Al-Ghaafir 40:11

Al-Ghaafir · from ayah 11

40:11

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ ۟قَالُوۡا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثۡنَتَيۡنِ وَاَحۡيَيۡتَنَا اثۡنَتَيۡنِ فَاعۡتَرَفۡنَا بِذُنُوۡبِنَا فَهَلۡ اِلٰى خُرُوۡجٍ مِّنۡ سَبِيۡلٍ‏

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی۔ ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will say, "Our Lord, You made us lifeless twice and gave us life twice, and we have confessed our sins. So is there to an exit any way?"

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 2 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:11

وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، تو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی، اب ہم اپنے قصوروں کا اعتراف کرتے ہیں، کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی۔ ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دوبار مارا اور دو بار ہی جلایا، اب ہم اپنے گناہوں کے اقراری ہیں، تو کیا اب کوئی راه نکلنے کی بھی ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت اور دو مرتبہ زندگی دی، اب ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، تو کیا (ہمارے دوزخ سے) نکلنے کا کوئی راستہ ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دوبارہ مردہ کیا اور دوبارہ زندہ کیا اب ہم اپنے گناہوں پر مُقِر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو بار موت دی اور تو نے ہمیں دو بار (ہی) زندگی بخشی، سو (اب) ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، پس کیا (عذاب سے بچ) نکلنے کی طرف کوئی راستہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور تو نے ہمیں دو دفعہ زندہ کیا، سو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا، تو کیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہیں گے : ہمارے پروردگار ! تو نے دو دفعہ ہمیں مارا اور دو دفعہ زندہ کیا، ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ اب (بتاؤ) کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! تو نے ہم کو دو بار موت دی اور دو بار زندگی دی تو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا تو کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ کہیں گے اے ہمارے رب واقعی تو نے ہم کو دو مرتبہ موت بھی دے دی اور دو مرتبہ زندگی بھی بخش دی سو ہم نے اعتراف (و اقرار) کرلیا اپنے گناہوں کا تو کیا اب نکلنے کی کوئی صورت ہوسکتی ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو بار مردہ رکھا اور دو بار زندگی دی سو ہم اپنی خطاؤں کا اقرار کرتے ہیں تو کیا کوئی صورت ہے نکلنے کی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ فریاد کریں گے : اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا تو اب ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ کہیں گے کہ ”اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ بےجان کیا اور دو دفعہ جان بخشی، ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے تو کیا نکلنے کی کوئی راہ ہے ؟۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They will say: “Our Lord, twice have You caused us to die and twice have You given us life. We have now confessed our sins. Is there, then, any way out?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will say, :Our Lord, You gave us death twice and You gave us life twice. Now we confess our sins. So, is there any way to come out of here?

— Muhammad Taqi Usmani

They will say, :Our Lord, You gave us death twice and You gave us life twice. Now we confess our sins. So, is there any way to come out of here?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will say: "Our Lord! You have made us to die twice, and You have given us life twice! Now we confess our sins, then is there any way to get out"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They say: Our Lord! Twice hast Thou made us die, and twice hast Thou made us live. Now we confess our sins. Is there any way to go out?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will say, "Our Lord, You made us lifeless twice and gave us life twice, and we have confessed our sins. So is there to an exit any way?"

— Saheeh International

They say, "Lord, You have caused us to die twice and You have brought us back to life twice. We have confessed our sins, so is there any way out of this (hell)?"

— Muhammad Sarwar

They shall say: Our Lord! twice didst Thou make us subject to death, and twice hast Thou given us life, so we do confess our faults; is there then a way to get out?

— Muhammad Habib Shakir

They will say: our Lord! Thou hast made us die twice, and Thou hast made us live twice now We confess our sins: there no getting out any way?

— Abdul Majid Daryabadi

They will say: "Our Lord! twice hast Thou made us without life, and twice hast Thou given us Life! Now have we recognised our sins: Is there any way out (of this)?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–14

کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو۔ قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہوجائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 15 دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی سے مراد و ہی چیز ہے جس کا ذکر سورة بقرہ، آیت 28 میں کیا گیا ہے کہ تم خدا کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو جبکہ تم بےجان تھے، اس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہ تمہیں موت دے گا اور پھر دوبارہ زندہ کر دے گا۔ کفار ان میں سے پہلی تین حالتوں کا تو انکار نہیں کرتے، کیونکہ وہ مشاہدے میں آتی ہیں اور اس بنا پر ناقابل انکار ہیں، مگر آخری حالت پیش آنے کا انکار کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے مشاہدے میں ابھی تک نہیں آئی ہے اور صرف انبیاء (علیہم السلام) ہی نے اس کی خبر دی ہے۔ قیامت کے روز جب عملاً وہ چوتھی حالت بھی مشاہدے میں آجائے گی تب یہ لوگ اقرار کریں گے کہ واقعی وہی کچھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–12

