Explained with ayahs 10–14
کفار کی دوبارہ زندگی کی لاحاصل آرزو۔
قیامت کے دن جبکہ کافر آگ کے کنوؤں میں ہوں گے اور اللہ کے عذابوں کو چکھ چکے ہوں گے اور تمام ہونے والے عذاب نگاہوں کے سامنے ہوں گے اس وقت خود اپنے نفس کے دشمن بن جائیں گے اور بہت سخت دشمن ہوجائیں گے۔ کیونکہ اپنے برے اعمال کے باعث جہنم واصل ہوں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے بہ آواز بلند کہیں گے کہ آج جس قدر تم اپنے آپ سے نالاں ہو اور جتنی دشمنی تمہیں خود اپنی ذات سے ہے اور جس قدر تم آج اپنے تئیں کہہ رہے ہو اس سے بہت زیادہ برے اللہ کے نزدیک تم دنیا میں تھے جبکہ تمہیں اسلام و ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم اسے مانتے نہ تھے، اس کے بعد کی آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 14
یعنی کفار جب قیامت کے روز دیکھیں گے کہ انہوں نے دنیا میں شرک و دہریت، انکار آخرت اور رسولوں کی مخالفت پر اپنے پورے کارنامۂ حیات کی بنیاد رکھ کر کتنی بڑی حماقت کی ہے، اور اس حماقت کی بدولت اب وہ کس انجام بد سے دوچار ہوئے ہیں، تو وہ اپنی انگلیاں چبائیں گے اور جھنجھلا جھنجھلا کر اپنے آپ کو خود کو سنے لگیں گے۔ اس وقت فرشتے ان سے پکار کر کہیں گے کہ آج تو تمہیں اپنے اوپر بڑا غصہ آ رہا ہے، مگر کل جب تمہیں اس انجام سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور دوسرے نیک لوگ راہ راست کی طرف دعوت دیتے تھے اور تم ان کی دعوت کو ٹھکراتے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ کا غضب اس سے زیادہ تم پر بھڑکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
خلاصہ تفسیر
جو لوگ کافر ہوئے (وہ جب دوزخ میں جا کر اپنے شرک و کفر اختیار کرنے پر حسرت و افسوس کریں گے اور خود ان کو اپنے سے سخت نفرت ہوگی یہاں تک غصہ کے مارے اپنی انگلیاں کاٹ کاٹ کر کھاویں گے۔ جیسا کہ درمنثور میں حضرت حسن سے روایت ہے۔ اس وقت) ان کو پکارا جاوے گا کہ جیسی تم کو (اس وقت) اپنے سے نفرت ہے، اس سے بڑھ کر خدا کو (تم سے) نفرت تھی جبکہ تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر (بلانے کے بعد) تم نہیں مانا کرتے تھے (مقصود اس سے ان کی حسرت و ندامت میں اور زیادتی کرنا ہے) وہ لوگ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار (ہم جو دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کیا کرتے تھے اب ہم کو اپنی غلطی معلوم ہوگئی۔…
Read the full tafseer →اصل صورت حال جس سے جھوٹی شفاعت پر تکیہ کرنے والوں کو سابقہ پیش آئے گا
یعنی یہ لوگ تو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے سفارشی ان کو اللہ کے ہاں اونچے سے اونچے درجے دلوائیں گے لیکن وہاں ان کو منادی کے ذریعہ سے یہ آگاہی دی جائے گی کہ آج جتنا غم و غصہ تم کو اپنی بدبختی و محرومی اور اپنے لیڈروں کی کج اندیشی و ضلالت پر ہے اس سے زیادہ تمہارے حال پر غصہ و غضب خدا کو اس وقت تھا جب کہ تم کو رسول کے ذریعہ سے ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم نہایت رعونت کے ساتھ دعوت کو ٹھکراتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اب اپنی اس رعونت اور خدا کے اس غصہ و غضب کا انجام بھگتو اور اپنی بدبختی پر اپنے سر پیٹو۔ اب یہاں کوئی تمہاری مدد…
Read the full tafseer →10۔ 1 مقت سخت ناراضی کو کہتے ہیں اہل کفر جو اپنے کو جہنم کی آگ میں جھلستے دیکھیں گے تو اپنے آپ پر سخت ناراض ہونگے، اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں جب تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ اس سے کہیں زیادہ تم پر ناراض ہوتا تھا جتنا تم آج اپنے آپ پر ہو رہے ہو۔ یہ اللہ کی اس ناراضی ہی کا نتیجہ ہے کہ آج تم جہنم میں ہو۔
