Explained with ayahs 10–14
کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو۔
قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہوجائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 22
دین کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی وضاحت سورة زمر 3 میں کی جاچکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
خلاصہ تفسیر
وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں (قدرت کی) دکھاتا ہے (تا کہ تم ان سے توحید پر استدلال کرو اور وہی ہے جو) آسمان سے تمہارے لئے رزق بھیجتا ہے (یعنی بارش بھیجتا ہے جس سے رزق پیدا ہوتا ہے، یہ بھی منجملہ مذکورہ نشانیوں کے ہے) اور (ان نشانیوں سے) صرف وہی شخص نصیحت قبول کرتا ہے، جو (خدا کی) طرف رجوع (کرنے کا ارادہ) کرتا ہے (کیونکہ ارادہ رجوع سے غور وتامل نصیب ہوتا ہے، اس سے حق تک رسائی ہوجاتی ہے) تو (جب توحید پر دلائل قائم ہیں تو) تم لوگ خدا کو خالص اعتقاد کر کے (یعنی توحید کے ساتھ) پکارو (اور مسلمان ہوجاؤ) اگر کافروں کو ناگوار ہو (اس کی پروا نہ کرو کیونکہ) وہ رفیع الدرجات ہے، وہ عرش کا مالک…
Read the full tafseer →اہل ایمان کو دعوت عزم
یہ خطاب مسلمانوں سے ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ مشرکین آنکھیں کھولنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور تمہاری دعوت توحید سے یہ چڑتے اور تم سے لڑتے ہیں تو اب ان کی کوئی پروا نہ کرو بلکہ ان کے علی الرغم تم اپنے رب ہی کو بلاشرکت غیرے پکارو اور خالص اطاعت کے ساتھ اس کی بندگی کرو۔
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی جب سب کچھ اللہ ہی اکیلا کرنے والا ہے تو کافروں کو چاہے کتنا بھی ناگوار گزرے صرف اسی ایک اللہ کو پکارو اس کے لیے عبادت و اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
آیت نمبر 13 تا 17
ھوالذی یریکم اٰیٰته (40: 13) ” وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے “۔ اور اللہ کی نشانیاں تو اس کائنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔ شمس وقمر کی گردش میں ، رات اور دن کے نظام میں۔ رعد وبرق اور بارو باراں میں ، ذرے ، خلیے ، پتے اور پتیوں میں عرض ہر چیز میں ایک معجزانہ نشانی ہے اور اس نشانی کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کی نقل کرنے کے لیے بیٹھے۔ یا اس جیسی کوئی چیز بنائے لیکن اے کاش کہ وہ اس قسم کی کسی چیز کی نقل کرسکتا یا اس جیسی ہی بناسکتا اور اللہ کی بنائی ہوئی ایک نہایت ہی چھوٹی چیز ہی بناسکتا۔
وینزل لکم من السمآء رزقا (40: 13) ” اور آسمانوں سے تمہارے لیے…
Read the full tafseer →6 یعنی بندوں کو چاہیے سمجھ سے کام لیں۔ اور ایک خدا کی طرف رجوع ہو کر اسی کو پکاریں، اس کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کریں بیشک محض بندوں کے اس موحدانہ طرز عمل سے کافر و مشرک ناک بھوں چڑھائیں گے کہ سارے دیوتا اڑا کر صرف ایک ہی خدا رہنے دیا گیا۔ مگر پکا موحد وہ ہی ہے جو مشرکین کے مجمع میں توحید کا نعرہ بلند کرے۔ اور ان کے برا ماننے کی اصلًا پروا نہ کرے۔
Read the full tafseer →آیت 14 { فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ } ”پس تم پکارو اللہ کو اسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے ‘ خواہ یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔“
مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَکے یہ کلمات سورة الزمر اور اس سورت کے درمیان مماثلت اور مشابہت کی علامت ہیں۔ دونوں سورتوں میں یہ کلمات بار بار آئے ہیں۔ ظاہر ہے توحید خالص کا عملی مظاہرہ اللہ کے نافرمانوں اور طاغوتی کارندوں کو تو کبھی بھی اچھا نہیں لگے گا۔ وہ تو چاہیں گے کہ ”اللہ کا حصہ اللہ کو دیا جائے اور قیصر کا حصہ قیصرکو !“ یعنی توحید کا ذکر بھی ہوتا رہے اور کاروبارِ شرک بھی چلتا رہے۔ کبھی کبھار کوئی حکم اللہ کا بھی…
