Explained with ayahs 21–22
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ کیا تیری رسالت کے جھٹلانے والے کفار نے اپنے سے پہلے کے رسولوں کو جھٹلانے والے کفار کی حالتوں کا معائنہ ادھر ادھر چل پھر کر نہیں کیا جو ان سے زیادہ قوی طاقتور اور جثہ دار تھے۔ جن کے مکانات اور عالیشان عمارتوں کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔ جو ان سے زیادہ باتمکنت تھے۔ ان سے بڑی عمروں والے تھے، جب ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے عذاب الٰہی ان پر آیا۔ تو نہ تو کوئی اسے ہٹا سکا نہ کسی میں مقابلہ کی طاقت پائی گئی نہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نکلی، اللہ کا غضب ان پر برس پڑنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلیلیں اور صاف روشن حجتیں لے کر آئے باوجود اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
سورة الْمُؤْمِن 34
مبیّنات سے مراد تین چیزیں ہیں۔ ایک، ایسی نمایاں علامات اور نشانیاں جو ان کے مامور من اللہ ہونے پر شاہد تھیں۔ دوسرے، ایسی روشن دلیلیں جو ان کی پیش کردہ تعلیم کے حق ہونے کا ثبوت دے رہی تھیں۔ تیسرے، زندگی کے مسائل و معاملات کے متعلق ایسی واضح ہدایات جنہیں دیکھ کر ہر معقول آدمی یہ جان سکتا تھا کہ ایسی پاکیزہ تعلیم کوئی جھوٹا خود غرض آدمی نہیں دے سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ۔ (یعنی الاعین الخائنة) خیانت نظر سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں سے چرا کر ایسی چیز پر نظر ڈالے جو اس کے لئے حرام اور ناجائز ہو، جیسے کسی غیر محرم پر شہوت سے نظر کرے، اور جب کسی کو دیکھے تو نظر ہٹا لے یا اس طرح نظر ڈالے کہ جس کو دیکھنے والے محسوس نہ کریں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب چیزیں ظاہر ہیں۔
Read the full tafseer →قریش کو صاف الفاظ میں تہدید
یہ قریش کو صاف الفاظ میں تہدید ہے کہ اس جسارت کے ساتھ رسول کے انذار کی جو وہ تکذیب کر رہے ہیں تو کیا کبھی اس ملک کی سیاحت انہوں نے اس قصد سے نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے ان قوموں کا کیا حشر ہوچکا ہے جو اپنی قوت و جمعیت میں ان سے بڑھ کر اور تعمیر و تمدن کے آثار کے اعتبار سے ان پر کہیں فوقیت رکھنے والی تھیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کے جرموں کی پاداش میں ان کو پکڑا تو نہ ان کی قوت و جمعیت ان کے کچھ کام آسکی، نہ ان کی تعمیری و تمدنی ترقیاں آڑے آسکیں اور نہ ان کے وہ اقسام و الٰہہ ہی ان کی حفاظت کرسکے جن کو وہ اپنا حامی و ناصر سمجھتے تھے۔ یہ اشارہ عاد وثمود اور اہل…
Read the full tafseer →21۔ 1 گزشنہ آیات میں احوال آخرت کا بیان تھا اب دنیا کے احوال سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ ذرا زمین میں چل پھر کر ان قوموں کا انجام دیکھیں جو ان سے پہلے اس جرم تکذیب میں ہلاک کی گئیں جس کا ارتکاب یہ کر رہے ہیں دراں حالیکہ گزشتہ قومیں قوت و آثار میں ان سے کہیں بڑھ کر تھیں لیکن جب ان پر اللہ کا عذاب آیا تو انہیں کوئی نہیں بجا سکا اسی طرح تم پر بھی عذاب آسکتا ہے اور اگر آگیا تو پھر کوئی تمہارا پشت پناہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
درس نمبر 224 ایک نظر میں
اس سے قبل ہم اس سبق پر اجمالی تبصرہ کر آئے ہیں ۔ تفصیلی تشریح سے قبل یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ یہاں یہ قصہ سورت کے موضوع کی مناسبت سے لایا گیا ہے۔ اور اس سورت کے انداز بیان کے ساتھ ہم آہنگ کرکے لایا گیا ہے ، بلکہ بعض اسی سورت کے فقروں ہی کو استعمال کیا گیا ہے۔ اور ایک ہی انداز بیان اختیار کیا ہے۔ مثلاً رجل مومن فرعون کے سامنے جو تقریر کرتا ہے ، اس کے بعض فقرے اس سے قبل اسی سورت میں موجود ہیں۔ وہ فرعون ، ہامان اور قارون کو نصیحت کرتا ہے کہ تم لوگ زمین میں چلت پھرت رکھتے ہو ، نیز ان کو وہ ایک ایسے دن سے ڈراتا ہے جو دوسری اقوام کو پیش آیا۔ اور وہ ان کو قیامت کے دن سے بھی…
