Explained with ayahs 15–17
روز قیامت سب اللہ کے سامنے ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ اپنی کبریائی اور عظمت اور اپنے عرش کی بڑائی اور وسعت بیان فرماتا ہے۔ جو تمام مخلوق پر مثل چھت کے چھایا ہوا ہے جیسے ارشاد ہے (مِّنَ اللّٰهِ ذِي الْمَعَارِجِ ۭ) 70۔ المعارج :3) ، یعنی وہ عذاب اللہ کی طرف سے ہوگا جو سیڑھیوں والا ہے۔ کہ فرشتے اور روح اس کے پاس چڑھ کر جاتے ہیں۔ ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے اور اس بات کا بیان انشاء اللہ آگے آئے گا کہ یہ دوری ساتویں زمین سے لے کر عرش تک کی ہے، جیسے سلف و خلف کی ایک جماعت کا قول ہے اور یہی راجح بھی ہے انشاء اللہ تعالیٰ۔ بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ عرش سرخ رنگ یاقوت کا ہے جس کے دو کناروں کی…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 23
یعنی تمام موجودات سے اس کا مقام بدرجہا بلند ہے۔ کوئی ہستی بھی جو اس کائنات میں موجود ہے، خواہ وہ کوئی فرشتہ ہو یا نبی یا ولی، یا اور کوئی مخلوق، اس کا مقام دوسری مخلوقات کے مقابلے میں چاہے کتنا ہی ارفع و اشرف ہو، مگر اللہ تعالیٰ کے بلند ترین مقام سے اس کے قریب ہونے تک کا تصور نہیں کیا جاسکتا کجا کہ خدائی صفات و اختیارات میں اس کے شریک ہونے کا گمان کیا جاسکے۔
سورة الْمُؤْمِن 24
یعنی ساری کائنات کا بادشاہ و فرمانروا ہے۔ کائنات کے تخت سلطنت کا مالک ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد دوم، صفحات 36۔ 262۔ 441۔ جلد سوم، ص 87)
سورة الْمُؤْمِن 25
روح سے مراد وحی اور نبوت ہے (تشریح کے…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ۔ درجات سے مراد بعض حضرات نے صفات قرار دیا ہے جس سے رفیع الدرجات کے معنی ہوئے۔ رفیع الصفات یعنی اس کی صفات کمال سب سے زیادہ رفیع الشان ہیں۔ ابن کثیر نے اس کو اپنے ظاہر پر رکھ کر یہ معنی بیان کئے کہ اس سے مراد رفعت عرش عظیم کا بیان ہے کہ وہ تمام زمینوں اور آسمانوں پر حاوی اور سب کے اوپر بمنزلہ چھت کے بلند ہے۔ جیسا کہ سورة معارج کی آیت میں ہے (آیت) من اللہ ذی المعارج تعرج الملئکة والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنة۔
ابن کثیر کی تحقیق اس آیت کے متعلق یہ بھی ہے کہ یہ پچاس ہزار سال کی مقدار اس مسافت کا بیان ہے جو ساتویں زمین سے عرش تک ہے اور اسی کو سلف…
Read the full tafseer →یعنی اللہ تعالیٰ بڑے بلند درجات والا اور تمام کائنات کے عرش حکومت کا مالک ہے۔ اس تک کسی کی رسائی نہیں ہے۔ یہ مشرکین جن کو اس کا شریک وسہیم اور اس کا مقرب بنائے بیٹھے ہیں، یہ سب ان کے خود تراشیدہ مقربین ہیں، خدا کی بارگاہ بلند سب کی پہنچ سے بالا ہے۔
خدا کی رضیات کے علم کا واحد ذریعہ وحی ہے
یلقی الروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ ‘ ’ روح ‘ سے مراد یہاں ’ وحی ‘ ہے۔ وحی کو ’ روح ‘ سے تعبیر کرنے کی وجہ واضح ہے کہ جس طرح روح سے جسم کو زندگی حاصل ہوتی ہے اسی طرح وحی سے انسان کی عقل اور اس کے دل کو زندگی، حرارت اور روشنی حاصل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح ؑ نے اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے کہ ”انسان صرف…
Read the full tafseer →15۔ 1 روح سے مراد وحی ہے جو وہ بندوں میں سے ہی کسی کو رسالت کے لیے چن کر اس پر نازل فرماتا ہے وحی کو روح سے اس لیے تعبیر فربایا کہ جس طرح روح میں انسانی زندگی کی بقا و سلامتی کا راز مضمر ہے اسی طرح وحی سے بھی ان انسانی قلوب میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے جو پہلے کفر و شرک کی وجہ سے مردہ ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