Read the full tafseer →17 کائنات کی تمام قوتیں ایک ہی حاکم اعلیٰ کے حکم کے تحت سرگرم عمل ہیں :۔ ان آیات الٰہی میں غور کرنے سے یہی نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ کائنات کی تمام قوتیں ایک ہی حاکم اعلیٰ کے زبردست کنٹرول کے تحت سرگرم عمل ہیں۔ لہذا تمہیں بھی خالصتاً اسی کی حاکمیت تسلیم کرکے باقی ساری کائنات کے ہم آہنگ ہوجانا چاہئے۔ رہے وہ لوگ جو اللہ کی ان قدرتوں میں غور و فکر گوارا ہی نہیں کرتے تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ان کی آنکھوں پر غفلت، تعصب اور تقلید آباء کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ اور انہی باتوں میں مگن رہنے میں ہی وہ خوشی محسوس کرتے ہیں اور انگر انہیں حقائق کی طرف توجہ دلائی جائے تو ان کا تسلیم کرنا تو درکنار، انہیں اس طرف…
Read the full tafseer →15۔ یعنی ہر شائبہ شرک سے اور ہر آمیزش کفر سے پاک صاف ہو کر حق تعالیٰ کو پکارو اور یہ توحید خالص ہی تو کافروں کو شاق گزرتی ہے۔ (آیت) ” وما یتذکر الا من ینیب “۔ یعنی پندونصیحت کارگر اسی کے حق میں ہوتی ہے جو حق تعالیٰ کی طرف قصد رجوع رکھتا ہو۔ غور وتامل اسی قصد رجوع سے پیدا ہوتا ہے۔ اور وہی حق تعالیٰ تک پہنچا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : کافروں سے فرشتوں کیجانب سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اور وہ جہنم میں داخل ہوتے وقت خود اپنے اوپر غصہ ہوں گے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی تمہارے اوپر غضبناکی کہیں زیادہ تھی تمہارے اپنے اوپر غصہ ہونے سے جس وقت کہ تم کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر تم نہیں مانتے تھے تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا اس لئے کہ وہ بےجان نطفے تھے بعد ازاں ان کو زندہ کیا گیا، پھر ان کو موت دی گئی پھر ان کو بعثت کے لئے زندہ کیا گیا سو ہم اپنے گناہوں (یعنی) انکار بالبعث کا اقرار کرتے ہیں تو کیا نار دوزخ سے نکلنے اور دنیا کی طرف واپس…
Read the full tafseer →فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکفرون پس (جب تم نے مشرکوں کا انجام سن لیا) تم خالص اعتقاد کر کے (تنہا) اللہ کو پکارو ‘ خواہ کافروں کو ناگوار ہی ہو۔
یعنی کافروں کو اس بات پر غصہ ہی آئے۔
Read the full tafseer →تو تم لوگ اخلاص اور توحید کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اگرچہ مکہ والوں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔
Read the full tafseer →فادعواللہ مخلصین لہ الدین :”الدین“ کا معنی عبادت بھی ہے اور اطاعت بھی۔ یعنی جب تمہاری روزی کا مالک وہی ہے تو اپنی عبادت اور اطاعت کو اسی کے لئے خلاص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارو ، اس کی بندگی میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو۔
(2) ولو کرہ الکفرون : یعنی تمہارے اللہ واحد کو پکارنے سے کافر و مشرک ناک بھوں چڑھائیں گے، سو تم ایک اللہ کی عبادت و اطاعت پر قائم رہو، خواہ کافر اسے کتنا ہی ناپسند کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
( ھو الذی یرکم ایتیہ۔۔۔۔ )
وما یتذکر الامن ینیب۔ ان آیات سے نصیحت حاصل نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کا اظہار کرتا مگر جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عبادت سے مراد اطاعت ہے اگرچہ کافر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ناپسند کریں تم اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔
رفیع الدرجت ذوالعرش۔ ذوالعرش مبتداء کے مضمر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے۔ اخفش نے کہا : مدح کی بناء پر نصب دینا بھی جائز ہے رفیع الدرجت کا معنی ہے بلند صفات والی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کلبی اور سعید بن جبیر نے کہا : سات آسمانوں کو بلند کرنے والا (1) یحییٰ…
Read the full tafseer →1:۔ مسلم وابو داؤد والنسائی (رح) نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے بعد (یہ دعا پڑھتے تھے ) ۔
لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر ولا الہ الا اللہ ولا نعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکفرون۔
ترجمہ : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کی بادشاہی ہے اور اس کی تعریف ہیں اور وہ ہر چیز پر قاد رہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم خاص کر اس کی عبادت کرتے ہیں خالص اسی کا اعتقاد رکھتے ہوئے اگرچہ کافر اس کو ناپسند کریں۔
