Al-Ghaafir 40:19

Al-Ghaafir · from ayah 19

40:19

یَعْلَمُ خَآىِٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ ۟يَعۡلَمُ خَآئِنَةَ الۡاَعۡيُنِ وَمَا تُخۡفِى الصُّدُوۡرُ

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)

— Fateh Muhammad Jalandhari

He knows that which deceives the eyes and what the breasts conceal.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 2 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:19

اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں) سینوں میں پوشیدہ ہیں (ان کو بھی)

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیده باتوں کو (خوب) جانتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ آنکھوں کی چوری کو بھی جانتا ہے، اور ان باتوں کو بھی جن کو سینوں نے چھپا رکھا ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ خیانت کرنے والی نگاہوں کو جانتا ہے اور (ان باتوں کو بھی) جو سینے (اپنے اندر) چھپائے رکھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور اسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ نگاہوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے اور ان مخفی باتوں کو بھی جو سپنوں نے چھپا رکھی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ نگاہوں کی چوری بھی جانتا ہے اور ان بھیدوں کو بھی جو سینے چھپائے ہوئے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ خوب جانتا ہے آنکھوں کی (چوری اور) خیانت کو بھی اور دلوں میں چھپے رازوں کو بھی

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ) جانتا ہے آنکھوں کی چوری کو اور جو کچھ سینہ میں چھپا ہوا ہے اس کو بھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ جانتا ہے نگاہوں کی چوری کو بھی اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے اس کو بھی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو باتیں سینوں میں پوشیدہ ہیں ان کو بھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He knows even the most stealthy glance of the eyes and all the secrets that hearts conceal.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He knows the treachery of the eyes and whatever is concealed by hearts.

— Muhammad Taqi Usmani

He knows the treachery of the eyes and whatever is concealed by hearts.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah knows the fraud of the eyes, and all that the breasts conceal.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He knoweth the traitor of the eyes, and that which the bosoms hide.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He knows that which deceives the eyes and what the breasts conceal.

— Saheeh International

God knows the disloyalty of the eyes and what the hearts conceal.

— Muhammad Sarwar

He knows the stealthy looks and that which the breasts conceal.

— Muhammad Habib Shakir

He knoweth the fraudulence of the eyes, and that which the breasts conceal.

— Abdul Majid Daryabadi

(Allah) knows of (the tricks) that deceive with the eyes, and all that the hearts (of men) conceal.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–20

اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے۔ ازفہ قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لئے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے (اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ 57؀ۚ) 53۔ النجم :57) یعنی قریب آنے والی قریب ہوچکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمان ہے (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا اور فرمان ہے (امر اللہ فلا تستعجلوہ) اللہ کا امر آچکا اس میں جلدی نہ کرو اور آیت میں ہے (فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة الْمُؤْمِن 33 یعنی تمہارے معبودوں کی طرح وہ کوئی اندھا بہرا خدا نہیں ہے جسے کچھ پتہ نہ ہو کہ جس آدمی کے معاملے کا وہ فیصلہ کر رہا ہے اس کے کیا کرتوت تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–22

يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ۔ (یعنی الاعین الخائنة) خیانت نظر سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لوگوں سے چرا کر ایسی چیز پر نظر ڈالے جو اس کے لئے حرام اور ناجائز ہو، جیسے کسی غیر محرم پر شہوت سے نظر کرے، اور جب کسی کو دیکھے تو نظر ہٹا لے یا اس طرح نظر ڈالے کہ جس کو دیکھنے والے محسوس نہ کریں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ سب چیزیں ظاہر ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور (19) سفارش کے خلاف ایک دلیل کسی کے باب میں کسی کی سفارش تو اس کے ہاں کچھ کارگر ہو سکتی ہے جو ساری صورت حال سے خود واقف نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ تو ہر شخص کی ہر چھوٹی بڑی بات سے خود واقف ہے۔ وہ و نگاہ کی خیانتوں اور سینوں میں چھپے ہوئے رازوں سے بھی پوری طرح باخبر ہے تو اس کے آگے کسی کی کوئی سفارش کیا کارگر ہو سکے گی !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