Read the full tafseer →4 یعنی بڑے مضبوط قلعے، عالی شان عمارتیں اور مختلف قسم کی یاد گاریں۔5 یعنی جب دنیا کے عذاب سے کوئی نہ بچا سکا، آخرت میں کون بچائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 21 { اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ کَانُوْا مِنْ قَبْلِہِمْ } ”کیا یہ زمین میں گھومے پھرے نہیں ہیں کہ دیکھتے کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے !“
{ کَانُوْا ہُمْ اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ } ”وہ کہیں زیادہ بڑھ کر تھے ان سے قوت میں اور زمین میں آثار کے حوالے سے بھی ‘ ‘
انہوں نے زمین میں بڑی بڑی عمارتیں اور بہت سی دوسری ایسی یادگاریں بنائیں جو ان کے بعد بھی ان کی نشانیوں کے طور پر موجود رہی ہیں۔ اقوامِ ماضی کے ایسے بہت سے آثار آج بھی دنیا میں جا بجا موجود ہیں جنہیں ہم آثار قدیمہ کہتے ہیں۔
{ فَاَخَذَہُمُ…
Read the full tafseer →29 اپنی یادگار چھوڑنے کا شوق :۔ اپنی یادگار چھوڑنے کا شوق اس آدمی کو ہوتا ہے جو اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھتا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ اس معاملہ میں بھی ہر شخص کا ذوق الگ الگ ہے۔ ان لوگوں نے ایسی یادگاریں چھوڑیں جو ان کی شان وشوکت پر دلالت کرتی تھیں۔ پھر جب اللہ کا عذاب آیا تو نہ شان و شوکت ان کے کسی کام آئی اور نہ چھوڑی ہوئی یادگاریں۔ پھر جب دنیا میں انہیں کوئی چیز اللہ کے عذاب سے بچا نہ سکی تو آخرت میں انہیں کون بچا سکے گا۔
Read the full tafseer →21۔ یہ تاریخ اور اثریات کے مطالعہ کے لیے اپیل ہے کہ ان فنون سے مدد لے کردیکھو اور بڑی بڑی پر قوت سرکش قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کرو۔ (آیت) ” اثارا فی الارض “۔ مثلا محل، قلعہ، باغ وغیرہا۔ (آیت) ’ ’ الذین ...... الارض۔ اشارہ ان قبل اسلام کی متمدن وسربرآوردہ جاہلی قوموں کی جانب ہے جن کی ترقی تہذیب و تمدن کے نشان اب بھی کھنڈروں کی صورت میں موجود ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
آیت نمبر 21 تا 27
ترجمہ : کیا یہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ؟ کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا کیسا کچھ انجام ہوا وہ باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے، ان سے بہت بڑھے ہوئے تھے اور وہ یادگاریں پانی کے بڑے بڑے حوض اور محلات تھے، اور ایک قرآءت میں مِنْھُمْ کی بجائے مِنْکُمْ ہے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا (ہلاک کردیا) اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچالیتا، یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے معجزے لیکر آتے تھے تو وہ انکار کردیتے تھے سو اللہ نے ان کو گرفت میں لے لیا، یقیناً وہ طاقتور اور سخت عذاب والا ہے اور ہم نے موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →اولم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین کانوا من قبلھم کانوا ھم اشد
منھم قوۃ واثار فی الارض فاخذھم اللہ بذنوبھم وما کان لھم من اللہ من واق کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہو گذرے ‘ ان کا کیسا انجام ہوا ؟ وہ لوگ قوت اور ان نشانات میں جو زمین پر چھوڑ گئے ‘ ان سے بہت زیادہ تھے ‘ بالآخر اللہ نے ان کے جرائم کی وجہ سے ان کو دھر پکڑا اور اللہ (کے عذاب) سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہوا۔
اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا کا علف محذ وف فعل پر ہے ‘ یعنی کیا یہ لوگ کفر کے برے انجام کے منکر ہیں اور کیا انہوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا ؟
کَانُوْا مِنْ قَبْلِھِمْ…
Read the full tafseer →کیا ان کفار مکہ نے زمین میں چل پھر کر غور نہیں کیا کہ ان سے پہلے کافروں کا کیا حشر ہوا جو قوت میں بھی ان سے بڑھ کر اور تلاش و نشانات میں بھی زائد تھے ان کے انبیاء کرام کی تکذیب کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کا مواخذہ فرمایا اور کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہ ہوا۔
