Explained with ayahs 7–9
اللہ کی بزرگی اور پاکی بیان کرنے پر مامور فرشتے۔
عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے آس پاس کے تمام بہترین بزرگ فرشتے ایک طرف تو اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں تمام عیوب اور کل کمیوں اور برائیوں سے اسے دور بتاتے ہیں، دوسری جانب اسے تمام ستائشوں اور تعریفوں کے قابل مان کر اس کی حمد بجا لاتے ہیں۔ غرض جو اللہ میں نہیں اس کا انکار کرتے ہیں اور جو صفتیں اس میں ہیں انہیں ثابت کرتے ہیں۔ اس پر ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اس سے پستی اور عاجزی ظاہر کرتے ہیں اور کل ایمان دار مردوں عورتوں کیلئے استغفار کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ زمین والوں کا ایمان اللہ تعالیٰ پر اسے دیکھے بغیر تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب…
Read the full tafseer →سورة الْمُؤْمِن 6
یہ بات نبی ﷺ کے ساتھیوں کی تسلی کے لیے ارشاد ہوئی ہے۔ وہ اس وقت کفار مکہ کی زبان درازیاں اور چیرہ دستیاں، اور ان کے مقابلہ میں اپنی بےبسی دیکھ دیکھ کر سخت دل شکستہ ہو رہے تھے۔ اس پر فرمایا گیا کہ ان گھٹیا اور رذیل لوگوں کی باتوں پر تم رنجیدہ کیوں ہوتے ہو، تمہارا مرتبہ تو وہ ہے کہ عرش الہیٰ کے حامل فرشتے، اور عرش کے گرد و پیش حاضر رہنے والے ملائکہ تک تمہارے حامی ہیں اور تمہارے حق میں اللہ تعالیٰ کے حضور سفارشیں کر رہے ہیں۔ عام فرشتوں کے بجائے عرش الٰہی کے حامل اور اس کے گردو پیش رہنے والے فرشتوں کا ذکر یہ تصور دلانے کے لیے کیا گیا ہے کہ سلطنت خداوندی کے عام اہل کار تو درکنار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(آیت) اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ۔ حاملان عرش فرشتے اب چار ہیں اور قیامت کے روز آٹھ ہوجائیں گے اور عرش کے گرد کتنے فرشتے ہیں ان کی تعداد اللہ ہی جانتا ہے۔ بعض روایات میں ان کی صفوں کی تعداد بتلائی ہے جو لاکھوں تک پہنچتی ہے، ان کو کروبی کہا جاتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں۔ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ یہ سب مقرب فرشتے مومنین کے لئے خصوصاً جو گناہوں سے تائب اور شریعت کے متبع ہوجائیں ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔ یا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام پر مامور فرمایا ہے یا ان کی فطرت و طبیعت ہی ایسی ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندوں کے لئے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ اسی لئے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فرشتوں کی حیثیت کی وضاحت
اب یہ فرمایا کہ اگر ان لوگوں کو فرشتوں کی سفارش اور ان کی مدد پر بھروسہ ہے اور ان کے بل پر یہ پیغمبر کے انذار کی تکذیب کر رہے ہیں تو ان کا حال یہ لوگ کان کھول کر سن لیں کہ عام فرشتے تو درکنار، خدا کے جو خاص مقرب فرشتے ہیں یعنی حاملین عرش اور ان کے زمرہ سے تعلق رکھنے والے، وہ بھی برابر خدا کی خشیت سے لرزاں و ترساں اور اس کی حمد و تسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔
”ویومنون بہ ‘ وہ الوہیت کے کسی زعم میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ خدا کے بندوں کی طرح اس پر ایمان رکھنے والے ہیں۔
ویستغفرون للذین اٰمنوا۔ اور ان لوگوں کے لئے جو خدا پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اللہ…
Read the full tafseer →7۔ 1 اس میں ملائکہ مقربین کے ایک خاص گروہ کا تذکرہ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کی وضاحت ہے یہ گروہ ہے ان فرشتوں کا جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو عرش کے ارد گرد ہیں ان کا ایک کام یہ ہے کہ یہ اللہ کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں یعنی نقائص سے اس کی تنزیہ کمالات اور خوبیوں کا اس کیلیے اثبات اور اس کے سامنے عجز وتذلل یعنی ایمان کا اظہار کرتے ہیں دوسرا کام ان کا یہ ہے کہ یہ اہل ایمان کیلیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں کہا جاتا ہے کہ عرش کو اٹھانے والے فرشتے چار ہیں مگر قیامت والے دن ان کی تعداد آٹھ ہوگی۔ ابن کثیر
