Al-Ghaafir 40:13

Al-Ghaafir · from ayah 13

40:13

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَیُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًا ؕ— وَمَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ ۟هُوَ الَّذِىۡ يُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُنَزِّلُ لَـكُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ رِزۡقًا ؕ وَمَا يَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنۡ يُّنِيۡبُ

وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اُتارتا ہے۔ اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is He who shows you His signs and sends down to you from the sky, provision. But none will remember except he who turns back [in repentance].

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 2 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:13

وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے، مگر (اِن نشانیوں کے مشاہدے سے) سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اُتارتا ہے۔ اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو (اس کی طرف) رجوع کرتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے اور تمہارے لیےآسمان سے روزی اتارتا ہے، نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو (اللہ کی طرف) رجوع کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا اور تمہارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ اور نصیحت تو وہی مانا کرتا ہے جو (ہدایت کے لیے دل سے رجوع ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہے کہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اتارتا ہے اور نصیحت نہیں مانتا مگر جو رجوع لائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے، اور نصیحت صرف وہی قبول کرتا ہے جو رجوع (الی اﷲ) میں رہتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے رزق اتارتا ہے اور اس کے سوا کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا جو رجوع کرے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لئے رزق اتارتا ہے مگر (ان باتوں سے) سبق تو وہی حاصل کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ اور یاددہانی نہیں حاصل کرتے مگر وہی جو متوجہ ہونے والے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ وہی ہے جو دکھاتا ہے تمہیں اپنی نشانیاں اور وہ اتارتا ہے تمہارے لئے آسمان سے روزی اور سبق نہیں لیتا مگر وہی جو رجوع کرتا ہے (سچے دل سے)

— مولانا اسحاق مدنی

وہ وہی ہے جو اپنی نشانیاں تمہیں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق اتارتا ہے۔ اور نصیحت تو بس وہی قبول کرتا ہے جو (اللہ سے) رجوع کرتا رہتا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور اتارتا ہے تمہارے لیے آسمان سے روزی۔ اور نہیں نصیحت حاصل کرتا مگر وہی جو رجوع کرتا ہے (اللہ کی طرف

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تم پر آسمان سے رزق اتارتا ہے اور نصیحت تو وہی پکڑتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He it is Who shows you His Signs and sends down provision for you from the sky. Yet none takes heed except he who constantly turns to Allah.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is He who shows you His signs and sends down provision for you from the sky; and no one takes lesson but the one who turns to Him.

— Muhammad Taqi Usmani

It is He who shows you His signs and sends down provision for you from the sky; and no one takes lesson but the one who turns to Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is He Who shows you His Ayat and sends down provision for you from the sky. And none remembers but those who turn in repentance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who showeth you His portents, and sendeth down for you provision from the sky. None payeth heed save him who turneth (unto Him) repentant.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is He who shows you His signs and sends down to you from the sky, provision. But none will remember except he who turns back [in repentance].

— Saheeh International

It is He who has shown you the evidence of His existence and has sent you sustenance from the sky, yet only those who turn to God in repentance take heed.

— Muhammad Sarwar

He it is Who shows you His signs and sends down for you sustenance from heaven, and none minds but he who turns (to Him) again and again.

— Muhammad Habib Shakir

He it is who sheweth you His signs and sendeth down for you from the heaven provision. And none receiveth admonition save him who turneth in penitence.

— Abdul Majid Daryabadi

He it is Who showeth you his Signs, and sendeth down sustenance for you from the sky: but only those receive admonition who turn (to Allah).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–14

کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو۔ قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہوجائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 19 نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ اس کائنات کا صانع اور مدبر منتظم ایک خدا اور ایک ہی خدا ہے۔ سورة الْمُؤْمِن 20 رزق سے مراد یہاں بارش ہے، کیونکہ انسان کو جتنی اقسام کے رزق بھی دنیا میں ملتے ہیں ان سب کا مدار آخر کار بارش پر ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی بیشمار نشانیوں میں سے تنہا اس ایک نشانی کو پیش کر گے لوگوں کو توجہ دلاتا ہے کہ صرف اسی ایک چیز کے انتظام پر تم غور کرو تو تمہاری سمجھ میں آجائے کہ نظام کائنات کے متعلق جو تصور تم کو قرآن میں دیا جا رہا ہے وہی حقیقت ہے۔ یہ انتظام صرف اسی صورت میں قائم ہوسکتا تھا جبکہ زمین اور اس کی مخلوقات اور پانی اور ہوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–14

