Al-Ghaafir 40:17

Al-Ghaafir · from ayah 17

40:17

اَلْیَوْمَ تُجْزٰی كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ؕ— لَا ظُلْمَ الْیَوْمَ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۟اَلۡيَوۡمَ تُجۡزٰى كُلُّ نَـفۡسٍۢ بِمَا كَسَبَتۡ ؕ لَا ظُلۡمَ الۡيَوۡمَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ

آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

This Day every soul will be recompensed for what it earned. No injustice today! Indeed, Allah is swift in account.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 2 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:17

(کہا جائے گا) آج ہر متنفس کو اُس کمائی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کی تھی آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی کے حق میں) بےانصافی نہیں ہوگی۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج (کسی قسم کا) ﻇلم نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

آج کے دن ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا آج کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ یقینا اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

آج ہر جان اپنے کےٴ کا بدلہ پاےٴ گی آج کسی پر زیادتی نہیں، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آج کے دن ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی نا انصافی نہ ہوگی، بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

آج ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا، آج کوئی ظلم نہیں۔ بیشک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آج ہر شخص کو اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا ہوگا کسی پر آج ظلم نہیں ہوگا۔ بلاشبہ اللہ فوراً حساب لے لینے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

آج ہر جان کو اس کے کئے کا بدلہ ملے گا۔ آج کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ بیشک اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(پھر کہا جائے گا کہ) آج کے دن ہر شخص کو پورا بدلہ دیا جائے گا اس کی (زندگی بھر کی) کمائی کا آج کے دن کوئی ظلم نہ ہوگا بلاشبہ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

آج ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا آج کچھ ظلم نہ ہوگا اللہ بہت جلد حساب لے ڈالنے والا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آج ہر جان کو وہی بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا آج کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ یقینا اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آج کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، آج کسی کے حق میں بےانصافی نہیں ہوگی۔ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

(It will then be said): “Today shall everyone be fully recompensed for his deeds. None shall be wronged today. Surely Allah is Swift in Reckoning.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Today, everyone will be recompensed for what one earned. There is no injustice today. Surely, Allah is swift in reckoning.

— Muhammad Taqi Usmani

Today, everyone will be recompensed for what one earned. There is no injustice today. Surely, Allah is swift in reckoning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This Day shall every person be recompensed for what he earned. This Day no injustice. Truly, Allah is swift in reckoning.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This day is each soul requited that which it hath earned; no wrong (is done) this day. Lo! Allah is swift at reckoning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

This Day every soul will be recompensed for what it earned. No injustice today! Indeed, Allah is swift in account.

— Saheeh International

Every soul will be recompensed for its deeds on this Day. There will be no injustice. Certainly God's reckoning is swift.

— Muhammad Sarwar

This day every soul shall be rewarded for what it has earned; no injustice (shall be done) this day; surely Allah is quick in reckoning.

— Muhammad Habib Shakir

To-day each soul will be recompensed for that which it hath earned; no wrong-doing to-day; verily Allah is Swift at reckoning.

— Abdul Majid Daryabadi

That Day will every soul be requited for what it earned; no injustice will there be that Day, for Allah is Swift in taking account.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–17

روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے (مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ ۭ) 70۔ المعارج :3) ، یعنی وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو سیڑھیوں والا ہے۔ کہ فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور اس بات کا بیان انشاء اللہ آگے آئے گا کہ یہ دوری ساتویں زمین سے لے کر عرش تک کی ہے، جیسے سلف و خلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہی راجح بھی ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 28 یعنی کسی نوعیت کا ظلم بھی نہ ہوگا۔ واضح رہے کہ جزاء کے معاملہ میں ظلم کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اجر کا مستحق ہو اور وہ اس کو نہ دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ وہ جتنے اجر کا مستحق ہو اس سے کم دیا جائے۔ تیسرے یہ کہ وہ سزا کا مستحق نہ ہو مگر اسے سزا دے ڈالی جائے۔ چوتھے یہ کہ جو سزا کا مستحق ہو اسے سزا نہ دی جائے۔ پانچویں یہ کہ جو سزا کا مستحق ہو اسے زیادہ سزا دے دی جائے۔ چھٹے یہ کہ مظلوم کا منہ دیکھتا رہ جائے اور ظالم اس کی آنکھوں کے سامنے صاف بری ہو کر نکل جائے۔ ساتویں یہ کہ ایک کے گناہ میں دوسرا پکڑ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشا یہ ہے کہ ان تمام نوعیتوں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–18

