Explained with ayahs 23–27
فرعون کا بدترین حکم۔
اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ کو تسلی دینے کے لئے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہوگی جیسے کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کا واقعہ آپ کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل وبراہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 41
یہاں سے جس واقعہ کا بیان شروع ہو رہا ہے وہ تاریخ بنی اسرائیل کا ایک نہایت اہم واقعہ ہے جسے خود بنی اسرائیل بالکل فراموش کر گئے ہیں۔ بائیبل اور تَلْمود، دونوں اس کے ذکر سے خالی ہیں، اور دوسری اسرائیلی روایات میں بھی اس کا کوئی نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ اس قصے کو جو شخص بھی پڑھے گا، بشرطیکہ وہ اسلام اور قرآن کے خلاف تعصب میں اندھا نہ ہوچکا ہو، وہ یہ محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے گا کہ دعوت حق کے نقطۂ نظر سے یہ قصہ بہت بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے، اور بجائے خود یہ بات بعید از عقل و قیاس بھی نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ کی شخصیت، ان کی تبلیغ، اور ان کے ہاتھوں ظہور پذیر ہونے والے حیرت انگیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
معارف و مسائل
مومن آل فرعون
اور جا بجا منکرین توحید و رسالت کی وعید و تہدید کے ضمن میں کفار کا خلاف وعناد مذکور ہوا ہے جس سے طبعی طور پر رسول اللہ ﷺ کو حزن وملال ہوتا تھا۔ آپ کی تسلی کے لئے مذکورہ الصدر تقریباً دو رکوع میں حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کا قصہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس قصہ میں ایک طویل مکالمہ فرعون اور قوم فرعون کے ساتھ اس بزرگ شخص کا ہے جو خود آل فرعون میں ہونے کے باوجود موسیٰ ؑ کے معجزات دیکھ کر ایمان لے آیا تھا۔ مگر بمصلحت اپنے ایمان کو اس وقت تک چھپا رکھا تھا۔ اس مکالمہ کے وقت اس کے ایمان کا بھی حتمی اعلان ہوگیا۔
ائمہ تفسیر میں سے مقاتل اور سدی اور حضرت حسن نے فرمایا کہ یہ فرعون کا چچا…
Read the full tafseer →فرعون اور اس کے اعیان کی بدحواسی
اپنی اسکیم کی ناکامی اور حضرت موسیٰ ؑ کے اس مطالبہ سے فرعون اور اس کے اعیان بالکل حواس باختہ ہوگئے۔ اس حواس باختگی کے عالم میں فرعون نے اپنے درباریوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ آپ لوگ مجھے اجازت دیجئے کہ میں موسیٰ ؑ کو قتل کر دوں۔ اگر اس کا کوئی خدا ہے جس نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے تو وہ اپنی مدد کے لئے اس کو بلائے۔ اپنی اس تجویز کی تائید میں اس نے دلیل یہ پیش کی کہ اگر اب موسیٰ ؑ کو مزید مہلت دی گئی تو مجھے ڈر ہے کہ وہ یا تو آپ لوگوں کے دین کو بدل کے رکھ دے گا یا ملک میں بغاوت کرا دے گا۔ یہ امر واضح رہے کہ فرعون اپنی قوم والوں کے نزدیک سورج دیوتا کا مظہر…
Read the full tafseer →26۔ 1 یہ غالبًا فرعون نے ان لوگوں سے کہا جو اسے موسیٰ ؑ کو قتل کرنے سے منع کرتے تھے۔
26۔ 2 یہ فرعون کی دیدہ دلیری کا اظہار ہے کہ میں دیکھوں گا، اس کا رب اسے کیسے بچاتا ہے، اسے پکار کر دیکھ لے۔ یا رب ہی کا انکار ہے کہ اس کا کون سا رب ہے جو بچا لے گا، کیونکہ رب تو وہ اپنے آپ کو کہتا تھا۔
26۔ 3 یعنی غیر اللہ کی عبادت سے ہٹا کر ایک اللہ کی عبادت پر نہ لگا دے یا اس کی وجہ سے فساد نہ پیدا ہوجائے مطلب یہ تھا کہ اس کی دعوت اگر میری قوم کے کچھ لوگوں نے قبول کرلی تو وہ نہ قبول کرنے والوں سے بحث و تکرار کریں گے جس سے ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوگا جو فساد کا ذریعہ بنے گا یوں دعوت توحید کو اس نے قساد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
