Explained with ayahs 7–9
اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے۔
عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایمان دار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 10
اس میں بھی وہی الحاح کی کیفیت پائی جاتی ہے جس کی طرف اوپر 8 میں ہم نے اشارہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ معاف کرنا اور دوزخ سے بچا لینا آپ سے آپ جنت میں داخل کرنے کو مستلزم ہے، اور پھر جس جنت کا اللہ نے خود مومنین سے وعدہ کیا ہے، بظاہر اسی کے لیے مومنین کے حق میں دعا کرنا غیر ضروری معلوم ہوتا ہے، لیکن اہل ایمان کے لیے فرشتوں کے دل میں جذبۂ خیر خواہی کا اتنا جوش ہے کہ وہ اپنی طرف سے ان کے حق میں کلمہ خیر کہتے ہی چلے جاتے ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ سب مہربانیاں ان کے ساتھ کرنے والا ہے۔
سورة الْمُؤْمِن 11
یعنی ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے ان کے ماں باپ اور بیویوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(آیت) اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ۔ حاملان عرش فرشتے اب چار ہیں اور قیامت کے روز آٹھ ہوجائیں گے اور عرش کے گرد کتنے فرشتے ہیں ان کی تعداد اللہ ہی جانتا ہے۔ بعض روایات میں ان کی صفوں کی تعداد بتلائی ہے جو لاکھوں تک پہنچتی ہے، ان کو کروبی کہا جاتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں۔ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ یہ سب مقرب فرشتے مومنین کے لئے خصوصاً جو گناہوں سے تائب اور شریعت کے متبع ہوجائیں ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ یا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام پر مامور فرمایا ہے یا ان کی فطرت و طبیعت ہی ایسی ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندوں کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ اسی لئے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فرشتوں کی حیثیت کی وضاحت
اب یہ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کو فرشتوں کی سفارش اور ان کی مدد پر بھروسہ ہے اور ان کے بل پر یہ پیغمبر کے انذار کی تکذیب کر رہے ہیں تو ان کا حال یہ لوگ کان کھول کر سن لیں کہ عام فرشتے تو درکنار، خدا کے جو خاص مقرب فرشتے ہیں یعنی حاملین عرش اور ان کے زمرہ سے تعلق رکھنے والے، وہ بھی برابر خدا کی خشیت سے لرزاں و ترساں اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔
”ویومنون بہ ‘ وہ الوہیت کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ خدا کے بندوں کی طرح اس پر ایمان رکھنے والے ہیں۔
ویستغفرون للذین اٰمنوا۔ اور ان لوگوں کے لئے جو خدا پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →8۔ 1 یعنی ان سب کو جنت میں جمع فرما دے تاکہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ٰ ہوں اس مضمون کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا ہے۔ ' وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہی کی پیروی ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ کی۔ ملا دیا ہم نے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو اور ہم نے ان کے عملوں میں سے کچھ کم نہیں کیا ' یعنی سب کو جنت میں اس طرح یکساں مرتبہ دے دیا کہ ادنیٰ کو بھی اعلٰی مقام عطا کردیا۔ یہ نہیں کیا کہ اعلٰی مقام میں کمی کر کے انہیں ادنیٰ مقام پر لے آئے، بلکہ اد نیٰ کو اٹھا کر اعلیٰ کردیا اور اس کے عمل کی کمی کو اپنے فضل و کرم سے پورا کردیا (الطور۔ 21)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