(آیت) يَوْمَ هُمْ بٰرِزُوْنَ ڬ لَا يَخْـفٰى عَلَي اللّٰهِ مِنْهُمْ۔ بارزون سے مراد یہ ہے کہ میدان حشر کی زمین چونکہ ایک سطح مستوی بنادی جائے گی جس میں کوئی پہاڑ یا غار یا عمارت اور درخت نہ ہوگا، جس کی آڑ ہو سکے اس لئے سب کھلے میدان میں جمع ہوں گے۔ (آیت) لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ۔ یہ کلمہ آیات مذکورہ میں یوم التلاق اور یوم ھم بارزون کے بعد آیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یوم التلاق ملاقات و اجتماع کا دن نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا اسی طرح یوم ہم بارزون کا واقعہ بھی اس وقت ہوگا جب نفخہ ثانیہ کے بعد نئی زمین ایک سطح مستوی کی صورت میں بنادی جائے گی، جس پر کوئی آڑ پہاڑ نہ ہوگا۔ اس کے بعد یہ کلمہ لمن الملک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی آج کا دن خدا کے عدل کامل کے ظہور کا دن ہے۔ آج ہر شخص کو اس کے اپنے عمل کا بدلہ ملے گا۔ کسی کی کوئی حق تلفی یا کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی اور یہ سارا کام چشم زدن میں ہوگا۔ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس میں بڑ مدت صرف ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکا دینے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–24

4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–17

آیت نمبر 13 تا 17 ھوالذی یریکم اٰیٰته (40: 13) ” وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے “۔ اور اللہ کی نشانیاں تو اس کائنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔ شمس وقمر کی گردش میں ، رات اور دن کے نظام میں۔ رعد وبرق اور بارو باراں میں ، ذرے ، خلیے ، پتے اور پتیوں میں عرض ہر چیز میں ایک معجزانہ نشانی ہے اور اس نشانی کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کی نقل کرنے کے لیے بیٹھے۔ یا اس جیسی کوئی چیز بنائے لیکن اے کاش کہ وہ اس قسم کی کسی چیز کی نقل کرسکتا یا اس جیسی ہی بناسکتا اور اللہ کی بنائی ہوئی ایک نہایت ہی چھوٹی چیز ہی بناسکتا۔ وینزل لکم من السمآء رزقا (40: 13) ” اور آسمانوں سے تمہارے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 17–18

12 یعنی خوف اور گھبراہٹ سے دل دھڑک کر گلوں تک پہنچ رہے ہوں گے اور لوگ دونوں ہاتھوں سے ان کو پکڑ کر دبائیں گے کہ کہیں سانس کے ساتھ باہر نہ نکل پڑیں۔ 1 یعنی ایسا کوئی سفارشی نہیں ہوگا جس کی بات ضرور ہی مانی جائے۔ سفارش وہ ہی کرسکے گا جس کو اجازت ہو۔ اور اسی کے حق میں کرے گا جس کے لیے پسند ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 { اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ } ”آج ہر جان کو وہی بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا۔“ { لَا ظُلْمَ الْیَوْمَط اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ } ”آج کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ یقینا اللہ جلد حساب چکا دینے والا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

22 ظلم کی ممکنہ صورتیں :۔ ظلم کی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ مثلاً پہلی یہ کہ کسی نے ظلم نہ کیا ہو لیکن اسے خواہ مخواہ سزا دے دی جائے۔ دوسری یہ کہ جرم تو تھوڑا ہو مگر اسے سزا زیادہ دے دی جائے۔ تیسری یہ کہ آدمی مستحق تو اجر کا ہوگا مگر اسے سزا دے دی جائے۔ چوتھی یہ کہ جرم تو زید نے کیا ہو مگر اس کی سزا بکر کو دے دی جائے پانچویں یہ کہ آدمی جتنے اجر کا مستحق ہو اسے اس سے کم دیا جائے۔ چھٹی یہ کہ آدمی سزا کا مستحق ہو مگر اسے سزا نہ دی جائے اور مظلوم منہ دیکھتا رہ جائے۔ غرضیکہ ظلم کی جتنی بھی صورتیں ممکن ہیں ان میں کسی بھی صورت کا ظلم اللہ کی عدالت میں ہونے نہ پائے گا۔ 23 فیصلہ میں دیر لگنے کی وجہ :۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–18