خلاصہ تفسیر وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں (قدرت کی) دکھاتا ہے (تا کہ تم ان سے توحید پر استدلال کرو اور وہی ہے جو) آسمان سے تمہارے لئے رزق بھیجتا ہے (یعنی بارش بھیجتا ہے جس سے رزق پیدا ہوتا ہے، یہ بھی منجملہ مذکورہ نشانیوں کے ہے) اور (ان نشانیوں سے) صرف وہی شخص نصیحت قبول کرتا ہے، جو (خدا کی) طرف رجوع (کرنے کا ارادہ) کرتا ہے (کیونکہ ارادہ رجوع سے غور وتامل نصیب ہوتا ہے، اس سے حق تک رسائی ہوجاتی ہے) تو (جب توحید پر دلائل قائم ہیں تو) تم لوگ خدا کو خالص اعتقاد کر کے (یعنی توحید کے ساتھ) پکارو (اور مسلمان ہوجاؤ) اگر کافروں کو ناگوار ہو (اس کی پروا نہ کرو کیونکہ) وہ رفیع الدرجات ہے، وہ عرش کا مالک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رحمت اور عذاب دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہے یعنی رحمت اور نقمت دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اس وجہ سے ڈرنا بھی اسی سے چاہئے اور امید بھی اسی سے رکھنی چاہئے۔ وہ اپنی ان دونوں شانوں کا برابر مشاہدہ کراتا رہتا ہے۔ وہی آسمان سے رعد و برق اور صاعقہ کا بھی مشاہدہ کراتا رہتا ہے اور وہی بارش بھی نازل کرتا ہے جو زمین کے تمام رزق و فضل کے دروازے کھولتی ہے۔ یہ اس بات کا صاف ثبوت ہے کہ آسمان اور زمین دونوں ایک ہی خدا کے تصرف میں ہیں اور اس کے ہاتھ میں صاعقہ ٔ عذاب بھی ہے اور رزق و فضل کے خزانے بھی۔ نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اصل شے توحید ہے ’ وما یتذکر الا من ینیب ‘ یعنی خدا کی یہ شانیں لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 یعنی پانی جو تمہارے لئے تمہاری روزیوں کا سبب ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے اظہار آیات کو انزال رزق کے ساتھ جمع کردیا اس لئے کہ آیات قدرت کا اظہار، مذا ہب کی بنیاد ہے اور روزیاں اجسام کی بنیاد ہیں، یوں دونوں بنیادوں کو جمع فرما دیا ہے۔ (فتح القدیر) 13۔ 1 اللہ کی اطاعت کی طرف جس سے ان کے دلوں میں آخرت کا خوف پیدا ہوتا ہے اور احکام و فرائض الہی کی پایندی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–24

