Al-Ghaafir 40:23

Al-Ghaafir · from ayah 23

40:23

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۟ۙوَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍۙ

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did certainly send Moses with Our signs and a clear authority

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 3 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:23

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور بڑی واضح دلیل دے کر بھیجا تھا

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور روشن سند کے ساتھ بھیجا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بے شک ہم نے موسٰی ؑ کو اپنی نشانیوں اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلا شبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز ہم نے موسیٰ کو اپنے معجزات اور صریح سند دے کر فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا تھا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے بھیجا موسیٰ ؑ کو، اپنی نشانیوں اور ایک واضح سند کے ساتھ ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم ہی نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور ایک کھلی سند کے ساتھ

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے موسیٰ کو اپنے احکام اور کھلی ہوئی دلیل دے کر

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے بھیجا تھا موسیٰ ؑ ٰ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور دلیل روشن دے کر بھیجا

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily We sent Moses with Our Signs and a clear authority

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed We sent Musa with Our signs and a manifest proof

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed We sent Musa with Our signs and a manifest proof

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We sent Musa with Our Ayat, and a manifest authority,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily We sent Moses with Our revelations and a clear warrant

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did certainly send Moses with Our signs and a clear authority

— Saheeh International

We sent Moses with Our miracles and clear authority.

— Muhammad Sarwar

And certainly We sent Musa with Our communications and clear authority,

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We sent Musa with Our signs and a manifest authority.

— Abdul Majid Daryabadi

Of old We sent Moses, with Our Signs and an authority manifest,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–27

فرعون کا بدترین حکم۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ کو تسلی دینے کے لئے سابقہ رسولوں کے قصے بیان فرماتا ہے کہ جس طرح انجام کار فتح و ظفر ان کے ساتھ رہی اسی طرح آپ بھی ان کفار سے کوئی اندیشہ نہ کیجئے۔ میری مدد آپ کے ساتھ ہے۔ انجام کار آپ ہی کی بہتری اور برتری ہوگی جیسے کہ حضرت موسیٰ بن عمران ؑ کا واقعہ آپ کے سامنے ہے کہ ہم نے انہیں دلائل وبراہین کے ساتھ بھیجا، قبطیوں کے بادشاہ فرعون کی طرف جو مصر کا سلطان تھا اور ہامان کی طرف جو اس کا وزیر اعظم تھا اور قارون کی طرف جو اس کے زمانے میں سب سے زیادہ دولت مند تھا اور تاجروں کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ ان بدنصیبوں نے اللہ کے اس زبردست رسول کو جھٹلایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 35 حضرت موسیٰ کے قصے کی دوسرے تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو جلد اول صفحات 75 تا 79۔ 425۔ 459۔ جلد دوم 64 تا 88۔ 301 تا 310۔ 330 365 366۔ 370۔ 382۔ 383۔ 471 تا 474۔ 642 تا 649۔ جلد سوم، 34 تا 40۔ 71۔ 72۔ 85۔ 88 تا 121 279۔ 280۔ 480 تا 498۔ 557 تا 560۔ 610۔ 613 تا 639۔ جلد چہارم، سورة احزاب، آیت 69۔ الصافات، آیات 114 تا 122۔ سورة الْمُؤْمِن 36 یعنی ایسی صریح علامات کے ساتھ جن سے یہ امر مشتبہ نہیں رہ جاتا تھا کہ وہ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں اور ان کی پشت پر اللہ رب العٰلمین کی طاقت ہے۔ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کے قصے کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں ان پر ایک غائر نگاہ ڈالنے سے صاف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنے احکام اور کھلی دلیل (یعنی معجزہ) دے کر فرعون اور ہامان اور قارون کے پاس بھیجا تو ان لوگوں (میں سے بعض نے یا کل) نے کہا کہ (نعوذ باللہ) یہ جادوگر (اور) جھوٹا ہے (جادوگر معجزہ میں کہا اور کذاب دعویٰ نبوت و احکام میں کہا۔ یہ قول فرعون، ہامان اور قارون تین کی طرف منسوب کیا گیا ہے مگر قارون چونکہ بنی اسرائیل میں سے تھا اور بظاہر موسیٰ ؑ پر ایمان رکھتا تھا اس کا ان کو ساحر کہنا بظاہر مستبعد ہے۔ لیکن ہوسکتا ہے کہ یہ اس وقت بھی منافق ہو موسیٰ ؑ پر ظاہر میں ایمان کا دعویٰ کرتا ہو حقیقتاً نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ قول صرف فرعون و ہامان کا ہو تغلیباً تینوں کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