Read the full tafseer →فَادْعُوا اللّٰهَ [ پس تم لوگ پکارو اللہ کو ] مُخْلِصِيْنَ [ ملاوٹ سے پاک کرنے والے ہوتے ہوئے ] لَهُ الدِّيْنَ [ اس کے لئے نظام حیات کو ] وَلَوْ كَرِهَ [ اور اگرچہ کراہیت کریں ] الْكٰفِرُوْنَ [ کافر لوگ ]
Read the full tafseer →(فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ ) (سو تم اللہ کو پکارو اسی کی عبادت کرو اور دین کو اس کے لیے خالص رکھو) یعنی اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بناؤ (وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ ) (اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو) تم اللہ کے بندے ہو خالص اسی کی عبادت کرو توحید اور ایمان پر مستقیم رہنا اور خالص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنا یہ تمہارا فریضہ ہے جو لوگ تمہارے دین کو قبول نہیں کرتے وہ تم سے اور تمہارے عقیدہ توحید اور اخلاص فی العبادۃ سے راضی نہیں انہیں ناراض رہنے دو ان کی ناراضگی اور ناگواری کی کوئی پروا نہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
بعضے از احوال کفار بعد دخول نار وبیان دلائل قدرت پروردگار :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین کفروا ینادون ......... الی ....... سریع الحساب “۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں کتاب الہی کی حقانیت بیان فرماتے ہوئے مجادلین ومعاندین پر وعیدوتہدید تھی اور ساتھ ہی اہل ایمان وطاعت کا اعزاز واکرام اور حاملین عرش فرشتوں کی طرف سے ان کے حق میں دعا و استغفار کا ذکر تھا، تو اس کے بعد ان آیات میں کافروں کی ذلت و حقارت کا بیان ہے کہ قیامت کے روز ان کو کس طرح ذلیل ورسوا ہونا پڑے گا اور اس وقت یہ کافر خود اعتراف کریں گے اور چاہیں گے کہ پھر کسی طرح ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائیں تو ایمان لائیں اور اللہ کی اطاعت…
Read the full tafseer →18:۔ ” فادعوا الخ “ تمہید اور ترغیب کے بعد پہلی بار دعوی کا ذکر ہے۔ ” فاء “ فصیحہ ہے اور اس کی شرفط محذوف ہے ای ذا کان الامر کما ذکر من اختصاص التذکر بمن ینیب فاعبدوہ ایھا المومنون مخلصین لہ دینکم الخ ‘ (ابو السعود ج 7 ص 301) ۔ یعنی جب معاملہ یہ ہے کہ صرف انابت کرنے والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں، تو ایمان والو ! تم خالصۃً اللہ ہی کو پکارو۔ لیکن حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک ” فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین “ اس سورت کا مرکزی دعوے ہے جو ابتدائے سورت سے لے کر یہاں تک بیان شدہ تمہید و ترکیب کے سارے مضمون پر مترتب ہے جس کا حاصل یہ ہے۔ جب تمہیں معلوم ہوگیا کہ یہ حکمنامہ جو ” فادعوا اللہ الخ “ کے مضمون پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں فرمایا کہ قیامت والے دن کافر لوگ خود اپنے آپ پر غصے ناراضگی اور بیزاری کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے دنیا میں ایمان قبول کیوں نہ کیا مگر ان سے کہا جائے گا کہ تمہاری اس ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس وقت بھی زیادہ تھی جب تمہیں بیان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کردیتے تھے ، پھر وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے خواہش ظاہر کریں گے کہ انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے سابقہ عقائد و اعمال کی تلافی کرسکیں ، مگر یہ ممکن نہ ہوگا ان کو سزا مل کر رہے گی ، کیونکہ دنیا میں جب اللہ وحدہ لا شریک کو پکارا جاتا تھا ، تو یہ لوگ انکار کردیتے تھے اور جب شرکیہ…
Read the full tafseer →فَادْعُوا اللہَ مُخْلِصِيْنَ لَہُ الدِّيْنَ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ 14
