Al-Ghaafir 40:24

Al-Ghaafir · from ayah 24

40:24

اِلٰی فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ ۟اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَ هَامٰنَ وَقَارُوۡنَ فَقَالُوۡا سٰحِرٌ كَذَّابٌ

(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

— Fateh Muhammad Jalandhari

To Pharaoh, Haman and Qarun; but they said, "[He is] a magician and a liar."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 3 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:24

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف اپنے نشانیوں اور نمایاں سندِ ماموریت کے ساتھ بھیجا، مگر انہوں نے کہا "ساحر ہے، کذاب ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرعون ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا (یہ تو) جادوگر اور جھوٹا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

فرعون، ہامان اور قارون کے پاس، تو انہوں نے کہا کہ یہ جھوٹا جادوگر ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو وہ بولے جادوگر ہے بڑا جھوٹا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادوگر ہے، بڑا جھوٹا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف تو انھوں نے کہا جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر انہوں نے کہا کہ یہ تو جادو گر ہے بڑا جھوٹا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرعون، ہامان اور قارون کی طرف۔ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک جادوگر لپاٹیا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

فرعون ہامان اور قارون کی طرف مگر انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک جادوگر ہے بڑا جھوٹا

— مولانا اسحاق مدنی

فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا تو وہ لوگ بولے یہ جادو گر ہے بڑا جھوٹا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

فرعون ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک جادوگر ہے انتہائی جھوٹا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی فرعون، ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جھوٹا جادوگر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

to Pharaoh and Haman and Korah. They said: “(He is) a sorcerer, an utter liar.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

to Pharaoh and Haman and Qarun, but they said, :He is a sorcerer, a liar.

— Muhammad Taqi Usmani

to Pharaoh and Haman and Qarun, but they said, :He is a sorcerer, a liar.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

To Fir`awn, Haman and Qarun, but they called (him): "A sorcerer, a liar!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Pharaoh and Haman and Korah, but they said: A lying sorcerer!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

To Pharaoh, Haman and Qarun; but they said, "[He is] a magician and a liar."

— Saheeh International

to the Pharaoh, Haman, and Korah, who said, "He is only a lying magician.".

— Muhammad Sarwar

To Firon and Haman and Qaroun, but they said: A lying magician.

— Muhammad Habib Shakir

Unto Fir'awn and Haman and Qur'an, but they said: a magician, a liar.

— Abdul Majid Daryabadi

To Pharaoh, Haman, and Qarun; but they called (him)" a sorcerer telling lies!"...

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–27

فرعون کا بدترین حکم۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ کو تسلی دینے کے لئے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہوگی جیسے کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کا واقعہ آپ کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل وبراہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 37 ہامان کے متعلق مخالفین کے اعتراضات کا جواب اس سے پہلے سورة قصص کے حواشی میں دیا جا چکا ہے (جلد سوم، صفحہ 615)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–27

معارف و مسائل مومن آل فرعون اور جا بجا منکرین توحید و رسالت کی وعید و تہدید کے ضمن میں کفار کا خلاف وعناد مذکور ہوا ہے جس سے طبعی طور پر رسول اللہ ﷺ کو حزن وملال ہوتا تھا۔ آپ کی تسلی کے لئے مذکورہ الصدر تقریباً دو رکوع میں حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کا قصہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس قصہ میں ایک طویل مکالمہ فرعون اور قوم فرعون کے ساتھ اس بزرگ شخص کا ہے جو خود آل فرعون میں ہونے کے باوجود موسیٰ ؑ کے معجزات دیکھ کر ایمان لے آیا تھا۔ مگر بمصلحت اپنے ایمان کو اس وقت تک چھپا رکھا تھا۔ اس مکالمہ کے وقت اس کے ایمان کا بھی حتمی اعلان ہوگیا۔ ائمہ تفسیر میں سے مقاتل اور سدی اور حضرت حسن نے فرمایا کہ یہ فرعون کا چچا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرعون اور اس کے دو بڑے لیڈروں کا ذکر یہاں فرعون کے ساتھ اس کے ان دو بڑے لیڈروں کا بھی ذکر کیا ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کی مخالفت میں سب سے زیادہ سرگرم تھے۔ ان دونوں کا ذکر پچھلی سورتوں میں بھی تفصیل سے ہوچکا ہے۔ ان میں سے ایک…قارون… نسلاً اسرائیلی تھا لیکن اس نے فرعونی حکومت کے زیر سایہ بیشمار دولت اکٹھی کرلی تھی اور یہی دولت اس کے لئے حضرت موسیٰ ؑ کی مخالفت کا سب سے بڑا سبب بنی۔ اس کا ذکر سورة قصص میں ہوچکا ہے اور وہاں ہم نے یہ اشارہ کیا ہے کہ اس کے حالات اور ابولہب کے حالات میں بڑی مشابہت ہے۔ یہاں فرعون کے ان لیڈروں کا ذکر کر کے آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح تمہاری مخالفت میں قریش کے لیڈر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