18۔ (آیت) ” یوم الازفۃ “۔ کے لفظی معنی ” قریب آجانے والی “ ایک نام یوم قیامت کا بھی پڑگیا۔ عبرعنھا بساعۃ (راغب) یعنی یوم القیامۃ (ابن جریر) (آیت) ” الیوم ..... کسبت “۔ آیت کے الفاظ سے یہ نکل رہا ہے کہ ثواب و عذاب بندہ ہی کا کسب کیا ہوا ہوتا ہے اور یہی اشاعرہ کا مذہب ہے۔ قال ابن عطیۃ وھذہ الایۃ نص فی ان الثواب والعقاب متعلق باکتساب العبد وھو علی طریقۃ الاشعریۃ (بحر) (آیت) ” لاظلم الیوم “۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ کسی کا اجڑ گھٹا دیا جائے اور کسی کا عذاب بڑھا دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : کافروں سے فرشتوں کیجانب سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اور وہ جہنم میں داخل ہوتے وقت خود اپنے اوپر غصہ ہوں گے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی تمہارے اوپر غضبناکی کہیں زیادہ تھی تمہارے اپنے اوپر غصہ ہونے سے جس وقت کہ تم کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر تم نہیں مانتے تھے تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا اس لئے کہ وہ بےجان نطفے تھے بعد ازاں ان کو زندہ کیا گیا، پھر ان کو موت دی گئی پھر ان کو بعثت کے لئے زندہ کیا گیا سو ہم اپنے گناہوں (یعنی) انکار بالبعث کا اقرار کرتے ہیں تو کیا نار دوزخ سے نکلنے اور دنیا کی طرف واپس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الیوم تجزی کل نفس بما کسبت لا ظلم الیوم اس روز ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا ‘ کسی کی حق تلفی اس روز نہیں کی جائے گی۔ اَلْیَوْمَ یعنی اس روز جبکہ مجازی حکومت بھی کسی کی نہ ہوگی اور ظاہری حکومت بھی اللہ ہی کی ہوگی۔ لاَ ظُلْمَ الْیَوْمَ اس روز کسی کی حق تلفی نہ ہوگی ‘ یعنی نہ کسی کے ثواب میں کمی کی جائے گی ‘ نہ عذاب میں زیادتی جیسا اللہ نے وعدہ کیا ہے ‘ اسی کے مطابق بدلہ دیا جائے گا ‘ کیونکہ اس وقت حکومت صرف اللہ کی ہوگی اور اللہ کی حکومت میں ظلم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ‘ ظلم کا تصور تو وہاں کیا جاسکتا ہے جو مالک کی اذن کے بغیر اس کے مملوک میں کیا جائے ‘ اللہ تو سب کا مالک ہے جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آج کسی پر ظلم نہ ہوگا یعنی کسی کی نیکیوں میں سے کچھ کمی نہ کی جائے گی اور نہ ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ جب حساب لینا شروع فرمائیں تو بہت جلد حساب لینے والے ہیں یا یہ کہ جس وقت سزا دیں تو پھر سخت سزا دینے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) لاظلم الیوم : آج کسی قسم کا ظلم نہیں ہوگا کہ کسی کا ثواب کم کردیا جائے ، یا کسی کو اس سے زیادہ عذاب دیا جائے جس کا وہ مستحق ہے۔ (2) ان اللہ سریع الحساب : اللہ تعالیٰ کو تمام جن و انس کا حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگتی، اس کے لئے تمام انسانوں کا حساب ایسے ہی ہے جیسے ایک آدمی کا حساب لینا، کیونکہ اسے ہر چیز کا علم ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ مخلوق کی طرح عاجز نہیں کہ ایک وقت میں ایک ہی مقدمہ سن سکے، یا اصل حقیقت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے جلدی فیصلہ نہ کرسکے۔ انسان اپنے نہیں کہ ایک وقت میں ایک ہی مقدمہ سن سکے، یا اصل حقیقت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے جلدی فیصلہ نہ کرسکے۔ انسان اپنے عجز کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–17

