Explained with ayahs 18–20
اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے۔
ازفہ قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لئے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے (اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ 57ۚ) 53۔ النجم :57) یعنی قریب آنے والی قریب ہوچکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمان ہے (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا اور فرمان ہے (امر اللہ فلا تستعجلوہ) اللہ کا امر آچکا اس میں جلدی نہ کرو اور آیت میں ہے (فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الْمُؤْمِن 33
یعنی تمہارے معبودوں کی طرح وہ کوئی اندھا بہرا خدا نہیں ہے جسے کچھ پتہ نہ ہو کہ جس آدمی کے معاملے کا وہ فیصلہ کر رہا ہے اس کے کیا کرتوت تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ۔ (یعنی الاعین الخائنة) خیانت نظر سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں سے چرا کر ایسی چیز پر نظر ڈالے جو اس کے لئے حرام اور ناجائز ہو، جیسے کسی غیر محرم پر شہوت سے نظر کرے، اور جب کسی کو دیکھے تو نظر ہٹا لے یا اس طرح نظر ڈالے کہ جس کو دیکھنے والے محسوس نہ کریں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب چیزیں ظاہر ہیں۔
Read the full tafseer →وہی یہ بات کہ کوئی اپنی سفارش سے حق کو باطل اور باطل کو حق بنا سکے تو اس کا بھی امکان نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ حق کے مطابق ہوگا اور کوئی اپنی سفارش سے اس کے فیصلہ ٔ حق کو باطل سے نہیں بدلوا سکتا۔
’ والذین یدعون من دونہ لا یقضون بشیء ‘ رہے ان مشرکین کے معبود ان باطل تو ان کے اختیار میں سرے سے کسی امر کا فیصلہ ہی نہ ہوگا کہ وہ کسی کی حمایت یا مخالفت میں کچھ کرسکیں۔
’ ان اللہ ھو السمیع البصیر ‘۔ یہ اوپر کی بات کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ حقیقی دیکھنے والا اور سننے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس کے سوا حق کسے ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کرے اور جب وہ دیکھنے والا اور سننے والا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے…
Read the full tafseer →20۔ 1 اس لئے کہ انہیں کسی چیز کا علم ہے نہ کسی پر قدرت، وہ بیخبر بھی ہیں اور بےاختیار بھی، جب کہ فیصلے کے لئے علم اور اختیار دونوں چیزوں کی ضرورت ہے اور یہ دونوں خوبیاں صرف اللہ کے پاس ہیں۔ اس لئے صرف اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کرے اور وہ یقینا حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، کیونکہ اسے کسی کا خوف ہوگا نہ کسی سے حرص و طمع۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت نمبر 18 تا 20
آزفہ کے معنی ہوتے ہیں قریبہ ، جلدی آنے والی ، معنی ہے قیامت ۔ یہ لفظ قامت کی تصویر اس طرح کھینچ رہا ہے کہ گویا وہ پہنچنے ہی والی ہے۔ انسانی سانس تیز ہوگا ، لوگ ہانپ رہے ہوں گے۔ اور کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے اور لوگوں پر بہت بڑا دباؤ ہوگا لیکن یہ پریشان دل لوگ دباؤ کا مقابلہ کرنے کی سعی کریں گے۔ سانس کی تیزی کو روک رہے ہوں گے۔ دورپر قابو پانے کی سعی کریں گے ، خوف کو چھپائیں گے۔ اور اس برداشت کی وجہ سے ان پر مزید دباؤ ہوگا ، ان کے سینے پھٹ رہے ہوں گے۔ کوئی دوست نہ ہوگا جس کے سامنے سینہ کھول کر رکھ دیں اور وہ ہمدردی کرے ، کوئی سفارشی نہ ہوگا جو ان کے حق میں کوئی بات کرے۔ اس
قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