24۔ 1 فرعون مصر میں آباد قبط کا بادشاہ تھا بڑا ظالم وجابر اور رب اعلی ہونے کا دعوے دار اس نے حضرت موسیٰ ؑ کی قوم بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا اور اس پر طرح طرح کی سختیاں کرتا تھا جیسا کہ قرآن کے متعدد مقامات پر اس کی تفصیل ہے ہامان فرعون کا وزیر اور مشیر خاص تھا قارون اپنے وقت کا مال دار ترین آدمی تھا ان سب نے پہلے لوگوں کی طرح حضرت موسیٰ ؑ کی تکذیب کی اور انہیں جادوگر اور کذاب کہا جیسے دوسرے مقام پر فرمایا گیا کذلک ما اتی الذین من قبلھم من رسول الا قالو ساحر او مجنون اتواصوابہ بل ھم قوم طاغون اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس جو بھی نبی آیا انہوں نے کہہ دیا کہ یا تو یہ جادوگر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–24

4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–24

آیت نمبر 23 تا 24 یہ ہے فرعون کے ساتھ ملاپ۔ حضرت موسیٰ بمعہ معجزات کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ وہ ہیبت بھی ہے جو ہر سچائی کے ساتھ ہوتی ہے اور سچائی ان کے ہاتھ میں ہے۔ فرعون ، ہامان اور قارون بھی موجود ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا کھوٹا اور باطل موقف ہے اور ان کے ساتھ ان کی ظاہری قوت ہے اور وہ مقام و مرتبہ ہے جس کے چلے جانے کا ان کو بہت ڈر ہے ، یہ لوگ سچائی کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ چناچہ یہ اب باطل بحث ومباحثے میں پڑگئے ہیں۔ چناچہ وہ کہتے ہیں سحر کذاب (40: 24) ” جادو گر ہے جھوٹا ہے “۔ یہاں اب قصے میں سے وہ تمام حصے کاٹ دیئے جاتے ہیں ، جو اس مباحثے کے بعد پیش آئے۔ جادو گروں کے ساتھ مقابلے کا حصہ بھی کٹ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 ہامان وزیر تھا فرعون کا اور قارون بنی اسرائیل میں سب سے بڑا مالدار اور تاجر تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون کی مرضی پر چلتا تھا۔ پہلے اس کا قصہ گزر چکا۔ 9 یعنی جادوگر ہے معجزات دکھانے میں اور جھوٹا ہے دعویٰ رسالت میں۔ یہ بعض نے کہا ہوگا اور دوسروں نے اس کی تصدیق کی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اِلٰی فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَقَارُوْنَ } ’ فرعون ‘ ہامان اور قارون کی طرف“ { فَقَالُوْا سٰحِرٌ کَذَّابٌ۔ ”تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک جادوگر ہے انتہائی جھوٹا۔“ یہی الفاظ مشرکین ِمکہ ّنے حضور ﷺ کے لیے کہے تھے جو سورة صٓ کی آیت 4 میں نقل ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 ان کے یہ الزام محض زبانی اور دوسرے لوگوں کو مطمئن رکھنے کی غرض سے تھے آپ نے جو لاٹھی کے سانپ بن جانے اور یدبیضاء کے معجزات پیش کئے تھے اس لحاظ سے وہ سیدنا موسیٰ کو جادوگر کہہ دیتے تھے۔ اور آپ کے دعوائے رسالت کے لحاظ سے آپ کو جھوٹا کہتے تھے۔ مگر خود وہ اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ سیدنا موسیٰ نہ جادوگر ہیں اور نہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔ کیونکہ جادوگر تو فرعون کے ملک میں بیشمار تھے۔ مگر کسی جادوگر سے یہ تو نہ ہوسکا کہ وہ اپنے جادو کے زور سے ملک بھر میں قحط مسلط کردے اور جب اس سے اس قحط کو دور کرنے کی درخواست کی جائے تو وہ اپنے جادو کے زور سے بارشیں برسا کر قحط ختم کردے۔ بلکہ جادوگروں نے ہی تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 23–24

