Al-Ghaafir 40:27

Al-Ghaafir · from ayah 27

40:27

وَقَالَ مُوْسٰۤی اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ ۟۠وَقَالَ مُوۡسٰٓى اِنِّىۡ عُذۡتُ بِرَبِّىۡ وَرَبِّكُمۡ مِّنۡ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤۡمِنُ بِيَوۡمِ الۡحِسَابِ

موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا۔ اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But Moses said, "Indeed, I have sought refuge in my Lord and your Lord from every arrogant one who does not believe in the Day of Account."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 3 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:27

موسیٰؑ نے کہا "میں نے تو ہر اُس متکبر کے مقابلے میں جو یَوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے ر ب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

موسیٰ نے کہا کہ میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن (یعنی قیامت) پر ایمان نہیں لاتا۔ اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

موسیٰ ؑ نے کہا میں اپنے اور تمہارے رب کی پناه میں آتا ہوں ہر اس تکبر کرنے والے شخص (کی برائی) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور موسیٰ نے کہا : میں نے تو ہر اس متکبر سے جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا، اس کی پناہ لے لی ہے جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور موسیٰ نے کہا میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر متکبر سے کہ حساب کے دن پر یقین نہیں لاتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور موسٰی ؑ نے کہا: میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں، ہر متکبر شخص سے جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور موسیٰ نے کہا بیشک میں نے اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لی ہے ہر اس متکبر سے جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور موسیٰ نے کہا میں نے اپنے اور تمہارے پروردگار کی ہر ایسے متکبر سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا، پناہ لے لی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور موسیٰ نے کہا میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لی ہر اس متکبر کے شر سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس کے جواب میں) موسیٰ نے کہا میں پناہ مانگتا ہوں اس کی جو رب ہے میرا بھی اور تمہارا بھی ہر ایسے متکبر (کے شر) سے جو ایمان نہیں رکھتا حساب کے دن پر

— مولانا اسحاق مدنی

اور موسیٰ ؑ نے کہا میں اپنے اور تمہارے سب کے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں ہر بڑائی مارنے والے سے جو روز حساب پر یقین نہیں رکھتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور موسیٰ ؑ ٰ نے کہا کہ میں پناہ پکڑتا ہوں اپنے اور تمہارے رب کی ہر اس متکبر شخص کے مقابلے میں جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

موسیٰ نے کہا : میں ہر متکبر سے جو حساب کے دن یعنی قیامت پر ایمان نہیں لاتا اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لے چکا ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses said: “I have taken refuge with my Lord and your Lord from everyone who waxes arrogant and does not believe in the Day of Reckoning.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And Musa said, :I have sought protection of my Lord and your Lord from every arrogant man who does not believe in the Day of Reckoning.

— Muhammad Taqi Usmani

And Musa said, :I have sought protection of my Lord and your Lord from every arrogant man who does not believe in the Day of Reckoning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Musa said: "Verily, I seek refuge in my Lord and your Lord from every arrogant who believes not in the Day of Reckoning!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Moses said: Lo! I seek refuge in my Lord and your Lord from every scorner who believeth not in a Day of Reckoning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But Moses said, "Indeed, I have sought refuge in my Lord and your Lord from every arrogant one who does not believe in the Day of Account."

— Saheeh International

Moses said, "I seek protection from your and my Lord against every arrogant person who has no faith in the Day of Judgment."

— Muhammad Sarwar

And Musa said: Surely I take refuge with my Lord and-- your Lord from every proud one who does not believe in the day of reckoning.

— Muhammad Habib Shakir

And Musa said: verily I seek refuge in my Lord and your Lord from every stiff-necked person who believeth not in a Day of Reckoning.