Read the full tafseer →3: یہ بات اس وقت کہی جائے گی جب کافر لوگ دوزخ میں پہنچ کر عذاب میں مبتلا ہوں گے، اور اس وقت وہ خود اپنے آپ سے نفرت کریں گے کہ ہم نے دنیا میں کفر کا راستہ کیوں اختیار کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
آیت نمبر 10 تا 12
لمقت کا مفہوم ہے بہت شدید ناپسندیدگی۔ ان کو سب مخلوق خدا ہر طرف سے یہ پکارے گی ، کی بدبختو تمہیں رسول اللہ ﷺ ، ایمان کی پکار دے رہے تھے اور تم ناحق انکار کرتے تھے۔ اور اللہ تم پر بہت ناراض ہوتا تھا۔ اور تمہارے رویے کو بہت ناپسند فرماتا تھا ، جس طرح آج تمہیں حقیقت معلوم ہوئی ہے تو تم اپنے رویے کو ناپسند کرتے ہو لیکن تم سے تو وقت چلا گیا ہے۔ تم نے کفر کیا ، ایمان سے منہ موڑا اور تم سے ایک عظیم دولت چلی گئی۔ پوری کائنات کی جانب سے یہ علامت آرہی ہوگی اور یہ ان کے لیے سخت سوہان روح ہوگی۔ اس برے دن میں کسی تسلی کے بجائے ہر طرف سے مزید ملامت۔ اب تو دھوکے اور گمراہی کے پردے آنکھوں…
Read the full tafseer →7 یہ قیامت کے دن کہیں گے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی آج تم اپنے (نفس سے بیزار ہو اور) اپنے جی کو پھٹکارتے ہو۔ دنیا میں جب کفر کرتے تھے (اس وقت) اللہ اس سے زیادہ تم کو پھٹکارتا تھا (اور تمہاری حرکات سے بیزار تھا) اسی کا بدلہ آج پاؤ گے " اور بعض مفسرین نے " مقتین " کا زمانہ ایک مراد لے کر یوں معنی کیے ہیں کہ تم کو دنیا میں بار بار ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم بار بار کفر کرتے تھے۔ آج اس کی سزا بھگتنے کے وقت جس قدر تم اپنے جانوں سے بیزار ہو رہے ہو اللہ اس سے زیادہ تم سے بیزار ہے۔
Read the full tafseer →گزشتہ آیات میں مومنین ِصادقین کے حالات کا نقشہ دکھایا گیا ہے کہ قیامت کے دن حاملین ِعرش ملائکہ ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کر رہے ہوں گے۔ نہ صرف ان کے لیے بلکہ وہ ان کے آباء و اَجداد اور اہل و عیال کے لیے بھی سفارش کریں گے کہ ان میں سے اگر کوئی جنت کے نچلے درجے میں ہے تو اے پروردگار ! تو اس کے درجات کو بھی بلند فرما دے تاکہ وہ اپنے ان عزیز و اقارب کے ساتھ مل جائے جنہیں بلند تر درجات عطا ہوئے ہیں۔ اب ان آیات میں اس کے برعکس کفار و مشرکین کے حالات کا منظر دکھایا جا رہا ہے :
آیت 10 { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰہِ اَکْبَرُ مِنْ مَّقْتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ } ”جن لوگوں نے کفر…
Read the full tafseer →13 یعنی جب دیکھیں گے کہ جن چیزوں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ تو ایک حقیقت بن کر سامنے آگئی ہے اور جس طرح بےراہ روی کی زندگی انہوں نے گزاری ہوگی اور مومنوں پر ظلم و ستم ڈھانے کے لئے انہوں نے جو جو ہتھکنڈے استعمال کئے تھے۔ ان سب چیزوں کا ایک ایک کرکے انہیں بدلہ دیا جانے والا ہے۔ تو وہ اپنے ہاتھ اپنے دانتوں میں چبائیں گے اور انہیں اپنے آپ پر غصہ آئے گا کہ ہم نے کیوں ایسی سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ اس وقت انہیں فرشتے پکار کر کہیں گے کہ آج جس قدر تمہیں اپنے آپ پر غصہ آرہا ہے اللہ تعالیٰ کو تم پر اس وقت اس سے بھی زیادہ غصہ آتا تھا جب رسول تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتے اور اس کی آیات پڑھ کر سناتے…
Read the full tafseer →11۔ یہ اس وقت کا نقشہ ہے جب کافر دوزخ میں داخل ہو کر خوداپنے اوپر نفریں اور غصہ کریں گے کہ دنیا میں ہم کیسے اندھے ہوگئے تھے۔ اور اس ندا سے مقصود اس وقت ان کی حسرت وندامت میں اور اضافہ کرنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
آیت نمبر 10 تا 20
