Al-Ghaafir 40:25

Al-Ghaafir · from ayah 25

40:25

فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْۤا اَبْنَآءَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ وَاسْتَحْیُوْا نِسَآءَهُمْ ؕ— وَمَا كَیْدُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ ۟فَلَمَّا جَآءَهُمۡ بِالۡحَقِّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوۡا اقۡتُلُوۡۤا اَبۡنَآءَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ وَاسۡتَحۡيُوۡا نِسَآءَهُمۡؕ وَمَا كَيۡدُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when he brought them the truth from Us, they said, "Kill the sons of those who have believed with him and keep their women alive." But the plan of the disbelievers is not except in error.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 3 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:25

پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا تو انہوں نے کہا "جو لوگ ایمان لا کر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیاں کو جیتا چھوڑ دو" مگر کافروں کی چال اکارت ہی گئی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس جب ان کے پاس (موسیٰ علیہ السلام) ہماری طرف سے (دین) حق کولے کر آئے توانہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جوایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زنده رکھو اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وه غلطی میں ہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب وہ لوگوں کے پاس وہ حق بات لے کر گئے جو ہماری طرف سے آئی تھی تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو۔ حالانکہ کافروں کی چال کا اناجم اس کے سوا کچھ نہیں وہ مقصد تک نہ پہنچ سکیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب وہ ان پر ہمارے پاس سے حق لایا بولے جو اس پر ایمان لائے ان کے بیٹے قتل کرو اور عورتیں زندہ رکھو اور کافروں کا داؤ نہیں مگر بھٹکتا پھرتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب وہ ہماری بارگاہ سے پیغامِ حق لے کر ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: ان لوگوں کے لڑکوں کو قتل کر دو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دو، اور کافروں کی پر فریب چالیں صرف ہلاکت ہی تھیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس جب وہ ہمارے ہاں سے حق لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے کہا ان لوگوں کے بیٹوں کو، جو اس کے ہمراہ ایمان لائے ہیں، قتل کرو اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں کافروں کی چال مگر سراسر ناکام۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب وہ ہماری طرف سے دین حق ان کے پاس لایا تو کہنے لگے : جو لوگ ایمان لاکر موسیٰ کے ساتھ مل گئے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو مگر کافروں کی یہ چال ناکام ہی رہی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جب وہ آیا ان کے پاس، ہمارے پاس سے حق لے کر، انہوں نے کہا ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو، اور ان کافروں کی چال بالکل رائیگاں گئی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جب وہ پہنچ گئے ان کے پاس حق کے ساتھ ہماری طرف سے تو ان لوگوں نے کہا قتل کردو ان لوگوں کے بیٹوں کو جو ایمان لائے ہیں اس کے ساتھ اور زندہ رکھو ان کی عورتوں کو اور کافروں کی چال (ہلاکت و) بربادی کے سوا کچھ نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

جب وہ لوگوں کے پاس دین حق ہمارے پاس سے لے کر آئے تو وہ لوگ بولے کہ جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہوئے ہیں ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالو اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو اور کافروں کی چال محض ناکام رہی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو جب وہ آیا ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھو لیکن کافروں کا دائو بھٹک کر ہی رہ جاتا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچنے تو کہنے لگے کہ جو لوگ اس کے ساتھ اللہ پر ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور بیٹیوں کو رہنے دو اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

When Moses brought them the Truth from Us they said: “Kill the sons of all the believers who have joined him, but spare the women.” The guile of the unbelievers always ends in vain.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when he brought them the truth from Us, they said, :Kill the sons of those who have accepted faith with him, and spare the lives of their women. But the plot of the disbelievers is nothing but a failure.

— Muhammad Taqi Usmani

And when he brought them the truth from Us, they said, :Kill the sons of those who have accepted faith with him, and spare the lives of their women. But the plot of the disbelievers is nothing but a failure.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then, when he brought them the Truth from Us, they said: "Kill with him the sons of those who believe and let their women live;" but the plots of disbelievers are nothing but in vain!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when he brought them the Truth from Our presence, they said: Slay the sons of those who believe with him, and spare their women. But the plot of disbelievers is in naught but error.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when he brought them the truth from Us, they said, "Kill the sons of those who have believed with him and keep their women alive." But the plan of the disbelievers is not except in error.