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
1: یعنی کافر لوگ اپنے کفر کے باوجود جس طرح خوش حال نظر آتے ہیں، اس سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ انہیں اپنے کیے کی سزا نہیں ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
آیت نمبر 7 تا 9
ہم نہیں جانتے کہ عرش کی حقیقت کیا ہے ، نہ اس کی صورت متعین کرسکتے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کے اٹھانے والے اسے کس طرح اٹھاتے ہیں۔ یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کا ماحول کیسا ہے اور اس کے اردگرد فرشتے کیسے ہیں ، لہٰذا ہمیں ان چیزوں کی ہئیت اور ماہیت معلوم کرنے کی فضول جدوجہد نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اشیاء انسانی ادراک کے دائرہ سے ماوراء ہیں۔ نہ ہمیں ان غیبی امور کے پیچھے پڑتا چاہئے ، جن کے بارے میں مباحثے کرنے والوں کو کوئی علم نہیں دیا گیا۔ جو بات آیات سے سمجھ میں آتی ہے ، وہ صرف یہ ہے کہ اللہ کے بعض مقرب بندے ، رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں ، اللہ پر ایمان لاتے…
Read the full tafseer →3 پہلی آیات میں مجرمین و منکرین کا حال زبوں بیان ہوا تھا۔ یہاں ان کے مقابل مومنین و تائبین کا فضل و شرف بیان کرتے ہیں۔ یعنی عرش عظیم کو اٹھانے والے اور اس کے گرد طواف کرنے والے بیشمار فرشتے جن کی غذا صرف حق تعالیٰ کی تسبیح وتحمید ہے اور جو مقربین بارگاہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ درجہ کا ایمان و یقین رکھے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے آگے مومنین کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ سبحان اللہ ! اس عزت افزائی اور شرف و احترام کا کیا ٹھکانا ہے کہ فرش خاک پر رہنے والے مومنین سے جو خطائیں اور لغزشیں ہوگئیں ملائکہ بارگاہ عالی میں اس کے لیے غائبانہ معافی چاہیں۔ اور جب ان کی شان میں (وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ ) 16 ۔…
Read the full tafseer →آیت 7 { اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ } ”وہ فرشتے جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو ان کے ارد گرد ہیں“
اس آیت کو پڑھتے ہوئے سورة الزمر کی آخری آیت کو ذہن میں رکھیے جس میں میدانِ حشر میں عدالت ِالٰہی کا اختتامی منظر دکھایا گیا تھا : { وَتَرَی الْمَلٰٓئِکَۃَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْج } ”اور تم دیکھو گے فرشتوں کو کہ وہ گھیرے ہوئے ہوں گے عرش کو اور اپنے ربّ کی تسبیح بیان کر رہے ہوں گے حمد کے ساتھ“۔ چناچہ یہاں ان حاملین عرش اور ان کے ساتھی ملائکہ کا ذکر دوبارہ ہو رہا ہے کہ :
{ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ }…
Read the full tafseer →6 حاملین عرش فرشتوں کی مومنوں کے حق میں دعا :۔ ان دندنانے والے کفار مکہ کے مقابلہ میں دوسری طرف مسلمان تھے جن پر کافروں نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا اور اسی وجہ سے کچھ مسلمان مکہ کو خیر باد کہہ کر حبشہ کی طرف ہجرت کرکے چلے گئے تھے۔ ان کی تسلی اور دلجوئی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم پریشان کیوں ہوتے ہو۔ تمہارے حق میں تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور ان کے آس پاس رہنے والے سب کے سب دست بددعا رہتے ہیں۔ اور اللہ کی حمد و ثنا جو ان کا وظیفہ اور روحانی خوراک ہے کے ساتھ ہی تمہارے لئے دعائیں کرتے ہیں اور چونکہ فرشتے وہی کچھ کرتے ہیں جو اللہ کی طرف سے انہیں حکم ملتا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ…