— Abdul Majid Daryabadi

Moses said: "I have indeed called upon my Lord and your Lord (for protection) from every arrogant one who believes not in the Day of Account!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–27

فرعون کا بدترین حکم۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ کو تسلی دینے کے لئے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہوگی جیسے کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کا واقعہ آپ کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل وبراہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 44 یہاں دو برابر کے احتمال ہیں، جن میں سے کسی کو کسی پر ترجیح دینے کے لیے کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔ ایک احتمال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اس وقت دربار میں خود موجود ہوں، اور فرعون نے ان کی موجودگی میں انہیں قتل کردینے کا ارادہ ظاہر کیا ہو، اور حضرت نے اس کو اور اس کے درباریوں کو خطاب کر کے اسی وقت بر ملا یہ جواب دے دیا ہو۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کی غیر موجودگی میں فرعون نے اپنی حکومت کے ذمہ دار لوگوں کی کسی مجلس میں یہ خیال ظاہر کیا ہو، اور اس گفتگو کی اطلاع آنجناب کو اہل ایمان میں سے کچھ لوگوں نے پہنچائی ہو، اور اسے سن کر آپ نے اپنے پیروؤں کی مجلس میں یہ بات ارشاد فرمائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–27

معارف و مسائل مومن آل فرعون اور جا بجا منکرین توحید و رسالت کی وعید و تہدید کے ضمن میں کفار کا خلاف وعناد مذکور ہوا ہے جس سے طبعی طور پر رسول اللہ ﷺ کو حزن وملال ہوتا تھا۔ آپ کی تسلی کے لئے مذکورہ الصدر تقریباً دو رکوع میں حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کا قصہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس قصہ میں ایک طویل مکالمہ فرعون اور قوم فرعون کے ساتھ اس بزرگ شخص کا ہے جو خود آل فرعون میں ہونے کے باوجود موسیٰ ؑ کے معجزات دیکھ کر ایمان لے آیا تھا۔ مگر بمصلحت اپنے ایمان کو اس وقت تک چھپا رکھا تھا۔ اس مکالمہ کے وقت اس کے ایمان کا بھی حتمی اعلان ہوگیا۔ ائمہ تفسیر میں سے مقاتل اور سدی اور حضرت حسن نے فرمایا کہ یہ فرعون کا چچا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت موسیٰ کا رویہ حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے اس ارادہ کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے اپنا معاملہ اپنے رب کے حوالے کیا کہ میں ہر اس متکبر کے شر سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ تمہارے رب، کے الفاظ یہاں بطور تذکیر و تنبیہ ہیں یعنی یاد رکھو کہ وہی تمہارا بھی رب ہے، اس کے سوا کوئی اور رب نہیں ہے جس کے بل پر کوئی کچھ کرسکے۔ ’ من کل متکبر لا یومن بیوم الحساب ‘۔ تکبر درحقیقت حق سے اعراض کا نام ہے جو نتیجہ ہے انانیت و خود پرستی کا اور یہ چیز پیدا ہوتی ہے آخرت پر ایمان نہ ہونے سے۔ جو شخص آخرت کو نہیں مانتا وہ ایک مطلق العنان ہے۔ وہ جو کچھ بھی کر گزرے اس سے بعید نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ کے علم میں جب یہ بات آئی کہ فرعون مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو انہوں نے اللہ سے اس کے شر سے بچنے کیلیے دعا مانگی نبی ﷺ کو جب دشمن کا خوف ہوتا تو یہ دعا پڑھتے اللھم انا نجعلک فی نحورھم ونعوذ بک من شرور ھم مسند احمد اے اللہ ہم تجھ کو ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–27

