Explained with ayahs 4–6
انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مال دار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑجانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا ؟ جیسے اور جگہ ہے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بےبس کردیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
سورة الْمُؤْمِن 5
یعنی دنیا میں جو عذاب ان پر آیا وہ ان کی آخری سزا نہ تھی بلکہ اللہ نے یہ فیصلہ بھی ان کے حق میں کردیا ہے کہ ان کو واصل بجہنم ہونا ہے۔ ایک دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح پچھلی قوموں کی شامت آچکی ہے اسی طرح اب جو لوگ کفر کر رہے ہیں ان کے حق میں بھی اللہ کا یہ فیصلہ طے شدہ ہے کہ واصل بجہنم ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
(آیت) مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ اس آیت نے جدال فی القرآن کو کفر قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان جدالاً فی القرآن کفر یعنی بعض جدال قرآن میں کفر ہوتے ہیں (رواہ البغوی والبیہقی فی الشعب عن ابی ہریرة ورواہ ابو داؤد والحاکم وصححہ، مظہری)
اور حدیث میں ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے دو شخصوں کی آواز سنی جو کسی آیت قرآن کے متعلق جھگڑ رہے تھے، آپ غضبناک ہو کر باہر تشریف لائے کہ آپ کے چہرہ مبارک سے غصہ کے آثار محسوس ہو رہے تھے اور فرمایا کہ تم سے پہلی امتیں اسی سے ہلاک ہوئیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں جدال کرنے لگی تھیں (رواہ مسلم عن عبداللہ بن عمرو بن شعیب۔…
Read the full tafseer →وکذلک حقت کلمت ربک علی الذین کفروا انھم اصحب النار (6)
’ کلمۃ رب ‘ سے وہی کلمۃ العذاب مراد ہے جس کا ذکر سورة زمر کی آیت 71 میں گزر چکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ کلی فیصلہ جس سے اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں آگاہ فرما دیا تھا کہ جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کریں گے، اللہ ان سب کو جہنم میں بھر دے گا۔ فرمایا کہ تیرے رب کا یہ فیصلہ جس طرح پچھلی قوموں پر صادق آیا اسی طرح ان کافروں (کفار قریش) پر بھی صادق آچکا ہے اور یہ بھی انہی کی طرح جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنا فرض انجام دو۔ ان کے لئے جو انجام مقدر ہوچکا ہے یہ اس سے دوچار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب چونکہ جہنم…
Read the full tafseer →6۔ 4 مقصد اس سے اس بات کا اظہار ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں پر تیرے رب کا عذاب ثابت ہوا اور وہ تباہ کردی گئیں اگر یہ اہل مکہ بھی تیری تکذیب اور مخالفت سے باز نہ آئے اور جدل بالباطل کو ترک نہ کیا تو یہ بھی اسی طرح عذاب الہی کی گرفت میں آجائیں گے پھر کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
1: یعنی کافر لوگ اپنے کفر کے باوجود جس طرح خوش حال نظر آتے ہیں، اس سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ انہیں اپنے کیے کی سزا نہیں ملے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
آیت نمبر 4 تا 6
اس فیصلے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی صفات رکھتا ہے اور وہ وحدہ لاشریک ہے ، اب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حقائق ، اس کائنات کی ہر چیز کی طرف سے مسلم ہیں کیونکہ اس کائنات کی فطرت ان حقائق کے ساتھ مربوط ہے اور یہ تعلق براہ راست ہے جس میں تنازعہ اور کوئی مجادلہ نہیں ہے۔ یہ پوری کائنات بڑے اطمینان سے آیات الہیہ کو تسلیم کرتی ہے ، اللہ کی وحدانیت پر شاہد عادل ہے ۔ اور اس میں مجادلہ وہی لوگ کرتے ہیں جو کفر پر تلے ہوئے ہیں اور یہ لوگ اس کائنات سے منحرف ہیں۔
مایجادل۔۔۔۔ کفروا (40: 4) ” اللہ کی آیات میں جھگڑے نہیں کرتے مگر وہی لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے “۔” یہی لوگ “ یعنی اس کائنات میں سے وہی…