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ترکیب : ھو الذی مبتدء یریکم خبرہ و ینزل خبرثان ولو وصیلۃ یتعلق بادعوا اللہ رفیع الدرجات خبر ثالث ذوالعرش خبر رابع یلقی الروح خبر خامس من امرہ متعلق بیلقی من عبادہ بیان لمن یشاء لینذر فاعلہ الضمیر یرجع الی اللہ و المفعول محذوف العذاب یوم التلاق مفعول فیہ للعذاب و یمکن ان یکون مفعولا بہ یوم ھم بدل منہ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ مشرکوں کا یہ حال ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ناخوش ہوتے ہیں اور جو اس کے ساتھ اوروں کو بھی ملایا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں، اب یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ اس کے ساتھ کون شریک ہوسکتا، تمام کاروبار اور جمیع منافع انسانیہ دینیہ و دنیویہ اسی کے ہاتھ ہیں۔ فقال ھو…
Read the full tafseer →فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ وَلَوْکَرِہَ الْـکٰفِرُوْنَ ۔ (المؤمن : 14)
(تو اللہ ہی کو پکارو، اس کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے، خواہ تمہارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ )
ایمان کے ساتھ اطاعت کا عزم بھی ضروری ہے
کافر چونکہ قلب منیب سے محروم ہوچکے اور اللہ کی نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے قلب منیب ضروری ہے۔ یہ دولت اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو نصیب کی ہے جو عقل اور شعور کے صحیح استعمال سے ایمان کی دولت تک پہنچتے ہیں۔ انھیں خطاب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے اگر ایمان کی دولت دے دی ہے تو اب اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم اپنے اللہ کو اس طرح پکارو کہ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
فہم القرآن
ربط کلام : جس ایک ” اللہ “ کے ساتھ مشرک شرک کرتے ہیں صرف وہی تو ہے جو سب کو رزق دیتا ہے۔ مگر مشرک اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
مشرک کی عادت اور بد قسمتی پر غور فرمائیں کہ جو ” اللہ “ اسے اور سب کو آسمانوں سے رزق فراہم کرتا ہے۔ اسے حقیقی داتا ماننے کے لیے تیار نہیں اور نہ اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ شرک کی نحوست اور جہالت کی وجہ سے مشرک اس قدر اپنے رب سے ذہنی اور عملی طور پر دور ہوچکا ہوتا ہے کہ جوں ہی اللہ تعالیٰ کی وحدت اور توحیدِخالص کا ذکر ہو۔ مشرک کو ایسی بات نہایت ہی گراں گزرتی ہے۔ جس وجہ سے مشرک نصیحت پانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ حقیقی نصیحت کی…
Read the full tafseer →ربط : پھر رجوع کرنے والوں کو فرمایا : فَادْعُوا اللّٰهَ ، پس تم اللہ تعالیٰ کو پکارو۔ پس اسی کی عبادت کرو۔ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ ، اس کا خالص اعتقاد کر کے۔ شرک سے خالص کرنا مراد ہے۔ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ، اگرچہ کافروں کو ناگوار ہو۔ اگرچہ تمہارے وہ دشمن تم پر یہ عیب لگائیں جو تمہارے دین پر نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر 13۔ ، ھوالذی یریکم آیاتہ وینزل لکم من السماء رزقا، یعنی بارش جو رزق کا سبب ہے۔ ، وما یتذکر، اور ان آیات سے نصیحت حاصل نہیں کرتا، الا من ینیب ، جو تمام امور میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
14۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور طرح طرح کے جھگڑے اللہ کے حکم کے ماننے میں نکالتے تھے پھر فرمایا تھا کہ قرآن شریف کی آیتوں سے وہی لوگ نصیحت پاسکتے ہیں جن کا دل خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رجوع اور مائل ہے اب ان آیتوں میں ان ہی صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی یاد اور اللہ کی عبادت کئے جائو اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی ناخوشی کا کچھ خیال نہ کرو صحیح و مسلم 1 ؎ ابوداو ود و نسائی میں حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
آیت 12
اللہ تبارک و تعالیٰ اس فضیحت و رسوائی کا ذکر کرتا ہے جس کا کفار کو اسمنا کرنا ہوگا، نیز ان کی دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کے رد ہونے اور ان پر زجر و توبیخ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ان الذین کفروا) ” بیشک جن لوگوں نے کفر کیا۔ “ اللہ تعالیٰ نے اسے مطلق بیان کیا ہے تاکہ یہ کفر کی تمام انواع کو شامل ہو، مثلاً اللہ تعالیٰ ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار وغیرہ۔ جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو اقرار کریں گے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث جہنم کے مستحق ہیں۔ وہ اپنے آپ پر شدید غیظ و غضب کا اظہار کریں گے۔ تب اس وقت ان کو پکار کر کہا جائے گا : (لمقت اللہ) یعنی تم پر…
