Explained with ayahs 18–20
اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے۔
ازفہ قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لئے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے (اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ 57ۚ) 53۔ النجم :57) یعنی قریب آنے والی قریب ہوچکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمان ہے (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا اور فرمان ہے (امر اللہ فلا تستعجلوہ) اللہ کا امر آچکا اس میں جلدی نہ کرو اور آیت میں ہے (فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 30
قرآن مجید میں لوگوں کو بار بار یہ احساس دلایا گیا ہے کہ قیامت ان سے کچھ دور نہیں ہے بلکہ قریب ہی لگی کھڑی ہے اور ہر لمحہ آسکتی ہے۔ کہیں فرمایا اتیٰ اَمْرُ اللہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ (النحل 1)۔ کہیں ارشاد ہوا اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ (الانبیاء 1) کہیں متنبہ کیا گیا اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ (القمر 1)۔ کہیں فرمایا گیا اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللہِ کَاشِفَۃٌ (النجم 57)۔ ان ساری باتوں سے مقصود لوگوں کو متنبہ کرنا ہے کہ قیامت کو دور کی چیز سمجھ کر بےخوف نہ رہیں اور سنبھلنا ہے تو ایک لمحہ ضائع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
(آیت) يَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ ڬ لَا يَخْـفٰى عَلَي اللّٰهِ مِنْهُمْ۔ بارزون سے مراد یہ ہے کہ میدان حشر کی زمین چونکہ ایک سطح مستوی بنادی جائے گی جس میں کوئی پہاڑ یا غار یا عمارت اور درخت نہ ہوگا، جس کی آڑ ہو سکے اس لئے سب کھلے میدان میں جمع ہوں گے۔
(آیت) لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ۔ یہ کلمہ آیات مذکورہ میں یوم التلاق اور یوم ھم بارزون کے بعد آیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یوم التلاق ملاقات و اجتماع کا دن نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا اسی طرح یوم ہم بارزون کا واقعہ بھی اس وقت ہوگا جب نفخہ ثانیہ کے بعد نئی زمین ایک سطح مستوی کی صورت میں بنادی جائے گی، جس پر کوئی آڑ پہاڑ نہ ہوگا۔ اس کے بعد یہ کلمہ لمن الملک…
Read the full tafseer →لفظ ’ ازفۃ ‘ کا مفہوم
’ انزفۃ ‘ کے معنی وہ چیز جو قریب آ لگی ہو۔ یہاں یہ لفظ قیامت کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس صفت کے استعمال سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ قیامت کو بہت بعید نہ سمجھو، وہ بالکل پاس ہی کھڑی ہے۔ من مات فقد قامت قیامت ہٗ (جو مرا اس کی قیامت آگئی) قیامت کے دن اس فاصلہ کا کسی کو بھی احساس نہیں ہوگا جو اس کے اور قیامت کے درمیان حائل ہے، بلکہ ہر شخص یہی سمجھے گا کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہر شخص کی قیامت میں بس اتنے ہی دن باقی ہیں جتنے دن اس دنیا میں اس کی زندگی کے باقی ہیں۔ جس طرح ہر شخص کی موت اس کے پہلو میں کھڑی ہے اسی طرح قیامت بھی اس کے بغل میں…
Read the full tafseer →18۔ 1 َ اَزِفَۃ کے معنی ہیں قریب آنے والی۔ یہ قیامت کا نام ہے، اس لئے کہ وہ بھی قریب آنے والی ہے۔
18۔ (2) یعنی اس دن خوف کی وجہ سے دل اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے کا ظمین غم سے بھرے ہوئے یا روتے ہوئے یا خاموش اس کے تینوں معنی کیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت نمبر 18 تا 20