2۔ آگے کا مضمون …آیات : 23۔ 55 آگے حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی سرگزشت آرہی ہے جس سے اصل مقصود تو اس دعوے کی دلیل پیش کرنا ہے جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوا ہے کہ جب کسی قوم کی طرف رسول کی بعثت ہوتی ہے اور قوم اس کی تکذیب کردیتی ہے تو وہ لازماً تباہ کردی جاتی ہے اگرچہ قوت و شوکت اور تعمیر و تمدن کے اعتبار سے وہ کتنی ہی برتر قوم ہو۔ یہ سرگزشت سنا کر نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم صبر کے ساتھ اپنا کام کئے جائو، یہی حشر قریش کے ان فراعنہ کا بھی ہونا ہے اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی۔ ساتھ ہی اس سرگزشت کے ضمن میں خاندان فرعون کے ایک مرد مومن کی داستان بیان ہوئی ہے جو ایک مدت تک تو،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 آیات سے مراد وہ نشانیاں بھی ہوسکتی ہیں جن کا ذکر پہلے گزر چکا ہے یا عصا اور ید بیضا والے دو بڑے واضح معجزات بھی سلطان مبین سے مراد قوی دلیل اور حجت واضحہ جس کا کوئی جواب ان کی طرف سے ممکن نہیں تھا بجز ڈھٹائی اور بےشرمی کے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–24

4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–24

آیت نمبر 23 تا 24 یہ ہے فرعون کے ساتھ ملاپ۔ حضرت موسیٰ بمعہ معجزات کھڑے ہیں اور ان کے ساتھ وہ ہیبت بھی ہے جو ہر سچائی کے ساتھ ہوتی ہے اور سچائی ان کے ہاتھ میں ہے۔ فرعون ، ہامان اور قارون بھی موجود ہیں۔ ان کے ساتھ ان کا کھوٹا اور باطل موقف ہے اور ان کے ساتھ ان کی ظاہری قوت ہے اور وہ مقام و مرتبہ ہے جس کے چلے جانے کا ان کو بہت ڈر ہے ، یہ لوگ سچائی کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ چناچہ یہ اب باطل بحث ومباحثے میں پڑگئے ہیں۔ چناچہ وہ کہتے ہیں سحر کذاب (40: 24) ” جادو گر ہے جھوٹا ہے “۔ یہاں اب قصے میں سے وہ تمام حصے کاٹ دیئے جاتے ہیں ، جو اس مباحثے کے بعد پیش آئے۔ جادو گروں کے ساتھ مقابلے کا حصہ بھی کٹ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 " نشانیوں " سے معجزات اور " کھلی سند " سے شاید ان میں کے مخصوص و ممتاز معجزات مراد ہوں یا " کھلی سند " معجزات کے سوا دوسری قسم کے دلائل وبراہین کو فرمایا۔ یا " آیات " سے تعلیمات و احکام اور " سلطان مبین " سے معجزات مراد لیے جائیں۔ یا " سلطان مبین " اس قوت قدسیہ اور مخصوص تائید ربانی کا نام ہو جس کے آثار پیغمبروں میں ہر دیکھنے والے کو نمایاں طور پر نظر آیا کرتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب آئندہ آیات میں ”مومن ِآلِ فرعون“ کا واقعہ بیان ہو رہا ہے جو اس سورت کا خاص مضمون ہے۔ وہ فرعون کے دربار میں بہت بڑے مرتبے پر فائز تھے۔ ظاہر ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ ان تک بھی پہنچی ہوگی۔ اس دعوت کے جواب میں اللہ نے ان کا سینہ کھول دیا اور وہ ایمان لے آئے۔ البتہ مصلحت کے تحت انہوں نے اپنے ایمان کا اظہار نہ کیا۔ پھر ایک موقع پر جب فرعون نے اپنی کابینہ کے سامنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی تجویز رکھی تو اس مرد حق سے خاموش نہ رہا گیا۔ چناچہ فرعون کی اس تجویز کے جواب میں انہوں نے بھرے دربار میں ایک بہت مدلل ّاور موثر تقریر کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ”حق…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

