Explained with ayahs 10–14
کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو۔
قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہوجائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 18
یعنی فیصلہ اب اسی اکیلے خدا کے ہاتھ میں ہے جس کی خدائی پر تم راضی نہ تھے، اور ان دوسروں کا فیصلے میں کوئی دخل نہیں ہے جنہیں خدائی کے اختیارات میں حصہ دار قرار دینے پر تمہیں بڑا اصرار تھا۔ (اس مقام کو سمجھنے کے لیے سورة زمر آیت 45 اور اس کا حاشیہ 64 بھی نگاہ میں رہنا چاہیے)۔ اس فقرے میں آپ سے آپ یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ اب اس عذاب کی حالت سے تمہارے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں ہے، کیونکہ تم نے صرف آخرت ہی کا انکار نہیں کیا تھا بلکہ اپنے خالق و پروردگار سے تم کو چڑ تھی اور اس کے ساتھ دوسروں کو ملائے بغیر تمہیں چین نہ آتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
خلاصہ تفسیر
جو لوگ کافر ہوئے (وہ جب دوزخ میں جا کر اپنے شرک و کفر اختیار کرنے پر حسرت و افسوس کریں گے اور خود ان کو اپنے سے سخت نفرت ہوگی یہاں تک غصہ کے مارے اپنی انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاویں گے۔ جیسا کہ درمنثور میں حضرت حسن سے روایت ہے۔ اس وقت) ان کو پکارا جاوے گا کہ جیسی تم کو (اس وقت) اپنے سے نفرت ہے، اس سے بڑھ کر خدا کو (تم سے) نفرت تھی جبکہ تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر (بلانے کے بعد) تم نہیں مانا کرتے تھے (مقصود اس سے ان کی حسرت و ندامت میں اور زیادتی کرنا ہے) وہ لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار (ہم جو دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کیا کرتے تھے اب ہم کو اپنی غلطی معلوم ہوگئی۔…
Read the full tafseer →یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو جواب دلوایا جائے گا کہ یہ جو کچھ تمہیں پیش آیا تمہاری اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ ہے۔ تمہیں توحید کی دعوت دی جاتی تو تم اس سے بدکتے اور شرک کے تم بڑے حامی بنے رہے تو اب فیصلہ خدائے برتر وعظیم ہی کے اختیار میں ہے اور اس کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہے جس سے تم دوچار ہو۔
Read the full tafseer →12۔ 1 یہ ان کے جہنم سے نہ نکالے جانے کا سبب بیان فرمایا کہ تم دنیا میں اللہ کی توحید کے منکر تھے اور شرک تمہیں مرغوب تھا اس لیے اب جہنم کے دائمی عذاب کے سوا تمہارے لیے کچھ نہیں۔
12۔ 2 اسی ایک اللہ کا حکم ہے کہ اب تمہارے لیے جہنم کا عذاب ہمیشہ کے لیے ہے اور اس سے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں۔ جو اعلیٰ یعنی ان باتوں سے بلند ہے کہ اس کی ذات یا صفات میں کوئی اس جیسا ہو اور کبیر یعنی ان باتوں سے بہت بڑا ہے کہ اس کی کوئی مثل ہو یا بیوی اور اولاد ہو یا شریک ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–24
4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
آیت نمبر 10 تا 12
لمقت کا مفہوم ہے بہت شدید ناپسندیدگی۔ ان کو سب مخلوق خدا ہر طرف سے یہ پکارے گی ، کی بدبختو تمہیں رسول اللہ ﷺ ، ایمان کی پکار دے رہے تھے اور تم ناحق انکار کرتے تھے۔ اور اللہ تم پر بہت ناراض ہوتا تھا۔ اور تمہارے رویے کو بہت ناپسند فرماتا تھا ، جس طرح آج تمہیں حقیقت معلوم ہوئی ہے تو تم اپنے رویے کو ناپسند کرتے ہو لیکن تم سے تو وقت چلا گیا ہے۔ تم نے کفر کیا ، ایمان سے منہ موڑا اور تم سے ایک عظیم دولت چلی گئی۔ پوری کائنات کی جانب سے یہ علامت آرہی ہوگی اور یہ ان کے لیے سخت سوہان روح ہوگی۔ اس برے دن میں کسی تسلی کے بجائے ہر طرف سے مزید ملامت۔ اب تو دھوکے اور گمراہی کے پردے آنکھوں…