ترجمہ : کافروں سے فرشتوں کیجانب سے پکار کر کہہ دیا جائے گا اور وہ جہنم میں داخل ہوتے وقت خود اپنے اوپر غصہ ہوں گے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کی تمہارے اوپر غضبناکی کہیں زیادہ تھی تمہارے اپنے اوپر غصہ ہونے سے جس وقت کہ تم کو دنیا میں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا مگر تم نہیں مانتے تھے تو وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم کو دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندہ کیا اس لئے کہ وہ بےجان نطفے تھے بعد ازاں ان کو زندہ کیا گیا، پھر ان کو موت دی گئی پھر ان کو بعثت کے لئے زندہ کیا گیا سو ہم اپنے گناہوں (یعنی) انکار بالبعث کا اقرار کرتے ہیں تو کیا نار دوزخ سے نکلنے اور دنیا کی طرف واپس…
Read the full tafseer →ان الذین کفروا ینادون لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم اذ تدعون الی الایمان فتکفرون
جو لوگ کافر ہوئے (اس وقت) ان کو پکارا جائے گا (اور کہا جائے گا) کہ جیسی تم کو (اس وقت) اپنے سے نفرت ہے ‘ اس سے بڑھ کر اللہ کو (اس وقت دنیا میں) تم سے نفرت تھی کہ جب تم کو ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم (ایمان کی دعوت قبول کرنے سے) انکار کرتے تھے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاکا ربط آیت مَا یُجَادِلُ فِیْ اٰیٰتِ اللہ الاَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاسے ہے ‘ درمیان میں سارے جملے معترضہ ہیں جن میں فرشتوں کا مؤمن ہونا اور ان مؤمن بندوں کیلئے جو کافروں کے دشمن ہیں ‘ استغفار کرنا مذکور ہے۔
یُنَادَوْنَ یعنی دوزخ کے کارندے…
Read the full tafseer →جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کی کتابوں اور رسولوں کا انکار کیا جب وہ دوزخ میں جاکر حسرت اور اپنے نفس کو ملامت کریں گے تو ان سے فرشتے کہیں گے کہ جیسی اس وقت تمہیں اپنے آپ سے نفرت ہے اس سے بڑھ کر جبکہ تم دنیا میں تھے اللہ کو تم سے نفرت تھی جبکہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور تم نہیں مانا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →ان الذین کفروا ینادون …:”مقت“ شدید غصے اور ناراضی کو کہتے ہیں۔ ”ینادون“ ”انہیں پکار کر کہا جائے گا“ انہیں کون پکارے گا ؟ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے نہیں کیا۔ ظاہر ہے انہیں یہ کہنے والا اللہ تعالیٰ خود ہوسکتا ہے یا جہنم پر مقرر فرشتے ہوسکتے ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں ایمان والوں کے ساتھ فرشتوں کے سلوک کا ذکر گزرا ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کیساتھ ایمان والوں کے لئے استغفار اور وہ دعائیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا ہے۔ اب ایمان والوں کے بعد کفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے سلوک کا ذکر ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے اعمال دیکھیں گے تو اپنے آپ پر شدید غصے ہوں گے، اس وقت فرشتے…
Read the full tafseer →( ان الذین کفرو۔۔۔۔ )
ان الذین کفروا ینادون لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفکم اخفش نے کہا : لمقت میں لام ابتدائیہ جو بتادون کے بعد واقع ہوا ہے کیونکہ اس کا معنی ہے یقال لھم ندا بھی ایک قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : معنی ہے انہیں کہا جائے گا : لمقت اللہ ایاکم فی الدنیا اکبر من مقت بعضکم بعضا یومالقیمۃ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی تم سے ناراضگی اس سے بڑھ کر ہوگی جو قیامت کے روز تمہاری ایک دوسرے سے ناراضگی ہوگی کیونکہ ان میں سے بعض بعض سے قیادت کے روز دشمنی کریں گے اور ناراضگی کا اظہار کریں گے اس موقع پر وہ مطیع و فرمانبردار بنیں گے عاجزی کریں گے اور جہنم سے نکلنے کا مطالبہ کریں گے۔
