Explained with ayahs 21–22
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ کیا تیری رسالت کے جھٹلانے والے کفار نے اپنے سے پہلے کے رسولوں کو جھٹلانے والے کفار کی حالتوں کا معائنہ ادھر ادھر چل پھر کر نہیں کیا جو ان سے زیادہ قوی طاقتور اور جثہ دار تھے۔ جن کے مکانات اور عالیشان عمارتوں کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔ جو ان سے زیادہ باتمکنت تھے۔ ان سے بڑی عمروں والے تھے، جب ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے عذاب الٰہی ان پر آیا۔ تو نہ تو کوئی اسے ہٹا سکا نہ کسی میں مقابلہ کی طاقت پائی گئی نہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نکلی، اللہ کا غضب ان پر برس پڑنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلیلیں اور صاف روشن حجتیں لے کر آئے باوجود اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
سورة الْمُؤْمِن 34
مبیّنات سے مراد تین چیزیں ہیں۔ ایک، ایسی نمایاں علامات اور نشانیاں جو ان کے مامور من اللہ ہونے پر شاہد تھیں۔ دوسرے، ایسی روشن دلیلیں جو ان کی پیش کردہ تعلیم کے حق ہونے کا ثبوت دے رہی تھیں۔ تیسرے، زندگی کے مسائل و معاملات کے متعلق ایسی واضح ہدایات جنہیں دیکھ کر ہر معقول آدمی یہ جان سکتا تھا کہ ایسی پاکیزہ تعلیم کوئی جھوٹا خود غرض آدمی نہیں دے سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ۔ (یعنی الاعین الخائنة) خیانت نظر سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں سے چرا کر ایسی چیز پر نظر ڈالے جو اس کے لئے حرام اور ناجائز ہو، جیسے کسی غیر محرم پر شہوت سے نظر کرے، اور جب کسی کو دیکھے تو نظر ہٹا لے یا اس طرح نظر ڈالے کہ جس کو دیکھنے والے محسوس نہ کریں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب چیزیں ظاہر ہیں۔
Read the full tafseer →یہ ان قوموں کی تباہی کا سبب بیان فرمایا ہے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے لیکن انہوں نے اپنی قوت و جمعیت اور اپنی دنیوی ترقیوں کے زعم میں رسولوں کے انذار کی کوئی پروانہ کی بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑا اور جب پکڑا تو وہ اس کی پکڑ سے چھوٹ نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ قوی اور سخت پاداش والا ہے۔ جب وہ پکڑتا ہے تو کوئی سائنس اس سے چھڑا نہیں سکتی۔
Read the full tafseer →22۔ 1 یہ ان کی ہلاکت کی وجہ بیان کی گئی ہے، اور وہ ہے اللہ کی آیتوں کا انکار اور پیغمبروں کی تکذیب۔ اب سلسلہ نبوت و رسالت تو بند ہے۔ تاہم آفاق پر انس میں بیشمار آیات الٰہی بکھری اور پھیلی ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں وعظ و تذکیر اور دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے علماء اور داعیان حق ان کی وضاحت اور نشاندہی کے لیے موجود ہیں اس لیے آج بھی جو آیات الہی سے اعراض اور دین و شریعت سے غفلت کرے گا اس کا انجام مکذبین اور منکرین رسالت سے مختلف نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
درس نمبر 224 ایک نظر میں
اس سے قبل ہم اس سبق پر اجمالی تبصرہ کر آئے ہیں ۔ تفصیلی تشریح سے قبل یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ یہاں یہ قصہ سورت کے موضوع کی مناسبت سے لایا گیا ہے۔ اور اس سورت کے انداز بیان کے ساتھ ہم آہنگ کرکے لایا گیا ہے ، بلکہ بعض اسی سورت کے فقروں ہی کو استعمال کیا گیا ہے۔ اور ایک ہی انداز بیان اختیار کیا ہے۔ مثلاً رجل مومن فرعون کے سامنے جو تقریر کرتا ہے ، اس کے بعض فقرے اس سے قبل اسی سورت میں موجود ہیں۔ وہ فرعون ، ہامان اور قارون کو نصیحت کرتا ہے کہ تم لوگ زمین میں چلت پھرت رکھتے ہو ، نیز ان کو وہ ایک ایسے دن سے ڈراتا ہے جو دوسری اقوام کو پیش آیا۔ اور وہ ان کو قیامت کے دن سے بھی…