آزفہ کے معنی ہوتے ہیں قریبہ ، جلدی آنے والی ، معنی ہے قیامت ۔ یہ لفظ قامت کی تصویر اس طرح کھینچ رہا ہے کہ گویا وہ پہنچنے ہی والی ہے۔ انسانی سانس تیز ہوگا ، لوگ ہانپ رہے ہوں گے۔ اور کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے اور لوگوں پر بہت بڑا دباؤ ہوگا لیکن یہ پریشان دل لوگ دباؤ کا مقابلہ کرنے کی سعی کریں گے۔ سانس کی تیزی کو روک رہے ہوں گے۔ دورپر قابو پانے کی سعی کریں گے ، خوف کو چھپائیں گے۔ اور اس برداشت کی وجہ سے ان پر مزید دباؤ ہوگا ، ان کے سینے پھٹ رہے ہوں گے۔ کوئی دوست نہ ہوگا جس کے سامنے سینہ کھول کر رکھ دیں اور وہ ہمدردی کرے ، کوئی سفارشی نہ ہوگا جو ان کے حق میں کوئی بات کرے۔ اس
قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
12 یعنی خوف اور گھبراہٹ سے دل دھڑک کر گلوں تک پہنچ رہے ہوں گے اور لوگ دونوں ہاتھوں سے ان کو پکڑ کر دبائیں گے کہ کہیں سانس کے ساتھ باہر نہ نکل پڑیں۔
1 یعنی ایسا کوئی سفارشی نہیں ہوگا جس کی بات ضرور ہی مانی جائے۔ سفارش وہ ہی کرسکے گا جس کو اجازت ہو۔ اور اسی کے حق میں کرے گا جس کے لیے پسند ہو۔
Read the full tafseer →آیت 18 { وَاَنْذِرْہُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَۃِ } ”اور اے نبی ﷺ ! انہیں خبردار کر دیجئے اس نزدیک آجانے والے دن سے“
{ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَی الْحَنَاجِرِکٰظِمِیْنَ } ”جبکہ دل حلق میں آ پھنسیں گے اور وہ غم کو دبا رہے ہوں گے۔“
{ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُ } ”ان ظالموں کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی ہوگا جس کی بات مانی جائے۔“
Read the full tafseer →24 اَزِفَ کا لغوی مفہوم : اٰزِفَہ۔ اَزِفَ میں وقت کی تنگی کا مفہوم پایا جاتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ گاڑی یا جہاز کے روانہ ہونے میں وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ لہذا جلدی کرو۔ اسی طرح قیامت کا دن جو یقینی طور پر آنے والا ہے اسے بس آیا ہی سمجھو اور اس کے لئے جو کچھ سامان کرنا ہے جلدی جلدی کرلو۔
25 کَظَم کا لغوی مفہوم :۔ کَاظِمِیْنَ ۔ کظم سانس کی نالی کو کہتے ہیں اور کظم السقائ بمعنی مشک کو (پانی سے لبالب بھر کر اس کا منہ بند کردینا ہے اور کا ظم، کظیم اور مکظوم اس شخص کو کہتے ہیں جو غم و غصہ سے سانس کی نالی تک بھرا ہوا ہو مگر اسکا اظہار نہ کرے اور اسے دبا جائے۔ یعنی مجرموں کو اپنی دنیا کی زندگی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
18۔ (آیت) ” یوم الازفۃ “۔ کے لفظی معنی ” قریب آجانے والی “ ایک نام یوم قیامت کا بھی پڑگیا۔ عبرعنھا بساعۃ (راغب) یعنی یوم القیامۃ (ابن جریر) (آیت) ” الیوم ..... کسبت “۔ آیت کے الفاظ سے یہ نکل رہا ہے کہ ثواب و عذاب بندہ ہی کا کسب کیا ہوا ہوتا ہے اور یہی اشاعرہ کا مذہب ہے۔ قال ابن عطیۃ وھذہ الایۃ نص فی ان الثواب والعقاب متعلق باکتساب العبد وھو علی طریقۃ الاشعریۃ (بحر) (آیت) ” لاظلم الیوم “۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ کسی کا اجڑ گھٹا دیا جائے اور کسی کا عذاب بڑھا دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : کافروں سے فرشتوں کیجانب سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اور وہ جہنم میں داخل ہوتے وقت خود اپنے اوپر غصہ ہوں گے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی تمہارے اوپر غضبناکی کہیں زیادہ تھی تمہارے اپنے اوپر غصہ ہونے سے جس وقت کہ تم کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر تم نہیں مانتے تھے تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا اس لئے کہ وہ بےجان نطفے تھے بعد ازاں ان کو زندہ کیا گیا، پھر ان کو موت دی گئی پھر ان کو بعثت کے لئے زندہ کیا گیا سو ہم اپنے گناہوں (یعنی) انکار بالبعث کا اقرار کرتے ہیں تو کیا نار دوزخ سے نکلنے اور دنیا کی طرف واپس…