— Saheeh International

When We sent him to them for a genuine purpose, they said, "Kill the sons of those who have believed in him but keep their women alive." The plots of the unbelievers can only result in failure.

— Muhammad Sarwar

So when he brought to them the truth from Us, they said: Slay the sons of those who believe with him and keep their women alive; and the struggle of the unbelievers will only come to a state of perdition.

— Muhammad Habib Shakir

And when he came to them with the truth from before Us, they said: slay the sons of those who have believed with him, and let their women live. And the plot of the infidels was naught but vain.

— Abdul Majid Daryabadi

Now, when he came to them in Truth, from Us, they said, "Slay the sons of those who believe with him, and keep alive their females," but the plots of Unbelievers (end) in nothing but errors (and delusions)!...

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:25

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–27

فرعون کا بدترین حکم۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ کو تسلی دینے کے لئے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہوگی جیسے کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کا واقعہ آپ کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل وبراہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 38 یعنی جب پے در پے معجزات اور نشانیاں دکھا کر حضرت موسیٰ نے یہ بات ان پر پوری طرح ثابت کردی کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور مضبوط دلائل سے اپنا برسر حق ہونا پوری طرح واضح کردیا۔ سورة الْمُؤْمِن 39 سورة اعراف، آیت 128 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ فرعون کے درباریوں نے اس سے کہا تھا کہ آخر موسیٰ ؑ کو کھلی چھٹی کب تک دی جائے گی، اور اس نے کہا تھا کہ میں عنقریب بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دینے کا حکم دینے والا ہوں (تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 93)۔ اب یہ آیت بتاتی ہے کہ فرعون کے ہاں سے آخر کار یہ حکم جاری کردیا گیا۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–27

معارف و مسائل مومن آل فرعون اور جا بجا منکرین توحید و رسالت کی وعید و تہدید کے ضمن میں کفار کا خلاف وعناد مذکور ہوا ہے جس سے طبعی طور پر رسول اللہ ﷺ کو حزن وملال ہوتا تھا۔ آپ کی تسلی کے لئے مذکورہ الصدر تقریباً دو رکوع میں حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کا قصہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس قصہ میں ایک طویل مکالمہ فرعون اور قوم فرعون کے ساتھ اس بزرگ شخص کا ہے جو خود آل فرعون میں ہونے کے باوجود موسیٰ ؑ کے معجزات دیکھ کر ایمان لے آیا تھا۔ مگر بمصلحت اپنے ایمان کو اس وقت تک چھپا رکھا تھا۔ اس مکالمہ کے وقت اس کے ایمان کا بھی حتمی اعلان ہوگیا۔ ائمہ تفسیر میں سے مقاتل اور سدی اور حضرت حسن نے فرمایا کہ یہ فرعون کا چچا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کا فرعونیوں پر الٹا اثر یعنی حضرت موسیٰ ؑ ان کے پاس جو پیغام حق لے کر آئے تھے اس کا حق تو یہ تھا کہ اس کو مانتے اور اپنے رویے کی اصلاح کرتے لیکن اس کا اثر ان کے اوپر اس کے بالکل برعکس پڑا۔ انہوں نے یہ محسوس کر کے حضرت موسیٰ ؑ اپنی قوم کو ایک منظم اور طاقتور قوم بنانا چاہتے ہیں بنی اسرائیل کے ذکور کو قتل کرنے اور عورتوں کو لونڈیاں بنانے کے لئے زندہ رکھنے کی اس پالیسی پر پوری شدت کے ساتھ عمل کرنے کے احکام جاری کردیئے جو حضرت موسیٰ ؑ کی ولادت سے بہت پہلے سے چل رہی تھی ’ وما کید الکفرین الا فی ضلل ‘ بنی اسرائیل کے ذکور کو قتل کرنے کی یہ پالیسی، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

25۔ 1 فرعون یہ کام پہلے بھی کر رہا تھا تاکہ وہ بچہ پیدا نہ ہو جو نجومیوں کی پیش گوئی کے مطابق اس کی بادشاہت کے لیے خطرے کا تھا یہ دوبارہ حکم اس نے حضرت موسیٰ ؑ کی تذلیل واہانت کے لیے دیا نیز تاکہ بنی اسرائیل موسیٰ ؑ کے وجود کو اپنے لیے مصبیت اور نحوست کا باعث سمجھیں جیسا کہ فی الواقع انہوں نے کہا (اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا) 7۔ الاعراف :129) اے موسیٰ ؑ تیرے آنے سے قبل بھی ہم اذیتوں سے دو چار تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ہمارا یہی حال ہے۔ 25۔ 1 یعنی اس سے جو مقصد وہ حاصل کرنا چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل کی قوت میں اضافہ اور اس کی عزت میں کمی نہ ہو۔ یہ اسے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 25–27