Read the full tafseer →6۔ (سو ان کا ایمان تو تجھ پر بدرجہ اولی روشن ہوگا، اور تو انہیں اپنی رحمت سے بدرجہ اولی سرفراز کرے گا) (آیت) ” یستغفرون للذین امنوا “۔ اللہ اللہ ! ان مومنین کے مرتبہ قرب کا کیا ٹھکانا جس کے حق میں ملائکہ، مقربین استغفار کرتے رہتے ہیں، محققین نے یہیں سے یہ بھی نکالا ہے کہ مومنین کے حق میں دعائے خیر شعار ملائکہ اور موجب قرب و قبول ہے۔
وفیہ اشارۃ الی شرف الایمان وجلالۃ قدر ال مومنین والی انہ ینبغی لل مومنین من بنی ادم ان یستغفر بعضھم لبعض (روح)
اس میں اشارہ ہے ایمان اور اہل ایمان کی عظمت و جلالت کی طرف اور اس طرف بھی کی مومنین کو ایک دوسرے کے حق میں دعائے مغفرت کرتے رہنا چاہیے :۔
(آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حٰمٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے ؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کتاب قرآن اس اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی مخلوق سے واقف ہے تَنزِیلُ الکتابِ مبتداء ہے، مِنَ اللہِ خبر، مومنوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ان کی توبہ کو قبول کرنے والا التوب مصدر ہے، کافروں پر سخت عذاب والا ہے شدیدٌ بمعنی مُشدِّدٌ ہے، بڑے وسیع انعام والا ہے، وہ ان صفات کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے، لہٰذا ان صفات (ثلٰثہ) مشتقات کی اضافت تعریف کے لئے ہوگی، جیسا کہ آخری صفت (ذی الطول) میں (ہے) جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی…
Read the full tafseer →الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمد ربھم اور جو (فرشتے) عرش خداوندی کو اٹھائے
ہوئے ہیں اور جو اس کے گرداگرد ہیں ‘ وہ اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہتے ہیں۔
مَنْ حَوْلَہٗ یعنی عرش کا طواف کرنے والے ‘ حاملین عرش اور طوافین عرش ‘ تمام ملائکہ کے سردار ہیں ‘ انہی کو کروبی کہا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حاملین عرش کے ٹخنوں سے زیر قدم (یعنی تلوے) تک پانچ سو سال کی مسافت (کے بقدر فاصلہ) ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ ان کے قدم زمینوں کی انتہائی حد تک قائم ہیں اور آسمان ان کی کمر تک آتے ہیں (یعنی ان کا نصف اعلیٰ آسمان سے پار ہے) اور وہ (ہر وقت) کہتے ہیں : سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّۃِ…
Read the full tafseer →جو فرشتے عرش الہی کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ اور ان فرشتوں کی دس جماعتیں ہیں اور جو فرشتے اس کے اردگرد ہیں وہ اپنے پروردگار کے حکم سے اس کی تسبیح و تمہید کرتے رہتے ہیں اور وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے اس طرح دعا و استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب آپ کے انعامات ہر ایک چیز کیا احاطہ کیے ہوئے ہیں اور آپ ہر ایک چیز کو جانتے ہیں سو ان لوگوں کو بخش دیجیے جنہوں نے شرک سے توبہ کرلی اور دین اسلام پر چلتے ہیں اور ان سے جہنم کے عذاب کو دور کردیجیے۔
Read the full tafseer →الذین یحملون العرش ومن حولہ …پچھلی آیات میں کفار کا انجام بیان فرمایا، جو اللہ کی آیات ٹھکرانے کے لئے فضول جھگڑا اور کج بحثی کرتے ہیں، اب ان کے مقابلے میں ان لوگوں کا حال بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس پر ایمان لاتے اور کج بحثی سے اجتناب کرتے ہیں۔ ان کے حق میں وہ بلند مرتبہ فرشتے استغفار اور دعائیں کرتے ہیں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو عرش کے اردگرد ہیں، وہ سب ”سبحان اللہ وبحمدہ“ اور اس سے ملتے جلتے کلمات کے ساتھ اپنے رب کی حمد اور اس کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں، یعنی اس پاک ذات کی تعریف کرتے ہیں کہ وہ تمام صفات کمال کا مالک ہے اور ہر عیب اور کمی سے پاک ہے اور اس پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
( کذبت قبلھم قوم نوح۔۔۔۔۔ )