2 یعنی مخلوق سے نظر بچا کر چوری چھپے سے کسی پر نگاہ ڈالی یا کن انکھیوں سے دیکھا یا دل میں کچھ نیت کی یا کسی بات کا ارادہ یا خیال آیا، ان میں سے ہر چیز کو اللہ جانتا ہے۔ اور فیصلہ انصاف سے کرتا ہے۔
3 یعنی فیصلہ کرنا اس کا کام ہوسکتا ہے جو سننے اور جاننے والا ہو۔ بھلا یہ پتھر کی بےجان مورتیں جنہیں تم خدا کہہ کر پکارتے ہو کیا خاک فیصلہ کریں گی۔ پھر جو فیصلہ بھی نہ کرسکے وہ خدا کس طرح ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 20 { وَاللّٰہُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ } ”اور اللہ فیصلہ کرے گا حق کے ساتھ۔“
{ وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا یَقْضُوْنَ بِشَیْئٍ } ”اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں ‘ وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کریں گے۔“
{ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ } ”یقینا اللہ سب کچھ سننے والا ‘ سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“
Read the full tafseer →27 آنکھوں کی حرکات کی اقسام :۔ آنکھوں کی بیشمار حرکات ہوتی ہیں۔ جن میں اکثر مذموم اور خَائِنَۃَ الاَعْیُنِکے ضمن میں آتی ہیں۔ مثلاً بطور طعن وتشنیع آنکھیں مارنا پھر استہزاء کی نظر اور طرح ہوتی ہے پھر آنکھوں آنکھوں میں باتیں بھی ہوتی ہیں۔ دوسروں سے آنکھیں بچا کر غیر محرم عورتوں کو بدنظری سے چوری چھپے دیکھا بھی جاتا ہے۔ اللہ آنکھوں کے ان سب قسم کے اشاروں کو بھی جانتا ہے اور دلوں میں پیدا ہونے والے جن خیالات کے نتیجہ میں آنکھیں ایسے اشارے اور حرکات کرتی ہیں وہ ان خیالات تک سے بھی واقف ہے۔
Read the full tafseer →20۔ یعنی وہی ان صفات کمال میں کامل اور دوسرے معبود ان صفات ہی سے عاری، اس لیے اس کے سوا کوئی اور فیصلہ کر ہی نہیں سکتا۔ آیت سے دو پہلوؤں پر اور زیادہ روشنی پڑگئی۔ ایک شرکت الوہیت ومعبودیت کی نفی، دوسرے ان معبودوں کا نصرت سے عجز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : کافروں سے فرشتوں کیجانب سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اور وہ جہنم میں داخل ہوتے وقت خود اپنے اوپر غصہ ہوں گے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی تمہارے اوپر غضبناکی کہیں زیادہ تھی تمہارے اپنے اوپر غصہ ہونے سے جس وقت کہ تم کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر تم نہیں مانتے تھے تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا اس لئے کہ وہ بےجان نطفے تھے بعد ازاں ان کو زندہ کیا گیا، پھر ان کو موت دی گئی پھر ان کو بعثت کے لئے زندہ کیا گیا سو ہم اپنے گناہوں (یعنی) انکار بالبعث کا اقرار کرتے ہیں تو کیا نار دوزخ سے نکلنے اور دنیا کی طرف واپس…
Read the full tafseer →وا اللہ یقضی بالحق اور اللہ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا۔ اللہ مالک مطلق ہے ‘ حکیم ہے ‘ علیم ہے ‘ ظاہر اور باطن سے
واقف ہے ‘ اسلئے وہی فیصلہ کرے گا جو اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہوگا اور اس کی حکمت کا تقاضا غلط نہ ہوگا۔
والذین یدعون من دونہ لا یقضون بشیء اور اللہ کے سوا یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں ‘ وہ کسی طرح کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے۔
مِنَ دُوْنِہٖ یعنی اللہ کے سوا بتوں کو ‘ شیطانوں کو اور ظالم بادشاہوں کو جو یہ لوگ پکارتے ہیں ‘ وہ کسی طرح کا فیصلہ نہ کرسکیں گے ‘ کیونکہ ان کو کوئی فیصلہ کرنے کی قدرت ہی نہیں ہوگی۔
ان اللہ ھو السمیع البصیر کیونکہ اللہ ہی بلاشبہ سب کچھ سننے والا (اور) سب کچھ دیکھنے والا…