5: یعنی جب وہ سچے دین کا پیغام عام لوگوں کے پاس لے کر گئے اور بہت سے لوگ ان پر ایمان لانے لگے تو فرعون کے لوگوں نے یہ تجویز دی کہ جو مرد ایمان لائیں، ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور عورتوں کو زندہ رکھو تاکہ انہیں غلام بناکر ان سے خدمت لی جائے، یہ حکم ایک تو موسیٰ ؑ کی پیدائش سے پہلے دیا گیا تھا جس کی تفصیل سورة طٰہٰ اور سورة قصص میں گزرچکی ہے، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی نجومی نے پیشین گوئی کی تھی کہ بنی اسرائیل کا کوئی شخص فرعون کا تختہ الٹے گا، اور دوسری بار یہ حکم اس وقت دیا گیا جب لوگ حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لانے لگے، اور بیٹوں کو قتل کرنے کا منشاء ایک تو یہ تھا کہ ایمان لانے والوں کی نسل نہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 25 یہی انداز ہمیشہ سب سرکشوں کا ہوتا ہے جب ان سے دلیل وحجت کے ہتھیار ختم ہوتے ہیں تو وہ تشدد کے ہتھیار تھام لیتے ہیں ، جب بھی دلائل کے اعتبار سے وہ ذلیل ہوتے ہیں اور ان کو یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ حق تو غالب آنے والا ہے کیونکہ اس کی بات صاف ، زور دار ہے۔ واضح اور قابل فہم ہے ، اور دل لگتی اور فطرت کو اپیل کرتی ہے ، جس طرح جادوگروں کی فطرت نے قبول کرلیا ، وہ ایمان لے آئے حالانکہ وہ مقابلے کے لیے لائے گئے تھے۔ انہوں نے حق کو قبول کرکے فرعون کا مقابلہ شروع کردیا حالانکہ وہ بہت بڑا جبار تھا۔ اس پر تبصرہ نہایت برمحل ہے ” کافروں کی چال اکارت گئی “۔ اب فرعون اور ہامان اور قارون کیا کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یہ حکم اب دوسری مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری کے بعد دیا۔ تاکہ بنی اسرائیل کی تذلیل و توہین کریں، ان کی تعداد گھٹائیں اور ان کے دلوں میں یہ خیال جمادیں کہ یہ سب مصیبت ان پر موسیٰ کی بدولت آئی ہے۔ یہ خیال کر کے لوگ ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ اور دہشت انگیزی کی پالیسی کامیاب ہوجائے گی۔ آگے پتہ نہیں اس حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔ 11 یعنی ایسے داؤ پیچ اور تدبیروں سے کیا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد فرما کر منکرین کے سب منصوبے غلط کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 25 { فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْٓا اَبْنَآئَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ وَاسْتَحْیُوْا نِسَآئَ ہُمْ } ”تو جب وہ آیا ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر تو انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائیں ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھو۔“ { وَمَا کَیْدُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ } ”لیکن کافروں کا دائو بھٹک کر ہی رہ جاتا ہے۔“ اس سے پہلے ہم سورة الاعراف کے پندرھویں رکوع میں بھی سردارانِ قوم فرعون کے اس مطالبے کے بارے میں پڑھ چکے ہیں کہ آپ موسیٰ علیہ السلام ٰ کو کب تک ڈھیل دیتے رہیں گے ؟ لوگ دھڑا دھڑ اس پر ایمان لا رہے ہیں ‘ روز بروز…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 بنی اسرائیل کے استیصال کے لئے فرعون کا اقدام :۔ سیدنا موسیٰ پر ایمان لانے والوں کے لئے یہ سزا فرعون نے اس لئے مقرر کی تھی کہ اس طرح وہ لوگوں کو دہشت زدہ کرکے سیدنا موسیٰ کا ساتھ دینے سے روک دے وہ چاہتا یہ تھا کہ اس طریقہ سے بنی اسرائیل کی قوم کا ہی استیصال کردیا جائے مگر اس کی ان دھمکیوں اور سزاؤں کے باوجود سیدنا موسیٰ پر ایمان لانے والوں کی تعداد بڑھتی ہی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24۔ کافروں کی چالیں تو مالا اور آخرکار تو ہمیشہ ہی ناکام رہتی ہیں اور کبھی حالا اور فوری طور پر بھی ناکام رکھی جاتی ہیں۔ (آیت) ” قالوا “۔ یہ مشورہ دینے والے اور آپس میں صلاح کرنے والے مصر کے اعیان سلطنت وارکان حکومت تھے۔ (آیت) ” الذین امنوا معہ “۔ یہ ایمان لانے والے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کے ہم قوم بنی اسرائیل تھے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–27