( ھو الذی یرکم ایتیہ۔۔۔۔ ) وما یتذکر الامن ینیب۔ ان آیات سے نصیحت حاصل نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کا اظہار کرتا مگر جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عبادت سے مراد اطاعت ہے اگرچہ کافر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ناپسند کریں تم اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ رفیع الدرجت ذوالعرش۔ ذوالعرش مبتداء کے مضمر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے۔ اخفش نے کہا : مدح کی بناء پر نصب دینا بھی جائز ہے رفیع الدرجت کا معنی ہے بلند صفات والی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کلبی اور سعید بن جبیر نے کہا : سات آسمانوں کو بلند کرنے والا (1) یحییٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ الحاکم (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صحابی کی طرف سے مجھے قصاص کے بارے میں ایک حدیث پہنچی ہے تو میں اپنے اونٹ کے پاس آیا اس پر اپنے کجاوے کو کسا پھر اس صحابی کی ملاقات کے لئے ایک ماہ تک سفر کرتا رہا میں مصر پہنچا اور عبداللہ بن انیس ؓ کے پاس آکر کہا کہ مجھ کو آپ کی طرف سے قصاص کے بارے میں (حدیث پہنچی ہے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو جمع فرمائیں گے (اس حال میں کہ وہ) ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے ہوں گے، ہم نے کہا یہ دونوں کیا ہیں فرمایا ان کے ساتھ کوئی چیز…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلْيَوْمَ تُجْزٰى [ اس دن بدلہ دیا جائے گا ] كُلُّ نَفْسٍۢ [ ہر جان کو ] بِمَا كَسَبَتْ ۭ [وہ جو اس نے کمائی کی ] لَا ظُلْمَ [ کسی طرح سے کوئی بھی ظلم نہیں ہوگا ] الْيَوْمَ ۭ [ اس دن ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] سَرِيْعُ الْحِسَابِ [ حساب لینے کا تیز ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ ) (آج کے دن ہر جان کو اس کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ اس نے کسب کیا) یعنی جو کچھ کمایا یا خیر ہو یا شر ہو اس کا بدلہ دیا جائے گا (لاَ ظُلْمَ الْیَوْمَ ) (آج کے دن کوئی ظلم نہیں) نہ کسی کی کوئی نیکی ضائع جائے گی اور نہ کسی کے اعمالنامے میں کسی برائی کا اضافہ کیا جائے گا جو اس نے نہ کی ہو (اِِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) (بلاشبہ اللہ جلد حساب لینے والا ہے) وہ سب کا حساب بیک وقت لینے پر قادر ہے ایسا نہیں ہے کہ ترتیب وار حساب لینے کی ضرورت ہو اور ایک کا حساب لینا دوسرے کے حساب سے مانع ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–17

بعضے از احوال کفار بعد دخول نار وبیان دلائل قدرت پروردگار : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین کفروا ینادون ......... الی ....... سریع الحساب “۔ (ربط) گزشتہ رکوع میں کتاب الہی کی حقانیت بیان فرماتے ہوئے مجادلین ومعاندین پر وعیدوتہدید تھی اور ساتھ ہی اہل ایمان وطاعت کا اعزاز واکرام اور حاملین عرش فرشتوں کی طرف سے ان کے حق میں دعا و استغفار کا ذکر تھا، تو اس کے بعد ان آیات میں کافروں کی ذلت و حقارت کا بیان ہے کہ قیامت کے روز ان کو کس طرح ذلیل ورسوا ہونا پڑے گا اور اس وقت یہ کافر خود اعتراف کریں گے اور چاہیں گے کہ پھر کسی طرح ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائیں تو ایمان لائیں اور اللہ کی اطاعت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

24:۔ ” وانذرھم “ ” یوم الازفۃ “ سے قیامت کا دن مراد ہے۔ ” الازفۃ “ کا موصوف محذوف ہے۔ والازفۃ صفۃ لمحذوف تقدیرہ یوم الساعۃ الازفۃ او الطامۃ الازفۃ (بحر ج 7 ص 456) ۔ ” الازفۃ القریبۃ “ جیسا کہ سورة معارج رکوع 1 میں ارشاد ہے۔ ” انہم یرونہ بعید او نراہ قریباہ کا ظمین “ شدید رنج و غم اور درد و کرب میں مبتلا ہوں گے اور ان کا پیمانہ غیظ لبریز ہوگا۔ کا ظمین ای مکروبین والکاظم الساکت حال امتلائہ غما وغیظا (کبیر ج 7 ص 311) ۔ یہ حکمانہ الٰہی سے متعلق تخویف اخروی ہے، ان کو اس قریب ہی آنے والی ہولناک آفت (قیامت) سے خبردار کر دو جب شدت خوف سے منکرین کے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے اور وہ غم واندوہ میں گھٹ رہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–20