Read the full tafseer →2 یعنی جس طرح اگلی قوموں پر عذاب آنے کی بات پوری اتر چکی، موجود الوقت منکروں پر بھی اتری ہوئی سمجھو۔ اور جس طرح پیغمبروں کے اعلان کے موافق کافروں پر دنیاوی عذاب آکر رہا، تیرے رب کی یہ بات بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ آخرت میں ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہوگا۔ (تنبیہ) بعض نے " انہم اصحب النار " کو " لانہم " کے معنی میں لے کر یہ مطلب بیان کیا ہے کہ گذشتہ منکروں کی طرح موجودہ منکروں پر بھی اللہ کی بات سچی ہے کیونکہ یہ بھی اصحاب بالنار میں سے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 6 { وَکَذٰلِکَ حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ } ”اور اسی طرح ان کافروں پر بھی آپ کے رب کی بات پوری ہوچکی ہے کہ یہ سب کے سب جہنمی ہیں۔“
اللہ کے جس قانون کی زد میں زمانہ ماضی کے کفار آئے تھے اب وہی قانون مشرکین عرب پر بھی لاگو ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →5 ایسے منکرین حق کے معاملہ میں ایک تو یہ بات حق ثابت ہو کے رہتی ہے کہ اللہ انہیں ایسا کچل کے رکھ دیتا ہے کہ ان کا زمین میں دندنانا یکسر موقوف ہوجاتا ہے۔ اور یہ سزا تو انہیں دنیا میں ملتی ہے اور دوسری یہ بات حق ثابت ہوتی ہے کہ آخرت میں انہیں جہنم کے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔
Read the full tafseer →5۔ یعنی جس طرح یہاں سزا ملی، آخرت میں بھی سزا مل کر رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، حٰمٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے ؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، یہ کتاب قرآن اس اللہ کی جانب سے نازل کردہ ہے جو اپنے ملک میں غالب ہے اور اپنی مخلوق سے واقف ہے تَنزِیلُ الکتابِ مبتداء ہے، مِنَ اللہِ خبر، مومنوں کے گناہوں کو معاف کرنے والا ان کی توبہ کو قبول کرنے والا التوب مصدر ہے، کافروں پر سخت عذاب والا ہے شدیدٌ بمعنی مُشدِّدٌ ہے، بڑے وسیع انعام والا ہے، وہ ان صفات کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے، لہٰذا ان صفات (ثلٰثہ) مشتقات کی اضافت تعریف کے لئے ہوگی، جیسا کہ آخری صفت (ذی الطول) میں (ہے) جس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی…
Read the full tafseer →وکذلک حقت کلمت ربک علی الذین کفروا انھم اصحب النار اور اسی طرح تمام کافروں
پر آپ کے رب کا یہ قول ثابت ہوچکا ہے کہ وہ لوگ آخرت میں دوزخی ہوں گے۔
وَکَٰذلِکَ یعنی جس طرح دنیا میں کافروں کو ہلاک کرنا لازم تھا ‘ اسی طرح آخرت میں ان پر فرمان عذاب واجب ہوچکا تھا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جس طرح گذشتہ کافر امتوں پر فرمان عذاب پورا ہوا ‘ اسی طرح آپ کی امت میں سے جو لوگ کافر ہیں ‘ ان پر قول عذاب پورا ہوگا۔
Read the full tafseer →اسی طرح تمام ان لوگوں پر جنہوں نے انبیاء کرام کا انکار کیا آپ کے پروردگار کے عذاب کے ساتھ یہ بات طے ہوچکی ہے کہ وہ آخرت میں دوزخی ہوں گے۔
Read the full tafseer →وکذلک حقت کلمت ربک …اس کی دو تفسیریں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ جس طرح پہلی قوموں پر تیرے رب کے عذاب آنے کی بات ثابت ہوچکی اور وہ تباہ و برباد کردی گئیں، اسی طرح اب جو لوگ کفر کر رہے ہیں ان پر بھی تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ آگ میں جانے والے ہیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان قوموں پر دنیا میں جو عذاب آیا اسی پر بس نہیں، بلکہ ان کے متعلق دنیا کے عذاب کی طرح تیرے رب کی یہ بات بھی طے ہوچکی ہے کہ آخرت میں بھی وہ آگ میں رہنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
( کذبت قبلھم قوم نوح۔۔۔۔۔ )
کذبت قبلھم قوم نوح جماعت کے مونث ہونے کے اعتبار سے فعل مونث ذکر کیا یعنی کذبت الرسل۔ والا حزاب من بعدھم یعنی وہ قومیں جنہوں نے انبیاء کو جھٹلانے میں اجتماعیت کو اپنایا جس طرح قوم عاد اور قوم شمود اور ان کے بعد جو قومیں ہوئیں۔
