یہ بھی کہا کہ مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ اپنے رب کو بلاوے ‘ دیکھیں، وہ کیا کرتا ہے اور کیونکر بچاتا ہے۔ (جانتا تھا کہ قتل کروں گا تو بلا آجاوے گی کس لیے کہ معجزات دیکھ چکا تھا، گویا لوگوں نے اس کو قتل سے روک رکھا تھا) یہ اس لیے کہ اگر قتل نہ کروں تو مجھے ڈر ہے کہ تمہارے دین کو بدل دے گا ‘ بت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی پر لگا دے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا کہ وہ سرغنہ ہے، بہت لوگ اس کے تابع ہو کر سرکشی اور بغاوت پر آمادہ ہوجائیں گے۔
اس کے جواب میں موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ کہا انی عذت الخ کہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ صلے ق مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیمَانَـہٗٓ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلاً اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ وَقَدْ جَآئَ کُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّکُمْ ط وَاِنْ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیْہِ کَذِبُہٗ ج وَاِنْ یَّـکُ صَادِقًایُّصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ۔ (المؤمن : 28)
(اور کہا آل فرعون میں سے ایک مردمومن نے جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کیا تم ایک شخص کو صرف اس بنا پر قتل کردو گے کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے، حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینات لے کر آیا ہے، اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : فرعون کی دھمکی کے رد عمل میں ایک مومن کا درد مندانہ خطاب۔
فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی دھمکی دی تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں صرف اتنا فرمایا کہ میں تیرے اقدام قتل سے نہیں ڈرتا کیونکہ میری حفاظت میرے رب کے ذمے ہے۔ اس صورت حال میں ایک مومن تڑپ اٹھا۔ جس کے بارے میں قرآن مجید بتلارہا ہے کہ اس نے حالات کے جبر کی وجہ سے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا۔ جوں ہی اس نے محسوس کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون انتہائی اقدام کرنے والا ہے تو وہ بےدھڑک ہو کر فرعون کے سامنے پرسوز لہجہ اور پورے جلال کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے باربار اپنی قوم کو…
Read the full tafseer →مومن آل فرعون کی تقریر : وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ ڰ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ اِيْمَانَهٗٓ، اور ایک مومن شخص نے جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان پوشیدہ رکھتا تھا کہا۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ قبطی تھا، اور فرعون کا چچا زاد بھائی تھا، وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر پوشیدہ طور پر ایمان لے آیا۔
نحو : من ال فرعون یہ رجل کی صفت ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ یہ اسرائیلی تھا۔ اس صورت میں من آل فرعون یہ یکتم کا صلہ ہے تقدیر کلام اس طرح ہے۔ یکتم ایمانہ من ال فرعون، وہ آل فرعون سے ایمان کو چھپاتا تھا۔ اس کا نام سمعان تھا یا حبیب یا خربیل یا حزبیل مگر قول اول ظاہر سیاق کے زیادہ مناسب ہے۔ اَتَقْتُلُوْنَ…
Read the full tafseer →تفسیر 27۔ ، وقال موسیٰ ، جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کی دھمکی دی۔ ، انی عذت بربی وربکم من کل متگبرلایئومن بیوم الحساب،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
22۔ 28۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو عقبیٰ کے خوف کی باتوں سے ڈرایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور نیک و بد کا ذرا ذرا حساب ہوگا اور جو لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور اپنے بتوں سے شفاعت کی توقع رکھتے ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے وہاں مشرکوں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا پھر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے مخالفت کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے بہت لوگ ان سے پہلے ہلاک ہوچکے ہیں جن کا حال انہوں نے ملک شام و یمن کے سفر میں سنا ہوگا اور جو کچھ عمارتیں ان پچھلے لوگوں کی باقی رہ گئی ہیں ان کے دیکھنے سے ان کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–46
آیت 23
ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…