4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 13–17

آیت نمبر 13 تا 17 ھوالذی یریکم اٰیٰته (40: 13) ” وہی تو ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے “۔ اور اللہ کی نشانیاں تو اس کائنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔ شمس وقمر کی گردش میں ، رات اور دن کے نظام میں۔ رعد وبرق اور بارو باراں میں ، ذرے ، خلیے ، پتے اور پتیوں میں عرض ہر چیز میں ایک معجزانہ نشانی ہے اور اس نشانی کی عظمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان اس کی نقل کرنے کے لیے بیٹھے۔ یا اس جیسی کوئی چیز بنائے لیکن اے کاش کہ وہ اس قسم کی کسی چیز کی نقل کرسکتا یا اس جیسی ہی بناسکتا اور اللہ کی بنائی ہوئی ایک نہایت ہی چھوٹی چیز ہی بناسکتا۔ وینزل لکم من السمآء رزقا (40: 13) ” اور آسمانوں سے تمہارے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اس کی عظمت و وحدانیت کی نشانیاں ہر چیز میں ظاہر ہیں ایک اپنی روزی ہی کے مسئلہ کو آدمی سمجھ لے جس کا سامان آسمان سے ہوتا رہتا ہے تو سب کچھ سمجھ میں آجائے۔ لیکن جب ادھر رجوع ہی نہ ہو اور غور و فکر سے کام ہی نہ لے تو کیا خاک سمجھ حاصل ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 { ہُوَ الَّذِیْ یُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ وَیُنَزِّلُ لَکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ رِزْقًا } ”وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور اتارتا ہے تمہارے لیے آسمان سے روزی۔“ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے اور بارش کا پانی زمین سے روزی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ { وَمَا یَتَذَکَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ } ”اور نہیں نصیحت حاصل کرتا مگر وہی جو رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 بارش کے نظام میں اللہ کی نشانیاں :۔ یعنی آسمان سے بارش نازل فرماتا ہے جو زمینی پیداوار اور تمہارے رزق کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس پورے نظام پر اگر غور کیا جائے کہ اس کائنات میں کون سی قوتیں سرگرم عمل ہوتی ہیں جن کے نتیجے میں بارش برستی ہے پھر اس بارش سے رزق حاصل ہونے تک کون کون سی کائناتی اور زمینی قوتیں کام میں لگی رہتی ہیں۔ کس طرح سورج کی حرارت سے سطح سمندر پر سے آبی بخارات اوپر اٹھتے ہیں، پھر کس طرح ہوائیں انہیں اپنے دوش پر اٹھائے پھرتی ہیں اور جس طرف اللہ کا حکم ہوتا ہے، لے جاتی ہیں۔ پھر یہی آبی بخارات کیونکر پھر سے بارش کے قطروں میں منتقل ہوتے ہیں۔ پھر جب کسی خطہ زمین پر بارش برستی ہے تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ (جو دلیل ہے اس کی کہ وہ رب اور منعم بھی ہے) (آیت) ’ ’ ایتہ “۔ یعنی نشانیاں اپنی قدرت و توحید کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : کافروں سے فرشتوں کیجانب سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اور وہ جہنم میں داخل ہوتے وقت خود اپنے اوپر غصہ ہوں گے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی تمہارے اوپر غضبناکی کہیں زیادہ تھی تمہارے اپنے اوپر غصہ ہونے سے جس وقت کہ تم کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر تم نہیں مانتے تھے تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا اس لئے کہ وہ بےجان نطفے تھے بعد ازاں ان کو زندہ کیا گیا، پھر ان کو موت دی گئی پھر ان کو بعثت کے لئے زندہ کیا گیا سو ہم اپنے گناہوں (یعنی) انکار بالبعث کا اقرار کرتے ہیں تو کیا نار دوزخ سے نکلنے اور دنیا کی طرف واپس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھو الذی یریکم ایتہ وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ یعنی اپنی توحید کی اور ان تمام امور کی جن پر عقیدہ رکھنا ضروری ہے ‘ نشانیاں دکھاتا ہے۔ وینزل لکم من السماء رزقا اور اوپر سے تمہارے لئے رزق بھیجتا ہے۔ یعنی بارش نازل کرتا ہے جو تمہارے رزق کا سبب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب ایسی نشانیاں جو اللہ کی توحید کو ثابت کر رہی ہیں ‘ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو تو پھر نہ جاننے کا عذر نہیں کرسکتے۔ وما یتذکر الا من ینیب اور صرف وہی شخص نصیحت قبول کرتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع (کرنے کا ارادہ) کرتا ہے۔ یعنی نشانیاں اسی کیلئے نصیحت آفریں ہوتی ہیں ‘ جو تعصب وعناد کو چھوڑ کر خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف توجہ (کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے مکہ والو وہی ہے جو تمہیں اپنی وحدانیت اور قدرت کی نشانیاں دکھلاتا ہے کہ مشرکین کے مکانات کو تباہ و برباد کرتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے بارش برساتا ہے مگر قرآن کریم سے صرف وہ ہی شخص نصیحت حاصل کرتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ارادہ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ھو الذی یریکم ایتہ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو تمہیں اپنے وجود اور اپنی وحدانیت کی بیشمار نشانیاں دکھاتا ہے، جو اس وقت بھی موجود تھیں جب تمہارے بنائے ہوئے معبودوں کا وجود تک نہ تھا۔ اب بھی کوئی داتا یا دستگیر یہ دعویٰ نہیں کرتا اور نہ کرسکتا ہے کہ یہ سب کچھ اس نے پیدا کیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی حصہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بہت سی نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے، وہ نشانیاں آفاق (کائنات) میں بھی ہیں اور خود انسان کی ذات میں بھی۔ دیکھیے سورة یونس (6) رحم السجدہ (53) ، روم (20 تا 27) بقرہ (164) جاثیہ (35) اور سورة مومن (79، 80)۔ اللہ تعالیٰ کی آیات سے مراد انبیاء ؑ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–17