Read the full tafseer →29 اللہ ہی کو پکارنے کا حکم وارشاد : سو اس ارشاد میں مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی کہ مشرکوں کو اگر توحید سے چڑ ہے تو ہوتی رہے۔ تم لوگ اللہ وحدہ لا شریک ہی کو پکارو۔ سو ارشاد ہوا کہ " تم لوگ اللہ ہی کو پکارو اسی کیلئے خالص کرتے ہوئے دین کو "۔ یعنی جب تمہیں معلوم ہوگیا کہ کائنات کی ہر چیز اس کی وحدانیت کی گواہی دے رہی ہے اور تمہیں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ہدایت و توفیق اس کی طرف سچے دل سے رجوع کئے بغیر نہیں مل سکتی تو اب تم اپنی عبادت کو اس کے لئے خالص کرتے ہوئے صرف اسی کو پکارو۔ اور کفار و مشرکین کو تمہارا یہ طریقہ خواہ کتنا ہی برا کیوں نہ لگے تم اس کی کوئی پروا مت کرو۔ ڈنکے کی چوٹ پر حق کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–22
کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت
تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 20:
اسرار و معارف :
آج تو جسمانی اور مادی فوائد کفار کو بہت عزیز ہیں مگر جہنم میں انہیں خود اپنی ذات سے بھی نفرت ہوگی اور انگلیاں کاٹ کاٹ کھائیں گے کہ لعنت ہو ایسے وجود پر جسے ہم پالتے رہے اللہ کی اطاعت نہ کی تو انہیں آواز دی جائے گی جب تم دنیا میں کفر پہ اصرار کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے تو اللہ کو تمہارے وجودوں سے اس سے زیادہ نفرت تھی جتنی خود سے آج تم کو ہے۔ تب پکار کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم جان گئے کہ تو نے ہمیں دو بار موت دی ایک بار تو مادہ کی صورت میں تھے پھر دنیا سے آخرت کے سفر پر موت کے راستے سے چلے اور دو بار زندگی بھی ایک بار دنیا میں دنیا میں…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی توحید پر قائم رہو۔ یہ چیز اگر کافروں کو ناگوار ہو تو ہوا کرے، تم اس کی ہرگز پروا نہ کرو، اللہ تمہارا حامی و مددگار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(40:13) ھو الذی مبتداء ہے یریکم اس کی خبر۔
یریکم : یری فعل مضارع واحد مذکر غائب اراء ۃ مصدر باب افعال کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر وہ تم کو دکھاتا ہے۔
ایتہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یری کا مفعول ثانی۔ وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے ۔ نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت شان اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔
ینزل مضارع واحد مذکر غائب تنزل (تفعیل) مصدر وہ نازل کرتا ہے۔
من السماء اوپر سے۔ سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے۔ ہر شے اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتی ہے۔
رزقا : ینزل کا مفعول ہے یہاں مسبب بیان کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 20 : ینادون ( یدائ) ( آواز دیں گے) مقت اللہ ( اللہ کا غصہ) تدعون (تم پکارے جائو گے) امتنا ( تو نے ہمیں موت دی) احییتنا (تو نے ہمیں زندگی دی) ینیب (وہ لوٹتا ہے، رجوع کرتا ہے) رفیع ( بلند) الروح ( روح ، وحی) التلاق (ملاقات ، ملنا) برزون (ظاہر ہونے والے ، بےپردہ) القھار (زبردست ، قوت والا) الازقۃ ( قریب آنے والی ، نزدیک آنے والی) الحناجر (حنجور) ( گلے ، کلیجے) کظمینا (غصہ پی جانے والے) حمیم (قریبی دوست) خائنۃ ( خیانۃ) ( چوری کرنے والی ، خیانت کرنے والی) لم یقضون (وہ فیصلہ نہیں کرتے)
تشریح : آیت نمبر 10 تا 20 :۔ دنیا میں کفر و شرک اور گناہ کرنے والے لوگ مختلف باتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
توحیدکابیان۔