23۔ قرآن جیسا کہ بار بار بیان ہوچکا ہے، کوئی تاریخ کی کتاب نہیں اس کے پیش نظر صرف مقاصد ونتائج رہتے ہیں۔ نبوت موسوی سے انکار کا جزء ان تینوں مشاہیر میں مشترک تھا اور یہاں اسی کے نتیجہ پر نتبیہ مقصود تھی اس لیے قرآن نے بھی تینوں کا نام ایک ساتھ لے دیا، ورنہ ظاہر ہے، کہ قارون مصری نہیں اسرائیلی تھا اور اس کی تکذیب و انکار کا واقعہ زمانا بھی فرعون وہامان سے متاخر ہے۔ (آیت) ” فرعون وھامن وقارون “۔ فرعون پر حاشیے وسورۃ البقرہ پ 1 میں گزر چکے اور ہامان وقارون پر سورة القصص پ 20 میں۔ قارون اسرائیلی نے جس شدومد سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے انکار کیا ہے اور بغاوت پر آمادہ ہوا ہے اس کا ذکر توریت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–27

آیت نمبر 21 تا 27 ترجمہ : کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ؟ کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیسا کچھ انجام ہوا وہ باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے، ان سے بہت بڑھے ہوئے تھے اور وہ یادگاریں پانی کے بڑے بڑے حوض اور محلات تھے، اور ایک قرآءت میں مِنْھُمْ کی بجائے مِنْکُمْ ہے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا (ہلاک کردیا) اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچالیتا، یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے معجزے لیکر آتے تھے تو وہ انکار کردیتے تھے سو اللہ نے ان کو گرفت میں لے لیا، یقیناً وہ طاقتور اور سخت عذاب والا ہے اور ہم نے موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الی فرعون وھامن وقارون فقالوا سحر کذاب فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا تو ان لوگوں نے کہا : یہ جادوگر ہے ‘ بڑا جھوٹا۔ (حضرت مفسر کے نزدیک) اٰیٰتِنَا سے مراد ہیں (9) نو معجزات اور سلطان مبین سے مراد ہے کھلی دلیل یا بعض خصوصی معجزات جیسے عصا وغیرہ ‘ اول صورت میں آیات اور سلطان مبین دونوں الگ الگ چیزیں ہوں گی اور دوسری صورت میں سلطان مبین کو بھی آیات میں داخل مانا جائے گا اور چونکہ بعض معجزات خصوصی اہمیت کے حامل تھے ‘ اسلئے تعمیم کے بعد خاص طور پر صراحت کے ساتھ ان کو سلطان مبین فرما دیا اور عام پر خاص کا عطف کردیا۔ فَقَالُوْا سَاحِرٌ یعنی انہوں نے موسیٰ کو ساحر کذاب کہا۔ اس میں رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–24