اس میں اللہ تعالیٰ کے علم کامل کا بیان ہے کہ اسے تمام اشیا کا علم ہے چھوٹی ہو یا بڑی باریک ہو یا موٹی اعلی مرتبے کی ہو یا چھوٹے مرتبے کی اس لیے انسان کو چاہیے کہ جب اس کے علم و احاطہ کا یہ حال ہے تو اس کی نافرمانی سے اجتناب اور صحیح معنوں میں اس کا خوف اپنے اندر پیدا کرے آنکھوں کی خیانت یہ ہے کہ دزدیدہ نگاہوں سے دیکھا جائے جیسے راہ چلتے کسی حسین عورت کو کنکھیوں سے دیکھنا سینوں کی باتوں میں وہ وسوسے بھی آجاتے ہیں جو انسان کے دل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں وہ جب تک وسوسے ہی رہتے ہیں یعنی ایک لمحہ گزراں کی طرح آتے اور ختم ہوجاتے ہیں تب تک تو وہ قابل مواخذہ نہیں ہوگے لیکن جب وہ عزائم کا روپ دھار لیں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–24

4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 18–20

آیت نمبر 18 تا 20 آزفہ کے معنی ہوتے ہیں قریبہ ، جلدی آنے والی ، معنی ہے قیامت ۔ یہ لفظ قامت کی تصویر اس طرح کھینچ رہا ہے کہ گویا وہ پہنچنے ہی والی ہے۔ انسانی سانس تیز ہوگا ، لوگ ہانپ رہے ہوں گے۔ اور کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے اور لوگوں پر بہت بڑا دباؤ ہوگا لیکن یہ پریشان دل لوگ دباؤ کا مقابلہ کرنے کی سعی کریں گے۔ سانس کی تیزی کو روک رہے ہوں گے۔ دورپر قابو پانے کی سعی کریں گے ، خوف کو چھپائیں گے۔ اور اس برداشت کی وجہ سے ان پر مزید دباؤ ہوگا ، ان کے سینے پھٹ رہے ہوں گے۔ کوئی دوست نہ ہوگا جس کے سامنے سینہ کھول کر رکھ دیں اور وہ ہمدردی کرے ، کوئی سفارشی نہ ہوگا جو ان کے حق میں کوئی بات کرے۔ اس قدر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–20

2 یعنی مخلوق سے نظر بچا کر چوری چھپے سے کسی پر نگاہ ڈالی یا کن انکھیوں سے دیکھا یا دل میں کچھ نیت کی یا کسی بات کا ارادہ یا خیال آیا، ان میں سے ہر چیز کو اللہ جانتا ہے۔ اور فیصلہ انصاف سے کرتا ہے۔ 3 یعنی فیصلہ کرنا اس کا کام ہوسکتا ہے جو سننے اور جاننے والا ہو۔ بھلا یہ پتھر کی بےجان مورتیں جنہیں تم خدا کہہ کر پکارتے ہو کیا خاک فیصلہ کریں گی۔ پھر جو فیصلہ بھی نہ کرسکے وہ خدا کس طرح ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19 { یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ } ”وہ جانتا ہے نگاہوں کی چوری کو بھی ‘ اور جو کچھ سینوں میں چھپا ہے اس کو بھی۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