لیا خذوہٗ یعنی نبی کو محسوس کردیں اور اسے اذیتیں دیں۔ قتادہ اور سدی نے کہا : وہ اسے قتل کردیں (1) اخذ کا لفظ ہلاک کرنے کے معنی میں آتا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” ثم اخذ تھم فکیف کان نکیر۔ “ ( الحج) عرب اسیر کو اخیذ کہتے ہیں کیونکہ وہ قتل کے لیے ماسور ہوتا ہے۔ قطرب نے ایک شاعر کا یہ شعر پڑھا :
فاما تاخذونی تقتلون فکم من اخذ یھوی خلودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابوبالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مایجادل فی ایت اللہ الا الذین کفروا “ اللہ کی آیات میں جھگڑا نہیں کرتے مگر وہی لوگ جو کافر ہیں) اور (یہ آیت حرث بن قیس سلمی کے بارے میں نازل ہوئی۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو جہیم ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے دو آدمیوں نے ایک آیت کے بارے میں جھگڑا کیا ان میں سے ایک نے کہا میں نے اسے رسول اللہ ﷺ کی زبان سے سیکھا ہے۔ اور…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] حَقَّتْ [ ثابت ہوا ] كَلِمَتُ رَبِّكَ [آپ کے رب کا فرمان ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جنھوں نے ] كَفَرُوْٓا [ ناشکری کی ] اَنَّهُمْ [ کہ یہ لوگ ] اَصْحٰبُ النَّارِ [ آگ والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
کافر لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں، شہروں میں ان کا چلنا پھرنا دھوکہ میں نہ ڈالے، سابقہ امتوں اور جماعتوں نے جھٹلایا جس کی وجہ سے ان کی گرفت کرلی گئی
قرآن مجید کی آیات نازل ہوتی تھیں تو جو لوگ ایمان نہیں لاتے تھے اور اپنے کفر پر جمے رہتے تھے ان آیات کے بارے میں یہ لوگ طرح طرح کی باتیں نکالتے تھے اور جھگڑے کی باتیں کرتے تھے ان لوگوں کی باتوں سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچتی تھی یہ لوگ دنیاوی اعتبار سے کھاتے پیتے اور مالدار تھے ان کے پاس سواریاں بھی تھیں اس شہر سے دوسرے شہر میں جاتے تھے اور زمین میں گھومتے پھرتے تھے، جو لوگ آپ کے ساتھی تھے ان کو خیال ہوسکتا تھا کہ ہم اہل ایمان ہیں…
Read the full tafseer →9:۔ ” الذین یحملون الخ “ یہ تیسرا عنوان ہے۔ جو لوگ اس حکمنامے کو مان لیں گے، حاملان عرش الٰہی ان کے لیے ان کے آباء و اجداد اور ان کی آل اولاد کیلئے یوں دعائیں کریں گے یعنی جو لوگ اس حکمنامے کو مانتے جائیں گے وہ فرشتوں کی دعاؤں میں شامل ہوتے جائیں گے۔ یہ مراد نہیں کہ وہ دعاؤں میں ان آدمیوں کا نام لیتے ہیں، کیونکہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں۔ ” الذین یحملون العرش “ اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو حاملانِ عرش الٰہی ہیں۔ حاملانِ عرش اور دوسرے فرشتے جو عرش کے چاروں طرف صف بستہ کھڑے ہیں ان کی ہمہ وقت ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور اس کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہیں، اللہ پر ان کا ایمان نہایت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(نام اور کوائف)
اس سورة مبارکہ کا نام سورة المؤمن ہے ، سورة کے آخری حصے میں فرعون کے خاندان کے ایک مومن آدمی کا تذکرہ ہے جس سے اس سورة کا یہ نام تجویز کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ سورة الغافر اور سورة الطول بھی اسی سورة کے نام ذکر کیے جاتے ہیں یہ دونوں نام سورة ہذا کی تیسری آیت میں آمدہ الفاظ سے ماخوذ ہیں یہ سورة مکی زندگی کے درمیانہ عرصہ میں سورة الزمر کے بعد نازل ہوئی اس کی پچاسی آیت اور نو رکوع ہیں ۔ یہ سورة 1192 الفاظ اور چار ہزار حروف پر مشتمل ہے ۔
(مضامین سورة )
اس سورة مبارکہ سے حوامیم سبعہ یعنی حم والی سات سورتوں کی ابتداء ہو رہی ہے مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ یہ سات سورتیں پورے قرآن…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ 6ۘؔ
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] .