Read the full tafseer →58 حضرت موسیٰ کے لیے ایک تایید غیبی کا ذکر وبیان : حضرت موسیٰ کے لیے ایک مرد مومن کی تائید کی صورت میں غیبی امداد کا ذکر وبیان فرمایا گیا۔ سو ان مشکل حالات میں حضرت موسیٰ کے لیے تائید غیبی کے طور پر آل فرعون کے ایک مرد مومن کا ایمان افروز کردار سامنے آیا۔ اس مرد مومن کے بارے میں تفسیری روایات میں وارد ہے کہ یہ فرعون کا چچا زاد بھائی، اس کا ولی عہد اور اس کی پولیس کا انچارج تھا۔ اس نے اعداء کے خوف سے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا۔ مگر آج فرعون کی طرف سے یہ دھمکیاں اور بےہودہ کلام سننے کے بعد اس سے رہا نہ گیا اور وہ پکار اٹھا۔ اور نہایت معقول و موثر انداز میں بھرے دربار میں وقت کے سب سے بڑے متکبر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–37
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 28 تا 37:
اسرار و معارف :
چناچہ قوم فرعون کا بندہ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا مگر قوم پر ظاہر نہ ہونے دیا تھا بول اٹھا کہ تم لوگ اس بات پر ایک انسان کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ اللہ کو اپنا پروردگار مانتا ہے حالانکہ وہ اللہ ہی کو تمہارا پروردگار بھی ثابت کرتا ہے اور اسی کی طرف سے واضح دلائل کے ساتھ تمہارے پاس آیا ہے اگر بالفرض یہ جھوٹ کہتا ہے تو معمولی جرم نہیں کہ اللہ پر جھوٹ بولا جائے لہذا اسے اس کی سز ابھگتنا پڑے گی یعنی خود اللہ کی طرف سے سز اپائیگا تم کیوں تکلیف کرتے ہو لیکن یہ بھی دیکھو کہ یہ جو یہ کہ رہا ہے سچ ہوا تو تمہارا کیا بنے گا اگر تم انکار کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 10 یعنی میں ہر اس شخص کے مقابلے میں جسے آخرت اور اس کے حساب کتاب کا ڈر نہیں ہے اور اس بناء پر وہ شتر بےمہار بن کر جو دل میں آتا ہے کر گزرتا ہے، اس خدائے بزرگ و برتر کی پناہ میں ہوں جو میرا نہیں تمہارا بھی رب ہے اور جس کے سامنے تمہاری اور تمہارے بنائے ہوئے اس رب فرعون کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ جب چاہے تمہیں آن کی آن میں فنا کرسکتا ہے، پھر میں تمہاری اس دھمکی سے مرعوب کیوں ہوں ؟ میرے قتل کی سکیم جو تم اپنے پیش نظر رکھتے ہو، اسے ضرور عملی جامہ پہنا کر دم لو۔11 یعنی تمہیں ایسے ناقابل انکار معجزے دکھا چکا ہے جن سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ اس کا دعویٰ بےدلیل نہیں ہے اور وہ واقعی…
Read the full tafseer →(40:28) رجل مؤمن۔ موصوف صفت۔ مومن شخص یہ شخص ال فرعون میں سے تھا۔ اور اس شخص کی طرف سورة القصص میں بھی اشارہ ہے :۔ فجاء رجل من اقصا المدینۃ (28:20) اور ایک شخص شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا۔ اور سورة یس میں بھی (38:20) یہی شخص مذکور ہے۔
یکتم ایمانہ : یکتم فعل مضارع واحد مذکر غائب کتم (باب نصر) مصدر بمعنی چھپانا۔ وہ اپنا ایمان پوشیدہ رکھتا تھا (مضارع بمعنی ماضی) ۔ اتقتلون ہمزہ استفہامیہ ہے۔ تقتلون ای اتقصدون کیا تم (اس کے) قتل کا ارادہ کرتے ہو۔ مسبب بیان کرے سبب مراد لیا ہے۔
ان یقول ای لان یقول۔ اس لئے کہ وہ کہتا ہے ان مصدریہ ہے۔ یقول : میں ضمیر فاعل حضرت موسیٰ کے لئے ہے۔
ربی اللّٰہ۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 29 : یکتم (وہ چھپاتا ہے) یصیب (وہ پہنچے گا) مسرف ( حد سے بڑھنے والا) کذاب (بہت جھوٹ بولنے والا) ظھرین (چھا جانے والے ، غائب ہونے والے) باس ( عذاب ، تکلیف) اری (میں دیکھتا ہوں) الرشاد (ہدایت ، رہنمائی)
تشریح : آیت نمبر 28 تا 29 :۔ یہاں ایک مرد مومن کا ذکر فرمایا گیا ہے جس کی مناسبت سے اس سورة کا نام المومن رکھا گیا ہے۔ وہ مرد مومن فرعون کے شاہی خاندان کے ایک فرد تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ دربار کے کوئی اعلیٰ عہدیدار تھے بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ فرعون کے چچا زاد بھائی اور آل فرعون میں سے تھے۔
یہ مرد مومن جن کے تین نام نقل کئے گئے ہیں شمعان ، حزقیل اور جبر ۔ یہ مرد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
(ف 1) ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ان پچھلے لوگوں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہونا فقط اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے تھا اور ان پچھلے لوگوں میں سب سے آخر فرعون کی قوم جو ہلاک ہوئی تھی اس کا قصہ بھی مثال کے طور پر ذکر فرمایا دیا، یہ اوپر گذرچکا ہے کہ پچھلے زمانہ کی تاریخی بات کو دیاد دلا کر مشابہت کے طور موجود زمانہ کی بات کے انجام کو ذہن نشین کرنا، اس مطلب کے ثابت کرنے کے لیے ایک بڑاعمدہ طریقہ ہے اسی مطلب کے لیے قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے لوگوں کے قصے ذکر فرمائے گئے اگرچہ قارون بنی اسرائیل میں سے تھا لیکن تورات کے زکوۃ کے حکم پر موسیٰ کی نبوت کا منکر ہوکرانکو جادوگر کہنے لگا کہ فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