5: یعنی جب وہ سچے دین کا پیغام عام لوگوں کے پاس لے کر گئے اور بہت سے لوگ ان پر ایمان لانے لگے تو فرعون کے لوگوں نے یہ تجویز دی کہ جو مرد ایمان لائیں، ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور عورتوں کو زندہ رکھو تاکہ انہیں غلام بناکر ان سے خدمت لی جائے، یہ حکم ایک تو موسیٰ ؑ کی پیدائش سے پہلے دیا گیا تھا جس کی تفصیل سورة طٰہٰ اور سورة قصص میں گزرچکی ہے، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی نجومی نے پیشین گوئی کی تھی کہ بنی اسرائیل کا کوئی شخص فرعون کا تختہ الٹے گا، اور دوسری بار یہ حکم اس وقت دیا گیا جب لوگ حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے لگے، اور بیٹوں کو قتل کرنے کا منشاء ایک تو یہ تھا کہ ایمان لانے والوں کی نسل نہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 26
اس کے اس قول سے ذرونی اقتل موسیٰ (40: 26) ” چھوڑو مجھے ، میں اس موسیٰ کو قتل کروں “ سے معلوم ہوتا ہے ، اس کے حاشیہ نشینوں کی جانب سے حضرت موسیٰ کے قتل کے خلاف دلائل دیئے جارہے تھے کہ اگر آپ موسیٰ کو قتل کر بھی دیں تو مسئلہ ختم نہ ہوگا ، جمہور عوام انہیں شہید سمجھ کر اسے ایک مقدس شخصیت قرار دیں گے۔ اس طرح لوگ شعوری طور پر ان کے دین کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہون ، خصوصاً جبکہ ایک قومی میلے کے دن جادوگر اس پر ایمان لاچکے ہیں اور انہوں نے اپنے ایمان کی وجہ بھی لوگوں کو بتادی ہے۔ حالانکہ جادوگروں کو جمع اس لیے کیا گیا تھا کہ اس کے دین کو باطل ثابت کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بادشاہ کے بعض…
Read the full tafseer →1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " فرعون نے کہا مجھ کو چھوڑو۔ شاید اس کے ارکان سلطنت مار ڈالنے کا مشورہ نہ دیتے ہوں گے۔ کیونکہ معجزہ دیکھ کر ڈر گئے تھے، کہیں اس کا رب بدلہ نہ لے۔ " فرعون خود بھی دل میں ڈرا ہوا اور سہما ہوا تھا۔ لیکن لوگوں پر اپنی قوت و شجاعت کا اظہار کرنے کے لیے انتہاء درجہ کی شقاوت اور بےحیائی سے ایسا کہہ رہا تھا۔ تاکہ لوگ سمجھیں کہ اس کو قتل سے کوئی چیز مانع نہیں۔ اور اس کے ارادہ کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔
2 یعنی اسے زندہ چھوڑ دیا گیا تو دنیا اور دنیاوی دونوں طرح کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ ممکن ہے یہ اپنے وعظ و تلقین سے تمہارے مذہبی طور و طریق کو جو پہلے سے چلا آتا ہے بگاڑ ڈالے یا…
Read the full tafseer →آیت 26 { وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْیَدْعُ رَبَّہٗ } ”اور فرعون نے کہا : مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ علیہ السلام ٰ کو قتل کر دوں اور وہ بچائو کے لیے پکارلے اپنے رب کو۔“
فرعون کے اس فقرے کے اندر بہت سی اَن کہی تفصیلات کی جھلک بھی نظر آرہی ہے۔ اَوّلاً اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک فرعون بھانپ چکا تھا کہ پانی سر سے گزرنے کو ہے اور یہ کہ اس مرحلے پر اگر موسیٰ علیہ السلام ٰ کو قتل کر کے راستے سے نہ ہٹایا گیا تو یہ طوفان اس کے اقتدار سمیت مصر کی ”عظیم الشان تہذیب“ اور ”مثالی روایات“ کو بھی بہا لے جائے گا۔ ثانیاً اس فقرے سے اس کی بےچارگی بھی عیاں ہو رہی ہے۔ وہ مطلق العنان…
Read the full tafseer →34 فرعون کی گیدڑ بھبکی :۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب سیدنا موسیٰ پر ایمان لانے والوں میں کمی ہونے کے بجائے ان کی تعداد بڑھتی ہی گئی تو فرعون نے سوچا کہ اب اس مصیبت کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ ہے کہ سیدنا موسیٰ ہی کو قتل کردیا جائے۔ لیکن اس کے درباریوں نے جو صحیح صورت حال سے واقف ہوچکے تھے اسے اس کام سے منع کردیا کہ کہیں ملک میں کوئی بڑی بغاوت نہ اٹھ کھڑی ہو، تو ان درباریوں کو فرعون نے یہ جواب دیا ہو کہ اب یہ کام کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا۔ لہذا مجھے یہ کام کرنے سے مت روکو۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے کسی نے بھی روکا نہ ہو مگر وہ محض اپنی بہادری جتلانے کے لئے یہ بات کہہ…
Read the full tafseer →25۔ (دیکھیں تو سہی وہ ہمارے عتاب سے اسے کیونکر بچالیتا ہے) (آیت) ” قال فرعون “۔ یہ فرعون نے جھنجھلا کر اپنے وزراء وامراء سے کہا۔ فرعون کی حکومت باوجود اس کے شخصی استبداد کے شورائی تھی، جیسا کہ قرآن مجید کی دوسری آیات سے بھی نکلتا ہے۔