31 سلطان کا مطلب :۔ سلطان کا معنی ایسی دلیل ہے جو سند یا دستاویز کی حیثیت رکھتی ہو اور جس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہو کہ یہ شخص جو کچھ کر رہا ہے وہ صرف اپنی ہی نہیں کسی دوسری قوت کے بل بوتے پر کر رہا ہے۔ اور ایسے حالات و واقعات موسیٰ کی زندگی میں بارہا پیش آئے تھے۔ پہلی بات تو یہی تھی کہ موسیٰ فرعون کی حکومت کے مفرور مجرم تھے۔ اس کے باوجود آپ خود ہی سیدھے اس کے دربار میں پہنچ گئے اور اسے اللہ کا پیغام سنا کر اپنی اطاعت کی دعوت دی اور یہ بھی کہا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کرکے میرے ہمراہ روانہ کردے۔ اور یہ دونوں باتیں ایسی تھیں جن سے وہ جل بھن گیا تھا۔ مگر اس کے باوجود آپ پر ہاتھ اٹھانے یا آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 23–24

23۔ قرآن جیسا کہ بار بار بیان ہوچکا ہے، کوئی تاریخ کی کتاب نہیں اس کے پیش نظر صرف مقاصد ونتائج رہتے ہیں۔ نبوت موسوی سے انکار کا جزء ان تینوں مشاہیر میں مشترک تھا اور یہاں اسی کے نتیجہ پر نتبیہ مقصود تھی اس لیے قرآن نے بھی تینوں کا نام ایک ساتھ لے دیا، ورنہ ظاہر ہے، کہ قارون مصری نہیں اسرائیلی تھا اور اس کی تکذیب و انکار کا واقعہ زمانا بھی فرعون وہامان سے متاخر ہے۔ (آیت) ” فرعون وھامن وقارون “۔ فرعون پر حاشیے وسورۃ البقرہ پ 1 میں گزر چکے اور ہامان وقارون پر سورة القصص پ 20 میں۔ قارون اسرائیلی نے جس شدومد سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے انکار کیا ہے اور بغاوت پر آمادہ ہوا ہے اس کا ذکر توریت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–27

آیت نمبر 21 تا 27 ترجمہ : کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ؟ کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیسا کچھ انجام ہوا وہ باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے، ان سے بہت بڑھے ہوئے تھے اور وہ یادگاریں پانی کے بڑے بڑے حوض اور محلات تھے، اور ایک قرآءت میں مِنْھُمْ کی بجائے مِنْکُمْ ہے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا (ہلاک کردیا) اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچالیتا، یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے معجزے لیکر آتے تھے تو وہ انکار کردیتے تھے سو اللہ نے ان کو گرفت میں لے لیا، یقیناً وہ طاقتور اور سخت عذاب والا ہے اور ہم نے موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا وسطن مبین۔ اور ہم نے موسیٰ کو اپنے احکام اور کھلی دلیل کے ساتھ

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–24

(23۔ 24) اور ہم نے حضرت موسیٰ کو نو نشانیاں اور واضح دلیل دے کر فرعون اور اس کے وزیر ہامان اور ان کے چچا زاد بھائی قارون کی طرف بھیجا تو ان لوگوں نے کہا یہ تو جادوگر ہیں دو کے درمیان تفریق کرنے والے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان لگانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ولقد ارسلنا موسیٰ … پچھلی آیات میں پہلے انبیاء کو جھٹلانے والی اقوام کے انجام کے ذکر میں جہاں موجود جھٹلانے والوں کے لئے عبرت اور ڈرانے کا سامان ہے وہیں رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کے لئے تسلی اور بشارت بھی ہے۔ اب رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کی مزید تسلی کے لئے موسیٰ اور فرعون کا واقعہ ذکر فرمایا، جس میں فرعون کا موسیٰ ؑ اور ایمان والوں کو ڈرانا دھمکانا خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔ اس کے مقابلے میں موسیٰ ؑ اور الہ ایمان کی شجاعت، ثابت قدمی اور پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر کی تفصیل بیان فرمائی ہے، ساتھ ہی فرعون اور اس کے ساتھیوں کے عبرتناک انجام کا ذکر فرمایا ہے۔ مقصد رسول اللہ ﷺ کو حوصلہ دلانا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–27