Read the full tafseer →وانذرھم یوم الازفۃ اذ القلوب لدی الحناجر کظمین اور آپ ان لوگوں کو قریب آنے والی مصیبت
کے دن (یعنی قیامت کے دن) سے ڈرائیے جبکہ کلیجے منہ کو آجائیں گے اور (شدت غم سے) گھٹ گھٹ جائیں گے۔
اَلْاٰزِفَۃِ (قریب آنے والی) سے مراد قیامت ہے ‘ کیونکہ وہ قریب ہی آنے والی ہے۔ جو چیز یقینی آنے والی ہے ‘ وہ قریب ہی ہے۔
لَدَی الْحَنَاجِرِ یعنی دل اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور اچھل کر گلے میں آ پھنسیں گے ‘ نہ نیچے اتریں گے کہ چین آجائے ‘ نہ باہر ہی نکل پائیں گے کہ موت ہی آجائے۔
کٰظِمِیْنَ بےچین ‘ خوف و غم سے بھرے ہوئے۔ کظم کا معنی ہے غصہ ‘ خوف اور غم کی دل میں آمدورفت جو ناقابل برداشت نہ ہو۔
ما للظلمین من حمیم ولا…
Read the full tafseer →اور محمد ان کو آزفہ کے دن سے ڈرایے جس روز تیزی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ چپٹے گا اور یہ قیامت کا دن ہے جس وقت کلیجے منہ کو آجائیں گے غم اور پریشانی سے گھٹ گھٹ جائیں گے۔
کافروں کے لیے کوئی دوست بھی نہ ہوگا جو ان کے کام آسکے اور نہ کوئی سفارشی ہوگا جس سے سفارش کا وہم بھی ہوسکے۔
Read the full tafseer →(1) وانذرھم یوم الازفۃ :”الازفۃ“”ازف یارف“ (س) سے اسم فاعل ہے۔ مونث اس لئے ہے کہ یہ ”الشاعۃ“ کی صفت ہے۔ چناچہ قیامت کے متعلق اکثر الفاظ مونث اسعتمال ہئے ہیں، مثلاً ”الحآقۃ، القارعۃ، الضآختہ“ اور ”الطآمۃ“ وغیرہ۔ قیامت کو ”الازقۃ“ اس لئے فرمایا کہ اس کا آنا بہت قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر قیامت کے قریب آنے سے لوگوں کو خبردار فرمایا ہے، چناچہ فرمایا :(ازقت الازقۃ لیس لھامن دون اللہ کاشفۃ) (النجم : 58، 58)”قریب آگئی وہ قریب آنے والی ہے۔ جسے اللہ کے سوا کوئی ہٹانے والا نہیں۔“ قیامت کے قریب آنے کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (1):(اقترب للناس حسابھم) کی تفسیر۔
(2) اذا القلوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
(وانذرھم یوم الازقۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
یوم الازقۃ سے مراد یوم قیامت ہے۔ اسے یہ نام دیا گیا کیونکہ وہ قریب ہے کیونکہ ہر وہ امر جو وقوع پذیر ہونے والا ہو وہ قریب ہی ہوا کرتا ہے ازف فلان، یعنی فلاں قریب ہوا اس کا مضارع یازف ازفا کے وزن پر آت ہے۔ نابغہ نے کہا :
ازف الترحل غیر ان رکابنا لما نزل برحالناوکان قد
اس میں ازف کے لفظ کا قریب معنی ہے یعنی ہمارے کوچ کا وقت قریب آگیا ہے اس آیت کی مثل ازفت الازقۃ۔ ( النجم) ہے یعنی قیامت قریب آگئی ہے، ایک شاعر کہتا ہے :
ازف الرحیل ولیس لی من زاد غیر الذنون لشقوتی ونکادی
کوچ کا وقت قریب آگیا میرے لیے میرے گناہوں کے سوا کوئی زاد نہیں یہ میری بد بختی اور محرومی کا باعث…
Read the full tafseer →1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذرھم یوم الازفۃ “ (اور آپ ان کو قریب آنے والی مصیبت کے بعد) یعنی قیامت کے دن سے ڈرائیے یعنی قیامت (آیت ) ” اذ القلوب لدی الحناجر “ (جبکہ کلیجے منہ کو آجائیں گے) یعنی دل ان کے گلوں میں اٹک جائیں گے خوف کی وجہ سے نہ باہر نکلیں گے اور نہ اپنی جگہوں کی طرف واپس لوٹیں گے۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانذرھم یوم الازفۃ “ یعنی قیامت کے دن سے (آپ کو ڈرائیے)
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اذ القلوب لدی الحناجر “ یعنی جب وہ دوزخ والے دوزخ کو دیکھیں…