ربط آیات : گذشتہ آیات میں فرمایا کہ قیامت والے دن کافر لوگ خود اپنے آپ پر غصے ناراضگی اور بیزاری کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے دنیا میں ایمان قبول کیوں نہ کیا مگر ان سے کہا جائے گا کہ تمہاری اس ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس وقت بھی زیادہ تھی جب تمہیں بیان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کردیتے تھے ، پھر وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے خواہش ظاہر کریں گے کہ انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے سابقہ عقائد و اعمال کی تلافی کرسکیں ، مگر یہ ممکن نہ ہوگا ان کو سزا مل کر رہے گی ، کیونکہ دنیا میں جب اللہ وحدہ لا شریک کو پکارا جاتا تھا ، تو یہ لوگ انکار کردیتے تھے اور جب شرکیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلْيَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍؚبِمَا كَسَبَتْ۝ 0ۭ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۝ 17 جزا الجَزَاء : الغناء والکفاية، وقال تعالی: لا يَجْزِي والِدٌ عَنْ وَلَدِهِ وَلا مَوْلُودٌ هُوَ جازٍ عَنْ والِدِهِ شَيْئاً [ لقمان/ 33] ، والجَزَاء : ما فيه الکفاية من المقابلة، إن خيرا فخیر، وإن شرا فشر . يقال : جَزَيْتُهُ كذا وبکذا . قال اللہ تعالی: وَذلِكَ جَزاءُ مَنْ تَزَكَّى [ طه/ 76] ، ( ج ز ی ) الجزاء ( ض ) کافی ہونا ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا } ( سورة البقرة 48 - 123) کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا ۔ کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے اور نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–17

ترکیب : ھو الذی مبتدء یریکم خبرہ و ینزل خبرثان ولو وصیلۃ یتعلق بادعوا اللہ رفیع الدرجات خبر ثالث ذوالعرش خبر رابع یلقی الروح خبر خامس من امرہ متعلق بیلقی من عبادہ بیان لمن یشاء لینذر فاعلہ الضمیر یرجع الی اللہ و المفعول محذوف العذاب یوم التلاق مفعول فیہ للعذاب و یمکن ان یکون مفعولا بہ یوم ھم بدل منہ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ مشرکوں کا یہ حال ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ناخوش ہوتے ہیں اور جو اس کے ساتھ اوروں کو بھی ملایا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں، اب یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ اس کے ساتھ کون شریک ہوسکتا، تمام کاروبار اور جمیع منافع انسانیہ دینیہ و دنیویہ اسی کے ہاتھ ہیں۔ فقال ھو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلْیَوْمَ تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ لاَ ظُلْمَ الْیَوْمَ ط اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ (المؤمن : 17) (آج ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا، آج کوئی ظلم نہیں ہوگا، اللہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔ ) قیامت کامل عدل کے ظہور کا دن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی کامل فرماں روائی اور کامل عدل کا ظہور ہوگا۔ کوئی شخص ایسا نہیں رہے گا جس نے کوئی نیکی کی ہو اور اسے اس کا صلہ نہ ملے۔ اور نہ کوئی شخص ایسا ہوگا کہ اس نے کوئی برائی کی ہو تو اسے برائی کی سزا نہ ملے۔ ہر شخص نے دنیا میں اپنی زندگی میں جو کچھ کیا ہوگا چاہے کسی کو اس کی خبر ہو یا نہ ہو اور ممکن ہے اس کو وہ خود بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–17