27 آنکھوں کی حرکات کی اقسام :۔ آنکھوں کی بیشمار حرکات ہوتی ہیں۔ جن میں اکثر مذموم اور خَائِنَۃَ الاَعْیُنِکے ضمن میں آتی ہیں۔ مثلاً بطور طعن وتشنیع آنکھیں مارنا پھر استہزاء کی نظر اور طرح ہوتی ہے پھر آنکھوں آنکھوں میں باتیں بھی ہوتی ہیں۔ دوسروں سے آنکھیں بچا کر غیر محرم عورتوں کو بدنظری سے چوری چھپے دیکھا بھی جاتا ہے۔ اللہ آنکھوں کے ان سب قسم کے اشاروں کو بھی جانتا ہے اور دلوں میں پیدا ہونے والے جن خیالات کے نتیجہ میں آنکھیں ایسے اشارے اور حرکات کرتی ہیں وہ ان خیالات تک سے بھی واقف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ یہاں یہ بتا دیا کہ اقوال وافعال کیا معنی، احوال و کیفیات، جذبات وداردات قلب تک سب وہاں حاضر وعیاں ہوں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اضطراری اعمال و کیفیات معاف کردی جائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : کافروں سے فرشتوں کیجانب سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اور وہ جہنم میں داخل ہوتے وقت خود اپنے اوپر غصہ ہوں گے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی تمہارے اوپر غضبناکی کہیں زیادہ تھی تمہارے اپنے اوپر غصہ ہونے سے جس وقت کہ تم کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر تم نہیں مانتے تھے تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا اس لئے کہ وہ بےجان نطفے تھے بعد ازاں ان کو زندہ کیا گیا، پھر ان کو موت دی گئی پھر ان کو بعثت کے لئے زندہ کیا گیا سو ہم اپنے گناہوں (یعنی) انکار بالبعث کا اقرار کرتے ہیں تو کیا نار دوزخ سے نکلنے اور دنیا کی طرف واپس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور وہ (ا اللہ) جانتا ہے آنکھوں کی چوری کو اور ان باتوں کو جو دلوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ الخَاءِنَۃ صیغۂ اسم فاعل ‘ اس کا موصوف محذوف ہے ‘ یعنی خیانت کرنے والی نظر ‘ جیسے چوری سے اس کو دیکھنا جس کو دیکھنا حرام ہے ‘ یا خائنہ مصدر ہے جیسے عافیہ ‘ یعنی اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ مَا تُخْفِی الصَّدُوْرُ جو بات بھی دلوں میں چھپی ہوئی ہو ‘ اللہ اسکو بھی جانتا ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ کسی خوبصورت عورت کو خیانت کار نگاہ سے دیکھنے کے بعد جو آدمی اس کا شہوانی خیال دل میں پوشیدہ رکھتا ہے ‘ اللہ اسکو بھی جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

وہ آنکھوں کی چوری یعنی خیانت و مکاری کے ساتھ دیکھنے کو بھی جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو دلوں میں پوشیدہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یعلم خآئنۃ الاعین … ”خآئنۃ“ ”خان یخون“ (ن) سے ”فاعلۃ“ کے وزن پر مصدر ہے، جیسا کہ ”غافیہ“ ہے اور یہ اسم فاعل بھی ہوسکتا ہے۔ اسم فاعل ہونے کی صورت میں دراصل ”الاغبن الخائنۃ“ تھا، پھر صفت کو موصوف کی طرف مضاف کردیا۔ معنی ”خیانت کرنے والی آنکھیں“ ہوگا۔ مصدر ہون ی کی صورت میں معنی واضح ہے اور وہ ہے ”آنکھوں کی خیانت“ ، یعنی اللہ تعالیٰ کفار کے حق میں سفارش قبول نہیں کرے گا۔ اگر کسی نے کسی شبہ کی بنا پر غلطی سے کر بھی دی تو مانی نہیں جائے گی، کیونکہ سفارش کرنے والے کو اس کے کفر کا پورا اندازہ نہیں ہوگا، جب کہ اللہ تعالیٰ نہ ایسے لوگوں کے حق میں سفارش کی اجازت دے گا نہ سفارش قبول کرے گا، کیونکہ وہ تو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–22

(وانذرھم یوم الازقۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) یوم الازقۃ سے مراد یوم قیامت ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا کیونکہ وہ قریب ہے کیونکہ ہر وہ امر جو وقوع پذیر ہونے والا ہو وہ قریب ہی ہوا کرتا ہے ازف فلان، یعنی فلاں قریب ہوا اس کا مضارع یازف ازفا کے وزن پر آت ہے۔ نابغہ نے کہا : ازف الترحل غیر ان رکابنا لما نزل برحالناوکان قد اس میں ازف کے لفظ کا قریب معنی ہے یعنی ہمارے کوچ کا وقت قریب آگیا ہے اس آیت کی مثل ازفت الازقۃ۔ ( النجم) ہے یعنی قیامت قریب آگئی ہے، ایک شاعر کہتا ہے : ازف الرحیل ولیس لی من زاد غیر الذنون لشقوتی ونکادی کوچ کا وقت قریب آگیا میرے لیے میرے گناہوں کے سوا کوئی زاد نہیں یہ میری بد بختی اور محرومی کا باعث…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–20

1:۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یعلم خآئنۃ الاعین وما تخفی الصدور “ (وہ جانتا ہے آنکھوں کی چوری کو اور ان باتوں کو جو دلوں میں پوشیدہ ہیں) سے مراد ہے کہ ایک آدمی لوگوں میں موجود ہوتا ہے ان کے پاس سے ایک عورت گزرتی ہے وہ آدمی دوسرے لوگوں کو دیکھتا ہے کہ وہ اپنی نظر کو اس عورت سے بندکررہا ہے۔ اور جب ان کو غافل پاتا ہے تو آنکھ کے گوشتے سے اس کی طرف دیکھ لیتا ہے اور جب وہ لوگ اسے دیکھتے ہیں تو یہ اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے دل کو جان چکے ہیں کہ وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی شرم گاہ کو دیکھے۔ 2:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَعْلَمُ [ وہ جانتا ہے ] خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ [ آنکھوں کی خیانت کرنے والی (چوری) کو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] تُخْفِي الصُّدُوْرُ [ چھپاتے ہیں سینے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت کو اور دلوں کی پوشیدہ چیزوں کو جانتا ہے (یَعْلَمُ خَاءِنَۃَ الْاَعْیُنِ ) قیامت کے دن محاسبہ ہوگا نیکیوں کی جزا ملے گی اور برائیوں پر سزا یاب ہوں گے اعضائے ظاہرہ کے اعمال کو بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور سینوں میں جو چیزیں پوشیدہ ہیں برے عقیدے، بری نیتیں، برے جذبات، اللہ تعالیٰ ان سب سے بھی باخبر ہے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میرے باطن کا حال پوشیدہ ہے اس پر مواخذہ نہ ہوگا اعضاء ظاہرہ میں آنکھیں بھی ہیں بری جگہ نظر ڈالنا جہاں دیکھنے کی اجازت نہیں اور بد اعمالیوں میں آنکھوں کا استعمال کرنا یہ سب گناہ ہے آنکھوں کے اعمال میں سے ایک عمل خیانت بھی ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–27

تنبیہ ووعید برائے ظالمین از کرب و اضطراب۔ روز قیامت مع تذکر ۂ قصہ موسیٰ (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وانذر ھم یوم الازفۃ ..... الی ..... من کل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منکرین کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت کے روز عذاب خداوندی دیکھ کر وہ اس کی تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور نیک کام کرلیں اب ان آیات میں ایسے منکروں اور ظالموں کو اس دن کی بےچینی اور اضطراب سے متنبہ کیا جار ہا ہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ قدیم میں گزرے ہوئے مجرمین اور سرکشوں کا انجام ہلاکت بیان کرکے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

27:۔ ” واللہ یقضی بالحق “ یہ اصل دعوے کی تائید ہے امر اول ” واللہ یفضی بالحق “ یعنی اللہ تعالیٰ تو ایسا قادر و متصرف ہے کہ وہ جس کام کا ارادہ فرماتا ہے، اسے اپنے ارادے اور فیصلے کے مطابق سر انجام دے لیتا ہے۔ امر دوم ” والذین یدعون من دونہ “ لیکن مشرکین، اللہ کے سوا جن خود ساختہ معبودوں کو مصائب و حاجات میں پکارتے ہیں وہ ایسے عاجز و بےبس ہیں کہ کچھ بھی نہیں کرسکتے جیسا کہ فرما ای ” واذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون “ (بقرہ رکوع 14) ۔ اور دوسری جگہ فرمایا ” قولہ الحق “ (انعام رکوع 9) ۔ اس کا ارشاد سراپا حق ہے اور اس کے ارشاد و ارادہ کی مطابق کا کا ہوجانا یہ سی کی صفت ہے، معبودان باطلہ ایسا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–20