26۔ دین سے مراد مصر کا قومی آبائی دین شرک ہے۔ ملاحظہ انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ فرعون نے دو خطرے اپنے اعیان سلطنت کو سجھائے ایک یہ کہ یہ مدعی نبوت اپنی تدبیروں اور نام نہاد اصلاحی مساعی سے اس دین آبائی میں خلل ڈال دے گا اور لوگوں کو دین شرک سے اکھاڑ دے گا۔ دوسرے یہ کہ رعایا میں تاج کے خلاف شورش وبغاوت پھیلا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیت نمبر 21 تا 27
ترجمہ : کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ؟ کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیسا کچھ انجام ہوا وہ باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے، ان سے بہت بڑھے ہوئے تھے اور وہ یادگاریں پانی کے بڑے بڑے حوض اور محلات تھے، اور ایک قرآءت میں مِنْھُمْ کی بجائے مِنْکُمْ ہے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا (ہلاک کردیا) اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچالیتا، یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے معجزے لیکر آتے تھے تو وہ انکار کردیتے تھے سو اللہ نے ان کو گرفت میں لے لیا، یقیناً وہ طاقتور اور سخت عذاب والا ہے اور ہم نے موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →وقال فرعون ذرونی اقتل موسیٰ ولیدع ربہ انی اخاف ان یبدل دینکم او ان یظھر فی
الارض الفساد اور فرعون نے (اہل دربار سے) کہا : مجھے اجازت دو کہ میں موسیٰ (ہی) کو قتل کر دوں اور اس کو چاہئے کہ (اپنی مدد کیلئے) اپنے رب کو پکارے ‘ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ (کہیں) تمہارا مذہب دل دے گا یا ملک میں تباہی پھیلائے گا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ فرعون نے یہ بات اسلئے کہی تھی کہ کچھ درباری اس کو موسیٰ کو قتل کرنے سے روک رہے تھے ‘ کیونکہ ان کو اپنی تباہی کا اندیشہ تھا ‘ وہ فرعون سے کہتے تھے : موسیٰ ایک جادوگر ہے ‘ اگر آپ اس کو قتل کرا دیں گے تو لوگ خیال کریں گے کہ آپ دلائل سے اس کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے ‘ اسلئے قتل کرا…
Read the full tafseer →اور فرعون کہنے لگا کہ مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کر ڈالوں اور اس کو چاہیے کہ اپنے رب کو بلا لے جس کے بارے میں یہ خیال کرتا ہے کہ اس نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے مجھے ڈر ہے کہ جس دین پر تم ہو کہیں وہ تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی خرابی نہ پھیلائے کہ تمہاری لڑکیوں کو خادمہ بنائے اور لڑکوں کو قتل کر ڈالے جیسا کہ تم لوگ کر رہے ہو یا یہ کہ تمہارے آباؤ اجداد کے دین کو چھوڑ دے اور تم سب کو اپنے دین میں داخل کرے۔
Read the full tafseer →(1) وقال فرعون ذرونی اقتل موسیٰ : یہ کہہ کرعون ظاہر یہ کرنا چاہتا تھا کہ ابھی تک اس نے جو موسیٰ ؑ کو قتل نہیں کیا تو اپنے درباریوں اور سرداروں کے روکنے کی وجہ سے نہیں کیا۔ یہ بات اس نے محض رعب کا گانٹھنے کے لئے یا اپنے آپ کو ہمت دلانے کے لئے کہی، کیونکہ اندر سے وہ شدید خوف زدہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے ”نجعل لکما سلطناً فلا یصلون الیکما“ (ہم تم دونوں کے لئے غلبہ رکھیں گے، سو وہ تم تک نہیں پہنچیں گے۔ قصص : 35) کے فرمان کے ساتھ موسیٰ اور ہ اورن ؑ کو جو غلبہ اور رعب عطا فرما رکھا تھا، اس کے ہوتے ہوئے اس کی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ انہیں قتل کرے، یا کوئی اور نقصان پہنچائے۔ رہے درباری، تو وہ نہ تو فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
(ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔ )
ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا یہ نو نشانیاں ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں گزر چکا ہے : ” وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍ م “ (الاسرائ : 101) ان کی تعیین بھی گزر چکی ہے :” وسلطن مبین۔ “ اس سے مراد واضح حجت ہے، سلطان یہ مذکر اور مونث دونوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد تورات ہے الی فرعون وھا من وقارون ان کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کی تدبیر کا دارومدار نہیں افراد پر تھا فرعون بادشاہ تھا، ہامان وزیر تھا اور قارون اموال اور خزانوں والا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے ان دونوں کے ساتھ جمع کردیا کفر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وقال فرعون ذرونی اقتل موسیٰ (اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کروں گا) میں دیکھوں گا کون اسے مجھ سے بچاتا ہے۔
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی اخاف ان یبدل دینکم اوان یظھر فی الارض الفساد “ (اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ تمہارا دین بدل دے گا یا زمین میں فساد ظاہر کرے گا کہ وہ قتل کریں، تمہارے بیٹوں کو اور چھوڑدیں تمہاری عورتوں کو جب وہ تم پر غلبہ پائیں جیسے تم ان کے ساتھ کرتے تھے۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی اخاف ان یبدل دینکم “ یعنی…
Read the full tafseer →وَقَالَ فِرْعَوْنُ [ اور کہا فرعون نے ] ذَرُوْنِيْٓ [ تم لوگ چھوڑو مجھ کو ] اَقْتُلْ مُوْسٰى [ تو میں قتل کروں موسیٰ کو ] وَلْيَدْعُ [ اور چاہیے کہ وہ پکارلے ] رَبَّهٗ ۚ [ اپنے رب کو ] اِنِّىْٓ اَخَافُ [ بیشک میں ڈرتا ہوں ] اَنْ يُّبَدِّلَ [ کہ وہ تبدیل کردے ] دِيْنَكُمْ [ تمہارے نظام حیات کو ] اَوْ اَنْ يُّظْهِرَ [ یا یہ کہ وہ ظاہر کرے ] فِي الْاَرْضِ الْفَسَادَ [ زمین میں نظم کی خرابی کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
ہم نے موسیٰ کو فرعون، ہامان، قارون کی طرف بھیجا، انہوں نے ان کو ساحر اور کذاب بتایا، فرعون کے برے عزائم کا تذکرہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے رب کی پناہ مانگنا
گزشتہ آیات میں اجمالی طور پر بعض اقوام کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب کا تذکرہ فرمایا آیات بالا میں اور ان کے بعد ڈیڑھ رکوع تک فرعون اور اس کی قوم کے عناد اور تکذیب کا اور بالآخر ان کے غرق اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا درمیان میں ایک ایسے شخص کی نصیحتوں کا تذکرہ بھی فرمایا، جو آل فرعون میں سے تھا، یہ شخص ایمان لے آیا تھا اور اپنے ایمان کو چھپاتا تھا۔
ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات یعنی معجزات کے ساتھ اور واضح حجت کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–27
تنبیہ ووعید برائے ظالمین از کرب و اضطراب۔ روز قیامت مع تذکر ۂ قصہ موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وانذر ھم یوم الازفۃ ..... الی ..... من کل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت کے روز عذاب خداوندی دیکھ کر وہ اس کی تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور نیک کام کرلیں اب ان آیات میں ایسے منکروں اور ظالموں کو اس دن کی بےچینی اور اضطراب سے متنبہ کیا جار ہا ہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ قدیم میں گزرے ہوئے مجرمین اور سرکشوں کا انجام ہلاکت بیان کرکے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ…
Read the full tafseer →33:۔ ” وقال فرعون “ فرعون نے سوچا موسیٰ (علیہ السلام) ہی اس نئے دین کی جڑ ہے، اس لیے اسے ہی ختم کرنا چاہئے۔ چناچہ اب ان کے قتل کا فیصلہ ہوا۔ فرعون نے کہا مجھے چھوڑو کہ میں اسے قتل کرادوں، اور وہ اپنے رب کو اپنی مدد کے لیے بلا لے، ہم دیکھیں گے کس طرح وہ اسے قتل سے بچائیگا۔ فرعون کے اس انداز کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دہریہ تھا اور خدا کے وجود کا قائل نہ تھا۔ ” انی اخاف “ اس میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی وجہ بیان کی ہے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ تمہارا دین بدل دے اور تمہاری قوم (شاہی خاندان) اس کا دین قبول کرلے اور وہ میری عبات چھوڑ کر اس کے رب کی عبادت کرنے لگیں۔ اور اگر وہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر تھا اور کچھ دلائل قدرت بھی بیان ہوئے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکیں اور اس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کو ادراک ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور وہاں پیش آنے والے بعض حالات کا ذکر کیا ، اور جزائے عمل کے متعلق یاد دہانی کرائی ، اب آج کے درس میں بھی زیادہ کفر وشرک کرنے والوں کا شکوہ ہی بیان کیا گیا ہے اور ان کی توجہ بعض سابقہ نافرمان اقوام کے حالات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے ۔
(سابقہ اقوام کا انجام)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اولم یسیروا فی الارض “۔ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ یہ نزول قرآن کے زمانے کے کفار ومشرکین کے متعلق…
Read the full tafseer →وَقَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِيْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَلْيَدْعُ رَبَّہٗ 0 ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّبَدِّلَ دِيْنَكُمْ اَوْ اَنْ يُّظْہِرَ فِي الْاَرْضِ الْفَسَادَ 26
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
فِرْعَوْنُ
: اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة .
فرعون
یہ علم عجمی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
تفسیر : یہ اسی قصہ کا تتمہ ہے کہ فرعون نے لوگوں کی تسلی اور اپنی شوکت جتلانے کے لیے یہ بھی کہا کہ مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ اپنے رب کو بلاوے ‘ دیکھیں، وہ کیا کرتا ہے اور کیونکر بچاتا ہے۔ (جانتا تھا کہ قتل کروں گا تو بلا آجاوے گی کس لیے کہ معجزات دیکھ چکا تھا، گویا لوگوں نے اس کو قتل سے روک رکھا تھا) یہ اس لیے کہ اگر قتل نہ کروں تو مجھے ڈر ہے کہ تمہارے دین کو بدل دے گا ‘ بت پرستی چھوڑ کر خدا پرستی پر لگا دے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا کہ وہ سرغنہ ہے، بہت لوگ اس کے تابع ہو کر سرکشی اور بغاوت پر آمادہ ہوجائیں گے۔
اس کے جواب میں موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ کہا انی عذت الخ کہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ فِرْعَوْنَ ذَرُوْنِیْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰی وَلْیَدْعُ رَبَّـہٗ ج اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّـبَدِّلَ دِیْنَـکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْہِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ ۔ (المؤمن : 26)
(اور فرعون نے کہا، مجھے چھوڑ دو ، میں اس موسیٰ کو قتل کیے دیتا ہوں اور موسیٰ کو چاہیے کہ اپنے رب کو پکار دیکھے، مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔ )
فرعون اور اس کے مصاحبین کی برہمی
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش نے ایسی نازک صورت اختیار کرلی کہ فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت یہ محسوس کرنے لگے کہ اب معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے اگر ہم نے (حضرت) موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے قتل عام کے بعد فرعون کا انتہائی اقدام کرنے کا فیصلہ۔
نامعلوم فرعون نے کتنی مدّت تک بنی اسرائیل کا قتل عام جاری رکھا۔ اس ظالمانہ اقدام کے باوجود بنی اسرائیل کا نوجوان طبقہ موسیٰ (علیہ السلام) پر دھڑا دھڑ ایمان لانے لگا جس کا قرآن مجید نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا ہے۔
” موسیٰ پر اس کی قوم کے نو جوانوں کے سوا فرعون اور اس کے سرداروں کے خوف اور ان کے فتنہ میں مبتلا کرنے کی وجہ سے کوئی ایمان نہ لایا اور بلا شبہ فرعون زمین میں سرکش اور حد سے بڑھنے والوں میں تھا۔ موسیٰ نے فرمایا اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر توکل کرو، اگر تم فرمانبردار ہو۔ تو…
Read the full tafseer →فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے سے جلد ہلاکت کے خطرہ کی وجہ سے باز رہا :
