Al-Ghaafir 40:9

Al-Ghaafir · from ayah 9

40:9

وَقِهِمُ السَّیِّاٰتِ ؕ— وَمَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ ؕ— وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۟۠وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ ؕ وَمَنۡ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوۡمَئِذٍ فَقَدۡ رَحِمۡتَهٗ ؕ وَذٰ لِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ

اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ۔ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بےشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And protect them from the evil consequences [of their deeds]. And he whom You protect from evil consequences that Day - You will have given him mercy. And that is the great attainment."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Ghaafir

All translations of 40:9

اور بچا دے اُن کو برائیوں سے جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا دیا اُس پر تو نے بڑا رحم کیا، یہی بڑی کامیابی ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ۔ اور جس کو تو اس روز عذابوں سے بچا لے گا تو بےشک اس پر مہربانی فرمائی اور یہی بڑی کامیابی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہیں برائیوں سے بھی محفوظ رکھ، حق تو یہ ہے کہ اس دن تونے جسے برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے رحمت کر دی اور بہت بڑی کامیابی تو یہی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان کو ہر طرح کی برائیوں سے محفوظ رکھ اور اس دن جسے تو نے برائیوں سے محفوظ کرلیا اس پر تو نے بڑا رحم فرمایا۔ اور یہی زبردست کامیابی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انہیں گناہوں کی شامت سے بچالے، اور جسے تو اس دن گناہوں کی شامت سے بچائے تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایا، اور یہی بڑی کامیابی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اُن کو برائیوں (کی سزا) سے بچا لے، اور جسے تو نے اُس دن برائیوں (کی سزا) سے بچا لیا سو بے شک تو نے اُس پر رحم فرمایا، اور یہی تو عظیم کامیابی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھیں برائیوں سے بچا اور تو جسے اس دن برائیوں سے بچا لے تو یقینا تو نے اس پر مہر بانی فرمائی اور یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور انہیں برائیوں سے بچالے۔ اس روز جسے تو نے برائیوں سے بچا لیا گویا تو نے اس پر رحمت کردی اور یہی بڑی کامیابی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کو برے نتائج اعمال سے بچا اور جن کو تو نے اس دن برے نتائج سے بچایا تو وہی ہیں جن پر تو نے رحم فرمایا۔ اور یہی درحقیقت بڑی کامیابی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بچا دے تو (اے ہمارے مالک !) ان کو ان کی برائیوں سے اور جس کو تو نے بچا لیا اس کی برائیوں سے اس دن تو یقینا اس پر تو نے بڑی ہی مہربانی فرما دی اور یہی ہے (اصل حقیقی اور سب سے) بڑی کامیابی

— مولانا اسحاق مدنی

اور انہیں تکلیفات سے بچا لے اور تو نے جس کو اس دن کی تکالیف سے بچا لیا اس پر تو نے (بڑی) مہربانی کی اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہیں بچا لے برائیوں سے۔ اور جسے تو ُ نے اس دن برائیوں سے بچالیا اس پر تو نے بڑا رحم کیا اور یقینا یہی بہت بڑی کامیابی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کو عذابوں سے بچائے رکھ اور جس کو تو اس دن عذابوں سے بچا لے گا تو یہ بیشک اس پر مہربانی ہوگی اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and guard them against all ills. He whom You guard against ills on that Day, to him You have surely been Most Merciful. That is the great triumph.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and save them from evils (of punishment). And whomsoever you save from evils that day, it is surely because you bless him with mercy. And that is the great achievement indeed.

— Muhammad Taqi Usmani

and save them from evils (of punishment). And whomsoever you save from evils that day, it is surely because you bless him with mercy. And that is the great achievement indeed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And save them from the sins, and whomsoever You save from the sins that Day, him verily, You have taken into mercy." And that is the supreme success.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And ward off from them ill-deeds; and he from whom Thou wardest off ill-deeds that day, him verily hast Thou taken into mercy. That is the supreme triumph.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And protect them from the evil consequences [of their deeds]. And he whom You protect from evil consequences that Day - You will have given him mercy. And that is the great attainment."

— Saheeh International

Lord, keep them away from evil deeds. Whomever You have saved from evil on the Day of Judgment has certainly been granted Your mercy and this is the greatest triumph.

— Muhammad Sarwar

And keep them from evil deeds, and whom Thou keepest from evil deeds this day, indeed Thou hast mercy on him, and that is the mighty achievement.