[11] اصل الفاظ ہیں '' یوم التناد '' یعنی چیخ وپکار کا دن۔ مراد اس سے روز قیامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
فرعون کے استبداد کا جواب
1: حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد بابرکت میں بنی اسرائیل مصر میں آئے ۔ اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ تقریباً چار صدیاں انہوں نے یہاں امن و سکون کے ساتھ گزاریں اس کے بعد جب قبطیوں نے دیکھا ۔ کہ یہ لوگ اپنی ذہنی اور جسمانی لحاظ سے ہم سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔ تو ان کو خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ قوت واقتدار کے تمام شعبوں پر نہ چھا جائیں ۔ اور ہمیں جو کہ مصر کے اصل باشندے ہیں ۔ نکال باہر نہ کریں ۔ اس لئے مخالفت اور عناد کے جذبات ان کے سینوں میں پیدا ہوئے ۔ اور آہستہ آہستہ بڑھنے لگے ۔ قراعنہ مصر نے قبیلوں کے ساتھ دیا اور بنی اسرائیل کی تذلیل وتحقیر ٹھان لی ۔ تقریباً نصف صدی کے…
Read the full tafseer →(28) اور فرعون کے خاندان والوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا اس نے یوں کہا کیا تم محض اس بنا پر ایک شخص کو قتل کرتے ہو جو یوں کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کھلی اور واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے اگر یہ شخص جھوٹا ہی ہو تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو اس عذاب کا کچھ حصہ تو تم کو پہنچ کر ہی رہے گا جس کا وہ تم کو وعدہ دے رہا ہے اور جس کی پیشین گوئی کررہا ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی رہبری اور رہنمائی نہیں کیا کرتا اور اس کو مقصود تک نہیں پہنچاتا جو سحد سے گر جانے والا اور بہت جھوٹ بولنے والا ہو۔ یعنی…
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی معجزات بھی دکھلاتا ہے، جو دلیل ہے صدق دعوائے نبوت اور مامور من اللہ بتبلیغ التوحید ہونے کی، اور دلیل موجود ہوتے ہوئے صاحب دلیل کی مخالفت کرنا اور مخالفت بھی اس درجہ کی کہ قتل کا قصد کیا جاوے نہایت نازیبا ہے۔
1۔ غرض اس کے کذب کی صورت میں قتل فضول اور صدق کی صورت میں مضر، پھر ایسا فعل کیوں کیا جاوے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے جواب نے بات کو سب پر واضح کر دیا
28۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے جو جواب دیا گیا ہے وہ پورے ملک میں آناََ فانا پھیل گیا اور ملک کے ہر فرد پر واضح ہوگیا کہ اب فرعون اوچھے ہتھیاروں پر اتر آیا ہے اس لیے جہاں فرعون کا ساتھ دینے والے منصوبہ بندیاں کر رہے تھے وہاں جس جس دل میں ایمان کا ذرہ موجود تھا وہ بھی چھپا نہ رہ سکا اور یہ بھی کہ جہاں بنی اسرائیل کے کچھ لالچی قسم کے لوگ جو صرف دولت کے پوت تھے فرعون کے ساتھ ہاں میں ہاں ملا رہے تھے وہاں قبطی قوم کے وہ لوگ جن کے دلوں میں سچائی راہ پا چکی تھی وہ بھی چھپے نہ رہ سکے انہی لوگوں میں سے ایک آدمی جس کا ذکر قرآن کریم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
In verse 28, it was said: يَكْتُمُ إِيمَانَهُ (who had kept his faith secret). This tells us that a person who does not declare his 'iman (faith) before people, yet remains staunch in his faith by heart, then, this person is a believer. But, it stands proved from clear textual authority (of the Qur'an and Hadith) that, for 'iman to be acceptable, the simple certitude of the heart is not enough, instead, it is subject to the condition of a verbal confession and declaration. Unless the person concerned declares it verbally, he or she will not be regarded as a believer. However, making this…
Read the full tafseer →45 That is, "He has shown such manifest Signs to you as have made it absolutely clear that he is a Messenger sent by your Lord." The Believer, from among the people of Pharaoh, was obviously referring to the Signs the details of which have already been given in AI-A'raf: 107-117,130-133; Bani Isra'il: 101-102; Ta Ha: 56-73; Ash-Shu'ara': 30-51; An-Naml :10-13).
46 That is, "If in spite of such manifest Signs as he has shown you, you regard him as a liar, you should leave him alone, for the alternative probability, and a very strong probability too, is that he is truthful, and therefore you…
Read the full tafseer →