آیت نمبر 13 تا 17
ھوالذی یریکم اٰیٰته (40: 13) ” وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے “۔ اور اللہ کی نشانیاں تو اس کائنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔ شمس وقمر کی گردش میں ، رات اور دن کے نظام میں۔ رعد وبرق اور بارو باراں میں ، ذرے ، خلیے ، پتے اور پتیوں میں عرض ہر چیز میں ایک معجزانہ نشانی ہے اور اس نشانی کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کی نقل کرنے کے لیے بیٹھے۔ یا اس جیسی کوئی چیز بنائے لیکن اے کاش کہ وہ اس قسم کی کسی چیز کی نقل کرسکتا یا اس جیسی ہی بناسکتا اور اللہ کی بنائی ہوئی ایک نہایت ہی چھوٹی چیز ہی بناسکتا۔
وینزل لکم من السمآء رزقا (40: 13) ” اور آسمانوں سے تمہارے لیے…
Read the full tafseer →7 " بھید کی بات " سے وحی مراد ہے جو اول انبیاء (علیہم السلام) پر اترتی ہے اور ان کے ذریعہ سے دوسرے بندوں کو پہنچ جاتی ہے۔ چناچہ قیامت تک اسی طرح پہنچتی رہے گی۔
8 یعنی جس دن تمام اولین و آخرین مل کر اللہ تعالیٰ کی پیشی میں حاضر ہوں گے اور ہر ایک شخص اپنے اچھے یا برے عمل سے ملاقات کرے گا۔
Read the full tafseer →آیت 15 { رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُوالْعَرْشِ } ”وہی اللہ ہے درجات کو بلند کرنے والا ‘ عرش کا مالک۔“
یہاں پھر اللہ کی شان کا بیان مرکب اضافی کی شکل میں ہوا ہے۔
{ یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِ } ”وہ القا کرتا ہے روح کو اپنے امر میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے تاکہ وہ خبردار کر دے لوگوں کو ملاقات کے دن سے۔“
تاکہ اللہ تعالیٰ کے وہ بندے لوگوں کو یاد دہانی کرائیں کہ ایک دن انہوں نے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔ یہاں پر الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ سے وحی مراد ہے۔ فرشتہ ‘ وحی اور انسانی روح تینوں کا تعلق عالم امر سے ہے ‘ لہٰذا ”روح“…
Read the full tafseer →18 یعنی وہ اتنے بلند درجات کا مالک ہے کہ مخلوق کا اس کے قریب ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ چہ جائیکہ اللہ کی صفات اور ان کے اختیارات میں کسی دوسری مخلوق کے شریک ہونے کا تصور کیا جاسکے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے مخلص اور فرمانبرداروں کے درجات کو بلند کرنے والا ہے جس حد تک کوئی شخص اللہ کا فرمانبردار بنتا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند کرتا جاتا ہے اور قیامت کے دن انہیں درجات کے لحاظ سے اہل جنت کو جنت میں مقام عطا کیا جائے گا۔
19 (روح کے مختلف معانی کے لئے دیکھئے سورة النحل کی آیت نمبر 2 کا حاشیہ نمبر 3) مطلب یہ ہے کہ اللہ کو اپنے کسی بندے پر وحی بھیجنے کے سلسلہ…
Read the full tafseer →16۔ (آیت) ” یوم التلاق “۔ مراد ظاہر ہے کہ یوم آخرت سے ہے۔ (آیت) ” رفیع الدرجت “۔ یہاں رافع الدرجات کے معنی میں ہے۔ یعنی بندوں کے درجات و مراتب کا بڑھانے والا، رافع درجات الانبیاء والاولیاء فی الجنۃ (معالم) اے رافع درجات ال مومنین ومنازلھم فی الجنۃ (بحر) بعض نے مرتفع الدرجات کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی صفات عظیم وبلند رکھنے والا، یحتمل ان یکون المراد منہ الرافع وان یکون المراد منہ المرتفع (کبیر) (آیت) ” ذوالعرش “۔ لفظی معنی ہوئے عرش والا، اس سے یہ مراد نہیں کہ نعوذ باللہ اللہ میاں عرش کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں، حق تعالیٰ ہر جسمیت، ہر مکانیت سے پاک و برتر ہیں، مراد صرف یہ ہے کہ وہ اس کا بھی مالک اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : کافروں سے فرشتوں کیجانب سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اور وہ جہنم میں داخل ہوتے وقت خود اپنے اوپر غصہ ہوں گے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی تمہارے اوپر غضبناکی کہیں زیادہ تھی تمہارے اپنے اوپر غصہ ہونے سے جس وقت کہ تم کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر تم نہیں مانتے تھے تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا اس لئے کہ وہ بےجان نطفے تھے بعد ازاں ان کو زندہ کیا گیا، پھر ان کو موت دی گئی پھر ان کو بعثت کے لئے زندہ کیا گیا سو ہم اپنے گناہوں (یعنی) انکار بالبعث کا اقرار کرتے ہیں تو کیا نار دوزخ سے نکلنے اور دنیا کی طرف واپس…
Read the full tafseer →رفیع الدرجت ذوالعرش یلقی الروح من امرہ علی من یشاء من عبادہ وہ عالی درجات والا
ہے ‘ مالک عرش ہے ‘ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی یعنی اپنا حکم نازل فرماتا ہے۔
رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ یعنی اسکے درجات کمال بہت بلند ہیں ‘ کسی کا کمال اس کے کمال کے سامنے نمودار نہیں ہوسکتا۔ بعض اہل تفسیر نے اس فقرہ کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ وہ اپنے انبیاء اور اولیاء کے درجات قرب جنت کے اندر اونچا کرنے والا ہے۔ سب کے درجات ترتیب کے ساتھ ہوں گے ‘ کوئی بہت اونچا ‘ کوئی اس کے قریب۔ ذوالْعَرْشِ یعنی عرش کا خالق اور مالک ہے۔
یُلْقِی الرُّوْحَ اپنی وحی نازل کرتا ہے۔ روح سے جسم کی زندگی وابستہ ہے اور وحی سے مردہ دل…
Read the full tafseer →وہ آسمانوں کا خالق ہے جس نے ان کو ہر ایک چیز سے بلند کیا اور عرش کا مالک ہے۔
وہ بذریعہ جبریل امین اپنے بندوں میں سے جس جو پسند کرے یعنی رسول اکرم پر قرآن کریم نازل فرماتا ہے تاکہ محمد قرآن کریم کے ذریعے اس دن سے ڈرائیں جس دن آسمان اور زمین والے جمع ہوجائیں گے یا یہ کہ خالق و مخلوق۔
Read the full tafseer →(1) رفیع الدرجت ذوالعرش :”الدرجت“ ”درجۃ“ کی جمع ہے، جس کا معنی متربہ بھی ہے اور سیڑھی بھی۔ ”رفیع“”رفع یرفع“ (ف) سے ہے، لازم بھی آتا ہے اور متعدی بھی۔ لازم سے ہوتا تو معنی ”مرتفع الدرجات“ ہے، اس کا اصل ”رفیع درجاتہ“ ہے۔ یعنی وہ بہت بلند مرتاب اور سیڑھیوں والا اور عرش والا ہے، اس کی ذات مخلوق سے جدا عرش کے اوپر ہے۔ فرشتوں کو عرض تک پہنچنے کیلئے بہت سی سیڑھیوں پر چڑھنا پڑتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(سال سآئل بعذاب واقع للکفرین لیس لہ دافع من اللہ ذی المعارج تعرج الملٓئکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ) (المعارج : 1 تا 3)”ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کے متعلق سوال کا جو واقع ہونے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
( ھو الذی یرکم ایتیہ۔۔۔۔ )
وما یتذکر الامن ینیب۔ ان آیات سے نصیحت حاصل نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کا اظہار کرتا مگر جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عبادت سے مراد اطاعت ہے اگرچہ کافر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ناپسند کریں تم اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔
رفیع الدرجت ذوالعرش۔ ذوالعرش مبتداء کے مضمر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے۔ اخفش نے کہا : مدح کی بناء پر نصب دینا بھی جائز ہے رفیع الدرجت کا معنی ہے بلند صفات والی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ کلبی اور سعید بن جبیر نے کہا : سات آسمانوں کو بلند کرنے والا (1) یحییٰ…