کذبت قبلھم قوم نوح جماعت کے مونث ہونے کے اعتبار سے فعل مونث ذکر کیا یعنی کذبت الرسل۔ والا حزاب من بعدھم یعنی وہ قومیں جنہوں نے انبیاء کو جھٹلانے میں اجتماعیت کو اپنایا جس طرح قوم عاد اور قوم شمود اور ان کے بعد جو قومیں ہوئیں۔
لیا خذوہٗ یعنی نبی کو محسوس کردیں اور اسے اذیتیں دیں۔ قتادہ اور سدی نے کہا : وہ اسے قتل کردیں (1) اخذ کا لفظ ہلاک کرنے کے معنی میں آتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” ثم اخذ تھم فکیف کان نکیر۔ “ ( الحج) عرب اسیر کو اخیذ کہتے ہیں کیونکہ وہ قتل کے لیے ماسور ہوتا ہے۔ قطرب نے ایک شاعر کا یہ شعر پڑھا :
فاما تاخذونی تقتلون فکم من اخذ یھوی خلودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فرشتے اہل ایمان کیلئے توبہ کرتے ہیں
1:۔ ابویعلی وابن مردویہ (رح) نے (صحیح سند کے ساتھ) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اجازت دی گئی کہ میں اس فرشتے کے بارے میں بیان کروں کہ اس کی ٹانگیں ساتویں زمین سے بھی نکل گئی ہیں۔ (یعنی نیچے چلی گئی ہیں اور عرش اس کے کندھوں پر ہے اور وہ کہتا ہے تیری ذات پاک ہے تو جہاں ہے اور تو کہاں ہوگا۔
2:۔ ابوداؤد ابن ابی حاتم (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں صحیح سند کے ساتھ جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے اجازت دی گئی کہ میں بیان کروں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایسے فرشتے…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ [ وہ جو اٹھاتے ہیں ] الْعَرْشَ [ عرش کو ] وَمَنْ [ اور وہ (بھی ) جو ] حَوْلَهٗ [ اس (عرش ) کے اردگرد ہیں ] يُسَبِّحُوْنَ [ وہ سب تسبیح کرتے ہیں ] بِحَمْدِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی حمد کے ساتھ ] وَيُؤْمِنُوْنَ [اور ایمان رکھتے ہیں ] بِهٖ [ اس (رب ) پر ] وَيَسْتَغْفِرُوْنَ [ اور مغفرت مانگتے ہیں ] لِلَّذِيْنَ [ ان کے لئے جو ] اٰمَنُوْا ۚ [ ایمان لائے ] رَبَّنَا [ (اور دعا کرتے ہیں کہ ) اے ہمارے رب ] وَسِعْتَ [ تو وسیع ہوا ] [كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] رَّحْمَةً [ بلحاظ رحمت کے ] وَّعِلْمًا [ اور بلحاظ علم کے ] فَاغْفِرْ [ پس تو بخش دے ] لِلَّذِيْنَ [ ان کو جنھوں نے ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
حاملین عرش کا مومنین کے لیے دعا کرنا، اہل ایمان اور ان کی ازواج اور زریات کے لیے جنت میں داخل ہونے کا سوال
اوپر اہل کفر کی سزا کا بیان ہوا، ان آیات میں اہل ایمان کی فضیلت بیان فرمائی اور یہ فرمایا کہ اہل ایمان کے لیے حاملین عرش اور وہ فرشتے جو ان کے آس پاس ہیں دعاء کرتے ہیں یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی تحمید و تقدیس میں مشغول رہتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائے ہیں اور دنیا میں جو اہل ایمان ہیں ان کے لیے استغفار کرتے ہیں اور یوں دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ کی رحمت اور آپ کا علم ہر چیز کو شامل ہے لہٰذا آپ ان لوگوں کو بخش دیجیے جنہوں نے شرک و کفر سے توبہ کی اور آپ کے راستہ پر چلتے رہے ان کو آپ…
Read the full tafseer →10:۔ ” ویستغفرون الخ “ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور تسبیح و تقدیس کے ساتھ ساتھ وہ فرشتے ایمان والوں کیلئے یوں دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ ” ربنا وسعت الخ “ ہمارے پروردگار، تیری رحمت ہر چیز کو شامل اور تیرا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ ان ایمان والوں کے گناہ معاف رما، جو سچی توجہ کریں اور راہ ہدایت اور صراط مستقیم پر چلیں اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ربط آیات :