(23۔ 24) اور ہم نے حضرت موسیٰ کو نو نشانیاں اور واضح دلیل دے کر فرعون اور اس کے وزیر ہامان اور ان کے چچا زاد بھائی قارون کی طرف بھیجا تو ان لوگوں نے کہا یہ تو جادوگر ہیں دو کے درمیان تفریق کرنے والے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان لگانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) الی فرعون وھامن وق اورن :”فرعون“ اس زمانے میں مصر کے بادشاہ کا لقب ہوا کرتا تھا، ہامان اس کا وزیر تھا اور ق اورن سرمایہ دار منافق تھا، جو موسیٰ ؑ کی قوم میں سے ہونے کے باوجود فرعون کا ساتھی بن گیا تھا۔ (دیکھیے قصص : 76 تا 82) موسیٰ ؑ مصر کے تمام قبطیوں کی طرف بھیجے گئے تھے، مگر ان تینوں کا ذکر اس لئے فرمایا کہ یہ اپنی قوم کے سردار اور موسیٰ ؑ کے خلاف سازشیں کرنے میں پی پیش تھے، بای لوگ ان کے پیروکار تھے۔ (2) فقالوا سحر کذاب : موسیٰ ؑ کے واضح معجزات عصا اور یدبیضا کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ موسیٰ ؑ اور ان کے معجزات کے حق ہونے کے یقین کے باوجود ضا اور عناد کی وجہ سے انہوں نے ان کا صاف…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–27

(ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔ ) ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا یہ نو نشانیاں ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں گزر چکا ہے : ” وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍ م “ (الاسرائ : 101) ان کی تعیین بھی گزر چکی ہے :” وسلطن مبین۔ “ اس سے مراد واضح حجت ہے، سلطان یہ مذکر اور مونث دونوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد تورات ہے الی فرعون وھا من وقارون ان کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کی تدبیر کا دارومدار نہیں افراد پر تھا فرعون بادشاہ تھا، ہامان وزیر تھا اور قارون اموال اور خزانوں والا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے ان دونوں کے ساتھ جمع کردیا کفر اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–25

1:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) فلما جآء ھم بالحق من عندنا قالوا اقتلوا ابنآء الذین امنوا “ (سو جب ان کے پاس دین حق آیا ہمارے طرف سے تو انہوں نے کہا : قتل کرو تم ان لوگوں کے بیٹوں کو جو ایمان لائے ان کا یہ حکم پہلے قتل کے بعد تھا۔ اور عبدبن حمید (رح) کے الفاظ یوں تھے : یہ قتل اس قتل کے علاوہ تھا جو پہلے تھا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَقَارُوْنَ [ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف ] فَقَالُوْا [ تو انھوں نے کہا ] [سٰحِرٌ كَذَّابٌ: جادوگر ہے پکا جھوٹا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–27

ہم نے موسیٰ کو فرعون، ہامان، قارون کی طرف بھیجا، انہوں نے ان کو ساحر اور کذاب بتایا، فرعون کے برے عزائم کا تذکرہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے رب کی پناہ مانگنا گزشتہ آیات میں اجمالی طور پر بعض اقوام کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب کا تذکرہ فرمایا آیات بالا میں اور ان کے بعد ڈیڑھ رکوع تک فرعون اور اس کی قوم کے عناد اور تکذیب کا اور بالآخر ان کے غرق اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا درمیان میں ایک ایسے شخص کی نصیحتوں کا تذکرہ بھی فرمایا، جو آل فرعون میں سے تھا، یہ شخص ایمان لے آیا تھا اور اپنے ایمان کو چھپاتا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات یعنی معجزات کے ساتھ اور واضح حجت کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–27

تنبیہ ووعید برائے ظالمین از کرب و اضطراب۔ روز قیامت مع تذکر ۂ قصہ موسیٰ (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وانذر ھم یوم الازفۃ ..... الی ..... من کل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منکرین کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت کے روز عذاب خداوندی دیکھ کر وہ اس کی تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور نیک کام کرلیں اب ان آیات میں ایسے منکروں اور ظالموں کو اس دن کی بےچینی اور اضطراب سے متنبہ کیا جار ہا ہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ قدیم میں گزرے ہوئے مجرمین اور سرکشوں کا انجام ہلاکت بیان کرکے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