Read the full tafseer →4 یعنی بیشک اب دنیا کی طرف واپس کیے جانے کی کوئی صورت نہیں۔ اب تو تم کو اپنے اعمال سابقہ کا خمیازہ بھگتنا ہے۔ تمہارے متعلق ہلاکت ابدی کا یہ فیصلہ اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اکیلے سچے خدا کی پکار پر کبھی کان نہ دھرا۔ ہمیشہ اس کا یا اس کی وحدانیت کا انکار ہی کرتے رہے۔ ہاں کسی جھوٹے خدا کی طرف بلائے گئے تو فوراً آمنا و صدقنا کہہ کر اس کے پیچھے ہو لیے۔ اس سے تمہاری خو اور طبیعت کی افتاد کا اندازہ ہوسکتا ہے کہ اگر ہزار مرتبہ بھی واپس کیا جائے، پھر وہ ہی کفر و شرک کما کر لاؤ گے بس آج تمہارے جرم کی ٹھیک سزا یہ ہی حبس دوام ہے جو اس بڑے زبردست خدا کی عدالت عالیہ سے جاری کی گئی۔ جس کا کہیں آگے مرافعہ…
Read the full tafseer →آیت 12 { ذٰلِکُمْ بِاَنَّہٗٓ اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ کَفَرْتُمْ } ”یہ اس لیے ہے کہ جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے۔“
{ وَاِنْ یُّشْرَکْ بِہٖ تُؤْمِنُوْا } ”اور اگر اس کے ساتھ شرک کیا جاتا تو تم مان لیتے۔“
{ فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ } ”تو اب ُ کل اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جو بہت بلند ‘ بہت عظمت والا ہے۔“
Read the full tafseer →15 مشرک کی پکی علامت توحید خالص سے بدکنا :۔ اللہ تعالیٰ کی ایک عاجز مخلوق ہونے کے باوجود تمہارا اپنے پروردگار سے یہ سلوک تھا کہ تمہیں جب کہا جاتا تھا کہ عبادت کے لائق صرف اللہ ہی ہے تو فوراً ناگواری کے آثار تمہارے چہروں پر نمایاں ہوجاتے تھے۔ تمہاری سب نیاز مندیاں اور محبت غیروں کے ساتھ تھیں۔ جب اللہ کے شریکوں کا ذکر ہوتا تو تمہاری باچھیں کھل جاتی تھیں۔ اور آج جو تم التجا کر رہے ہو اس کا فیصلہ اس اللہ کے ہاتھ میں ہے جو تمہاری طرح عاجز مخلوق نہیں۔ بلکہ سب کا خالق اور بڑی بلند شان والا ہے۔ اب تم خود ہی سوچ سکتے ہو کہ اس کا رویہ تمہارے حق میں کیا ہونا چاہئے ؟
Read the full tafseer →13۔ (سوانکار کی سزا بھی اسی حاکم مقتدر کی جلالت قدرومرتبہ کے لحاظ سے ملے گی) (آیت) ” اذا ..... تؤمنوا “۔ بس یہی خلاصہ ہے دین شرک کا، خدا کے وجود سے مشرکوں کو انکار نہیں، انکار صرف اس کے خدائے واحد ہونے سے ہے۔ اسے خدائے اعظم کی حیثیت سے مانا جائے اور دوسرے چھوٹے چھوٹے خداؤں کی حیثیت تسلیم کرلی جائے تو ان مشرکوں کو بھی تامل نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : کافروں سے فرشتوں کیجانب سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اور وہ جہنم میں داخل ہوتے وقت خود اپنے اوپر غصہ ہوں گے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی تمہارے اوپر غضبناکی کہیں زیادہ تھی تمہارے اپنے اوپر غصہ ہونے سے جس وقت کہ تم کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر تم نہیں مانتے تھے تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا اس لئے کہ وہ بےجان نطفے تھے بعد ازاں ان کو زندہ کیا گیا، پھر ان کو موت دی گئی پھر ان کو بعثت کے لئے زندہ کیا گیا سو ہم اپنے گناہوں (یعنی) انکار بالبعث کا اقرار کرتے ہیں تو کیا نار دوزخ سے نکلنے اور دنیا کی طرف واپس…
Read the full tafseer →ذلکم بانہ اذا دعی اللہ وحدہ کفرتم وان یشرک بہ تؤمنوا فالحکم اللہ العلی الکبیر وجہ
اس کی یہ ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کرلیا جاتا تھا تو مان لیتے تھے ‘ سو (آج یہ) فیصلہ اللہ کا ہے جو عالی شان اور بڑے رتبہ والا ہے۔
اِذَا دُعِیَ اللہ وَحْدَہٗ یعنی جب لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ کہا جاتا تھا تو تم نہیں مانتے تھے ‘ اور کہتے تھے : اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا کیا اس نے سب معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ؟
تُؤْمِنُوْا یعنی شرک کو مانتے تھے۔
فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ یعنی آج یہ حکم صرف اللہ کا ہے جو تنہا مستحق عبادت ہے اور شرک سے پاک ہے ‘ اسی…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ اس دوزخ کے عذاب اور ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ جب تم سے کلمہ لا الہ الا اللہ کے اقرار کرنے کے بارے میں کہا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر بتوں کو شریک کیا جاتا تھا تو تم فورا مان لیتے تھے سو بندوں کے درمیان جو یہ فیصلہ ہوا اور کافروں کے لیے دوزخ کا حکم ہوا یہ اس اللہ کا فیصلہ ہے جو سب سے بلند عالی شان اور سب سے بڑا ہے۔
Read the full tafseer →(1) ذلکم بانہ اذا دعی اللہ وحدہ…یعنی انہیں جواب ملے گا کہ آج تم جس حال میں مبتلا ہو وہ اس لئے ہے کہ دنیا میں جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تو تم نہیں مانتے تھے لیکن جب اس کے ساتھ دوسرے معبود بھی شریک کئے جاتے تو تم مان لیتے تھے۔ اکیلے اللہ کی عبادت تو درکنار، اکیلے اللہ کے ذکر پر ہی تمہارے دل تنگ پڑجاتے تھے اور غیروں کے ذکر پر تمہارے چہرے خوشی سے چمک اٹھتے تھے۔ (دیکھیے زمر : 45) اب اگر تمہیں دوبارہ دنیا میں بھی بھی دیا جائے تو تم وہی کچھ کرو گے جو تم پہلے کرتے رہے، اس لئے تمہارے جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ دیکھیے سورة انعام (28)
(2) فالحکم للہ العلی الکبیر : تو اب فیصلے کا اختیار صرف اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
قالو ربنا امثنا اثنتین اہل تاویل نے اس کی کئی تفسرین کی ہیں۔ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک نے کہا : وہ اپنے آباء کی پشتوں میں مردہ تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی دی پھر انہیں دنیا میں وہ دعوت دی (1) جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں پھر انہیں بعث اور قیامت کے لیے دوبارہ زندہ کیا یہی دو زندگیاں اور دو موتیں ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمان :” کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِ اللہ ِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَـاَحْیَاکُمْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ “ (البقرہ : 28) میں یہی مراد ہے۔
1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 146
سدی نے کہا : انہیں دنیا میں موت دی گئی پھر سوال و جواب کے لیے قبروں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ مثل ہے جب سورة بقرہ میں ہے (آیت ) ” وکنتم امواتا فاحیاکم، ثم یمیتکم ثم یحییکم “ (البقرہ آیت 28) کہ تم مردہ تھے تم کو زندہ کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کریں گے) یعنی تم مردہ تھے اپنے باپوں کی پشتوں میں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو نکالا اور زندہ کردیا پھر ان کو موت عطا کی پھر ان کو زندہ کرے گا موت کے بعد۔
2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗٓ [ یہ بسبب اس حقیقت کے کہ ] اِذَا [ جب کبھی ] دُعِيَ اللّٰهُ [ پکارا گیا اللہ کو ] وَحْدَهٗ [ بلحاظ اس کے واحد ہونے کے ] كَفَرْتُمْ ۚ [ تو تم لوگوں نے انکار کیا ] وَاِنْ يُّشْرَكْ بِهٖ [ اور اگر شرک کیا جاتا تھا اس کے ساتھ ] تُؤْمِنُوْا ۭ [ تو تم لوگ ایمان لاتے ] فَالْحُكْمُ [ تو (اب ) حکم دینا ] لِلّٰهِ [ اللہ ہی کے لئے ہے ] الْعَلِيِّ [ جو بلند ہے ] الْكَبِيْرِ [ جو بڑا ہے ]