کلبی نے کہا : جہنمیوں…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الذین کفروا ینادون لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم “ (جو لوگ کافر ہوتے ہیں انکو پکار اجائے گا (اور کہا جائے گا) جیسی تم کو (اس وقت) اپنے سے نفرت ہے اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کو (اس وقت دنیا میں) تم سے نفرت تھی جب قیامت کا دن ہوگا تو کافر اس چیز کو دیکھیں گے کہ جس کی طرف وہ گئے تو وہ اپنے آپ سے نفرت کریں گے ان کو کہا جائے گا (آیت ) ’ لمقت اللہ “ (اللہ کی نفرت) خاص طور پر تم سے دنیا میں (زیادہ تھی) جب تم کو ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے (آیت) ” اکبر من مقتکم انفسکم “ (اللہ کی نفرت زیادہ تھی تمہاری اس نفرت سے جو تم…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ] يُنَادَوْنَ [ ان کو پکارا جائے گا (اور کہا جائے گا )] لَمَقْتُ اللّٰهِ [ یقینا اللہ کا بیزار ہونا ] اَكْبَرُ [ زیادہ بڑا ہے ] مِنْ مَّقْتِكُمْ [ تمہارے بیزار ہونے سے ] اَنْفُسَكُمْ [ اپنی جانوں سے ] اِذْ [ (یہ اس لئے کہ ) جب ] تُدْعَوْنَ [ تم لوگوں کو بلایا جاتا تھا ] اِلَى الْاِيْمَانِ [ ایمان لانے کی طرف ] فَتَكْفُرُوْنَ [توتم لوگ انکار کرتے تھے ]
نوٹ ۔ 1: دو بار موت سے ایک تو وہ حالت موت مراد ہے جو اس دنیا میں وجود پذیر ہونے سے پہلے انسان پر طاری ہوتی ہے اور دوسری وہ موت ہے جس سے ہر زندہ کو لازما دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ اسی طرح زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
کافروں کا اقرار جرم کرنا اور دوزخ سے نکلنے کا سوال کرنے پر جواب ملنا کہ تم نے توحید کو ناپسند کیا اور شرک کی دعوت پر ایمان لائے
دنیا میں اہل کفر اپنے کو اچھا جانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھے ہیں ایمان والوں سے بہتر ہیں اور برتر ہیں، لیکن جب قیامت کے دن اپنی بدحالی دیکھیں گے تو خود اپنے نفسوں سے اور اپنی جانوں سے بغض کرنے لگیں گے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ تمہیں جتنا اپنے نفسوں سے بغض ہے اللہ تعالیٰ کو تمہارے نفسوں سے اس بغض سے بھی زیادہ بغض ہے اور یہ بغض اب سے نہیں ہے جب سے تم دنیا میں تھے اسی وقت سے اللہ تعالیٰ کو تم سے بغض ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ جب دنیا میں تمہیں ایمان کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
بعضے از احوال کفار بعد دخول نار وبیان دلائل قدرت پروردگار :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین کفروا ینادون ......... الی ....... سریع الحساب “۔
(ربط) گزشتہ رکوع میں کتاب الہی کی حقانیت بیان فرماتے ہوئے مجادلین ومعاندین پر وعیدوتہدید تھی اور ساتھ ہی اہل ایمان وطاعت کا اعزاز واکرام اور حاملین عرش فرشتوں کی طرف سے ان کے حق میں دعا و استغفار کا ذکر تھا، تو اس کے بعد ان آیات میں کافروں کی ذلت و حقارت کا بیان ہے کہ قیامت کے روز ان کو کس طرح ذلیل ورسوا ہونا پڑے گا اور اس وقت یہ کافر خود اعتراف کریں گے اور چاہیں گے کہ پھر کسی طرح ہم دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائیں تو ایمان لائیں اور اللہ کی اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