Read the full tafseer →6 یعنی تم بھی ان کی طرح رسول کی تکذیب کر کے فلاح نہیں پاسکتے آخر رسوا اور ہلاک ہوگئے اور خداوند قدوس اپنے زور و قوت سے پیغمبر کو غالب و منصور فرمائے گا۔ اسی مناسبت سے آگے موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 22 { ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانَتْ تَّاْتِیْہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّنٰتِ } ”یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس آتے رہے ان کے رسول بہت واضح نشانیوں کے ساتھ“
{ فَکَفَرُوْا فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُط اِنَّہٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ } ”لیکن انہوں نے کفر کیا تو اللہ نے انہیں پکڑ لیا ‘ یقینا وہ بہت طاقتور ‘ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔“
Read the full tafseer →30 بینات کے مختلف معانی :۔ بَیِّنَاتٌ (بینۃ) کی جمع دراصل ایسی دلیل کو کہتے ہیں جس کے سامنے فریق ثانی لاجواب ہوجائے۔ پھر اس لفظ کا اطلاق معجزات انبیاء پر بھی ہوسکتا ہے اور قرآن کی آیات پر بھی کیونکہ بار بار کے چیلنج کے باوجود کافر قرآن کی مثل پیش نہ کرسکے تھے۔ اور ایسے عقلی دلائل پر بھی جو فریقین میں مسلم ہوں۔ اور ایسی واضح ہدایات پر بھی جنہیں دیکھ کر ہر معقول آدمی یہ سمجھ سکے کہ ایسی تعلیم کوئی جھوٹا خود غرض آدمی نہیں دے سکتا۔
Read the full tafseer →22۔ (تو اس کی گرفت سے یہ لوگ کب تک باہر رہ سکتے ہیں) (آیت) ’ ’ بالبینت “۔ بینات کے تحت میں عقلی دلائل اور عملی معجزے سب کچھ آگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیت نمبر 21 تا 27
ترجمہ : کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ؟ کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیسا کچھ انجام ہوا وہ باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے، ان سے بہت بڑھے ہوئے تھے اور وہ یادگاریں پانی کے بڑے بڑے حوض اور محلات تھے، اور ایک قرآءت میں مِنْھُمْ کی بجائے مِنْکُمْ ہے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا (ہلاک کردیا) اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچالیتا، یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے معجزے لیکر آتے تھے تو وہ انکار کردیتے تھے سو اللہ نے ان کو گرفت میں لے لیا، یقیناً وہ طاقتور اور سخت عذاب والا ہے اور ہم نے موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →ذلک بانھم کانت یاتیھم رسلھم بالبینت فکفروا فاخذھم اللہ انہ قوی شدید العقاب
یہ (پکڑ) اس وجہ سے ہوئی کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح دلیلیں لے کر آتے رہے ‘ مگر انہوں نے ماننے سے انکار کردیا ‘ آخرکار اللہ نے ان کو دھر پکڑا۔ بلاشبہ وہ بڑی قوت والا ‘ سخت سزا دینے والا ہے۔
اَلْبَیِّنَات معجزات اور وہ احکام جن کی صحت و افادیت کھلی ہوئی تھی۔
قَوِیٌ پوری قدرت والا ‘ جو کچھ چاہے اس پر پورا قادر۔
Read the full tafseer →اور یہ دنیا میں ان پر عذاب اس وجہ سے نازل ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول اوامرو نواہی اور دلیلیں لے کر آئے تھے تو انہوں نے انبیاء کرام کی اور جو وہ لے کر آئے تھے اس کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ نے ان پر مواخذہ فرمایا اور مواخذہ فرمانے والا قوت والا اور جس کو سزا دے تو سخت سزا دینے والا ہے۔
Read the full tafseer →ذلک بانھم کانت ثاتیھم …”البینات“ کا لفظ عام ہے، اس سے مراد معجزے بھی ہیں، روشن دلیلیں بھی اور واضح احکام و ہدایت بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
(وانذرھم یوم الازقۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