Read the full tafseer →اللہ کا ارشاد ہوگا (ذٰلِکُمْ بِاَنَّہٗ اِِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ کَفَرْتُمْ وَاِِنْ یُشْرَکْ بِہٖ تُؤْمِنُوْا) (تمہارا یہ عذاب میں مبتلا ہونا اس وجہ سے ہے کہ جب دنیا میں اللہ وحدہٗ لا شریک کو پکارا جاتا تھا تو تمہیں اچھا نہیں لگتا تھا تم اللہ کی وحدانیت کا انکار کرتے تھے اور اسی انکار پر جمے رہتے تھے اور اگر تمہارے سامنے کوئی ایسا موقع آجاتا کہ اللہ کے ساتھ شرک کیا جاتا تو تم اسے مان لیتے تھے اور اسے صحیح کہتے تھے اور اس کے اقراری ہوجاتے تھے، وہ دنیا گزر گئی تم اس میں برابر کافر ہی رہے آج چھٹکارا کا راستہ نہیں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا کہ تمہیں عذاب میں ہی رہنا ہے اللہ تعالیٰ برتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
بعضے از احوال کفار بعد دخول نار وبیان دلائل قدرت پروردگار :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین کفروا ینادون ......... الی ....... سریع الحساب “۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں کتاب الہی کی حقانیت بیان فرماتے ہوئے مجادلین ومعاندین پر وعیدوتہدید تھی اور ساتھ ہی اہل ایمان وطاعت کا اعزاز واکرام اور حاملین عرش فرشتوں کی طرف سے ان کے حق میں دعا و استغفار کا ذکر تھا، تو اس کے بعد ان آیات میں کافروں کی ذلت و حقارت کا بیان ہے کہ قیامت کے روز ان کو کس طرح ذلیل ورسوا ہونا پڑے گا اور اس وقت یہ کافر خود اعتراف کریں گے اور چاہیں گے کہ پھر کسی طرح ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائیں تو ایمان لائیں اور اللہ کی اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
14:۔ ” قالوا الخ “ جہنم میں داخل ہونے کے بعد مشرکین جہنم سے نکلنے کی راہیں تلاش کریں گے اور کہیں گے اے ہمارے پروردگار، تو نے دو بار ہمیں موت سے دوچار کیا اور دو بار ہمیں زندگی بخشی، ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور جس حشر و نشر کا انکار کیا کرتے تھے آج اس پر ایمان لاتے ہیں۔ کیا اب کوئی سورت ہے کہ ہمیں دوزخ سے نکال کر ایک بار پھر دنیا کی زندگی مل جائے تو ہم تیری پوری پوری فرمانبرداری کریں گے۔ والمراد طلب الخروج نظیر (فارجعنا نعمل صالحا) ۔ (روح) ۔ پہلی موت سے مراد عدم ہے جب وہ اصلاب آباء میں تھے اور دوسری موت وہ ہے جو دنیا کی زندگی کا خاتمہ کردیتی ہے۔ اور پہلی بار احیاء سے دنیا میں پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ربط آیات : گذشتہ آیات میں پہلے قرآن پاک کی حقانیت اور اس کا وحی الہی ہونا ذکر ہوا پھر اللہ تعالیٰ کی آٹھ صفات بیان ہوئیں اور کافروں کے طرز عمل کا شکوہ کیا گیا اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کا حال بیان کیا اور ان کے انجام سے خبردار کیا ، پھر اللہ تعالیٰ کے رسول کے ساتھ عناد رکھنے والے ضدی لوگوں کی مخالفت کا حال بیان ہوا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے مرتبے اور انکے انجام کا ذکر کیا ، فرمایا کہ حاملین عرش اور اس کے اردگرد طواف کرنے والے ملائکہ مقربین اہل ایمان کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں جن کے صلے میں اللہ تعالیٰ انہیں جنت عدن میں ٹھکانا عطا فرمائے گا ۔
(کفار کی حسرت)
اب آج کے درس میں…
Read the full tafseer →ذٰلِكُمْ بِاَنَّہٗٓ اِذَا دُعِيَ اللہُ وَحْدَہٗ كَفَرْتُمْ 0 ۚ وَاِنْ يُّشْرَكْ بِہٖ تُؤْمِنُوْا 0 ۭ فَالْحُكْمُ لِلہِ الْعَلِيِّ الْكَبِيْرِ 12
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ترکیب : من مقتکم مصدر مضاف الی الفاعل و انفسکم منصوب بہ اذتدعون ظرف لفعل محذوف تقدیرہ مقتکم اذ تدعون المقت دشمن گرفتن یقال مقتہ فھو مقیت و ممقوت (صراح) اثنتین لغتان لمصدر محذوف ای امتنا اماتتین اثنتین و احیتنا احیاء تین اثنتین ذلکم مبتدء خبرہ محذوف العذاب بانہ ای بسبب انہ وحدہ مصدر فی موضع الحال من اللہ اے دعی مفرداً ۔
تفسیر : ایمانداروں کی حالت بیان کرنے کے بعد کہ ان کے لیے آخرت کے امر میں ملائکہ یوں دعا کرتے ہیں جو مستجاب ہوگی اور وہاں جنت عدن میں اپنے صلحاء اقارب کے ساتھ جاویں گے۔ مصائبِ آخرت سے محفوظ رہیں گے۔ کفار کا حال بیان فرماتا ہے۔ ان الذین کفروا ینادون لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم…