— Muhammad Habib Shakir

And protect them from evils. And whosoever Thou shalt protect from evils on that Day, him Thou hast of a surety taken into mercy and that: it is an achievement mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

"And preserve them from (all) ills; and any whom Thou dost preserve from ills that Day,- on them wilt Thou have bestowed Mercy indeed: and that will be truly (for them) the highest Achievement".

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 40:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–9

اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے۔ عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایمان دار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُؤْمِن 12 " سیّئات " (برائیوں) کا لفظ تین مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور تینوں ہی یہاں مراد ہیں۔ ایک، غلط عقائد اور بگڑے ہوئے اخلاق اور برے اعمال۔ دوسرے، گمراہی اور اعمال بد کا وبال۔ تیسرے آفات اور مصائب اور اذیتیں خواہ وہ اس دنیا کی ہوں، یا عالم برزخ کی، یا روز قیامت کی۔ فرشتوں کی دعا کا مقصود یہ ہے کہ ان کو ہر اس چیز سے بچا جو ان کے حق میں بری ہو۔ سورة الْمُؤْمِن 13 روز قیامت کی برائیوں سے مراد میدان حشر کا ہول، سائے اور ہر قسم کی آسائشوں سے محرومی، محاسبے کی سختی، تمام خلائق کے سامنے زندگی کے راز فاش ہونے کی رسوائی، اور دوسرے وہ تمام ذلتیں اور سختیاں ہیں جن سے وہاں مجرمین کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

(آیت) اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ۔ حاملان عرش فرشتے اب چار ہیں اور قیامت کے روز آٹھ ہوجائیں گے اور عرش کے گرد کتنے فرشتے ہیں ان کی تعداد اللہ ہی جانتا ہے۔ بعض روایات میں ان کی صفوں کی تعداد بتلائی ہے جو لاکھوں تک پہنچتی ہے، ان کو کروبی کہا جاتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں۔ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ یہ سب مقرب فرشتے مومنین کے لئے خصوصاً جو گناہوں سے تائب اور شریعت کے متبع ہوجائیں ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ یا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام پر مامور فرمایا ہے یا ان کی فطرت و طبیعت ہی ایسی ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندوں کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ اسی لئے حضرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–9

فرشتوں کی حیثیت کی وضاحت اب یہ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کو فرشتوں کی سفارش اور ان کی مدد پر بھروسہ ہے اور ان کے بل پر یہ پیغمبر کے انذار کی تکذیب کر رہے ہیں تو ان کا حال یہ لوگ کان کھول کر سن لیں کہ عام فرشتے تو درکنار، خدا کے جو خاص مقرب فرشتے ہیں یعنی حاملین عرش اور ان کے زمرہ سے تعلق رکھنے والے، وہ بھی برابر خدا کی خشیت سے لرزاں و ترساں اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔ ”ویومنون بہ ‘ وہ الوہیت کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ خدا کے بندوں کی طرح اس پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ ویستغفرون للذین اٰمنوا۔ اور ان لوگوں کے لئے جو خدا پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 سیأت سے مراد یہاں عقوبات ہیں یا پھر جزا محذوف ہے یعنی انہیں آخرت کی سزاؤں سے یا برائیوں کی جزا سے بچانا۔ 9۔ 2 یعنی آخرت کے عذاب سے بچ جانا اور جنت میں داخل ہوجانا یہی سب سے بڑی کامیابی ہے اس لیے کہ اس جیسی کوئی کامیابی نہیں اور اس کے برابر کوئی نجات نہیں ان آیات میں اہل ایمان کے لیے دو عظیم خوش خبریاں ہیں ایک تو یہ کہ فرشتے ان کے لیے غائبانہ دعا کرتے ہیں جس کی حدیث میں بڑی فضلیت وارد ہے دوسری یہ کہ اہل ایمان کے خاندان جنت میں اکٹھے ہوجائیں گے جعلنا اللہ من الذین یلحقھم اللہ بابائھم الصالحین۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: برائیوں سے مراد دوزخ کی تکلیفیں بھی ہوسکتی ہیں، اور دنیا میں کی ہوئی برائیاں بھی، اور اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں کی ہوئی برائیوں کے انجام سے بچائے، یعنی ان برائیوں کو معاف فرما دے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