آیت نمبر 21 تا 27 ترجمہ : کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ؟ کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیسا کچھ انجام ہوا وہ باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے، ان سے بہت بڑھے ہوئے تھے اور وہ یادگاریں پانی کے بڑے بڑے حوض اور محلات تھے، اور ایک قرآءت میں مِنْھُمْ کی بجائے مِنْکُمْ ہے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا (ہلاک کردیا) اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچالیتا، یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے معجزے لیکر آتے تھے تو وہ انکار کردیتے تھے سو اللہ نے ان کو گرفت میں لے لیا، یقیناً وہ طاقتور اور سخت عذاب والا ہے اور ہم نے موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما جاءھم بالحق من عندنا قالوا قتلوا انباء الذین امنوا معہ واستحیوا نساءھم وماکید الکفرین الا فی ضلل سو جب موسیٰ (عام) لوگوں کے پاس دین حق ‘ جو ہماری طرف سے تھا ‘ لے کر پہنچے تو ان (عام) لوگوں نے (بطور مشورہ) کہا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ‘ ان کے بیٹوں کو قتل کر دو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دو ۔ اور کافروں کی تدبیر محض بےاثر رہی۔ یعنی جیسے پہلے تم نے کیا تھا کہ ان کے بیٹوں کو قتل کرایا تھا اور بیٹیوں کو زندہ چھور دیا تھا (تاکہ موسیٰ کے پیدا ہو کر زندہ رہنے کا راستہ ہی بند ہوجائے) اسی طرح اب دوبارہ کرو کہ اہل ایمان کے بیٹوں کو قتل کرا دو اور لڑکیوں کو (ہماری قوم کی خدمت کیلئے)…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

پھر جب موسیٰ ان کے پاس کتاب لے کر آئے تو ان لوگوں نے یہ مشورہ کیا کہ جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے لڑکوں کو قتل کرنا شروع کردو اور لڑکیوں کو غلام بنا لو ان کو قتل مت کرو مگر فرعون اور اس کی قوم کی تدبیر موثر نہ ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فلما جآء ھم بالحق من عندناً …فرعون موسیٰ ؑ کی آمد سے پہلے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ (دیکھیے قصص : 4) موسیٰ ؑ کی آمد پر ان کے واضح معجزات دیکھ کر اور جادوگروں کے ساتھ مقابلے میں ناکام ہو کر وہ ایسا مرعوب ہوا کہ اس نے لڑکوں کو قتل کرنے کا سلسلہ روک دیا، مگر دن بدن ایمان لانے والوں میں اضافے کو دیکھ کر اس کے سرداروں نے اسے موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کے خلاف کارروائی پر بھڑکایا۔ اس سے پہلے وہ تمام بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرتے تھے، اب انہوں نے کہا کہ موسیٰ ؑ پر ایمان لانے والوں کے بیٹوں کو قتل کرو اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو۔ یہ بات فرعون نے نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–27

(ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔ ) ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا یہ نو نشانیاں ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں گزر چکا ہے : ” وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍ م “ (الاسرائ : 101) ان کی تعیین بھی گزر چکی ہے :” وسلطن مبین۔ “ اس سے مراد واضح حجت ہے، سلطان یہ مذکر اور مونث دونوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد تورات ہے الی فرعون وھا من وقارون ان کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کی تدبیر کا دارومدار نہیں افراد پر تھا فرعون بادشاہ تھا، ہامان وزیر تھا اور قارون اموال اور خزانوں والا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے ان دونوں کے ساتھ جمع کردیا کفر اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–25

1:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) فلما جآء ھم بالحق من عندنا قالوا اقتلوا ابنآء الذین امنوا “ (سو جب ان کے پاس دین حق آیا ہمارے طرف سے تو انہوں نے کہا : قتل کرو تم ان لوگوں کے بیٹوں کو جو ایمان لائے ان کا یہ حکم پہلے قتل کے بعد تھا۔ اور عبدبن حمید (رح) کے الفاظ یوں تھے : یہ قتل اس قتل کے علاوہ تھا جو پہلے تھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ : تو جب وہ (موسی) آئے ان کے پاس ] [بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا : ہمارے پاس سے حق کے ساتھ ] [قَالُوا : تو انہوں نے کہا ] اقْتُلُوْٓا [ تم لوگ قتل کرو ] اَبْنَاۗءَ الَّذِيْنَ [ ان کے بیٹوں کو جو ] اٰمَنُوْا مَعَهٗ [ ایمان لائے ان کے ساتھ ] وَاسْتَحْيُوْا [ اور زندہ رکھو ] نِسَاۗءَهُمْ ۭ [ ان کی عورتوں کو ] وَمَا كَيْدُ الْكٰفِرِيْنَ [ اور نہیں ہے کافروں کی چالبازی ] اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ [ مگر بھٹکنے میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–27

ہم نے موسیٰ کو فرعون، ہامان، قارون کی طرف بھیجا، انہوں نے ان کو ساحر اور کذاب بتایا، فرعون کے برے عزائم کا تذکرہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے رب کی پناہ مانگنا گزشتہ آیات میں اجمالی طور پر بعض اقوام کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب کا تذکرہ فرمایا آیات بالا میں اور ان کے بعد ڈیڑھ رکوع تک فرعون اور اس کی قوم کے عناد اور تکذیب کا اور بالآخر ان کے غرق اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا درمیان میں ایک ایسے شخص کی نصیحتوں کا تذکرہ بھی فرمایا، جو آل فرعون میں سے تھا، یہ شخص ایمان لے آیا تھا اور اپنے ایمان کو چھپاتا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات یعنی معجزات کے ساتھ اور واضح حجت کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–27

تنبیہ ووعید برائے ظالمین از کرب و اضطراب۔ روز قیامت مع تذکر ۂ قصہ موسیٰ (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وانذر ھم یوم الازفۃ ..... الی ..... من کل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منکرین کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت کے روز عذاب خداوندی دیکھ کر وہ اس کی تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور نیک کام کرلیں اب ان آیات میں ایسے منکروں اور ظالموں کو اس دن کی بےچینی اور اضطراب سے متنبہ کیا جار ہا ہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ قدیم میں گزرے ہوئے مجرمین اور سرکشوں کا انجام ہلاکت بیان کرکے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

32:۔ ” وما کید الکفرین “ یہ ادخال الٰہی ہے فرعون اور اس کے مشیروں کی یہ تدبیر ناکام، ثابت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے جلد ہی فرعون اور اس کی قوم پر انواع عذاب کا سلسلہ شروع کردیا۔ جیسا کہ ارشاد ہے۔ ” فارسلنا علیہم الطوفان والجراد والقمل والفادع والدم آیات مفصلات “ (اعراف رکوع 16) ۔ یہ سلسلہ بنی اسرائیل کے مصر سے چلے جانے تک جاری رہا۔ اس طرح قوم فرعون اس منصوبے پر عمل کرنے کے بجائے اپنے حال میں مشغول رہی۔ فشغلہم اللہ عن ذلک بما انزل علیہم من انواع العذاب، کا لضفادع والقمل والدم والطوفان الی ان خرجوا من مصر، فاغرقہم اللہ۔ وھذا معنی قولہتعالی وما کید الکفرین الا فی ضلل (قرطبی ج 15 ص 305) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–27

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر تھا اور کچھ دلائل قدرت بھی بیان ہوئے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکیں اور اس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کو ادراک ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور وہاں پیش آنے والے بعض حالات کا ذکر کیا ، اور جزائے عمل کے متعلق یاد دہانی کرائی ، اب آج کے درس میں بھی زیادہ کفر وشرک کرنے والوں کا شکوہ ہی بیان کیا گیا ہے اور ان کی توجہ بعض سابقہ نافرمان اقوام کے حالات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے ۔ (سابقہ اقوام کا انجام) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اولم یسیروا فی الارض “۔ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ یہ نزول قرآن کے زمانے کے کفار ومشرکین کے متعلق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا جَاۗءَہُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْٓا اَبْنَاۗءَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ وَاسْتَحْيُوْا نِسَاۗءَہُمْ۝ 0 ۭ وَمَا كَيْدُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ۝ 25 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–25