1: یعنی کافر لوگ اپنے کفر کے باوجود جس طرح خوش حال نظر آتے ہیں، اس سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ انہیں اپنے کیے کی سزا نہیں ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت نمبر 7 تا 9
ہم نہیں جانتے کہ عرش کی حقیقت کیا ہے ، نہ اس کی صورت متعین کرسکتے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کے اٹھانے والے اسے کس طرح اٹھاتے ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کا ماحول کیسا ہے اور اس کے اردگرد فرشتے کیسے ہیں ، لہٰذا ہمیں ان چیزوں کی ہئیت اور ماہیت معلوم کرنے کی فضول جدوجہد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اشیاء انسانی ادراک کے دائرہ سے ماوراء ہیں۔ نہ ہمیں ان غیبی امور کے پیچھے پڑتا چاہئے ، جن کے بارے میں مباحثے کرنے والوں کو کوئی علم نہیں دیا گیا۔ جو بات آیات سے سمجھ میں آتی ہے ، وہ صرف یہ ہے کہ اللہ کے بعض مقرب بندے ، رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں ، اللہ پر ایمان لاتے…
Read the full tafseer →5 یعنی اگرچہ بہشت ہر کسی کو اپنے عمل سے ملتی ہے (جیسا کہ یہاں بھی ومن صلح کی قید سے ظاہر ہے) بدون اپنے ایمان و صلاح کے بیوی، بیٹا اور ماں باپ کام نہیں آتے لیکن تیری حکمتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک کے سبب سے کتنوں کو ان کے عمل سے زیادہ اعلیٰ درجہ پر پہنچا دے۔ کما قال تعالٰی۔ (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ) 52 ۔ الطور :21) اور گہری نظر سے دیکھا جائے تو حقیقت میں وہ بھی ان ہی کے کسی عمل قلبی کا بدلہ ہو۔ مثلاً وہ آرزو رکھتے ہوں کہ ہم بھی اسی مرد صالح کی چال چلیں۔ یہ نیت اور نیکی…
Read the full tafseer →آیت 8 { رَبَّنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّہُمْ } ”پروردگار ! اور انہیں داخل فرما ناان رہنے والے باغات میں جن کا ُ تو نے ان سے وعدہ کیا ہے“
{ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِ ہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ”اور ان کو بھی جو نیک ہوں ان کے آباء و اَجداد ‘ ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے۔ تو ُ یقینا زبردست ہے ‘ کمالِ حکمت والا ہے۔“
Read the full tafseer →9 جہنم کے عذاب سے بچ جانا بھی بڑی کامیابی ہے :۔ اگرچہ دوزخ کے عذاب سے بچ جانا بھی بہت بڑی کامیابی ہے اور یہ خالصتاً اللہ کی مہربانی اور اس کے فضل سے ہوگا۔ تاہم اگر اللہ تعالیٰ دوزخ سے بچا کر اپنی جنت میں بھی داخل کردے تو یہ اللہ تعالیٰ کا دوسرا بڑا انعام اور اس کی مہربانی ہوگی۔ واضح رہے کہ دوزخ کے عذاب سے بچ جانے کا یہ لازمی نتیجہ نہیں کہ اسے جنت میں داخلہ بھی مل جائے۔ اصحاب اعراف دوزخ کے عذاب سے تو بچا لئے جائیں گے۔ لیکن وہ جنت اور دوزخ کے ایک درمیانی مقام اعراف میں ہوں گے اور وہ اس بات کے منتظر بیٹھے ہوں گے کہ کب ان پر اللہ کی مہربانی ہوتی ہے اور انہیں جنت میں داخلہ کی اجازت ملتی ہے۔
10 کم…
Read the full tafseer →8۔ (گو وہ ان کے درجہ و مرتبہ کے قائل نہ ہوں) (آیت) ” من صلح “۔ کا ٹکڑا قابل لحاظ ہے، ملائکہ کی دعائے علومراتب مومنین کے اعزہ کے حق میں مطلق صورت میں نہ ہوگی بلکہ صرف انہیں کے حق میں ہوگی جن میں جنت کی صلاحیت ہوگی، یعنی اہل ایمان کے۔ کافر تو وہی ہے جو اپنے لیے بہشتی ہونے کی صلاحیت ہی کو فناء کردیتا ہے اور یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ آخرت میں کسی کا نسب اس کے کام نہ آئے گا وہاں مراد ہے کہ عدم ایمان کی حالت میں (مدارک، جصاص، ابن العربی)