5: یعنی جب وہ سچے دین کا پیغام عام لوگوں کے پاس لے کر گئے اور بہت سے لوگ ان پر ایمان لانے لگے تو فرعون کے لوگوں نے یہ تجویز دی کہ جو مرد ایمان لائیں، ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور عورتوں کو زندہ رکھو تاکہ انہیں غلام بناکر ان سے خدمت لی جائے، یہ حکم ایک تو موسیٰ ؑ کی پیدائش سے پہلے دیا گیا تھا جس کی تفصیل سورة طٰہٰ اور سورة قصص میں گزرچکی ہے، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی نجومی نے پیشین گوئی کی تھی کہ بنی اسرائیل کا کوئی شخص فرعون کا تختہ الٹے گا، اور دوسری بار یہ حکم اس وقت دیا گیا جب لوگ حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے لگے، اور بیٹوں کو قتل کرنے کا منشاء ایک تو یہ تھا کہ ایمان لانے والوں کی نسل نہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 27 حضرت موسیٰ نے یہ بات کہہ دی اور مطمئن ہوگئے اور اپنی حفاظت کا معاملہ اس ذات کے سپرد کردیا جو ہر متکبر سے بلند ہے۔ ہر جبار کے اوپر ہے اور تمام دوسرے جباروں سے بھاگ کر اس کی پناہ میں آنے والوں کی حفاظت کرتا ہے۔ حضرت نے یہ کہا کہ وہ اس رب کی پناہ میں ہیں جو خود میں ہیں جو خود ان کافروں کا بھی رب ہے اور ہمارا بھی رب ہے ، اللہ نے ہمیں بھلا نہیں دیا اور نہ فرعون کی دھمکیوں کے مقابلے میں بےسہارا چھوڑدیا ہے۔ یہ لوگ تو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اس لیے یہ زمین میں اپنی کبریائی قائم کرتے ہیں۔ کوئی شخص جو قیامت کی جوابدہی پر ایمان رکھتا ہو وہ متکبر نہیں بن سکتا۔ کیونکہ وہ تصور کرسکتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جب ان کے مشوروں کی خبر پہنچی تو اپنی قوم سے فرمایا کہ مجھے ان دھمکیوں کی مطلق پروا نہیں۔ فرعون اکیلا تو کیا، ساری دنیا کے متکبرین و جبارین جمع ہوجائیں تب بھی میرا اور تمہارا پروردگار ان کے شر سے بچانے کے لیے کافی ہے۔ میں اپنے کو تنہا اسی کی پناہ میں دے چکا ہوں۔ وہ ہی میرا حامی و مددگار ہے کما قال تعالیٰ ( لَا تَخَافَآ اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى) 20 ۔ طہ :46) 4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جس کو حساب کا یقین ہو وہ ظلم کا ہے کو کرے گا۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 { وَقَالَ مُوْسٰٓی اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَکَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ } ”اور موسیٰ علیہ السلام ٰ نے کہا کہ میں پناہ پکڑتا ہوں اپنے اور تمہارے رب کی ہر اس متکبر شخص کے مقابلے میں ‘ جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 متکبر اور ظالم وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو آخرت کے منکر ہوں :۔ فرعون نے سیدنا موسیٰ کو قتل کرنے کی بات خواہ سیدنا موسیٰ کی موجودگی میں کی ہو یا انہیں کسی واسطہ سے فرعون کی اس دھمکی کا علم ہوا ہو۔ بہرحال جب انہوں نے یہ بات سنی تو اپنی قوم سے کہنے لگے : مجھے فرعون کی ایسی دھمکیوں کی کچھ بھی پروا نہیں۔ فرعون اکیلا تو کیا دنیا بھر کے متکبر اور جبار جمع ہوجائیں تب بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ میں اپنے آپ کو اپنے پروردگار کی پناہ میں دے چکا ہوں اور وہ مجھے ان کے شر سے بچانے کے لئے کافی ہے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ متکبر، جابر اور ظالم صرف وہ لوگ ہی ہوسکتے ہیں جو روز آخرت پر ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ علماء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ شر سے بچنے کے لیے دعاء عمومی اور کلی رنگ میں اگر کی جائے تو بہتر ہے جیسا کہ یہاں ضرورت صرف فرعون کے شر سے پناہ مانگنے کی تھی لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے الفاظ جامع وعموی استعمال کیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–27

آیت نمبر 21 تا 27 ترجمہ : کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ؟ کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیسا کچھ انجام ہوا وہ باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے، ان سے بہت بڑھے ہوئے تھے اور وہ یادگاریں پانی کے بڑے بڑے حوض اور محلات تھے، اور ایک قرآءت میں مِنْھُمْ کی بجائے مِنْکُمْ ہے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا (ہلاک کردیا) اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچالیتا، یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے معجزے لیکر آتے تھے تو وہ انکار کردیتے تھے سو اللہ نے ان کو گرفت میں لے لیا، یقیناً وہ طاقتور اور سخت عذاب والا ہے اور ہم نے موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال موسیٰ انی عذت بربی وربکم منکل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب اور موسیٰ نے (جب یہ بات سنی تو) کہا : میں اپنے اور تم سب کے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر اس مغرور شخص کے شر سے جو روز حساب پر یقین نہیں رکھتا۔ اِنَّ حرف تاکید ہے ‘ کلام کا آغاز تاکیدی اسلوب سے یہ بتانے کیلئے کیا کہ شر کو دفع کرنے کا محکم سبب اللہ کی پناہ ہے اور چونکہ حفاظت اور تربیت مقصود تھی ‘ اسلئے (ا اللہ کے اوصاف میں سے) لفظ رب ذکر کیا اور چونکہ موسیٰ کی حفاظت سب قوم کی حفاظت کی حامل تھی ‘ اسلئے جس طرح رب کی اضافت اپنی طرف کی ‘ اسی طرح قوم کی طرف بھی کی۔ اس سے قوم کو اس بات پر آمادہ کرنا مقصود تھا کہ تم بھی میری موافقت کرو اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