خلاصہ تفسیر جو لوگ کافر ہوئے (وہ جب دوزخ میں جا کر اپنے شرک و کفر اختیار کرنے پر حسرت و افسوس کریں گے اور خود ان کو اپنے سے سخت نفرت ہوگی یہاں تک غصہ کے مارے اپنی انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاویں گے۔ جیسا کہ درمنثور میں حضرت حسن سے روایت ہے۔ اس وقت) ان کو پکارا جاوے گا کہ جیسی تم کو (اس وقت) اپنے سے نفرت ہے، اس سے بڑھ کر خدا کو (تم سے) نفرت تھی جبکہ تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر (بلانے کے بعد) تم نہیں مانا کرتے تھے (مقصود اس سے ان کی حسرت و ندامت میں اور زیادتی کرنا ہے) وہ لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار (ہم جو دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کیا کرتے تھے اب ہم کو اپنی غلطی معلوم ہوگئی۔…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اقرار بعد از وقت اس وقت یہ لوگ بڑی سعادت مندی اور بڑی صفائی کے ساتھ کہیں گے کہ اے رب، اب ہم اپنے تمام جرائم کا اقرار کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ناممکن تھا اس وجہ سے ہم تیرے مواخذہ و محاسبہ سے بےخوف ہو کر تیرے رسول اور اس کی دعوت کا مذاق اڑاتے رہے لیکن اب تو نے ہمیں دو بار موت اور دو بار زندگی دے کر موت کے بعد کی زندگی کا اچھی طرح مشاہدہ کرا دیا تو کیا اب اس کی بھی کوئی سبیل ہے کہ اس دوزخ سے ہمیں نکلنا نصیب ہو کہ ہم ازسرنو دنیا میں جا کر ایمان اور عمل صالح کی زندگی بسر کریں ! دو بار موت، سے ایک تو وہ حالت موت مراد ہے جو اس دنیا میں وجود پذیر ہونے سے پہلے انسان پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 جمہور مفسرین کی تفسیر کے مطابق دو موتوں میں سے پہلی موت تو وہ نطفہ ہے کو باپ کی پشت میں ہوتا ہے یعنی انسان کے وجود سے پہلے اس کے عدم وجود کو موت تے تعبیر کیا گیا ہے اور دوسری موت وہ ہے جس سے انسان اپنی زندگی گزار کر ہمکنار ہوتا اور اس کے بعد قبر میں دفن ہوتا ہے اور دو زندگیوں میں سے پہلی زندگی یہ دنیاوی زندگی ہے جس کا آغاز ولادت سے اور اختتام وفات پر ہوتا ہے اور دوسری زندگی وہ ہے جو قیامت والے دن قبروں سے اٹھنے کے بعد حاصل ہوگی انہی دو موتوں اور دو زندگیوں کا تذکرہ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم البقرۃ میں بھی کیا گیا ہے۔ 11۔ 2 یعنی جہنم میں اعتراف کریں گے، جہاں اعتراف کا کوئی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–24

4: ایک مرتبہ کی موت سے مراد تو پیدائش سے پہلے کا وہ وقت ہے جب انسان وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اور اس وقت گویا مردہ تھا، اور دوسری موت سے مراد وہ موت ہے جو زندگی کے آخر میں آئی۔ کافروں کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم دنیا میں اس بات کے تو قائل تھے کہ ہم پیدائش سے پہلے موجود نہیں تھے، اور آخر میں ہمیں موت آنے والی ہے، لیکن دو مرتبہ زندگی کے قائل نہیں تھے۔ اب ہمیں اس دوسری زندگی کا بھی یقین آگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–12