Read the full tafseer →1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یلقی الروح من امرہ “ (اپنی وحی نازل کرتا ہے اپنے حکم سے) یعنی وحی اور رحمت (آیت ) ’ ’ لینذر یوم التلاق “ (تاکہ وہ لوگوں کو اجتماع کے دن سے ڈرائیں) یعنی جس دن آسمان اور زمین والے (آپس میں) ملاقات کریں گے اور خالق اور اس کی مخلوق (آپس میں) ملاقات کرے گی (آیت ) ” یوم ھم برزون “ (جس دن سب لوگ قبروں سے نکل کر آموجود ہوں گے) اور اس دن ان کو نہ پہاڑ اور نہ کوئی چیز چھپائے گی۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوم التلاق “ اور ” یوم الازفہ “ اور اس طرح کے نام قیامت کے دن ہیں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ [ (وہ) درجات کا بلند کرنے والا ہے ] ذُو الْعَرْشِ ۚ [ جو عرش والا ہے ] يُلْقِي [ وہ ڈالتا ( یعنی اتارتا ) ہے ] الرُّوْحَ [ (دین وایمان کی ) روح کو ] مِنْ اَمْرِهٖ [ اپنے حکم سے ] عَلٰي مَنْ [ اس پر جس پر ] يَّشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] مِنْ عِبَادِهٖ [ اپنے بندوں میں سے ] لِيُنْذِرَ [ تاکہ وہ خبردار کرے (لوگوں کو)] يَوْمَ التَّلَاقِ [ ملاقات کرنے کے دن سے ]
ترکیب : (آیت ۔ 15) فعیل کے وزن پر آنے والی اکثر صفات میں اسم الفاعل کا مفہوم ہوتا ہے جبکہ کچھ صفات میں اسم المفعول کا مفہوم ہوتا ہے جیسے رجیم وغیرہ ۔ کبھی یہ الفاظ اسم الفاعل یا اسم المفعول کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(رَفِیع الدَّرَجٰتِ ) یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، مفسرین نے اس کے دو معنی بیان کیے ہیں اول یہ کہ وہ درجات کو بلند فرمانے والا ہے جو بندے مومن ہیں اور نیک کاموں میں لگے ہوئے ہیں قیامت کے دن ان کے درجات بلند فرمائے گا اور اس دنیا میں بھی اس نے اپنے بندوں میں فرق مراتب رکھا ہے کما قال تعالیٰ (وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ وقال تعالیٰ یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ) یہ معنی زیادہ واضح ہے اس میں رفیع بمعنی رافع ہوگا (گو صاحب روح المعانی نے فرمایا ہے کہ اس میں بعد ہے) اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مرتفع الدرجات ہے یعنی عظیم الصفات ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
بعضے از احوال کفار بعد دخول نار وبیان دلائل قدرت پروردگار :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین کفروا ینادون ......... الی ....... سریع الحساب “۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں کتاب الہی کی حقانیت بیان فرماتے ہوئے مجادلین ومعاندین پر وعیدوتہدید تھی اور ساتھ ہی اہل ایمان وطاعت کا اعزاز واکرام اور حاملین عرش فرشتوں کی طرف سے ان کے حق میں دعا و استغفار کا ذکر تھا، تو اس کے بعد ان آیات میں کافروں کی ذلت و حقارت کا بیان ہے کہ قیامت کے روز ان کو کس طرح ذلیل ورسوا ہونا پڑے گا اور اس وقت یہ کافر خود اعتراف کریں گے اور چاہیں گے کہ پھر کسی طرح ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائیں تو ایمان لائیں اور اللہ کی اطاعت…
Read the full tafseer →22:۔ ” یوم ھم بارزون “ یہ ” یوم التلاق “ سے بدل ہے۔ قیامت کے دن تمام انسان ایک میدان میں سامنے ہوں گے اور کوئی بھی اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوگا اور نہ ان کا کوئی ھال اور عمل ہی اس سے مخفی ہوگا۔ ” لمن الملک الیوم “ اس وقت اللہ کی طرف سے سوال ہوگا۔ آج بادشاہی کس کی ہے ؟ یہ سوال اللہ تعالیی کی طرف سے ایک منادی پیش کرے گا۔ اس کے جواب میں سب مومن و کافر کہیں گے ” للہ الواحد القہار “ آج بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے و احد اور زبردست ہے (روح، قرطبی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں فرمایا کہ قیامت والے دن کافر لوگ خود اپنے آپ پر غصے ناراضگی اور بیزاری کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے دنیا میں ایمان قبول کیوں نہ کیا مگر ان سے کہا جائے گا کہ تمہاری اس ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس وقت بھی زیادہ تھی جب تمہیں بیان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کردیتے تھے ، پھر وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے خواہش ظاہر کریں گے کہ انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے سابقہ عقائد و اعمال کی تلافی کرسکیں ، مگر یہ ممکن نہ ہوگا ان کو سزا مل کر رہے گی ، کیونکہ دنیا میں جب اللہ وحدہ لا شریک کو پکارا جاتا تھا ، تو یہ لوگ انکار کردیتے تھے اور جب شرکیہ…
Read the full tafseer →رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ 0 ۚ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ 15ۙ
رفع
الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ
[ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2]
( رع ) الرفع
کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ترکیب : ھو الذی مبتدء یریکم خبرہ و ینزل خبرثان ولو وصیلۃ یتعلق بادعوا اللہ رفیع الدرجات خبر ثالث ذوالعرش خبر رابع یلقی الروح خبر خامس من امرہ متعلق بیلقی من عبادہ بیان لمن یشاء لینذر فاعلہ الضمیر یرجع الی اللہ و المفعول محذوف العذاب یوم التلاق مفعول فیہ للعذاب و یمکن ان یکون مفعولا بہ یوم ھم بدل منہ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ مشرکوں کا یہ حال ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ناخوش ہوتے ہیں اور جو اس کے ساتھ اوروں کو بھی ملایا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں، اب یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ اس کے ساتھ کون شریک ہوسکتا، تمام کاروبار اور جمیع منافع انسانیہ دینیہ و دنیویہ اسی کے ہاتھ ہیں۔ فقال ھو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُوالْعَرْشِ ج یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلاَقِ ۔ یَوْمَ ھُمْ بٰرِزُوْنَ ج 5 لاَ یَخْفٰی عَلَی اللّٰہِ مِنْھُمْ شَیْ ئٌ ط لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ط لِلّٰہِ الْوَاحِدِالْقَھَّارِ ۔ (المؤمن : 15، 16)
(وہ بلند درجوں والا اور عرش کا مالک ہے، وہ اتارتا ہے روح کو اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے تاکہ وہ ملاقات کے دن سے خبردار کرے۔ جس دن سب لوگ بےنقاب ہوں گے، ان کی کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہوگی، آج بادشاہی کس کی ہے، اللہ واحد قہار کی۔ )
بلند وبالا پروردگار کی مرضیات کا علم صرف وحی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
فہم القرآن
ربط کلام : جس ایک ” اللہ “ کے ساتھ مشرک شرک کرتے ہیں صرف وہی تو ہے جو سب کو رزق دیتا ہے۔ مگر مشرک اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
مشرک کی عادت اور بد قسمتی پر غور فرمائیں کہ جو ” اللہ “ اسے اور سب کو آسمانوں سے رزق فراہم کرتا ہے۔ اسے حقیقی داتا ماننے کے لیے تیار نہیں اور نہ اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ شرک کی نحوست اور جہالت کی وجہ سے مشرک اس قدر اپنے رب سے ذہنی اور عملی طور پر دور ہوچکا ہوتا ہے کہ جوں ہی اللہ تعالیٰ کی وحدت اور توحیدِخالص کا ذکر ہو۔ مشرک کو ایسی بات نہایت ہی گراں گزرتی ہے۔ جس وجہ سے مشرک نصیحت پانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ حقیقی نصیحت کی…