Read the full tafseer →(1) اولم یسیروا فی الارض … گزشتہ آیات میں کفار کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے، اب دنیا میں آنے والے عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے کہ کی ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر ان قوموں کا انجام نہیں دیکھا جو ان سے پہلے انبیاء کو جٹھلانے کے جرم میں ہلاک کی گئیں ؟
(2) کانوا ھم اشد منھم قوۃ و اثاراً فی الارض …اس کی مفصل تفسیر کے لئے دیکھیے سورة روم کی آیت (9) کی تفسیر۔
(3) وما کان لھم من اللہ من واق :”واق“ اصل میں ”واقی“ ہے، جو ”وقی یقی وقایۃ“ (ض) سے اسم فاعل ہے، بچانے والا۔ یعنی ان سے زیادہ قوت و آثار والی اقوام پر ان کے گناہوں کی وجہ سے جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی تو انہیں اللہ تعالیٰ سے بچانے والا کوئی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
(وانذرھم یوم الازقۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
یوم الازقۃ سے مراد یوم قیامت ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا کیونکہ وہ قریب ہے کیونکہ ہر وہ امر جو وقوع پذیر ہونے والا ہو وہ قریب ہی ہوا کرتا ہے ازف فلان، یعنی فلاں قریب ہوا اس کا مضارع یازف ازفا کے وزن پر آت ہے۔ نابغہ نے کہا :
ازف الترحل غیر ان رکابنا لما نزل برحالناوکان قد
اس میں ازف کے لفظ کا قریب معنی ہے یعنی ہمارے کوچ کا وقت قریب آگیا ہے اس آیت کی مثل ازفت الازقۃ۔ ( النجم) ہے یعنی قیامت قریب آگئی ہے، ایک شاعر کہتا ہے :
ازف الرحیل ولیس لی من زاد غیر الذنون لشقوتی ونکادی
کوچ کا وقت قریب آگیا میرے لیے میرے گناہوں کے سوا کوئی زاد نہیں یہ میری بد بختی اور محرومی کا باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما کان لھم من اللہ من واق “ (اور اللہ کے عذاب سے کوئی ان کو بچانے والا نہ ہو) یعنی کوئی بچانے والا نہیں جو ان کو عذاب سے بچائے اور ان کو نفع دے۔
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا [ اور کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَيَنْظُرُوْا [ نتیجتا وہ دیکھتے ] كَيْفَ كَانَ [ کیسا تھا ] [عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ : ان لوگوں کا انجام جو ] كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ تھے ان سے پہلے ] كَانُوْا هُمْ [ وہ لوگ تھے ] اَشَدَّ مِنْهُمْ [ ان لوگوں سے زیادہ شدید ] قُوَّةً [ بلحاظ قوت کے ] وَّاٰثَارًا [ اور بلحاظ نشانات (چھوڑنے ) کے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ [ پھر پکڑا ان کو اللہ نے ] بِذُنُوْبِهِمْ ۭ [ بسبب ان کے گناہوں کے ] وَمَا كَانَ لَهُمْ [ اور نہیں ہے ان کے لئے ] مِّنَ اللّٰهِ [ اللہ سے (ان کو ) ] مِنْ وَّاقٍ [ کوئی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
کیا زمین میں چل پھر کر سابقہ امتوں کو نہیں دیکھا، وہ قوت میں بہت بڑھے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے گناہوں کی وجہ سے ان کی گرفت فرمالی
کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے تھے جب یہ کہا جاتا تھا کہ ایمان لاؤ ورنہ کفر پر عذاب آجائے گا تو اس کا بھی مذاق بناتے تھے حالانکہ ایک سال میں دو مرتبہ تجارت کے لیے ملک شام جاتے تھے راستے میں ان قوموں کی تباہ شدہ عمارتوں اور کھنڈروں پر گذرتے تھے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک ہوئیں آیت بالا میں ان کو اسی طرف متوجہ کیا اور فرمایا کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا ؟ عاد اور ثمود کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–27
تنبیہ ووعید برائے ظالمین از کرب و اضطراب۔ روز قیامت مع تذکر ۂ قصہ موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وانذر ھم یوم الازفۃ ..... الی ..... من کل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت کے روز عذاب خداوندی دیکھ کر وہ اس کی تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور نیک کام کرلیں اب ان آیات میں ایسے منکروں اور ظالموں کو اس دن کی بےچینی اور اضطراب سے متنبہ کیا جار ہا ہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ قدیم میں گزرے ہوئے مجرمین اور سرکشوں کا انجام ہلاکت بیان کرکے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ…