وَقَالَ فِرْعَوْنُ ، اور فرعون نے کہا، اپنے سرداروں کو ذَرُوْنِيْٓ اَقْتُلْ مُوْسٰى، مجھ کو چھوڑو کہ موسیٰ کو میں قتل کر ڈالوں۔ جب فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کا ارادہ کرتا تو سردار اس کو یہ کہہ کر منع کرتے یہ وہ نہیں جس سے تجھے خطرہ ہے یہ اس سے کم درجہ ہے یہ تو ایک ساحر ہے۔ جب تو اس کو قتل کرے گا تو لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا کردے گا۔ لوگوں کو یقین ہوجائے گا۔ کہ تو اس کا دلیل سے مقابلہ کرنے سے عاجز آچکا ہے۔ اس سے یہ بات کھل کر معلوم ہوتی ہے کہ فرعون کو یہ یقین ہوچکا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نبی برحق ہیں۔…
Read the full tafseer →25، فلما جاء ھم بالحق من عندناقالوا، یعنی فرعون اور اس کی قوم ۔ ، اقتلوا ابناء الذین امنو امعہ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ پہلے قتل عام کے علاوہ ہے۔ اس لیے کہ فرعون بچوں کے قتل سے رک چکا تھا پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی تو بنی اسرائیل پر قتل کا اعادہ کیا تو اس کا معنی یہ ہے کہ ان پر قتل کا اعادہ کرو۔ ، واستحیوں انساء ھم، تاکہ وہ ان کو موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی اور مدد کرنے سے روکیں۔ ، وماکیدالکافرین ، نہیں تھا۔ فرعون اور اس کی قوم کا مکر اور حیلہ ، الا فی ضلال، یعنی ان کی تدبیر باطل ہوگئی اور ان کو اس چیز نے گھیرلیا جس کا اللہ نے ان کے بارے میں ارادہ کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
22۔ 28۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو عقبیٰ کے خوف کی باتوں سے ڈرایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور نیک و بد کا ذرا ذرا حساب ہوگا اور جو لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور اپنے بتوں سے شفاعت کی توقع رکھتے ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے وہاں مشرکوں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا پھر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے مخالفت کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے بہت لوگ ان سے پہلے ہلاک ہوچکے ہیں جن کا حال انہوں نے ملک شام و یمن کے سفر میں سنا ہوگا اور جو کچھ عمارتیں ان پچھلے لوگوں کی باقی رہ گئی ہیں ان کے دیکھنے سے ان کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–46
آیت 23
ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔
اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
55 فرعون کی بوکھلاہٹ اور اس کی چالبازی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے فرعون کی بوکھلاہٹ اور اس کی سیاسی چالبازی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے۔ سو ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ فرعون اپنے آپ کو مصلح اور حضر تِ موسیٰ کو فسادی قرار دے رہا ہے۔ حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ مگر اہل باطل کی یہ بھی ایک مشترکہ اور پرانی ٹیکنیک چلی آئی ہے کہ وہ حق اور اس کے خدام اور حاملین کے خلاف اسی طرح کے پروپیگنڈے کرتے ہیں۔ اور وہ عوام الناس کو ان کے خلاف اکسانے بھڑکانے کے لئے اسی طرح کے شیطانی حربوں اور فرعونی ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ جَعَلَ اللّٰہُ کَیْدَہُمْ فِیْ نُحُوْرِہِمْ وَ اَعَاذنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–55
موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار
تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
رکوع نمبر 3: آیات 21 تا 27
اسرار و معارف :