تفسیر : منکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کرکے دنیاوی مصیبتوں کا خوف دلاتا ہے، اس لیے کہ وہ سنگدل آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ پھر وہاں کے عذاب سن کر اور بھی تمسخر کرتے تھے، اس لیے اب ان کو دنیا کی بلائوں سے ڈراتا اور اس کا کامل یقین دلاتا ہے۔ ان سے پہلوں کی ہلاکت اور ان کے آثار باقیہ کو یاد دلاکر جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھے۔ اس لیے فرماتا ہے۔ اولم یسیروا کہ کیا ان کفار قریش نے جو یمن و شام میں تجارت کے لیے آیا جایا کرتے ہیں، پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے منکروں کا کیا انجام ہوا جو ان سے زیادہ طاقتور تھے اور بڑے بڑے نشان دنیا میں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے مکانات اور نشانوں سے زیادہ ان کے نشان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلَمَّا جَآئَ ھُمْ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْٓا اَبْنَـآئَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ وَاسْتَحْیُوْا نِسْآئَ ھُمْ ط وَمَا کَیْدُالْـکٰفِرِیْنَ اِلاَّ فِیْ ضَلٰـلٍ ۔ (المؤمن : 25) (اور جب موسیٰ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر آئے، تو ان لوگوں نے کہا کہ ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کردو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو، اور کافروں کی چال بالکل اکارت گئی۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا فرعونیوں پر الٹا اثر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعوت حق لے کر پہنچے، انھیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : ہلاک کی جانے والی اقوام میں آل فرعون بھی شامل تھے۔ جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بڑے بڑے معجزات اور دلائل دے کر فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا اور جادوگر قرار دیا۔ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو فرعون اور ان کے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ جو بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اسے قتل کردیا جائے اور اس کی عورتوں کو اپنے لیے باقی رہنے دیا جائے۔ حق کے مقابلے میں کفار کی منصوبہ بندیاں ہمیشہ انہیں دنیا اور آخرت کے نقصان میں زیادہ ہی کرتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قانون قتل سے اللہ کا فیصلہ نہ روک سکا۔ فَلَمَّا جَاۗءَهُمْ بِالْحَقِّ ، پس جب وہ ان لوگوں کے پاس دین حق لے کر آئے۔ الحق سے مراد نبوت ہے۔ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوا اقْتُلُوْٓا اَبْنَاۗءَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ، ہماری طرف سے تو ان لوگوں نے کہا جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کر ڈالو۔ ان پر اس قتل کے حکم کا اعادہ کرو جو پہلے جاری کیا گیا تھا۔ وَاسْتَحْيُوْا نِسَاۗءَهُمْ ، اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دو ، خدمت کیلئے۔ وَمَا كَيْدُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ ، اور ان کافروں کی تدبیر محض بےاثر رہی۔ ضلال ضائع ہے انہوں نے اس سے پہلے قتل کا قانون جاری کیا مگر فائدہ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 23–25

(22) ۔۔۔۔۔۔ ، ذلک ، یعنی یہ عذاب جوان پر نازل ہوا ہے۔ ، بانھم کانت تاتیھم رسلھم بالبینات فکفروا فاخذھم اللہ انہ قوی شدید العقاب،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–28

22۔ 28۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو عقبیٰ کے خوف کی باتوں سے ڈرایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور نیک و بد کا ذرا ذرا حساب ہوگا اور جو لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور اپنے بتوں سے شفاعت کی توقع رکھتے ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے وہاں مشرکوں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا پھر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے مخالفت کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے بہت لوگ ان سے پہلے ہلاک ہوچکے ہیں جن کا حال انہوں نے ملک شام و یمن کے سفر میں سنا ہوگا اور جو کچھ عمارتیں ان پچھلے لوگوں کی باقی رہ گئی ہیں ان کے دیکھنے سے ان کو معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–46

آیت 23 ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔ اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 25–26