فہم القرآن ربط کلام : جس ایک ” اللہ “ کے ساتھ مشرک شرک کرتے ہیں صرف وہی تو ہے جو سب کو رزق دیتا ہے۔ مگر مشرک اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مشرک کی عادت اور بد قسمتی پر غور فرمائیں کہ جو ” اللہ “ اسے اور سب کو آسمانوں سے رزق فراہم کرتا ہے۔ اسے حقیقی داتا ماننے کے لیے تیار نہیں اور نہ اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ شرک کی نحوست اور جہالت کی وجہ سے مشرک اس قدر اپنے رب سے ذہنی اور عملی طور پر دور ہوچکا ہوتا ہے کہ جوں ہی اللہ تعالیٰ کی وحدت اور توحیدِخالص کا ذکر ہو۔ مشرک کو ایسی بات نہایت ہی گراں گزرتی ہے۔ جس وجہ سے مشرک نصیحت پانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ حقیقی نصیحت کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ہر خیر و شر کا بدلہ دیا جائے گا : اَلْيَوْمَ تُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ ۭ لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ ، آج ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا، آج کچھ ظلم نہ ہوگا، بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والے ہیں۔ جب یہ بات پختہ ہوچکی کہ بادشاہی اس دن اکیلے اللہ تعالیٰ کی ہوگی۔ تو اب اس کے نتائج گنوائے۔ نمبر 1 ۔ ہر نفس کو جو عمل خیر و شر میں سے اس نے کیا اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ نمبر 2 ۔ ظلم اس کی طرف سے بالکل نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ ظلام للعبید نہیں ہے۔ نمبر 3 ۔ حساب میں دیر نہ لگے گی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک کا حساب دوسرے سے مشغول نہیں کرسکتا۔ پس وہ تمام مخلوق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16، یوم ھم بارزون، اپنی قبروں سے نکلیں گے بالکل ظاہرہوں گے کوئی چیزان کونہ چھپائے گی ۔ ، لایخفی علی اللہ منھم، ان کے اعمال و احوال میں سے ، شیئ، اور اللہ تعالیٰ اس دن مخلوق کے فناء ہونے کے بعد کہیں گے۔ ، لمن الملک الیوم، کوئی اللہ تعالیٰ کو جواب دینے والا نہ ہوگا تو بذات خود جواب دیتے ہوئے فرمائیں گے، للہ الواحدالقھار، جو مخلوق کو موت دے کر غالب آگیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–20

14۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور طرح طرح کے جھگڑے اللہ کے حکم کے ماننے میں نکالتے تھے پھر فرمایا تھا کہ قرآن شریف کی آیتوں سے وہی لوگ نصیحت پاسکتے ہیں جن کا دل خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رجوع اور مائل ہے اب ان آیتوں میں ان ہی صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی یاد اور اللہ کی عبادت کئے جائو اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی ناخوشی کا کچھ خیال نہ کرو صحیح و مسلم 1 ؎ ابوداو ود و نسائی میں حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 17 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے باطل میں سے حق کو واضح کیا، وہ اپنے بندوں کو آیات نفسیہ، آیات آفاقیہ اور آیات قرآنیہ کا مشاہدہ کراتا ہے جو ہر مطلوب و مقصود پر اس طرح دلالت کرتی ہیں کہ ان میں غور و فکر کرنے والے کے لئے معرفت حقائق میں ادنیٰ اس بھی شک نہیں رہتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے حق کو مشتبہ رکھا ہے نہ صواب کو مشکوک، بلکہ اللہ تعالیٰ نے دلائل کو متنوع طریقوں سے بیان اور آیات کو واضح کیا تاکہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ ماسئل جتنے اہم اور بڑے ہوں گے، ان کے دلائل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

37 اللہ سب پر غالب ہے ۔ سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو سب پر غالب ہے "۔ ایسا غالب کہ نہ کوئی اس کے ارادئہ و پروگرام میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے نکل کر کہیں بھاگ سکتا ہے کہ وہ قادر مطلق سب بادشاہوں کا بادشاہ، اصل اور حقیقی بادشاہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کا قہر اور غلبہ سب پر حاوی ہوگا۔ کوئی اس سے باہر نہیں ہوسکتا۔ ہر کام اس کے حکم و ارشاد کے تابع ہوگا۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ زمین و آسمان کی یہ ساری کائنات اسی کی مخلوق اور اسی کی مملوک و محکوم ہے۔ سب پر اسی کا حکم وتصرف ہے اور سب اسی کے تھامے سے تھمے ہوئے ہیں۔ وہ اگر ایک لمحہ کے لیے بھی اپنی نظر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–22

کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 20: اسرار و معارف : آج تو جسمانی اور مادی فوائد کفار کو بہت عزیز ہیں مگر جہنم میں انہیں خود اپنی ذات سے بھی نفرت ہوگی اور انگلیاں کاٹ کاٹ کھائیں گے کہ لعنت ہو ایسے وجود پر جسے ہم پالتے رہے اللہ کی اطاعت نہ کی تو انہیں آواز دی جائے گی جب تم دنیا میں کفر پہ اصرار کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے تو اللہ کو تمہارے وجودوں سے اس سے زیادہ نفرت تھی جتنی خود سے آج تم کو ہے۔ تب پکار کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم جان گئے کہ تو نے ہمیں دو بار موت دی ایک بار تو مادہ کی صورت میں تھے پھر دنیا سے آخرت کے سفر پر موت کے راستے سے چلے اور دو بار زندگی بھی ایک بار دنیا میں دنیا میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی کسی کا ثواب کم نہ کیا جائے گا اور نہ کسی کے عذاب میں، جس کا وہ واقعی مستحق ہے، اضافہ کیا جائے گا ۔12 یعنی اللہ تعالیٰ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی کیونکہ اسے ہر چیز کا علم ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:17) الیوم تجزی ۔۔ سریع الحساب۔ آج ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ ملے گا۔ آج ذرا ظلم نہیں ہوگا۔ بیشک اللہ بہت جلد حساب لے ڈالنے والا ہے۔ (جواب کا ضمیمہ ہے) اس سوال و جواب کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ سوال و جواب ساری مخلوق کے مرنے کے بعد اور دوبارہ پیدا کرنے سے پہلے ہوگا۔ اور سوال کرنے والا اور جواب دینے والا خود اللہ کی ذات ہوگی۔ جب ہر چیز فناء ہوجائے گی اور کوئی شے باقی نہ رہے گی۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ للّٰہ الواحد القھار۔ (2) یہ سوال و جواب اس وقت ہوگا جب ساری مخلوق زندہ ہو کر خدا کے حضور کھڑی ہوگی اور ہر شخص کا ظاہرہ و باطن اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہوگا۔ اور یہ امر شک وشبہ سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–20

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 20 : ینادون ( یدائ) ( آواز دیں گے) مقت اللہ ( اللہ کا غصہ) تدعون (تم پکارے جائو گے) امتنا ( تو نے ہمیں موت دی) احییتنا (تو نے ہمیں زندگی دی) ینیب (وہ لوٹتا ہے، رجوع کرتا ہے) رفیع ( بلند) الروح ( روح ، وحی) التلاق (ملاقات ، ملنا) برزون (ظاہر ہونے والے ، بےپردہ) القھار (زبردست ، قوت والا) الازقۃ ( قریب آنے والی ، نزدیک آنے والی) الحناجر (حنجور) ( گلے ، کلیجے) کظمینا (غصہ پی جانے والے) حمیم (قریبی دوست) خائنۃ ( خیانۃ) ( چوری کرنے والی ، خیانت کرنے والی) لم یقضون (وہ فیصلہ نہیں کرتے) تشریح : آیت نمبر 10 تا 20 :۔ دنیا میں کفر و شرک اور گناہ کرنے والے لوگ مختلف باتوں اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–20

توحیدکابیان۔ (ف 2) ان آیتوں میں صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی عباد کیے جاؤ، اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی خوشی کا کچھ خیال نہ کرو، اب آگے اللہ تعالیٰ نے خالص عبادت کا نتیجہ ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا جن کے سبب سے خالص عبادت الٰہی کی ہدایت لوگوں کو ہوتی ہے اور خالص عبادت کرنے والوں کا درجہ ہر ایک رتبہ کے موافق قیامت کے دن بلند ہوگا قتادہ کے قول کے موافق یہاں روح کے معنی وحی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو نبوت کے قابل پاتا ہے اس کو نبی مقرر کرکے بذریعہ وحی کے اپنے نبی پر اس لیے احکام…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–17

[6] اس جملے کا تعلق پہلے جملے سے اس طرح ہے کہ مقدمے کو دیر تک لٹکائے رکھنا اہل مقدمہ پر بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ سو قیامت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتنا بھی ظلم نہ ہوگا۔ اس کے سامنے واقعات کی ناقابل انکار شہادتیں بلاتاخیر پیش کی جائیں گی۔ اس لئے ہر مقدمے کا فیصلہ جھٹ پٹ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–21