ربط آیات : گذشتہ آیات میں فرمایا کہ قیامت والے دن کافر لوگ خود اپنے آپ پر غصے ناراضگی اور بیزاری کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے دنیا میں ایمان قبول کیوں نہ کیا مگر ان سے کہا جائے گا کہ تمہاری اس ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس وقت بھی زیادہ تھی جب تمہیں بیان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کردیتے تھے ، پھر وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے خواہش ظاہر کریں گے کہ انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے سابقہ عقائد و اعمال کی تلافی کرسکیں ، مگر یہ ممکن نہ ہوگا ان کو سزا مل کر رہے گی ، کیونکہ دنیا میں جب اللہ وحدہ لا شریک کو پکارا جاتا تھا ، تو یہ لوگ انکار کردیتے تھے اور جب شرکیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَۃَ الْاَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ۝ 19 علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا خون الخِيَانَة والنّفاق واحد، إلا أنّ الخیانة تقال اعتبارا بالعهد والأمانة، والنّفاق يقال اعتبارا بالدّين، ثم يتداخلان، فالخیانة : مخالفة الحقّ بنقض العهد في السّرّ. ونقیض الخیانة : الأمانة وعلی ذلک قوله : لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، ( خ و ن ) الخیانۃ خیانت اور نفاق دونوں ہم معنی ہیں مگر خیانت کا لفظ عہد اور امانت کا پاس نہ کرنے پر بولا جاتا ہے اور نفاق دین کے متعلق بولا جاتا ہے پھر ان میں تداخل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–20

ترکیب : کا ظمین حال من القلوب و جمع جمع العقلاء للاسناد الیہا مایسندالی العقلاء و قیل باعتبار اہل القلوب لان لامعنی اذ قلوب الناس لدی حناجر ھم فیکون حالا منھم والخائنۃ مصدر کا لعافیۃ والکاذبۃ و الجملۃ خبر آخر عن المبتداً و ھو الذی وفیہ تقدیم و تاخیر ای یعلم الاعین الخائنۃ وقیل الاضافۃ بمعنی من ای الغائبۃ من الاعین۔ تفسیر : اس جگہ قیامت کا دوسرا وصف بیان فرمایا کہ اس سے ہول دلاتا ہے۔ فقال و اندزھم یوم الازفۃ کہ لوگوں کو اس قریب آنے والے دن سے ڈرا آزفۃ بروزن فاعلۃ من ازف الامر اذا ادنا و حضر، یہی لفظ اسی معنی میں ایک اور جگہ بھی آیا ہے۔ از فت الازفۃ لیس لہامن دون اللہ کاشفہ کوئی شاعر کہتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ ۔ (المؤمن : 19) (وہ نگاہوں کی چوری سے بھی واقف ہے اور ان بھیدوں کو بھی جانتا ہے جو سینے چھپائے ہوئے ہیں۔ ) شفاعتِ باطلہ کی تردید گزشتہ مضمون کے تسلسل میں مزید یہ فرمایا گیا ہے کہ سفارش اس کے یہاں سنی جاتی یا قبول کی جاسکتی ہے جس کے یہاں معاملات کے تمام گوشے واضح نہ ہوں۔ اور وہ بہت ساری چیزوں سے بیخبر ہو۔ تو کوئی اس سے زیادہ باخبر شخص اپنی باخبری کے حوالے سے ملزم کی سفارش کرسکتا ہے۔ اور یہ قرین انصاف بھی ہے۔ کیونکہ اس سفارش کا مطلب ایک ایسے شخص کو حق دلانا ہے جس کا حق بیخبر ی کی نذر ہوسکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسی سفارش کیسے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–20