Read the full tafseer →29:۔ ” ذلک بانہم “ یہ ماقبل کی تفصیلی علت ہے، دنیا ہی میں اللہ نے ان کو اس لیے پکڑ لیا کہ ان کے پاس اللہ کے رسول واضح احکام اور کھلی دلیلیں لے کر آئے، تو انہوں نے انکار کردیا اور ایک نہ سنی۔ وہ بڑی طاقت والا اور سخت عذاب والا ہے، وہ جس کو چاہے پکرے لے اور کوئی اس کی گرفت سے نہ چھڑا سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر تھا اور کچھ دلائل قدرت بھی بیان ہوئے تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکیں اور اس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کو ادراک ہو ، پھر اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور وہاں پیش آنے والے بعض حالات کا ذکر کیا ، اور جزائے عمل کے متعلق یاد دہانی کرائی ، اب آج کے درس میں بھی زیادہ کفر وشرک کرنے والوں کا شکوہ ہی بیان کیا گیا ہے اور ان کی توجہ بعض سابقہ نافرمان اقوام کے حالات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے ۔
(سابقہ اقوام کا انجام)
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اولم یسیروا فی الارض “۔ کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہیں ؟ یہ نزول قرآن کے زمانے کے کفار ومشرکین کے متعلق…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِيْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِہِمْ 0 ۭ كَانُوْا ہُمْ اَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِي الْاَرْضِ فَاَخَذَہُمُ اللہُ بِذُنُوْبِہِمْ 0 ۭ وَمَا كَانَ لَہُمْ مِّنَ اللہِ مِنْ وَّاقٍ 21
سير
السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير
( س ی ر ) السیر
( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
تفسیر : منکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کرکے دنیاوی مصیبتوں کا خوف دلاتا ہے، اس لیے کہ وہ سنگدل آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ پھر وہاں کے عذاب سن کر اور بھی تمسخر کرتے تھے، اس لیے اب ان کو دنیا کی بلائوں سے ڈراتا اور اس کا کامل یقین دلاتا ہے۔ ان سے پہلوں کی ہلاکت اور ان کے آثار باقیہ کو یاد دلاکر جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھے۔ اس لیے فرماتا ہے۔ اولم یسیروا کہ کیا ان کفار قریش نے جو یمن و شام میں تجارت کے لیے آیا جایا کرتے ہیں، پھر کر نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے منکروں کا کیا انجام ہوا جو ان سے زیادہ طاقتور تھے اور بڑے بڑے نشان دنیا میں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے مکانات اور نشانوں سے زیادہ ان کے نشان…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانْ عَاقـِبَۃُ الَّذِیْنَ کَانُوْا مِنْ قَبْلِہِمْ ط کَانُوْا ھُمْ اَشَدَّ مِنْھُمْ قُوَّۃً وَّاٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَاَخَذَھُمُ اللّٰہُ بِذُنُوْبِہِمْ ط وَمَا کَانَ لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ ۔ (المؤمن : 21)
(کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ وہ دیکھیں کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں، وہ ان سے زیادہ تھے قوت میں، اور ان آثار کے اعتبار سے جو وہ زمین میں چھوڑ گئے، پس اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انھیں پکڑ لیا، اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔ )
قریش کو سخت تنبیہ
آنحضرت ﷺ کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کو پوری کائنات پر کلی اختیارات حاصل ہیں۔ لیکن معبودان باطل کو کسی قسم کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اس حقیقت کو دیکھنا چاہو تو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو۔