9۔ ہر درجہ تقرب ومغفرت کے عطا پر قادر ہے اور ہر ایک کو اس کے مناسب حال ہی درجہ عطا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حٰمٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے ؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کتاب قرآن اس اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی مخلوق سے واقف ہے تَنزِیلُ الکتابِ مبتداء ہے، مِنَ اللہِ خبر، مومنوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ان کی توبہ کو قبول کرنے والا التوب مصدر ہے، کافروں پر سخت عذاب والا ہے شدیدٌ بمعنی مُشدِّدٌ ہے، بڑے وسیع انعام والا ہے، وہ ان صفات کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے، لہٰذا ان صفات (ثلٰثہ) مشتقات کی اضافت تعریف کے لئے ہوگی، جیسا کہ آخری صفت (ذی الطول) میں (ہے) جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی…
Read the full tafseer →ربنا وادخلھم جنت عدن التی وعدتھم اے ہمارے رب ! اور دوامی جنتوں میں ان کو داخل فرما ‘ جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔
وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ یعنی وہ دل سے مانتے ہیں کہ اللہ ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ رہے گا ‘ تمام چیزوں کا خالق ہے ‘ ایک ہے ‘ بےنیاز ہے ‘ نہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا ‘ اس کا کوئی ہمسر نہیں۔
ا اللہ نے ملائکہ کی فضیلت اور عظمت کے اظہار کیلئے ان کے مؤمن ہونے کی صراحت کی اور اس طرف اشارہ کیا کہ بندگی ‘ عاجزی اور ایمان بالغیب کے لحاظ سے فرشتے بھی دوسری مخلوق کی طرح ہیں ‘ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ کی کوئی اولاد نہیں ‘ اسلئے کافروں کا یہ عقیدہ صحیح نہیں کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اس سے…
Read the full tafseer →اور آپ ان کو انبیاء کرام اور صالحین کے گروہ میں داخل فرمایے جس کا آپ نے ان سے کتاب میں وعدہ فرمایا اور ان کے ماں باپ میں سے جو موحد ہوں بیشک آپ اپنی سلطنت و بادشاہت میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) ربنا و ادخلھم جنت عدن التی وعدتھم : یعنی گناہوں کی مغفرت اور جہنم سے نجات ہی کافی نہیں، بلکہ انہیں دائمی اقامت والی جنتوں میں داخل فرما، جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (194)۔
(2) ومن صلح من ابآئھم وزواجھم وذریتھم : اس آیت میں مذکور وعدے کی تفصیل کیلئے دیکھیے سورة رعد (23) اور سورة طور (21)
(3) انک انت العزیز الحکیم : یقینا تو ہی سب پر غالب ہے، جسے تو بخشنا چاہے بخش سکتا ہے، کوئی بھی تیرا ہاتھ پکڑ نہیں سکتا اور تو کمال حکمت والا ہے، اپنی حکمت کے تحت ہی تو نے ایمان والوں کو معاف کرنے اور ان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ان کے والدین اور بیوی بچوں کو جنت میں داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
( کذبت قبلھم قوم نوح۔۔۔۔۔ )
کذبت قبلھم قوم نوح جماعت کے مونث ہونے کے اعتبار سے فعل مونث ذکر کیا یعنی کذبت الرسل۔ والا حزاب من بعدھم یعنی وہ قومیں جنہوں نے انبیاء کو جھٹلانے میں اجتماعیت کو اپنایا جس طرح قوم عاد اور قوم شمود اور ان کے بعد جو قومیں ہوئیں۔
لیا خذوہٗ یعنی نبی کو محسوس کردیں اور اسے اذیتیں دیں۔ قتادہ اور سدی نے کہا : وہ اسے قتل کردیں (1) اخذ کا لفظ ہلاک کرنے کے معنی میں آتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” ثم اخذ تھم فکیف کان نکیر۔ “ ( الحج) عرب اسیر کو اخیذ کہتے ہیں کیونکہ وہ قتل کے لیے ماسور ہوتا ہے۔ قطرب نے ایک شاعر کا یہ شعر پڑھا :
فاما تاخذونی تقتلون فکم من اخذ یھوی خلودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فرشتے اہل ایمان کیلئے توبہ کرتے ہیں
1:۔ ابویعلی وابن مردویہ (رح) نے (صحیح سند کے ساتھ) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اجازت دی گئی کہ میں اس فرشتے کے بارے میں بیان کروں کہ اس کی ٹانگیں ساتویں زمین سے بھی نکل گئی ہیں۔ (یعنی نیچے چلی گئی ہیں اور عرش اس کے کندھوں پر ہے اور وہ کہتا ہے تیری ذات پاک ہے تو جہاں ہے اور تو کہاں ہوگا۔