والثاني :
يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ترکیب : حم تنزیل الکتاب مثل الم تنزیل الکتاب، غافر الذنب و قابل التوب صفۃ قال الاخفش التوب جمع توبۃ کدوم ودومۃ واد خال الواوفی ھذا الوصف لافادۃ الجمع المذنب التائب بین قبول توبتہ و محو حوبتہ اولتغائر الوصفین اذر بما یتوھم الاتحاد، بیضاوی، شدید العقاب نکرۃ لان التقدیر شدید عقابہ فیکون بدلا و یجوزان یکون شدید بمعنی مشدد فیتعرف ذی الطّول بالفتح المن (الجوہری) صفۃ لا الہ الخ صفۃ و یمکن ان تکون مستانفا۔
تفسیر : اس سورة کا نام سورة غافر اور سورة مومن بھی ہے۔ قرطبی کہتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے اور یہی قول عطا و جابر و عکرمہ کا ہے۔ حسن کہتے ہیں، مگر یہ قول و سبح بحمد ربک کس لیے کہ نماز…
Read the full tafseer →وَکَذٰلِکَ حَقَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ ۔ (المؤمن : 6)
( اور اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر چسپاں ہوچکی ہے جنھوں نے کفر کیا کہ یہ لوگ جہنم میں پڑنے والے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کا فیصلہ مسلط ہو کر رہتا ہے
اس آیت میں کلمے سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ ہے جو ابلیس کے چیلنج کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کریں گے، اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں بھر دے گا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہر وہ قوم جو کفر کا راستہ اختیار کرے گی اس پر چسپاں ہو کر رہے گا۔ جو قومیں اس سے پہلے عذاب کا شکار ہوچکیں ان پر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن
ربط کلام : عظیم ترین صفات رکھنے والے ایک الٰہ کو اس کی پوری مخلوق مانتی ہے لیکن صرف کافر نہیں مانتے۔
اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی ابتداء میں اپنی سات صفات کا حوالہ دے کر یہ بات واضح فرمائی ہے کہ قرآن مجید کو اسی ذات نے نازل فرمایا ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ لیکن قرآن مجید اور ” اللہ “ کو ایک الٰہ نہ ماننے والے اس کی آیات یعنی دلائل کے بارے میں بحث و تکرار کرتے ہیں۔ اے رسول ﷺ ! کفار کا شہروں میں چلنا پھرنا اور ان کی ترقی سے آپ کو دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ اگر یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور ان کے بعد کئی گروہوں نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی ہے۔ جس طرح…
Read the full tafseer →وَكَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا ا، اور اسی طرح تمام کافروں پر آپ کے رب کا یہ قول ثابت ہوچکا۔
قراءت : مدنی و شامی نے کلمات ربک پڑھا ہے۔ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ النَّارِ ، کہ وہ لوگ دوزخی ہوں گے، یہ محل رفع میں کلمۃ ربک سے بدل ہے۔ یعنی جیسے وہ لوگ قطعاً دوزخی ہیں۔ اسی طرح یہ بھی دوزخی یقیناً ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان کو استیصال والے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔ اسی طرح ان کو عذاب نار کے ساتھ آخرت میں ہلاک کیا جائے گا۔ یا محل نصب میں ہے اور لام تعلیل محذوف ہے اور ایصال فعل والذین کفروا سے قریش مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جیسا ان امتوں کی ہلاکت لازم ہوئی اسی طرح ان کی ہلاکت بھی…
Read the full tafseer →5، کذبت قبلھم قوم نوح والاحزاب من بعد ھم، یہ وہ کافر ہیں جنہوں نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد اپنے انبیاء کی تکذیب کے لیے گروہ بنالیے۔ ، وھمت کل امۃ برسلھم لیا خذوہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تاکہ اس کو قتل کردیں اور اس کو ہلاک کریں اور کہاگیا ہے تاکہ ان کو قید کرلیں کیوں کہ قیدی کو اخیذکہتے ہیں۔ ، وجادلوا بالباطل لیدحضوا، تاکہ وہ باطل کردیں ۔ ، بہ الحق، ایسا کہ جس کو رسول لائے ہیں اور ان کا جھگڑا ان کے اس قول ، ان انتم الا بشرمثلنا، اور، لولاانزل علینا الملائکۃ ، اور اس کی مثل تھا۔ ، فاخذتھم فکیف کان عقاب،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–9