13:۔ ” ان الذین الخ “ یہ چوتھا عنوان ہے۔ جس نے اس حکمنامے کو نہ مانا اس پر اللہ کا غضب ہوگا۔ جب ان کو جہنم میں داخل کیا جائیگا تو انہیں پکار کر کہا جائیگا تو انہیں پکار کہا جائے گا کہ آج تم جس قدر اپنی جانوں پر غجبناک ہو کہ دنیا میں حق کو کیوں قبول نہ کیا، اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ تم پر غضبناک تھا۔ جب دنیا میں تمہیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی تو تم انکار کرتے تھے۔ جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطان اتہم، کبر مقتا عند اللہ و عند الذین امنوا (رکوع 4) ۔ ” اذ “ ظرف کا عامل مقدر ہے ای یمقتکم۔ اور یہ ظرف ” مقتکم انفسکم “ سے متعلق نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں آخرت کا حال مذکور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ربط آیات : گذشتہ آیات میں پہلے قرآن پاک کی حقانیت اور اس کا وحی الہی ہونا ذکر ہوا پھر اللہ تعالیٰ کی آٹھ صفات بیان ہوئیں اور کافروں کے طرز عمل کا شکوہ کیا گیا اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کا حال بیان کیا اور ان کے انجام سے خبردار کیا ، پھر اللہ تعالیٰ کے رسول کے ساتھ عناد رکھنے والے ضدی لوگوں کی مخالفت کا حال بیان ہوا ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے مرتبے اور انکے انجام کا ذکر کیا ، فرمایا کہ حاملین عرش اور اس کے اردگرد طواف کرنے والے ملائکہ مقربین اہل ایمان کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں جن کے صلے میں اللہ تعالیٰ انہیں جنت عدن میں ٹھکانا عطا فرمائے گا ۔
(کفار کی حسرت)
اب آج کے درس میں…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللہِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِيْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ 10
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ترکیب : من مقتکم مصدر مضاف الی الفاعل و انفسکم منصوب بہ اذتدعون ظرف لفعل محذوف تقدیرہ مقتکم اذ تدعون المقت دشمن گرفتن یقال مقتہ فھو مقیت و ممقوت (صراح) اثنتین لغتان لمصدر محذوف ای امتنا اماتتین اثنتین و احیتنا احیاء تین اثنتین ذلکم مبتدء خبرہ محذوف العذاب بانہ ای بسبب انہ وحدہ مصدر فی موضع الحال من اللہ اے دعی مفرداً ۔
تفسیر : ایمانداروں کی حالت بیان کرنے کے بعد کہ ان کے لیے آخرت کے امر میں ملائکہ یوں دعا کرتے ہیں جو مستجاب ہوگی اور وہاں جنت عدن میں اپنے صلحاء اقارب کے ساتھ جاویں گے۔ مصائبِ آخرت سے محفوظ رہیں گے۔ کفار کا حال بیان فرماتا ہے۔ ان الذین کفروا ینادون لمقت اللہ اکبر من مقتکم انفسکم…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰہِ اَکْبَرُمِنْ مَّقْتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَی الْاِیْمَانِ فََتَـکْفُرُوْنَ ۔ (المؤمن : 10)
(بےشک جن لوگوں نے کفر کیا قیامت کے روز ان کو پکار کر کہا جائے گا اللہ کی بیزاری تم سے اس کی نسبت سے کہیں زیادہ رہی ہے جتنی تم کو اس وقت اپنے سے ہے، جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کفر کرتے تھے۔ )
قیامت میں کفار پر گزرنے والی کیفیت کا ایک منظر
آخرت کے میدان میں کفار کے ساتھ جو کچھ گزرے گی اور وہ جن کیفیات سے دوچار ہوں گے ان میں سے ایک منظر کی تصویرکشی کرتے ہوئے پروردگار ارشاد فرما رہا ہے کہ آخرت میں یہ کافر لوگ نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
فہم القرآن
ربط کلام : جنتیوں کے بعد جہنمیوں کا ذکر۔
جہنمی جہنم میں نہ صرف اپنے علماء، پیروں اور لیڈروں پر غصہ نکالیں گے بلکہ وہ اپنے آپ پر بھی غضبناک ہوں گے۔ یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں کو کاٹتے ہوئے کہیں گے کہ کاش ! ہم رسول کا راستہ چھوڑ کر فلاں فلاں کو اپنا خیر خواہ نہ بناتے۔ (الفرقان : 27۔ 28)
جب وہ اپنے ہاتھ کاٹ رہے ہوں گے تو رب ذوالجلال انہیں مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمائیں گے کہ جس طرح آج تمہیں اپنی حالت زار پر غصہ آرہا ہے۔ جب دنیا میں تم مجھ پر ایمان لانے سے انکار کرتے اور میرے شریک بناتے تھے تو مجھے اس سے کہیں زیادہ غصہ آتا تھا۔ لیکن میں نے تمہیں مہلت دئیے رکھی تاآنکہ تم جہنم میں داخل کردئیے…