31:۔ ” فلما جاءھم “ جب فرعون اور اس کے ارکان دولت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے سے عاجز آگئے، تو غیظ و غضب میں آکر اور قوم موسیٰ (علیہ السلام) کو موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاون سے روکنے کے لیے انہوں نے ایمان لانے والوں کے بچوں کو قتل کرنے اور عورتوں کو زندہ رکھنے کا حکم نافذ کردیا۔ فرعون نے بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کا دو بار حکم دیا تھا۔ ایک تو موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے اور دوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد (قرطبی، مدارک، روح وغیرہ) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–27

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر تھا اور کچھ دلائل قدرت بھی بیان ہوئے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکیں اور اس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کو ادراک ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور وہاں پیش آنے والے بعض حالات کا ذکر کیا ، اور جزائے عمل کے متعلق یاد دہانی کرائی ، اب آج کے درس میں بھی زیادہ کفر وشرک کرنے والوں کا شکوہ ہی بیان کیا گیا ہے اور ان کی توجہ بعض سابقہ نافرمان اقوام کے حالات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے ۔ (سابقہ اقوام کا انجام) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اولم یسیروا فی الارض “۔ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ یہ نزول قرآن کے زمانے کے کفار ومشرکین کے متعلق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ۝ 24 فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ سحر والسِّحْرُ يقال علی معان : الأوّل : الخداع وتخييلات لا حقیقة لها، نحو ما يفعله المشعبذ بصرف الأبصار عمّا يفعله لخفّة يد،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–25

تفسیر : منکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کرکے دنیاوی مصیبتوں کا خوف دلاتا ہے، اس لیے کہ وہ سنگدل آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ پھر وہاں کے عذاب سن کر اور بھی تمسخر کرتے تھے، اس لیے اب ان کو دنیا کی بلائوں سے ڈراتا اور اس کا کامل یقین دلاتا ہے۔ ان سے پہلوں کی ہلاکت اور ان کے آثار باقیہ کو یاد دلاکر جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھے۔ اس لیے فرماتا ہے۔ اولم یسیروا کہ کیا ان کفار قریش نے جو یمن و شام میں تجارت کے لیے آیا جایا کرتے ہیں، پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے منکروں کا کیا انجام ہوا جو ان سے زیادہ طاقتور تھے اور بڑے بڑے نشان دنیا میں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے مکانات اور نشانوں سے زیادہ ان کے نشان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰـتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَھَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ کَذَّابٌ۔ (المؤمن : 23، 24) (اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور واضح سند کے ساتھ۔ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو انھوں نے کہا کہ یہ تو ساحر ہے کذاب ہے۔ ) گزشتہ مضمون پر تاریخ سے استشہاد گزشتہ آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے اب تاریخ سے اس پر استشہاد کیا جارہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھو انھیں ہم نے اپنی آیات اور سلطانِ مبین دے کر بھیجا۔ آیات سے مراد وہ احکام و ہدایات ہیں جو حسب ضرورت بتدریج انھیں عطا کیے جاتے رہے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ مصر میں ان کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : ہلاک کی جانے والی اقوام میں آل فرعون بھی شامل تھے۔ جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بڑے بڑے معجزات اور دلائل دے کر فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا اور جادوگر قرار دیا۔ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو فرعون اور ان کے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ جو بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اسے قتل کردیا جائے اور اس کی عورتوں کو اپنے لیے باقی رہنے دیا جائے۔ حق کے مقابلے میں کفار کی منصوبہ بندیاں ہمیشہ انہیں دنیا اور آخرت کے نقصان میں زیادہ ہی کرتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا، فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا پس انہوں نے کہا، سٰحِرٌ كَذَّابٌ، وہ جھوٹا جادوگر ہے۔ انہوں نے واضح دلیل کو سحر و کذب سے تعبیر کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 23–25