آیت نمبر 10 تا 12 لمقت کا مفہوم ہے بہت شدید ناپسندیدگی۔ ان کو سب مخلوق خدا ہر طرف سے یہ پکارے گی ، کی بدبختو تمہیں رسول اللہ ﷺ ، ایمان کی پکار دے رہے تھے اور تم ناحق انکار کرتے تھے۔ اور اللہ تم پر بہت ناراض ہوتا تھا۔ اور تمہارے رویے کو بہت ناپسند فرماتا تھا ، جس طرح آج تمہیں حقیقت معلوم ہوئی ہے تو تم اپنے رویے کو ناپسند کرتے ہو لیکن تم سے تو وقت چلا گیا ہے۔ تم نے کفر کیا ، ایمان سے منہ موڑا اور تم سے ایک عظیم دولت چلی گئی۔ پوری کائنات کی جانب سے یہ علامت آرہی ہوگی اور یہ ان کے لیے سخت سوہان روح ہوگی۔ اس برے دن میں کسی تسلی کے بجائے ہر طرف سے مزید ملامت۔ اب تو دھوکے اور گمراہی کے پردے آنکھوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " پہلے مٹی تھے یا نطفہ، تو مردے ہی تھے۔ پھر جان پڑی تو زندہ ہوئے، پھر مرے۔ پھر زندہ کر کے اٹھائے گئے۔ یہ ہیں دو موتیں اور دو حیاتیں۔ قال تعالیٰ ۔ (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :28) وقیل غیر ذلک والاظہر ہوہذا۔ 2 یعنی انکار کیا کرتے تھے کہ مرنے کے بعد پھر جینا نہیں۔ نہ حساب کتاب ہے نہ کوئی اور قصہ۔ اسی لیے گناہوں اور شرارتوں پر جری ہوتے تھے۔ اب دیکھ لیا کہ جس طرح پہلی موت کے بعد آپ نے ہم کو زندہ کیا اور عدم سے نکال کر وجود عطا فرمایا، دوسری موت کے بعد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 11 { قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ } ”وہ فریاد کریں گے : اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا“ { فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَہَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ } ”تو اب ہم نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے ‘ تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے ؟“ یعنی اگر ہم اس سے پہلے اتنے مراحل سے گزر آئے ہیں تو اب اس مرحلے سے بھی گزرنے کا کوئی طریقہ تو ہوگا۔ تو اے پروردگار ! ایک دفعہ ہمیں اس عذاب سے جان چھڑانے کا موقع بھی فراہم کر دے۔ تخلیق ِانسانی اور حیات انسانی کی حقیقت کے ضمن میں اس آیت کا مضمون پورے قرآن میں ذروہ سنام کا درجہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 زندگی اور موت کے چار مراحل :۔ موت وحیات کے یہ وہی چار مراحل ہیں جن کا ذکر سورة بقرہ کے آغاز میں آچکا ہے۔ یعنی وہ مردہ تھے اللہ نے انہیں زندگی بخشی اور وہ اپنے والدین کے گھر پیدا ہوئے پھر اس زندگی کے بعد موت کے بعد چوتھا مرحلہ دوبارہ قیامت کو جی اٹھنا۔ ان میں سے پہلے تین مراحل کو سب لوگ ہی جانتے ہیں کیونکہ وہ ہر ایک کے مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں۔ انکار صرف بعث بعد الموت کا ہوتا ہے جو کسی کے مشاہدہ میں نہیں آیا۔ اور یہ بات ہمیں وحی کے ذریعہ معلوم ہوئی پھر بہت سے عقلی دلائل بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ یوم آخرت کو دیکھ کر کافر کہیں گے کہ آج ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ رسولوں کا کہنا برحق تھا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ (اور دنیا میں دوبارہ جاکر اپنی خطاؤں کے تدارک وتلافی کی) ظاہر ہے کہ یہ درخواست قبول نہ ہوگی اور اہل جن ہم پر یاس کامل طاری ہوکر رہے گی۔ (آیت) ” فاعترفنا بذنوبنا “۔ اس میں یہ اعتراف بھی آگیا کہ جس زندگی سے ہمیں انکار تھا۔ اس کا خود مشاہدہ و تجربہ ہوگیا۔ (آیت) ” امتنا اثنتین “۔ دو مردہ حالتوں میں سے ایک تو یہی موت متعارف ہے۔ دو سے قبل ولادت کی بےجان حالت یا جمادیت کی حالت۔ (آیت) ” احییتنا اثتین “۔ دوزندگیاں، یعنی ایک زندگی دنیا کی، دوسری آخرت کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–20

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : کافروں سے فرشتوں کیجانب سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اور وہ جہنم میں داخل ہوتے وقت خود اپنے اوپر غصہ ہوں گے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی تمہارے اوپر غضبناکی کہیں زیادہ تھی تمہارے اپنے اوپر غصہ ہونے سے جس وقت کہ تم کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر تم نہیں مانتے تھے تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا اس لئے کہ وہ بےجان نطفے تھے بعد ازاں ان کو زندہ کیا گیا، پھر ان کو موت دی گئی پھر ان کو بعثت کے لئے زندہ کیا گیا سو ہم اپنے گناہوں (یعنی) انکار بالبعث کا اقرار کرتے ہیں تو کیا نار دوزخ سے نکلنے اور دنیا کی طرف واپس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا ربنا امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین وہ لوگ کہیں گے : اے ہمارے رب ! تو نے ہم کو دو بار مردہ رکھا اور دوبار زندگی دی۔ یعنی ایک بار باپ کی پشت میں بصورت نطفہ بےجان پیدا کیا ‘ پھر ماں کے رحم میں زندگی عطا کر کے دنیا میں لایا ‘ پھر زندگی کی میعاد مقرر ختم ہونے کے بعد زندگی لے لی اور مردہ کردیا ‘ پھر قیامت کے دن دوبارہ زندہ کردیا ‘ کذا قال ابن عباس و قتادہ والضحاک۔ اسی مضمون کو اس آیت میں بھی بیان کیا ہے : کُنْتُمْ اَمْوَاتًا (ای نطفًا) فَاَحْیَاکُمْ (ای فی ارحام اُمّھاتکم) ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ (عندا نقضاء اجلکم) ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ (یوم القیٰمۃ) سدی نے کہا : پہلی بار موت تو دنیوی زندگی کے خاتمہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