Read the full tafseer →کافر کو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہمیں تم سے نفرت ہے۔ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنَادَوْنَ ، بیشک جو لوگ کافر ہوئے ان کو پکارا جائے گا۔ قیامت کے دن جبکہ وہ آگ میں داخل ہوں گے اور اپنے نفسوں پر ناراضگی کا اظہار کریں گے تو آگ کے داروغہ ان کو آواز دے کر کہیں گے لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ ، اللہ تعالیٰ کو تم سے زیادہ نفرت ہے اس کی بنسبت جتنی تمہیں اپنے نفسوں سے نفرت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو تم سے تمہارے نفسوں کی نسبت زیادہ نفرت ہے پس انفس کا ذکر ایک مرتبہ کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ المقت، شدید بغض و نفرت، اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِيْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ ، جبکہ تم ایمان…
Read the full tafseer →9، وقھم السیئات، سزاؤں سے، ومن تقی السیئات ، یعنی اور جس کو تو سزاؤں سے بچالے اور کہا گیا ہے کہ برائیوں کی جزاء سے۔ ، یومئذ فقد رحمتہ وذلک ھوالفوزالعظیم،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10۔ 12۔ اوپر ذکر تھا کہ جو لوگ شیطان کی پیروی کریں گے ان سے اور شیطان سے دوزخ کو بھرا جائے گا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جب ایسے لوگ دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے تو دوزخ کے عذاب سے تنگ آ کر یہ لوگ ان باتوں سے بہت بیزاری ظاہر کریں گے جن باتوں کو دنیا میں بڑی خوشی سے کرتے تھے۔ ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر ان کو قائل کرنے کے لئے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر ان سے کہیں گے کہ بےوقت کی اس بیزاری سے اب کیا ہوتا ہے دنیا میں جب تم کو قرآن کے موافق فرمانبرداری کی نصیحت کی جاتی تھی اور تم سرکشی سے اس کو نہیں مانتے تھے اللہ تعالیٰ تمہاری اس سرکشی سے بہت بیزار تھا۔ یہ عذاب اللہ تعالیٰ کی اس بیزاری کا نتجیہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
آیت 7
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے کامل لطف و کرم اور ان اسباب کا ذکر کرتا ہے جو اس نے ان کی سعادت کے لئے مقرر فرمائے ہیں۔ یہ اسباب ان کی قدرت سے باہر تھے، مثلاً ان کے لئے ملائکہ مقربین کا استغفار کرنا اور ان کے دین و آخرت کی بھلائی کے لئے دعا کرنا۔ اس ضمن میں عرش الٰہی اٹھانے والے فرشتوں اور جو اس کے اردگرد ہیں ان کے شرف کی خبر ہے۔ اسی طرح اپنے رب کیق ریب رہنے والے فرشتوں، ان کی عبادت کی کثرت، اللہ کے بندوں کے لئے ان کی خیر خواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، چناچہ فرمایا : (الذین یحملون العرش) ” جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ “ یعنی رحمٰن عا عرش،…
Read the full tafseer →20 منکروں اور مشرکوں کی تحقیر و تذلیل کا ایک منظر : سو اس سے کافروں کیلئے تحقیر و تذلیل کا ایک اور منظر پیش فرمایا گیا ہے اور اس میں ان کیلئے تنبیہ و تذکیر کا بڑا سامان ہے۔ سو اس طرح کی توبیخ و تقریع سے ایسے بدبختوں کے باطن کی مخفی آگ جو ان میں یاس و حسرت کی صورت میں پہلے ہی جل رہی ہوگی اور تیز ہوجائے گی۔ اور اس طرح یہ لوگ دوزخ کی ظاہری ہولناک آگ کے ساتھ باطن کی اس غیر مرئی آگ کے دوہرے عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کافر لوگ تو آج اپنے خودساختہ شریکوں کے اعتماد پر مطمئن بیٹھے ہیں کہ ہم کچھ بھی کریں کوئی پروا نہیں۔ یہ ہمیں وہاں اونچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–22
کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت
تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 20:
اسرار و معارف :