Read the full tafseer →قیامت کے دن وہ جس کے لیے چاہے گا شفاعت کرنے کی اجازت دے گا یا یہ کہ ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائے گا۔
اور اللہ کے علاوہ جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں وہ قیامت کے دن شفاعت کے ذریعے کسی طرح کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے کیونکہ ان کو اس پر قدرت یا یہ کہ وہ بت دنیا میں کسی بھلائی کا بھی حکم نہیں کرسکتے اس لیے کہ وہ بہرے اور گونگے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کی باتوں کو سننے والا اور ان کو اور ان کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔
Read the full tafseer →واللہ یقضی بالحق … یعنی اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے راز تک سے واقف ہے، اس لئے وہی حق کے ساتھ فیصلہ کرسکتا ہے اور کرے گا۔ اس کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ انہیں کسی کے حال کی کچھ خبر ہے، کیونکہ وہ نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں۔ دل کے معاملات تو بہت ہی پوشیدہ ہوتے ہیں، اس لئے حق کے ساتھ فیصلہ تو دور کی بات ہے، وہ کسی قسم کا فیصلہ بھی نہیں کرسکتے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ سمیع بھی ہے بصیر بھی ، مخفی سے مخفی معاملات کا علیم وخبیر بھی ہے اور تمام اختیارات کا مالک بھی، اس لئے اس اکیلے کو پکارو اور اس کی بندگی کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
(وانذرھم یوم الازقۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
یوم الازقۃ سے مراد یوم قیامت ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا کیونکہ وہ قریب ہے کیونکہ ہر وہ امر جو وقوع پذیر ہونے والا ہو وہ قریب ہی ہوا کرتا ہے ازف فلان، یعنی فلاں قریب ہوا اس کا مضارع یازف ازفا کے وزن پر آت ہے۔ نابغہ نے کہا :
ازف الترحل غیر ان رکابنا لما نزل برحالناوکان قد
اس میں ازف کے لفظ کا قریب معنی ہے یعنی ہمارے کوچ کا وقت قریب آگیا ہے اس آیت کی مثل ازفت الازقۃ۔ ( النجم) ہے یعنی قیامت قریب آگئی ہے، ایک شاعر کہتا ہے :
ازف الرحیل ولیس لی من زاد غیر الذنون لشقوتی ونکادی
کوچ کا وقت قریب آگیا میرے لیے میرے گناہوں کے سوا کوئی زاد نہیں یہ میری بد بختی اور محرومی کا باعث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
1:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یعلم خآئنۃ الاعین وما تخفی الصدور “ (وہ جانتا ہے آنکھوں کی چوری کو اور ان باتوں کو جو دلوں میں پوشیدہ ہیں) سے مراد ہے کہ ایک آدمی لوگوں میں موجود ہوتا ہے ان کے پاس سے ایک عورت گزرتی ہے وہ آدمی دوسرے لوگوں کو دیکھتا ہے کہ وہ اپنی نظر کو اس عورت سے بندکررہا ہے۔ اور جب ان کو غافل پاتا ہے تو آنکھ کے گوشتے سے اس کی طرف دیکھ لیتا ہے اور جب وہ لوگ اسے دیکھتے ہیں تو یہ اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے دل کو جان چکے ہیں کہ وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی شرم گاہ کو دیکھے۔
2:۔…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ يَـقْضِيْ [ اور اللہ فیصلہ کرے گا ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق کے ساتھ ] وَالَّذِيْنَ [ اور جن لوگوں کو ] يَدْعُوْنَ [ یہ لوگ پکارتے ہیں ] مِنْ دُوْنِهٖ [ اس کے علاوہ ] لَا يَـقْضُوْنَ [وہ لوگ فیصلہ نہیں کرتے ] بِشَيْءٍ ۭ [ کسی چیز کا ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] هُوَ السَّمِيْعُ [ ہی سننے والا ہے ] الْبَصِيْرُ [ دیکھنے والا ہے ]