وہ کفار دوزخ میں کہیں گے اے ہمارے رب آپ نے ہمیں دوبارہ مردہ رکھا ایک بار تو جس وقت ہماری روحیں قبض کیں اور دوسری مرتبہ جبکہ قبروں میں ہم سے منکر نکیر نے سوال کیا اور دوبارہ زندگی دی ایک مرتبہ تو قبروں میں منکر کے سوال سے پہلے اور دوسری مرتبہ حشر کے لیے سو ہم اپنے شرک و کفر کا اور ایمان لانے سے انکار کرنے کا انکار کرتے ہیں تو کیا اب پھر دنیا میں واپس جانے کی کوئی صورت ہے کہ ہم وہاں پہنچ کر آپ پر ایمان لے آئیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قالوا ربنا امثنا اثنتین…جہنمی لوگ نہایت عاجزی اور ادب کے ساتھ ”ربنا“ کہہ کر اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور دو دفعہ زندگی عطا کی، اب ہم اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے تیرے ساتھ شرک کر کے اور قیامت کا انکار کر کے سخت غلطی کی، تو کیا اس بات کا کوئی امکان ہے کہ اب جب کہ ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے، ہمارا عذر قبول کرلیا جائے اور ہمیں دوبارہ عمل کرنے کے لئے پہلی زندگی کی طرف لوٹا دیا جائے ؟ یہ بات وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے کہیں گے۔ کفار کی اس درخواست اور اس کے جواب کے لئے دیکھیے سورة انعام (27) ، سجدہ (12) ، اور سورة نساء…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–12

قالو ربنا امثنا اثنتین اہل تاویل نے اس کی کئی تفسرین کی ہیں۔ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، قتادہ اور ضحاک نے کہا : وہ اپنے آباء کی پشتوں میں مردہ تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں زندگی دی پھر انہیں دنیا میں وہ دعوت دی (1) جس کے بغیر کوئی چارہ نہیں پھر انہیں بعث اور قیامت کے لیے دوبارہ زندہ کیا یہی دو زندگیاں اور دو موتیں ہیں اللہ تعالیٰ کے فرمان :” کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِ اللہ ِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَـاَحْیَاکُمْج ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ “ (البقرہ : 28) میں یہی مراد ہے۔ 1 ؎۔ تفسیر الماوردی، جلد 5، صفحہ 146 سدی نے کہا : انہیں دنیا میں موت دی گئی پھر سوال و جواب کے لیے قبروں میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–13

1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” امتنا اثنتین واحییتنا اثنتین “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ مثل ہے جب سورة بقرہ میں ہے (آیت ) ” وکنتم امواتا فاحیاکم، ثم یمیتکم ثم یحییکم “ (البقرہ آیت 28) کہ تم مردہ تھے تم کو زندہ کیا پھر تم کو موت دیں گے پھر زندہ کریں گے) یعنی تم مردہ تھے اپنے باپوں کی پشتوں میں پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو نکالا اور زندہ کردیا پھر ان کو موت عطا کی پھر ان کو زندہ کرے گا موت کے بعد۔ 2:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْا [ وہ لوگ کہیں گے ] رَبَّنَآ [ اے ہمارے رب ] اَمَتَّنَا [ تو نے موت دی ہم کو ] اثْنَتَيْنِ [ دو (موتیں ) ] وَاَحْيَيْتَنَا [ اور تو نے زندگی دی ہم کو ] اثْنَتَيْنِ [ دو (زندگیاں ) ] فَاعْتَرَفْنَا [ پس ہم نے اعتراف کیا ] بِذُنُوْبِنَا [ اپنے گناہوں کا ] فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ [ تو کیا نکلنے کی طرف ] مِّنْ سَبِيْلٍ [ کوئی بھی راستہ ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–11

کافروں کا اقرار جرم کرنا اور دوزخ سے نکلنے کا سوال کرنے پر جواب ملنا کہ تم نے توحید کو ناپسند کیا اور شرک کی دعوت پر ایمان لائے دنیا میں اہل کفر اپنے کو اچھا جانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھے ہیں ایمان والوں سے بہتر ہیں اور برتر ہیں، لیکن جب قیامت کے دن اپنی بدحالی دیکھیں گے تو خود اپنے نفسوں سے اور اپنی جانوں سے بغض کرنے لگیں گے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ تمہیں جتنا اپنے نفسوں سے بغض ہے اللہ تعالیٰ کو تمہارے نفسوں سے اس بغض سے بھی زیادہ بغض ہے اور یہ بغض اب سے نہیں ہے جب سے تم دنیا میں تھے اسی وقت سے اللہ تعالیٰ کو تم سے بغض ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جب دنیا میں تمہیں ایمان کی طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–17