یہ لوگ تو روئے زمین پر سفر کرنے والے ہیں انہوں نے یقینا پہلی اقوام کے آثار دیکھے ہوں گے جو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا جنہوں نے ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ کس طرح تباہ ہوئے حالانکہ وہ ان لوگوں کی نسبت بہت زیادہ طاقتور تھے یہ بات ان کے چھوڑے ہوئے قلعوں اور آثار سے بھی ظاہر ہے مگر ان کی قوت و شوکت کسی کام نہ آئی اللہ کے عذاب نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب آپکڑا تو انہیں کوئی ایسا آسرا نہ مل سکا جو ان سے دوستی کا دم بھرتا اور انہیں تباہی سے بچا لیتا ان پر بھی عذاب اسی وجہ سے آئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول اللہ کی طرف سے دلائل لے کر…
Read the full tafseer →ف 6 گویا اب تک جو وہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو قتل کرنے سے رکا ہوا تھا وہ محض اس لئے کہ درباری اسے منع کر رہے تھے یہ بات اس نے محض رعب گانٹھنے کے لئے کہی یا اپنے آپ کو ہمت دلانے کے لئے، حالانکہ اندر سے خدائی طاقت تھی جو اسے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پر ہاتھ ڈالنے سے روکے ہوئے تھی۔ ( فتح القدیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ” فرعون نے کہا مجھ کو چھوڑو، شاید اس کے ارکان مشورہ نہ دیتے ہونگے مارنے کا اس سے کہ معجزہ دیکھ کر ڈر گئے تھے کہیں اس کا رب بدلہ نہ لے۔ (موضح)7 جس نے اسے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے دیکھیں وہ مییر ہاتھ سے اسے کیونکر بچاتا ہے ؟8 یعنی تمہیں اس دین اور اعتقاد کا منکر کر دے جس کے…
Read the full tafseer →(40:26) ذرونی فعل امر جمع مذکر غائب وذر مصدر (باب سمع و فتح) بمعنی چھوڑ دینا۔ مثلا اور جگہ قرآن مجید میں ہے ویذرھم فی طغیانہم یعمھون ۔ (7:186) اور وہ انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رکھتا ہے۔ ذروا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ تم سب مجھے چھوڑ دو ۔
اقتل مضارع مجزوم بوجہ جواب امر صیغہ واحد متکلم کہ میں قتل کر دں ذرونی اقتل تم مجھے چھوڑ دو کہ میں (موسیٰ کو) قتل کر ڈالوں یا قتل کر دوں۔
ولیدع واؤ عاطفہ ہے لیدع لام لام امر ہے اور یہ حرف جازم فعل ہے مضارع مجزوم (بوجہ لام امر) واحد مذکر غائب۔ رعاء (باب نصر) مصدر سے۔ اور اسے چاہیے کہ وہ (اپنے رب کو ربہ) پکارے۔ یا پکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 27 : لم یسیروا ( وہ چلتے پھرتے نہیں) عاقبۃ (انجام) اثارا (نشانات، کھنڈرات) واق ( وقی) بچانے والا) ضلل ( گمراہی) ذو ونی (مجھے چھوڑو ( میری بات چھوڑو) عذت ( میں نے پناہ حاصل کرلی)
تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 : دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں بہت سی قومیں ابھریں۔ ان کی تہذیب ان کا تمدن ساری دنیا پر چھا گیا ۔ ان کی تجارت مال و دولت کی کثرت ، بلند وبالا عمارتیں اور قلعے اس کثرت سے تھے کہ ان پر ناز کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھنا شروع کردیا ۔ غرور وتکبر کے ساتھ ساتھ انہوں نے کفر و شرک کی انتہاء کردی ۔ ان کی نا فرمانیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
(ف 1) ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ان پچھلے لوگوں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہونا فقط اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے تھا اور ان پچھلے لوگوں میں سب سے آخر فرعون کی قوم جو ہلاک ہوئی تھی اس کا قصہ بھی مثال کے طور پر ذکر فرمایا دیا، یہ اوپر گذرچکا ہے کہ پچھلے زمانہ کی تاریخی بات کو دیاد دلا کر مشابہت کے طور موجود زمانہ کی بات کے انجام کو ذہن نشین کرنا، اس مطلب کے ثابت کرنے کے لیے ایک بڑاعمدہ طریقہ ہے اسی مطلب کے لیے قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے لوگوں کے قصے ذکر فرمائے گئے اگرچہ قارون بنی اسرائیل میں سے تھا لیکن تورات کے زکوۃ کے حکم پر موسیٰ کی نبوت کا منکر ہوکرانکو جادوگر کہنے لگا کہ فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–32
[11] اصل الفاظ ہیں '' یوم التناد '' یعنی چیخ وپکار کا دن۔ مراد اس سے روز قیامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
فرعون کے استبداد کا جواب