2:۔ ابوداؤد ابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں صحیح سند کے ساتھ جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے اجازت دی گئی کہ میں بیان کروں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایسے فرشتے…
Read the full tafseer →رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] وَاَدْخِلْهُمْ [ اور تو داخل کر ان کو ] جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ [ عدن کے ان باغات میں جن کا ] وَعَدْتَّهُمْ [ تو نے وعدہ کیا ان سے ] وَمَنْ [ اور اس کو ( بھی داخل کر ) جو ] صَلَحَ [ نیک ہوا ] مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ [ ان کے آباء اجداد میں سے ] وَاَزْوَاجِهِمْ [ اور ان کی بیویوں میں سے ] وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ [ اور ان کی اولادوں میں سے ] اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ [ بیشک تو ہی بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [ حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
حاملین عرش کا مومنین کے لیے دعا کرنا، اہل ایمان اور ان کی ازواج اور زریات کے لیے جنت میں داخل ہونے کا سوال
اوپر اہل کفر کی سزا کا بیان ہوا، ان آیات میں اہل ایمان کی فضیلت بیان فرمائی اور یہ فرمایا کہ اہل ایمان کے لیے حاملین عرش اور وہ فرشتے جو ان کے آس پاس ہیں دعاء کرتے ہیں یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی تحمید و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائے ہیں اور دنیا میں جو اہل ایمان ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں اور یوں دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ کی رحمت اور آپ کا علم ہر چیز کو شامل ہے لہٰذا آپ ان لوگوں کو بخش دیجیے جنہوں نے شرک و کفر سے توبہ کی اور آپ کے راستہ پر چلتے رہے ان کو آپ…
Read the full tafseer →11:۔ ” ربنا وادخلہم الخ “ ربنا کا اعادہ بعد عہد کی وجہ سے ہے۔ اے ہمارے پروردگار، ان کو ان جنات عدن میں داخل فرما جن کا تو نے ایمان اور عمل صالح پر ان سے وعدہ فرما رکھا ہے اور ان کے ساتھ ان کے ماں باپ، ان کی بیویوں اور ان کی آل اولاد کو بھی جنت میں داخل فرما جنہوں نے ضد نہیں کی اور ان کی پیروی میں ایمان قبول کیا اور نیک عمل بجا لائے۔ بیشک تو غالب ہے جو چاہے کرسکتا ہے، حکمت والا ہے، کسی کو متبوع اور کسی کو تابع بنا کر جنت میں داخل کرسکتا ہے۔ ” ومن صلح الخ “ بیٹا ایمان لے آیا، ماں باپ نے ضد نہ کی اور بالتبع بیٹے کی وجہ سے ایمان لے آئے۔ کا وند کی تبعیت میں بیوی یا ماں باپ کی تبعیت میں اولاد ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ربط آیات :
گذشتہ درس میں قرآن کریم کی حقانیت وصداقت اور اس کا وحی الہی کے ذریعہ منزل من اللہ ہونا بیان ہوا پھر اللہ تعالیٰ کی آٹھ صفات کا ذکر ہوا اور انکار کرنے والوں کا شکوہ بیان ہوا ، یہ کافر لوگ جھگڑا کرتے ہیں جو کہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ ان سے پہلے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی پاداش میں ہلاک کیا ، باطل کے ذریعے حق کو مغلوب کرنے والوں کو اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام یاد کرلینا چاہئے ، فرمایا تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے کہ کافر لوگ ضرور دوزخ میں جائیں گے ۔
ّ (حاملین عرش فرشتے)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا انجام بیان فرمایا ہے مگر اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت و حکمت اور…