گذشتہ درس میں قرآن کریم کی حقانیت وصداقت اور اس کا وحی الہی کے ذریعہ منزل من اللہ ہونا بیان ہوا پھر اللہ تعالیٰ کی آٹھ صفات کا ذکر ہوا اور انکار کرنے والوں کا شکوہ بیان ہوا ، یہ کافر لوگ جھگڑا کرتے ہیں جو کہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ ان سے پہلے لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی پاداش میں ہلاک کیا ، باطل کے ذریعے حق کو مغلوب کرنے والوں کو اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام یاد کرلینا چاہئے ، فرمایا تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے کہ کافر لوگ ضرور دوزخ میں جائیں گے ۔
ّ (حاملین عرش فرشتے)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا انجام بیان فرمایا ہے مگر اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت و حکمت اور…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا 0 ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَۃً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ 7
حمل
الحَمْل معنی واحد اعتبر في أشياء کثيرة، فسوّي بين لفظه في فعل، وفرّق بين كثير منها في مصادرها، فقیل في الأثقال المحمولة في الظاهر کا لشیء المحمول علی الظّهر : حِمْل .
وفي الأثقال المحمولة في الباطن : حَمْل، کالولد في البطن، والماء في السحاب، والثّمرة في الشجرة تشبيها بحمل المرأة، قال تعالی:
وَإِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ترکیب : الذین مبتدء و من مرفوع عطفا علی الذین یسبحون خبرہ یؤمنون، ویستغفرون معطوف علیہ ربنا وسعت مصدرہ محذوف ای یقولون والجملۃ حال رحمۃ و علما تمیز والاصل وسع کل شیء علمک و من صلح معطوف علی الضمیر فی ادخلہم ای و ادخل من صلح و قیل معطوف علی الضمیر فی وعدتہم فھی فی محل النصب من آباء ھم بیان لمن صلح و ازواجہم و ذریاتھم علی الجمع عطف علیٰ آباھم۔
تفسیر : پہلے بیان ہوا تھا کہ ایسی کتاب میں (جو ایسے زبردست علیم کی نازل کی ہوئی ہے) کافر ناحق کو جھگڑے مچاتے ہیں تاکہ اس کو پست کریں اور اس آفتاب کی شعاعوں کو روکیں، سو یہ ان کی رذالت و دناء تِ جبلی کا مقتضٰی ہے، اب یہاں بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ملائکہ…
Read the full tafseer →اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَـہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ج رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْ ئٍ رَّحْمَۃً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَـکَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ۔ (المؤمن : 7)
(جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور وہ جو عرش کے اردگرد حاضر رہتے ہیں وہ سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، اے ہمارے رب ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کردے ان لوگوں کو جنھوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کے حکم سے ملائکہ کفار اور مشرکین کو سزا دیتے ہیں اور مومنوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔
پہلی اقوام کا اپنے رسولوں کے ساتھ سلوک اور حق کے معاملہ میں ان کا رویہ بتلا کر رسول محترم ﷺ کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ اے رسول ﷺ ! مومنوں کو بتلائیں کہ انہیں دل چھوٹا کرنے اور ہمت نہیں ہارنا چاہیے۔ بیشک کفار اور مشرکین ان کی جان کے درپے اور حق کو دبانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ لیکن انہیں خوش ہونا چاہیے کہ ان کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے ملائکہ صبح و شام دعائیں کرتے ہیں جو اپنے رب کا عرش تھامے ہوئے اور اپنے رب کی حمد میں رطب اللسان رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تو…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ ، جو فرشتے کہ عرش اٹھائے ہوئے ہیں اور جو فرشتے اس کے گردا گرد ہیں، یعنی حملۃ العرش اور عرش کے گردا گرد فرشتے حالانکہ وہ کروبی ہیں جو کہ فرشتوں کے سردار ہیں۔ یہ اس صورت وصل میں اصحاب نار کی صفت بن جائے گی اور اس کا فساد و غلط ہونا ظاہر و باہر ہے اس لیے وقف النار پر لازم ہے۔ روایت میں ہے کہ حملۃ العرش کے پاؤں سب سے نچلی زمین پر ہیں۔ اور ان کے سر عرش کو پہنچنے والے ہیں وہ خشوع اختیار کرنے والے ہیں کہ اپنی نگاہ اوپر کو نہیں اٹھاتے۔ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے تمام فرشتوں کو حکم دے رکھا ہے صبح و شام کو وہ حملۃ العرش کو سلام کریں کیونکہ وہ تمام…