(22) ۔۔۔۔۔۔ ، ذلک ، یعنی یہ عذاب جوان پر نازل ہوا ہے۔ ، بانھم کانت تاتیھم رسلھم بالبینات فکفروا فاخذھم اللہ انہ قوی شدید العقاب،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–28

22۔ 28۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو عقبیٰ کے خوف کی باتوں سے ڈرایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور نیک و بد کا ذرا ذرا حساب ہوگا اور جو لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور اپنے بتوں سے شفاعت کی توقع رکھتے ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے وہاں مشرکوں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا پھر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے مخالفت کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے بہت لوگ ان سے پہلے ہلاک ہوچکے ہیں جن کا حال انہوں نے ملک شام و یمن کے سفر میں سنا ہوگا اور جو کچھ عمارتیں ان پچھلے لوگوں کی باقی رہ گئی ہیں ان کے دیکھنے سے ان کو معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–46

آیت 23 ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔ اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 23–24

52 فرعون، ہامان اور قارون کے جرم انکار و تکذیب کا ذکر : سو اس سے فرعون اور اس کے دو بڑے لیڈروں ہامان اور قارون کے جرم انکار اور تکذیبِ حق کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو فرعون اور اس کے دو بڑے لیڈروں اور سرغنوں کا جواب موسیٰ کو ان کی دعوت حق پر یہ تھا کہ یہ شخص ساحر اور کذاب ہے۔ پس آپ ﷺ کے ساتھ اے پیغمبر ! تکذیب و انکار کا جو معاملہ یہ دشمنانِ حق آج کر رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے ۔ { مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ } ۔ (حمٓ السجدۃ : 43) مگر فتح ہمیشہ حق ہی کی ہوئی۔ سو اس میں آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے ہر داعی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–55

موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–27

رکوع نمبر 3: آیات 21 تا 27 اسرار و معارف : یہ لوگ تو روئے زمین پر سفر کرنے والے ہیں انہوں نے یقینا پہلی اقوام کے آثار دیکھے ہوں گے جو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا جنہوں نے ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ کس طرح تباہ ہوئے حالانکہ وہ ان لوگوں کی نسبت بہت زیادہ طاقتور تھے یہ بات ان کے چھوڑے ہوئے قلعوں اور آثار سے بھی ظاہر ہے مگر ان کی قوت و شوکت کسی کام نہ آئی اللہ کے عذاب نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب آپکڑا تو انہیں کوئی ایسا آسرا نہ مل سکا جو ان سے دوستی کا دم بھرتا اور انہیں تباہی سے بچا لیتا ان پر بھی عذاب اسی وجہ سے آئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول اللہ کی طرف سے دلائل لے کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ہامان، فرعون کا وزیر تھا اور قارون سرمایہ دار منافق تھا جو اسرائیل ہونے کے باوجود فرعون کا ساتھی بن گیا تھا۔ اس لئے اس کا ذکر بھی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی کھلی کھلی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:24) کذاب : کذب یکذب (باب ضرب) سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت چھوٹے بولنے والا۔ بڑا جھوٹا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–27

لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 27 : لم یسیروا ( وہ چلتے پھرتے نہیں) عاقبۃ (انجام) اثارا (نشانات، کھنڈرات) واق ( وقی) بچانے والا) ضلل ( گمراہی) ذو ونی (مجھے چھوڑو ( میری بات چھوڑو) عذت ( میں نے پناہ حاصل کرلی) تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 : دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں بہت سی قومیں ابھریں۔ ان کی تہذیب ان کا تمدن ساری دنیا پر چھا گیا ۔ ان کی تجارت مال و دولت کی کثرت ، بلند وبالا عمارتیں اور قلعے اس کثرت سے تھے کہ ان پر ناز کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھنا شروع کردیا ۔ غرور وتکبر کے ساتھ ساتھ انہوں نے کفر و شرک کی انتہاء کردی ۔ ان کی نا فرمانیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–28