Read the full tafseer →رَبَّنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّہُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّيّٰــتِہِمْ 0 ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 8ۙ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ترکیب : الذین مبتدء و من مرفوع عطفا علی الذین یسبحون خبرہ یؤمنون، ویستغفرون معطوف علیہ ربنا وسعت مصدرہ محذوف ای یقولون والجملۃ حال رحمۃ و علما تمیز والاصل وسع کل شیء علمک و من صلح معطوف علی الضمیر فی ادخلہم ای و ادخل من صلح و قیل معطوف علی الضمیر فی وعدتہم فھی فی محل النصب من آباء ھم بیان لمن صلح و ازواجہم و ذریاتھم علی الجمع عطف علیٰ آباھم۔
تفسیر : پہلے بیان ہوا تھا کہ ایسی کتاب میں (جو ایسے زبردست علیم کی نازل کی ہوئی ہے) کافر ناحق کو جھگڑے مچاتے ہیں تاکہ اس کو پست کریں اور اس آفتاب کی شعاعوں کو روکیں، سو یہ ان کی رذالت و دناء تِ جبلی کا مقتضٰی ہے، اب یہاں بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ملائکہ…
Read the full tafseer →رَبّنَا وَاَدْخِلْھُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّہُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَـآئِہِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیّٰـتِـھِمْ ط اِنَّـکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (المؤمن : 8)
(اے ہمارے رب ! اور داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی ان جنتوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے، اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں، بیشک تو عزیز ہے اور حکیم ہے۔ )
فرشتوں کے استغفار کی مزید تفصیل
یہ فرشتوں کے استغفار کی مزید تفصیل ہے کہ وہ ان کے لیے صرف جہنم سے بچانے کی دعا نہیں کرتے بلکہ ان جنتوں میں داخل کرنے کی دعا کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے وعدہ فرمایا تھا۔ اسی طرح وہ ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کے حکم سے ملائکہ کفار اور مشرکین کو سزا دیتے ہیں اور مومنوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔
پہلی اقوام کا اپنے رسولوں کے ساتھ سلوک اور حق کے معاملہ میں ان کا رویہ بتلا کر رسول محترم ﷺ کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ اے رسول ﷺ ! مومنوں کو بتلائیں کہ انہیں دل چھوٹا کرنے اور ہمت نہیں ہارنا چاہیے۔ بیشک کفار اور مشرکین ان کی جان کے درپے اور حق کو دبانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ لیکن انہیں خوش ہونا چاہیے کہ ان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے ملائکہ صبح و شام دعائیں کرتے ہیں جو اپنے رب کا عرش تھامے ہوئے اور اپنے رب کی حمد میں رطب اللسان رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تو…
Read the full tafseer →تیسری دعا : رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِۨ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ ، اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کی بہشتوں میں جن کا آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے داخل فرما دیجیے۔ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕـهِمْ ، اور جو لائق ہوں ان کے ماں باپ میں سے، من یہ موضع نصب میں واقع ہے۔ کیونکہ اس کا عطف ادخلہم کے ھم پر ہے، یا وعدتہم کے ہم پر ہے اور معنی یہ ہوگا تو نے ان سے وعدہ کیا اور ان سے وعدہ کیا جو نیک ہوئے ان کے ماں باپ میں سے۔ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ۭ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ، اور ان کی بیویوں اور اولاد میں سے جو لائق ہوں ان کو بھی داخل کر بیشک آپ زبردس حکمت ولاے ہیں،…
Read the full tafseer →تفسیر 7۔ ، الذین یحملون العرش ومن حولہ، عرش کو اٹھا نے والے اور اس کا چکر لگانے والے کروبین ہیں اور یہ فرشتوں کے سردار ہیں۔