1: حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد بابرکت میں بنی اسرائیل مصر میں آئے ۔ اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ تقریباً چار صدیاں انہوں نے یہاں امن و سکون کے ساتھ گزاریں اس کے بعد جب قبطیوں نے دیکھا ۔ کہ یہ لوگ اپنی ذہنی اور جسمانی لحاظ سے ہم سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔ تو ان کو خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ قوت واقتدار کے تمام شعبوں پر نہ چھا جائیں ۔ اور ہمیں جو کہ مصر کے اصل باشندے ہیں ۔ نکال باہر نہ کریں ۔ اس لئے مخالفت اور عناد کے جذبات ان کے سینوں میں پیدا ہوئے ۔ اور آہستہ آہستہ بڑھنے لگے ۔ قراعنہ مصر نے قبیلوں کے ساتھ دیا اور بنی اسرائیل کی تذلیل وتحقیر ٹھان لی ۔ تقریباً نصف صدی کے…
Read the full tafseer →(26) اور فرعون نے اپنے مشیروں سے کہا کہ مجھ کو چھوڑ دو تاکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردوں اور اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پروردگار کو مدد کے لئے پکارلے اور اس سے دعا کرے کیونکہ مجھ کو اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تمہارے دین کو بدل ڈالے ملک میں کوئی فساد برپا کرڈالے۔ اہل دربار موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کو سیاسی مصلحت کے خلاف سمجھتے ہوں گے اس لئے روکتے ہوں گے کہ یاشد موسیٰ (علیہ السلام) کا قتل زوال سلطنت کا سبب ہوجائے اور لوگوں کو خیال پیدا ہو کہ فرعون دلائل سے مقابلہ کرنے میں عاجز ہوگیا اور موسیٰ کو قتل کردیا اس لئے اس نے اہل دریار اور مشیران خاص سے کہا کہ تم مجھ کو چھوڑ دو تاکہ میں اس کو قتل ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 7۔ چناچہ آخر میں موسیٰ (علیہ السلام) غالب آئے۔
Read the full tafseer →جب اس کا نتیجہ کچھ نہ نکل سکا تو فرعون بوکھلا گیا اور کہنے لگا کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں گا
26۔ یہ فطری چیز ہے کہ جب کسی کی اسکیم ناکام ہوجائے اور اس کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہو تو وہ انسان جو اسکیم بنانے والا ہوتا ہے وہ تقریبا بوکھلا جاتا ہے یہی حالت اس وقت فرعون کی ہوگئی اس نے بنی اسرائیل پر یہ ظلم محض اس لیے روا رکھا کہ بنی اسرائیل اس کے ظلم سے گھبرا کر اپنے لیڈر اور نبی رسول موسیٰ کے گلے پڑجائیں گے لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہی رہی اور ساتھ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئی۔ ان حالات کے پیش نظر فرعون گھبرا گیا اور اپنے اعوان وانصار سے کہنے لگا کہ آپ لوگ مجھے اجازت دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
In verse 28, it was said: يَكْتُمُ إِيمَانَهُ (who had kept his faith secret). This tells us that a person who does not declare his 'iman (faith) before people, yet remains staunch in his faith by heart, then, this person is a believer. But, it stands proved from clear textual authority (of the Qur'an and Hadith) that, for 'iman to be acceptable, the simple certitude of the heart is not enough, instead, it is subject to the condition of a verbal confession and declaration. Unless the person concerned declares it verbally, he or she will not be regarded as a believer. However, making this…
Read the full tafseer →41 The event which is being related here is a very important event of the Israelite history, which the Israelites themselves have totally forgotten. Both the Bible and the Talmud are without it, and no mention of it is found in the other Israelite traditions either. Only through the Qur'an has the world come to know that during the conflict between Pharaoh and the Prophet Moses this event had taken place at some time. Anybody who reads this story, provided that he has not been blinded by prejudice against Islam and the Qur'an, cannot but realize that from the viewpoint of the invitation to…
Read the full tafseer →