(ف 1) ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ان پچھلے لوگوں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہونا فقط اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے تھا اور ان پچھلے لوگوں میں سب سے آخر فرعون کی قوم جو ہلاک ہوئی تھی اس کا قصہ بھی مثال کے طور پر ذکر فرمایا دیا، یہ اوپر گذرچکا ہے کہ پچھلے زمانہ کی تاریخی بات کو دیاد دلا کر مشابہت کے طور موجود زمانہ کی بات کے انجام کو ذہن نشین کرنا، اس مطلب کے ثابت کرنے کے لیے ایک بڑاعمدہ طریقہ ہے اسی مطلب کے لیے قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے لوگوں کے قصے ذکر فرمائے گئے اگرچہ قارون بنی اسرائیل میں سے تھا لیکن تورات کے زکوۃ کے حکم پر موسیٰ کی نبوت کا منکر ہوکرانکو جادوگر کہنے لگا کہ فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–25

[10] یہ حکم جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت 127 میں بیان ہوا ہے اب دوسری مرتبہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر واپس آنے کے بعد دیا گیا تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ یہ مصیبت ان پر موسیٰ (علیہ السلام) کی بدولت آئی ہے اور یہ خیال کر کے وہ آپ کا ساتھ چھوڑ دیں۔ آگے پتہ نہیں اس حکم پر عمل ہوا یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–28

فرعون کے استبداد کا جواب 1: حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد بابرکت میں بنی اسرائیل مصر میں آئے ۔ اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ تقریباً چار صدیاں انہوں نے یہاں امن و سکون کے ساتھ گزاریں اس کے بعد جب قبطیوں نے دیکھا ۔ کہ یہ لوگ اپنی ذہنی اور جسمانی لحاظ سے ہم سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔ تو ان کو خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ قوت واقتدار کے تمام شعبوں پر نہ چھا جائیں ۔ اور ہمیں جو کہ مصر کے اصل باشندے ہیں ۔ نکال باہر نہ کریں ۔ اس لئے مخالفت اور عناد کے جذبات ان کے سینوں میں پیدا ہوئے ۔ اور آہستہ آہستہ بڑھنے لگے ۔ قراعنہ مصر نے قبیلوں کے ساتھ دیا اور بنی اسرائیل کی تذلیل وتحقیر ٹھان لی ۔ تقریباً نصف صدی کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا سو انہوں نے کہا جادو گر ہے جھوٹا۔ یعنی احکام عطا فرمائے اور معجزے عطا فرمائے یہ سب کچھ ان لوگوں نے دیکھا مگر موسیٰ کو جھوٹا جادوگر کہا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا گیا ، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہا 24۔ فرعون اس وقت کا بادشاہ مصر تھا اور قارون کا تعلق خاص موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل سے تھا لیکن چونکہ اس کے پاس دولت کے انبار تھے اس لیے اس نے فرعون کے دربار میں عزت ومنزلت حاصل کرلی اور قوم پر ظلم وستم کرواتارہا اور خود حکومت سے فواہد حاصل کرتا رہا تا ہم قارون اس کا نام تھا خواہ وہ ذاتی نام تھا یا لقب اور ہامان کے متعلق معلوم نہیں ہوسکا وہ نام ہے یا کسی عہدہ کے باعث اس کو ہامان کہا گیا ہے بہرحال وہ فرعون کے خاص وزراء ومراء میں سے ایک تھا جو بہت شہرت رکھتا تھا۔ ان تینوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–24

Commentary Frequent references were made earlier in the text to the warnings given to deniers of pure monotheism and prophethood which brought more opposition and hostility from disbelievers. Naturally, this situation made the Holy Prophet ﷺ sad. It was to comfort him that, in nearly two sections cited above, mentioned there is the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Pharaoh. In this story, there is a lengthy dialogue between the Pharaoh, his people and a righteous elder who, despite being a scion of the House of the Pharaoh, had believed in the faith of Sayyidna Musa (علیہ السلام) after…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

38 The truth": the miracles and signs by which the Prophet Moses proved that he was a Messenger sent by Allah and the strong arguments by which he showed that he was wholly in the right.

Read the full tafseer →