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن کسی پر کوئی زیادتی نہ ہوگی اس کے باوجود لوگوں کے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے۔ رب ذوالجلال کا رعب اور قیامت کے حساب و کتاب کے ڈر کی وجہ سے لوگوں کے کلیجے ان کے حلق تک آچکے ہوں گے۔ اس وقت ظالموں کا کوئی خیر خواہ اور سفارشی نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور دلوں میں چھپے ہوئے خیالات کو جانتا ہے وہ اپنے بندوں کو سچائی کا حکم دیتا ہے۔ اس کے سوا جن کو پکارا جاتا ہے وہ کوئی بھی حکم نہیں دے سکتے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سب کو سننے والا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ سچائی سے پہلی مراد ” اللہ “ کی توحید اور اس کے تقاضے ہیں۔ قیامت کے دن ظالموں کا یہ حال ہوگا کہ ربِّ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سینہ کی باتیں اس سے مخفی نہیں : يَعْلَمُ خَاۗىِٕنَةَ الْاَعْيُنِ ، وہ آنکھوں کی چوری کو جانتا ہے، کائنۃ یہ مصدر ہے خیانت کے معنوں میں ہے، جیسا کہ عافیت بمعنی معافات ہے۔ مراد اس سے غیر محرم کی طرف نظر چرا کر دیکھنا۔ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ ، اور ان کو بھی جو سینوں میں پوشیدہ ہیں۔ اور جن کے سینے امانت یا خیانت میں سے چھپاتے ہیں۔ چوری چھپے اجنبی عورت کو شہوت سے دیکھنا پھر اس کے جمال کے متعلق دل میں خیال لانا اور اس کو معلوم نہیں اپنے اس نظر و فکر میں کہ میں کس کے سامنے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس تمام کو جانتے ہٰں۔ یعلم خائنۃ الاعین، یہ ھو کی خبروں میں سے ہے۔ جو اس قول میں ہے ھو الذی یریکم آیاتہ (غافر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18، وانذرھم یوم الازفہ، یعنی قیامت کے دن سے۔ قیامت کا یہ نام رکھا گیا ہے کیونکہ وہ قریب ہے اس لیے کہ ہر آنے والی چیز قریب ہے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کافرمان، ازفت الازفۃ، ہے۔ یعنی قیامت قریب ہوگئی۔ ، اذالقلوب لدی الحناجر، یہ اس وجہ سے دل اپنی جگہ سے خوف کی وجہ سے ہٹ کر گلے تک پہنچ آئیں گے۔ پھر وہ اپنی جگہ پر واپس نہیں جائیں گے اور ان کے منہ سے باہر بھی نکلیں گے کہ وہ مرجائیں اور راحت حاصل کرسکیں۔ ، کا ظمین، غم زدہ خوف اور غم سے بھرے ہوئے اور، کظم، غصہ اور خوف وغم کا دل میں آنا جانا جس کی وجہ سے دل تنگ ہوجائے۔ ، ماللظالمین من حمیم، کوئی قریب جوان کو نفع دے۔ ، ولا شفیع یطاع، کہ ان کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–20

14۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور طرح طرح کے جھگڑے اللہ کے حکم کے ماننے میں نکالتے تھے پھر فرمایا تھا کہ قرآن شریف کی آیتوں سے وہی لوگ نصیحت پاسکتے ہیں جن کا دل خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رجوع اور مائل ہے اب ان آیتوں میں ان ہی صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی یاد اور اللہ کی عبادت کئے جائو اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی ناخوشی کا کچھ خیال نہ کرو صحیح و مسلم 1 ؎ ابوداو ود و نسائی میں حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–21

آیت 18 اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (وانذرھم یوم الازفۃ) ” اے نبی ! ) انہیں (قریب) آ پہنچنے والے دن سے ڈرائیے “ یعنی انہیں قیامت کے دن سے ڈرائیے جو بہت قریب ہے، اس کے احوال اور اس کے زلزلوں کے پہنچنے کا وقت ہوگیا ہے (اذا القلوب لدی الحناجر) ” جب کہ دل گلوں تک آرہے ہوں گے۔ “ یعنی ان کے دل ہوا ہوجائیں گے۔ خوف اور کرب سے دل گلے میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں اوپر کی جانب اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی (کظمین) وہ کلام نہیں کرسکیں گے سوائے اس شخص کے، جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ درست بات کہے گا۔ وہ دلوں میں چھپے ہوئے خوف اور دہشت کو زبان پر نہیں لائیں گے۔ (وما للظلمین من حبیم) اور ظالموں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