ہلاک ہونے والی اقوام کا سب سے بڑا جرم اپنے رب کے ساتھ شرک کرنا اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تعلیمات کا انکار کرنا تھا۔ اپنے اپنے اعتقاد اور سوچ کے مطابق ان کا یقین تھا کہ ہمارے دیوتے، بزرگ اور اسباب ہمیں مشکل کے وقت بچا لیں گے۔ اسی طرح ہی مکہ والے اپنے بتوں کے بارے میں اعتقاد رکھتے اور اپنے وسائل پر اتراتے تھے۔ یہاں تک مکہ والوں کے اسباب اور قوت کا معاملہ ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے پہلی اقوام اسباب…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ كَانُوْا مِنْ قَبْلِهِمْ (کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ جو لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں، ان کا کیا انجام ہوا) ۔ یعنی جنہوں نے ان سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا ان کا انجام کار کیا ہوا۔ۭ كَانُوْا هُمْ اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً (وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے)
نحو : ھم ضمیر فصل ہے اور حق تو یہ ہے کہ دو معرفوں کے درمیان لائی جائے۔ البتہ یہاں اشد منہم یہ معرفہ کے مشابہ ہوگیا کیونکہ اس پر الف لام داخل نہیں ہوسکتا۔ پس اس کے قائم مقام شمار کرلیا۔
قراءت، شامی نے منکم پڑھا۔ دیگر نے منہم۔
وَّاٰثَارًا فِي الْاَرْضِ ،…
Read the full tafseer →20، واللہ یقضی بالحق والذین ید عون من دونہ، یعنی بتوں کی۔ ، لایقضون بشی، اس لیے کہ نہ وہ کچھ جانتے ہیں اور نہ کسی چیز پر قادر ہیں۔ نافع (رح) اور ابن عمر ؓ نے، تدعون ، تاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ، ان اللہ ھوالسمیع البصیر،
Read the full tafseer →21۔ اوپر کھیتی کی مثال سے قریش کو حشر کا یقین ہونا اس لئے سمجھایا گیا تھا کہ جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے اور عمر بھر کے حساب اور کتاب کا خوف ہوگا وہ اللہ کے رسول کے جھٹلانے اور نافرمانی کی باتوں کی کبھی جرأت نہ کرے گا اب قریش کو یہ بات یاد دلائی کہ ملک شام اور ملک یمن کے سفر میں ان لوگوں کو پچھلی ان قوموں کی اجڑی ہوئی بستیاں نظر نہیں آتیں جو لوگ ان سے قوت اور ثروت میں ہر طرح بڑھ کر تھے لیکن نافرمانی کے جرم میں جب پکڑے گئے تو وہ ان کی قوت اور ثروت کچھ کام نہ آئی اور بہت سے اپنی ثروت کی نشانیاں چھوڑ کر آخر ہلاک ہوگئے۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے مغیرہ بن شعبہ کی حدیث گزر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
آیت 18
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (وانذرھم یوم الازفۃ) ” اے نبی ! ) انہیں (قریب) آ پہنچنے والے دن سے ڈرائیے “ یعنی انہیں قیامت کے دن سے ڈرائیے جو بہت قریب ہے، اس کے احوال اور اس کے زلزلوں کے پہنچنے کا وقت ہوگیا ہے (اذا القلوب لدی الحناجر) ” جب کہ دل گلوں تک آرہے ہوں گے۔ “ یعنی ان کے دل ہوا ہوجائیں گے۔ خوف اور کرب سے دل گلے میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں اوپر کی جانب اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی (کظمین) وہ کلام نہیں کرسکیں گے سوائے اس شخص کے، جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ درست بات کہے گا۔ وہ دلوں میں چھپے ہوئے خوف اور دہشت کو زبان پر نہیں لائیں گے۔ (وما للظلمین من حبیم) اور ظالموں…
Read the full tafseer →48 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے گزشتہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ معلوم ہوا کہ آثار قدیمہ کو عبرت پذیری کے نقطہ نظر سے دیکھنا اور اس سے سبق لینا ایک امر مطلوب و محمود ہے۔ مگر افسوس کہ اقوام غیر کی تقلید و پیروی میں آج مسلمان بھی آثار قدیمہ کی حفاظت کے لئے لاکھوں کروڑوں کے خرچے کرنے کے باوجود عبرت پذیری اور نصیحت گیری کے اصل گوہر مقصود سے غافل و بیخبر ہیں۔ وہ ایسے مقامات پر جاتے ہیں تو بھی عیاشی، فوٹو گرافی اور پکنک وغیرہ کے لئے۔ یعنی ہدایت اور عبرت پذیری کی بجائے وہ الٹا اپنی غفلت میں ہی اضافہ کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–22
کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت
تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
رکوع نمبر 3: آیات 21 تا 27
اسرار و معارف :
یہ لوگ تو روئے زمین پر سفر کرنے والے ہیں انہوں نے یقینا پہلی اقوام کے آثار دیکھے ہوں گے جو یہ بتا رہے ہیں کہ ان کا انجام کیا ہوا جنہوں نے ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کی تھی وہ کس طرح تباہ ہوئے حالانکہ وہ ان لوگوں کی نسبت بہت زیادہ طاقتور تھے یہ بات ان کے چھوڑے ہوئے قلعوں اور آثار سے بھی ظاہر ہے مگر ان کی قوت و شوکت کسی کام نہ آئی اللہ کے عذاب نے انہیں ان کے گناہوں کے سبب آپکڑا تو انہیں کوئی ایسا آسرا نہ مل سکا جو ان سے دوستی کا دم بھرتا اور انہیں تباہی سے بچا لیتا ان پر بھی عذاب اسی وجہ سے آئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول اللہ کی طرف سے دلائل لے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 1” بنیات “ کا لفظ عام ہے۔ اس سے مراد معجزے بھی ہوسکتے ہیں، روشن دلیلیں بھی اور واضح ہدایات وتعلیمات بھی
Read the full tafseer →(40:21) اولم یسیروا فی الارض فینظروا ۔۔ ہمزہ استفہامیہ ہے واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف فعل محذوف پر ہے (کیا یہ لوگ کفر کے برے انجام سے منکر ہیں) ۔ لم یسیروا مضارع نفی جحد بلم جمع مذکر غائب کا صیغہ : کیا وہ نہیں چلے پھرے (زمین میں)عطف و تعقیب کے لئے ہے۔ ینظروا اور کیا انہوں نے نہیں دیکھا۔ یسیروا و ینظروا میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کفار قریش مکہ کی طرف راجع ہے۔
کانواہم اشد منھم قوۃ واثارا فی الارض۔
کانواھم۔ ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع گزشتہ امتیں ہیں۔ الذین کانوا من قبلہم۔ جو کفار مکہ سے پہلے گزری ہیں اشد شدۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے سخت تر، مضبوط تر، قوی تر، منھم میں ضمیر ہم کا مرجع کفار مکہ ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–27
لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 27 : لم یسیروا ( وہ چلتے پھرتے نہیں) عاقبۃ (انجام) اثارا (نشانات، کھنڈرات) واق ( وقی) بچانے والا) ضلل ( گمراہی) ذو ونی (مجھے چھوڑو ( میری بات چھوڑو) عذت ( میں نے پناہ حاصل کرلی)
تشریح : آیت نمبر 21 تا 27 : دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں بہت سی قومیں ابھریں۔ ان کی تہذیب ان کا تمدن ساری دنیا پر چھا گیا ۔ ان کی تجارت مال و دولت کی کثرت ، بلند وبالا عمارتیں اور قلعے اس کثرت سے تھے کہ ان پر ناز کرتے ہوئے انہوں نے اپنے علاوہ سب کو حقیر سمجھنا شروع کردیا ۔ غرور وتکبر کے ساتھ ساتھ انہوں نے کفر و شرک کی انتہاء کردی ۔ ان کی نا فرمانیوں کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے…
Read the full tafseer →نافرمانوں کا ذکر۔
(ف 1) کیا ان کفار نے خدا کے ملک خدا کی زمین میں گشت نہیں کیا کہ کارخانہ ہائے قدرت دیکھ کر عبرت پکڑتے اور دیکھتے کہ اگلے کافروں کا کیا انجام ہواجوان سے کہیں زائد قوی تھے ان سے ہزاروں درجے ان کی یادگاریں زمین میں اب تک موجود ہیں، قلعہ مکانات وغیرہ انہوں نے کفر کیا خدا نے ان کو پکڑ لیا سزا دی اور خدا کے عذاب سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ملا کہ عذاب الٰہی سے بچاسکتا ہے، غافل کا کام ہے کہ دوسرے کے حال سے عبرت حاصل کرے، اس عہد کے کفار یہ حالات دیکھ کر کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے کیوں نہیں سوچتے کہ پچھلی قومیں ان سے زیادہ قوی و توانا، اور صاحب ثروت واقتدار ہونے کے باوجود اس عبرت ناک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[8] آیات سے مراد وہ احکام و ہدایات ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس لے کر گئے تھے۔