Read the full tafseer →6، وکذلک حقت کدمۃ ربک ، یعنی جیسے کلمہ عذاب جھٹلانے والی امتوں پر ثابت ہواوی سے ہی، علی الذین کفروا، آپ (علیہ السلام) کو قوم میں سے ، انھم اصحاب النار، اخفش (رح) فرماتے ہیں کہ ، لا نھم اوبانھم ، یعنی اس لیے یا اس وجہ سے کہ وہ جہنم والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
4۔ 9۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی 3 ؎ حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ حارث بن قیس سہیمی وغیرہ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے آکر جھگڑا کیا کرتے تھے اور قرآن شریف کے باب میں طرح طرح کی بےادبی کے لفظ منہ سے نکالا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام سے مخالفت کر کے ابھی تک جو کسی وبال اور عذاب الٰہی میں نہیں پکڑے گئے اور چین سے شہر بشہر تندرستی اور آرام سے گزر کر رہے ہیں اے نبی اللہ کے ان لوگوں کے اس حال پر کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے ان کا کفر تو اللہ کے نزدیک ثابت ہوچکا ہے مگر اللہ کی درگاہ میں ہر کام کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
آیت 7
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے کامل لطف و کرم اور ان اسباب کا ذکر کرتا ہے جو اس نے ان کی سعادت کے لئے مقرر فرمائے ہیں۔ یہ اسباب ان کی قدرت سے باہر تھے، مثلاً ان کے لئے ملائکہ مقربین کا استغفار کرنا اور ان کے دین و آخرت کی بھلائی کے لئے دعا کرنا۔ اس ضمن میں عرش الٰہی اٹھانے والے فرشتوں اور جو اس کے اردگرد ہیں ان کے شرف کی خبر ہے۔ اسی طرح اپنے رب کیق ریب رہنے والے فرشتوں، ان کی عبادت کی کثرت، اللہ کے بندوں کے لئے ان کی خیر خواہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، چناچہ فرمایا : (الذین یحملون العرش) ” جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ “ یعنی رحمٰن عا عرش،…
Read the full tafseer →12 اہل ایمان کیلئے حاملین عرش کی دعائیں : سو اس ارشاد سے اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں اور حاملین عرش کی دعاؤں کے شرف و اعزاز کو بیان فرمایا گیا ہے جو کہ ایک عظیم الشان اور بےمثال شرف و اعزاز ہے۔ اور یہ وہی مقرب فرشتے ہیں جو " کروبی " کہلاتے ہیں۔ اور ان کا بڑا خاص مرتبہ و مقام ہے۔ (ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو یہ اہل ایمان کے لئے ایک بڑا عظیم الشان اور بےمثال شرف و اعزاز ہے کہ ایسے مقرب اور عظیم الشان فرشتے بھی ان کے لئے اس طرح کی عمدہ اور عظیم الشان دعائیں کرتے ہیں۔ نیز اس سے ایمان کی عظمت شان کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ اس کی بنا پر حاملین عرش جیسے ملائکہ کرام بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–22
کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت
تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تمت سورة زمر ۔ الحمد للہ۔
سورۃ المومن
رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 9:
اسرار و معارف :
اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے کتاب نازل فرما کر ہدایت کی راہ دکھائی کہ وہ بہت طاقت وقدرت رکھنے والا ہے اور ہر بات کو جانتا بھی ہے اسے انسانوں سے کسی مدد کی جرورت نہیں بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر لوگ اس کی کتاب پر ایمان لا کر اس کے احکام کی پیروی کریں تو وہ ان کے گناہ معاف فرما دے اور ان کی توبہ قبول فرمائے بصورت دیگر اس کے عذاب بھی بہت سخت ہیں اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے کوئی اس کے عذاب سے بھاگ نہیں سکتا اور اس کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس کی عبادت کی جائے نیز سب کو ہر حال میں لوٹ کر اسی کی بارگاہ…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی ” سبحان اللہ وبحمدہ “ کہتے رہتے ہیں۔