( ھو الذی یرکم ایتیہ۔۔۔۔ ) وما یتذکر الامن ینیب۔ ان آیات سے نصیحت حاصل نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کا اظہار کرتا مگر جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عبادت سے مراد اطاعت ہے اگرچہ کافر اللہ تعالیٰ کی عبادت کو ناپسند کریں تم اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرو۔ رفیع الدرجت ذوالعرش۔ ذوالعرش مبتداء کے مضمر ہونے کی بناء پر مرفوع ہے۔ اخفش نے کہا : مدح کی بناء پر نصب دینا بھی جائز ہے رفیع الدرجت کا معنی ہے بلند صفات والی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کلبی اور سعید بن جبیر نے کہا : سات آسمانوں کو بلند کرنے والا (1) یحییٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–13

1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ مثل ہے جب سورة بقرہ میں ہے (آیت ) ” وکنتم امواتا فاحیاکم، ثم یمیتکم ثم یحییکم “ (البقرہ آیت 28) کہ تم مردہ تھے تم کو زندہ کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کریں گے) یعنی تم مردہ تھے اپنے باپوں کی پشتوں میں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو نکالا اور زندہ کردیا پھر ان کو موت عطا کی پھر ان کو زندہ کرے گا موت کے بعد۔ 2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

هُوَ [ وہ ] الَّذِيْ [ وہ ہے جو ] يُرِيْكُمْ [ دکھاتا ہے تم لوگوں کو ] اٰيٰتِهٖ [ اپنی نشانیاں ] وَيُنَزِّلُ لَكُمْ [ اور وہ بتدریج اتارتا رہتا ہے تمہارے لئے ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] رِزْقًا ۭ [ کچھ رزق ] وَمَا يَتَذَكَّرُ [ اور نصیحت حاصل نہیں کرتا ] اِلَّا مَنْ [ مگر وہ جو ] يُّنِيْبُ [ متوجہ ہوتا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ رفیع الدرجات ہے، ذوالعرش ہے، جس کی طرف چاہتا ہے، وحی بھیجتا ہے، قیامت کے دن سب حاضر ہوں گے، اللہ سے کوئی بھی پوشیدہ نہ ہوگا، صرف اللہ تعالیٰ ہی کی بادشاہی ہوگی ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے بعض انعامات اور صفات جلیلہ اور قیامت کے دن کے بعض مناظر بیان فرمائے ہیں، اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اس کی مخلوق میں بیشمار نشانیاں ہیں جو اس کے قادر مطلق اور وحدہ لا شریک ہونے پر دلالت کرتی ہیں پھر فرمایا کہ وہ تمہارے لیے آسمانوں سے رزق نازل فرماتا ہے اس میں بیان قدرت بھی ہے اور اظہار انعام بھی پھر بھی (وَمَا یَتَذَکَّرُ اِِلَّا مَنْ یُّنِیبُ ) (اور نشانیوں کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–17

بعضے از احوال کفار بعد دخول نار وبیان دلائل قدرت پروردگار : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین کفروا ینادون ......... الی ....... سریع الحساب “۔ (ربط) گزشتہ رکوع میں کتاب الہی کی حقانیت بیان فرماتے ہوئے مجادلین ومعاندین پر وعیدوتہدید تھی اور ساتھ ہی اہل ایمان وطاعت کا اعزاز واکرام اور حاملین عرش فرشتوں کی طرف سے ان کے حق میں دعا و استغفار کا ذکر تھا، تو اس کے بعد ان آیات میں کافروں کی ذلت و حقارت کا بیان ہے کہ قیامت کے روز ان کو کس طرح ذلیل ورسوا ہونا پڑے گا اور اس وقت یہ کافر خود اعتراف کریں گے اور چاہیں گے کہ پھر کسی طرح ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائیں تو ایمان لائیں اور اللہ کی اطاعت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–13

14:۔ ” قالوا الخ “ جہنم میں داخل ہونے کے بعد مشرکین جہنم سے نکلنے کی راہیں تلاش کریں گے اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار، تو نے دو بار ہمیں موت سے دوچار کیا اور دو بار ہمیں زندگی بخشی، ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور جس حشر و نشر کا انکار کیا کرتے تھے آج اس پر ایمان لاتے ہیں۔ کیا اب کوئی سورت ہے کہ ہمیں دوزخ سے نکال کر ایک بار پھر دنیا کی زندگی مل جائے تو ہم تیری پوری پوری فرمانبرداری کریں گے۔ والمراد طلب الخروج نظیر (فارجعنا نعمل صالحا) ۔ (روح) ۔ پہلی موت سے مراد عدم ہے جب وہ اصلاب آباء میں تھے اور دوسری موت وہ ہے جو دنیا کی زندگی کا خاتمہ کردیتی ہے۔ اور پہلی بار احیاء سے دنیا میں پیدا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–20