حاملین عرش اور دوسرے ملائکہ کے بارے میں فیصلہ
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عرش کو اٹھا نے والے فرشتوں کے ٹخنوں سے پاؤں کے نچلے حصے تک سو سال کی مسافت ہے اور روایت کیا گیا ہے کہ ان کے پاؤں زمین کی گہرائی میں ہیں اور آسمان ان کے نصف بدن تک آتے ہیں اور وہ یہ تسبیح کرتے ہیں، سبحان ذی العزۃ والجبروت سبحان ذی الملک والملکوت سبحان الحی الذی لایموت سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح، اور میسرۃ بن عبدربہ فرماتے ہیں کہ ان کے پاؤں نچلی زمین میں اور ان کے سرعرش کے نیچے ہیں اور وہ خشوع کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
4۔ 9۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی 3 ؎ حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ حارث بن قیس سہیمی وغیرہ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے آکر جھگڑا کیا کرتے تھے اور قرآن شریف کے باب میں طرح طرح کی بےادبی کے لفظ منہ سے نکالا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام سے مخالفت کر کے ابھی تک جو کسی وبال اور عذاب الٰہی میں نہیں پکڑے گئے اور چین سے شہر بشہر تندرستی اور آرام سے گزر کر رہے ہیں اے نبی اللہ کے ان لوگوں کے اس حال پر کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے ان کا کفر تو اللہ کے نزدیک ثابت ہوچکا ہے مگر اللہ کی درگاہ میں ہر کام کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
آیت 7
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے کامل لطف و کرم اور ان اسباب کا ذکر کرتا ہے جو اس نے ان کی سعادت کے لئے مقرر فرمائے ہیں۔ یہ اسباب ان کی قدرت سے باہر تھے، مثلاً ان کے لئے ملائکہ مقربین کا استغفار کرنا اور ان کے دین و آخرت کی بھلائی کے لئے دعا کرنا۔ اس ضمن میں عرش الٰہی اٹھانے والے فرشتوں اور جو اس کے اردگرد ہیں ان کے شرف کی خبر ہے۔ اسی طرح اپنے رب کیق ریب رہنے والے فرشتوں، ان کی عبادت کی کثرت، اللہ کے بندوں کے لئے ان کی خیر خواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، چناچہ فرمایا : (الذین یحملون العرش) ” جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ “ یعنی رحمٰن عا عرش،…
Read the full tafseer →18 برائیوں کے نتائج سے بچانے کی دعا و درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتے اپنی دعا و درخواست میں مزید عرض کرتے ہیں " اور بچا دے تو انکو اے ہمارے مالک ! برائیوں سے "۔ یعنی برائیوں کے نتائج سے جس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک تو اس طرح کہ ان کو ان برائیوں کے ارتکاب سے بچا تاکہ یہ ان کے برے انجام اور نتیجہ سے بچ سکیں کہ برائی کا نتیجہ بہرحال برا ہے۔ نیز اگر ان سے ایسی برائیوں کا صدور و ارتکاب بشری کمزوریوں کی بنا پر ہوجائے تو تو ان کو معاف فرما دے۔ تو " سّیآت " کا اطلاق برائیوں پر بھی ہوتا ہے اور برائیوں کے مآل و نتائج پر بھی۔ اس لئے یہاں پر یہ دونوں مفہوم مراد ہوسکتے ہیں۔ (ابن کثیر، روح،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–22
کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت
تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تمت سورة زمر ۔ الحمد للہ۔
سورۃ المومن
رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 9:
اسرار و معارف :
اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے کتاب نازل فرما کر ہدایت کی راہ دکھائی کہ وہ بہت طاقت وقدرت رکھنے والا ہے اور ہر بات کو جانتا بھی ہے اسے انسانوں سے کسی مدد کی جرورت نہیں بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر لوگ اس کی کتاب پر ایمان لا کر اس کے احکام کی پیروی کریں تو وہ ان کے گناہ معاف فرما دے اور ان کی توبہ قبول فرمائے بصورت دیگر اس کے عذاب بھی بہت سخت ہیں اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے کوئی اس کے عذاب سے بھاگ نہیں سکتا اور اس کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس کی عبادت کی جائے نیز سب کو ہر حال میں لوٹ کر اسی کی بارگاہ…