4۔ 9۔ تفسیر سدی اور تفسیر ابن ابی 3 ؎ حاتم میں ابی مالک سے روایت ہے کہ حارث بن قیس سہیمی وغیرہ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے آکر جھگڑا کیا کرتے تھے اور قرآن شریف کے باب میں طرح طرح کی بےادبی کے لفظ منہ سے نکالا کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام سے مخالفت کر کے ابھی تک جو کسی وبال اور عذاب الٰہی میں نہیں پکڑے گئے اور چین سے شہر بشہر تندرستی اور آرام سے گزر کر رہے ہیں اے نبی اللہ کے ان لوگوں کے اس حال پر کچھ تعجب نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے ان کا کفر تو اللہ کے نزدیک ثابت ہوچکا ہے مگر اللہ کی درگاہ میں ہر کام کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
آیت 4
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ (مایجادل فی ایت اللہ الا الذین کفروا) ” اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ “ یہاں مجادلہ سے مراد ہے، آیات الٰہی کو رد کرنا اور باطل کے ذریعے سے ان کا مقابلہ کرنے کے لئے جھگڑا کرنا اور یہ کفار کا کام ہے، رہے اہل ایمان تو وہ حق کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے سے باطل کو نیچا دکھائیں۔
اناسن کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنے دنیاوی احوال سے دھوکہ کھائے اور یہ سمجھنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کا دنیا میں اس کو اپنی نعمتوں سے نوازنا، اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی محبت کی دلیل ہے اور وہ حق ہے۔ بنا بریں ارشاد فرمایا : (فلا یغرک تقلبھم فی البلاد)…
Read the full tafseer →11 کافروں پر دوزخ کی بات پکی ہوگئی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی طرح کافروں کے بارے میں پکی ہوگئی آپ کے رب کی یہ بات کہ وہ قطعی طور پر دوزخی ہیں "۔ یعنی جس طرح کہ یہ پہلی امتیں اپنے کیفرِکردار کو پہنچی ہیں اس طرح آپ کی قوم کے کافروں کے بارے میں بھی یہ بات ثابت اور پکی ہوگئی ہے کہ انہوں نے بھی اسی انجام سے دوچار ہونا ہے۔ اور انہوں نے بھی دوزخی بن کر رہنا ہے کہ جرم دونوں کا ایک ہی ہے۔ یعنی حق کا انکار، اس کی تکذیب اور اہل حق سے بغض وعناد اور عدوات و دشمنی اور نور حق کو بجھانے کے لئے کوشش کرنے کا جرم کہ یہ باتیں ان سب میں بطور قدر مشترک پائی جاتی ہیں۔ (جامع البیان، المراغی، ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–22
کفار کا کردار اور اللہ کی عظمت و طاقت
تشریح : یہاں کفار کی ہٹ دھرمی اور ضد بیان کی کئی ہے کہ اتنا کچھ دیکھ کر بھی کفار نہ اللہ پر یقین کرتے ہیں نہ رسول پر اور نہ ہی کتاب پر، پھر بنی پاک ﷺ کو پچھلی امتوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا کہ آپ حیران پریشان نہ ہوں۔ کفار ہمیشہ یہی کرتے آئے ہیں۔ نبیوں کو جھٹلانا، کفر و شرک میں ڈوب کر زندہ رہنا اور پھر اللہ کے عذاب سے نیست و نابود ہوجانا، آخرت میں جہنم کے عذاب میں ہمیشہ کے لیے رہنا، یہ سب کچھ ان کو منظور ہے مگر حق کی راہ پر چلنا نامنظور ہے۔ حالانکہ یہ ایمان لا ناخود ان کے اپنے حق میں فائدہ مند اور نجات کا باعث ہے۔ اللہ کو تو ان کے ایمان سے کوئی فائدہ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تمت سورة زمر ۔ الحمد للہ۔
سورۃ المومن
رکوع نمبر 1 ۔ آیات نمبر 1 تا 9:
اسرار و معارف :
اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے کتاب نازل فرما کر ہدایت کی راہ دکھائی کہ وہ بہت طاقت وقدرت رکھنے والا ہے اور ہر بات کو جانتا بھی ہے اسے انسانوں سے کسی مدد کی جرورت نہیں بلکہ وہ تو ایسا کریم ہے کہ اگر لوگ اس کی کتاب پر ایمان لا کر اس کے احکام کی پیروی کریں تو وہ ان کے گناہ معاف فرما دے اور ان کی توبہ قبول فرمائے بصورت دیگر اس کے عذاب بھی بہت سخت ہیں اور وہی صاحب اقتدار بھی ہے کوئی اس کے عذاب سے بھاگ نہیں سکتا اور اس کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں جس کی عبادت کی جائے نیز سب کو ہر حال میں لوٹ کر اسی کی بارگاہ…
Read the full tafseer →ف 3 دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” اس طرح ان کافروں یعنی نوح ( علیہ السلام) کی قوم اور اس کے بعد کی کافرامتوں پر آپ ﷺ کے رب کا ارشاد پورا ہو کر رہا کہ وہ دوزخی ہیں “۔ اب آگے ان کے مقابلے میں مومنین کا حال بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اس پر ایمان لاتے ہیں اور کج بخشی سے محتنب رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(40:6) کذلک کااول حرف تشبیہ ہے۔ ذ۔ اسم اشارہ (یہ۔ اس) لام علامت اشارہ بعید۔ آخر کاف حرف خطاب واحد مذکر حاضر کذلک سے اشارہ مذکورہ سابق کی طرف ہوتا ہے۔ جس کا ترجمہ :۔ ایسے ہی۔ اسی طرح۔
حقت ٹھیک پڑی۔ ثابت ہوئی۔ واجب ہوئی۔ پوری ہوئی۔ لازم ہوئی۔ نیز ملاحظہ ہو 39:71 متذکرہ بالا۔
کلمۃ حکم : ازلی تحریر۔ حکم الٰہی سابق۔ کذلک حقت کلمت ربک علی الذین کفروا انہم اصحب النار۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) انھم اصحب النار۔ مقام نصب میں ہے اور انھم میں لام تعلیل محذوف ہے۔ یعنی لانھم ہے۔
آیت کا مطلب یوں ہوگا :۔ جس طرح مذکورہ بالا کفار امم سابقہ میں سے مرسلین حق کے ساتھ جھوٹی باتوں پر اڑے رہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 6 :۔ ما یجادل ( وہ جھگڑتا نہیں ہے) لا یغرر ( دھوکا نہیں دیتا) تقلب (الٹنا پلٹنا، آنا جانا) البلاد ( بلد) ( شہر ، ملک) ھمت (ارادہ کیا) ید حضوا (وہ پھیلاتے ہیں ، ڈگمگا دیتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 4 تا 6 :۔ قریش مکہ بےتکی باتوں ، غیر متعلق جھگڑوں اور الٹے سیدھے اعتراضات کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں شک و شبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے تا کہ ہر شخص یہ سمجھنے لگے کہ نبی کریم ﷺ جس سچے پیغام اور دعوت حق کی طرف بلا رہے ہیں اس میں ان کی ذاتی غرض اور سارے عرب پر برتری قائم کرنے کے جذبے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ چونکہ بنو قریش بیت اللہ کے رکھوالے اور محافظ کہلاتے تھے اس لئے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
منکرین اسلام کا انجام۔
(ف 1) شان نزول : مشرک لوگ نبی کریم ﷺ سے آن کر جھگڑا کیا کرتے تھے اور قرآن شریف کے باب میں طرح طرح کے بےادبی کے لفظ منہ سے نکالا کرتے تھے اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول اور اللہ کے کلام کی مخالفت کرتے ہیں ابھی تک جو کسی وبال اور عذاب الٰہی میں نہیں پکڑے گئے اور چین سے شہر شہر تجارتیں اور تندرستی اور آرام سے گذرکر رہے ہیں ان لوگوں کے اس حال پر کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے ان کا کفر تو اللہ کے نزدیک ثابت ہوچکا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے وقت آتے ہی حضرت نوح کے زمانہ سے لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
[1] اس آیت میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو اس وقت مشرکین مکہ کے ظلم و ستم اور استہزا اور ان کے مقابلے میں اپنی بےبسی دیکھ کر دل شکستہ ہو رہے تھے اس پر ارشاد ہوا کہ ان لوگوں کی باتوں پر رنجیدہ کیوں ہوتے ہو۔ تمہارا مرتبہ وہ ہے کہ عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور اس کے اردگرد حاضر رہنے والے فرشتے تک تمہارے حامی ہیں اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت مانگتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فرشتے مسلمانوں کے لئے بخشش طلب کرتے ہیں