ربط آیات : گذشتہ آیات میں فرمایا کہ قیامت والے دن کافر لوگ خود اپنے آپ پر غصے ناراضگی اور بیزاری کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے دنیا میں ایمان قبول کیوں نہ کیا مگر ان سے کہا جائے گا کہ تمہاری اس ناراضگی سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس وقت بھی زیادہ تھی جب تمہیں بیان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کردیتے تھے ، پھر وہ اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے خواہش ظاہر کریں گے کہ انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے سابقہ عقائد و اعمال کی تلافی کرسکیں ، مگر یہ ممکن نہ ہوگا ان کو سزا مل کر رہے گی ، کیونکہ دنیا میں جب اللہ وحدہ لا شریک کو پکارا جاتا تھا ، تو یہ لوگ انکار کردیتے تھے اور جب شرکیہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہُوَالَّذِيْ يُرِيْكُمْ اٰيٰتِہٖ وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ رِزْقًا۝ 0 ۭ وَمَا يَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ يُّنِيْبُ۝ 13 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 13–17

ترکیب : ھو الذی مبتدء یریکم خبرہ و ینزل خبرثان ولو وصیلۃ یتعلق بادعوا اللہ رفیع الدرجات خبر ثالث ذوالعرش خبر رابع یلقی الروح خبر خامس من امرہ متعلق بیلقی من عبادہ بیان لمن یشاء لینذر فاعلہ الضمیر یرجع الی اللہ و المفعول محذوف العذاب یوم التلاق مفعول فیہ للعذاب و یمکن ان یکون مفعولا بہ یوم ھم بدل منہ۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ مشرکوں کا یہ حال ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ناخوش ہوتے ہیں اور جو اس کے ساتھ اوروں کو بھی ملایا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں، اب یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ اس کے ساتھ کون شریک ہوسکتا، تمام کاروبار اور جمیع منافع انسانیہ دینیہ و دنیویہ اسی کے ہاتھ ہیں۔ فقال ھو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھُوَالَّذِیْ یُرِیْکُمْ اٰیٰـتِہٖ وَیُنَزِّلُ لَـکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ رِزْقًا ط وَمَا یَتَذَکَّرُ اِلاَّ مَنْ یُّنِیْبُ ۔ (المؤمن : 13) (وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے رزق اتارتا ہے اور نصیحت حاصل نہیں کرتے، مگر وہی جو متوجہ ہونے والے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر مزید ایک دلیل اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے حوالے سے مزید ایک دلیل دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ انسان کی بنیادی ضرورت اس کی خوراک ہے اور اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ زمین کی قوت روئیدگی اپنا کام کرے اور اوپر سے پانی کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت آبیاری کا سامان کرے۔ لیکن اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–17