ف 1: قابل غور چیز یہ ہے ۔ کہ کیونکر انسان ان پتھروں اور زید و روح کے لاشوں کو خدا سمجھ لیتا ہے ۔ اور کس طرح ان کی عبادت میں اسکو روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے ۔ حالانکہ نہ یہ اس کی باتوں کو سن سکیں اور نہ ان کے نعمتہائے عقیدت سے واقفیت حاصل کرسکیں ۔ جو خدا ہماری آواز کو نہیں سنتا ۔ اور ہمارے دلی جذبات کو نہیں جانتا ۔ وہ کیونکر خدا ہوسکتا ہے ؟ ہم تو فطرتاً ایسا خدا چاہتے ہیں ۔ جو غموں اور مصیبتوں میں بغیر نالہ وفریاد اور شیون وبکا کے ہماری دستگیری کرے ۔ اور ہمیں روحانی تسکین عطا کرے ۔ جو براہ راست ہمارے کلیجے کے داغہائے الم کو دیکھتا ہو ۔ اور ہماری پردرد آواز کو سنتا ہو ۔ اور کیوں یہ فرض کرلیتے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) آج کے دن ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا آج کسی پر کچھ ظلم نہیں ہوگا بیشک اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کردینے والا ہے۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک ماہ کا سفرکرکے عبداللہ ابن انیس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا ایک حدیث آپ کے پاس قصاص کے بارے میں ہے وہ سننے کے لئے آیا ہوں انہوں نے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قیامت کے دن غیر ختنہ شدہ اور بےسرو سامان اٹھائے جائیں گے پھر سب کو اللہ تعالیٰ آواز دے کر کہے گا اور اس آوازکو سب سنیں گے وہ قریب ہوں یا دور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں اور میں انصاف کرنے والا ہوں اہل دوزخ اور اہل جنت دونوں ٹھہر جائیں جب تک میں حقوق کا بدلا نہ دلوادوں تب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–18

(ف 6) یعنی چونکہ حق تعلای کے علو و کبریاء کے اعتبار سے یہ جرم عظیم تھا اس لئے فیصلہ میں عقوبت بھی عظیم تجویز ہوئی، یعنی خلود۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ وہ دن ہے کہ ہر ایک جان کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا 17۔ دنیا کیا ہے ؟ دارالعمل ہے اور ضروری نہیں کہ ہر عمل کا بدلہ اسہ وقت انسان کو مل جائے جب اس نے وہ عمل کیا ہو بلکہ اس کے عمل کا نتیجہ حکمت الہٰی نے موخر کردیا ہے اور اگر یہ تاخیر نہ ہوتی تو یہ نظام ایک منٹ کے لیے بھی نہ چل سکتا اور یہ بھی کہ کوئی شخص اپنی کیے کا جوابدہ نہ ہوتا مشیت ایزدی نے نتیجہ کو موخر رکھا ہے اور اس کے لیے ایک خاص دن مقرر کردیا ہے جیسا کہ امتحان کا دن مقرر کیا جاتا ہے اور اس دن کا نام قیاقت کا دن ہے جس کو (الیوم) کہا گیا ہے۔ اس روز ہر شخص کو اس کے اپنے عمل کا بدلہ ملے گا اور کسی شخص کی کسی طرح سے بھی حق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–19

In verse 19, it was said: يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ (He knows the treachery of the eyes), in other words, eyes that betray the trust. It means the action of a person who would, secretly and surreptitiously, cast a glance over something haram and impermissible for him or her, for example, casts a glance at a non-mahram person with sexual desire, and takes it away in the event someone was around, or casts a glance in a manner that is not noticed by others. All these things are open before Allah Ta’ ala.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

28 That is, "None shall be wronged in any way whatever today." It should be noted that in respect of recompense, injustice can have several forms; (1) A person may deserve a reward but he is not given it; (2) he is given a lesser reward than what was due to him; (3) he is given a punishment although he is not liable to any punishment; (4) the one who is liable to punishment is not given any punishment; (5) the one who is liable to a lesser punishment is given a greater punishment; (6) the oppressor goes Scot-free; and (7) one is seized for the sin committed by another. What Allah means to say…

Read the full tafseer →