(ف 2) ان آیتوں میں صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی عباد کیے جاؤ، اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی خوشی کا کچھ خیال نہ کرو، اب آگے اللہ تعالیٰ نے خالص عبادت کا نتیجہ ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا جن کے سبب سے خالص عبادت الٰہی کی ہدایت لوگوں کو ہوتی ہے اور خالص عبادت کرنے والوں کا درجہ ہر ایک رتبہ کے موافق قیامت کے دن بلند ہوگا قتادہ کے قول کے موافق یہاں روح کے معنی وحی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو نبوت کے قابل پاتا ہے اس کو نبی مقرر کرکے بذریعہ وحی کے اپنے نبی پر اس لیے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
[5] قیامت کو روز ملاقات کہا کہ اس دن تمام جن و انس اللہ کے سامنے جمع ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
دعوت توحید
1: قرآن حکیم بطور مدارو مرکز کے جس مسئلہ کا ذکر کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ تمام عالم انسانی احساس مجد کے اس اصول سے براہ راست واقفیت پیدا کرے اور یہ تے کرلے کہ زندگی کی تمام تگ ودو میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائیگا کہ ہم ساری کائنات سے افضل ہیں ۔ اور رب اکوان ہمارا خدا ہے ۔ اسی کی بادشاہت ہے ۔ اور وہی بالا اور برتر ذات ہے ۔ اس عقیدہ یقینا یہ نتیجہ ہوگا ۔ کہ نفس میں وہ تمام خود داری اور رفعت کے جذبات پیدا ہوجائیں گے ۔ جن پر مضبوط اور صالح زندگی کا انحصار ہے ۔ توہمات مٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے میں ایک روحانی قوت اور طاقت محسوس کریگا ۔ ایک نوع کی بالیدگی اور ارتقاء پائیگا ۔ اور پھر ہینت…
Read the full tafseer →(14) پس خاص اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کے اعتقاد سے اس کو پکارو اور اس کی عبادت کرو اگر چو منکر برا مانیں۔ اگر یہ خطاب مسلمانوں کو ہے جیسا کہ ظاہر یہی ہے تب تو مطلب صاف ہے اور اگر خطاب کفار کو ہے تو مطلب یہ ہے کہ خالص اللہ کی بندگی کا اعتقاد رکھ کر اس کی عبادت کرو اور اسلام قبول کرلو خواہ تمہارے ساتھی کتنا ہی برامانیں نبی کریم ﷺ ہر نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔
لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک
ولہ الحمد وھو علی کل شیئی قدیر ولا الہ
الا اللہ ولا نعبد الاایاہ لہ النعمۃ ولہ الفضل
ولہ الثناء الحسن لا الہ الا اللہ مخلصین لہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
(ف 6) یعنی چونکہ حق تعلای کے علو و کبریاء کے اعتبار سے یہ جرم عظیم تھا اس لئے فیصلہ میں عقوبت بھی عظیم تجویز ہوئی، یعنی خلود۔
Read the full tafseer →اے مسلمانوں ! تم اللہ کو پکارو کالص کرکے واسطے اس کے دین
14۔ مسلمانو کو مخاطب کر کے تلقین کی جا رہی ہے کہ تم اپنی حاجت ومشکلات میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کہ ذات کو پکارو کسی اور کو نہ پکارو خواہ وہ کوئی ہو ، کہاں ہو اور کون ہو اگر مشرکوں کو یہ بات پسند نہیں آئی تو نہ آئے تم ان کی پرواہ نہ کرو اگر وہ تمہاری دعوت توحید ان پر شاق گزرتی ہے تو گزرا کرے تم ان سے بےپرواہ ہو جائو وہ مشرک ہو کر اگر تمہاری پرواہ نہیں کرتے تو تم موحد ہو کر ان کی اکثریت سے ہرگز نہ ڈرو کیونکہ موحد اللہ سے ڈرنے اور غیر اللہ سے نہ ڈرنے ہی کا نام ہے اور حق کی پیروی کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عزم وجزم سے کام لیا جائے اور کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
Commentary
The word: دَرَجَات (darajat, translated above as 'stations' ) in: رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ (He is High in stations - 40:15) has been taken by some commentators as meaning 'attributes.' If so, the sense of the expression would be that His attributes of perfection are most exalted. Ibn Kathir has relied on the words as they appear outwardly and has said that it refers to the most exalted 'arsh' (throne) for it comprehends all land masses and heavens and is located above them all like a roof as in Surah Al-Ma'arij: مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ ﴿3﴾ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ…
Read the full tafseer →22 For the explanation of "making one's religion sincerely Allah's", see E.N. 3 of Az-Zumar.
Read the full tafseer →