5 اس آیت سے مقصود نبی ﷺ اور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہے اور ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کے مقرب فرشتوں کی غائبانہ دعائے مغفرت مومنوں کے شامل حال رہی ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” جب کوئی مسلمان اپنے بھائی مسلمان کے لئے اسکی عدم موجودگی میں دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے۔ (امین ولک مثلہ) آمین اور ایسا ہی تیرے لئے ہو۔ ( ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(40:7) یحملون مضارع جمع مذکر غائب، وہ اٹھاتے ہیں۔ وہ اٹھائے ہوں گے۔ حمل (باب ضرب) مصدر سے۔
سیتغفرون۔ مضارع جمع مذکر غائب استغفار (استفعال) مصدر۔ وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔ وہ معافی مانگتے ہیں۔
وسعت۔ ماضی واحد مذکر حاضر۔ سعۃ مصدر۔ یہ وسعت مکانی۔ وسعت حالت اور وسعت فعل کے لئے آتا ہے۔ مثلاً وسعت مکان کے متعلق کہیں گے ھذا الاناء یسع عشرین کیلا۔ اس برتن میں بیس کیل سماتے ہیں۔
اور وسعت حالت کے متعلق : لینفق ذع سعۃ من سعتہ (56:7) صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔ اور وسعت فعل (یعنی قدرت وجود و رحمت و علم و فضل وغیرہ کے لحاظ سے وسیع ہونا) مثلا وسع ربی کل شیء علما (6:81) میرا پروردگار بلحاظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 9 :۔ یحملون (وہ اٹھاتے ہیں) وسعت (تو نے وسیع کیا ، تو نے پھلا دیا) ادخل (داخل کر دے) صلح (اس نے اصلاح کرلی ، درست کرلیا) الفوز (کامیابی)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 9 :۔ جو لوگ حق و صداقت کا راستہ اختیار کر کے اس پر چلتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی روشنی دکھانے کی جدوجہد کرتے ہیں تو دنیا اور اس کے مفادات سے چمٹے ہوئے باطل پرست شدید مخالفت کر کے ان کو معاشرہ میں حقیر بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ وہ حق و صداقت کے راستے پر چلنے والوں کو سر بلند فرماتا ہے۔ کائنات کی ساری قوتیں اور فرشتے ان کے لئے خیر خواہی کے جذبے سے دعائے رحمت و مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ثواب و عذاب کا ذکر۔
(ف 1) اوپر کی آیات میں مجرمین ومنکرین کا حال زبوں بیان ہوا تھا یہاں ان کے مقابل مومنین تابعین کا فضل وشرف بیان کرتا ہے کہ عرش الٰہی کو اٹھانے ولے اور اس کے گرد طواف کرنے والے بیشمار فرشتے جن کی غذا صرف حق تعالیٰ کی تسبیح وتحمید ہے اور جو مقربین بارگاہ ہونے کی وجہ سے اعلی درجہ کا ایمان یقین رکھتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے آگے مسلمانوں کے لیے استغفار کرتے ہیں یا اللہ دنیا میں جو لوگ مسلمان ہیں ان کے گناہ معاف فرما کر انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے کیونکہ تیری رحمت بہت بڑی ہے کہ اپنی رحمت سے تو جس کو چاہے دوزخ کے عذاب سے بچاسکتا ہے ، اور تیرا علم ایساوسیع ہے کہ نیکوں اور بدوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
[1] اس آیت میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو اس وقت مشرکین مکہ کے ظلم و ستم اور استہزا اور ان کے مقابلے میں اپنی بےبسی دیکھ کر دل شکستہ ہو رہے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ ان لوگوں کی باتوں پر رنجیدہ کیوں ہوتے ہو۔ تمہارا مرتبہ وہ ہے کہ عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور اس کے اردگرد حاضر رہنے والے فرشتے تک تمہارے حامی ہیں اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت مانگتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فرشتے مسلمانوں کے لئے بخشش طلب کرتے ہیں