Read the full tafseer →بندوں کے درجات کو بلند کرنے والا اور جس نے عرش کو بنا کر فرشتوں کے طواف کا مقام بنایا : رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِ ، وہ رفیع الدرجات ہے، وہ عرش کا مالک ہے۔ يُلْقِي الرُّوْحَ ، وہ وحی بھیجتا ہے۔
نحو : 1، ھُوَ کی تین خبریں ہیں اور یہ الذی یریکم پر مرتب ہوتا ہے۔ یا 2، مبتداء محذوف کی خبریں ہیں۔ رفیع الدرجات کا معنی نمبر 1، وہ آسمانوں میں سے بعض کو بعض پر بلند کرنے والا ہے۔ نمبر 2، وہ اپنے بندوں کے درجات کو مرتبہ دے کر بلند کرتا ہے۔ نمبر 3، جنت میں بندوں کے درجات کو بلند کرے گا۔ ذوالعرش وہ اپنے اس عرش کا مالک ہے جو آسمان سے اوپر ہے۔ اس کو پیدا کر کے فرشتوں کے طواف کا مقام بنادیا۔ اور اس…
Read the full tafseer →14، فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین، طاعت و عبادت، ولوکرہ الکافرون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
14۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو قرآن کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور طرح طرح کے جھگڑے اللہ کے حکم کے ماننے میں نکالتے تھے پھر فرمایا تھا کہ قرآن شریف کی آیتوں سے وہی لوگ نصیحت پاسکتے ہیں جن کا دل خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رجوع اور مائل ہے اب ان آیتوں میں ان ہی صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی یاد اور اللہ کی عبادت کئے جائو اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی ناخوشی کا کچھ خیال نہ کرو صحیح و مسلم 1 ؎ ابوداو ود و نسائی میں حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
آیت 12
اللہ تبارک و تعالیٰ اس فضیحت و رسوائی کا ذکر کرتا ہے جس کا کفار کو اسمنا کرنا ہوگا، نیز ان کی دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کے رد ہونے اور ان پر زجر و توبیخ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ان الذین کفروا) ” بیشک جن لوگوں نے کفر کیا۔ “ اللہ تعالیٰ نے اسے مطلق بیان کیا ہے تاکہ یہ کفر کی تمام انواع کو شامل ہو، مثلاً اللہ تعالیٰ ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار وغیرہ۔ جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو اقرار کریں گے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث جہنم کے مستحق ہیں۔ وہ اپنے آپ پر شدید غیظ و غضب کا اظہار کریں گے۔ تب اس وقت ان کو پکار کر کہا جائے گا : (لمقت اللہ) یعنی تم پر…
Read the full tafseer →30 اللہ بڑے ہی بلند درجوں والا ہے : اتنے بلند درجوں والا کہ اس کی بارگہ اقدس تک پہنچنے کے لیے فرشتوں کو اور فرشتوں کے سردار جبریل امین کو بھی پچاس ہزار برس لگتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { تَعْرُجُ الْمَلٓئِکُۃُ وَالرُّوْحُ اِلَیْہِ فِی یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ } ۔ ( المعارج :4) ۔ یعنی سب سے بلند اور انتہائی عظمت والا اور اس دنیا میں جس کسی کو بھی جو کوئی مرتبہ و درجہ ملتا ہے وہ بھی اسی کی عطا و بخشش سے ملتا ہے۔ اس کی عظمت و شان اور اس کی خدائی میں شرکت کا کسی کو یارا نہیں ہوسکتا۔ اس تک کسی کی رسائی ممکن نہیں بجز اس کے کہ کوئی اس کی عبدیت و بندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–22
کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت
تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 20:
اسرار و معارف :