(ولقد ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔ ) ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا یہ نو نشانیاں ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں گزر چکا ہے : ” وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍ م “ (الاسرائ : 101) ان کی تعیین بھی گزر چکی ہے :” وسلطن مبین۔ “ اس سے مراد واضح حجت ہے، سلطان یہ مذکر اور مونث دونوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد تورات ہے الی فرعون وھا من وقارون ان کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنی کی تدبیر کا دارومدار نہیں افراد پر تھا فرعون بادشاہ تھا، ہامان وزیر تھا اور قارون اموال اور خزانوں والا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے ان دونوں کے ساتھ جمع کردیا کفر اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–23

1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما کان لھم من اللہ من واق “ (اور اللہ کے عذاب سے کوئی ان کو بچانے والا نہ ہو) یعنی کوئی بچانے والا نہیں جو ان کو عذاب سے بچائے اور ان کو نفع دے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَـقَدْ اَرْسَلْنَا [ اور بیشک ہم بھیج چکے ] مُوْسٰى [ موسیٰ کو ] بِاٰيٰتِنَا [ اپنی نشانیوں کیساتھ ] وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ [ اور واضح دلیل کے ساتھ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–27

ہم نے موسیٰ کو فرعون، ہامان، قارون کی طرف بھیجا، انہوں نے ان کو ساحر اور کذاب بتایا، فرعون کے برے عزائم کا تذکرہ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے رب کی پناہ مانگنا گزشتہ آیات میں اجمالی طور پر بعض اقوام کی تکذیب اور ہلاکت و تعذیب کا تذکرہ فرمایا آیات بالا میں اور ان کے بعد ڈیڑھ رکوع تک فرعون اور اس کی قوم کے عناد اور تکذیب کا اور بالآخر ان کے غرق اور تعذیب کا تذکرہ فرمایا درمیان میں ایک ایسے شخص کی نصیحتوں کا تذکرہ بھی فرمایا، جو آل فرعون میں سے تھا، یہ شخص ایمان لے آیا تھا اور اپنے ایمان کو چھپاتا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات یعنی معجزات کے ساتھ اور واضح حجت کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–27

تنبیہ ووعید برائے ظالمین از کرب و اضطراب۔ روز قیامت مع تذکر ۂ قصہ موسیٰ (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وانذر ھم یوم الازفۃ ..... الی ..... من کل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منکرین کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت کے روز عذاب خداوندی دیکھ کر وہ اس کی تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور نیک کام کرلیں اب ان آیات میں ایسے منکروں اور ظالموں کو اس دن کی بےچینی اور اضطراب سے متنبہ کیا جار ہا ہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ قدیم میں گزرے ہوئے مجرمین اور سرکشوں کا انجام ہلاکت بیان کرکے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–23

30:۔ ” ولقد ارسلنا “ یہ تخویف دنیوی کا ایک مفصل نمونہ ہے۔ اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کی قوم کے پاس معجزات اور آیات بینات لے کر آئے، کس طرح فرعون اور اس کی قوم نے ان کو جھٹلایا، اللہ کی توحید اور اس کے حکمنامے کو نہ مانا، تو پھر کس طرح ان کو رسوا کن عذاب سے ہلاک کیا گیا۔ اس کے ضمن میں مؤمن آل فرعون کا قصہ بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس تفصیل میں ایک طرف آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ اور دوسری طرف مشرکین مکہ کے لیے جائے عبرت۔ ” ایات “ سے معجزات مراد ہیں اور ” سلطان مبین “ حجت قاہرہ جو ان معجزات سے قائم ہوئی۔ (ابو السعود، روح) ۔ ہامان، فرعون کا وزیر۔ قارون، اگرچہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–27

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر تھا اور کچھ دلائل قدرت بھی بیان ہوئے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکیں اور اس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کو ادراک ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور وہاں پیش آنے والے بعض حالات کا ذکر کیا ، اور جزائے عمل کے متعلق یاد دہانی کرائی ، اب آج کے درس میں بھی زیادہ کفر وشرک کرنے والوں کا شکوہ ہی بیان کیا گیا ہے اور ان کی توجہ بعض سابقہ نافرمان اقوام کے حالات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے ۔ (سابقہ اقوام کا انجام) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اولم یسیروا فی الارض “۔ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ یہ نزول قرآن کے زمانے کے کفار ومشرکین کے متعلق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَـقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۝ 23ۙ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 21–25