1: ایک طرف دنیا کے لئے بصیرت لوگ حضور ﷺ کی مخالفت کررہے ہے تھے ۔ اور آپ کو اور آپ کی جماعت کو حقارت اور ذلت کی نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ دوسری طرف اللہ کو یہ منظور تھا ۔ کہ آسمانوں میں اللہ کی بہترین مخلوق حمد و ستائش کے ترانوں اور نغموں کے ساتھ مسلمانوں کے لئے بخشش اور مغفرت طلب کریں ۔ چناچہ ارشاد ہے ۔ کہ وہ ملائکہ جو عرش عظیم کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں ۔ ہر آن تسبیح و تمہید میں مصروف ہیں ۔ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے خلوص قلب کے ساتھ بخشش طلب کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز پر شامل…
Read the full tafseer →(6) اور جس طرح ان کافروں کی پکڑ ہوئی اسی طرح تمام کافروں پر آپ کے پروردگار کی یہ بات ثابت ہوگئی اور ٹھیک ہوچکی کہ وہ اہل دوزخ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح امم سابقہ کی دنیا میں بھی گرفت ہوئی اور آخرت میں بھی سزا ہوگی اسی طرح ان کفار مکہ کے حق میں بھی ایسا ہی ہوگا کہ دنیا میں بھی ان کی گرفت ہوگی اور آخرت میں بھی وہ اہل جہنم میں سے ہوں گے یا یہ کہ تمام کافروں کے حق میں یہ بات ثابت اور ٹھیک ہوچکی کہ وہ اہل جہنم ہوں گے یعنی اہل کفر کا اصحاب نار ہونا یہ ازلی بات ہے اور آپ کے پروردگار کا قول ہے۔ رہی یہ بات کہ دنیا میں بھی منکر قوم پر عذاب کا نازل ہونا یا کسی قوم پر عذاب کا نازل نہ ہونا یہ دوسری بات ہے…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی یہاں بھی سزا ہوئی اور وہاں بھی ہوگی۔ اسی طرح کفر کے سبب ان کفار حاضرین کو بھی داروگیر اور سزا ہونے والی ہے، خواہ دونوں عالم میں یا آخرت میں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی بات اس دنیا میں پوری ہوئی اور آخرت کا عذاب بھی ان کو دیا جائے گا
6۔ جن قوموں کی طرف پیچھے اشارہ کیا گیا ان کے حالات کی تفصیل پیچھے سورة الاعراف ، سورة ہود ، سورة الشعراء اور الصفت وغیرہ میں آپ پڑھ آئے ہیں اور وہیں ان پر عذاب آنے کی صورتیں بیان ہوئی ہیں یہی وہ کلمہ عذاب ہے جس کا ذکر گزشتہ سورة الزمر کی آیت 17 میں بھی کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ جو اس نے مکالمہ ابلیس میں بیان فرمایا جب اس نے نسل آدم کو گمراہ کرنے کی دینگ ماری تھی اور اللہ تعالیٰ نے بھی واضح اعلان فرمادیا کہ جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کریں گے وہ خواہ کون ہوں کیا ہوں اور کہاں ہوں ان سب کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
In verse 7, it was said: الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ (Those who are bearing the Throne and those who are around it). The present count of angels who bear the Throne (arsh) is four and, on the day of Qiyamah (the Day of Judgment), they will be eight, and only Allah knows the number of angels around the ` arsh. Some Hadith narrations give the number of their rows that reaches several hundred thousand. They are called: کرّوبِی (karrubi, [ Heb. Kerubh or kerub ], plural: [ Eng. Cherubin, or Cherubim, Heb. Cherubim ]). They are angels close to Allah. In this verse, it has been…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 That is, `The torment that seized them in the world was not their final punishment, but Allah has also decreed that they shall go to Hell.' Another meaning can be: "Just as the nations of the past have gone to their doom, so will those people also who arc committing disbelief go to Hell, according to the fixed decree of Allah."
Read the full tafseer →