[9] اس سے اشارہ یہاں معجزہ عصائے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ہے جس کی نوعیت اللہ کی طرف سے سند کی تھی تاکہ فرعون اور اس کے سرداروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ کا سفیر ہونے کے باب میں کسی شک کی گنجائش نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ف 1: قابل غور چیز یہ ہے ۔ کہ کیونکر انسان ان پتھروں اور زید و روح کے لاشوں کو خدا سمجھ لیتا ہے ۔ اور کس طرح ان کی عبادت میں اسکو روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ حالانکہ نہ یہ اس کی باتوں کو سن سکیں اور نہ ان کے نعمتہائے عقیدت سے واقفیت حاصل کرسکیں ۔ جو خدا ہماری آواز کو نہیں سنتا ۔ اور ہمارے دلی جذبات کو نہیں جانتا ۔ وہ کیونکر خدا ہوسکتا ہے ؟ ہم تو فطرتاً ایسا خدا چاہتے ہیں ۔ جو غموں اور مصیبتوں میں بغیر نالہ وفریاد اور شیون وبکا کے ہماری دستگیری کرے ۔ اور ہمیں روحانی تسکین عطا کرے ۔ جو براہ راست ہمارے کلیجے کے داغہائے الم کو دیکھتا ہو ۔ اور ہماری پردرد آواز کو سنتا ہو ۔ اور کیوں یہ فرض کرلیتے…
Read the full tafseer →(21) کیا ان لوگوں نے ملک میں چل پھر کر نہیں دیکھا کہ ان لوگوں کا انجام جو ان سے پہلے ہوگزرے ہیں کیسا ہوا حالانکہ وہ ان موجودہ کفار سے قوۃ وزور کے اعتبار سے ان یادگاروں کے اعتبار سے جو وہ زمین پر چھوڑ گئے ہیں بہت زیادہ تھے پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پکڑلیا اور نہ ہوا ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی بچانے والا۔ یعنی ان موجودہ کافروں اور دین حق کے منکروں سے پہلے کے کافر قوت و طاقت اور عمارات ، محل و قصور وغیرہ کی تعمیر کرنے میں بہت زیادہ تھے جیسا کہ ان کے قلعے اور ان کے بڑے بڑے مکان وآثار سے ان کی قوت و طاقت اور ان کی صنعت و کاریگری کا پتہ چلتا ہے تو کیا زمین پر چل پھر کر ان…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی عذاب نازل کیا۔
Read the full tafseer →کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں اور لوگوں کے انجام سے بھی واقف نہیں ؟
21۔ زیر نظر آیت میں نبی کریم ﷺ کے مخالفین اور معاندین کو مخاطب کیا جارہا ہے اور ظاہر ہے کہ اول مخاطبین آُ کے قبیلہ کے لوگ تھے ان سے استفسار کیا جارہا ہے کہ تم تو تاجر لوگ ہو اور جن راستوں سے چل کر تم تجارت کی غرض سے جاتے ہو وہ راستے پہلی قوموں کی تباہی و بربادی کی حالت کو ظاہر کر رہے ہیں اور بول بول کر کہہ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے نبیوں اور رسولوں کی مخالفت کی ہے ان کے ساتھ کیا کیا گیا ہے ، ان کا انجام دیکھنے کے لیے ان کی آبادیوں کے کھنڈرات سب کچھ بیان کر رہے ہیں حالانکہ وہ لوگ ان سے زیادہ کرو فر اور زیادہ طاقت وقوت اور شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
Commentary
Frequent references were made earlier in the text to the warnings given to deniers of pure monotheism and prophethood which brought more opposition and hostility from disbelievers. Naturally, this situation made the Holy Prophet ﷺ sad. It was to comfort him that, in nearly two sections cited above, mentioned there is the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Pharaoh. In this story, there is a lengthy dialogue between the Pharaoh, his people and a righteous elder who, despite being a scion of the House of the Pharaoh, had believed in the faith of Sayyidna Musa (علیہ السلام) after…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
34 Bayyinat means three things: (1) The clear signs which pointed to the Messengers' being appointed by Allah; (2) the convincing arguments which were a clear proof of their teachings being based on the Truth; and (3) the clear guidance and instructions about the problems and affairs of life which could enable every reasonable person to see that such pure teachings could not be given by an impostor.
Read the full tafseer →