آج تو جسمانی اور مادی فوائد کفار کو بہت عزیز ہیں مگر جہنم میں انہیں خود اپنی ذات سے بھی نفرت ہوگی اور انگلیاں کاٹ کاٹ کھائیں گے کہ لعنت ہو ایسے وجود پر جسے ہم پالتے رہے اللہ کی اطاعت نہ کی تو انہیں آواز دی جائے گی جب تم دنیا میں کفر پہ اصرار کرتے تھے اور ایمان نہ لاتے تھے تو اللہ کو تمہارے وجودوں سے اس سے زیادہ نفرت تھی جتنی خود سے آج تم کو ہے۔ تب پکار کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اب ہم جان گئے کہ تو نے ہمیں دو بار موت دی ایک بار تو مادہ کی صورت میں تھے پھر دنیا سے آخرت کے سفر پر موت کے راستے سے چلے اور دو بار زندگی بھی ایک بار دنیا میں دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ف 7 یعنی آج اپنے اعمال نامہ اور سزا کو دیکھ کر تمہیں اپنے آپ پر جتنا غصہ آرہا ہے اس سے زیادہ غصہ اللہ تعالیٰ کو تم پر دنیا میں اس وقت آتا تھا جب۔۔۔۔۔
Read the full tafseer →(40:10) ینادون : مضارع مجہول جمع مذکر غائب فعل مالم یسم فاعلہ الذین اسم موصول مفعول مالم یسم فاعلہ ہے۔ ان کو پکارا جائے گا۔ مناداۃ (مفاعلۃ) مصدر۔
مطلب یہ کہ جب کافر لوگ اپنے اعمال بد کے نتیجے میں دوزخ کے اندر سزا بھگت رہے ہوں گے وہ اپنے نفسوں سے سخت نفرت کریں گے۔ کیونکہ انہیں کے نفوس نے ان کو دنیا میں گناہ اور کفر پر آمادہ کیا تھا۔ جس کا نتیجہ وہ اب بھگت رہے ہیں۔ اس حالت میں دوزخ کے فرشتے ان کافروں کو پکاریں گے اور کہیں گے۔ یا مومن لوگ ان کافروں کو پکاریں گے۔
لمقت اللّٰہ اکبر من مقتکم انفسکم لام ابتدائیہ یا قسم کے لئے مقت اللہ مضاف مضاف الیہ۔ مقت مصدر ہے۔ یہ مصدر کی اضافت اس کے فاعل کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–20
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 20 : ینادون ( یدائ) ( آواز دیں گے) مقت اللہ ( اللہ کا غصہ) تدعون (تم پکارے جائو گے) امتنا ( تو نے ہمیں موت دی) احییتنا (تو نے ہمیں زندگی دی) ینیب (وہ لوٹتا ہے، رجوع کرتا ہے) رفیع ( بلند) الروح ( روح ، وحی) التلاق (ملاقات ، ملنا) برزون (ظاہر ہونے والے ، بےپردہ) القھار (زبردست ، قوت والا) الازقۃ ( قریب آنے والی ، نزدیک آنے والی) الحناجر (حنجور) ( گلے ، کلیجے) کظمینا (غصہ پی جانے والے) حمیم (قریبی دوست) خائنۃ ( خیانۃ) ( چوری کرنے والی ، خیانت کرنے والی) لم یقضون (وہ فیصلہ نہیں کرتے)
تشریح : آیت نمبر 10 تا 20 :۔ دنیا میں کفر و شرک اور گناہ کرنے والے لوگ مختلف باتوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جب ایسے لوگ دوزخ میں جھونک دیے جائیں گے تو دوزخ کے عذاب سے تنگ آکر یہ لوگ ان باتوں سے بہت بیزاری ظاہرکریں گے جن باتوں کو دنیا میں بڑی خوشی سے کرتے تھے ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر انکوقائل کرنے کے لیے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر ان سے کہیں گے کہ بےوقت کی اس بےزاری سے اب کیا ہوتا ہے دنیا میں جب تم کو قرآن کے موافق فرمانبرداری کی نصیحت کی جاتی تھی اور تم سرکشی اسے اس کو نہیں مانتے تھے اللہ تعالیٰ تمہاری اس سرکشی سے بہت بےزار تھ ایہ عذاب اللہ کی اس بےزاری کا نتیجہ ہے اب یہ عذاب کس طرح ٹل نہیں سکتا، فرشتوں کی یہ جھڑکی سن کر یہ دوزخی لوگ اللہ سے عرض کریں گے یا اللہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[2] یہ مضمون سورة بقرہ آیت 82 صفحہ 41 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
دعوت توحید