Read the full tafseer →وَاَنْذِرْهُمْ [ اور آپ خبردار کردیں ان لوگوں کو ] يَوْمَ الْاٰزِفَةِ [ قریب ہونے والی (قیامت ) کے دن سے ] اِذِ الْقُلُوْبُ [ جب دل ] لَدَى الْحَـنَاجِرِ [ گلوں کے قریب ہوں گے ] كٰظِمِيْنَ ڛ [ غم وغصہ پینے والے ہوتے ہوئے ] مَا لِلظّٰلِمِيْنَ [ نہیں ہوگا ظلم کرنے والوں کے لئے ] مِنْ حَمِيْمٍ [ کوئی بھی ایسا گرم جوش دوست ] وَّلَا شَفِيْعٍ [ اور نہ کوئی بھی ایسا سفارش کرنے والا ] يُّــطَاعُ [ جس کی تابعداری کی جاتی ہو ]
ء ز: (س) ازفا ۔ قریب ہونا ۔ اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ [ قریب ہوئی قریب ہونے والی ] 53:57 ۔ ازفۃ ۔ قریب ہونے والی ۔ مراد ہے قیامت ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 18 ۔
ل د ی : فعل استعمال نہیں…
Read the full tafseer →انہیں قیامت کے دن سے ڈرائیے جس دن دل گھٹن میں ہوں گے، ظالموں کے لیے کوئی دوست یا سفارش کرنے والا نہ ہوگا
ان آیات میں بھی قیامت کا منظر بتایا ہے ارشاد فرمایا کہ آپ انہیں یوم الاٰزفۃ سے ڈرائیے یہ ازف یازف سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جو قرب کے معنی پر دلالت کرتا ہے سورة النجم میں فرمایا (اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ ) (قریب آنے والی قریب آگئی) اس سے قیامت مراد ہے جو جلد ہی آجانیوالی ہے آیت بالا میں فرمایا کہ آپ ان کو قیامت کے دن سے ڈرائیے یہ ایسا دن ہوگا کہ قلوب حلقوم کو پہنچے ہوئے ہوں گے اور ایسا معلوم ہوگا کہ دل اندر سے اٹھ کر گلوں میں آکر پھنس گئے ہیں اور باہر آنا چاہتے ہیں یہ قلوب بڑی گھٹن میں ہوں گے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–27
تنبیہ ووعید برائے ظالمین از کرب و اضطراب۔ روز قیامت مع تذکر ۂ قصہ موسیٰ (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” وانذر ھم یوم الازفۃ ..... الی ..... من کل متکبر لا یؤمن بیوم الحساب “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین کی ذلت ورسوائی کا بیان تھا اور یہ کہ قیامت کے روز عذاب خداوندی دیکھ کر وہ اس کی تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں پھر دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تاکہ ہم ایمان لے آئیں اور نیک کام کرلیں اب ان آیات میں ایسے منکروں اور ظالموں کو اس دن کی بےچینی اور اضطراب سے متنبہ کیا جار ہا ہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ قدیم میں گزرے ہوئے مجرمین اور سرکشوں کا انجام ہلاکت بیان کرکے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اے کفار مکہ…
Read the full tafseer →25:۔ قیامت کے دن مشرکین کا کوئی ھامی و مددگار نہیں ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارشی ہی میسر آسکے گا جس کی سفارش ان کے حق میں قبول کی جاسکے۔ ای لیس للذین ظلموا انفسہم بالشرک باللہ من قریب منہم ینفعہم ولا شفیع یشفع فیہم (ابن کثیر ج 4) ۔
26:۔ ” یعلم خائنۃ الاعین “ یہ اضافت صفت بموصوف کے قبیل سے ہے اور اصل میں ” الاعین الخائنۃ “ ہے یعنی وہ خیانت کرنے والی نگاہوں کو خوب جانتا ہے۔ یا الخائنۃ مصدر ہے۔ ” العافیۃ “ اور ” العاقبۃ “ کی مانند آنکھوں کی خیانت سے غیر محرموں کو دیکھنا مراد ہے۔ ” یعلم خائنۃ الاعین کقولہ وان سقیت کرام الناس ای الناس و جوز ان تکون خائنۃ مصدرا کالعافیۃ والعاقبۃ ای یعلم خیانۃ الاعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں فرمایا کہ قیامت والے دن کافر لوگ خود اپنے آپ پر غصے ناراضگی اور بیزاری کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے دنیا میں ایمان قبول کیوں نہ کیا مگر ان سے کہا جائے گا کہ تمہاری اس ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس وقت بھی زیادہ تھی جب تمہیں بیان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کردیتے تھے ، پھر وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے خواہش ظاہر کریں گے کہ انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے سابقہ عقائد و اعمال کی تلافی کرسکیں ، مگر یہ ممکن نہ ہوگا ان کو سزا مل کر رہے گی ، کیونکہ دنیا میں جب اللہ وحدہ لا شریک کو پکارا جاتا تھا ، تو یہ لوگ انکار کردیتے تھے اور جب شرکیہ…
Read the full tafseer →وَاَنْذِرْہُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَۃِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَـنَاجِرِ كٰظِمِيْنَ 0ۥۭ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ حَمِيْمٍ وَّلَا شَفِيْعٍ يُّطَاعُ 1
نذر
وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14]
والنَّذِيرُ :
المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2]
( ن ذ ر ) النذر
الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ترکیب : کا ظمین حال من القلوب و جمع جمع العقلاء للاسناد الیہا مایسندالی العقلاء و قیل باعتبار اہل القلوب لان لامعنی اذ قلوب الناس لدی حناجر ھم فیکون حالا منھم والخائنۃ مصدر کا لعافیۃ والکاذبۃ و الجملۃ خبر آخر عن المبتداً و ھو الذی وفیہ تقدیم و تاخیر ای یعلم الاعین الخائنۃ وقیل الاضافۃ بمعنی من ای الغائبۃ من الاعین۔
تفسیر : اس جگہ قیامت کا دوسرا وصف بیان فرمایا کہ اس سے ہول دلاتا ہے۔ فقال و اندزھم یوم الازفۃ کہ لوگوں کو اس قریب آنے والے دن سے ڈرا آزفۃ بروزن فاعلۃ من ازف الامر اذا ادنا و حضر، یہی لفظ اسی معنی میں ایک اور جگہ بھی آیا ہے۔ از فت الازفۃ لیس لہامن دون اللہ کاشفہ کوئی شاعر کہتا ہے۔…
Read the full tafseer →وَاَنْذِرْھُمْ یَوْمَ الْاٰزِفَۃِ اِذِالْقُلُوْبُ لَدَی الْحَنَاجِرِ کٰظِمِیْنَ ط 5 مَالِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّلاَ شَفِیْعٍ یُّطَاعُ ۔ (المؤمن : 18)
(اے پیغمبر ! ان لوگوں کو خبردار کیجیے قریب آجانے والی آفت کے دن سے، جبکہ دل حلق میں آپھنسیں گے اور وہ غم سے گھٹے ہوئے ہوں گے، نہ ظالموں کا کوئی مشفق دوست ہوگا اور نہ ایسا شفیع جس کی بات مانی جائے۔ )
قیامت قریب بھی ہے اور ہولناک بھی
اٰزِفَۃِ… قریب آجانے والی مصیبت یا چیز کو کہتے ہیں۔ آیت میں اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ اس سے یہ تصور دینا مقصود ہے کہ قیامت کا آنا کوئی دور کی بات نہیں، کسی وقت بھی اچانک آسکتی ہے، البتہ اس کے آنے میں شک و شبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کسی پر کوئی زیادتی نہ ہوگی اس کے باوجود لوگوں کے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے۔
رب ذوالجلال کا رعب اور قیامت کے حساب و کتاب کے ڈر کی وجہ سے لوگوں کے کلیجے ان کے حلق تک آچکے ہوں گے۔ اس وقت ظالموں کا کوئی خیر خواہ اور سفارشی نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت اور دلوں میں چھپے ہوئے خیالات کو جانتا ہے وہ اپنے بندوں کو سچائی کا حکم دیتا ہے۔ اس کے سوا جن کو پکارا جاتا ہے وہ کوئی بھی حکم نہیں دے سکتے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ سب کو سننے والا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے۔ سچائی سے پہلی مراد ” اللہ “ کی توحید اور اس کے تقاضے ہیں۔
قیامت کے دن ظالموں کا یہ حال ہوگا کہ ربِّ…