حضرت موسیٰ نے فرمایا میں اپنے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں ہر اس شخص کے شر سے جو کہ ایمان لانے سے تکبر کرنے والا ہے اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وقال موسیٰ انی عذت بربی …: موسیٰ ؑ کو جب اس بات کا علم ہوا کہ فرعون مجھے قتل کرنا چاہتا ہے تو انہوں نے اس کے شر سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی۔ اللہ تعالیٰ کے خصا بندوں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ دشمنوں سے بچنے کے لئے اپنے رب کی پناہ طلب کرتے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو جب کسی قوم (کے حملے) کا ڈر ہوتا تو (اللہ تعالیٰ سے) یہ دعا کرتے : (اللھم انا نجعلک فی نحورھم ونعوذ بک من شرورھم) (ابو داؤد، الوتر، باب مایقول الرجل اذا خاف قوما :1938، وصحجہ الالبانی)”اے اللہ ہم تھے ان کے مقابلے میں کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–27

(ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔ ) ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا یہ نو نشانیاں ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں گزر چکا ہے : ” وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍ م “ (الاسرائ : 101) ان کی تعیین بھی گزر چکی ہے :” وسلطن مبین۔ “ اس سے مراد واضح حجت ہے، سلطان یہ مذکر اور مونث دونوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد تورات ہے الی فرعون وھا من وقارون ان کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کی تدبیر کا دارومدار نہیں افراد پر تھا فرعون بادشاہ تھا، ہامان وزیر تھا اور قارون اموال اور خزانوں والا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے ان دونوں کے ساتھ جمع کردیا کفر اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–27

2:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقال فرعون ذرونی اقتل موسیٰ (اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کروں گا) میں دیکھوں گا کون اسے مجھ سے بچاتا ہے۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی اخاف ان یبدل دینکم اوان یظھر فی الارض الفساد “ (اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فساد ظاہر کرے گا کہ وہ قتل کریں، تمہارے بیٹوں کو اور چھوڑدیں تمہاری عورتوں کو جب وہ تم پر غلبہ پائیں جیسے تم ان کے ساتھ کرتے تھے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی اخاف ان یبدل دینکم “ یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَ مُوْسٰٓى [ اور کہا موسیٰ نے ] اِنِّىْ عُذْتُ [ کہ میں نے پناہ لی ] بِرَبِّيْ [ اپنے رب کی ] وَرَبِّكُمْ [ اور تمہارے رب کی ] مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ [ ہر ایسے تکبر کرنے والے سے جو ] لَّا يُؤْمِنُ [ایمان نہیں رکھتا ] بِيَوْمِ الْحِسَابِ [ حساب کے دن پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–27

ہم نے موسیٰ کو فرعون، ہامان، قارون کی طرف بھیجا، انہوں نے ان کو ساحر اور کذاب بتایا، فرعون کے برے عزائم کا تذکرہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے رب کی پناہ مانگنا گزشتہ آیات میں اجمالی طور پر بعض اقوام کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب کا تذکرہ فرمایا آیات بالا میں اور ان کے بعد ڈیڑھ رکوع تک فرعون اور اس کی قوم کے عناد اور تکذیب کا اور بالآخر ان کے غرق اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا درمیان میں ایک ایسے شخص کی نصیحتوں کا تذکرہ بھی فرمایا، جو آل فرعون میں سے تھا، یہ شخص ایمان لے آیا تھا اور اپنے ایمان کو چھپاتا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات یعنی معجزات کے ساتھ اور واضح حجت کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–27