(آیت ۔ 20) ۔ یدعون کا فاعل اس میں شامل ہم کی ضمیر ہے اور الذین اس کا مفعول مقدم ہے۔
Read the full tafseer →(وَاللّٰہُ یَقْضِی بالْحَقِّ ) (اور اللہ حق کے ساتھ فیصلے فرماتا ہے) (وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لاَ یَقْضُوْنَ بِشَیْءٍ ) (اور جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں یعنی معبودان باطلہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کرسکتے) (اِِنَّ اللّٰہَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ) (بلاشبہ اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے) اسی کا فیصلہ حق ہے جو واقعی علم کے مطابق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–27
تنبیہ ووعید برائے ظالمین از کرب و اضطراب۔ روز قیامت مع تذکر ۂ قصہ موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وانذر ھم یوم الازفۃ ..... الی ..... من کل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت کے روز عذاب خداوندی دیکھ کر وہ اس کی تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور نیک کام کرلیں اب ان آیات میں ایسے منکروں اور ظالموں کو اس دن کی بےچینی اور اضطراب سے متنبہ کیا جار ہا ہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ قدیم میں گزرے ہوئے مجرمین اور سرکشوں کا انجام ہلاکت بیان کرکے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ…
Read the full tafseer →28:۔ ” اولم یسیروا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ان مشرکین نے زمین چل پھر کر ان لوگوں کا انجام نہیں دیکھا، جو قوت میں اور کارناموں میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ جب انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلایا اور شرک پر قائم رہے تو اللہ نے انہیں پکڑ لیا۔ مگر ان کے خود ساختہ کارسازوں نے انہیں اللہ کی گرفت سے نہ چھڑایا جن کو وہ خدا کے یہاں سفارشی شمجھتے تھے۔ ” اثارا فی الارض “ زمین پر انہوں نے جو مضبوط قلعے بنائے اور محفوظ شہر آباد کیے۔ مثل القلاع المحکمۃ والمدائن الحصینۃ (روح ج 4 ص 61) ۔ ” بذنوبھم “ ان کے گوناگوں گناہوں کی وجہ سے مثلاً اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی وحی (حکمنامے) کا انکار، انبیاء (علیہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں فرمایا کہ قیامت والے دن کافر لوگ خود اپنے آپ پر غصے ناراضگی اور بیزاری کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے دنیا میں ایمان قبول کیوں نہ کیا مگر ان سے کہا جائے گا کہ تمہاری اس ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس وقت بھی زیادہ تھی جب تمہیں بیان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کردیتے تھے ، پھر وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے خواہش ظاہر کریں گے کہ انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے سابقہ عقائد و اعمال کی تلافی کرسکیں ، مگر یہ ممکن نہ ہوگا ان کو سزا مل کر رہے گی ، کیونکہ دنیا میں جب اللہ وحدہ لا شریک کو پکارا جاتا تھا ، تو یہ لوگ انکار کردیتے تھے اور جب شرکیہ…
Read the full tafseer →وَاللہُ يَـقْضِيْ بِالْحَقِّ ۭ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا يَـقْضُوْنَ بِشَيْءٍ 0 ۭ اِنَّ اللہَ ہُوَالسَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ 2 0ۧ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا .
وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ.
فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ترکیب : کا ظمین حال من القلوب و جمع جمع العقلاء للاسناد الیہا مایسندالی العقلاء و قیل باعتبار اہل القلوب لان لامعنی اذ قلوب الناس لدی حناجر ھم فیکون حالا منھم والخائنۃ مصدر کا لعافیۃ والکاذبۃ و الجملۃ خبر آخر عن المبتداً و ھو الذی وفیہ تقدیم و تاخیر ای یعلم الاعین الخائنۃ وقیل الاضافۃ بمعنی من ای الغائبۃ من الاعین۔
تفسیر : اس جگہ قیامت کا دوسرا وصف بیان فرمایا کہ اس سے ہول دلاتا ہے۔ فقال و اندزھم یوم الازفۃ کہ لوگوں کو اس قریب آنے والے دن سے ڈرا آزفۃ بروزن فاعلۃ من ازف الامر اذا ادنا و حضر، یہی لفظ اسی معنی میں ایک اور جگہ بھی آیا ہے۔ از فت الازفۃ لیس لہامن دون اللہ کاشفہ کوئی شاعر کہتا ہے۔…
Read the full tafseer →وَاللّٰہُ یَقْضِیْ بِالْحَقِّ ط وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لاَ یَقْضُوْنَ بِشَیْ ئٍ ط اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالسَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ۔ (المؤمن : 20)
(اور اللہ حق کے ساتھ فیصلہ کرے گا، اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں، اللہ ہی سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ )
چونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا ہر چیز کی خبر نہیں رکھتا، کامل علم صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ وہ نگاہوں کی خیانتوں سے بھی آگاہ ہے اور سینوں کے بھیدوں سے بھی۔ تو وہ اپنے علم اور قدرت کی وجہ سے قیامت کے دن ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ بےلاگ فیصلہ کرے گا۔ رہے وہ معبودانِ باطل جن پر مشرکین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کسی پر کوئی زیادتی نہ ہوگی اس کے باوجود لوگوں کے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے۔
رب ذوالجلال کا رعب اور قیامت کے حساب و کتاب کے ڈر کی وجہ سے لوگوں کے کلیجے ان کے حلق تک آچکے ہوں گے۔ اس وقت ظالموں کا کوئی خیر خواہ اور سفارشی نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور دلوں میں چھپے ہوئے خیالات کو جانتا ہے وہ اپنے بندوں کو سچائی کا حکم دیتا ہے۔ اس کے سوا جن کو پکارا جاتا ہے وہ کوئی بھی حکم نہیں دے سکتے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سب کو سننے والا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ سچائی سے پہلی مراد ” اللہ “ کی توحید اور اس کے تقاضے ہیں۔
قیامت کے دن ظالموں کا یہ حال ہوگا کہ ربِّ…
Read the full tafseer →وَاللّٰهُ يَـقْضِيْ بِالْحَقِّ ، اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا، یعنی وہ ذات جس کی یہ صفات ہیں وہ انصاف سے ہی فیصلہ فرمائے گا۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَـقْضُوْنَ بِشَيْءٍ ، اور جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں۔ وہ کسی طرح کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ انکے معبود کسی چیز کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اس میں ان کو شرمایا گیا۔ کیونکہ جس کی قدرت کے ساتھ صفت بیان نہیں کی جاسکتی۔ اس کے متعلق یقضی کا صیٖغہ اس کے لیے بولا ہی نہیں جاسکتا۔ اس لیے کہ دوسرے مقام پر فرما دیا۔
ۭ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ
Read the full tafseer →تفسیر 19۔ ، یعلم خائنۃ الاعین، یعنی ان کی خیانت کو اور یہ خیانت چوری چپکے ایسی چیز پر نظر پر نظر ڈالنا جس کو دیکھنا حلال نہیں ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ آنکھوں کا اس چیز کی طرف دیکھنا جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔ ، وما تخفی الصدور،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
14۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور طرح طرح کے جھگڑے اللہ کے حکم کے ماننے میں نکالتے تھے پھر فرمایا تھا کہ قرآن شریف کی آیتوں سے وہی لوگ نصیحت پاسکتے ہیں جن کا دل خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رجوع اور مائل ہے اب ان آیتوں میں ان ہی صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی یاد اور اللہ کی عبادت کئے جائو اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی ناخوشی کا کچھ خیال نہ کرو صحیح و مسلم 1 ؎ ابوداو ود و نسائی میں حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