بعضے از احوال کفار بعد دخول نار وبیان دلائل قدرت پروردگار : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین کفروا ینادون ......... الی ....... سریع الحساب “۔ (ربط) گزشتہ رکوع میں کتاب الہی کی حقانیت بیان فرماتے ہوئے مجادلین ومعاندین پر وعیدوتہدید تھی اور ساتھ ہی اہل ایمان وطاعت کا اعزاز واکرام اور حاملین عرش فرشتوں کی طرف سے ان کے حق میں دعا و استغفار کا ذکر تھا، تو اس کے بعد ان آیات میں کافروں کی ذلت و حقارت کا بیان ہے کہ قیامت کے روز ان کو کس طرح ذلیل ورسوا ہونا پڑے گا اور اس وقت یہ کافر خود اعتراف کریں گے اور چاہیں گے کہ پھر کسی طرح ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائیں تو ایمان لائیں اور اللہ کی اطاعت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–11

13:۔ ” ان الذین الخ “ یہ چوتھا عنوان ہے۔ جس نے اس حکمنامے کو نہ مانا اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ جب ان کو جہنم میں داخل کیا جائیگا تو انہیں پکار کر کہا جائیگا تو انہیں پکار کہا جائے گا کہ آج تم جس قدر اپنی جانوں پر غجبناک ہو کہ دنیا میں حق کو کیوں قبول نہ کیا، اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ تم پر غضبناک تھا۔ جب دنیا میں تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی تو تم انکار کرتے تھے۔ جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطان اتہم، کبر مقتا عند اللہ و عند الذین امنوا (رکوع 4) ۔ ” اذ “ ظرف کا عامل مقدر ہے ای یمقتکم۔ اور یہ ظرف ” مقتکم انفسکم “ سے متعلق نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں آخرت کا حال مذکور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–12

ربط آیات : گذشتہ آیات میں پہلے قرآن پاک کی حقانیت اور اس کا وحی الہی ہونا ذکر ہوا پھر اللہ تعالیٰ کی آٹھ صفات بیان ہوئیں اور کافروں کے طرز عمل کا شکوہ کیا گیا اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کا حال بیان کیا اور ان کے انجام سے خبردار کیا ، پھر اللہ تعالیٰ کے رسول کے ساتھ عناد رکھنے والے ضدی لوگوں کی مخالفت کا حال بیان ہوا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے مرتبے اور انکے انجام کا ذکر کیا ، فرمایا کہ حاملین عرش اور اس کے اردگرد طواف کرنے والے ملائکہ مقربین اہل ایمان کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں جن کے صلے میں اللہ تعالیٰ انہیں جنت عدن میں ٹھکانا عطا فرمائے گا ۔ (کفار کی حسرت) اب آج کے درس میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَہَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ۝ 11 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–12

ترکیب : من مقتکم مصدر مضاف الی الفاعل و انفسکم منصوب بہ اذتدعون ظرف لفعل محذوف تقدیرہ مقتکم اذ تدعون المقت دشمن گرفتن یقال مقتہ فھو مقیت و ممقوت (صراح) اثنتین لغتان لمصدر محذوف ای امتنا اماتتین اثنتین و احیتنا احیاء تین اثنتین ذلکم مبتدء خبرہ محذوف العذاب بانہ ای بسبب انہ وحدہ مصدر فی موضع الحال من اللہ اے دعی مفرداً ۔ تفسیر : ایمانداروں کی حالت بیان کرنے کے بعد کہ ان کے لیے آخرت کے امر میں ملائکہ یوں دعا کرتے ہیں جو مستجاب ہوگی اور وہاں جنت عدن میں اپنے صلحاء اقارب کے ساتھ جاویں گے۔ مصائبِ آخرت سے محفوظ رہیں گے۔ کفار کا حال بیان فرماتا ہے۔ ان الذین کفروا ینادون لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْا رَبَّنَـآ اَمَتَّـنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِدُنُوْبِنَا فَھَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ ۔ (المؤمن : 11) (وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! تو نے ہمیں دو دفعہ موت دی اور دو دفعہ زندگی بخشی، تو اب ہمیں اپنے گناہوں کا اعتراف ہے، تو کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے۔ ) بعدازوقت اقرار ہر دور کے کفار کو اس بات سے انکار رہا ہے کہ قیامت آسکتی ہے، وہ اسے مستبعد از عقل سمجھتے تھے۔ ان کے ذہن میں یہ بات کسی طرح نہیں آتی تھی کہ جو بیشمار لوگ اب تک مرچکے ہیں اور آئندہ نہ جانے مرنے والوں کی تعداد اور کتنی ہوگی اور پھر کچھ خبر نہیں کہ ان کی قبریں کہاں بنیں گی۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–12