تنبیہ ووعید برائے ظالمین از کرب و اضطراب۔ روز قیامت مع تذکر ۂ قصہ موسیٰ (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وانذر ھم یوم الازفۃ ..... الی ..... من کل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منکرین کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت کے روز عذاب خداوندی دیکھ کر وہ اس کی تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور نیک کام کرلیں اب ان آیات میں ایسے منکروں اور ظالموں کو اس دن کی بےچینی اور اضطراب سے متنبہ کیا جار ہا ہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ قدیم میں گزرے ہوئے مجرمین اور سرکشوں کا انجام ہلاکت بیان کرکے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

34:۔ ” وقال موسیٰ “ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو علم ہوا کہ ان کے قتل کا منصوبہ بن رہا ہے۔ تو اپنی قوم کو اطمینان دلایا کہ میں ہر ایسے متکبر و مغرور کے شر سے جو یوم حساب پر بھی یقین نہ رکھتا ہو، اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ میں آچکا ہوں۔ میرا پروردگار مجھے ان کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–27

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر تھا اور کچھ دلائل قدرت بھی بیان ہوئے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکیں اور اس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کو ادراک ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور وہاں پیش آنے والے بعض حالات کا ذکر کیا ، اور جزائے عمل کے متعلق یاد دہانی کرائی ، اب آج کے درس میں بھی زیادہ کفر وشرک کرنے والوں کا شکوہ ہی بیان کیا گیا ہے اور ان کی توجہ بعض سابقہ نافرمان اقوام کے حالات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے ۔ (سابقہ اقوام کا انجام) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اولم یسیروا فی الارض “۔ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ یہ نزول قرآن کے زمانے کے کفار ومشرکین کے متعلق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ مُوْسٰٓى اِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَرَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ۝ 27ۧ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . عوذ العَوْذُ : الالتجاء إلى الغیر والتّعلّق به . يقال : عَاذَ فلان بفلان، ومنه قوله تعالی: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] ( ع و ذ) العوذ ) ن ) کے معنی ہیں کسی کی پناہ لینا اور اس سے چمٹے رہنا ۔ محاورہ ہے : ۔ عاذ فلان بفلان فلاں نے اس کی پناہ لی اس سے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] کہ میں خدا کی پناہ مانگتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 26–31

تفسیر : یہ اسی قصہ کا تتمہ ہے کہ فرعون نے لوگوں کی تسلی اور اپنی شوکت جتلانے کے لیے یہ بھی کہا کہ مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ اپنے رب کو بلاوے ‘ دیکھیں، وہ کیا کرتا ہے اور کیونکر بچاتا ہے۔ (جانتا تھا کہ قتل کروں گا تو بلا آجاوے گی کس لیے کہ معجزات دیکھ چکا تھا، گویا لوگوں نے اس کو قتل سے روک رکھا تھا) یہ اس لیے کہ اگر قتل نہ کروں تو مجھے ڈر ہے کہ تمہارے دین کو بدل دے گا ‘ بت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی پر لگا دے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا کہ وہ سرغنہ ہے، بہت لوگ اس کے تابع ہو کر سرکشی اور بغاوت پر آمادہ ہوجائیں گے۔ اس کے جواب میں موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ کہا انی عذت الخ کہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَ مُوْسٰٓی اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مِّنْ کُلِّ مُتَـکَبِّرٍ لاَّیُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ ۔ (المؤمن : 27) (اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں نے پناہ لے لی ہے اپنے رب کی اور تمارے رب کی، ہر اس متکبر کے شر سے جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے رب پر غیرمتزلزل اعتماد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب یہ بات کہی، کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس وقت وہ دربار میں موجود تھے اور فرعون نے ان کی موجودگی میں ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، یا انھیں یہ بات کسی ذمہ دار کے واسطے سے پہنچی۔ اور انھوں نے اپنے پیروئوں کی مجلس میں یہ بات کہی جس کا یہاں ذکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–27