Read the full tafseer →وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ ، اور آپ ان کو قریب آنے والی مصیبت کے دن سے ڈرائیں۔ یوم الازفۃ سے قیامت کا دن مراد ہے۔
وجہ تسمیہ : قیامت کو یوم الازفۃ اس کے قرب کی وجہ سے کہا گیا ہے۔
قیامت کے دن دل خوف سے بےچین ہوں گے۔ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَـنَاجِرِ ، جبکہ دل منہ کو آجائیں گے۔ الحناجر کا معنی گلے۔ دل اچھل کر اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور ان کے گلے میں پھنس جائیں گے نہ تو وہ باہر نکلیں گے کہ وہ مرجائیں اور نہ اپنے مقام کی طرف لوٹیں گے کہ وہ سانس لے سکیں اور ان کو چین نصیب ہو، كٰظِمِيْنَ ، غم و خوف سے بےچین بھرے ہوں گے، وہ ان کے گلے میں اٹکنے والے ہوں گے۔ یہ کظم القریۃ سے لیا گیا ہے۔ جبکہ اس…
Read the full tafseer →17، الیوم تجزی کل نفس بماکسبت، نیک کو اس کی نیکی اور برے کو اس کی برائی کا بدلہ دیاجائے گا۔ ، لاظلم الیوم ان اللہ سریع الحساب،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
14۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور طرح طرح کے جھگڑے اللہ کے حکم کے ماننے میں نکالتے تھے پھر فرمایا تھا کہ قرآن شریف کی آیتوں سے وہی لوگ نصیحت پاسکتے ہیں جن کا دل خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رجوع اور مائل ہے اب ان آیتوں میں ان ہی صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی یاد اور اللہ کی عبادت کئے جائو اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی ناخوشی کا کچھ خیال نہ کرو صحیح و مسلم 1 ؎ ابوداو ود و نسائی میں حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
آیت 18
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (وانذرھم یوم الازفۃ) ” اے نبی ! ) انہیں (قریب) آ پہنچنے والے دن سے ڈرائیے “ یعنی انہیں قیامت کے دن سے ڈرائیے جو بہت قریب ہے، اس کے احوال اور اس کے زلزلوں کے پہنچنے کا وقت ہوگیا ہے (اذا القلوب لدی الحناجر) ” جب کہ دل گلوں تک آرہے ہوں گے۔ “ یعنی ان کے دل ہوا ہوجائیں گے۔ خوف اور کرب سے دل گلے میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں اوپر کی جانب اٹھی کی اٹھی رہ جائیں گی (کظمین) وہ کلام نہیں کرسکیں گے سوائے اس شخص کے، جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ درست بات کہے گا۔ وہ دلوں میں چھپے ہوئے خوف اور دہشت کو زبان پر نہیں لائیں گے۔ (وما للظلمین من حبیم) اور ظالموں…
Read the full tafseer →41 قیامت کے قریب ہونے اور قریب سمجھنے کی ہدایت : سو اس حقیقت کی تعلیم و تلقین کے لیے اشارہ فرمایا گیا " اور خبردار کردو انکو قریب آلگنے والی اس ہولناک آفت کے دن سے "۔ اس " آزفۃ " یعنی " قریب آ لگنے والی اس ہولناک آفت سے " ان کو خبردار کرو تاکہ یہ غفلت سے چونک کر اس کے لئے فکر و تیاری کریں اور اس کے لئے سامان کرسکیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ یہ تو اس کو دور سمجھتے ہیں مگر ہم اس کو قریب دیکھ رہے ہیں ۔ { اِنَّہُمْ یَرَوْنَہ بَعِیْدًا وَّنَرَاہُ قَرِیْبًا } ۔ (المعارج : 7-6) ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کو بعید نہ سمجھو کہ وہ قریب ہی آلگی ہے کہ ہر آدمی کی قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–22
کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت
تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 20:
اسرار و معارف :