فہم القرآن ربط کلام : جنتیوں کے بعد جہنمیوں کا ذکر۔ جہنمی جہنم میں نہ صرف اپنے علماء، پیروں اور لیڈروں پر غصہ نکالیں گے بلکہ وہ اپنے آپ پر بھی غضبناک ہوں گے۔ یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ! ہم رسول کا راستہ چھوڑ کر فلاں فلاں کو اپنا خیر خواہ نہ بناتے۔ (الفرقان : 27۔ 28) جب وہ اپنے ہاتھ کاٹ رہے ہوں گے تو رب ذوالجلال انہیں مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمائیں گے کہ جس طرح آج تمہیں اپنی حالت زار پر غصہ آرہا ہے۔ جب دنیا میں تم مجھ پر ایمان لانے سے انکار کرتے اور میرے شریک بناتے تھے تو مجھے اس سے کہیں زیادہ غصہ آتا تھا۔ لیکن میں نے تمہیں مہلت دئیے رکھی تاآنکہ تم جہنم میں داخل کردئیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آگ والوں کا قول جو کہ مایوس کن ہے۔ قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ ، وہ لوگت کہیں گے اے ہمارے پروردگار آپ نے ہمیں دوبارہ مردہ رکھا اور دوبارہ زندگی دی۔ یعنی دو موتیں اور دو زندگیاں۔ یا دو موتیں اور دو حیاتیں۔ دو موتوں سے مراد ان کا پہلی مرتبہ ان کی مردہ و بےجان اشیاء سے پیدا کرنا اور ان کو اجل مقررہ کے پورے ہونے پر موت دینا ہے اور یہ بھی درست ہے کہ بےجان اشیاء سے پیدائش کو اماتت کہا جاتا ہے جیسا کہ یہ درست ہے کہ کہا جائے۔ سبحان من صغر جسم البعوضۃ و کبر جسم الفیل، اس جگہ بڑے سے چھوٹے کی طرف منتقل ہونا نہیں پایا جاتا ہے۔ اور نہ چھوٹے سے بڑے کی طرف اور اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10، ان الذین کفرواینادون، قیامت کے دن اور وہ آگ میں ہوں گے اور وہ اپنے نفس کو رنجیدہ کرچکے ہوں گے جب ان پر ان کی برائیاں پیش کی گئی ہوں گی اور عذاب کا مشاہدہ کرچکے ہوں گے تو ان کو کہاجائے گا۔ ، لمقت اللہ اکبرمن مقتکم انفسکم اذتدعون الی الا یمان فتکفرون، یعنی جب دنیا میں تم کو ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم انکار تو اس وقت تم پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اس سے بڑھی ہوئی تھی جو آج تم پر عذاب اترنے کے وقت تمہیں ہورہی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–13

10۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ جو لوگ شیطان کی پیروی کریں گے ان سے اور شیطان سے دوزخ کو بھرا جائے گا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جب ایسے لوگ دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے تو دوزخ کے عذاب سے تنگ آ کر یہ لوگ ان باتوں سے بہت بیزاری ظاہر کریں گے جن باتوں کو دنیا میں بڑی خوشی سے کرتے تھے۔ ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر ان کو قائل کرنے کے لئے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر ان سے کہیں گے کہ بےوقت کی اس بیزاری سے اب کیا ہوتا ہے دنیا میں جب تم کو قرآن کے موافق فرمانبرداری کی نصیحت کی جاتی تھی اور تم سرکشی سے اس کو نہیں مانتے تھے اللہ تعالیٰ تمہاری اس سرکشی سے بہت بیزار تھا۔ یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی اس بیزاری کا نتجیہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–11

آیت 7 اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے کامل لطف و کرم اور ان اسباب کا ذکر کرتا ہے جو اس نے ان کی سعادت کے لئے مقرر فرمائے ہیں۔ یہ اسباب ان کی قدرت سے باہر تھے، مثلاً ان کے لئے ملائکہ مقربین کا استغفار کرنا اور ان کے دین و آخرت کی بھلائی کے لئے دعا کرنا۔ اس ضمن میں عرش الٰہی اٹھانے والے فرشتوں اور جو اس کے اردگرد ہیں ان کے شرف کی خبر ہے۔ اسی طرح اپنے رب کیق ریب رہنے والے فرشتوں، ان کی عبادت کی کثرت، اللہ کے بندوں کے لئے ان کی خیر خواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، چناچہ فرمایا : (الذین یحملون العرش) ” جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ “ یعنی رحمٰن عا عرش،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

21 کفار و منکرین کی یاس و حسرت کا ایک اور منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکر لوگ اس روز کہیں گے کہ " اے ہمارے رب واقعی آپ نے ہمیں دو مرتبہ موت بھی دی اور دو مرتبہ زندگی بھی "۔ کہ پہلے عدم محض سے وجود میں لایا پھر دنیاوی زندگی کے بعد موت دی۔ اور اس موت کے بعد اب دوبارہ زندہ کر کے اٹھا دیا۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ باللّٰہِ وَکُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاکُم ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُم } ۔ (البقرۃ : 28) ۔ سو ان میں سے اپنی دونوں موتوں اور دنیاوی زندگی کو تو ہم پہلے ہی مانتے تھے کہ وہ بدیہی تھیں۔ البتہ اس دوسری زندگی کہ جو اب ہمیں ملی ہے اس کے ہم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–22

کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 20: اسرار و معارف : آج تو جسمانی اور مادی فوائد کفار کو بہت عزیز ہیں مگر جہنم میں انہیں خود اپنی ذات سے بھی نفرت ہوگی اور انگلیاں کاٹ کاٹ کھائیں گے کہ لعنت ہو ایسے وجود پر جسے ہم پالتے رہے اللہ کی اطاعت نہ کی تو انہیں آواز دی جائے گی جب تم دنیا میں کفر پہ اصرار کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے تو اللہ کو تمہارے وجودوں سے اس سے زیادہ نفرت تھی جتنی خود سے آج تم کو ہے۔ تب پکار کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم جان گئے کہ تو نے ہمیں دو بار موت دی ایک بار تو مادہ کی صورت میں تھے پھر دنیا سے آخرت کے سفر پر موت کے راستے سے چلے اور دو بار زندگی بھی ایک بار دنیا میں دنیا میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 دو بار مارنے اور دو بار جلانے سے مراد یہ ہے کہ وہ پہلے بےجان نطفے تھے پھر اللہ نے انہیں زندگی بخشی، پھر موت دی اور پھر دوبارہ ز ندہ کیا۔ ( راجع سورة بقرہ آیت 28)9 یعنی ہم اقرار کرتے ہیں کہ اس دوسری زندگی سے انکار کر کے ہم نے سخت غلطی کی اور اسی وجہ سے اپنی پہلی زندگی میں گناہ کرتے رہے۔10 یعنی کیا اس چیز کا امکان ہے کہ اب جب کہ ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے ہمارا عذر قبول کرلیا جائے اور ہمیں دوبارہ عمل کرنے کے لئے پہلی زندگی کی طرف لوٹا دیا جائے ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:11) امتنا۔ ماضی واحد مذکر حاضر نا ضمیر جمع متکلم۔ تو نے ہم کو موت دی۔ اور دو دفعہ زندگی بخشی۔ پہلی موت : ماں کے پیٹ میں بصوت نطفہ ۔ علقہ یا مضغہ اس میں روح پھونکے جانے سے قبل۔ اس وقت چونکہ بچے میں جان نہیں ہوتی اس اعتبار سے وہ موت ہی ہے۔ دوسری موت : دنیاوی زندگی ختم ہونے پر۔ پہلی حیات : دنیاوی زندگی ختم ہونے پر مرنے کے بعد کی زندگی جو کبھی ختم نہ ہوگی ۔ اس کا ذکر اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ کیف تکفرون باللّٰہ وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحیکم ثم الیہ ترجعون ۔ (2:28) تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو درآں حالیکہ تم بےجان تھے تو اس نے تمہیں زندگی بخشی پھر وہی تمہیں موت دیگا۔ پھر وہی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–20

لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 20 : ینادون ( یدائ) ( آواز دیں گے) مقت اللہ ( اللہ کا غصہ) تدعون (تم پکارے جائو گے) امتنا ( تو نے ہمیں موت دی) احییتنا (تو نے ہمیں زندگی دی) ینیب (وہ لوٹتا ہے، رجوع کرتا ہے) رفیع ( بلند) الروح ( روح ، وحی) التلاق (ملاقات ، ملنا) برزون (ظاہر ہونے والے ، بےپردہ) القھار (زبردست ، قوت والا) الازقۃ ( قریب آنے والی ، نزدیک آنے والی) الحناجر (حنجور) ( گلے ، کلیجے) کظمینا (غصہ پی جانے والے) حمیم (قریبی دوست) خائنۃ ( خیانۃ) ( چوری کرنے والی ، خیانت کرنے والی) لم یقضون (وہ فیصلہ نہیں کرتے) تشریح : آیت نمبر 10 تا 20 :۔ دنیا میں کفر و شرک اور گناہ کرنے والے لوگ مختلف باتوں اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–13

(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جب ایسے لوگ دوزخ میں جھونک دیے جائیں گے تو دوزخ کے عذاب سے تنگ آکر یہ لوگ ان باتوں سے بہت بیزاری ظاہرکریں گے جن باتوں کو دنیا میں بڑی خوشی سے کرتے تھے ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر انکوقائل کرنے کے لیے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر ان سے کہیں گے کہ بےوقت کی اس بےزاری سے اب کیا ہوتا ہے دنیا میں جب تم کو قرآن کے موافق فرمانبرداری کی نصیحت کی جاتی تھی اور تم سرکشی اسے اس کو نہیں مانتے تھے اللہ تعالیٰ تمہاری اس سرکشی سے بہت بےزار تھ ایہ عذاب اللہ کی اس بےزاری کا نتیجہ ہے اب یہ عذاب کس طرح ٹل نہیں سکتا، فرشتوں کی یہ جھڑکی سن کر یہ دوزخی لوگ اللہ سے عرض کریں گے یا اللہ تو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–14