یوم الازقۃ سے مراد یوم قیامت ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا کیونکہ وہ قریب ہے کیونکہ ہر وہ امر جو وقوع پذیر ہونے والا ہو وہ قریب ہی ہوا کرتا ہے ازف فلان، یعنی فلاں قریب ہوا اس کا مضارع یازف ازفا کے وزن پر آت ہے۔ نابغہ نے کہا :
ازف الترحل غیر ان رکابنا لما نزل برحالناوکان قد
اس میں ازف کے لفظ کا قریب معنی ہے یعنی ہمارے کوچ کا وقت قریب آگیا ہے اس آیت کی مثل ازفت الازقۃ۔ ( النجم) ہے یعنی قیامت قریب آگئی ہے، ایک شاعر کہتا ہے :
ازف الرحیل ولیس لی من زاد غیر الذنون لشقوتی ونکادی
کوچ کا وقت قریب آگیا میرے لیے میرے گناہوں کے سوا کوئی زاد نہیں یہ میری بد بختی اور محرومی کا باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما کان لھم من اللہ من واق “ (اور اللہ کے عذاب سے کوئی ان کو بچانے والا نہ ہو) یعنی کوئی بچانے والا نہیں جو ان کو عذاب سے بچائے اور ان کو نفع دے۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ [یہ اس لئے کہ ] كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ [ آتے تھے ان کے پاس ] رُسُلُهُمْ [ان کے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ [ واضح (نشانیوں ) کے ساتھ ] فَكَفَرُوْا [ تو انھوں نے انکار کیا ] فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ۭ [ پھر پکڑا ان کو اللہ نے ] اِنَّهٗ قَوِيٌّ [ بیشک وہ قوی ہے ] شَدِيْدُ الْعِقَابِ [ سزا دینے کا سخت ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
کیا زمین میں چل پھر کر سابقہ امتوں کو نہیں دیکھا، وہ قوت میں بہت بڑھے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے گناہوں کی وجہ سے ان کی گرفت فرمالی
کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے تھے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ایمان لاؤ ورنہ کفر پر عذاب آجائے گا تو اس کا بھی مذاق بناتے تھے حالانکہ ایک سال میں دو مرتبہ تجارت کے لیے ملک شام جاتے تھے راستے میں ان قوموں کی تباہ شدہ عمارتوں اور کھنڈروں پر گذرتے تھے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں آیت بالا میں ان کو اسی طرف متوجہ کیا اور فرمایا کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا ؟ عاد اور ثمود کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–27
تنبیہ ووعید برائے ظالمین از کرب و اضطراب۔ روز قیامت مع تذکر ۂ قصہ موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وانذر ھم یوم الازفۃ ..... الی ..... من کل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت کے روز عذاب خداوندی دیکھ کر وہ اس کی تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور نیک کام کرلیں اب ان آیات میں ایسے منکروں اور ظالموں کو اس دن کی بےچینی اور اضطراب سے متنبہ کیا جار ہا ہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ قدیم میں گزرے ہوئے مجرمین اور سرکشوں کا انجام ہلاکت بیان کرکے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
30:۔ ” ولقد ارسلنا “ یہ تخویف دنیوی کا ایک مفصل نمونہ ہے۔ اس میں ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کی قوم کے پاس معجزات اور آیات بینات لے کر آئے، کس طرح فرعون اور اس کی قوم نے ان کو جھٹلایا، اللہ کی توحید اور اس کے حکمنامے کو نہ مانا، تو پھر کس طرح ان کو رسوا کن عذاب سے ہلاک کیا گیا۔ اس کے ضمن میں مؤمن آل فرعون کا قصہ بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس تفصیل میں ایک طرف آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ اور دوسری طرف مشرکین مکہ کے لیے جائے عبرت۔ ” ایات “ سے معجزات مراد ہیں اور ” سلطان مبین “ حجت قاہرہ جو ان معجزات سے قائم ہوئی۔ (ابو السعود، روح) ۔ ہامان، فرعون کا وزیر۔ قارون، اگرچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر تھا اور کچھ دلائل قدرت بھی بیان ہوئے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکیں اور اس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کو ادراک ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور وہاں پیش آنے والے بعض حالات کا ذکر کیا ، اور جزائے عمل کے متعلق یاد دہانی کرائی ، اب آج کے درس میں بھی زیادہ کفر وشرک کرنے والوں کا شکوہ ہی بیان کیا گیا ہے اور ان کی توجہ بعض سابقہ نافرمان اقوام کے حالات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے ۔
(سابقہ اقوام کا انجام)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اولم یسیروا فی الارض “۔ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ یہ نزول قرآن کے زمانے کے کفار ومشرکین کے متعلق…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّہُمْ كَانَتْ تَّاْتِيْہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَہُمُ اللہُ 0 ۭ اِنَّہٗ قَوِيٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ 22
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
تفسیر : منکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کرکے دنیاوی مصیبتوں کا خوف دلاتا ہے، اس لیے کہ وہ سنگدل آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ پھر وہاں کے عذاب سن کر اور بھی تمسخر کرتے تھے، اس لیے اب ان کو دنیا کی بلائوں سے ڈراتا اور اس کا کامل یقین دلاتا ہے۔ ان سے پہلوں کی ہلاکت اور ان کے آثار باقیہ کو یاد دلاکر جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھے۔ اس لیے فرماتا ہے۔ اولم یسیروا کہ کیا ان کفار قریش نے جو یمن و شام میں تجارت کے لیے آیا جایا کرتے ہیں، پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے منکروں کا کیا انجام ہوا جو ان سے زیادہ طاقتور تھے اور بڑے بڑے نشان دنیا میں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے مکانات اور نشانوں سے زیادہ ان کے نشان…
Read the full tafseer →ذٰلِکَ بِاَلَّھُمْ کَانَتْ تَّاْتِیْھِمْ رُسُلُھُمْ بِالْـبَـیِّـنٰتِ فَـکَفَرُوْا فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ ط اِنَّـہٗ قَوِیٌّ شَدِیْدُالْعِقَابِ ۔ (المؤمن : 22)
(یہ اس وجہ سے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول بینات لے کر آتے تھے اور انھوں نے ماننے سے انکار کیا، پس اللہ نے ان کو پکڑ لیا، بیشک وہ بڑی قوت والا اور سخت سزا دینے والا ہے۔ )
گزشتہ قوموں پر عذاب کا سبب
ان قوموں پر جو عذاب آیا اس آیت میں اس کا سبب بیان کیا گیا ہے کہ ان کا اصل جرم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ان قوموں کے پاس اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت لے کے آئے اور بینات کے ذریعے انھیں سمجھانے کی کوشش کی۔ بینات سے مراد وہ معجزات ہیں جو ایک طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو پوری کائنات پر کلی اختیارات حاصل ہیں۔ لیکن معبودان باطل کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اس حقیقت کو دیکھنا چاہو تو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو۔