آیت 18
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (وانذرھم یوم الازفۃ) ” اے نبی ! ) انہیں (قریب) آ پہنچنے والے دن سے ڈرائیے “ یعنی انہیں قیامت کے دن سے ڈرائیے جو بہت قریب ہے، اس کے احوال اور اس کے زلزلوں کے پہنچنے کا وقت ہوگیا ہے (اذا القلوب لدی الحناجر) ” جب کہ دل گلوں تک آرہے ہوں گے۔ “ یعنی ان کے دل ہوا ہوجائیں گے۔ خوف اور کرب سے دل گلے میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں اوپر کی جانب اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی (کظمین) وہ کلام نہیں کرسکیں گے سوائے اس شخص کے، جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ درست بات کہے گا۔ وہ دلوں میں چھپے ہوئے خوف اور دہشت کو زبان پر نہیں لائیں گے۔ (وما للظلمین من حبیم) اور ظالموں…
Read the full tafseer →47 اللہ ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ اور اسلوب حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اللہ ہی ہے جو ہر کسی کی سنتا سب کچھ دیکھتا ہے "۔ پس تم ہر حال میں اسی کو اور صرف اسی کو پکارو اور براہ راست پکارو کہ وہ ہر کسی کی سنتا ہے اور ہر حال میں اور بلاواسطہ سنتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز تم لوگ اپنے آپ کو برے اقوال و اعمال سے بچا کر رکھو تاکہ اس کی ناراضگی اور پکڑ سے بچ کر رہو کہ وہ تمہارے سب اقوال کو سنتا اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس سے تمہاری کوئی حرکت اور کیفیت مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔ { فَاِیَّاہُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–22
کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت
تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 20:
اسرار و معارف :
آج تو جسمانی اور مادی فوائد کفار کو بہت عزیز ہیں مگر جہنم میں انہیں خود اپنی ذات سے بھی نفرت ہوگی اور انگلیاں کاٹ کاٹ کھائیں گے کہ لعنت ہو ایسے وجود پر جسے ہم پالتے رہے اللہ کی اطاعت نہ کی تو انہیں آواز دی جائے گی جب تم دنیا میں کفر پہ اصرار کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے تو اللہ کو تمہارے وجودوں سے اس سے زیادہ نفرت تھی جتنی خود سے آج تم کو ہے۔ تب پکار کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم جان گئے کہ تو نے ہمیں دو بار موت دی ایک بار تو مادہ کی صورت میں تھے پھر دنیا سے آخرت کے سفر پر موت کے راستے سے چلے اور دو بار زندگی بھی ایک بار دنیا میں دنیا میں…
Read the full tafseer →ف 17 یعنی قیامت کے دن اس کے فیصلہ میں کوئی بےانصافی نہیں ہوگی۔18 لہٰذا ان کے متعلق یہ سمجھنا کہ قیامت کے روز فیصلہ کرنے میں ان کا بھی کوئی دخل ہوگا قطعی جہالت اور بےوقوفی ہے۔
Read the full tafseer →(40:20) یقضی۔ مضارع واحد مذکر غائب قضاء (باب ضرب) سے مصدر وہ فیصلہ کرتا ہے۔ وہ حکم دیتا ہے۔
یدعون۔ مضارع جمع مذکر غائب دعوۃ ودعاء مصدر (باب نصر) وہ پوجتے ہیں وہ پکارتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 20 : ینادون ( یدائ) ( آواز دیں گے) مقت اللہ ( اللہ کا غصہ) تدعون (تم پکارے جائو گے) امتنا ( تو نے ہمیں موت دی) احییتنا (تو نے ہمیں زندگی دی) ینیب (وہ لوٹتا ہے، رجوع کرتا ہے) رفیع ( بلند) الروح ( روح ، وحی) التلاق (ملاقات ، ملنا) برزون (ظاہر ہونے والے ، بےپردہ) القھار (زبردست ، قوت والا) الازقۃ ( قریب آنے والی ، نزدیک آنے والی) الحناجر (حنجور) ( گلے ، کلیجے) کظمینا (غصہ پی جانے والے) حمیم (قریبی دوست) خائنۃ ( خیانۃ) ( چوری کرنے والی ، خیانت کرنے والی) لم یقضون (وہ فیصلہ نہیں کرتے)
تشریح : آیت نمبر 10 تا 20 :۔ دنیا میں کفر و شرک اور گناہ کرنے والے لوگ مختلف باتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
توحیدکابیان۔
(ف 2) ان آیتوں میں صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی عباد کیے جاؤ، اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی خوشی کا کچھ خیال نہ کرو، اب آگے اللہ تعالیٰ نے خالص عبادت کا نتیجہ ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا جن کے سبب سے خالص عبادت الٰہی کی ہدایت لوگوں کو ہوتی ہے اور خالص عبادت کرنے والوں کا درجہ ہر ایک رتبہ کے موافق قیامت کے دن بلند ہوگا قتادہ کے قول کے موافق یہاں روح کے معنی وحی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو نبوت کے قابل پاتا ہے اس کو نبی مقرر کرکے بذریعہ وحی کے اپنے نبی پر اس لیے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