آج تو جسمانی اور مادی فوائد کفار کو بہت عزیز ہیں مگر جہنم میں انہیں خود اپنی ذات سے بھی نفرت ہوگی اور انگلیاں کاٹ کاٹ کھائیں گے کہ لعنت ہو ایسے وجود پر جسے ہم پالتے رہے اللہ کی اطاعت نہ کی تو انہیں آواز دی جائے گی جب تم دنیا میں کفر پہ اصرار کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے تو اللہ کو تمہارے وجودوں سے اس سے زیادہ نفرت تھی جتنی خود سے آج تم کو ہے۔ تب پکار کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم جان گئے کہ تو نے ہمیں دو بار موت دی ایک بار تو مادہ کی صورت میں تھے پھر دنیا سے آخرت کے سفر پر موت کے راستے سے چلے اور دو بار زندگی بھی ایک بار دنیا میں دنیا میں…
Read the full tafseer →ف 13 یہ محاوہ ہے جسے ہم اردو میں کلیجہ منہ کو آنا سے تعبیر کرتے ہیں۔14 یعنی اس دن جو سفارش کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی وہ انبیاء فرشتوں اور نیک بندوں کو دی جائے گی اور وہ بھی صرف اہل ایمان کے لئے، رہے کافر اور مشرک ہو ان کا اس روز کوئی سفارش نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →(40:18) انذرھم : انذر۔ فل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ جس کا مرجع نبی کریم ﷺ ہیں۔ انذار (افعال) مصدر سے بمعنی ڈرانا۔ ہم ضمیر مفعول مع مذکر غائب تو ان کو ڈرا۔ تو ان کو ڈر سنا دے۔
یوم الازفۃ۔ مضاف مضاف الیہ ای یوم القیامۃ۔ یہ انذر کا مفعول ثانی ہے اس کا ظرف نہیں ہے۔ کیونکہ یوم قیامت سے خوف دلانے کا فعل یہاں دنیا میں واقع ہے۔ الازفۃ : ازف سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ ازف یہازف (سمع) ازف قریب آپہنچنا۔ اس کے اصل معنی تنگی وقت کے ہیں۔ چونکہ تنگی وقت کا مطلب وقت کا قریب آلگنا ہوتا ہے اس لئے اس کا استعمال قریب آلگنے میں ہونے لگا۔ ازف جا کے آنے کا وقت بہت تنگ ہوگیا ہو۔ قریب آلگنے والی ۔ مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 20 : ینادون ( یدائ) ( آواز دیں گے) مقت اللہ ( اللہ کا غصہ) تدعون (تم پکارے جائو گے) امتنا ( تو نے ہمیں موت دی) احییتنا (تو نے ہمیں زندگی دی) ینیب (وہ لوٹتا ہے، رجوع کرتا ہے) رفیع ( بلند) الروح ( روح ، وحی) التلاق (ملاقات ، ملنا) برزون (ظاہر ہونے والے ، بےپردہ) القھار (زبردست ، قوت والا) الازقۃ ( قریب آنے والی ، نزدیک آنے والی) الحناجر (حنجور) ( گلے ، کلیجے) کظمینا (غصہ پی جانے والے) حمیم (قریبی دوست) خائنۃ ( خیانۃ) ( چوری کرنے والی ، خیانت کرنے والی) لم یقضون (وہ فیصلہ نہیں کرتے)
تشریح : آیت نمبر 10 تا 20 :۔ دنیا میں کفر و شرک اور گناہ کرنے والے لوگ مختلف باتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
توحیدکابیان۔
(ف 2) ان آیتوں میں صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی عباد کیے جاؤ، اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی خوشی کا کچھ خیال نہ کرو، اب آگے اللہ تعالیٰ نے خالص عبادت کا نتیجہ ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا جن کے سبب سے خالص عبادت الٰہی کی ہدایت لوگوں کو ہوتی ہے اور خالص عبادت کرنے والوں کا درجہ ہر ایک رتبہ کے موافق قیامت کے دن بلند ہوگا قتادہ کے قول کے موافق یہاں روح کے معنی وحی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو نبوت کے قابل پاتا ہے اس کو نبی مقرر کرکے بذریعہ وحی کے اپنے نبی پر اس لیے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