فہم القرآن ربط کلام : جس ایک ” اللہ “ کے ساتھ مشرک شرک کرتے ہیں صرف وہی تو ہے جو سب کو رزق دیتا ہے۔ مگر مشرک اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ مشرک کی عادت اور بد قسمتی پر غور فرمائیں کہ جو ” اللہ “ اسے اور سب کو آسمانوں سے رزق فراہم کرتا ہے۔ اسے حقیقی داتا ماننے کے لیے تیار نہیں اور نہ اس کی خالص عبادت کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ شرک کی نحوست اور جہالت کی وجہ سے مشرک اس قدر اپنے رب سے ذہنی اور عملی طور پر دور ہوچکا ہوتا ہے کہ جوں ہی اللہ تعالیٰ کی وحدت اور توحیدِخالص کا ذکر ہو۔ مشرک کو ایسی بات نہایت ہی گراں گزرتی ہے۔ جس وجہ سے مشرک نصیحت پانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ حقیقی نصیحت کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ ، وہی ذات ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے، مثلاً ہوائیں، بادل، گرجیں، بجلیاں، کڑکیں، وغیرہ، وَيُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ ، اور وہ تمہارے لیے آسمان سے اتارتا ہے۔ قراءت : ینزل، تخفیف کے ساتھ مکی، بصری نے پڑھا ہے۔ رِزْقًا، رزق، بارش کیونکہ وہ سبب رزق ہے۔ وَمَا يَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ يُّنِيْبُ ، اور صرف وہی شخص نصیحت قبول کرتا ہے جو رجوع کرتا ہے، آیات اللہ سے عبرت اور نصیحت وہ حاصل کرتا ہے جو شرک سے توبہ کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ پس جو شخص ضدی ہے وہ نہ نصیحت حاصل کرتا ہے اور نہ یاد کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12۔ ذلکم بانہ اذادعی اللہ وحدہ کفرتم، اس میں عبارت چھوڑی گئی ہے اس کی ضرورت نہ تھی کیوں کہ ظاہراس پر دلالت کرتا ہے۔ اس کا مجازیہ ہے کہ ان کو جواب دیا گیا کہ اس کی کوئی راہ نہیں ہے اور یہ عذاب اور جہنم میں ہمیشہ رہنا اس وجہ سے ہے کہ تمہیں ایک خدا کی طرف بلایا گیا تو تم نے انکار کیا۔ یعنی جب لاالہ الا اللہ کہا گیا تو تم نے انکار کیا اور تم نے کہا، اجعل الا لھۃ الھاواحدا، وان یشرک بہ، اس کے غیر کو، تؤمنوا، تم اس شرک کی تصدیق کرتے ہو۔ ، فالحکم للہ العلی الکبیر، ایسا کہ نہ اس سے کوئی بلند ہے اور نہ کوئی بڑا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–13

10۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ جو لوگ شیطان کی پیروی کریں گے ان سے اور شیطان سے دوزخ کو بھرا جائے گا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جب ایسے لوگ دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے تو دوزخ کے عذاب سے تنگ آ کر یہ لوگ ان باتوں سے بہت بیزاری ظاہر کریں گے جن باتوں کو دنیا میں بڑی خوشی سے کرتے تھے۔ ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر ان کو قائل کرنے کے لئے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر ان سے کہیں گے کہ بےوقت کی اس بیزاری سے اب کیا ہوتا ہے دنیا میں جب تم کو قرآن کے موافق فرمانبرداری کی نصیحت کی جاتی تھی اور تم سرکشی سے اس کو نہیں مانتے تھے اللہ تعالیٰ تمہاری اس سرکشی سے بہت بیزار تھا۔ یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی اس بیزاری کا نتجیہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–16

آیت 12 اللہ تبارک و تعالیٰ اس فضیحت و رسوائی کا ذکر کرتا ہے جس کا کفار کو اسمنا کرنا ہوگا، نیز ان کی دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کے رد ہونے اور ان پر زجر و توبیخ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ان الذین کفروا) ” بیشک جن لوگوں نے کفر کیا۔ “ اللہ تعالیٰ نے اسے مطلق بیان کیا ہے تاکہ یہ کفر کی تمام انواع کو شامل ہو، مثلاً اللہ تعالیٰ ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار وغیرہ۔ جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو اقرار کریں گے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث جہنم کے مستحق ہیں۔ وہ اپنے آپ پر شدید غیظ و غضب کا اظہار کریں گے۔ تب اس وقت ان کو پکار کر کہا جائے گا : (لمقت اللہ) یعنی تم پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–13

26 نشانہائے قدرت میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اللہ وہی ہے جو تمہیں دکھاتا ہے اپنی طرح طرح کی نشانیاں تاکہ تم لوگ غور و فکر سے کام لو "۔ یعنی اس کائنات میں پھیلی ہوئی طرح طرح کی وہ نشانیاں جو اس کی قدرت و وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں ۔ وَفِیْ کُلِّ شَئٍ لَہ شَاہِدٌ ۔ یَدُلُّ عَلیٰ اَنہ واحِدٌ۔ سو کائنات عالم کی اس کھلی کتاب میں پھیلی بکھری یہ نشانیاں اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کے خالق ومالک کی قدرت، اس کی وحدانیت، اس کی حکمت بےنہایت اور اس کی رحمت بےپایاں کی گواہی دے رہی ہیں تاکہ انسان ان میں غور و فکر سے کام لے کر راہ حق و ہدایت کو اپنا سکے اور دارین کی سعادت و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–22

کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 20: اسرار و معارف : آج تو جسمانی اور مادی فوائد کفار کو بہت عزیز ہیں مگر جہنم میں انہیں خود اپنی ذات سے بھی نفرت ہوگی اور انگلیاں کاٹ کاٹ کھائیں گے کہ لعنت ہو ایسے وجود پر جسے ہم پالتے رہے اللہ کی اطاعت نہ کی تو انہیں آواز دی جائے گی جب تم دنیا میں کفر پہ اصرار کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے تو اللہ کو تمہارے وجودوں سے اس سے زیادہ نفرت تھی جتنی خود سے آج تم کو ہے۔ تب پکار کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم جان گئے کہ تو نے ہمیں دو بار موت دی ایک بار تو مادہ کی صورت میں تھے پھر دنیا سے آخرت کے سفر پر موت کے راستے سے چلے اور دو بار زندگی بھی ایک بار دنیا میں دنیا میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی مینہ برساتا ہے جس سے تمہاری روزی پیدا ہوتی ہے۔4 اور جو خدا سے پھرا ہوا ہو اور کسی طرح اسے ماننے کو تیار نہ ہو وہ بڑی سے بڑی نشانی دیکھ کر بھی کوئی نصیحت حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ اس کی عقل پر تعصب کا پردہ پڑا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 13–14

(40:13) ھو الذی مبتداء ہے یریکم اس کی خبر۔ یریکم : یری فعل مضارع واحد مذکر غائب اراء ۃ مصدر باب افعال کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر وہ تم کو دکھاتا ہے۔ ایتہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر یری کا مفعول ثانی۔ وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے ۔ نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو اس کی عظمت شان اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ ینزل مضارع واحد مذکر غائب تنزل (تفعیل) مصدر وہ نازل کرتا ہے۔ من السماء اوپر سے۔ سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے۔ ہر شے اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتی ہے۔ رزقا : ینزل کا مفعول ہے یہاں مسبب بیان کرکے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–20

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 20 : ینادون ( یدائ) ( آواز دیں گے) مقت اللہ ( اللہ کا غصہ) تدعون (تم پکارے جائو گے) امتنا ( تو نے ہمیں موت دی) احییتنا (تو نے ہمیں زندگی دی) ینیب (وہ لوٹتا ہے، رجوع کرتا ہے) رفیع ( بلند) الروح ( روح ، وحی) التلاق (ملاقات ، ملنا) برزون (ظاہر ہونے والے ، بےپردہ) القھار (زبردست ، قوت والا) الازقۃ ( قریب آنے والی ، نزدیک آنے والی) الحناجر (حنجور) ( گلے ، کلیجے) کظمینا (غصہ پی جانے والے) حمیم (قریبی دوست) خائنۃ ( خیانۃ) ( چوری کرنے والی ، خیانت کرنے والی) لم یقضون (وہ فیصلہ نہیں کرتے) تشریح : آیت نمبر 10 تا 20 :۔ دنیا میں کفر و شرک اور گناہ کرنے والے لوگ مختلف باتوں اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–13

(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جب ایسے لوگ دوزخ میں جھونک دیے جائیں گے تو دوزخ کے عذاب سے تنگ آکر یہ لوگ ان باتوں سے بہت بیزاری ظاہرکریں گے جن باتوں کو دنیا میں بڑی خوشی سے کرتے تھے ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر انکوقائل کرنے کے لیے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر ان سے کہیں گے کہ بےوقت کی اس بےزاری سے اب کیا ہوتا ہے دنیا میں جب تم کو قرآن کے موافق فرمانبرداری کی نصیحت کی جاتی تھی اور تم سرکشی اسے اس کو نہیں مانتے تھے اللہ تعالیٰ تمہاری اس سرکشی سے بہت بےزار تھ ایہ عذاب اللہ کی اس بےزاری کا نتیجہ ہے اب یہ عذاب کس طرح ٹل نہیں سکتا، فرشتوں کی یہ جھڑکی سن کر یہ دوزخی لوگ اللہ سے عرض کریں گے یا اللہ تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–13

[3] یعنی بارش برساتا ہے جو روزی کا سبب ہے۔[4] اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے نظام رزق سے اس کی وحدانیت پر استدلال کیا گیا ہے۔ اگر آدمی ایک اپنی روزی ہی کا مسئلہ سمجھ لے جس کا سامان آسمان سے ہوتا رہتا ہے تو نظام کائنات کا وہ تصور جو قرآن دے رہا ہے وہ بھی اس کی سمجھ میں آجائے گا بشرطیکہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور غور و فکر سے کام لینے والا ہو۔ روزی کا یہ انتظام صرف اسی صورت میں قائم ہوسکتا تھا جب کہ پانی، ہوا، سورج اور زمین کی خالق ومالک صرف ایک ہستی ہو اور اس انتظام کا لاکھوں برس سے باقاعدگی کے ساتھ جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ازلی و ابدی اللہ اس کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–14