ہلاک ہونے والی اقوام کا سب سے بڑا جرم اپنے رب کے ساتھ شرک کرنا اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کا انکار کرنا تھا۔ اپنے اپنے اعتقاد اور سوچ کے مطابق ان کا یقین تھا کہ ہمارے دیوتے، بزرگ اور اسباب ہمیں مشکل کے وقت بچا لیں گے۔ اسی طرح ہی مکہ والے اپنے بتوں کے بارے میں اعتقاد رکھتے اور اپنے وسائل پر اتراتے تھے۔ یہاں تک مکہ والوں کے اسباب اور قوت کا معاملہ ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے پہلی اقوام اسباب…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ ، یہ اس سبب سے ہوا کہ، یہ پکڑ اس سبب سے ہوئی کہ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَكَفَرُوْا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ ۭ اِنَّهٗ قَوِيٌّ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ، ان کے پاس ان کے رسول واجح دلیلیں لے کر آتے رہے پھر انہوں نے مانا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مواخذہ فرمایا بیشک وہ بڑی قوت والا سخت سزا دینے والا ہے۔ قوی، ہر چیز پر قدرت والا ہے۔ شدید العقاب کا مطلب جب وہ سزا دیتاے تو سخت دیتا ہے۔
Read the full tafseer →21، اولم یسیراوافی الارض فینظرواکیف کان عاقبۃ الذین کانوا من قبلھم کانوا ھم اشد منھم قوۃ، ابن عامر (رح) نے منکم کاف کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے۔ ، وآثارافی الارض، پس ان کو اس نے نفع نہ دیا۔ ، فاخذھم اللہ بذنوبھم وماکان لھم من اللہ من واق، جوان سے عذاب دورکرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
22۔ 28۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو عقبیٰ کے خوف کی باتوں سے ڈرایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور نیک و بد کا ذرا ذرا حساب ہوگا اور جو لوگ شرک میں گرفتار ہیں اور اپنے بتوں سے شفاعت کی توقع رکھتے ہیں ان کا خیال بالکل غلط ہے وہاں مشرکوں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا پھر یہ فرمایا تھا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے مخالفت کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے بہت لوگ ان سے پہلے ہلاک ہوچکے ہیں جن کا حال انہوں نے ملک شام و یمن کے سفر میں سنا ہوگا اور جو کچھ عمارتیں ان پچھلے لوگوں کی باقی رہ گئی ہیں ان کے دیکھنے سے ان کو معلوم…
Read the full tafseer →آیت 22
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (اولم یسیروا فی الارض) ” کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ “ یعنی انہوں نے اپنے قلوب و ابدان کے ساتھ، گزشتہ قوموں کے آثار میں غور و فکر کرنے اور ان سے عبرت حاصل کرنے کے لئے چل پھر کر نہیں دیکھا ؟ (آیت) ” تاکہ وہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا ؟ “ یعنی جو ان سے پہلے انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے تھے۔ وہ دیکھیں گے کہ ان کا بدترین انجام ہو اور وہ تباہ و برباد کردیئے گئے اور انہیں فضیحت اور رسوائی کا اسمنا کرنا پڑا، حالانکہ (کانوا) وہ ان لوگوں سے زیادہ طاقتور تھے، یعنی وہ تعداد، اسز و اسمان اور جسمانی طور پر بہت طاقتور تھے۔ (و) ” اور…
Read the full tafseer →50 انکار و تکذیبِ حق کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے ان لوگوں کی ہلاکت و تباہی کے سبب کو واضح فرما دیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ حق کا انکار کرنا اور اسے تسلیم نہ کرنا خرابی کی اصل جڑ اور بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور انکار حق کے اس جرم کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ ایسے لوگوں کو ڈھیل اور مہلت جتنی ملے ان کا آخری انجام بہرحال دائمی ہلاکت اور تباہی ہے۔ یہی اللہ پاک کے قانون عدل و انصاف کا تقاضا ہے اور یہی تاریخ کی گواہی اور شہادت ہے ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–22
کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت
تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
رکوع نمبر 3: آیات 21 تا 27
اسرار و معارف :