آیت نمبر 7 تا 9 ہم نہیں جانتے کہ عرش کی حقیقت کیا ہے ، نہ اس کی صورت متعین کرسکتے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کے اٹھانے والے اسے کس طرح اٹھاتے ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کا ماحول کیسا ہے اور اس کے اردگرد فرشتے کیسے ہیں ، لہٰذا ہمیں ان چیزوں کی ہئیت اور ماہیت معلوم کرنے کی فضول جدوجہد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اشیاء انسانی ادراک کے دائرہ سے ماوراء ہیں۔ نہ ہمیں ان غیبی امور کے پیچھے پڑتا چاہئے ، جن کے بارے میں مباحثے کرنے والوں کو کوئی علم نہیں دیا گیا۔ جو بات آیات سے سمجھ میں آتی ہے ، وہ صرف یہ ہے کہ اللہ کے بعض مقرب بندے ، رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں ، اللہ پر ایمان لاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی محشر میں ان کو کوئی برائی (مثلاً گھبراہٹ اور پریشانی وغیرہ) لاحق نہ ہو۔ اور یہ عظیم الشان کامیابی صرف تیری خاص مہربانی ہی سے حاصل ہوسکتی ہے۔ بعض مفسرین نے سیأت سے اعمال سیئہ مراد لیے ہیں یعنی آگے کو انہیں برے کاموں سے محفوظ فرما دے اور ان کی خواہش ایسی کر دے کہ برائی کی طرف نہ جائیں۔ ظاہر ہے جو آج یہاں برائی سے بچ گیا اس پر تیرا فضل ہوگیا۔ وہ ہی آخرت میں اعلیٰ کامیابی حاصل کرے گا۔ اس تفسیر پر یومئذٍ کا ترجمہ بجائے " اس دن " کے " اس دن " ہونا چاہیے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی تیری مہر ہی ہو کہ برائیوں سے بچے۔ اپنے عمل سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ تھوڑی بہت برائی سے کون خالی ہے۔ " یہ الفاظ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 { وَقِہِمُ السَّیِّاٰتِط وَمَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہٗ } ”اور انہیں بچا لے برائیوں سے۔ اور جسے تو ُ نے اس دن برائیوں سے بچالیا اس پر تو نے بڑا رحم کیا۔“ { وَذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ } ”اور یقینا یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 سیأات کے تین معنی :۔ السَّیِّأات کے تین معنی ہیں۔ ایک غلط عقائد، بگڑے ہوئے اخلاق اور برے اعمال، دوسرے، گمراہی اور اعمال بد کا وبال، تیسرے آفات و مصائب اور تکلیفیں خواہ وہ دنیا کی ہوں، عالم برزخ کی ہوں یا عالم قیامت کی ہوں۔ یہاں تینوں قسم کی برائیاں مراد ہیں۔ 12 روز محشر کی برائیوں سے مراداس دن کی ہولناکیاں، انتہائی تپش اور شدت پیاس، اپنا محاسبہ کا خوف، مجرمین کی برسرعام رسوائی وغیرہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ (جس کے سامنے ساری دنیوی کامیابیاں بست، عارضی اور ہیچ ہیں) خوب خیال رہے قرآن مجید نے مقصود اعظم اسی نجات اخروی اور دخول جنت کو بتایا ہے اس کے علاوہ اور جتنے مقاصد ہیں سب پست اور محض ضمنی ہیں۔ (آیت) ” وقھم السیات “۔ یعنی علاوہ دوزخ کے عذاب اعظم کے اور بھی روز قیامت کی ہر تکلیف سے بھی بچالے۔ (آیت) ” السیات “۔ کے معنی جزاء السیات کے سمجھے گئے ہیں۔ وقیل التقدیر قھم عذاب السیات (قرطبی) ومن تق السیات اے جزاء ھا (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حٰمٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے ؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کتاب قرآن اس اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی مخلوق سے واقف ہے تَنزِیلُ الکتابِ مبتداء ہے، مِنَ اللہِ خبر، مومنوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ان کی توبہ کو قبول کرنے والا التوب مصدر ہے، کافروں پر سخت عذاب والا ہے شدیدٌ بمعنی مُشدِّدٌ ہے، بڑے وسیع انعام والا ہے، وہ ان صفات کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے، لہٰذا ان صفات (ثلٰثہ) مشتقات کی اضافت تعریف کے لئے ہوگی، جیسا کہ آخری صفت (ذی الطول) میں (ہے) جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقھم السیات ومن تق السیات یومئذ فقد رحمتہ وذلک ھو الفوز العظیم اور (قیامت کے دن) ان کو (ہر طرح کی) تکلیفوں سے بچا اور تو نے جس کو اس روز برائیوں سے بچا لیا ‘ اس پر تیری بڑی مہربانی ہوگی اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ السَّیِّاٰت یعنی سزائیں ‘ تکالیف یا برے اعمال کا بدلہ ‘ یا یہ مطلب ہے کہ دنیا میں اعمال بد سے جس کو تو محفوظ رکھ لے تو یہ تیری رحمت ہے۔ یَوْمَءِذٍ اس روز ‘ یعنی بدلے کے دن (قیامت کے دن) یا دنیا میں۔ وَذٰلِکَ یعنی رحمت ‘ یا عذاب سے حفاظت یا دونوں کا مجموعہ۔ ایک سوال : ملائکہ کو جب معلوم ہے کہ اللہ نے مؤمنوں کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے اور اللہ کے وعدہ کے خلاف ہونا ناممکن ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان سے قیامت کے دن کے عذاب کو دور فرمایے اور جس سے قیامت کے دن کا عذاب دور کردیا گیا تو اس کی آپ نے مغفرت اور حفاظت فرمادی اور یہ مغفرت اور عذاب کا دور کرنا بڑی کامیابی ہے کہ جنت ہاتھ آگئی اور دوزخ سے بچ گئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وقھم السیات :”ق“ ”وفی یقی وقایۃ“ (ض) سے امر کا صیغہ ہے۔”السیات“ (برائیوں) سے مراد برے اعمال و اقوال بھی ہیں اور ان کے برے نتائج بھی۔ یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ سے ایمان والوں کو تمام برائیوں سے بچانے کی بھی دعا کرتے ہیں اور دنیا و آخرت میں ان کے برے نتائج سے محفوظ رکھنے کی بھی۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (185)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–9