دعوت توحید 1: قرآن حکیم بطور مدارو مرکز کے جس مسئلہ کا ذکر کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ تمام عالم انسانی احساس مجد کے اس اصول سے براہ راست واقفیت پیدا کرے اور یہ تے کرلے کہ زندگی کی تمام تگ ودو میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائیگا کہ ہم ساری کائنات سے افضل ہیں ۔ اور رب اکوان ہمارا خدا ہے ۔ اسی کی بادشاہت ہے ۔ اور وہی بالا اور برتر ذات ہے ۔ اس عقیدہ یقینا یہ نتیجہ ہوگا ۔ کہ نفس میں وہ تمام خود داری اور رفعت کے جذبات پیدا ہوجائیں گے ۔ جن پر مضبوط اور صالح زندگی کا انحصار ہے ۔ توہمات مٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے میں ایک روحانی قوت اور طاقت محسوس کریگا ۔ ایک نوع کی بالیدگی اور ارتقاء پائیگا ۔ اور پھر ہینت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے رزق نازل کرتا ہے اور ان باتوں سے صرف وہی شخص نصیحت قبول کرتا ہے اور ان پر صرف وہی غور اور سوچ کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے کی خواہش اور ارادہ کرتا ہے یعنی مختلف نشانیاں دکھاتا ہے ۔ فغی کل شبئی لہ ایۃ۔ ہرچیز میں اس کی کوئی نہ کوئی نشانی وجود ہے آسمان سے رزق اتارنے کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے بارش کرتا جس کی وجہ سے ہر قسم کی نعمت زمین سی نکلتی ہے ان نشانیوں سے صرف وہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں توفیق میسر ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–18

(ف 6) یعنی چونکہ حق تعلای کے علو و کبریاء کے اعتبار سے یہ جرم عظیم تھا اس لئے فیصلہ میں عقوبت بھی عظیم تجویز ہوئی، یعنی خلود۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ کے ہونے اور اس کے ایک ہونے کے قطعی دلائل 13۔ اس بات کا ثبوت کہ اللہ ہے اور یہ کہ وہ صرف اور صرف ایک ہے۔ قرآن کریم نے اس کے دلائل آفاق وانفس سے بار بار پیش کیے ہیں اور لوگوں نے ہمیشہ ضد کی ہے کہ ہم اس طرح ماننے کے لیے تیار نہیں ہاں ! اللہ کو ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ خود ہم سے کہے کہ میں ایک ہوں اور جو دلائل وہ رسول سے بیان کرتا ہے ہم سے کیوں نہیں کرتا ؟ اس نظریہ کے پیش نظر بعض نے اللہ کے ہونے ہی سے انکار کیا اور بعض نے اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی مخلوق کو اللہ کا اوتار سمجھ کر اس کو یا اس کے ذریعہ سے اللہ کو مانا اور بغیر کسی ذریعہ کے اس کو تسلیم کرنے کے لیے وہ تیار نہ ہوئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–15

Commentary The word: دَرَجَات (darajat, translated above as 'stations' ) in: رَ‌فِيعُ الدَّرَ‌جَاتِ (He is High in stations - 40:15) has been taken by some commentators as meaning 'attributes.' If so, the sense of the expression would be that His attributes of perfection are most exalted. Ibn Kathir has relied on the words as they appear outwardly and has said that it refers to the most exalted 'arsh' (throne) for it comprehends all land masses and heavens and is located above them all like a roof as in Surah Al-Ma'arij: مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِ‌جِ ﴿3﴾ تَعْرُ‌جُ الْمَلَائِكَةُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

19 "Signs" imply those Signs which point to the great truth that the Fashioner, Ruler and Administrator of the Universe is One and only One God. 20 "Sustenance" here implies the rain, for every kind of the sustenance that man gets in the world, depends ultimately on the rainfall. AIlah presents this one single Sign out of His countless Signs, as if to draw the people's attention to the fact: "If you only consider and ponder over the arrangement of this one thing, you will understand that the concept being presented in the Qur'an of the administration of the Universe, is true. This arrangement…

Read the full tafseer →