[8] آیات سے مراد وہ احکام و ہدایات ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس لے کر گئے تھے۔
[9] اس سے اشارہ یہاں معجزہ عصائے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ہے جس کی نوعیت اللہ کی طرف سے سند کی تھی تاکہ فرعون اور اس کے سرداروں کو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ کا سفیر ہونے کے باب میں کسی شک کی گنجائش نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ف 1: قابل غور چیز یہ ہے ۔ کہ کیونکر انسان ان پتھروں اور زید و روح کے لاشوں کو خدا سمجھ لیتا ہے ۔ اور کس طرح ان کی عبادت میں اسکو روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ حالانکہ نہ یہ اس کی باتوں کو سن سکیں اور نہ ان کے نعمتہائے عقیدت سے واقفیت حاصل کرسکیں ۔ جو خدا ہماری آواز کو نہیں سنتا ۔ اور ہمارے دلی جذبات کو نہیں جانتا ۔ وہ کیونکر خدا ہوسکتا ہے ؟ ہم تو فطرتاً ایسا خدا چاہتے ہیں ۔ جو غموں اور مصیبتوں میں بغیر نالہ وفریاد اور شیون وبکا کے ہماری دستگیری کرے ۔ اور ہمیں روحانی تسکین عطا کرے ۔ جو براہ راست ہمارے کلیجے کے داغہائے الم کو دیکھتا ہو ۔ اور ہماری پردرد آواز کو سنتا ہو ۔ اور کیوں یہ فرض کرلیتے…
Read the full tafseer →(20) اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرتا ہے اور جن کو یہ دین حق کے منکر پکارتے اور پوجتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کرسکتے بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی سب کی سننے والا سب کو دیکھنے والا ہے۔ یعنی سچ اور انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرسکتا ہے معبود ان باطلہ میں یہ قدرت کہا کہ وہ وہ کسی چیز کا فیصلہ کرسکیں۔ کیونکہ وہ سننے والا دیکھنے والا ہے اور معبود ان باطلہ نہ سننے کی صلاحیت رکھتے ہیں نہ دیکھنے کی۔
لہٰذا عبادت اور بندگی کے قابل صرف وہی ہوسکتا ہے جو ہر قسم کی صلاحیت اور قابلیت کا مالک ہو۔
Read the full tafseer →ف 2۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں، ایک عجز انداد کا نصرت سے، دوسرے نفی شرکت کی۔
Read the full tafseer →اللہ کا فیصلہ حق ہے اور اس کا فیصلہ سب پر غالب ہے وہ سننے والا ، جاننے والا ہے
20۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ سارے حقائق سے براہ راست واقف ہے اس لیے جو فیصلہ کرے گا یقینا وہ حق ہی ہوگا اور پھر یہ بھی کہ ہو حق کو حق کر دکھائے گا اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور وہ کسی بات کو پوشیدہ نہیں رہنے دے گا اگر حق کو واضھ کرنے کے لیے خارجی شہادتوں کی ضرورت پیش آئے تو ان کی بھی وہاں کوئی کمی نہیں ہوگی ان کے اعمال کا اندراج ان کے ہاتھ پائوں اور دوسرے جوارح شہادتیں پیش کردیں گے اور ان کو وہ کام کرتے دکھادیا جائے گا جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی بھی یہ لوگ پرستش کرتے تھے اور جن جن کے بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
Commentary
Frequent references were made earlier in the text to the warnings given to deniers of pure monotheism and prophethood which brought more opposition and hostility from disbelievers. Naturally, this situation made the Holy Prophet ﷺ sad. It was to comfort him that, in nearly two sections cited above, mentioned there is the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) and Pharaoh. In this story, there is a lengthy dialogue between the Pharaoh, his people and a righteous elder who, despite being a scion of the House of the Pharaoh, had believed in the faith of Sayyidna Musa (علیہ السلام) after…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
33 That is, "He is not a blind and deaf god like your deities that He may be unaware of the misdeeds of a person about whom He is passing judgement. "
Read the full tafseer →