دعوت توحید 1: قرآن حکیم بطور مدارو مرکز کے جس مسئلہ کا ذکر کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ تمام عالم انسانی احساس مجد کے اس اصول سے براہ راست واقفیت پیدا کرے اور یہ تے کرلے کہ زندگی کی تمام تگ ودو میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائیگا کہ ہم ساری کائنات سے افضل ہیں ۔ اور رب اکوان ہمارا خدا ہے ۔ اسی کی بادشاہت ہے ۔ اور وہی بالا اور برتر ذات ہے ۔ اس عقیدہ یقینا یہ نتیجہ ہوگا ۔ کہ نفس میں وہ تمام خود داری اور رفعت کے جذبات پیدا ہوجائیں گے ۔ جن پر مضبوط اور صالح زندگی کا انحصار ہے ۔ توہمات مٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے میں ایک روحانی قوت اور طاقت محسوس کریگا ۔ ایک نوع کی بالیدگی اور ارتقاء پائیگا ۔ اور پھر ہینت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تونے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو دفعہ زندہ کیا سو ہم اب گناہوں کا اقرار کرتے ہیں پھر کیا اب یہاں سے کوئی نکلنے کی بھی راہ ہے اور واپس جانے کا بھی کوئی راستہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دفعہ محض جماد اور بےجان ہے جو بالکل مردے کی حالت تھی یعنی پیدا ہونے سے پیشتر پھر تو نے ہم کو زندگی بخشی پھر دنیوی زندگی میں موت آئی اس کے بعد حشر میں پھر زندہ ہوئے تو اب ہم نے آخرت کی زندگی سے جو انکار کیا تھا اس گناہ اور نافرمانی کا اعتراف کرتے ہیں تو اب کوئی صورت ایسی بھی ہے کہ ہم یہاں سے پھر دنیا میں چلے جائیں تاکہ تلافی مافات ہوسکے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پہلے مٹی تھے یا نطفہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ دو بار مردہ رکھا، یعنی ایک بار قبل تولد، جبکہ حالت جمادیت میں تھے، جس میں جان متعارف نہیں ہوتی، اور دوسری بار جس کو سب موت کہتے ہیں، اور دو بار زندگی دی، یعنی ایک دنیا کی زندگی دوسری آخرت کی۔ (فائدہ) یہ سب چار حالتیں ہوئیں، گو ان میں انکار ایک ہی کا تھا، اور اسی کا اقرار اس وقت مقصود ہے، لیکن بقیہ تین حالتیں اس لئے ذکر کردیں کہ وہ یقینی تھیں۔ پس مقصود یہ ہوگا کہ یہ رابعہ بھی مثل ان ہی ثلثہ کے متیقن و متحقق ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفار قیامت کو جوا قرار کریں گے اس اقرار کا ان کو کچھ فائدہ نہ ہوگا 11۔ کفار کو دوبارہ اٹھائے جانے سے سخت انکار تھا اور وہ اس کو کبھی ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ اس زندگی کے بعد بھی کوئی دوسری زندگی ہے اب جب ان کو دوبارہ زندہ کردیا گیا تو اب وہ اس کا انکار تو کر ہی نہیں سکتے تھے اس طرح انہوں نے برملا اس بات کا اقرار شروع کردیا کہ اے ہمارے رب ! ہمارے نزدیک مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ممکن نہ تھا اس لیے ہم دنیا میں پوری آزادی کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق کام کرتے رہے اور اس سے بےنیاز رہے کہ ہم کو کسی کے سامنے جوابدہی کرنا ہے یہی وجہ تھی کہ ہم نے تیرے نبیوں اور رسولوں کا مذاق اڑایا اب تو نے ہم کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–15

Commentary The word: دَرَجَات (darajat, translated above as 'stations' ) in: رَ‌فِيعُ الدَّرَ‌جَاتِ (He is High in stations - 40:15) has been taken by some commentators as meaning 'attributes.' If so, the sense of the expression would be that His attributes of perfection are most exalted. Ibn Kathir has relied on the words as they appear outwardly and has said that it refers to the most exalted 'arsh' (throne) for it comprehends all land masses and heavens and is located above them all like a roof as in Surah Al-Ma'arij: مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِ‌جِ ﴿3﴾ تَعْرُ‌جُ الْمَلَائِكَةُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 This same thing has already been mentioned in Al-Baqarah: 28 above. It implies this: "How can you disbelieve in AIlah? He granted you life when you were lifeless; then He will give you death. and then will again raise you back to life." The disbelievers do not deny the first three of these conditions, because they are perceptible and therefore un-deniable. But they refuse to accept the occurrence of the fourth condition, for they have not yet experienced it, and only the Prophets have foretold it. On the Day of Resurrection when the fourth condition also will be practically experienced by…

Read the full tafseer →