Read the full tafseer →ف 6 شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” اگرچہ بہشت ہر کسی کو ملتی ہے۔ اپنے عمل سے جو رو، بیٹا اور ماں باپ کام نہیں آتا لیکن تیری حکمتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک کے سبب سے کتنوں کو درجہ پر پہنچا دے۔ اپنے عمل سے زیادہ اور شاید بدلہ ہو اپنے ہی عمل کا وہ عمل یہ کہ آرزو رکھتے ہوں کہ ہم بھی اس کی چال چلیں۔ یہ نیت قبول پڑجاوے۔ ( موضح) سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ اہل جنت جب جنت میں چلے جائیں گے تو اپنے عزیزوں کو یاد کرینگے۔ ان سے کہا جائے گا کہ ان کے اعمال تمہاری طرح کے نہ تھے ( اس لئے انہیں کم درجہ میں رکھا گیا ہے۔ ) وہ کہیں گے کہ ہم نے اپنے لئے اور ان کے لئے عمل کئے تھے تب انکے عزیزوں کو بھی انکے ساتھ کردیا…
Read the full tafseer →(40:8) وادخلہم : ادخل فعل امر حاضر واحد مذکر۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر تو ان کو داخل کر۔ ادخال (افعال) مصدر۔
جنت عدن بالتی وعدتھم۔ اگر عدن علم ہے جیسا کہ بعض علماء کا خیال ہے (اور وہ اس آیۃ کو دلیل میں پیش کرتے ہیں کیونکہ یہاں معرفہ کو اس کی صفت لایا گیا ہے) اس صورت میں جنت عدن ترکیب اضافی ہے بمعنی عدن کے باغات۔
اور اگر عدن کو عدن یعدن (باب ضرب) یا عدن یعدن (باب نصر) کا مصدر لیا جاوے تو ترکیب توصیفی ہے جنت موصوف اور عدن صفت یعنی ایسے باغات جہاں مستقل طور پر رہنا اور بسنا ہو۔
ترجمہ ہوگا :۔ (اے پروردگار ان کو) جنت عدن (میں داخل فرما) جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔
ومن صلح۔ واؤ عاطفہ ہے۔ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9 :۔ یحملون (وہ اٹھاتے ہیں) وسعت (تو نے وسیع کیا ، تو نے پھلا دیا) ادخل (داخل کر دے) صلح (اس نے اصلاح کرلی ، درست کرلیا) الفوز (کامیابی)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 9 :۔ جو لوگ حق و صداقت کا راستہ اختیار کر کے اس پر چلتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی روشنی دکھانے کی جدوجہد کرتے ہیں تو دنیا اور اس کے مفادات سے چمٹے ہوئے باطل پرست شدید مخالفت کر کے ان کو معاشرہ میں حقیر بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ وہ حق و صداقت کے راستے پر چلنے والوں کو سر بلند فرماتا ہے۔ کائنات کی ساری قوتیں اور فرشتے ان کے لئے خیر خواہی کے جذبے سے دعائے رحمت و مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ثواب و عذاب کا ذکر۔
(ف 1) اوپر کی آیات میں مجرمین ومنکرین کا حال زبوں بیان ہوا تھا یہاں ان کے مقابل مومنین تابعین کا فضل وشرف بیان کرتا ہے کہ عرش الٰہی کو اٹھانے ولے اور اس کے گرد طواف کرنے والے بیشمار فرشتے جن کی غذا صرف حق تعالیٰ کی تسبیح وتحمید ہے اور جو مقربین بارگاہ ہونے کی وجہ سے اعلی درجہ کا ایمان یقین رکھتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے آگے مسلمانوں کے لیے استغفار کرتے ہیں یا اللہ دنیا میں جو لوگ مسلمان ہیں ان کے گناہ معاف فرما کر انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے کیونکہ تیری رحمت بہت بڑی ہے کہ اپنی رحمت سے تو جس کو چاہے دوزخ کے عذاب سے بچاسکتا ہے ، اور تیرا علم ایساوسیع ہے کہ نیکوں اور بدوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[2] یہ مضمون سورة بقرہ آیت 82 صفحہ 41 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