یہ لوگ تو روئے زمین پر سفر کرنے والے ہیں انہوں نے یقینا پہلی اقوام کے آثار دیکھے ہوں گے جو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا جنہوں نے ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ کس طرح تباہ ہوئے حالانکہ وہ ان لوگوں کی نسبت بہت زیادہ طاقتور تھے یہ بات ان کے چھوڑے ہوئے قلعوں اور آثار سے بھی ظاہر ہے مگر ان کی قوت و شوکت کسی کام نہ آئی اللہ کے عذاب نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب آپکڑا تو انہیں کوئی ایسا آسرا نہ مل سکا جو ان سے دوستی کا دم بھرتا اور انہیں تباہی سے بچا لیتا ان پر بھی عذاب اسی وجہ سے آئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول اللہ کی طرف سے دلائل لے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 1” بنیات “ کا لفظ عام ہے۔ اس سے مراد معجزے بھی ہوسکتے ہیں، روشن دلیلیں بھی اور واضح ہدایات وتعلیمات بھی
Read the full tafseer →(40:22) ذلک یہ پکڑیا گرفت۔ فاخذھم کی طرف اشارہ ہے۔ بانھم ۔۔ میں باء سببیہ ہے۔
کانت تاتیہم : کانت تاتی ماضی استمراری ہم ضمیر جمو مذکر غائب ان کے پاس آیا کرتے تھے (واحد مؤنث غائب کا صیغہ رسل کے لئے استعمال ہوا ہے۔
البینت۔ مراد معجزات اور وہ احکام جن کی صحت اور افادیت کھلی ہوئی تھی ! روشن دلیلیں۔ بینۃ واحد۔
فاخذھم میںتعقیب کا ہے اور سببیہ بھی ہوسکتی ہے اخذ میں ضمیر فاعل اللہ کے لئے ہے سو اللہ نے ان کو بسبب ان کے انکار (کفر) کے ان کو دھر پکڑا۔
شدید العقاب : پاداش میں سخت عذاب دینے والا۔ مضاف مضاف الیہ (نیز ملاحظہ ہو 40:3) متذکرہ بالا۔
عذاب اور عقاب اگرچہ ہم معنی ہیں لیکن عقاب اس سزا کو کہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 27 : لم یسیروا ( وہ چلتے پھرتے نہیں) عاقبۃ (انجام) اثارا (نشانات، کھنڈرات) واق ( وقی) بچانے والا) ضلل ( گمراہی) ذو ونی (مجھے چھوڑو ( میری بات چھوڑو) عذت ( میں نے پناہ حاصل کرلی)
تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 : دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں بہت سی قومیں ابھریں۔ ان کی تہذیب ان کا تمدن ساری دنیا پر چھا گیا ۔ ان کی تجارت مال و دولت کی کثرت ، بلند وبالا عمارتیں اور قلعے اس کثرت سے تھے کہ ان پر ناز کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھنا شروع کردیا ۔ غرور وتکبر کے ساتھ ساتھ انہوں نے کفر و شرک کی انتہاء کردی ۔ ان کی نا فرمانیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
(ف 1) ان آیتوں میں یہ جتلایا کہ ان پچھلے لوگوں کا طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہونا فقط اللہ کے رسولوں کی مخالفت کے سبب سے تھا اور ان پچھلے لوگوں میں سب سے آخر فرعون کی قوم جو ہلاک ہوئی تھی اس کا قصہ بھی مثال کے طور پر ذکر فرمایا دیا، یہ اوپر گذرچکا ہے کہ پچھلے زمانہ کی تاریخی بات کو دیاد دلا کر مشابہت کے طور موجود زمانہ کی بات کے انجام کو ذہن نشین کرنا، اس مطلب کے ثابت کرنے کے لیے ایک بڑاعمدہ طریقہ ہے اسی مطلب کے لیے قرآن شریف میں جگہ جگہ پچھلے لوگوں کے قصے ذکر فرمائے گئے اگرچہ قارون بنی اسرائیل میں سے تھا لیکن تورات کے زکوۃ کے حکم پر موسیٰ کی نبوت کا منکر ہوکرانکو جادوگر کہنے لگا کہ فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[8] آیات سے مراد وہ احکام و ہدایات ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس لے کر گئے تھے۔
[9] اس سے اشارہ یہاں معجزہ عصائے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ہے جس کی نوعیت اللہ کی طرف سے سند کی تھی تاکہ فرعون اور اس کے سرداروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ کا سفیر ہونے کے باب میں کسی شک کی گنجائش نہ رہے۔
Read the full tafseer →زمین میں چل پھر کر دیکھو