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے قتل عام کے بعد فرعون کا انتہائی اقدام کرنے کا فیصلہ۔ نامعلوم فرعون نے کتنی مدّت تک بنی اسرائیل کا قتل عام جاری رکھا۔ اس ظالمانہ اقدام کے باوجود بنی اسرائیل کا نوجوان طبقہ موسیٰ (علیہ السلام) پر دھڑا دھڑ ایمان لانے لگا جس کا قرآن مجید نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔ ” موسیٰ پر اس کی قوم کے نو جوانوں کے سوا فرعون اور اس کے سرداروں کے خوف اور ان کے فتنہ میں مبتلا کرنے کی وجہ سے کوئی ایمان نہ لایا اور بلا شبہ فرعون زمین میں سرکش اور حد سے بڑھنے والوں میں تھا۔ موسیٰ نے فرمایا اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر توکل کرو، اگر تم فرمانبردار ہو۔ تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

موسیٰ نے قتل کی دھمکی سن کر اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی۔ وَقَالَ مُوْسٰٓى، اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا۔ جب انہوں نے فرعون کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم کو قتل موسیٰ (علیہ السلام) کے سلسلہ میں کہی سن پائی تو کہا۔ اِنِّىْ عُذْتُ بِرَبِّيْ وَرَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ ، میں اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیت اہوں ہر ایسے کر دماغ سے جو روز حساب پر یقین نہیں رکھتا۔ آیت میں ربکم کا لفظ ان کو اس بات پر ابھارنے کیلئے ہے کہ وہ اس کی اقتداء اختیار کریں اور اللہ تعالیٰ کی اسی طرح پناہ مانگیں جس طرح میں نے نے پناہ مانگی ہے۔ اور اس پر توکل کرتے ہوئے اس کو مضبوطی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

26، وقال فرعون، اپنے سرداروں کو، ذرونی اقتل موسیٰ ، اس نے یہ اس وجہ سے کہا کہ فرعون کی قوم کے خاص افراد میں ایسے لوگ بھی تھے جو فرعون کو ہلاکت کے خوف سے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل سے بازرکھتے تھے۔ ، ولیدع ربہ، یعنی اور چاہیے کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کو پکاریں جس نے ان کے گمان کے مطابق ان کو ہماری طرف رسول بناکربھیجا ہے تو وہ ان کو ہم سے بچالے۔ ، انی اخاف ان یبدل، وہ تبدیل کردے۔ ، دینکم، جس تم ہو۔ ، اوان یظھرفی الارض الفساد، یعقوب اور اہل کوفہ نے، اوان یظھر، پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ، وان یظھر، پڑھا ہے اور اہل مدینہ اور بصرہ اور حفص رحمہم اللہ نے، یظھر، یاء کے پیش اور ھاء کی زیر کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–28

22۔ 28۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو عقبیٰ کے خوف کی باتوں سے ڈرایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور نیک و بد کا ذرا ذرا حساب ہوگا اور جو لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور اپنے بتوں سے شفاعت کی توقع رکھتے ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے وہاں مشرکوں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا پھر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے مخالفت کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے بہت لوگ ان سے پہلے ہلاک ہوچکے ہیں جن کا حال انہوں نے ملک شام و یمن کے سفر میں سنا ہوگا اور جو کچھ عمارتیں ان پچھلے لوگوں کی باقی رہ گئی ہیں ان کے دیکھنے سے ان کو معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–46

آیت 23 ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔ اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

56 حضرت موسیٰ کی اپنے رب سے پناہ کی درخواست : سو فرعون کی اس چالبازی اور دھمکی کے جواب میں موسیٰ نے کہا کہ میں پناہ مانگتا ہوں اپنے رب کی ہر اس منکر سے جو ایمان نہیں رکھتا یوم حساب پر۔ سو فرعون کی ان دھمکیوں اور بےہودہ باتوں کے مقابلے میں حضرت موسیٰ نے نہ تو کسی خوف و ڈر کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی کسی تعلّی اور بڑائی کے دعوے سے کام لیا۔ بلکہ اپنے آپ کو اپنے رب کی پناہ میں دینے کا اعلان فرما دیا۔ جو سب پر غالب اور انتہائی مہربان ہے۔ اور حقیقت میں حفاظت کا یہی سب سے بڑا ذریعہ اور حقیقی وسیلہ ہے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا حتی کہ انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کا بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–55

موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–27

رکوع نمبر 3: آیات 21 تا 27 اسرار و معارف : یہ لوگ تو روئے زمین پر سفر کرنے والے ہیں انہوں نے یقینا پہلی اقوام کے آثار دیکھے ہوں گے جو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا جنہوں نے ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ کس طرح تباہ ہوئے حالانکہ وہ ان لوگوں کی نسبت بہت زیادہ طاقتور تھے یہ بات ان کے چھوڑے ہوئے قلعوں اور آثار سے بھی ظاہر ہے مگر ان کی قوت و شوکت کسی کام نہ آئی اللہ کے عذاب نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب آپکڑا تو انہیں کوئی ایسا آسرا نہ مل سکا جو ان سے دوستی کا دم بھرتا اور انہیں تباہی سے بچا لیتا ان پر بھی عذاب اسی وجہ سے آئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول اللہ کی طرف سے دلائل لے کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 27–28

ف 10 یعنی میں ہر اس شخص کے مقابلے میں جسے آخرت اور اس کے حساب کتاب کا ڈر نہیں ہے اور اس بناء پر وہ شتر بےمہار بن کر جو دل میں آتا ہے کر گزرتا ہے، اس خدائے بزرگ و برتر کی پناہ میں ہوں جو میرا نہیں تمہارا بھی رب ہے اور جس کے سامنے تمہاری اور تمہارے بنائے ہوئے اس رب فرعون کی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ جب چاہے تمہیں آن کی آن میں فنا کرسکتا ہے، پھر میں تمہاری اس دھمکی سے مرعوب کیوں ہوں ؟ میرے قتل کی سکیم جو تم اپنے پیش نظر رکھتے ہو، اسے ضرور عملی جامہ پہنا کر دم لو۔11 یعنی تمہیں ایسے ناقابل انکار معجزے دکھا چکا ہے جن سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ اس کا دعویٰ بےدلیل نہیں ہے اور وہ واقعی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:27) عذت۔ ماضی واحد متکلم میں نے پناہ لی (مراد میں پناہ مانگتا ہوں) عوذ (باب نصر) سے مصدر۔ عذت اصل میں عوذت تھا۔ واو متحرک ماقبل مفتوح اس لئے واؤ کو الف سے بدلا گیا۔ بعد میں الف اجتماع ساکنین سے گرگیا۔ پھر واؤ کی رعایت سے ع کو ضمہ دیا۔ عذت ہوگیا۔ متکبر۔ اللہ کا اسم صفت ہے تکبر (تفعل) سے اسم فاعل واحد مذکر کا صیغہ ہے۔ بزرگ۔ بڑھائی جتلانے والا۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ سے ہو تو یہ محمود صفت ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صفت تکبر کے ساتھ متصف ہوتا ہے۔ لیکن جب اس کی نسبت غیر اللہ سے ہو تو یہ ایک بڑ ہے اور مذموم ہے۔ اس صورت میں متکبر اس کو کہیں گے جو صفات کمال کا دعوی کرتا ہے لیکن فی الواقع وہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–27

لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 27 : لم یسیروا ( وہ چلتے پھرتے نہیں) عاقبۃ (انجام) اثارا (نشانات، کھنڈرات) واق ( وقی) بچانے والا) ضلل ( گمراہی) ذو ونی (مجھے چھوڑو ( میری بات چھوڑو) عذت ( میں نے پناہ حاصل کرلی) تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 : دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں بہت سی قومیں ابھریں۔ ان کی تہذیب ان کا تمدن ساری دنیا پر چھا گیا ۔ ان کی تجارت مال و دولت کی کثرت ، بلند وبالا عمارتیں اور قلعے اس کثرت سے تھے کہ ان پر ناز کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھنا شروع کردیا ۔ غرور وتکبر کے ساتھ ساتھ انہوں نے کفر و شرک کی انتہاء کردی ۔ ان کی نا فرمانیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–28

(ف 1) ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ان پچھلے لوگوں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہونا فقط اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے تھا اور ان پچھلے لوگوں میں سب سے آخر فرعون کی قوم جو ہلاک ہوئی تھی اس کا قصہ بھی مثال کے طور پر ذکر فرمایا دیا، یہ اوپر گذرچکا ہے کہ پچھلے زمانہ کی تاریخی بات کو دیاد دلا کر مشابہت کے طور موجود زمانہ کی بات کے انجام کو ذہن نشین کرنا، اس مطلب کے ثابت کرنے کے لیے ایک بڑاعمدہ طریقہ ہے اسی مطلب کے لیے قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے لوگوں کے قصے ذکر فرمائے گئے اگرچہ قارون بنی اسرائیل میں سے تھا لیکن تورات کے زکوۃ کے حکم پر موسیٰ کی نبوت کا منکر ہوکرانکو جادوگر کہنے لگا کہ فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–32