Read the full tafseer →ذٰلِکُمْ بِاَنَّـہٗٓ اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ کَفَرْتُمْ ج وَاِنْ یُّشْرَکْ بِہٖ تُؤْمِنْوْا ط فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْـکَبِیْرِ ۔ (المؤمن : 12)
(پروردگار کی طرف سے جواب ملے گا) یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ جب تمہیں ایک اللہ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کردیتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تو تم مان لیتے تھے اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے اختیار میں ہے۔ )
کفار کی درخواست کا جواب
اوپر کی آیت میں کفار نے پروردگار کے حضور جو درخواست کی تھی اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ تم آج جس انجام سے دوچار ہوئے ہو اور جس نے تمہیں اپنے گناہوں اور غلطیوں کے اعتراف پر مجبور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
فہم القرآن
ربط کلام : جنتیوں کے بعد جہنمیوں کا ذکر۔
جہنمی جہنم میں نہ صرف اپنے علماء، پیروں اور لیڈروں پر غصہ نکالیں گے بلکہ وہ اپنے آپ پر بھی غضبناک ہوں گے۔ یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ! ہم رسول کا راستہ چھوڑ کر فلاں فلاں کو اپنا خیر خواہ نہ بناتے۔ (الفرقان : 27۔ 28)
جب وہ اپنے ہاتھ کاٹ رہے ہوں گے تو رب ذوالجلال انہیں مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمائیں گے کہ جس طرح آج تمہیں اپنی حالت زار پر غصہ آرہا ہے۔ جب دنیا میں تم مجھ پر ایمان لانے سے انکار کرتے اور میرے شریک بناتے تھے تو مجھے اس سے کہیں زیادہ غصہ آتا تھا۔ لیکن میں نے تمہیں مہلت دئیے رکھی تاآنکہ تم جہنم میں داخل کردئیے…
Read the full tafseer →سرمدی عذاب کا فیصلہ تمہارے کفر کی وجہ سے ہوا : ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗٓ اِذَا دُعِيَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْ ، وجہ اس کی یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کا نام لیا جاتا تھا، تو تم انکار کیا کرتے تھے۔ وَاِنْ يُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْا، اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے، یہ وہ چیز ہے جس میں تم مبتلا تھے۔ تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں اس وجہ سے کہ تم نے توحید کا انکار کیا اور شرک پر تمہارا ایمان تھا۔ فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ ، پس یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کا ہے، کہ اس نے ہی تمہارے لیے سرمدی عذاب کا فیصلہ فرمایا۔ الْعَلِيِّ ، بلندو برتر ہے، شان اس کی پس اس کے فیصلوں کو رد…
Read the full tafseer →11، قالو اربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثئتین، ابن عباس ؓ اور قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں مردہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں زندہ کردیا۔ پھر ان کو وہ موت دی جس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ پھر ان کو زندہ کرے گا بعث کے لیے قیامت کے دن ۔ پس یہ دوموتیں اور دوزندگیاں ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتافاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ، کی طرح ہے اور سدی (رح) فرماتے ہیں دنیا میں موت دیئے گئے پھر ان کو زندہ کیا جائے قبر میں سوال کے لیے۔ پھر ان کو موت دی جائے گی ان کی قبروں میں، پھر آخرت میں زندہ کیے جائیں گے۔ ، فاعترفنا بذنوبنا فھل الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ جو لوگ شیطان کی پیروی کریں گے ان سے اور شیطان سے دوزخ کو بھرا جائے گا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جب ایسے لوگ دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے تو دوزخ کے عذاب سے تنگ آ کر یہ لوگ ان باتوں سے بہت بیزاری ظاہر کریں گے جن باتوں کو دنیا میں بڑی خوشی سے کرتے تھے۔ ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر ان کو قائل کرنے کے لئے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر ان سے کہیں گے کہ بےوقت کی اس بیزاری سے اب کیا ہوتا ہے دنیا میں جب تم کو قرآن کے موافق فرمانبرداری کی نصیحت کی جاتی تھی اور تم سرکشی سے اس کو نہیں مانتے تھے اللہ تعالیٰ تمہاری اس سرکشی سے بہت بیزار تھا۔ یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی اس بیزاری کا نتجیہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
آیت 12
اللہ تبارک و تعالیٰ اس فضیحت و رسوائی کا ذکر کرتا ہے جس کا کفار کو اسمنا کرنا ہوگا، نیز ان کی دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کے رد ہونے اور ان پر زجر و توبیخ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ان الذین کفروا) ” بیشک جن لوگوں نے کفر کیا۔ “ اللہ تعالیٰ نے اسے مطلق بیان کیا ہے تاکہ یہ کفر کی تمام انواع کو شامل ہو، مثلاً اللہ تعالیٰ ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز آخرت کا انکار وغیرہ۔ جب یہ لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو اقرار کریں گے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث جہنم کے مستحق ہیں۔ وہ اپنے آپ پر شدید غیظ و غضب کا اظہار کریں گے۔ تب اس وقت ان کو پکار کر کہا جائے گا : (لمقت اللہ) یعنی تم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
26 نشانہائے قدرت میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اللہ وہی ہے جو تمہیں دکھاتا ہے اپنی طرح طرح کی نشانیاں تاکہ تم لوگ غور و فکر سے کام لو "۔ یعنی اس کائنات میں پھیلی ہوئی طرح طرح کی وہ نشانیاں جو اس کی قدرت و وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں ۔ وَفِیْ کُلِّ شَئٍ لَہ شَاہِدٌ ۔ یَدُلُّ عَلیٰ اَنہ واحِدٌ۔ سو کائنات عالم کی اس کھلی کتاب میں پھیلی بکھری یہ نشانیاں اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اس کے خالق ومالک کی قدرت، اس کی وحدانیت، اس کی حکمت بےنہایت اور اس کی رحمت بےپایاں کی گواہی دے رہی ہیں تاکہ انسان ان میں غور و فکر سے کام لے کر راہ حق و ہدایت کو اپنا سکے اور دارین کی سعادت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–22
کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت
تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 20:
اسرار و معارف :
آج تو جسمانی اور مادی فوائد کفار کو بہت عزیز ہیں مگر جہنم میں انہیں خود اپنی ذات سے بھی نفرت ہوگی اور انگلیاں کاٹ کاٹ کھائیں گے کہ لعنت ہو ایسے وجود پر جسے ہم پالتے رہے اللہ کی اطاعت نہ کی تو انہیں آواز دی جائے گی جب تم دنیا میں کفر پہ اصرار کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے تو اللہ کو تمہارے وجودوں سے اس سے زیادہ نفرت تھی جتنی خود سے آج تم کو ہے۔ تب پکار کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم جان گئے کہ تو نے ہمیں دو بار موت دی ایک بار تو مادہ کی صورت میں تھے پھر دنیا سے آخرت کے سفر پر موت کے راستے سے چلے اور دو بار زندگی بھی ایک بار دنیا میں دنیا میں…
Read the full tafseer →ف 11 یعنی انہیں جواب ملے گا کہ تم آج جس حال میں مبتلا ہو، وہ اس لئے ہے کہ۔۔۔۔۔
1 یعنی تمہیں انکار تھا تو اس چیز سے کہ اللہ ہی ایک خدا ہے نہ کہ اس چیز سے کہ اللہ بھی خدا ہے اور اس کے ساتھ بہت سے اور بھی ہیں۔2 یعنی آج بلا لو اپنے ان دیویوں اور پیروں فقیروں کو جن کو تم خدا سمجھ کر پکارا کرتے تھے۔ اگر وہ واقعی خدا تھے تو تمہاری مدد کو کیوں نہیں پہنچتے ؟