تفسیر : منکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کرکے دنیاوی مصیبتوں کا خوف دلاتا ہے، اس لیے کہ وہ سنگدل آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ پھر وہاں کے عذاب سن کر اور بھی تمسخر کرتے تھے، اس لیے اب ان کو دنیا کی بلائوں سے ڈراتا اور اس کا کامل یقین دلاتا ہے۔ ان سے پہلوں کی ہلاکت اور ان کے آثار باقیہ کو یاد دلاکر جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھے۔ اس لیے فرماتا ہے۔ اولم یسیروا کہ کیا ان کفار قریش نے جو یمن و شام میں تجارت کے لیے آیا جایا کرتے ہیں، پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے منکروں کا کیا انجام ہوا جو ان سے زیادہ طاقتور تھے اور بڑے بڑے نشان دنیا میں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے مکانات اور نشانوں سے زیادہ ان کے نشان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰـتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَھَامٰنَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ کَذَّابٌ۔ (المؤمن : 23، 24) (اور ہم نے بھیجا موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور واضح سند کے ساتھ۔ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف، تو انھوں نے کہا کہ یہ تو ساحر ہے کذاب ہے۔ ) گزشتہ مضمون پر تاریخ سے استشہاد گزشتہ آیت میں جو کچھ کہا گیا ہے اب تاریخ سے اس پر استشہاد کیا جارہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھو انھیں ہم نے اپنی آیات اور سلطانِ مبین دے کر بھیجا۔ آیات سے مراد وہ احکام و ہدایات ہیں جو حسب ضرورت بتدریج انھیں عطا کیے جاتے رہے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ مصر میں ان کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–25

فہم القرآن ربط کلام : ہلاک کی جانے والی اقوام میں آل فرعون بھی شامل تھے۔ جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بڑے بڑے معجزات اور دلائل دے کر فرعون، ہامان اور قارون کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا اور جادوگر قرار دیا۔ جوں ہی موسیٰ (علیہ السلام) ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو فرعون اور ان کے ساتھیوں نے فیصلہ کیا کہ جو بھی موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اسے قتل کردیا جائے اور اس کی عورتوں کو اپنے لیے باقی رہنے دیا جائے۔ حق کے مقابلے میں کفار کی منصوبہ بندیاں ہمیشہ انہیں دنیا اور آخرت کے نقصان میں زیادہ ہی کرتی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وَلَـقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا، ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیات کے ساتھ، تسع آیات مراد ہیں۔ وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ ، اور کھلی دلیل کے ساتھ، ظاہر دلیل۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 23–25

(22) ۔۔۔۔۔۔ ، ذلک ، یعنی یہ عذاب جوان پر نازل ہوا ہے۔ ، بانھم کانت تاتیھم رسلھم بالبینات فکفروا فاخذھم اللہ انہ قوی شدید العقاب،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–28

22۔ 28۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو عقبیٰ کے خوف کی باتوں سے ڈرایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور نیک و بد کا ذرا ذرا حساب ہوگا اور جو لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور اپنے بتوں سے شفاعت کی توقع رکھتے ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے وہاں مشرکوں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا پھر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے مخالفت کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے بہت لوگ ان سے پہلے ہلاک ہوچکے ہیں جن کا حال انہوں نے ملک شام و یمن کے سفر میں سنا ہوگا اور جو کچھ عمارتیں ان پچھلے لوگوں کی باقی رہ گئی ہیں ان کے دیکھنے سے ان کو معلوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–46

آیت 23 ولقد ارسلنا) ” بلا شبہ ہم نے بھیجا “ یعنی ان جیسے مکذبین کی طرف (موسی) موسیٰ بن عمران کو (بایتنا) ” اپنی (بڑی بڑی) نشانیوں کے ساتھ “ جو موسیٰ کی دعوت کی حقیقت اور مشرکین کے موقف کے بطلان پر قطعی طور پر دلالت کرتی تھیں۔ (وسلطن مبین) یعنی ایک واضح حجت کے ساتھ جو دلوں پر مسلط ہو کر ان کو سرنگوں کردیتی ہے، مثلاً اسنپ اور عصا اور اس قسم کے دیگر معجزات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی مدد فرمائی اور ان کے لئے حق کی دعوت کو آسان بنایا۔ اور جن کی طرف بھیجا گیا وہ تھے (فرعون وھامن) فرعون، اس کا وزیر ہامان (وقارون) ” اور قارون “ قارون موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا مگر اس نے اپنے مال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 23–24