( کذبت قبلھم قوم نوح۔۔۔۔۔ ) کذبت قبلھم قوم نوح جماعت کے مونث ہونے کے اعتبار سے فعل مونث ذکر کیا یعنی کذبت الرسل۔ والا حزاب من بعدھم یعنی وہ قومیں جنہوں نے انبیاء کو جھٹلانے میں اجتماعیت کو اپنایا جس طرح قوم عاد اور قوم شمود اور ان کے بعد جو قومیں ہوئیں۔ لیا خذوہٗ یعنی نبی کو محسوس کردیں اور اسے اذیتیں دیں۔ قتادہ اور سدی نے کہا : وہ اسے قتل کردیں (1) اخذ کا لفظ ہلاک کرنے کے معنی میں آتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” ثم اخذ تھم فکیف کان نکیر۔ “ ( الحج) عرب اسیر کو اخیذ کہتے ہیں کیونکہ وہ قتل کے لیے ماسور ہوتا ہے۔ قطرب نے ایک شاعر کا یہ شعر پڑھا : فاما تاخذونی تقتلون فکم من اخذ یھوی خلودی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–9

فرشتے اہل ایمان کیلئے توبہ کرتے ہیں 1:۔ ابویعلی وابن مردویہ (رح) نے (صحیح سند کے ساتھ) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اجازت دی گئی کہ میں اس فرشتے کے بارے میں بیان کروں کہ اس کی ٹانگیں ساتویں زمین سے بھی نکل گئی ہیں۔ (یعنی نیچے چلی گئی ہیں اور عرش اس کے کندھوں پر ہے اور وہ کہتا ہے تیری ذات پاک ہے تو جہاں ہے اور تو کہاں ہوگا۔ 2:۔ ابوداؤد ابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں صحیح سند کے ساتھ جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے اجازت دی گئی کہ میں بیان کروں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایسے فرشتے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقِهِمُ [ اور تو بچا ان کو ] السَّيِّاٰتِ ۭ [برائیوں سے ] وَمَنْ [ اور جس کو ] تَقِ [ تو بچائے گا ] السَّيِّاٰتِ [ برائیوں (کے انجام ) سے ] يَوْمَىِٕذٍ [اس دن ] فَقَدْ رَحِمْتَهٗ ۭ [تو تو نے رحم کیا ہے اس پر ] وَذٰلِكَ [ اور یہ ] هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ [ہی شاندار کامیابی ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