45 مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی تردید کے لیے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ خوب جانتا ہے آنکھوں کی چوری اور سینوں کے چھپے رازوں کو "۔ یعنی ان رازوں کو جو انسان کے باطن اور اس کے دل میں پوشیدہ ہیں ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی بےمثال شان ہے اس مالک الملک کی اور کس قدر غافل اور نادان ہیں وہ لوگ جو اس خالق کل اور مالک کل وحدہ لاشریک کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کر کے اس کے لئے اپنے زعم و گمان کے مطابق طرح طرح کے واسطے اور وسیلے گھڑتے اور فرض کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ پاک ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کو مخلوق پر قیاس کرنا طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–22

کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 20: اسرار و معارف : آج تو جسمانی اور مادی فوائد کفار کو بہت عزیز ہیں مگر جہنم میں انہیں خود اپنی ذات سے بھی نفرت ہوگی اور انگلیاں کاٹ کاٹ کھائیں گے کہ لعنت ہو ایسے وجود پر جسے ہم پالتے رہے اللہ کی اطاعت نہ کی تو انہیں آواز دی جائے گی جب تم دنیا میں کفر پہ اصرار کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے تو اللہ کو تمہارے وجودوں سے اس سے زیادہ نفرت تھی جتنی خود سے آج تم کو ہے۔ تب پکار کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم جان گئے کہ تو نے ہمیں دو بار موت دی ایک بار تو مادہ کی صورت میں تھے پھر دنیا سے آخرت کے سفر پر موت کے راستے سے چلے اور دو بار زندگی بھی ایک بار دنیا میں دنیا میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 15 آنکھ کے اشارے میں جو غلط جذبات مستور ہوتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ بیٹھے ہوئے اتنے میں کسی اجنبی عورت کا وہاں سے گزرہو، کوئی آدمی جب لوگوں کا دھیان نیچی رکھے اور جب ان کا دھیان نہ ہو تو نظر بچا کر اس کی طرف دیکھ لے۔ ( ابن کثیر)16 یعنی دلوں کے راز اور وسوسوں تک سے واقف ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے ان پر مواخذہ نہیں کرتا جب تک ان پر عمل نہیں کیا جاتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:19) یعلم ای اللّٰہ یعلم اللہ جانتا ہے۔ جائنۃ الاغین : خائنۃ اصل میں خیانۃ (خیانت۔ دغا) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے اصل میں فاعل کے وزن پر خائن تھا۔ ۃ مبالغہ کے لئے بڑھا دی گئی ہے اسم فاعل واحد مؤنث کا سیغہ بھی خائنۃ (یہ تاء تانیث) آئے گا۔ لیکن ۔ یہاں جمہور علماء کے نزدیک بطور مصدر آیا ہے۔ معجم الوسیط میں ہے :۔ الخائنۃ اسم بمعنی الخیانۃ وھو من المصادر التی حاءت علی لفظ الفاعلۃ کا العاقبۃ۔ وفی القرآن الکریم۔ یعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور۔ یہاں خائنۃ فاعلۃ کے وزن پر بطور مصدر آیا ہے اسی وزن پر دیگر مصادر الکاذبۃ۔ العاقبۃ۔ العافیۃ وغیرہ ہیں۔ خائنۃ بطور مصدر قرآن مجید میں اور جگہ بھی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–20

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 20 : ینادون ( یدائ) ( آواز دیں گے) مقت اللہ ( اللہ کا غصہ) تدعون (تم پکارے جائو گے) امتنا ( تو نے ہمیں موت دی) احییتنا (تو نے ہمیں زندگی دی) ینیب (وہ لوٹتا ہے، رجوع کرتا ہے) رفیع ( بلند) الروح ( روح ، وحی) التلاق (ملاقات ، ملنا) برزون (ظاہر ہونے والے ، بےپردہ) القھار (زبردست ، قوت والا) الازقۃ ( قریب آنے والی ، نزدیک آنے والی) الحناجر (حنجور) ( گلے ، کلیجے) کظمینا (غصہ پی جانے والے) حمیم (قریبی دوست) خائنۃ ( خیانۃ) ( چوری کرنے والی ، خیانت کرنے والی) لم یقضون (وہ فیصلہ نہیں کرتے) تشریح : آیت نمبر 10 تا 20 :۔ دنیا میں کفر و شرک اور گناہ کرنے والے لوگ مختلف باتوں اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–20