[11] اصل الفاظ ہیں '' یوم التناد '' یعنی چیخ وپکار کا دن۔ مراد اس سے روز قیامت ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–28

فرعون کے استبداد کا جواب 1: حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد بابرکت میں بنی اسرائیل مصر میں آئے ۔ اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ تقریباً چار صدیاں انہوں نے یہاں امن و سکون کے ساتھ گزاریں اس کے بعد جب قبطیوں نے دیکھا ۔ کہ یہ لوگ اپنی ذہنی اور جسمانی لحاظ سے ہم سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔ تو ان کو خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ قوت واقتدار کے تمام شعبوں پر نہ چھا جائیں ۔ اور ہمیں جو کہ مصر کے اصل باشندے ہیں ۔ نکال باہر نہ کریں ۔ اس لئے مخالفت اور عناد کے جذبات ان کے سینوں میں پیدا ہوئے ۔ اور آہستہ آہستہ بڑھنے لگے ۔ قراعنہ مصر نے قبیلوں کے ساتھ دیا اور بنی اسرائیل کی تذلیل وتحقیر ٹھان لی ۔ تقریباً نصف صدی کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں ہر ایسے سرکش اور مغرور سے جو حساب کے دن کا یقین نہ رکھتا ہو اپنے پروردگار کی اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں اور اس کی پناہ میں آچکا ہوں۔ یعنی موسیٰ کو جب یہ خبر ملی کہ فرعون کا یہ ارادہ ہے تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے اور تمہارے پروردگار یعنی جو سب کا پروردگار ہے اس سے پناہ مانگتا ہوں اور اس کی پناہ میں آچکا ہوں۔ ہر اس متکبر اور سرکش کے مقابلے میں جو یوم حساب کا یقین ہی نہیں رکھتا، یعنی جب میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہوں تو مجھ کو کوئی اندیشہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون نے سوال تو اپنے اعوان وانصار سے کیا تھا لیکن جواب موسیٰ (علیہ السلام) نے دیا 27۔ فرعون کے اعوان وانصارنے فرعون کی بات سنی لیکن فیصلہ کو محفوظ رکھا کیونکہ وہ فیصلہ ہی ایسا تھا کہ محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا دیا ؟ بات بالکل واضح ہے کہ فرعون کی بات کی انہوں نے تصدیق کردی کہ یہ بات بالکل صحیح ہے جب تک موسیٰ کو راستۃ سے ہٹا نہ دیا جائے اس وقت تک قوم بنی اسرائیل کو قابو میں نہیں رکھا جاسکتا لیکن اس فیصلہ کو انائونس نہ کیا جئاے بلکہ کسی مناسب موقعہ کی تاڑ میں رہ کر پتہ تب ہی چلے جب موسیٰ کا کام تمام کردیا گیا ہو لیکن ان کا یہ فیصلہ محفوظ نہ رہ سکا اور بنی اسرائیل کے رسول و نبی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–28

In verse 28, it was said: يَكْتُمُ إِيمَانَهُ (who had kept his faith secret). This tells us that a person who does not declare his 'iman (faith) before people, yet remains staunch in his faith by heart, then, this person is a believer. But, it stands proved from clear textual authority (of the Qur'an and Hadith) that, for 'iman to be acceptable, the simple certitude of the heart is not enough, instead, it is subject to the condition of a verbal confession and declaration. Unless the person concerned declares it verbally, he or she will not be regarded as a believer. However, making this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

44 Here, there are two equal probabilities and there is no ground for preferring one to the other. The first probability is that the Prophet Moses might himself be present in the court at the time and Pharaoh might have expressed his intention to kill him in his presence, and the Prophet might have given this direct answer there and then, addressing him and his courtiers. The other probability is that Pharaoh might have expressed this intention in the absence of Moses in a meeting with the responsible people of his government and a report of this conversation might have been conveyed to the…

Read the full tafseer →