55 فرعون کی بوکھلاہٹ اور اس کی چالبازی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے فرعون کی بوکھلاہٹ اور اس کی سیاسی چالبازی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے۔ سو ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ فرعون اپنے آپ کو مصلح اور حضر تِ موسیٰ کو فسادی قرار دے رہا ہے۔ حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ مگر اہل باطل کی یہ بھی ایک مشترکہ اور پرانی ٹیکنیک چلی آئی ہے کہ وہ حق اور اس کے خدام اور حاملین کے خلاف اسی طرح کے پروپیگنڈے کرتے ہیں۔ اور وہ عوام الناس کو ان کے خلاف اکسانے بھڑکانے کے لئے اسی طرح کے شیطانی حربوں اور فرعونی ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ جَعَلَ اللّٰہُ کَیْدَہُمْ فِیْ نُحُوْرِہِمْ وَ اَعَاذنا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–55

موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–27

رکوع نمبر 3: آیات 21 تا 27 اسرار و معارف : یہ لوگ تو روئے زمین پر سفر کرنے والے ہیں انہوں نے یقینا پہلی اقوام کے آثار دیکھے ہوں گے جو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا جنہوں نے ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ کس طرح تباہ ہوئے حالانکہ وہ ان لوگوں کی نسبت بہت زیادہ طاقتور تھے یہ بات ان کے چھوڑے ہوئے قلعوں اور آثار سے بھی ظاہر ہے مگر ان کی قوت و شوکت کسی کام نہ آئی اللہ کے عذاب نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب آپکڑا تو انہیں کوئی ایسا آسرا نہ مل سکا جو ان سے دوستی کا دم بھرتا اور انہیں تباہی سے بچا لیتا ان پر بھی عذاب اسی وجہ سے آئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول اللہ کی طرف سے دلائل لے کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 حق ( سچے دین) سے مراد وہ معجزے ہیں جنہیں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) لے کر آئے تھے اور جو انکی نبوت کے ناقابل تردید ثبوت تھے۔5 بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرنے کا یہ دوسری مرتبہ حکم تھا تاکہ ان کی اکثریت نہ ہو اور ذلیل و خوار رہیں اور اس لئے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کو شوم سمجھ کر اس سے بددل ہوجائیں۔ اس آیت کے خاتمہ ” وما کیدا الکفرین الا فی ضلال “ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مہم میں وہ دوبارہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ ( ابن کثیر وغیرہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:25) ابناء الذین امنوا منہ۔ ترکیب اضافی ہے جو لوگ اس کے ساتھ (یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ) ایمان لائے ہیں۔ ان کے بیٹوں کو۔ کید الکافرین۔ مضاف مضاف الیہ۔ کافروں کی چال۔ کافروں کی تدبیر۔ ضلل۔ بےاثر۔ بےکار۔ ناکام۔ (یہ معانی اس آیۃ میں مراد ہیں۔ ورنہ تو ضلال کثیر المعانی لفظ ہے لیکن اس میں ہمیشہ منفی پہلو ہوتا ہے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–27

لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 27 : لم یسیروا ( وہ چلتے پھرتے نہیں) عاقبۃ (انجام) اثارا (نشانات، کھنڈرات) واق ( وقی) بچانے والا) ضلل ( گمراہی) ذو ونی (مجھے چھوڑو ( میری بات چھوڑو) عذت ( میں نے پناہ حاصل کرلی) تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 : دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں بہت سی قومیں ابھریں۔ ان کی تہذیب ان کا تمدن ساری دنیا پر چھا گیا ۔ ان کی تجارت مال و دولت کی کثرت ، بلند وبالا عمارتیں اور قلعے اس کثرت سے تھے کہ ان پر ناز کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھنا شروع کردیا ۔ غرور وتکبر کے ساتھ ساتھ انہوں نے کفر و شرک کی انتہاء کردی ۔ ان کی نا فرمانیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–28

(ف 1) ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ان پچھلے لوگوں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہونا فقط اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے تھا اور ان پچھلے لوگوں میں سب سے آخر فرعون کی قوم جو ہلاک ہوئی تھی اس کا قصہ بھی مثال کے طور پر ذکر فرمایا دیا، یہ اوپر گذرچکا ہے کہ پچھلے زمانہ کی تاریخی بات کو دیاد دلا کر مشابہت کے طور موجود زمانہ کی بات کے انجام کو ذہن نشین کرنا، اس مطلب کے ثابت کرنے کے لیے ایک بڑاعمدہ طریقہ ہے اسی مطلب کے لیے قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے لوگوں کے قصے ذکر فرمائے گئے اگرچہ قارون بنی اسرائیل میں سے تھا لیکن تورات کے زکوۃ کے حکم پر موسیٰ کی نبوت کا منکر ہوکرانکو جادوگر کہنے لگا کہ فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–25