حاملین عرش کا مومنین کے لیے دعا کرنا، اہل ایمان اور ان کی ازواج اور زریات کے لیے جنت میں داخل ہونے کا سوال اوپر اہل کفر کی سزا کا بیان ہوا، ان آیات میں اہل ایمان کی فضیلت بیان فرمائی اور یہ فرمایا کہ اہل ایمان کے لیے حاملین عرش اور وہ فرشتے جو ان کے آس پاس ہیں دعاء کرتے ہیں یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی تحمید و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائے ہیں اور دنیا میں جو اہل ایمان ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں اور یوں دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ کی رحمت اور آپ کا علم ہر چیز کو شامل ہے لہٰذا آپ ان لوگوں کو بخش دیجیے جنہوں نے شرک و کفر سے توبہ کی اور آپ کے راستہ پر چلتے رہے ان کو آپ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” وقھم الخ “۔ ” السیئات “ سے مراد عقوبات ہیں یا جزاء السیئات علی حذف المضاف۔ ای العقوبات لان جزاء السیئۃ سیئۃ مثلھا او جزاء السیئات علی حذف المضاف (ابو السعود ج 7 ص 296) ۔ اور ان کو گناہوں کی سزا سے بچا اور جس کو تو نے اس دن یعنی دنیا میں یا آخرت میں سزا سے بچا لیا تو اس پر تیری خاص رحمت ہوگئی اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ انسان محض اللہ کی رحمت سے اس کے عذاب سے بچ جائے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–9

ربط آیات : گذشتہ درس میں قرآن کریم کی حقانیت وصداقت اور اس کا وحی الہی کے ذریعہ منزل من اللہ ہونا بیان ہوا پھر اللہ تعالیٰ کی آٹھ صفات کا ذکر ہوا اور انکار کرنے والوں کا شکوہ بیان ہوا ، یہ کافر لوگ جھگڑا کرتے ہیں جو کہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ ان سے پہلے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی پاداش میں ہلاک کیا ، باطل کے ذریعے حق کو مغلوب کرنے والوں کو اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام یاد کرلینا چاہئے ، فرمایا تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے کہ کافر لوگ ضرور دوزخ میں جائیں گے ۔ ّ (حاملین عرش فرشتے) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا انجام بیان فرمایا ہے مگر اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت و حکمت اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقِہِمُ السَّيِّاٰتِ۝ 0 ۭ وَمَنْ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہٗ۝ 0 ۭ وَذٰلِكَ ہُوَالْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۝ 9ۧ سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–9

ترکیب : الذین مبتدء و من مرفوع عطفا علی الذین یسبحون خبرہ یؤمنون، ویستغفرون معطوف علیہ ربنا وسعت مصدرہ محذوف ای یقولون والجملۃ حال رحمۃ و علما تمیز والاصل وسع کل شیء علمک و من صلح معطوف علی الضمیر فی ادخلہم ای و ادخل من صلح و قیل معطوف علی الضمیر فی وعدتہم فھی فی محل النصب من آباء ھم بیان لمن صلح و ازواجہم و ذریاتھم علی الجمع عطف علیٰ آباھم۔ تفسیر : پہلے بیان ہوا تھا کہ ایسی کتاب میں (جو ایسے زبردست علیم کی نازل کی ہوئی ہے) کافر ناحق کو جھگڑے مچاتے ہیں تاکہ اس کو پست کریں اور اس آفتاب کی شعاعوں کو روکیں، سو یہ ان کی رذالت و دناء تِ جبلی کا مقتضٰی ہے، اب یہاں بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ملائکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقِہِمُ السَّیِّاٰتِ ط وَمَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَـہٗ ط وَذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۔ (المؤمن : 9) (اور ان کو برائیوں سے بچا اور جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا لیا تو، تو نے اس پر بڑا رحم فرمایا، اور یہی درحقیقت بڑی کامیابی ہے۔ ) ان کی دعا کی مزید تفصیل یہ ہے کہ وہ اصحابِ ایمان کے لیے یہ دعا بھی کریں گے کہ یا اللہ ان کو سَیِّاٰتِسے محفوظ فرما۔ سَیِّآتِ برائیوں کو بھی کہتے ہیں اور برائیوں کے نتائج کو بھی۔ کیونکہ عمل اور نتیجے میں جو لزوم پایا جاتا ہے اس کے پیش نظر بعض دفعہ فعل کو نتیجہ فعل کے مفہوم میں بول دیتے ہیں۔ اگر اس کو برائیوں کے معنی میں لیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–9