آج تو جسمانی اور مادی فوائد کفار کو بہت عزیز ہیں مگر جہنم میں انہیں خود اپنی ذات سے بھی نفرت ہوگی اور انگلیاں کاٹ کاٹ کھائیں گے کہ لعنت ہو ایسے وجود پر جسے ہم پالتے رہے اللہ کی اطاعت نہ کی تو انہیں آواز دی جائے گی جب تم دنیا میں کفر پہ اصرار کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے تو اللہ کو تمہارے وجودوں سے اس سے زیادہ نفرت تھی جتنی خود سے آج تم کو ہے۔ تب پکار کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم جان گئے کہ تو نے ہمیں دو بار موت دی ایک بار تو مادہ کی صورت میں تھے پھر دنیا سے آخرت کے سفر پر موت کے راستے سے چلے اور دو بار زندگی بھی ایک بار دنیا میں دنیا میں…
Read the full tafseer →ف 6 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ اپنے فرشتوں، پیغمبروں ﷺ اور مومن بندوں کے درجات بلند کرنے والا ہے “۔7 عین ساری کائنات کا بادشاہ و فرمانبروا۔8 اصل لفظ ” روح “ استعمال ہوا ہے عین مراد وحی ہے۔ کیونکہ وحی وہ چیز ہے جس سے لوگ کفر کی موت سے نکل کر ایمان کی زندگی کی طرف آتے ہیں۔9 یعنی قیامت کے دن سے جس میں آسمانوں اور زمین کے رہنے والے تمام اول و آخر، جن و انس اللہ تعالیٰ کے حضور جمع ہو کر ایک دوسرے سے ملیں گے۔
Read the full tafseer →(40:15) رفیع الدرجت : رفیع بلند کرنے والا۔ بلند ہونے والا۔ رفع سے برون فعیل بمعنی فاعل یعنی رافع بھی ہوسکتا ہے بمعنی بلند ہونے والا اور بلند کرنے والا۔ اور بمعنی مفعول۔ یعنی مرفوع بھی بمعنی بلند کیا ہوا۔
رفیع الدرجت۔ اسماء حسنی میں سے ہے اس کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ بلند مرتبوں والا بھی۔ اور مرتبوں کو بلند کرنے والا بھی۔ یہ ھو الذی مبتداء کی خبر ثالث ہے۔
ذوالعرش۔ مضاف مضاف الیہ۔ یہ خبر چہارم ہے۔ صاحب عرش۔ عرش کا خالق ومالک۔
یلقی الروح : یلقی مضارع واحد مذکر غائب ، القاء (افعال) مصدر وہ ڈالتا ہے ، وہ نازل فرماتا ہے۔
الروح اس سے مراد مختلف معانی لئے گئے ہیں : ۔
(1) اس سے مراد وحی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 20 : ینادون ( یدائ) ( آواز دیں گے) مقت اللہ ( اللہ کا غصہ) تدعون (تم پکارے جائو گے) امتنا ( تو نے ہمیں موت دی) احییتنا (تو نے ہمیں زندگی دی) ینیب (وہ لوٹتا ہے، رجوع کرتا ہے) رفیع ( بلند) الروح ( روح ، وحی) التلاق (ملاقات ، ملنا) برزون (ظاہر ہونے والے ، بےپردہ) القھار (زبردست ، قوت والا) الازقۃ ( قریب آنے والی ، نزدیک آنے والی) الحناجر (حنجور) ( گلے ، کلیجے) کظمینا (غصہ پی جانے والے) حمیم (قریبی دوست) خائنۃ ( خیانۃ) ( چوری کرنے والی ، خیانت کرنے والی) لم یقضون (وہ فیصلہ نہیں کرتے)
تشریح : آیت نمبر 10 تا 20 :۔ دنیا میں کفر و شرک اور گناہ کرنے والے لوگ مختلف باتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
توحیدکابیان۔
(ف 2) ان آیتوں میں صاحب توحید اور خالص دل سے عبادت کرنے والوں کو خطاب کرکے فرمایا ہے کہ تم خالص دل سے اللہ کی عباد کیے جاؤ، اور اللہ کے حکم میں جھگڑا کرنے والوں کا اور ان کی خوشی کا کچھ خیال نہ کرو، اب آگے اللہ تعالیٰ نے خالص عبادت کا نتیجہ ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا جن کے سبب سے خالص عبادت الٰہی کی ہدایت لوگوں کو ہوتی ہے اور خالص عبادت کرنے والوں کا درجہ ہر ایک رتبہ کے موافق قیامت کے دن بلند ہوگا قتادہ کے قول کے موافق یہاں روح کے معنی وحی کے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو نبوت کے قابل پاتا ہے اس کو نبی مقرر کرکے بذریعہ وحی کے اپنے نبی پر اس لیے احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
[5] قیامت کو روز ملاقات کہا کہ اس دن تمام جن و انس اللہ کے سامنے جمع ہوں گے۔