1: قرآن حکیم بطور مدارو مرکز کے جس مسئلہ کا ذکر کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ تمام عالم انسانی احساس مجد کے اس اصول سے براہ راست واقفیت پیدا کرے اور یہ تے کرلے کہ زندگی کی تمام تگ ودو میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائیگا کہ ہم ساری کائنات سے افضل ہیں ۔ اور رب اکوان ہمارا خدا ہے ۔ اسی کی بادشاہت ہے ۔ اور وہی بالا اور برتر ذات ہے ۔ اس عقیدہ یقینا یہ نتیجہ ہوگا ۔ کہ نفس میں وہ تمام خود داری اور رفعت کے جذبات پیدا ہوجائیں گے ۔ جن پر مضبوط اور صالح زندگی کا انحصار ہے ۔ توہمات مٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے میں ایک روحانی قوت اور طاقت محسوس کریگا ۔ ایک نوع کی بالیدگی اور ارتقاء پائیگا ۔ اور پھر ہینت…
Read the full tafseer →(10) بلا شبہ جو لوگ منکر ہیں جب وہ دوزخ میں داخل ہوں گے تو ان کو پکار کے کہا جائیگا جس طرح آج تم اپنی جانوں سے بیزار ہو اور ان پر غضب ناک ہو اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ تم سے اس وقت بیزار تھا اور تم کو ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم انکار کرتے تھے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی تم آج اپنے جی کو پھٹکارتے ہو دنیا میں جب تم کفر کرتے تھے اللہ اس سے زیادہ تم کو پھٹکارتا تھا اسی کا بدلا آج پائو گے۔
خلاصہ : یہ ہے کہ آج تم اپنی جان سے بیزار ہو اور اپنے پر غصہ کررہے ہو اور غصے کے مارے اپنی اپنی انگلیاں چپائے ڈالتے ہو جب تم کفر کیا کرتے تھے دنیا میں اور اللہ تعالیٰ کی ایمانی دعوت کو ٹھکراتے تھے…
Read the full tafseer →ف 4۔ اس کہنے سے مقصود تحییر و تندیم ہے۔
Read the full tafseer →کافر کون ؟ وہی جن کو اللہ کی طرف دعوت دی گئی اور انہوں نے منہ پھیر دیا
10۔ پیغمبر اسلام کی دعوت کوئی بطور تحکم نہیں ہے بلکہ آپ کی دعوت سراسر تعقل ، تفکر اور تدبر پر مبنی ہے اور یہ بھی کہ اس دعوت کی بنیاد آپ ہی نے نہیں رکھی بلکہ آپ سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جتنے پیغام بر آئے سب کی دعوت یہی تھی کیونکہ سب کا سرچشمہ ہدایت ایک ہی تھیا۔ جن لوگوں نے آپ کی دعوت کا انکار کیا اور اسلام نے ان کا نام ” کافر “ رکھا انہوں نے جو اس کا انکار کیا اس انکار کا کوئی جواز ان کے پاس نہیں تھا بلکہ محض ضد اور ہٹ دھرمی تھی کہ جو باتیں محمد (رسول اللہ ﷺ کہہ رہا ہے وہ بالکل نئی ہے اور ہمارے باپ دادا کے دین کے سراسر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
Commentary
The word: دَرَجَات (darajat, translated above as 'stations' ) in: رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ (He is High in stations - 40:15) has been taken by some commentators as meaning 'attributes.' If so, the sense of the expression would be that His attributes of perfection are most exalted. Ibn Kathir has relied on the words as they appear outwardly and has said that it refers to the most exalted 'arsh' (throne) for it comprehends all land masses and heavens and is located above them all like a roof as in Surah Al-Ma'arij: مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ ﴿3﴾ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ…
Read the full tafseer →14 That is, "When the disbelievers will see on the Day of Resurrection that they had committed a grave folly by founding their entire life-work on polytheism and atheism, denial of the Hereafter and opposition to the Messenger, and due to the folly they were now doomed to that evil end, they will bite at their fingers and will curse themselves fretfully. At that time the angels will proclaim to them: "Today you are being angry with yourselves, but in the world when the Prophets of Allah and the other good people invited you to the right path to save you from this evil end, you turned down…
Read the full tafseer →