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کے حکم سے ملائکہ کفار اور مشرکین کو سزا دیتے ہیں اور مومنوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ پہلی اقوام کا اپنے رسولوں کے ساتھ سلوک اور حق کے معاملہ میں ان کا رویہ بتلا کر رسول محترم ﷺ کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ اے رسول ﷺ ! مومنوں کو بتلائیں کہ انہیں دل چھوٹا کرنے اور ہمت نہیں ہارنا چاہیے۔ بیشک کفار اور مشرکین ان کی جان کے درپے اور حق کو دبانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ لیکن انہیں خوش ہونا چاہیے کہ ان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے ملائکہ صبح و شام دعائیں کرتے ہیں جو اپنے رب کا عرش تھامے ہوئے اور اپنے رب کی حمد میں رطب اللسان رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

چوتھی دعا : وَقِهِمُ السَّيِّاٰتِ ، اور آپ کو ان تکالیف سے بچائیے۔ السیئات سے جزائے سیئات مراد ہے جو عذاب نار ہے۔ وَمَنْ تَقِ السَّيِّاٰتِ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ ۭ وَذٰلِكَ ، اور آپ جس کو اس دن کی تکالیف سے بچائیں گے تو اس پر آپ مہربانی فرمائی اور یہ ذلک کا مشار الیہ دفع عذاب ہے یعنی یہ دفع عذاب هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ ، وہی بڑی کامیابی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8، ربنا وادخلھم جنات عدن التی وعدتھم ومن صلح، ایمان لایا، من آبائھم وازواجھم وذریاتھم انک انت العزیز الحکیم، سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ مؤمن جنت میں داخل ہوگا توک ہے گا کہ میراباپ کہا ہے ؟ میری ماں کہا ہے ؟ میری اولاد کہاں ہے ؟ میری بیوی کہاں ہے ؟ تو کہاجائے گا کہ انہوں نے تیرے جیسے عمل نہیں کیے تو وہ کہے گا کہ میں نے اپنے لیے اور ان کے لیے عمل کیے تھے تو کہاجائے گا کہ تم ان کو بھی جنت میں داخل کردو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 4–9

4۔ 9۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی 3 ؎ حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ حارث بن قیس سہیمی وغیرہ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے آکر جھگڑا کیا کرتے تھے اور قرآن شریف کے باب میں طرح طرح کی بےادبی کے لفظ منہ سے نکالا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام سے مخالفت کر کے ابھی تک جو کسی وبال اور عذاب الٰہی میں نہیں پکڑے گئے اور چین سے شہر بشہر تندرستی اور آرام سے گزر کر رہے ہیں اے نبی اللہ کے ان لوگوں کے اس حال پر کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے ان کا کفر تو اللہ کے نزدیک ثابت ہوچکا ہے مگر اللہ کی درگاہ میں ہر کام کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–11

آیت 7 اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے کامل لطف و کرم اور ان اسباب کا ذکر کرتا ہے جو اس نے ان کی سعادت کے لئے مقرر فرمائے ہیں۔ یہ اسباب ان کی قدرت سے باہر تھے، مثلاً ان کے لئے ملائکہ مقربین کا استغفار کرنا اور ان کے دین و آخرت کی بھلائی کے لئے دعا کرنا۔ اس ضمن میں عرش الٰہی اٹھانے والے فرشتوں اور جو اس کے اردگرد ہیں ان کے شرف کی خبر ہے۔ اسی طرح اپنے رب کیق ریب رہنے والے فرشتوں، ان کی عبادت کی کثرت، اللہ کے بندوں کے لئے ان کی خیر خواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، چناچہ فرمایا : (الذین یحملون العرش) ” جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ “ یعنی رحمٰن عا عرش،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

19 اصل اور حقیقی کامیابی نعیم جنت سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یہی ہے بڑی کامیابی " یعنی نعیم جنت سے سرفرازی جو کہ اصل اور حقیقی کامیابی ہے۔ جس کو اصل مقصود بنانا چاہیے۔ اور جس کے لئے انسان کو کوشش کرنی چاہیئے۔ کہ یہ کامیابی حقیقی دائمی اور ابدی ہے۔ اور اس کے سامنے کسی اور کامیابی کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہوسکتی۔ سو کیسی عمدہ پیاری اور جامع دعائیں ہیں یہ جو ایسے مقرب فرشتے اہل ایمان کے لئے کرتے ہیں۔ اور کتنی ہمدردی و محبت ہے فرشتوں کو ایمان والوں سے۔ اسی لئے حضرت مطرف بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے بندوں کے لئے فرشتوں سے بڑھ کر کوئی خیر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 4–22

کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

تمت سورة زمر ۔ الحمد للہ۔ سورۃ المومن رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 9: اسرار و معارف : اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے کتاب نازل فرما کر ہدایت کی راہ دکھائی کہ وہ بہت طاقت وقدرت رکھنے والا ہے اور ہر بات کو جانتا بھی ہے اسے انسانوں سے کسی مدد کی جرورت نہیں بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر لوگ اس کی کتاب پر ایمان لا کر اس کے احکام کی پیروی کریں تو وہ ان کے گناہ معاف فرما دے اور ان کی توبہ قبول فرمائے بصورت دیگر اس کے عذاب بھی بہت سخت ہیں اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے کوئی اس کے عذاب سے بھاگ نہیں سکتا اور اس کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس کی عبادت کی جائے نیز سب کو ہر حال میں لوٹ کر اسی کی بارگاہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–10

ف 7 یعنی آج اپنے اعمال نامہ اور سزا کو دیکھ کر تمہیں اپنے آپ پر جتنا غصہ آرہا ہے اس سے زیادہ غصہ اللہ تعالیٰ کو تم پر دنیا میں اس وقت آتا تھا جب۔۔۔۔۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(40:9) وقھم۔ میں واؤ عاطفہ ہے ق امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر (ملاحظہ ہو آیت 7 متذکرہ بالا) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اور ان کو بچالے۔ محفوظ رکھ۔ السیئات ای وقھم جزاء السیئات اور ان کو ان کی برائیوں کی سزا سے بچالے۔ یا بدوں اضافت ان کی برائیوں سے (دنیا میں بچالے) ۔ من موصولہ ہے۔ من بیانہ ہے۔ تبعیضیہ بھی ہوسکتا ہے۔ تق مضارع واحد مذکر حاضر۔ وقی مصدر (باب ضرب) تق اصل میں تقی تھا۔ عامل کے آنے سے ی حرف علت ساقط ہوگیا۔ تو بچا دے۔ تو بچاتا ہے۔ تو بچادیگا۔ ومن تق السیات یومئذ فقد رحمتہ : من اسم موصول ہے۔ السیات سے مراد برائیاں۔ اعمال بد یا اعمال بد کی جزائ۔ برائیوں کی سزا ہے۔ یومئذ اس روز۔ اس سے مراد…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–9

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9 :۔ یحملون (وہ اٹھاتے ہیں) وسعت (تو نے وسیع کیا ، تو نے پھلا دیا) ادخل (داخل کر دے) صلح (اس نے اصلاح کرلی ، درست کرلیا) الفوز (کامیابی) تشریح : آیت نمبر 7 تا 9 :۔ جو لوگ حق و صداقت کا راستہ اختیار کر کے اس پر چلتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی روشنی دکھانے کی جدوجہد کرتے ہیں تو دنیا اور اس کے مفادات سے چمٹے ہوئے باطل پرست شدید مخالفت کر کے ان کو معاشرہ میں حقیر بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ وہ حق و صداقت کے راستے پر چلنے والوں کو سر بلند فرماتا ہے۔ کائنات کی ساری قوتیں اور فرشتے ان کے لئے خیر خواہی کے جذبے سے دعائے رحمت و مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–13

(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جب ایسے لوگ دوزخ میں جھونک دیے جائیں گے تو دوزخ کے عذاب سے تنگ آکر یہ لوگ ان باتوں سے بہت بیزاری ظاہرکریں گے جن باتوں کو دنیا میں بڑی خوشی سے کرتے تھے ان لوگوں کا یہ حال دیکھ کر انکوقائل کرنے کے لیے اللہ کے فرشتے پکار پکار کر ان سے کہیں گے کہ بےوقت کی اس بےزاری سے اب کیا ہوتا ہے دنیا میں جب تم کو قرآن کے موافق فرمانبرداری کی نصیحت کی جاتی تھی اور تم سرکشی اسے اس کو نہیں مانتے تھے اللہ تعالیٰ تمہاری اس سرکشی سے بہت بےزار تھ ایہ عذاب اللہ کی اس بےزاری کا نتیجہ ہے اب یہ عذاب کس طرح ٹل نہیں سکتا، فرشتوں کی یہ جھڑکی سن کر یہ دوزخی لوگ اللہ سے عرض کریں گے یا اللہ تو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–14