دعوت توحید
1: قرآن حکیم بطور مدارو مرکز کے جس مسئلہ کا ذکر کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ تمام عالم انسانی احساس مجد کے اس اصول سے براہ راست واقفیت پیدا کرے اور یہ تے کرلے کہ زندگی کی تمام تگ ودو میں اس اصول کو ملحوظ رکھا جائیگا کہ ہم ساری کائنات سے افضل ہیں ۔ اور رب اکوان ہمارا خدا ہے ۔ اسی کی بادشاہت ہے ۔ اور وہی بالا اور برتر ذات ہے ۔ اس عقیدہ یقینا یہ نتیجہ ہوگا ۔ کہ نفس میں وہ تمام خود داری اور رفعت کے جذبات پیدا ہوجائیں گے ۔ جن پر مضبوط اور صالح زندگی کا انحصار ہے ۔ توہمات مٹ جائیں گے اور ہر شخص اپنے میں ایک روحانی قوت اور طاقت محسوس کریگا ۔ ایک نوع کی بالیدگی اور ارتقاء پائیگا ۔ اور پھر ہینت…
Read the full tafseer →(8) اے ہمارے پروردگار آپ ان کو ان دائمی باغوں میں داخل کردیجئے جن کا آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے ماں باپ اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے بھی جو لوگ جنت کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کو بھی ان کے ساتھ جنت میں داخل کردیجئے بلاشبہ آپ کمال قوت اور کمال حکمت کے مالک ہیں۔
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی آپ مغفرت پر قادر ہیں اور ہر ایک کے مناسب اس کو درجہ عطا فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →فرشتون کی دعا مومنوں کے حق میں جاری ہے وہ دعا کے ہر پہلو سے آگاہ ہیں
8۔ فرشتوں کی دعامومنین کے حق میں ابھی جاری ہے اور اس سے ہم کو یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مومنوں کے حق میں مومنوں کی دعائیں کیا اثر رکھتی ہیں بشرطیکہ یہ اس یقین و ایمان کے ساتھ ہوں جن میں دکھاوا اور ظاہر داری نہ ہو بلکہ حقیقت ہو جو مخفی طریقہ سے مانگی جاتی ہوں اور ہر مومن کے دل کی آواز و آرزو ہوں وہ یقینا اثر رکھتی ہیں اور ان کا اثر مانگنے والے کے اپنے حق میں بھی بہت اچھا رہتا ہے۔ پھر یہی نہیں کہ وہ فقط صرف ان مومنوں ہی کی حق میں دعائیں کریں بلکہ ان کی نیک اولاد اور ازدواج کے لیے بھی دعا گو ہیں اور ہر طرح کی خیر کے طالب ہیں جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
Commentary
The word: دَرَجَات (darajat, translated above as 'stations' ) in: رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ (He is High in stations - 40:15) has been taken by some commentators as meaning 'attributes.' If so, the sense of the expression would be that His attributes of perfection are most exalted. Ibn Kathir has relied on the words as they appear outwardly and has said that it refers to the most exalted 'arsh' (throne) for it comprehends all land masses and heavens and is located above them all like a roof as in Surah Al-Ma'arij: مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ ﴿3﴾ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ…
Read the full tafseer →10 Here again there is the same state of solicitude as referred to in E.N. H above. Obviously. forgiving and saving from Hell by itself amounts to admitting to Paradise. And then soliciting Allah for granting the believers the same Paradise which He Himself has promised theta, seems to be unnecessary, but the angels are so earnest in their desire of well-being for the believers that they go on repeating their good wishes for them although they know that Allah will certainly bless them with these favours in the Hereafter.
11 That is. "Join with them their parents and their wives and children…
Read the full tafseer →