Read the full tafseer →(40:12) ذلکم : یعنی تمہارا دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہونا۔
بانہ۔ میں باء سببیہ ہے ان حرف تحقیق ہے اور حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ تحقیق، بےشک۔ یقینا ہ ضمیر شان ہے اور اللہ کی طرف عائد ہوتی ہے۔
داعی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب وہ پکارا گیا۔ دعاء (باب نصر) مصدر سے۔ ذلک یا نہ اذا دعی اللّٰہ وحدہ کفرتم۔ تمہارا یہ دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہونا بدیں وجہ ہے کہ تحقیق جب بھی اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر کیا گیا تو تم اسے ماننے سے انکار کردیتے تھے یعنی جب بھی لا الہ الا اللّٰہ کہا جاتا تو تم کہہ اٹھتے اجعل الالہۃ الھا واحدا (38:5) کیا بنادیا ہے اس نے بہت سے خداؤں کی جگہ ایک خدا۔ یا ۔ انھم کانوا اذا قیل لہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 20 : ینادون ( یدائ) ( آواز دیں گے) مقت اللہ ( اللہ کا غصہ) تدعون (تم پکارے جائو گے) امتنا ( تو نے ہمیں موت دی) احییتنا (تو نے ہمیں زندگی دی) ینیب (وہ لوٹتا ہے، رجوع کرتا ہے) رفیع ( بلند) الروح ( روح ، وحی) التلاق (ملاقات ، ملنا) برزون (ظاہر ہونے والے ، بےپردہ) القھار (زبردست ، قوت والا) الازقۃ ( قریب آنے والی ، نزدیک آنے والی) الحناجر (حنجور) ( گلے ، کلیجے) کظمینا (غصہ پی جانے والے) حمیم (قریبی دوست) خائنۃ ( خیانۃ) ( چوری کرنے والی ، خیانت کرنے والی) لم یقضون (وہ فیصلہ نہیں کرتے)
تشریح : آیت نمبر 10 تا 20 :۔ دنیا میں کفر و شرک اور گناہ کرنے والے لوگ مختلف باتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جب ایسے لوگ دوزخ میں جھونک دیے جائیں گے تو دوزخ کے عذاب سے تنگ آکر یہ لوگ ان باتوں سے بہت بیزاری ظاہرکریں گے جن باتوں کو دنیا میں بڑی خوشی سے کرتے تھے ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر انکوقائل کرنے کے لیے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر ان سے کہیں گے کہ بےوقت کی اس بےزاری سے اب کیا ہوتا ہے دنیا میں جب تم کو قرآن کے موافق فرمانبرداری کی نصیحت کی جاتی تھی اور تم سرکشی اسے اس کو نہیں مانتے تھے اللہ تعالیٰ تمہاری اس سرکشی سے بہت بےزار تھ ایہ عذاب اللہ کی اس بےزاری کا نتیجہ ہے اب یہ عذاب کس طرح ٹل نہیں سکتا، فرشتوں کی یہ جھڑکی سن کر یہ دوزخی لوگ اللہ سے عرض کریں گے یا اللہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
[3] یعنی بارش برساتا ہے جو روزی کا سبب ہے۔[4] اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے نظام رزق سے اس کی وحدانیت پر استدلال کیا گیا ہے۔ اگر آدمی ایک اپنی روزی ہی کا مسئلہ سمجھ لے جس کا سامان آسمان سے ہوتا رہتا ہے تو نظام کائنات کا وہ تصور جو قرآن دے رہا ہے وہ بھی اس کی سمجھ میں آجائے گا بشرطیکہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور غور و فکر سے کام لینے والا ہو۔ روزی کا یہ انتظام صرف اسی صورت میں قائم ہوسکتا تھا جب کہ پانی، ہوا، سورج اور زمین کی خالق ومالک صرف ایک ہستی ہو اور اس انتظام کا لاکھوں برس سے باقاعدگی کے ساتھ جاری رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ازلی و ابدی اللہ اس کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
دعوت توحید
1: قرآن حکیم بطور مدارو مرکز کے جس مسئلہ کا ذکر کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ تمام عالم انسانی احساس مجد کے اس اصول سے براہ راست واقفیت پیدا کرے اور یہ تے کرلے کہ زندگی کی تمام تگ ودو میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائیگا کہ ہم ساری کائنات سے افضل ہیں ۔ اور رب اکوان ہمارا خدا ہے ۔ اسی کی بادشاہت ہے ۔ اور وہی بالا اور برتر ذات ہے ۔ اس عقیدہ یقینا یہ نتیجہ ہوگا ۔ کہ نفس میں وہ تمام خود داری اور رفعت کے جذبات پیدا ہوجائیں گے ۔ جن پر مضبوط اور صالح زندگی کا انحصار ہے ۔ توہمات مٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے میں ایک روحانی قوت اور طاقت محسوس کریگا ۔ ایک نوع کی بالیدگی اور ارتقاء پائیگا ۔ اور پھر ہینت…