[10] یہ حکم جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت 127 میں بیان ہوا ہے اب دوسری مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر واپس آنے کے بعد دیا گیا تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ یہ مصیبت ان پر موسیٰ (علیہ السلام) کی بدولت آئی ہے اور یہ خیال کر کے وہ آپ کا ساتھ چھوڑ دیں۔ آگے پتہ نہیں اس حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–28

فرعون کے استبداد کا جواب 1: حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد بابرکت میں بنی اسرائیل مصر میں آئے ۔ اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ تقریباً چار صدیاں انہوں نے یہاں امن و سکون کے ساتھ گزاریں اس کے بعد جب قبطیوں نے دیکھا ۔ کہ یہ لوگ اپنی ذہنی اور جسمانی لحاظ سے ہم سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔ تو ان کو خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ قوت واقتدار کے تمام شعبوں پر نہ چھا جائیں ۔ اور ہمیں جو کہ مصر کے اصل باشندے ہیں ۔ نکال باہر نہ کریں ۔ اس لئے مخالفت اور عناد کے جذبات ان کے سینوں میں پیدا ہوئے ۔ اور آہستہ آہستہ بڑھنے لگے ۔ قراعنہ مصر نے قبیلوں کے ساتھ دیا اور بنی اسرائیل کی تذلیل وتحقیر ٹھان لی ۔ تقریباً نصف صدی کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(25) غرض جب موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس سے دین حق لے کر ان کے پاس آیا تو ان لوگوں نے کہا کہ جو لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کرو اور ان کی عورتوں یعنی بیٹیوں کو زندہ چھوڑ دو اور کافروں کی یہ تدبیر اور یہ دائوں نہ ہوا مگر بےسود۔ یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لے آئے اور فرعون عاجز ہوا تو یہ حکم دے دیا تاکہ بنی اسرائیل کی قوت کمزور ہوجائے اور ان کو بغاوت کرنے کا موقع نہ ملے۔ ایک قتل لڑکوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور پیغمبر بن گئے ان کی دفعہ شاید بنی اسرائیل کی قوت کمزور کرنے کی غرض سے یہ تدبیر…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعونیوں پر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا کوئی اثر نہ ہوا 25۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے اعوان وانصار کے سامنے حق کو پیش کیا ، توحید الہٰی اور ربوبیت خداوندی کا درس دیا لیکن فرعون پر اور اس کے ساتھیوں پر اس کا الٹا اثر ہوا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کے جواب میں بنی اسرائیل پر وہی مظالم دوبارہ شروع کردیئے جو قبل ازیں وقفہ وقفہ سے کرتا آ رہا تھا۔ اب انہوں نے اتفاق رائے سے دوباراہ بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے اور عورتوں کو زندہ رکھ کر ان کی عصمت سے کھیلنے کا دوبارہ عزم کیا گا کہ بنی اسرائیل تنگ آکر اپنے لیڈر موسیٰ (علیہ السلام) کے گلے پڑجائیں کیونکہ اب کی دفعہ انہوں نے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–28

In verse 28, it was said: يَكْتُمُ إِيمَانَهُ (who had kept his faith secret). This tells us that a person who does not declare his 'iman (faith) before people, yet remains staunch in his faith by heart, then, this person is a believer. But, it stands proved from clear textual authority (of the Qur'an and Hadith) that, for 'iman to be acceptable, the simple certitude of the heart is not enough, instead, it is subject to the condition of a verbal confession and declaration. Unless the person concerned declares it verbally, he or she will not be regarded as a believer. However, making this…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

39 As already mentioned in AI-A'raf: 127 above, Pharaoh's courtiers had said to him: `Will you leave Moses and his people free to spread disorder in the land?" And he himself had said: `I will have their sons slain and let their daughters live." This verse states that this order was at last issued from Pharaoh's court. It was, in fact, meant to so terrify the Prophet Moses himself and his supporters and followers that they should abandon him out of fear. 40 Another meaning of this sentence can be: "Whatever the disbelievers had plotted, was aimed at deviation, tyranny and antagonism to the…

Read the full tafseer →