52 فرعون، ہامان اور قارون کے جرم انکار و تکذیب کا ذکر : سو اس سے فرعون اور اس کے دو بڑے لیڈروں ہامان اور قارون کے جرم انکار اور تکذیبِ حق کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو فرعون اور اس کے دو بڑے لیڈروں اور سرغنوں کا جواب موسیٰ کو ان کی دعوت حق پر یہ تھا کہ یہ شخص ساحر اور کذاب ہے۔ پس آپ ﷺ کے ساتھ اے پیغمبر ! تکذیب و انکار کا جو معاملہ یہ دشمنانِ حق آج کر رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے ۔ { مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ } ۔ (حمٓ السجدۃ : 43) مگر فتح ہمیشہ حق ہی کی ہوئی۔ سو اس میں آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے ہر داعی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–55

موسیٰ اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی جنگ اور ایک مومن کا کردار تشریح : اہل مکہ کو سمجھانے کیلئے پچھلی قوموں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا مشہور قصہ دہرایا جا رہا ہے اس کا تفصیلاً ذکر گزر چکا ہے یہاں صرف وہ حصہ دہرایا جا رہا ہے جو مذکورہ مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ کفار مکہ نے جب حضرت محمد ﷺ کے قتل کا منصوبہ بنایا تو رب العزت ان کو بتا رہے ہیں کہ یہ کوئی عجیب بات نہیں پیغمبروں کے ساتھ نافرمان لوگ ایسے ہی کرتے آئے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی کہا تھا کہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیتا ہوں۔ مگر اللہ نے ان کی خاص حفاظت کا بندوبست کیا۔ دراصل فرعون کے اس قصے کو جو کہ آیت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–27

رکوع نمبر 3: آیات 21 تا 27 اسرار و معارف : یہ لوگ تو روئے زمین پر سفر کرنے والے ہیں انہوں نے یقینا پہلی اقوام کے آثار دیکھے ہوں گے جو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا جنہوں نے ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ کس طرح تباہ ہوئے حالانکہ وہ ان لوگوں کی نسبت بہت زیادہ طاقتور تھے یہ بات ان کے چھوڑے ہوئے قلعوں اور آثار سے بھی ظاہر ہے مگر ان کی قوت و شوکت کسی کام نہ آئی اللہ کے عذاب نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب آپکڑا تو انہیں کوئی ایسا آسرا نہ مل سکا جو ان سے دوستی کا دم بھرتا اور انہیں تباہی سے بچا لیتا ان پر بھی عذاب اسی وجہ سے آئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول اللہ کی طرف سے دلائل لے کر…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

۔2 نشانیوں سے مراد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے نو معجزے ہیں جن کا ذکر سورة اعراف اور دوسری کئی سورتوں میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:23) سلطن مبین ۔ موصوف و صفت کھلی دلیل۔ سلطن حجت ، برہان ، سند۔ حکومت۔ معجزہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–27

لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 27 : لم یسیروا ( وہ چلتے پھرتے نہیں) عاقبۃ (انجام) اثارا (نشانات، کھنڈرات) واق ( وقی) بچانے والا) ضلل ( گمراہی) ذو ونی (مجھے چھوڑو ( میری بات چھوڑو) عذت ( میں نے پناہ حاصل کرلی) تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 : دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں بہت سی قومیں ابھریں۔ ان کی تہذیب ان کا تمدن ساری دنیا پر چھا گیا ۔ ان کی تجارت مال و دولت کی کثرت ، بلند وبالا عمارتیں اور قلعے اس کثرت سے تھے کہ ان پر ناز کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھنا شروع کردیا ۔ غرور وتکبر کے ساتھ ساتھ انہوں نے کفر و شرک کی انتہاء کردی ۔ ان کی نا فرمانیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–28

(ف 1) ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ان پچھلے لوگوں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہونا فقط اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے تھا اور ان پچھلے لوگوں میں سب سے آخر فرعون کی قوم جو ہلاک ہوئی تھی اس کا قصہ بھی مثال کے طور پر ذکر فرمایا دیا، یہ اوپر گذرچکا ہے کہ پچھلے زمانہ کی تاریخی بات کو دیاد دلا کر مشابہت کے طور موجود زمانہ کی بات کے انجام کو ذہن نشین کرنا، اس مطلب کے ثابت کرنے کے لیے ایک بڑاعمدہ طریقہ ہے اسی مطلب کے لیے قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے لوگوں کے قصے ذکر فرمائے گئے اگرچہ قارون بنی اسرائیل میں سے تھا لیکن تورات کے زکوۃ کے حکم پر موسیٰ کی نبوت کا منکر ہوکرانکو جادوگر کہنے لگا کہ فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 20–23