1: ایک طرف دنیا کے لئے بصیرت لوگ حضور ﷺ کی مخالفت کررہے ہے تھے ۔ اور آپ کو اور آپ کی جماعت کو حقارت اور ذلت کی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ دوسری طرف اللہ کو یہ منظور تھا ۔ کہ آسمانوں میں اللہ کی بہترین مخلوق حمد و ستائش کے ترانوں اور نغموں کے ساتھ مسلمانوں کے لئے بخشش اور مغفرت طلب کریں ۔ چناچہ ارشاد ہے ۔ کہ وہ ملائکہ جو عرش عظیم کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں ۔ ہر آن تسبیح و تمہید میں مصروف ہیں ۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے خلوص قلب کے ساتھ بخشش طلب کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر شامل…
Read the full tafseer →(7) وہ فرشتے جو عرش الٰہی کو اٹھائے ہوئے ہیں اور روہ فرشتے جو اس عرش کے گرداگرد ہیں یہ سب اپنے پروردگار کی حمدوثنا کے ساتھ تسبیح اور پاکی بیان کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے بخشش کی دعا کیا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ کی رحمت اور آپ کا علم ہر چیز کو شامل ہے آپ کی رحمت اور آپ کے علم میں ہرچیز کی سمائی ہے۔ یعنی باعتبار رحمت اور باعتبار علم کے آپ نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے۔ سو آپ ان لوگوں کو جو توبہ کرچکے ہیں اور آپ کی راہ پرچلتے ہیں بخش دیجئے اور ان کی مغفرت فرمادیجئے نیز ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لیجئے۔
عرش الٰہی کے اٹھانے والے چار فرشتے ہیں اور عرش کے گرد اگر د…
Read the full tafseer →ف 6۔ پس اہل ایمان پر بدرجہ اولی رحمت ہوگی۔
7۔ جو کہ مقتضی ہے مغفرت کا کیونکہ سبب عذاب کا ذنوب ہیں، ان کے ارتفاع سے وہ بھی مرتفع ہوجاوے گا۔
Read the full tafseer →فرشتے بھی حکم الٰہی کے پابند ہیں اور مومنوں کے حق میں دعائیں کرتے ہیں
7۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کوئی جسمانی چیز نہیں ہے کہ اس کا کوئی جسم قرار دیا جائے اور اس کی کوئی ہیت بیان کی جائے کہ وہ کیسا ہے اور نہ ہی اس کی وکئی مثل ہے کہ اس سے مثال دے کر اس کی پہچان کرائی جاسکے۔ بلاشبہ وہ واجب الوجود ہے لیکن اس کا موجود ہونا اس کی صفات کے لحاظ سے ہے گویا اس کا وجود عقلی ہے جو نہ جسم رکھتا ہے اور نہ ہی کوئی شکل و صورت اس کی بیان کی جاسکتی ہے ایک نظام کے باقاعدہ بننے اور چلنے کے باعث ایک منتظم اور کالق کے ہونے کے لیے یقینیاتِ عقل سے ہے اس کو بیان کرنے کے لیے اس کی صفات کا ذکر کرنے کے لیے اس کی ذات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
In verse 7, it was said: الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ (Those who are bearing the Throne and those who are around it). The present count of angels who bear the Throne (arsh) is four and, on the day of Qiyamah (the Day of Judgment), they will be eight, and only Allah knows the number of angels around the ` arsh. Some Hadith narrations give the number of their rows that reaches several hundred thousand. They are called: کرّوبِی (karrubi, [ Heb. Kerubh or kerub ], plural: [ Eng. Cherubin, or Cherubim, Heb. Cherubim ]). They are angels close to Allah. In this verse, it has been…
Read the full tafseer →6 This thing has been said for the consolation of the Holy Prophet's Companions, who were feeling greatly discouraged at the impudence and rebellious attitude of the disbelievers of Makkah as against their own helplessness, as if to say: Why do you feel grieved at what these mean and worthless people say? You have the support of the angels who bear the Divine Throne and of those who stand around it; they are interceding with Allah for you." The mention of the angels who bear the Divine Throne and of those who stand around it, has been made, instead of the common angels, to impress the fact…
Read the full tafseer →