توحیدکابیان۔ (ف 2) ان آیتوں میں صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی عباد کیے جاؤ، اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی خوشی کا کچھ خیال نہ کرو، اب آگے اللہ تعالیٰ نے خالص عبادت کا نتیجہ ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا جن کے سبب سے خالص عبادت الٰہی کی ہدایت لوگوں کو ہوتی ہے اور خالص عبادت کرنے والوں کا درجہ ہر ایک رتبہ کے موافق قیامت کے دن بلند ہوگا قتادہ کے قول کے موافق یہاں روح کے معنی وحی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو نبوت کے قابل پاتا ہے اس کو نبی مقرر کرکے بذریعہ وحی کے اپنے نبی پر اس لیے احکام…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–21

ف 1: قابل غور چیز یہ ہے ۔ کہ کیونکر انسان ان پتھروں اور زید و روح کے لاشوں کو خدا سمجھ لیتا ہے ۔ اور کس طرح ان کی عبادت میں اسکو روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ حالانکہ نہ یہ اس کی باتوں کو سن سکیں اور نہ ان کے نعمتہائے عقیدت سے واقفیت حاصل کرسکیں ۔ جو خدا ہماری آواز کو نہیں سنتا ۔ اور ہمارے دلی جذبات کو نہیں جانتا ۔ وہ کیونکر خدا ہوسکتا ہے ؟ ہم تو فطرتاً ایسا خدا چاہتے ہیں ۔ جو غموں اور مصیبتوں میں بغیر نالہ وفریاد اور شیون وبکا کے ہماری دستگیری کرے ۔ اور ہمیں روحانی تسکین عطا کرے ۔ جو براہ راست ہمارے کلیجے کے داغہائے الم کو دیکھتا ہو ۔ اور ہماری پردرد آواز کو سنتا ہو ۔ اور کیوں یہ فرض کرلیتے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والی آنکھوں کو اور چوری کی نگاہ کو جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو سینوں نے چھپا رکھی ۔ چوری کینگاہ کنکہیوں سے کسی کو دیکھنا یا کسی پر دل آزاری کی نیت سے آنکھوں کو بچا کر دیکھنا یا اشارہ کرنا نبی کریم ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اللھم طھر قلبی من النفاق وعملی من الریاء ولسانی من الکذب من الکذب وعینی من الخیانۃ فانک تعلم خائنۃ الاعین وما تخفی الصدور

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ مطلب یہ کہ اس کو تمام اعمال عباد کا احاطہ علمیہ ہے جس پر مجازات موقوف ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ ہر آنکھ کی خیانت اور ہر دل کی مخفی حالت سے واقف ہے 19۔ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو علام الغیوب اور دلوں کے رازوں تک سے واقف ہے اس کے ہاں آخر کسی کی سفارش چل ہی کیونکر سکتی ہے ، اس کے علم محیط سے ان ظالموں کی کوئی حرکت بھی تو پوشیدہ نہیں وہ تو ان کے سارے کرتوتوں سے اچھی طرح واقف ہے اور ان کے دلوں میں جو راز پوشیدہ ہیں ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے۔ اس کے سامنے ایسوں کی سفارش کیوں اور کیسے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–19

In verse 19, it was said: يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ (He knows the treachery of the eyes), in other words, eyes that betray the trust. It means the action of a person who would, secretly and surreptitiously, cast a glance over something haram and impermissible for him or her, for example, casts a glance at a non-mahram person with sexual desire, and takes it away in the event someone was around, or casts a glance in a manner that is not noticed by others. All these things are open before Allah Ta’ ala.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

33 That is, "He is not a blind and deaf god like your deities that He may be unaware of the misdeeds of a person about whom He is passing judgement. "

Read the full tafseer →