دعوت توحید 1: قرآن حکیم بطور مدارو مرکز کے جس مسئلہ کا ذکر کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ تمام عالم انسانی احساس مجد کے اس اصول سے براہ راست واقفیت پیدا کرے اور یہ تے کرلے کہ زندگی کی تمام تگ ودو میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائیگا کہ ہم ساری کائنات سے افضل ہیں ۔ اور رب اکوان ہمارا خدا ہے ۔ اسی کی بادشاہت ہے ۔ اور وہی بالا اور برتر ذات ہے ۔ اس عقیدہ یقینا یہ نتیجہ ہوگا ۔ کہ نفس میں وہ تمام خود داری اور رفعت کے جذبات پیدا ہوجائیں گے ۔ جن پر مضبوط اور صالح زندگی کا انحصار ہے ۔ توہمات مٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے میں ایک روحانی قوت اور طاقت محسوس کریگا ۔ ایک نوع کی بالیدگی اور ارتقاء پائیگا ۔ اور پھر ہینت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اور آپ ان لوگوں کو ہر قسم کی تکالیف سے بچا لیجئے اور جس کو آپ نے اس دن برائیوں اور تکالیف سے بچا لیا تو بیشک آپ نے اس پر بہت مہربانی فرمائی اور جو کچھ مذکور ہوا یہی تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن دوامی باغوں کے آپ نے ان سے ایمان اور نیک اعمال پر وعدہ فرمایا ہے ان میں ان کو داخل فرمادیجئے اور نہ صرف ان کو بلکہ ان کی ماں باپ اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد کو بھی ان کے ہمراہ داخل کیجئے تاکہ ان کو اطمینان ہو۔ ومن صلح کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے جو اہل ایمان ہوں اگرچہ اعمال میں ان کے برابر نہ ہوں اور آپ چونکہ کمال قوت کے مالک ہیں اس لئے نہ آپ پر کوئی اعتراض کرنے والا اور نہ آپ کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ گو وہ جہنم سے خفیف ہو، جیسے میدان قیامت کی پریشانیاں۔ 3۔ یعنی مغفرت و حفاظت عذاب اکبر و اصغر سے اور دخول جنت بڑی چیز ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرشتوں کی اس دعا سے قیامت کے روز کی ہولناکی کا اندازہ لگائو 9۔ (سئیات) وہ بھولیں اور خطائیں جو انسان اپنے انسان ہونے کے باعث بےخیالی میں کر گزرتا ہے جن سے انبیاء کرام اور رسل عظام ہیں معصوم ہوتے ہیں باقی انسانوں میں سے بڑے بڑے کاملین سے بھی وہ ہوجاتی ہیں وہ سئیات کو کرنا اور سئیات کا ہوجانا دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے فرشتوں کی اس دعا نے قیامت کے روز شفاعت اور سفارش کا سارا عقدہ بھی حل کردیا کہ وہ انہی سئیات کے بارے میں ہوگی اور وہی کرسکے گا جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہوگی اور یقینا یہ سئیات محو بھی ہوں گی کیونکہ اب ان سئیات کے نتائج سے معافی مانگی جا رہی ہے نہ کہ سئیات کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–15

Commentary The word: دَرَجَات (darajat, translated above as 'stations' ) in: رَ‌فِيعُ الدَّرَ‌جَاتِ (He is High in stations - 40:15) has been taken by some commentators as meaning 'attributes.' If so, the sense of the expression would be that His attributes of perfection are most exalted. Ibn Kathir has relied on the words as they appear outwardly and has said that it refers to the most exalted 'arsh' (throne) for it comprehends all land masses and heavens and is located above them all like a roof as in Surah Al-Ma'arij: مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِ‌جِ ﴿3﴾ تَعْرُ‌جُ الْمَلَائِكَةُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 The word sayyi'at (evils) is used in three different meanings and all three arc implied here: (I) False beliefs, perverted morals and evil deeds; (2) consequences of deviation and evil deeds; and (3) calamities, disasters and suffering in this world, or in barzakh, or on the Day of Resurrection. The object of the angels' prayer is that they be saved from everything which may be evil for them. 13 "Evils on the Day of Resurrection" implies the dread and terror of the Day. deprivation of the shade and every other comfort, severity of accountability, the ignominy of exposing every secret of…

Read the full tafseer →