2: خدا کی سنت اقوام وملل کے متعلق یہ رہی ہے ۔ کہ جب ان کے پاس اس کے رسول دلائل و شواہد لے کر آئے ہیں ۔ اور انہوں نے انہیں اسختصار سے ٹھکرادیا ہے ۔ تو اس کی غیرت جوش میں آئی ہے ۔ اور ان کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ اور پھر کسی قسم کی رعایت کو محلوظ نہیں رکھا گیا اس لئے قریش مکہ کو بتلایا ہے ۔ کہ تم قوت اور دولت پر ناز نہ کرو ۔ تم سے پہلے بھی اس معمورہ ارضی پر قومیں آباد ہوچکی ہیں ۔ اور وہ تم سے قوت اور اقتدار میں کہیں زیادہ تھیں ۔ مگر جب انہوں نے نافرمانی کی اور اللہ کے حکموں کو ٹھکرایا ۔ تو پھر ان کو اس طرح فنا کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ کہ آج صرف عبرت وتذکیر کے لئے ۔ چند…
Read the full tafseer →(22) یہ گرفت اور مواخذہ اس سبب سے ہوا کہ ان کے پیغمبران کے پاس واضح دلائل اور کھلے نشان لے کر آگئے مگر وہ کفر اور انکار ہی کرتے رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑالیا بلا شبہ وہ بڑی قوت والا سخت عذاب کرنے والا ہے۔ یعنی ان کے پاس بھی رسول آئے تھے اور دلائل پیش کئے گئے تھے مگر وہ اپنے کفر پر قائم رہے آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑا کیونکہ بڑی قوی اور سخت عذاب کرنے والا ہے اسی مناسبت سے آگے فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 4۔ یعنی معجزات کہ دلائل نبوت ہیں۔
5۔ پس جب علت مواخذہ کی کفر و شرک ہے جو ان میں بھی مشترک ہے، پھر یہ مواخذہ سے کیسے مامون ہیں، خواہ دارین میں خواہ دار آخرت میں۔
Read the full tafseer →گزشتہ قوموں کو کیوں ہلاک کیا گیا ؟ اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا
22۔ گزشتہ قوموں کی ہلاکت کا ذکر کر کے اب ان کے کھنڈرات دیکھنے والوں سے پوچھا جار ہا ہے کہ وہ لوگ جن کی بستیوں اور آبادیوں کے یہ کھنڈرات تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو ان کو آخر کیوں ہلاک کیا گیا ؟ کیا ان کے ساتھ اللہ رب کریم کو کوئی خاص بیر تھا ؟ فرمایا نہٰں اور ہرگز نہیں بلکہ ان کی ہلاکت کا سبب یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی طرف اپنے رسول مبعوث کیے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کا پیغام ہدایت ان تک پہنچایا لیکن ان لوگوں نے بگوش ہوش اس کو نہ سنا اور جو کچھ سنا وہ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا اور ان کی ہی سنی کو ان سنی کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
Commentary
Frequent references were made earlier in the text to the warnings given to deniers of pure monotheism and prophethood which brought more opposition and hostility from disbelievers. Naturally, this situation made the Holy Prophet ﷺ sad. It was to comfort him that, in nearly two sections cited above, mentioned there is the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Pharaoh. In this story, there is a lengthy dialogue between the Pharaoh, his people and a righteous elder who, despite being a scion of the House of the Pharaoh, had believed in the faith of Sayyidna Musa (علیہ السلام) after…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
34 Bayyinat means three things: (1) The clear signs which pointed to the Messengers' being appointed by Allah; (2) the convincing arguments which were a clear proof of their teachings being based on the Truth; and (3) the clear guidance and instructions about the problems and affairs of life which could enable every reasonable person to see that such pure teachings could not be given by an impostor.
Read the full tafseer →