Read the full tafseer →ف 2: یعنی وہ بلند مرتبت ذات جو عرش جلال وجبروت پر قرار پذیر ہے ۔ وہ کائنات کی مصالح کو خوب سمجھتی ہے ۔ اور وہ اس بات میں تمہارے مقاصد کی پرواہ نہیں کرتی ۔ یہ کوئی ضروری نہیں ۔ کہ تمہارے نزدیک جو نبوت کا مستحق ہو ۔ وہ پیغمبر قرار پائے ۔ اور جس کو تم دیکھو ۔ کہ دنیوی اعزاز سے محروم ہے ۔ اللہ بھی اس کو عہدہ رسالت سے سرفراز نہ کرے ۔ وہ اپنے معاملات میں خود مختار ہے ۔ اور اس کے ہاں فضیلت وشرف کا معیار وہ نہیں ہے ۔ جو تمہارے ہاں ہے ۔ وہ جس شخص میں اہلیت دیکھتا ہے ۔ اس کو نوازتا ہے ۔ اور امین بنا کر وحی فرماتا ہے وحی اور شریعت کو رفع سے تعبیر کرنے معنی یہ ہیں کہ جس طرح روح سے انسانی جسم میں تازگی…
Read the full tafseer →(15) وہ مرتبوں کا بلند کرنے والا عرش کا مالک اور صاحب ہے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے بھید کی بات اور وحی نازل کرتا اور اپنا حکم بھیجتا ہے تاکہ وہ صاحب وحی لوگوں کو ملاقات کے اور اجتماع کے دن سے ڈرادے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
(ف 6) یعنی چونکہ حق تعلای کے علو و کبریاء کے اعتبار سے یہ جرم عظیم تھا اس لئے فیصلہ میں عقوبت بھی عظیم تجویز ہوئی، یعنی خلود۔
Read the full tafseer →پوری کائنات کا مالک اور بلند درجات رکھنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
15۔ اللہ تعالیٰ کے صاحب عرش ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ اس کی وضاحت گزشتہ سورتوں میں کردی گئی اور اسی جلد میں سورة الزمر کی آخری آیت میں بھی اس کو بیان کیا گیا ہے اور یہ بات بھی سب پر واضح ہے کہ اللہ رب کریم سے نہ تو کوئی درجات میں بلند ہے اور نہ ہی صاحب عرش ہونے میں کوئی اس سے اوپر ہے ہاں ! بلاشبہ یہ بات کہنے اور سننے کے لیے تو کہی اور سنی جاسکتی ہے لیکن جب عمل کا وقت آئے تو یہ بات یاد ہی نہیں رہتی کہ عرش حکومت کا مالک کون ہے مشرکین تو خیر پہلے ہی مشرک ہیں اگر وہ غیر اللہ کو اللہ کا سہیم وشریک بنائے بیٹھے ہیںٰ تو مشرک بھی تو کہلاتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
Commentary
The word: دَرَجَات (darajat, translated above as 'stations' ) in: رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ (He is High in stations - 40:15) has been taken by some commentators as meaning 'attributes.' If so, the sense of the expression would be that His attributes of perfection are most exalted. Ibn Kathir has relied on the words as they appear outwardly and has said that it refers to the most exalted 'arsh' (throne) for it comprehends all land masses and heavens and is located above them all like a roof as in Surah Al-Ma'arij: مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ ﴿3﴾ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ…
Read the full tafseer →23 That is, "He is exalted far above all the creations of the world. Anything that exists in the Universe, whether an angel or a prophet or a saint, or Borne other creation, may be very exalted and superior to other creations, but it cannot be imagined to have a station anywhere near the highest rank and position of Allah, not to speak of its being an associate in His attributes and powers and authority. "
24 That is, He is King and Ruler of the whole Universe, and Master of the Throne of the Kingdom of the Universe. (For explanation, see AI-A'raf: 54 and E.N. 41 thereof; Yunus: 3, Ar-Ra'd:…
Read the full tafseer →