[7] آنکھوں کی چوری سے مراد ہے نگاہ بد یا آنکھ کے اشارے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ف 1: قابل غور چیز یہ ہے ۔ کہ کیونکر انسان ان پتھروں اور زید و روح کے لاشوں کو خدا سمجھ لیتا ہے ۔ اور کس طرح ان کی عبادت میں اسکو روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ حالانکہ نہ یہ اس کی باتوں کو سن سکیں اور نہ ان کے نعمتہائے عقیدت سے واقفیت حاصل کرسکیں ۔ جو خدا ہماری آواز کو نہیں سنتا ۔ اور ہمارے دلی جذبات کو نہیں جانتا ۔ وہ کیونکر خدا ہوسکتا ہے ؟ ہم تو فطرتاً ایسا خدا چاہتے ہیں ۔ جو غموں اور مصیبتوں میں بغیر نالہ وفریاد اور شیون وبکا کے ہماری دستگیری کرے ۔ اور ہمیں روحانی تسکین عطا کرے ۔ جو براہ راست ہمارے کلیجے کے داغہائے الم کو دیکھتا ہو ۔ اور ہماری پردرد آواز کو سنتا ہو ۔ اور کیوں یہ فرض کرلیتے…
Read the full tafseer →(18) اوراے پیغمبر آپ ان کو اس قریب آنے والے دن کی مصیبت سے ڈرا دیجئے جس وقت مارے غم اور خوف کے گھٹ گھٹ کر لوگوں کے کلیجے گلوں میں آرہے ہوں گے اس دن ان ظالموں کا نہ کوئی ہمدردی کرنے والا درست ہوگا اور نہ کوئی ایسا سفارش ہوگا جس کی بات مان لی جائے۔ کلیجہ منہ کو آنا ایک محاورہ ہے ہماری زبان کا۔
مطلب یہ ہے کہ وہ دن قریب ہی آنے والا ہے کیونکہ ہر روزقریب ہوتا جاتا ہے اس دن کو گھبراہٹ اور خوف اور نفسا نفسی کا قرآن میں بہت جگہ ذکر آچکا ہے یہاں خوف اور گھبراہٹ سے جو گھٹن ہوگی اس کا حال بیان فرمایا ایسے موقعہ پر انسان کا دل اور اس کا کلیجہ اچھلتا ہے اس کو فرمایا کہ دل اچھلتے اچھلتے حلق اور اور گلوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
(ف 6) یعنی چونکہ حق تعلای کے علو و کبریاء کے اعتبار سے یہ جرم عظیم تھا اس لئے فیصلہ میں عقوبت بھی عظیم تجویز ہوئی، یعنی خلود۔
Read the full tafseer →یہ آنے والا دن بالکل قریب ہے کہ وعدہ کا دن آتے دیر نہیں لگتی
18۔ انسان بھی عجیب مخلوق ہے کہ کوئی نہایت مشکل چیز نظر آتی ہے لیکن اس کو سمجھنے میں اس کو ذرا دیر نہیں لگتی اور فورا سیکھ جاتا ہے اور کوئی نہایت آسان بات ہوتی ہے لیکن اس کو سمجھنا اس کے لیے محال ہوجاتا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھانے سے بھی وہ نہیں سمجھتا اور اکثر ان نہ سمجھ آنے والی چیزوں ہی میں سے ایک چیز قیامت کا دن بھی ہے کہ جب کسی بھی انسان کو کہا جاتا ہے کہ یہ دن بہت قریب ہے تو وہ ہنس کر رہ جاتا ہے کہ ملاں کتنا پاگل ہے ایک ایسی چیز کو جس کو ایک مدت دراز سے سنتے آرہے ہیں کہ قریب ہے اور بالکل قریب ہے لیکن آج تک نہ آئی ہے پھر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
In verse 19, it was said: يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ (He knows the treachery of the eyes), in other words, eyes that betray the trust. It means the action of a person who would, secretly and surreptitiously, cast a glance over something haram and impermissible for him or her, for example, casts a glance at a non-mahram person with sexual desire, and takes it away in the event someone was around, or casts a glance in a manner that is not noticed by others. All these things are open before Allah Ta’ ala.
Read the full tafseer →30 In the Qur'an the people have been made to realize again and again that Resurrection is not far off but has approached near at hand, and can take place any moment. In An-Nahl: 1, it has been said: "Allah's Judgement has come, so do not clamour for hastening it;" in Al-Anbiya':1: "The time of the reckoning of the people has drawn near, and yet they arc turning away in heedlessness;" in AI-Qamar: 1: "The Hour of Resurrection has drawn near and the moon has split asunder; " and in An-Najm: 57: "That which is coming is near at hand: none but Allah can avert it." All this is meant to warn the…
Read the full tafseer →