[8] آیات سے مراد وہ احکام و ہدایات ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس لے کر گئے تھے۔ [9] اس سے اشارہ یہاں معجزہ عصائے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ہے جس کی نوعیت اللہ کی طرف سے سند کی تھی تاکہ فرعون اور اس کے سرداروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ کا سفیر ہونے کے باب میں کسی شک کی گنجائش نہ رہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–28

فرعون کے استبداد کا جواب 1: حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عہد بابرکت میں بنی اسرائیل مصر میں آئے ۔ اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے ۔ تقریباً چار صدیاں انہوں نے یہاں امن و سکون کے ساتھ گزاریں اس کے بعد جب قبطیوں نے دیکھا ۔ کہ یہ لوگ اپنی ذہنی اور جسمانی لحاظ سے ہم سے کہیں بڑھ کر ہیں ۔ تو ان کو خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ قوت واقتدار کے تمام شعبوں پر نہ چھا جائیں ۔ اور ہمیں جو کہ مصر کے اصل باشندے ہیں ۔ نکال باہر نہ کریں ۔ اس لئے مخالفت اور عناد کے جذبات ان کے سینوں میں پیدا ہوئے ۔ اور آہستہ آہستہ بڑھنے لگے ۔ قراعنہ مصر نے قبیلوں کے ساتھ دیا اور بنی اسرائیل کی تذلیل وتحقیر ٹھان لی ۔ تقریباً نصف صدی کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور بڑی واضح دلیل دے کر۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

ف 4۔ یعنی معجزات کہ دلائل نبوت ہیں۔ 5۔ پس جب علت مواخذہ کی کفر و شرک ہے جو ان میں بھی مشترک ہے، پھر یہ مواخذہ سے کیسے مامون ہیں، خواہ دارین میں خواہ دار آخرت میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی روشن دلائل دے کر بھیجا گیا تھا 23۔ اس میں کوئی شک وشبہ کی بات نہیں کہ ہم نے اس وقت محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم النبیین بنا کر مبعوث کیا ہے اور ہم ہی نے اس سے بہت پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو رسول بنا کر اور اس کو روشن دلائل دے کر بھیجا تھا۔ پھر جن لوگوں کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا انہوں نے موسیٰ کی تکذیب کی اور ایک مختصر گروہ کے سوا وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) مسلسل جھٹلاتے رہے اور ان کا انجام ذرا تم قریش مکہ کان کھول کر سن لو اور اگر تم میں کوئی اپنے اندر ایمان رکھتا ہے اور اس کا اظہار کرنے سے ڈرتا ہے تو وہ بھی اس سرگزشت سے فائدہ حاصل کرلے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 20–24

Commentary Frequent references were made earlier in the text to the warnings given to deniers of pure monotheism and prophethood which brought more opposition and hostility from disbelievers. Naturally, this situation made the Holy Prophet ﷺ sad. It was to comfort him that, in nearly two sections cited above, mentioned there is the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Pharaoh. In this story, there is a lengthy dialogue between the Pharaoh, his people and a righteous elder who, despite being a scion of the House of the Pharaoh, had believed in the faith of Sayyidna Musa (علیہ السلام) after…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

35 For the other details of the story of the Prophet Moses, see AIBaqarah: 49-61; An-Nisa: 164; AI-Ma'idah: 20-26; AI-A'raf: 103-162; Yunus: 7,5-92: Hud 17, 96-97, 110; Introduction to Surah Yusuf; Ibrahim: 5-8; Bani Isra'il: 101-104; AI-Kahf: 60-82; Maryam: 51-53; Ta Ha: 9-98; AI-Mu'minun: 45-49; Ash Shu'ara': 10-68; An-Naml: 7-14; Introduction to Surah AI-Qasas and AI-Qasas: 3-44; AI Ahzab; 69; As-Saff: 114-122 and the E.N.'s thereof. 36 For a reply to the critics' objections about Haman, see E.N. 8 of AlQasas above. 37 "A clear authority of appointment": With such clear Signs as left no…

Read the full tafseer →