Read the full tafseer →(12) یہ سزا تم کو اس لئے دی جارہی ہے کہ جب صرف اللہ کا نام لیا جاتا تھا تو تم اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کیا کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جانا تھا تو تم مان لیتے تھے اور یقین کرلیا کرتے تھے سو اب یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جو سب سے عالیشان اور سب سے بڑا ہے۔ یعنی واپسی کی کوئی شکل نہیں ہمیشہ کے لئے یہیں رہنا ہے تمہاری حالت دنیا میں یہ تھی کہ خدائے وحدہ لا شریک کا ذکر ہوتا تھا تو تم توحید الٰہی کا انکار کرتے تھے اور جب اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جاتا تھا تو تم یقین کرلیا کرتے۔ پس حکم اور فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے جو سب سے بلند اور بڑا ہے اور اس کا ہی فیصلہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
(ف 6) یعنی چونکہ حق تعلای کے علو و کبریاء کے اعتبار سے یہ جرم عظیم تھا اس لئے فیصلہ میں عقوبت بھی عظیم تجویز ہوئی، یعنی خلود۔
Read the full tafseer →کفار کی یہ حالت کیوں ہے ؟ اس لیے کہ جب اکیلے اللہ کو یاد کیا جاتا تھا تو وہ کفر کرتے تھے۔
12۔ کفار کی یہ یہ حالت جس سے اس وقت وہ نکلنے کی کوئی راہ پوچھ رہے ہیں ایسی کیوں ہے ؟ اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ یہ اس لیے ہے کہ دنیا میں جب ان کے سامنے اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تھا تو ان کے تیور بدل جاتے تھے اور چاہتے تھے کہ اس طرح کا ذکر کرنے والے کو اگر ان کا بس چلے تو مار مار کر ہلاک کردیں اور وہ ایسے کر نہیں سکتے تھے تو بہر حال اس کی باتوں کو ٹھکرادیتے تھے اور ماننے کے لیے کبھی تیار نہ ہوتے تھے اور اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو یعنی نبیوں ، رسولوں ، ولیوں اور بزرگوں کو شریک ٹھہرایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
Commentary
The word: دَرَجَات (darajat, translated above as 'stations' ) in: رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ (He is High in stations - 40:15) has been taken by some commentators as meaning 'attributes.' If so, the sense of the expression would be that His attributes of perfection are most exalted. Ibn Kathir has relied on the words as they appear outwardly and has said that it refers to the most exalted 'arsh' (throne) for it comprehends all land masses and heavens and is located above them all like a roof as in Surah Al-Ma'arij: مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ ﴿3﴾ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ…
Read the full tafseer →18 That is, "The Judgement now rests entirely with that God alone, Whose Godhead you did not acknowledge, and those others whom you persistently regarded as associates and partners in the powers of Godhead, have no share whatever in the judgement. " (For a fuller understanding of this point, please see verse 45 of Az-Zumar and its E.N. 64). This sentence by itself gives the meaning that there would be no possibility of any way out for the disbelievers from the state of torment, for they did not only deny the Hereafter but they had aversion to their Creator and Sustainer, and they were not…
Read the full tafseer →